مریض پر دم اور اس کے لئے دعا صحت
عَنْ عَائِشَةَ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : كَانَ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى نَفَثَ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ ، وَمَسَحَ عَنْهُ بِيَدِهِ ، فَلَمَّا اشْتَكَى وَجَعَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ ، كُنْتُ أَنْفِثُ عَلَيْهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ الَّتِي كَانَ يَنْفِثُ ، وَأَمْسَحُ بِيَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب خود بیمار ہوتے تو معوذات پڑھ کر اپنے اوپر دم فرمایا کرتے تھے اور خود اپنا دست مبارک اپنے جسم پر پھیرتے۔ پھر جب آپ ﷺ کو وہ بیماری لاحق ہوئی جس میں آپ ﷺ نے وفات پائی تو میں وہی معوذات پڑھ کر آپ ﷺ پر دم کرتی جن کو پڑھ کر آپ ﷺ دم کیا کرتے تھے اور آپ ﷺ کا دست مبارک آپ ﷺ کے جسم پر پھیرتی۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث میں “ مُعَوِّذَاتِ ” سے مراد بظاہر سورہ “ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ” اور “ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ” ہیں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ دعائیں مراد ہوں جن میں اللہ سے پناہ طلب کی جاتی ہے، اور جو آپ ﷺ بیماروں پر پڑھ کر اکثر دم کیا کرتے تھے۔ اس طرح بعض دعائیں اوپر بعض حدیثوں میں بھی آ چکی ہیں اور باقی ان شاء اللہ اپنے موقع پر “ کتاب الدعوات ” میں مذکور ہوں گی۔
جب موت کے آثار ظاہر ہونے لگیں تو کیا کریں ؟
عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ وأَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ » (رواه مسلم)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: مرنے والوں کو کلمہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کی تلقین کرو۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث میں مرنے ولوں سے مراد وہ لوگ ہیں جن پر موت کے آثار ظاہر ہونے لگیں اس وقت ان کے سامنے کلمہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ پڑھا جائے یہی تلقین کا مطلب ہے، تا کہ اس وقت ان کا ذہن اللہ تعالیٰ کی توحید کی طرف متوجہ ہو جائے، اور اگر زبان کے ساتھ دے سکے تو اس وقت اس کلمہ کو پڑھ کر اپنا ایمان تازہ کر لیں اور اسی حال میں دنیا سے رخصت ہو جائیں، علماء کرام نے تصریح کی ہے کہ اس وقت اس مریض سے کلمہ پڑھنے کو نہ کہا جائے، نہ معلوم اس وقت اس بیچارے کے منہ سے کیا نکل جائے، بلکہ اس کے سامنے بس کلمہ پڑھا جائے۔
جب موت کے آثار ظاہر ہونے لگیں تو کیا کریں ؟
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ » (رواه ابوداؤد)
حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کا آخری کلمہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ہو وہ جنت میں جائے گا۔ (سنن ابی داؤد)
جب موت کے آثار ظاہر ہونے لگیں تو کیا کریں ؟
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اِقْرَؤُا سُوْرَةَ يسن عَلَى مَوْتَاكُمْ. (رواه احمد وابوداؤد وابن ماجة)
حضرت معقل بن یسار ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے مرنے والوں پر سورہ یس پڑھا کرو۔ (مسند احمد، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ)
تشریح
یہاں بھی مرنے والوں سے مراد وہی لوگ ہیں جن پر موت کے آثار ظاہر ہو گئے ہوں اللہ ہی جانتا ہے کہ اس حکم کی خاص حکمت اور مصلحت کیا ہے، البتہ اتنی بات ظاہر ہے کہ یہ سورت دین و ایمان سے متعلق بڑے اہم مضامین پر مشتمل ہے اور موت کے بعد جو کچھ ہونے والا ہے اس میں اس کا بڑا مؤثر اور تفصیلی بیان ہے، اور خاص کر اس کی آخری آیت فَسُبْحَانَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ۔ موت کے وقت کے لئے بہت موزوں اور مناسب ہے۔
جب موت کے آثار ظاہر ہونے لگیں تو کیا کریں ؟
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، يَقُولُ : « لَا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللهِ عَزَّ وَجَلَّ » (رواه مسلم)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے آپ ﷺ کی وفات کے تین ہی دن پہلے سنا، تم میں سے ہر ایک کو چاہئے کہ اس کو ایسی حالت میں موت آئے کہ اس کو اللہ کے ساتھ اچھا گمان ہو۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اللہ پر ایمان اور اس کی معرفت کا تقاضا یہ ہے کہ بندے کو اللہ کا خوف بھی ہو اور اس سے رحمت کی امید بھی، لیکن خاص کر اخیر وقت میں رحمت کی امید غالب ہونی چاہئے۔ مریض اس کی خود بھی کوشش کرے اور اس کے تیماردار، عیادت کرنے والے بھی اس وقت ایسی ہی باتیں کریں جس سے اس کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اچھا گمان اور رحم و کرم کی امید پیدا ہو۔
مرنے کے بعد کیا کیا جائے گا ؟
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ ، فَأَغْمَضَهُ ، ثُمَّ قَالَ : « إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ » ، فَضَجَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِهِ ، فَقَالَ : « لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ » ، ثُمَّ قَالَ : « اللهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ ، وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ ، وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ ، وَافْسَحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ ، وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ » . (رواه مسلم)
حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ (ان کے شوہر ابو سلمہ کی وفات کے وقت) رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، ان کی آنکھیں کھلی رہ گئی تھیں، آپ نے ان کو بند کر دیا اور فرمایا: جب روح جسم سے نکال لی جاتی ہے تو بینائی بھی اس کے ساتھ چلی جاتی ہے (اس لئے موت کے بعد آنکھوں کو بند ہی کر دینا چاہئے)۔ آپ ﷺ کی یہ بات سن کر ان کے گھر کے آدمی چلا چلا کر رونے لگے (اور اس رنج اور صدمہ کی حالت میں ان کی زبان سے ایسی باتیں نکلنے لگیں جو خود ان لوگوں کے حق میں بد دعا تھیں) تو آپ ﷺ نے فرمایا: لوگو! اپنے حق میں خیر اور بھلائی کی دعا کرو، اس لئے تم جو کچھ کہہ رہے ہو ملائکہ اس پر آمین کہتے ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے خود اس طرح دعا فرمائی: اے اللہ! ابوسلمہ کی مغفرت فرما اور اپنے ہدایت یاب لوگوں میں ان کا درجہ بلند فرما، اور اس کے بجائے تو ہی سرپرستی اور نگرانی فرما اس کے پسمندگارن کی، اور رب العالمین بخش دے ہم اور اس کو اور اس کی قبر کو وسیع اور منور فرما۔ (صحیح مسلم)
مرنے کے بعد کیا کیا جائے گا ؟
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ ، فَيَقُولُ مَا أَمَرَهُ اللهُ : {إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ} ، اللهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي ، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا ، إِلَّا أَخْلَفَ اللهُ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا " ، قَالَتْ : فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ ، قُلْتُ : أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ؟ أَوَّلُ بَيْتٍ هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ إِنِّي قُلْتُهَا ، فَأَخْلَفَ اللهُ لِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ » (رواه مسلم)
حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جس صاحب ایمان پر کوئی مصیبت آئے اور کوئی چیز فوت ہو جائے اور وہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے وہ عرض کرے جو عرض کرنے کا حکم ہے یعنی:
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا (ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہم سب لوٹ کر جانے والے ہیں۔ اے اللہ! مجھے میری اس مصیبت میں اجر عطا فرما اور (جو چیز مجھ سے لے لی گئی ہے) اس کے بجائے اس سے بہتر مجھے عطا فرما، تو اللہ تعالیٰ اس سے کے بجائے اس سے بہتر ضرور عطا فرمائے گا۔ (ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ) جب میرے پہلے شوہر ابو سلمہ کا انتقال ہوا تو میں نے اپنے جی میں سوچا کہ میرے شوہر مرحوم ابو سلمہ سے اچھا اب کون ہو سکتا ہے، وہ سب سے پہلے مسلمان تھے جنہوں نے گھر بار کے ساےھ رسول اللہ ﷺ کی طرف ہجرت کی (لیکن رسول اللہ ﷺ کی تعلیم کے مطابق) میں نے ان کی وفات کے بعد إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، کہا اور دعا کی اللهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا تو اللہ تعالیٰ نے ابو سلمہ کی جگہ رسول اللہ ﷺ مجھے نصیب فرمائے۔ (صحیح مسلم)
مرنے کے بعد کیا کیا جائے گا ؟
عَنِ حُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ ، أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ الْبَرَاءِ ، مَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ ، فَقَالَ : « إِنِّي لَا أَرَى طَلْحَةَ إِلَّا قَدْ حَدَثَ بِهِ الْمَوْتُ فَآذِنُونِي بِهِ وَعَجِّلُوا فَإِنَّهُ ، لَا يَنْبَغِي لِجِيفَةِ مُسْلِمٍ أَنْ تُحْبَسَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَهْلِهِ » (رواه ابوداؤد)
حصین ابن وحوح ؓ سے روایت ہے کہ طلحہ بن براءؓ بیمار ہوئے تو رسول اللہ ﷺ اپ کی عیادت کے لئے تشریف لائے (ان کی نازک حالت دیکھ کر) آپ ﷺ نے دوسرے آدمیوں سے فرمایا: میں محسوس کرتا ہوں کہ ان کی موت کا وقت آ ہی گیا ہے (اگر ایسا وقت ہو جائے) تو مجھے خبر کی جائے اور (ان کی تجہیز و تکفین میں) جلدی کی جائے، کیوں کہ کسی مسلمان کی میت کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ گھر والوں کے بیچ میں دیر تک رہے۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ موت کے بعد میت کی تجہیز و تکفین اور دفن وغیرہ میں جلدی کی جائے۔
میت پر گریہ و بکا اور نوحہ و ماتم
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : اشْتَكَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ شَكْوَى لَهُ ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ فَوَجَدَهُ فِي غَاشِيَةِ ، فَقَالَ : « قَدْ قَضَى » قَالُوا : لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَبَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَأَى القَوْمُ بُكَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكَوْا ، فَقَالَ : « أَلاَ تَسْمَعُونَ إِنَّ اللَّهَ لاَ يُعَذِّبُ بِدَمْعِ العَيْنِ ، وَلاَ بِحُزْنِ القَلْبِ ، وَلَكِنْ يُعَذِّبُ بِهَذَا وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ أَوْ يَرْحَمُ ، وَإِنَّ المَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ ؓ ایک دفعہ مریض ہوئے۔ تو رسول اللہ ﷺ عبدالرحمٰن بن عوف ‘ سعد بن ابی وقاص اور عبداللہ بن مسعود ؓ کو ساتھ لئے ان کی عیادت کے لئے آئے۔ آپ ﷺ جب اندر تشریف لائے تو ان کو آپ ﷺ نے “ غاشیہ ” میں یعنی بڑی سخت حالت میں دیکھا (یا یہ کہ آپ ﷺ نے ان کو اس حال میں دیکھا کہ ان کے گرد آدمیوں کی بھیڑ لگی ہوئی ہے) تو آپ ﷺ نے فرمایا: “ ختم ہو چکے ” (یہ بات آپ ﷺ نے یا تو ان کی حالت سے مایوس ہو کر اپنے اندازہ سے فرمائی یا بطور استفہام ان لوگوں سے آپ ﷺ نے دریافت کیا جو پہلے سے وہاں موجود تھے۔ ان لوگوں نے کہا نہیں حضرت! ابھی ختم تو نہیں ہوئے ہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ کو (ان کی وہ حالت دیکھ کر) رونا آ گیا۔ جب اور لوگوں نے آپ ﷺ پر گریہ کے آثار دیکھے تو وہ بھی رونے لگے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: لوگو! اچھی طرح سن لو اور سمجھ لو! اللہ تعالیٰ آنکھ کے آنسو اور دل کے رنج و غم پر تو سزا نہیں دیتا (کیوں کہ اس پر بندہ کا اختیار اور قابو نہیں ہے اور زبان کی طرف اشارہ کر کے آپ ﷺ نے فرمایا) لیکن اس زبان کی (غلط روی پر، یعنی زبان سے نوحہ و ماتم کرنے پر) سزا بھی دیتا ہے اور (اور انا للہ پڑھنے پر اور دعا و استغفار کرنے پر) رحمت بھی فرماتا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ میت کے رونے پیٹنے کی وجہ سے اس کو عذاب ہوتا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)۔
تشریح
کسی کی موت پر اس کے اقارب اور اعزہ و متعلقین کا رنجیدہ و غمگین ہونا اور اس کے نتیجہ میں آنکھوں سے آنسو بہنا اور اسی طرح بے اختیار گریہ کے دوسرے آثاار کا ظاہر ہو جانا بلکل فطری بات ہے اور اس بات کی علامت ہے کہ اس آدمی کے دل میں محبت اور درد مندی کا جذبہ موجود ہے، جو انسانیت کا ایک قیمتی اور پسندیدہ عنصر ہے، اس لئے شریعت نے اس پر پابندی نہیں عائد کی، بلکہ ایک درجہ میں اس کی تحسین اور قدر افزائی کی ہے، لیکن نوحہ و ماتم اور ارادی و اختیاری طور پر رونے پیٹنے کی سخت ممانعت فرمائی گئی ہے، اولا تو اس لئے کہ یہ مقام عبدیت اور رضا بالقضا کے بالکل خلاف ہے، دوسرے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و فہم کی جو بیش بہا نعمت عطا فرمائی ہے اور حوادث کو انگیز کرنے کی جو خاص صلاحیت بخشی ہے، نوحہ و ماتم اور رونا پیٹنا اس نعمت خداوندی کا گویا کفران ہے۔ نیز اس سے اپنے اور دوسروں کے رنج و غم میں اضافہ ہوتا ہے اور فکر و عمل کی قوت کم از کم اس وقت مفلوج اور معطل ہو جاتی ہے علاوہ ازیں نوحہ و ماتم اور رونا پیٹنا میت کے لئے بھی باعث تکلیف ہوتا ہے۔
تشریح ..... اس حدیث کا اصل پیغام تو یہی ہے کہ کسی کے مرنے پر نوحہ و ماتم نہ کیا جائے، یہ چیز اللہ کے غضب اور عذاب کا باعث ہے، بلکہ انا للہ اور دعا و استغفار کے ایسے کلمے پڑھے جائیں اور ایسی باتیں کی جائیں جو اللہ کی رحمت اور اس کے فضل و کرم کا وسیلہ بنیں۔ اس حدیث میں گھر والوں کے رونے پیٹنے کی وجہ سے میت کو عذاب ہونے کا بھی ذکر ہے۔ یہ مضمون رسول اللہ ﷺ سے حضرت ابن عمرؓ کے علاوہ ان کے والد ماجد حضرت عمر بن الخطاب ؓ اور بعض دوسرے صحابہ کرامؓ نے بھی روایت کیا ہے، لیکن حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور ان کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عباسؓ بھی اس سے انکار فرماتے ہیں۔
صحیح بخاری و صحیح مسلم ہی میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا یہ بیان مروی ہے کہ جب ان کے سامنے حضرت عمرؓ اور ان کے صاحبزادے حضرت ابن عمرؓ کی حدیث اس سلسلہ میں نقل کی گئی تو انہوں نے فرمایا کہ: یہ دونوں حضرات بلاشبہ صادق ہیں۔ لیکن اس معاملہ میں یا تو ان کو سہو ہوا، یا رسول اللہ ﷺ کی بات سننے یا سمجھنے میں ان کو غلطی ہوئی، رسول اللہ ﷺ نے یہ بات نہیں فرمائی تھی۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے اس بارے میں قرآن مجید کی آیت “ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى ” سے بھی استدلال کیا ہے، وہ فرماتی ہیں کہ: اس آیت میں یہ قاعدہ اور اصول بیان کیا گیا ہے کہ کسی آدمی کے گناہ کی سزا دوسرے کو نہیں دی جائے گی، پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ روئیں گھر والے اور اس کی سزا دی جائے بے چارے مرنے والے کو۔ لیکن حضرت عمرؓ اور عبداللہ بن عمرؓ نے جس طرح مضمون رسول اللہ ﷺ نے نقل فرمایا ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نہ انہیں بھول چوک ہوئی ہے اور نہ غلط فہمی، دوسری طرف حضرت صدیقہ ؓ کا استدلال بھی وزنی ہے، اس لئے شارحین حدیث نے دونوں باتوں میں تطبیق کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کےک لئے توجیہ کے مختلف طریقے اختیار کیے ہیں، ان میں سے ایک جو زیادہ معروف اور سہل الفہم بھی ہے یہ ہے کہ حضرت عمرو بن عمر ؓ کی حدیثوں کا تعلق اس صورت سے ہے جب کہ گھر والوں کے رونے میں مرنے والے کے قصور اور غفلت کو بھی کچھ دخل ہو، مثلا یہ کہ وہ خود رونے اور نوحہ و ماتم کرنے کی وصیت کر گیا ہو جیسا کہ عربوں میں اس کا رواج تھا، یا کم سے کم یہ کہ گھر والوں کو رونے پیٹنے سے اس نے کبھی منع نہ کیا ہو۔ خود امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح بخاری میں یہی توجیہ کر کے تطبیق کی کوشش کی ہے۔
ایک دوسری توجیہ یہ بھی کی گئی ہے کہ جب میت کے گھر والے اس پر روحہ و ماتم کرتے ہیں اور جاہلانہ رواج کے مطابق اس مرنے والے کے “ کارنامے ” بیان کر کے اس کو آسمان پر چڑھاتے ہیں تو فرشتے میت سے کہتے ہیں “ کیوں جناب آپ ایسے ہی تھے؟ ” یہ بات بعض حدیثوں میں بھی وارد ہوئی ہے۔ یہاں اس سلسلہ میں بس اتنا ہی لکھا مناسب سمجھا گیا۔ جو حضرات اہل علم اس سے زیادہ تفصیل چاہیں وہ فتح الملہم شرح صحیح مسلم کی طرف رجوع فرمائیں، اس میں اس مسئلہ پر بہت سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔
ملحوظ رہے کہ حضرت سعد بن عبادہ ؓ جن کی سخت بیماری کا اس حدیث میں ذکر ہے، اس بیماری سے صحت یاب ہو گئے تھے، ان کی وفات رسول اللہ ﷺ کے بعد ایک روایت کے مطابق عہد صدیقی میں اور دوسری روایت کے مطابق عہد فاروقی میں ہوئی۔
میت پر گریہ و بکا اور نوحہ و ماتم
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ : أُغْمِيَ عَلَى أَبِي مُوسَى فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ أُمُّ عَبْدِ اللهِ تَصِيحُ بِرَنَّةٍ ، ثُمَّ أَفَاقَ ، فَقَالَ : أَلَمْ تَعْلَمِي وَكَانَ يُحَدِّثُهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : « أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ حَلَقَ وَصَلَقَ وَخَرَقَ » (رواه البخارى ومسلم واللفظ المسلم)
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کے صاحبزادے ابو بردہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ ابو موسیٰؓ (بیمار پڑے اور ان) پر غشی کی کیفیت طاری ہو گئی تو ان کی بیوی ام عبداللہ بلند آواز سے اور لے کے ساتھ رونے لگیں۔ پھر ابو موسیٰؓ کو افاقہ ہو گیا اور ہوش آ گیا تو انہوں نے (اپنی ان بیوی سے) فرمایا: کیا تمہیں یہ معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو کوئی (موت اور غمی کے موقع پر) سر منڈائے یا چلائے یا کپڑے پھاڑے (اور جاہلیت کے ان طریقوں سے اظہار غم و ماتم کرے تو میں اس سے بری اور بے تعلق ہوں۔ ابو بردہ کہتے ہیں کہ ابو موسیٰؓ یہ حدیث اپنی بیوی کو سنایا بھی کرتے تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
میت پر گریہ و بکا اور نوحہ و ماتم
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ ، وَشَقَّ الْجُيُوبَ ، وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ. (رواه البخارى)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جو کوئی (غمی اور موت کے موقع پر) اپنے رخساروں پر تماچے مارے اور منہ پیٹے اور گریبان پھاڑے اور اہل جالیت کے طریقے پر واویلا کرے وہ ہم میں سے نہیں (یعنی وہ ہمارے طریقے پر نہیں ہے)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
آنکھ کے آنسو اور دل کا صدمہ
عَنْ أَنَسِ قَالَ : دَخَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَيْفٍ القَيْنِ ، وَكَانَ ظِئْرًا لِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِبْرَاهِيمَ ، فَقَبَّلَهُ ، وَشَمَّهُ ، ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَيْهِ بَعْدَ ذَلِكَ وَإِبْرَاهِيمُ يَجُودُ بِنَفْسِهِ ، فَجَعَلَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَذْرِفَانِ ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ : « يَا ابْنَ عَوْفٍ إِنَّهَا رَحْمَةٌ » ، ثُمَّ أَتْبَعَهَا بِأُخْرَى ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِنَّ العَيْنَ تَدْمَعُ ، وَالقَلْبَ يَحْزَنُ ، وَلاَ نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا ، وَإِنَّا بِفِرَاقِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی معیت میں ابوسیف آہنگر کے گھر گئے۔ یہ ابو سیف رسول اللہ ﷺ کے فرزند ابراہیم (علیہ وعلی ابیہ السلام) کی دایہ اور مرضعہ (خولہ بنت المنذر) کے شوہر تھے۔ (اور ابراہیم اس وقت کے رواج کے مطابق اپنی دایہ کے گھر ہی رہتے تھے) رسول اللہ ﷺ نے اپنے صاسحبزادے ابراہیم کو اٹھا لیا اور چوما اور (ان کے رخسار) پر ناک رکھی (جیسا کہ بچوں کو پیار کرتے وقت کیا جاتا ہے) اس کے بعد پھر ایک دفعہ (ان صاحبزادے ابراہیم کی آخری بیماری میں) ہم وہاں گئے۔ ابراہیم جان دے رہے تھے (یعنی ان کا بلکل آخری وقت تھا)۔ ان کی اس حالت کو دیکھ کر رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں سے آنسوؤں بہنے لگے۔ تو عبدالرحمٰن بن عوف! جو ناواقفی سے سمجھتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ اس قسم کی چیزوں سے متاثر نہں ہو سکتے) انہوں نے کہا: یا رسول اللہ (ﷺ)! آپ ﷺ کی بھی یہ حالت؟: آپ ﷺ نے فرمایا: اے ابن عوف! یہ (کوئی بری بات اور بری حالت نہیں بلکہ یہ) شفقت اور درد مندی ہے۔ پھر دوبارہ آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہے تو آپ ﷺ نے فرمایا۔ آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل مغموم ہے اور زبان سے ہم وہی کہیں گے جو اللہ کو پسند ہو (یعنی إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) اور اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی کا ہمیں صدمہ ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
س حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کا قلب مبارک رنج و غم والے حوادث سے رنجیدہ و غمگین ہوتا تھا اور اس حالت میں آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بھی بہتے تھے، اور بلا شبہ یہی انسانیت کا کمال ہے کہ خوشی اور مسرت والی باتوں سے مسرت ہو اور رنج و غم کے موجبات سے رنج و غم ہو، اگر کسی کا یہ حال نہ ہو تو یہ اس کا نقص ہے، کمال نہیں ہے۔
امام ربانی شیخ احمد فاروقی مجدد الف ثانی نے اپنے ایک مکتوب میں لکھا ہے کہ: “ ایک زمانہ میں میرے دل کی یہ حالت ہو گئی تھی کہ اسباب مسرت سے مجھے مسرت نہیں ہوتی تھی، اور موجبات غم سے غم نہیں ہوتا تھا۔ میں اس زمانہ میں سنت نبوی ﷺ کے اتباع کی نیت سے ایسے مواقع پر مسرت اور رنج و غم کو بہ تکلف اپنے پر طاری کیا کرتا تھا، اس کے بعد خدا کے فضل سے وہ کیفیت زائل ہو گئی، اور اب میرا یہ حال ہے کہ رنج و غم پہنچانے والے حوادث سے مجھے طبعی رنج و غم ہوتا ہے اور اسی طرح خوشی اور مسرت والی باتوں سے مجھے طبعی خوشی اور مسرت ہوتی ہے۔ ”
مصیبت زدہ کی تعزیت اور ہمدردی
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَنْ عَزَّى مُصَابًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ » (رواه الترمذى وابن ماجه)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی مصیبت زدہ کی تعزیت کی تو اس کے لئے مصیبت زدہ کا سا ہی اجر ہے۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)
تشریح
موت یا ایسے ہی کسی اور شدید حادثہ کے وقت مصیبت زدہ کو تسلی دینا اور اس کے ساتھ اظہار ہمدردی اور اس کا غم ہلکا کرنے کی کوشش کرنا بلا شبہ مکار اخلاق میں سے ہے رسول اللہ ﷺ خود بھی اس کا اہتمام فرماتے تھے اور دوسروں کو اس کی ہدایت اور ترغیب بھی دیتے تھے۔
اہل میت کے لئے کھانے کا اہتمام
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : لَمَّا جَاءَ نَعْيُ جَعْفَرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « اصْنَعُوا لِآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا ، فَقَدْ أَتَاهُمْ مَا يَشْغَلُهُمْ ، أَوْ أَمْرٌ يَشْغَلُهُمْ » (رواه الترمذى وابوداؤد وابن ماجه)
حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ سے روایت ہے کہ جب ان کے والد ماجد حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ کی شہادت کی خبر آئی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جعفر کے گھر والوں کے لئے کھانا تیار کیا جائے، وہ اس اطلاع کی وجہ سے ایسے حال میں ہیں کہ کھانے وغیرہ کی طرف توجہ نہ کر سکیں گے۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)
تشریح
میت کے گھر والے تازہ صدمہ کی وجہ سے ایسے حال میں نہیں ہوتے کہ کھانے وغیرہ کا اہتمام کر سکیں، اس لئے ان کے ساتھ ہمدردی کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ اس دن ان کے کھانے کا اہتمام دوسرے اعزہ اور تعلق والے کریں۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى : مَا لِعَبْدِي المُؤْمِنِ عِنْدِي جَزَاءٌ ، إِذَا قَبَضْتُ صَفِيَّهُ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا ثُمَّ احْتَسَبَهُ ، إِلَّا الجَنَّةُ " (رواه البخارى)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اپنے ایمان والے بندے (یا بندی) کے کسی پیارے کو جب میں اٹھا لوں پھر وہ ثواب کی امید میں صبر کرے تو میرے پاس اس کے لئے جنت کے سوا کوئی معاوضہ نہیں ہے۔ (صحیح بخاری)
عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا مَاتَ وَلَدُ العَبْدِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِمَلاَئِكَتِهِ : قَبَضْتُمْ وَلَدَ عَبْدِي ، فَيَقُولُونَ : نَعَمْ ، فَيَقُولُ : قَبَضْتُمْ ثَمَرَةَ فُؤَادِهِ ، فَيَقُولُونَ : نَعَمْ ، فَيَقُولُ : مَاذَا قَالَ عَبْدِي؟ فَيَقُولُونَ : حَمِدَكَ وَاسْتَرْجَعَ ، فَيَقُولُ اللَّهُ : ابْنُوا لِعَبْدِي بَيْتًا فِي الجَنَّةِ ، وَسَمُّوهُ بَيْتَ الحَمْدِ. (رواه احمد والترمذى)
حضرت ابو موسی اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ کے کسی بندے کا بچہ انتقال کر جاتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ روح قبض کرنے والے فرشتے سے فرماتا ہے تم نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کی؟ وہ عرض کرتے ہیں: جی ہاں! اس بندے نے آپ کی حمد، آپ کا شکر کیا اور إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھا (یعنی ہم سب اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ (اس کے صابرانہ رویہ پر) اس کے لیے جنت میں ایک عالیشان گھر بناؤ اور اس کا نام بیت الحمد رکھو۔ (مسند احمد، جامع ترمذی)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک تعزیت نامہ اور صبر کی تلقین
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، أَنَّهُ مَاتَ ابْنٌ لَهُ فَكَتَبَ إِلَيْهِ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّعْزِيَةَ..... " بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ إِلَى مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، سَلَامٌ عَلَيْكَ ، فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ. أَمَّا بَعْدُ ، فَأَعْظَمَ اللهُ لَكَ الْأَجْرَ ، وأَلْهَمَكَ الصَّبْرَ ، وَرَزَقَنَا وَإِيَّاكَ الشُّكْرَ ، فَإِنَّ أَنْفُسَنَا وَأَمْوَالَنَا وَأَهْلِينا مِنْ مَوَاهِبِ اللهِ الْهَنِيئةِ وَعَوَارِيهِ الْمُسْتَوْدَعَةِ ، مَتَّعكَ اللهُ بِهِ فِي غِبْطَةٍ وَسُرُورٍ ، وَقَبَضَهُ مِنْكَ بِأَجْرٍ كَبِيْرٍ ، الصَّلَاةِ وَالرَّحْمَةِ وَالْهُدَى إِنِ احْتَسَبَتْهُ ، فَاصْبِرْ ، وَلَا يُحْبِطْ جَزَعُكَ أَجْرَكَ فَتَنْدمَ ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْجَزَعَ لَا يَرُدُّ مَيِّتًا ، وَلَا يَدْفَعَ حُزْنًا ، وَمَا هُوَ نَازِلٌ فَكَأَنْ قَدْ وَالسَّلَامُ " (رواه الطبرانى فى الكبير والاوسط)
حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ ان کے ایک لڑکے کا انتقال ہو گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو یہ تعزیت نامہ لکھا:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ کے رسول محمد (ﷺ) کی طرف سے معاذ بن جبل کے نام۔ سلا م علیک! میں پہلے تم سے اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں (بعد ازاں) دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تم کو اس صدمہ پر اجر عظیم دے، اور تمہارے دل کو صبر عطا فرمائے، اور ہم کو اور تم کو نعمتوں پر شکر کی توفیق دے حقیقت یہ ہے کہ ہماری جانیں اور ہمارے مال اور ہمارے اہل عیال یہ سب اللہ تعالیٰ کے مبارک عطیے ہیں اور اس کی سپرد کی ہوئی امانتیں ہیں (اس اصول کے مطابق تمہارا لڑکا بھی تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت تھا) اللہ تعالیٰ نے جب تک چاہا خوشی اور عیش کے ساتھ تم کو اس سے نفع اٹھانے اور جی بہلانے کا موقع دیا اور جب اس کی مشیت ہوئی اپنی اس امانت کو تم سے واپس لے لیا وہ تم کو اس کا بڑا اجر دینے والا ہے، اللہ کی خاص نوازش اور اس کی رحمت اور اس کی طرف سے ہدایت (کی تم کو بشارت ہے) اگر تم نے ثواب اور رضاء الہی کی نیت سے صبر کیا۔ پس اے معاذ! صبر کرو اور ایسا نہ ہو کہ جزع و جزع تمہارے قیمتی اجر کو غارت کر دے اور پھر تمہیں ندامت ہو (کہ صدمہ بھی پہنچا اور اجر سے بھی محرومی رہی) اور یقین رکھو کہ جزع و فزع سے کوئی مرنے والا واپس نہیں آتا اور نہ اس سے رنج و غم دور ہوتا ہے، اور اللہ کی طرف سے جو حکم اترتا ہے وہ ہو کر رہنے والا ہے، بلکہ یقینا ہو چکا ہے۔ والسلام۔ (معجم کبیر و معجم اوسط للطبرانی)
تشریح
قران مجید میں مصائب پر صبر کرنے والے بندوں کو تین چیزوں کی بشارت دی گئی ہے:
أُولَـٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ۖوَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ
ان پر اللہ تعالیٰ کی خاص نوازش اور عنایت ہو گی اور وہ رحمت سے نوازے جائیں گے اور ہدایت یاب ہوں گے۔
رسول اللہ ﷺ نے اس تعزیت نامہ میں اسی قرانی بشارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ:
“ اے معاذ! اگر تم نے ثواب اور رضاء الہی کی نیت سے اس صدمہ پر صبر کیا تو تمہارے لئے اللہ کی خاص نوازش اور اس کی رحمت اور ہدایت کی بشارت ہے ”۔
رسول اللہ ﷺ کے اس مبارک تعزیت نامہ میں ہر اس صاحب ایمان بندہ کے لئے تعزیت و نصیحت اور تسلی و تشفی کا پورا سامان ہے جس کو کوئی صدمہ پہنچے۔ کاش اپنی مصیبتوں میں ہم رسول اللہ ﷺ کی اس ایمان افروز اور سکرن بخش تعزیت سے سکون حاصل کریں اور صبر و شکر کو اپنا شعار بنا کر دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت اور رحمت و ہدایت سے بہرہ اندوز ہوں۔
عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ ، فَقَالَ : « اغْسِلْنَهَا ثَلاَثًا ، أَوْ خَمْسًا ، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، إِنْ رَأَيْتُنَّ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، وَاجْعَلْنَ فِي الآخِرَةِ كَافُورًا ، أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ ، فَآذِنَّنِي » قَالَتْ : فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ ، فَقَالَ : « أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ » وَفىْ رِوَايَةٍ اغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلَاثًا ، أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا وَابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا ، وَمَوَاضِعِ الوُضُوءِ مِنْهَا. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ام عطیہ انصاریہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک فوت شدہ صاحبزادی کو ہم غسل دے رہے تھے، اس وقت رسول اللہ ﷺ گھر میں تشریف لائے اور ہم سے فرمایا کہ: تم اس کو بیری کے پتوں کے ساتھ جوش دئیے ہوئے پانی سے تین دفعہ یا پانچ دفعہ اور اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ غسل دیجو، اور آخری دفعہ کافور بھی مل کیجو، پھر جب تم غسل دے چکو تو مجھے خبر دیجو۔ (ام عطیہؓ کہتی ہیں کہ) جب ہم غسل دے کر فارغ ہو گئے تو ہم نے آپ ﷺ کو اطلاع دے دی تو آپ ﷺ نے اپنا تہبند ہماری طرف پھینک دیا اور فرمایا کہ: “ سب سے پہلے یہ اسے پہنا دو ”۔ اور اس حدیث کی ایک دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: تم اس کو طاق دفعہ غسل دیجو۔ تین دفعہ یا پانچ دفعہ اور داہنے اعضاء سے اور وضو کے مقامات سے شروع کیجو۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اللہ کا جو بندہ اس دنیا سے رخصت ہو کر موت کے راستے سے دار آخرت کی طرف جاتا ہے اسلامی شریعت نے اس کو اعزاز و اکرام کے ساتھ رخصت کرنے کا ایک خاص طریقہ مقرر کیا ہے، جو نہایت ہی پاکیزہ، انتہائی خدا پرستانہ اور نہایت ہمدردانہ اور شریفانہ طریقہ ہے۔ حکم ہے کہ پہلے میت کو ٹھیک اس طرح غسل دیا جائے جس طرح کوئی زندہ آدمی پاکی اور پاکیزگی حاصل کرنے کے لئے نہاتا ہے۔ اس غسل میں پاکی اور صفائی کے علاوہ غسل کے آداب کا بھی پورا لحاظ رکھا جائے۔ غسل کے پانی میں وہ چیزیں شامل کی جائیں جو میل کچیل صاف کرنے کے لئے لوگ زندگی میں بھی نہانے میں استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ آخر میں کافور جیسی خوشبو بھی پانی میں شامل کی جائے تا کہ میت کا جسم پاک صاف ہونے کے علاوہ معطر بھی ہو جائے پھر اچھے صاف ستھرے کپڑوں میں دفنایا جائے، لیکن اس سلسلہ میں اسراف سے بھی کام نہ لیا جائے اس کے بعد جماعت کے ساتھ نماز جنازہ پڑھی جائے جس میں میت کے لئے مغفرت اور رحمت کی دعا اہتمام اور خلوص سے کی جائے۔ پھر رخصت کرنے کے لئے قبرستان تک جایا جائے، پھر اکرام و احترام کے ساتھ بظاہر قبر کے حوالے اور فی الحقیقت اللہ کی رحمت کے سپرد کر دیا جائے اس سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ ارشادات اور آپ ﷺ کی ہدایات ذیل میں پڑھئے۔
اس حدیث کی صحیح مسلم کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جن صاحبزادی کو غسل دینے کا اس حدیث میں ذکر ہے وہ آپ ﷺ کی سب سے بڑی صاحبزادی زینب تھیں، جو ابو العاص بن الربیع کے نکاح میں تھیں، ان کی وفات ۸ھ کے اوائل میں ہوئی تھی، اور ام عطیہ انصاریہ ؓ جو اس حدیث کی راوی ہیں اور جو اس موقع پر غسل دینے والیوں میں تھیں ممتاز صحابیات میں سے ہیں، اس قسم کی خدمتوں میں یہ پیش پیش رہتی تھیں، خاص کر مرنے والی خواتین کو غسل دینا ان کو خوب آتا تھا۔ ابن سیرین تابعی جیسے جلیل القدر امام کا بیان ہے کہ میں نے غسل میت انہی سے سیکھا۔
اس حدیث میں بیری کے پتوں کے ساتھ ابالے ہوئے پانی سے غسل دینے کا ذکر ہے ایسا پانی جسم سے میل وغیرہ کو خوب صاف کرتا ہے۔ ہمارے زمانہ میں جس مقصد کے لئے نہانے میں طرح طرح کے صابون استعمال کئے جاتے ہیں اس زمانہ میں اس مقصد کے لئے بیری کے پتوں کے ساتھ جوش دیا ہوا پانی استعمال کیا جاتا تھا۔ مقصد صرف یہ ہے کہ میت کے جسم سے ہر قسم کے میل کچیل کی صفائی کا پورا اہتمام کیا جائے۔ اس لئے حکم فرمایا کہ غسل کم سے کم تین دفعہ دیا جائے اور اگر اس سے زیادہ مناسب سمجھا جائے تو چونکہ طاق عدد اللہ کو محبوب ہے، اس لئے اس کا لحاظ بہرحال رکھا جائے۔ یعنی تین دفعہ یا پانچ دفعہ اور اگر ضرورت محسوس ہو تو اس سے بھی زیادہ سات دفعہ غسل دیا جائے اور آخری دفعہ کافور بھی پانی میں ملا لیا جائے جو نہایت مہک دار اور دیرپا خوشبو ہے۔ یہ سب میت کا اعزاز و اکرام ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر صاحبزادی کے لئے جس اہتمام سے اپنا تہبند مبارک دیا (اور بعض روایات میں تصریح ہے کہ جب آپ ﷺ کو غسل مکمل ہو جانے کی اطلاع دی گئی اس وقت آپ نے اپنے جسم اقدس سے نکال کر وہ تہبند دیا) اور تاکید فرمائی کہ اس کو شعار (یعنی سب سے اندر کا لباس) بنا دو، اس سے علماء کرام نے سمجھا ہے کہ اللہ کے نیک اور مقبول بندوں کے لباس وغیرہ کا تبرک کے طور پر اس طرح کا استعمال درست ہے اور اس سے نفع کی امید ہے۔ ہاں ان چیزوں میں غلو اور ان کے بھروسہ پر عمل سے غافل ہو جانا یقیناً گمراہی ہے۔
اس روایت سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ ان صاحبزادی کو کیسے کپڑوں میں کفیایا گیا، لیکن حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں جوزقی کی تخریج سے حضرت ام عطیہ ؓ کی اس حدیث کے سلسلہ میں یہ اضافہ بھی نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا:
فَكَفَّنَهَا فِي خَمْسَةِ أَثْوَابٍ وَخَمَرْنَاهَا كَمَا يُخْمَرُ الْحَىُّ
ہم نے ان صاحبزادی کو پانچ کپڑوں میں کفنایا اور خمار (اوڑھنی) بھی اڑھائی، جس طرح زندوں کو اڑھائی جاتی ہے۔ (اس بناء پر وعورتوں کے لئے کفن میں پانچ کپڑے ہی مسنون کہے گئے ہیں)۔
کفن میں کیا کیا اور کیسے کپڑے ہونے چاہئیں ؟
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : « أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي ثَلاَثَةِ أَثْوَابٍ يَمَانِيَةٍ بِيضٍ ، سَحُولِيَّةٍ لَيْسَ فِيهِنَّ قَمِيصٌ وَلاَ عِمَامَةٌ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (وصال کے بعد) تین سفید یمنی کپڑوں میں کفنائے گئے جو سحولی تھے، ان تین کپڑوں میں نہ تو کرتا تھا اور نہ عمامہ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اکثر شارحین نے سحولی کی تشریح میں کہا ہے کہ یمن کے علاقہ میں سحول ایک بستی تھی جہاں کے کپڑے مشہور تھے۔ بعض حضرات نے اس کے دوسرے معنی بھی بیان کئے ہیں، لیکن راجح یہی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ وفات سے پہلے بھی یمنی چادریں استعمال فرماتے تھے، وصال کے بعد آپ کے کفن میں بھی وہی استعمال کی گئیں اور آپ ﷺ کو تین کپڑوں میں کفنایا گیا جس میں نہ کرتا تھا اور نہ عمامہ۔ اور مردوں کے لئے کفن کے تین ہی کپڑے مسنون ہیں۔
کفن میں کیا کیا اور کیسے کپڑے ہونے چاہئیں ؟
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِذَا كَفَّنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ » (رواه مسلم)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم میں کوئی اپنے کسی مرنے والے بھائی کو کفن دے تو اچھا کفن دے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث کا اصل منشاء بھی میت کا اعزاز و اکرام ہے اور مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص استطاعت کے باوجود اپنی میت کو اس خیال سے کہ اب تو اس کو قبر میں دفن ہونا اور مٹی میں ملنا ہے پھٹے پرانے اور ردی کپڑے میں نہ کفنائے بلکہ اچھا اور مناسب کفن دے یہ میت کے اعزاز اکرام کا تقاضا اور حق ہے۔