Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 41 of 106

801Maarif-ul-Hadith

کفن میں کیا کیا اور کیسے کپڑے ہونے چاہئیں ؟

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : البَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ البَيَاضَ ، فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ. (رواه ابوداؤد والترمذى وابن ماجه)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ سفید کپڑے پہنا کرو وہ تمہارے لئے اچھے کپڑے ہیں اور انہی میں اپنے مرنے والوں کو کفنایا کرو۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)

802Maarif-ul-Hadith

کفن میں کیا کیا اور کیسے کپڑے ہونے چاہئیں ؟

عَنْ عَلِىٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَغَالَوْا فِي الْكَفَنِ ، فَإِنَّهُ يُسْلَبُهُ سَرِيعًا. (رواه ابوداؤد)

حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: زیادہ بیش قیمت کفن نہ استعمال کرو کیوں کہ وہ جلدی ہی ختم ہو جاتا ہے۔ (سنن ابی داؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ جس طرح یہ بات ٹھیک نہیں ہے کہ استطاعت کے باوجود میت کو کفن ردی کپڑے کا دیا جائے، اسی طرح یہ بھی درست نہیں ہے کہ بیش قیمت کپڑا کفن میں استعمال کیا جائے۔ واضح رہے کہ مردوں کو تین اور عورتوں کو پانچ کپڑوں میں کفنانے اور درمیانی حیثیت کے اچھے سفید کپڑے کا کفن دینے کے مذکورہ بالا احکام کا تعلق اس صورت سے ہے جب کہ میت کے گھر والے سہولت سے اس کا انتظام کر سکتے ہوں اور اس کی استطاعت رکھتے ہوں، ورنہ مجبوری کی حالت میں صرف ایک اور پرانے کپڑے میں بھی کفن دیا جا سکتا ہے اور اس میں کوئی عار نہیں ہونی چاہئے۔ ٍغزوہ احد میں حضور ﷺ کے حقیقی چچا سیدنا حضرت حمزہ ؓ اور حضرت مصعب بن عمیرؓ کو صرف ایک پرانی اور اتنی چھوٹی سی چادر میں کفنایا گیا تھا جب اس سے آپ کا سر ڈھکتے تو پاؤں کھل جاتے تھے اور جب پاؤں ڈھکتے تھے تو سر کھل جاتا تھا، پھر رسول اللہ ﷺ کے حکم سے اس چادر سے سر ڈھک دیا گیا، اور پاؤں کو اذخر گھاس سے چھپا دیا گیا اور اسی کفن کے ساتھ دفن کر دیا گیا۔

803Maarif-ul-Hadith

جنازہ کے ساتھ چلنے اور نماز جنازہ پڑھنے کا ثواب

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَنِ اتَّبَعَ جَنَازَةَ مُسْلِمٍ ، إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ، وَكَانَ مَعَهُ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا وَيَفْرُغَ مِنْ دَفْنِهَا ، فَإِنَّهُ يَرْجِعُ مِنَ الأَجْرِ بِقِيرَاطَيْنِ ، كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ رَجَعَ قَبْلَ أَنْ تُدْفَنَ ، فَإِنَّهُ يَرْجِعُ بِقِيرَاطٍ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو رہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو آدمی ایمان کی صفت کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ جائے اور اس وقت تک جنازے کے ساتھ رہے جب تک کہ اس پر نماز پڑھی جائے اور اس کے دفن سے فراغت ہو تو وہ ثواب کے دو قیراط لے کر واپس ہو گا، جن میں سے ہر قیراط گویا احد پہاڑ کے برابر ہو گا، اور جو آدمی صرف نماز جنازہ پڑھ کے واپس آ جائے (دفن ہونے تک ساتھ نہ رہے) تو وہ ثواب کا (ایسا ہی) ای قراط لے کر واپس ہو گا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح جیسا کہ ظاہر ہے حدیث کا مقصد جنازہ کے ساتھ جانے، اس پر نماز پڑھنے اور دفن میں شرکت کرنے کی ترغیب دینا اور فضیلت بیان کرنا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ جو شخص جنازہ کے ساتھ چلا اور صرف نماز میں شرکت کر کے واپس آ گیا، وہ بقدر ایک قیراط کے اجر کا مستحق ہو گا، اور جو شخص دفن تک شریک رہا وہ دو قیراط کا مستحق ہو گا۔ قیراط راجح قول کے مطابق درہم کا بارہواں حصہ ہوتا ہے۔ قریبا دو پیسہ چونکہ اس زمانہ میں مزدوروں کو ان کے کام کی اجرت قیراط کے حساب سے دی جاتی تھی، اس لئے رسول اللہ ﷺ نے بھی اس موقع پر قیراط کا لفظ بولا، اور یہ بھی واضح فرما دیا کہ اس کو دنیا کا قیراط (درہم کا بارھواں حصہ آنہ آدھ آنہ) نہ سمجھا جائے، بلکہ یہ ثواب آخرت کا قیراط ہو گا جو دنیا کے قیراط کے مقابلہ میں اتنا بڑا ہو گا جتنا احد پہاڑ اس کے مقابلے میں بڑا اور عظیم الشان ہے۔ اسی کے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی واضح کر دیا کہ اس عمل پر یہ عظیم ثواب تب ہی ملے گا جب کہ یہ عمل ایمان و یقین کی بنیا پر اور ثواب ہی کی نیت سے کیا گیا ہو، یعنی اس عمل کا اصل محرک اللہ و رسول کی باتوں پر ایمان و یقین اور آخرت کے ثواب کی امید ہو۔ پوس اگر کوئی شخص صرف تعلق اور رشتہ داری کے خیال سے یا میت کے گھر والوں کا جی خوش کرنے ہی کی نیت سے یا ایسے ہی کسی دوسرے مقصد سے جنازہ کے ساتھ گیا اور نماز جنازہ اور دفن میں شریک ہوا، اللہ اور رسول کے حکم اور آخرت کا ثواب اس کے پیش نظر تھا ہی نہیں، تو وہ اس ثواب عظیم کا مستحق نہیں ہو گا۔ حدیث کے الفاظ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا کا مطلب یہ ہے۔ اور سمجھنا چاہئے کہ اعمال کے اجر اخروی کے لیے ایک عام شرط ہے۔ اس سلسلہ “ معارف الحدیث ” کی پہلی جلد کے بالکل شروع میں حدیث “ إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ” کی تشریح اور دوسری جلد میں “ اخلاص ” کے زیر عنوان اس پر تفصیلی روشنی ڈالی جا چکی ہے۔

804Maarif-ul-Hadith

جنازہ کے ساتھ تیز رفتاری اور جلدی کا حکم

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « أَسْرِعُوا بِالْجِنَازَةِ ، فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا ، وَإِنْ يَكُ سِوَى ذَلِكَ ، فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنازے کو تیز لے جایا کرو، اگر وہ نیک ہے تو (قبر اس کے لیے) خیر ہے (یعنی اچھی منزل ہے) جہاں تم (تیز چل کے) اس کو جلدی پہنچا دو گے، اور اگر اس کے سوا دوسری صورت ہے (یعنی جنازہ نیک کا نہیں ہے) تو ایک برا (بوجھ تمہارے کندھوں پر) ہے (تم تیز جلدی) اس کو اپنے کندھوں سے اتار دو گے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حدیث کا مقصد یہ ہے کہ جنازہ کو جلدی اپنے ٹھکانے یہ پہنچانے کی کوشش کی جائے۔ تجہیز و تکفین کے انتظام میں بھی بے ضرورت تاخیر نہ کی جائے اور جب دفن کے لئے جنازہ لے جایا جائے تو خواہ مخواہ آہستہ آہستہ نہ چلا جائے بلکہ مناسب حد تک تیز چلا جائے، اگر میت نیک اور اللہ کی رحمت کی مستحق ہے تو پھر جلدی اس کو اس کے اچھے ٹھکانے پر پہنچا دیا جائے، اور اگر خدانخواستہ اس کے برعکس معاملہ ہے تو پھر جلدی اس کے بارے میں سبکدوشی حاصل کی جائے۔

805Maarif-ul-Hadith

نماز جنازہ اور میت کے لئے دعا

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى الْمَيِّتِ ، فَأَخْلِصُوا لَهُ الدُّعَاءَ » (رواه ابوداؤد وابن ماجه)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم کسی میت کی نماز جنازہ پڑھو تو پورے خلوص سے اس کے لئے دعا کرو۔ (سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ) تشریح نماز جنازہ کا اصل مقصد میت کے لئے دعا ہی ہے۔ پہلی تکبیر کےبعد اللہ کی حمد تسبیح اور دوری تکبیر کے بعد درود شریف گویا دعا ہی کی تمہید ہے۔ رسول اللہ ﷺ نماز جنازہ میں دعائیں پڑھتے تھے۔ (جو آگے درج کی جارہی ہیں) وہ سب اس موقع کے لئے بہترین دعائیں ہیں۔

806Maarif-ul-Hadith

نماز جنازہ اور میت کے لئے دعا

عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَنَازَةٍ ، فَحَفِظْتُ مِنْ دُعَائِهِ وَهُوَ يَقُولُ : « اللهُمَّ ، اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ ، وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ ، وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ ، وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ ، وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ قَالَ : « حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا ذَلِكَ الْمَيِّتَ » (رواه مسلم)

حضرت عوف بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک میت کے جنازہ کی نماز پڑھی (اس میں آپ نے میت کے لئے جو دعا کی) اس دعا کے یہ الفاظ مجھے یاد ہیں، آپ ﷺ اللہ کے حضور میں عرض کر رہے تھے اے اللہ! تو اس بندے کی مغفرت فرما، اس پر رحمت فرما، اس کو عافیت دے، اس کو معاف کر دے، اس کی باعزت مہمانی فرما دے (جہنم کی آگ اور اس کی سوزش و جلن کی بجائے) پانی سے، برف اور اولوں سے اس کو نہلا دے (اور ٹھنڈا اور پاک فرما دے)، اور گناہوں کی گندگی سے اس کو صاف فرما دے، جس طرح اجلے کپڑے کو تو نے میل سے صاف فرما دیا ہے اور اس کو دنیا کے گھر کے بدلے میں آخرت کا اچھا گھر اور گھر والوں کے بدلہ میں اچھے گھر والے اور رفیق حیات کے بدلہ میں سے اچھا رفیق حیات عطا فرما دے، اور اس کو جنت میں پہنچا دے، اور عذاب قبر اور عذاب دوزخ سے اس کو پناہ دے۔ (حدیث کے راوی عوف بن مالک صحابیؓ) کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کی یہ دعا سن کر میرے دل میں آرزو پیدا ہوئی کہ کاش یہ میت میں ہوتا۔ (صحیح مسلم)

807Maarif-ul-Hadith

نماز جنازہ اور میت کے لئے دعا

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَنَازَةٍ ، قَالَ : « اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا ، وَمَيِّتِنَا ، وَصَغِيرِنَا ، وَكَبِيرِنَا ، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا ، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا ، اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِيمَانِ ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِسْلَامِ ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ ، وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُ » (رواه احمد وابوداؤد والترمذى وابن ماجه)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی جنازے پر نماز پڑھتے تھے تو اس میں یوں دعا کرتے تھے۔ ” اے اللہ! ہمارے زندوں کی اور ہمارے مردوں کی، حاضروں کی اور غائبوں کی، چھوٹوں کی اور بڑوں کی، مردوں کی اور عورتوں کی سب کی مغفرت فرما، اے اللہ! جس کو تو ہم میں سے زندہ رکھے اس کو اسلام پر قائم رکھ، اور جس کو اس عالم سے اٹھائے، اس کو ایمان کی حالت میں اٹھا، اے اللہ! اس میت کی موت کے اجر سے ہمیں آخرت میں محروم نہ رکھ، اور اس دنیا میں اس کے بعد ہمیں کسی فتنہ اور آزمائش میں نہ ڈال “۔ (مسند احمد، سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)

808Maarif-ul-Hadith

نماز جنازہ اور میت کے لئے دعا

عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ وَحَبْلِ جِوَارِكَ ، فَقِهِ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ ، وَأَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَقِّ اللَّهُمَّ فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ " (رواه ابوداؤد وابن ماجه)

حضرت واثلہ بن الاسقع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں میں سے ایک شخص کی نماز جنازہ پڑھائی، میں نے سنا اس میں آپ ﷺ ی دعا کر ہے تھے۔ اے اللہ! تیرا یہ بندہ فلاں بن فلاں تیری امان میں اور تیری پناہ میں ہے، تو اس کو عذاب قبر اور عذاب نار سے بچا، تو وعدوں کا وفا کرنے والا اور خداوند حق ہے۔ اے اللہ! تو اس بندے کی مغفرت فرما دے، اس پر رحمت فرما تو بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے۔ (سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ) تشریح جنازہ کی نماز میں رسول اللہ ﷺ سے بعض اور دعائیں بھی ثابت ہیں، لیکن زیادہ مشہور یہی تین ہیں، جو مندرجہ بالا حدیثوں میں مذکور ہوئیں، پڑھنے والے کو اختیار ہے جو چاہے دعا پڑھے، اور چاہے تو ان میں سے متعدد دعائیں پڑھے۔ مندرجہ بالا حدیثوں سے خاص کر واثلہ بن اسقع اور ابو ہریرہؓ کی حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے جنازہ کی نماز میں یہ دعائیں اتنی آواز سے پڑھیں کہ ان صحابہ کرامؓ نے سن کر ان کو محفوظ کر لیا۔ رسول اللہ ﷺ بعض اوقات نماز میں بعض دعائیں وغیرہ اس لئے بالجہر اور آواز سے پڑھتے تھے کہ دوسرے لوگ سن کر سیکھ لیں۔ جنازہ کی ان نمازوں میں دعاؤں کا بآواز پڑھنا بھی غالبا اسی مقصد سے تھا، ورنہ عام قانون دعا کے بارے میں یہ ہے کہ اس کا آہستہ کرنا افضل ہے۔ قرآن مجید میں بھی فرمایا گیا ہے: “ ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً ” “ اپنے رب سے دعا کر عاجزی و مسکینی کے ساتھ اور چپکے چپکے ”

809Maarif-ul-Hadith

نماز جنازہ میں کثرت تعداد کی برکت اور اہمیت

عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : « مَا مِنْ مَيِّتٍ تُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَبْلُغُونَ مِائَةً ، كُلُّهُمْ يَشْفَعُونَ لَهُ ، إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ » (رواه مسلم)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس میت پر مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت نماز پڑھے،۔ جن کی تعداد سو تک پہنچ جائے اور وہ سب اللہ کے حضور میں اس میت کے لیے سفارش کریں (یعنی مغفرت و رحمت کی دعا کریں) تو ان کی یہ سفارش اور دعا ضرور ہی قبول ہو گی۔ (صحیح مسلم)

810Maarif-ul-Hadith

نماز جنازہ میں کثرت تعداد کی برکت اور اہمیت

عَنْ كُرَيْبٍ ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ مَاتَ لَهُ ابْنٌ بِقُدَيْدٍ أَوْ بِعُسْفَانَ فَقَالَ : يَا كُرَيْبُ ، انْظُرْ مَا اجْتَمَعَ لَهُ مِنَ النَّاسِ ، قَالَ : خَرَجْتُ ، فَإِذَا نَاسٌ قَدِ اجْتَمَعُوا لَهُ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : تَقُولُ هُمْ أَرْبَعُونَ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أَخْرِجُوهُ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : « مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَمُوتُ ، فَيَقُومُ عَلَى جَنَازَتِهِ أَرْبَعُونَ رَجُلًا ، لَا يُشْرِكُونَ بِاللهِ شَيْئًا ، إِلَّا شَفَّعَهُمُ اللهُ فِيهِ » (رواه مسلم)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے آزاد کردہ غلام اور خادم خاص کریب تابعی بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس کے ایک صاحبزادے کا انتقال مقام قدید میں یا مقام عسفان میں ہو گیا (جب کچھ لوگ جمع ہو گئے) تو حضرت ابن عباس نے مجھ سے فرمایا کہ جو لوگ جمع ہو گئے ہیں ذرا تم ان پر نظر ڈالو، کریب کہتے ہیں کہ میں باہر نکلا تو دیکھا کہ کافی لوگ جمع ہو چکے ہیں، میں نے ان کو اس کی اطلاع دی۔ انہوں نے فرمایا: تمہارا خیال ہے کہ وہ چالیس ہوں گے؟ کریب نے کہا ہاں ۴۰ ضرور ہوں گے) ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ: اب جنازہ باہر لے چلو، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے تھے کہ جس مسلمان کا انتقال ہو جائے اور اس کے جنازے کی نماز چالیس ایسے آدمی پڑھیں جن کی زندگی شرک سے بالکل پاک ہو اور وہ نماز میں اس میت کے لئے مغفرت اور رحمت کی دعا اور سفارش کریں) تو اللہ تعالیٰ ان کی سفارش اس میت کے حق میں ضرور قبول فرماتا ہے۔ (صحیح مسلم) تشریح قدید، مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے راستہ میں رابغ کے قریب ایک قصبہ تھا، اور عسفان مکہ معظمہ اور رابغ کے درمیان مکہ معظمہ سے قریبا ۳۵، ۳۶ میل کے فاصلہ پر ایک بستی تھی۔ راوی کو شک ہے گیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے صاحبزادے کے انتقال کا یہ واقعہ ان دونوں مقامات میں سے کس مقام پر پیش آیا تھا۔

811Maarif-ul-Hadith

نماز جنازہ میں کثرت تعداد کی برکت اور اہمیت

عَنْ مَالِكِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيُصَلِّي عَلَيْهِ ثَلَاثَةُ صُفُوفٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، إِلَّا أَوْجَبَ » ، فَكَانَ مَالِكٌ « إِذَا اسْتَقَلَّ أَهْلَ الْجَنَازَةِ جَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ صُفُوفٍ لِهَذَا لِلْحَدِيثِ » (رواه ابوداؤد)

حضرت مالک بن ہبیرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے آپ ﷺ کا یہ ارشاد سنا کہ جس مسلمان بندے کا انتقال ہو جائے اور مسلمانوں کی تین صفیں اس کی نماز جنازہ پڑھیں (اور اس کے لئے مغفرت و جنت کی دعا کریں) تو ضرور ہی اللہ تعالیٰ اس بندے کے واسطے (مغفرت اور جنت) واجب کر دیتا ہے۔ (مالک بن ہبیرہؓ سے اس حدیث کی روایت کرنے والے مرثد یزنی کہتے ہیں کہ) مالک بن ہبیرہؓ کا یہ دستور تھا کہ جب وہ جنازہ پڑھنے والوں کی تعداد کم محسوس کرتے تو اسی حدیث کی وجہ سے ان لوگوں کو تین صفوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد) تشریح یہ تین حدیثیں ہیں۔ سب سے پہلی حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی حدیث میں سو مسلمانوں کے لیے نماز جنازہ پڑھنے پر اور اس کے بعد والی حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی حدیث میں چالیس مسلمانوں کے نماز پڑھنے پر اور آخری مالک بن ہبیرہ والی حدیث میں مسلمانوں کی تین صفوں کے نماز پڑھنے پر مغفرت و جنت کی سفارش اور دعا کے قبول ہونے کا اطمینان ظاہر فرمایا گیا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مختلف اوقات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ پر یہ تینوں باتیں منکشف ہوئیں۔ غالبا پہلے آپ کو بتایا گیا کہ اگر کسی بندے کی نماز جنازہ سو مسلمان بندے پڑھیں اور اس نماز میں اس بندے کے لئے مغفرت و رحمت کی دعا کریں تو اللہ تعالیٰ اس بندے کے حق میں ضرور ہی ان کی یہ دعا قبول فرما لے گا۔ اس کے بعد ارو تخفیف کر دی گئی اور صرف ۴۰ مسلمانوں کے نماز پڑھنے پر یہی بشارت سنا دی گئی۔ اس کے بعد اور مزید تخفیف کر دی گئی اور تین صفوں کے نماز پڑھنے پر بھی آپ ﷺ کو یہی اطمینان دلا دیا گیا اگرچہ تعداد ۴۰ سے بھی کم ہو۔ واللہ اعلم۔ بہرحال ان حدیثوں سے صاف ظاہر ہے کہ نماز جنازہ میں کثرت مطلوب اور باعث برکت و رحمت ہے، اس لئے مناسب حد تک اس کا اہتمام اور اس کی کوشش ضرور کرنی چاہئے۔

812Maarif-ul-Hadith

دفن کا طریقہ اور اس کے آداب

عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : فِي مَرَضِهِ الَّذِي هَلَكَ فِيهِ : « الْحَدُوا لِي لَحْدًا ، وَانْصِبُوا عَلَيَّ اللَّبِنَ نَصْبًا ، كَمَا صُنِعَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ » (رواه مسلم)

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کے صاحبزادے عامر بیان کرتے ہیں کہ (والد ماجد) سعد بن ابی وقاص ؓ نے اپنے مرض وفات میں وصیت فرمائی تھی کہ میرے واسطے بغلی قبر بنائی جائے اور اس کو بند کرنے کے لئے کچی اینٹیں کھڑی کر دی جائیں، جس طرح کہ رسول اللہ ﷺ کے لئے کیا گیا تھا۔ (صحیح مسلم) تشریح اس سے معلوم ہوا کہ قبر کا افضل ار بہتر طریقہ یہی ہے ک وہ بغلی بنائی جائے اور کچی اینٹوں سے اس کو بند کیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ کی قبر مبارک بھی اسی طرح بنائی گئی تھی۔ لیکن اگر زمین ایسی کچی ہو کہ بغلی قبر نہ بن سکتی ہو تو پھر دوسرے طریقہ کی قبر بنائی جائے جس کو شق کہتے ہیں۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں حسب موقع دونوں طرح کی قبریں بنائی جاتی تھیں، لیکن افضل لحد یعنی بغلی قبر ہی کا طریقہ ہے۔

813Maarif-ul-Hadith

دفن کا طریقہ اور اس کے آداب

عَنْ هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ اُحُدٍ احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَأَعْمِقُوا وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا » (رواه احمد والترمذى وابوداؤد والنسائى)

ہشام بن عامر انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے احد کے دن فرمایا کہ: (شہداء کے لئے) قبریں کھودو اور ان کو وسیع اور گہرا کر دو، اور اچھی طرح بناؤ اور دو دو تین تین کو ایک ایک قبر میں دفن کرو، اور ان میں سے جس کے پاس قرآن زیادہ ہو اس کو آگے کرو اور مقدر رکھو۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن نسائی) تشریح غزوہ احد میں قریب ستر کے صحابہ کرامؓ شہید ہوئے تھے ان سب کے لے اس وقت الگ الگ قبریں کھودنا بہت مشکل بھی تھا، اور ایسے خاص موقعوں کے لیے رسول اللہ ﷺ کو ایک نظیربھی قائم کرنی تھی، اس لئے آپ نے حکم دیا کہ ایک ایک قبر میں دو دو تین تین دفن کئے جائیں، لیکن اس کی تاکید فرمائی کہ قبریں باقاعدہ کھودی جائیں، گہری بھی ہوں اور وسیع بھی ہوں۔ اور ایک ہدایت یہ بھی دی کہ ایک قبر میں جب متعدد شہید دفن کئے جائیں تو ترتیب میں مقدم یعنی پہلے اور قبلہ کی جانب اس کو رکھا جائے جس کے پاس قرآن زیادہ ہو، گویا وہ امام ہے اور اس کے ساتھ والے مقتدی اس حدیث کی بناء پر۔ جنگ کے جیسے غیر معمولی حالات میں جائز ہے کہ ایک ایک قبر میں کئی کئی مردوں کو دفن کیا جائے۔

814Maarif-ul-Hadith

دفن کا طریقہ اور اس کے آداب

عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَدْخَلَ الْمَيِّتُ القَبْرَ ، وَقَالَ بِسْمِ اللهِ وَبِاللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللهِ وَفِىْ رِوَايَةٍ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ. (رواه احمد والترمذى وابن اجة وابو داؤد)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی میت کو قبر میں اتارتے (یا کوئی میت قبر میں اتاری جاتی) تو فرماتے تھے: “ بِسْمِ اللهِ وَبِاللَّهِ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللهِ ” (ہم اس بندے کو اللہ کے نام پاک کے ساتھ اور اس کی مدد سے اور اس کے نبی کے طریقے پر سپرد خاک کرتے ہیں) اور اس حدیث کی بعض روایتوں میں “ عَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللهِ ” کے بجائے “ عَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ ” کا لفظ بھی روایت کیا گیا ہے۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، سنن ابی داؤد)

815Maarif-ul-Hadith

دفن کا طریقہ اور اس کے آداب

عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ مُرْسَلًا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَثَا عَلَى الْمَيِّتِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا وَأَنَّهُ رَشَّ عَلَى قَبْرِ اِبْنِهِ اِبْرَاهِيْمَ وَوَضَعَ عَلَيْهِ حَصْبَاء. (رواه البغوى فى شرح السنة)

امام جعفر صادق اپنے والد ماجد امام محمد باقر سے بطریق ارسال روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک میت پر (یعنی دفن کے وقت اس کی قبر پر) دونوں ہاتھ ایک ساتھ بھر کے تین دفعہ مٹی ڈالی۔ اور اپنے صاحبزادے ابراہیم کی قبر پر پانی چھڑکا یا چھڑکوایا اور اس کے اوپر سنگ ریزے ڈلوائے۔ (شرح السنہ)

816Maarif-ul-Hadith

دفن کا طریقہ اور اس کے آداب

عَنْ عَبْدُاللهِ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : « إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمْ فَلَا تَحْبِسُوهُ ، وَأَسْرِعُوا بِهِ إِلَى قَبْرِهِ ، وَلْيُقْرَأْ عِنْدَ رَأْسِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، وَعِنْدَ رِجْلَيْهِ بِخَاتِمَةِ الْبَقَرَةِ فِي قَبْرِهِ » (رواه البيهقى فى شعب الايمان وقال والصحيح انه موقوف)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرماتے تھے کہ: جب تمہارا کوئی آدمی انتقال کر جائے تو اس کو دیر تک گھر میں مت روکو اور قبر تک پہنچانے اور دفن کرنے میں سرعت سے کام لو اور (دفن کے بعد) سر کی جانب سورہ بقرہ کی ابتدائی آیات (تا مفلحون) اور پاؤں کی جانب کی اختتامی آیات (امن الرسول سے ختم سورۃ تک) پڑھی جائیں (یہ حدیث امام بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کی ہے اور ساتھ ہی کہا ہے کہ صحیح یہ ہے کہ یہ حضرت ابن عمر ؓ کا قول ہے، روایت میں جس طرح رسول اللہ ﷺ کی طرف اس کی نسبت کی گئی ہے سند کے لحاظ سے یہ ثابت نہیں ہے)۔ تشریح میت کو دیر تک گھر میں نہ رکھنے اور کفن دفن میں جلدی کرنے کی ہدایت تو رسول اللہ ﷺ سے متعدد حدیثوں میں وارد ہوئی ہے، اور سورہ بقرہ کی ابتدائی اور اختتامی آیات کے قبر پر پڑھنے کا حکم ظاہر ہے کہ حضرت ابن عمرؓ اپنی طرف سے نہیں دے سکتے تھے، یقیناً یہ بات بھی انہون نے رسول اللہ ﷺ ہی سے سیکھی ہو گی اس لئے سند کے لحاظ سے اگرچہ یہ حدیث مرفوعا ثابت نہ ہو، لیکن محدثین اور فقہا کے اصول پر یہ حکم میں مرفوع ہی کے ہے۔

817Maarif-ul-Hadith

قبور کے متعلق ہدایات

عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : « نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجَصَّصَ الْقَبْرُ ، وَأَنْ يُقْعَدَ عَلَيْهِ ، وَأَنْ يُبْنَى عَلَيْهِ » (رواه مسلم)

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی ممانعت فرمائی ہے کہ قبر کو گچھ سے پختہ کیا جائے یا اس پر عمارت بنائی جائے یا اس پر بیٹھا جائے۔ (صحیح مسلم) تشریح قبر کے بارے میں شریعت کا اصولی نقطہ نظر یہ ہے کہ ایک طرف تو میت کے تعلق سے اس کا احترام کیا جائے کسی قسم کی بےحرمتی نہ کی جائے۔ اسی بناء پر اس حدیث میں فرمایا گیا ہے، کہ کوئی اس پر بیٹھے نہیں، یہ اس کے احترام کے خلاف ہو گا۔ اور دوسری طرف یہ کہ وہ دیکھنے میں ایسی سادہ ہو کہ اس کو دیکھ کر دنیا کی بےثباتی کا احساس اور آخرت کی یاد اور فکر دل میں پیدا ہو، اسی واسطے اس کو گچھ وغیرہ سے پختہ اور شاندار بنانے کی اور اس کے اوپر بطور یادگار وغیرہ کے عمارت کھڑی کرنے کی بھی ممانعت فرمائی گئی ہے۔ دوسری حکمت اس حکم میں یہ بھی ہے کہ قبر جب بالکل سادہ اور کچی ہو گی اور اس پر کوئی شاندار عمارت بھی نہ کھڑی ہو گی تو شرک پسند طبیعتیں اس کو پرستش گاہ بھی نہ بنائیں گی۔ جن صحابہ ؓ یا تابعین یا اولیاء امت کی قبریں شریعت کے اس حکم کے مطابق بالکل سادہ اور کچی ہیں وہاں کوئی خرافات نہیں ہوتی، اور جن بزرگوں کے مزارات پر شاندار مقبرے بنے ہوئے ہیں۔ وہاں جو کچھ ہو رہا ہے آنکھوں کے سامنے ہے، اور اس کی وجہ سے سب سے زیادہ تکلیف ان بزرگوں کی پاک روحوں کو ہی ہو رہی ہے۔

818Maarif-ul-Hadith

قبور کے متعلق ہدایات

عَنْ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « لَا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ ، وَلَا تُصَلُّوا إِلَيْهَا » (رواه مسلم)

حضرت ابو مرثد غنوی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہ تو قبروں کے اوپر بیٹھو اور نہ ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھو۔ (صحیح مسلم) تشریح جیسا کہ ابھی اوپر کہا گیا قبر پر بیٹھنے میں اس کی بےحرمتی ہے، اور آگے درج ہونے والی حدیث سے معلوم ہو گا کہ اس سے صاحب قبر کو اذیت بھی ہوتی ہے، اور قبر کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کی ممانعت کا خاص مقصد امت کو شرک کے شبہ اور شائبہ سے بھی بچانا ہے۔

819Maarif-ul-Hadith

قبور کے متعلق ہدایات

عَنْ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، قَالَ : رَآنِي النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكَأً عَلَى قَبْرٍ ، فَقَالَ : « لَا تُؤْذِ صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِ أَوْ لَا تُؤْذِهِ » (رواه احمد)

حضرت عمرو بن حزم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا کہ میں ایک قبر سے تکیہ لگائے بیٹھا ہوں تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: “ اس قبر والے کو تکلیف نہ دو ”۔ (مسند احمد)

820Maarif-ul-Hadith

زیارت قبور

عَنِ عَبْدِاللهِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : « كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ، فَزُورُوهَا؛ فَإِنَّهَا تُزَهِّدُ فِي الدُّنْيَا ، وَتُذَكِّرُ الْآخِرَةَ » (رواه ابن ماجة)

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تم کو زیارت قبور سے منع کر دیا تھا، اب (اجازت دیتا ہوں کہ) تم قبروں کی زیارت کر لیا کرو، کیوں کہ (اس کا یہ فائدہ ہے کہ) اس سے دنیا کی بے رغبتی اور آخرت کی یاد اور فکر پیدا ہوتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ) تشریح شروع شروع میں جب تک کہ توحید پوری طرح عام مسلمانوں کے دلوں میں راسخ نہیں ہوئیتھی اور انہیں شرک اور جاہلیت سے نکلے ہوئے تھوڑا ہی زمانہ ہوا تھا، رسول اللہ ﷺ نے قبروں پر جانے سے منع فرما دیا تھا، کیوں کہ ان سے ان لوگوں کے شرک اور قبر پرستی میں ملوث ہو جانے کا خطرہ تھا۔ پھر جب امت کا توحیدی مزاج پختہ ہو گیا، اور ہر قسم کے جلی اور خفی شرک سے دلوں میں نفرت بھر گئی اور قبروں پر جانے کی اجازت دے دی اور یہ بھی واضح فرما دیا کہ یہ اجازت اس لیے دی جا رہی ہے کہ وہ دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی یاد اور فکر دلوں میں پیدا ہونے کا ذریعہ ہے۔ اس حدیث سے شریعت کا یہ بنیادی اصول معلوم ہوا کہ اگر کسی مام میں خیر اور نفع کا کوئی پہلو ہے اور اسی کے ساتھ کسی بڑے ضرر کا بھی اندیشہ ہے تو اس اندیشہ کی وجہ سے خیر کے پہلو سے صرف نظر کر کے اس کی ممانعت کر دی جائے گی، لیکن اگر کسی وقت حالات میں ایسی تبدیلی ہو کہ ضرر کا وہ اندیشہ باقی نہ رہے تو پھر اس کی اجازت دے دی جائے گی۔