نماز میں درود شریف کا موقع اور اس کی حکمت
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ يَقُولُ قُولُوا : « اللهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ »
(رواه مسلم)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام کو یہ دعا اس طرح تعلیم فرماتے تھے جس طرح قرآن مجید کی کوئی سورت تعلیم فرمایا کرتے تھے۔ ارشاد فرماتے تھے کہ کہو: اللهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ یعنی اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم کے عذاب سے اور پناہ مانگتا ہوں عذاب قبر سے اور پناہ مانگتا ہوں دجال کے فتنہ سے اور پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کی آزمائشوں سے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
یہ دعا جیسے کہ ظاہر ہے دنیا و آخرت کے آفات و مصائب دفاور ہر قسم کی بدبختیوں سے حفاظت کے لئے بڑی جامع دعا ہے۔ اس میں سب سے پہلے جہنم اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگی گئی ہے جو شدید ترین اور ناقابل تصور عذاب اور انسان کی سب سے بڑی بدبختی ہے۔ اس کے بعد دجال کے فتنہ عظیم سے جو اس دنیا میں برپا ہونے والے فتنوں میں سب سے بڑا فتنہ ہے، جس میں ایمان کا سلامت رہنا بے حد مشکل ہے۔ س کے بعد علی الاطلاق زندگی اور موت کے سارے فتنوں اور ساری آزمائشوں سے جس میں ہر چھوٹی بڑی بلا اور ہر گناہ اور گمراہی داخل ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ اعنہ کی اس حدیث میں اگرچہ اس کا ذکر نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کس موقع کے لئے یہ دعا تعلیم فرماتے تھے، لیکن حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ اعنہ کی مندرجہ بالا حدیث سے معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کا خاص موقع قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بعد اور سلام سے پہلے ہے۔ اسی دعا کے بارے میں صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ اعنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ خود بھی نماز میں یہ دعا مانگا کرتے تھے، بلکہ اس میں مندرجہ بالا دعا کے بالکل آخر میں یہ اضافہ بھی ہے۔
اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَاثَمِ وَمِنَ الْمَغْرَمِ
“ اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں گناہ کی ہر بات سے اور قرض کے بار سے ”
بہتر ہے کہ یہ دعا اسی اضافہ کے ساتھ نماز میں سلام سے پہلے پڑھی جائیے۔
نماز میں درود شریف کا موقع اور اس کی حکمت
عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ قُلْتُ يَارَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلاتِي. قَالَ : " قُلِ : اللهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا ، وَلا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ ، وَارْحَمْنِي ، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ".
(رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ اعنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ (ﷺ)! مجھے کوئی ایسی دعا تعلیم فرما دیجئے جو میں اپنی نماز میں مانگا کروں؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا یوں عرض کیا کرو اللهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ...... (اے اللہ! میں نے خود اپنے اوپر بہت ہی ظلم کیا ہے (یعنی گناہوں سے اپنے آپ کو بہت ہی تباہ و برباد کیا ہے) اور تیرے سوا کوئی نہیں ہے جو گناہوں کو بخش سکتا اور معافی دے سکتا ہو۔ پس اے میرے اللہ! تو محض اپنی طرف سے اور اپنے فضل و کرم سے مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما اور بس تو ہی بہت بخشنے والا اور بہت رحم فرمانے والا ہے اور بخشش و رحمت تیری ہی ذاتی صفت ہے)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث میں صراحۃً مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صدیق اکبر رضی اللہ اعنہ کی درخواست پر یہ دعا نماز میں پڑھنے کے لئے تعلیم فرمائی تھی، لیکن یہ بات لفظوں میں مذکور نہیں ہے کہ نماز کے آخر میں سلام سے پہلے پڑھنے کے لئے تعلیم فرمائی تھی، مگر شارحین حدیث نے لکھا ہے کہ چونکہ نماز میں دعا کا وہی خاص محل و موقع ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اسی موقع کے لئے فرمایا تھا: “ تشہد کے بعد سلام سے پہلے اللہ تعالیٰ سے مانگنے کے لئے بندہ کوئی اچھی دعا منتخب کرے اور وہی اللہ تعالیٰ سے مانگے۔ ” (جیسا کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ اعنہ کی صحیح والی حدیث سے ابھی اوپر معلوم ہو چکا ہے) اس لئے ظاہر یہی ہے کہ ........ صدیق اکبر رضی اللہ اعنہ نے اسی موقع کی دعا کے لئے تعلیم کی درخواست کی تھی، اور رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا ان کو اسی موقع کے لئے تعلیم فرمائی۔ غالبا اسی کو ملحوظ رکھتے ہوئے امام بخارؒ نے صحیح بخاری میں یہ حدیث “ باب الدعا قبل السلام ” کے زیر عنوان روایت کی ہے۔
اس دعا میں غور کرنے اور سمجھنے کی خاص بات یہ ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ اعنہ جو بار بار جنت کی بشارت سے سرفراز ہو چکے ہیں اور جو یقینا امت میں سب سے افضل ہیں اور ان کی نماز پوری امت میں سب سے بہتر اور کامل نماز ہے۔ یہاں تک کہ خود رسول اللہ ﷺ نے آخری مرض میں ان کو امام بنایا اور ان کے پیچھے خود نمازیں پڑھیں، وہ درخواست کرتے ہیں کہ مجھے کوئی خاص دعا تعلیم فرما دیجئے جو میں نماز میں (یعنی اس کے خاتمہ پر سلام سے پہلے) اللہ سے مانگا کروں! رسول اللہ ﷺ اس کے جواب میں ان کو یہ دعا تعلیم فرماتے ہیں۔ گویا آپ ﷺ نے ان کو بتایا کہ اے ابو بکرؓ! نماز پڑھ کر بھی دل میں یہ وسوسہ نہ آئے کہ اللہ کی عبادت کا حق ادا ہو گیا اور کچھ کر لیا، بلکہ نماز جیسی عبادت کے خاتمہ پر بھی اپنے کو سر سے پاؤں تک قصور وار اور خطاکار قرار دیتے ہوئے اس کے سامنے اپنی گناہگاری کا اقرار کرو اور اس سے معافی اور بخشش اور رحم کی بھیگ مانگو، اور یہ کہہ کے مانگو کہ میرے اللہ! میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے جس کی وجہ سے بخشش اور معافی بھی میرا حق ہو، تو اپنی صفت مغفرت و رحمت کا بس صدقہ مجھ گناہگار کو عطا فرما دے اور میرے لئے مغفرت و رحمت کا فیصلہ فرما دے۔
اللہ تعالیٰ توفیق دے۔ تشہد اور درود شریف کے بعد اور سلام سے پہلے یہ دعائیں ضرور مانگنی چاہئیں۔ ان کا یاد کرنا اور ان کا مطلب بھی ذہن میں بٹھا لینا کوئی بڑی اور مشکل بات نہیں ہے۔ معمولی توجہ سے تھوڑے سے وقت میں یہ کام ہو سکتا ہے۔ بڑی بےنصیبی اور ناقدری کی بات ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عطا فرمائے ہوئے ان جواہرات سے ہم محروم رہیں۔ خدا کی قسم حضور ﷺ کی تعلیم فرمائی ہوئی ایک ایک دعا دنیا و مافیہا سے زیادہ قیمتی ہے۔
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ »
(رواه ابوداؤد والترمذى والدارمى وابن ماجه)
حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا طہارت (یعنی وضو) نماز کی کنجی ہے، اور اس کی تحریمہ اللہ اکبر کہنا ہے اور اس کی بندشیں کھولنے کا ذریعہ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ کہتا ہے۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، مسند دارمی، سنن ابن ماجہ)
تشریح
رسول اللہ ﷺ نے جس طرح نماز کے افتتاح اور آغاز کے لئے کلمہ اللہ اکبر تعلیم فرمایا ہے جس سے بہتر کوئی دوسرا کلمہ افتتاح نماز کے لئے سوچا ہی نہیں جا سکتا۔ اسی طرح اس کے اختتام کے لئے “ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ ” تلقین فرمایا ہے، اور بلاشبہ نماز کے خاتمہ کے لئے بھی اس سے بہتر کوئی لفظ نہیں سوچا جا سکتا۔ ہر شخص جانتا ہے کہ سلام اس وقت کیا جاتا ہے جب ایک دوسرے سے غائب اور الگ ہونے کے بعد پہلی ملاقات ہو، لہٰذا اختتام کے لئے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کی تعلیم میں واضح اشارہ ہے بلکہ تویا ہدایت ہے کہ بندہ اللہ اکبر کہہ کے جب نماز میں داخل ہو اور بارگاہ خداوندی میں عرض معروض شروع کرے تو چاہئے کہ وہ اس وقت اس عالم شہود سے حتی کہ اپنے ماحول اور اپنے دائیں بائیں والوں سے بھی غائب اور الگ ہو جائے، اور اللہ کے سوا کوئی بھی اس وقت اس کے دل کی نگاہ کے سامنے نہ رہے، پوری نماز میں اس کا حال یہی رہے۔ پھر جب قعدہ اخیرہ میں تشہد اور درود شریف اور آخری دعا اللہ تعالیٰ کے حضور میں عرض کر کے اپنی نماز پوری کر لے، تو اس کے باطن کا حال یہ ہو کہ گویا اب وہ کسی دوسرے عالم سے اس دنیا میں اور اپنے ماحول میں واپس آیا ہے اور دائیں بائیں والے انسانوں یا فرشتوں سے اب اس کی نئی ملاقات ہو رہی ہے اس لئے اب وہ ان کی طرف رخ کر کے اور ان ہی سے مخاطب ہو کر کہے:
السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ
اس عاجز کے نزدیک اس حکم کا یہی راز اور یہی اس کی حکمت ہے۔ واللہ اعلم۔
اس کے بعد سلام سے متعلق رسول اللہ ﷺ کی چند حدیثیں ذیل میں پڑھئے۔
تشریح ....... اس حدیث میں نماز سے متعلق تین باتیں فرمائی گئی ہیں:
۱۔ اول یہ کہ نماز جو بارگاہ خداوندی کی خاص حاضری ہے طہارت اور باوضو ہونا اس کی کنجی یعنی اس کی مقدم شرط ہے، اس کے بغیر کسی کے لئے اس بارگاہ دروازہ نہیں کھل سکتا۔
۲۔ دوسرے یہ کہ نماز کا افتتاحی کلمہ لفظ اللہ اکبر ہے، اس کے کہتے ہی نماز والی ساری پابندیاں عائد ہو جاتی ہیں، مثلاً کھانا پینا، کسی سے بات چیت کرنا جیسے کام، جن کی اجازت تھی، وہ بھی ختم نماز تک کے لئے حرام ہو جاتے ہیں، اس لئے اس کو “ تکبیر تحریمہ ” کہتے ہیں۔
۳۔ تیسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ نماز کا اختتامی کلمہ جس کے کہنے کے بعد نماز والی ساری پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں، اور جو جائز مباح چیزیں “ تکبیر تحریمہ ” کہنے کے بعد اس کے لئے ناجائز اور حرام ہو گئی تھیں وہ سب حلال ہو جاتی ہیں، وہ کلمہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ ہے۔
عَنْ سَعْدٍ بْنِ وَقَّاصٍ قَالَ : « كُنْتُ أَرَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ ، وَعَنْ يَسَارِهِ ، حَتَّى أَرَى بَيَاضَ خَدِّهِ »
(رواه مسلم)
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو خود دیکھا تھا کہ آپ ﷺ سلام پھیرتے وقت داہنی جانب اور بائیں جانب رخ فرماتے تھے اور چہرہ مبارک کو داہنی جانب اور بائیں جانب اتنا پھیرتے تھے کہ ہم رخسار مبارک کی سفیدی دیکھ لیتے تھے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
یہی بات الفاظ کے تھوڑے سے فرق کے ساتھ سنن اربعہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اور سنن ابن ماجہ میں حضرت عمار بن یاسرؓ سے بھی مروی ہے۔
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ : قِيلَ يَا رَسُولَ اللهِ : أَيُّ الدُّعَاءِ أَسْمَعُ؟ قَالَ : جَوْفَ اللَّيْلِ الآخِرِ ، وَدُبُرَ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ.
(رواه الترمذى)
حضرت ابو امامہ باہلی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ: حضرت (ﷺ)! کون سی دعا زیادہ سنی جاتی ہے؟ (یعنی کس وقت کی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے)؟ آپ ﷺ نے فرمایا آخری رات کے درمیان (یعنی رات کے آخری حصہ میں جو تہجد کا وقت ہے) اور فرض نمازوں کے بعد۔ (جامع ترمذی)
تشریح
نماز کے خاتمہ پر سلام سے پہلے رسول اللہ ﷺ جو دعائیں مانگتے تھے، یا جن دعاؤں کی آپ ﷺ نے اس موقع کے لئے تلقین فرمائی ہے ان کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے اب ذیل میں وہ حدیثیں پڑھئے جن میں بتایا گیا ہے کہ سلام کے بعد ذکر و دعا کے بارے میں آپ ﷺ نے امت کو کیا ہدایت فرمائی ہے اور خود اپ ﷺ کا معمول اس بات میں کیا تھا۔
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : أَخَذَ بِيَدِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : « إِنِّي لَأُحِبُّكَ يَا مُعَاذُ » ، فَقُلْتُ : وَأَنَا أُحِبُّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلَا تَدَعْ أَنْ تَقُولَ فِي كُلِّ صَلَاةٍ : رَبِّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ "
(رواه احمد وابوداؤد والنسائى)
حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے فرمایا: اے معاذ! مجھے تجھ سے محبت ہے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (ﷺ)! مجھے بھی آپ سے محبت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا (تو اس محبت کی بناء پر میں تجھ سے کہتا ہوں کہ) ہر نماز کے بعد اللہ تعالیٰ سے یہ دعا ضرور کیا کرو، اور کبھی اے نہ چھوڑو۔ رَبِّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ (اے پروردگار! میری مدد فرما اور مجھے توفیق دے اپنے ذکر کی، اپنے شکر کی اور اپنی اچھی عبادت کی)۔ (مسند احمد، سنن ابی داؤد، سنن نسائی)
عَنْ ثَوْبَانَ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلَاثًا وَقَالَ : « اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ »
(رواه مسلم)
حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز سے فارغ ہوتے تو تین دفعہ کلمہ استغفار پڑھتے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے اور اس کے بعد کہتے: اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ (اے اللہ! تو ہی سالم ہے (اور محفوظ و منزہ ہے ہر عیب و نقص سے، حوادث و آفات سے، ہر قسم کے تغیر و زوال سے) اور تیری ہی طرف سے اور تیرے ہی ہاتھ میں ہے سلامتی (جس کے لئے چاہئے اور جب چاہے سلامتی کا فیصلہ کرے، اور جس کے لیے نہ چاہے نہ کرو) تو برکت والا ہے۔ اے بزرگی والے تعظیم و اکرام والے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
حضرت ثوبانؓ کی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ نماز سے فارغ ہونے یعنی سلام پھیرنے کے بعد متصلا پہلے تین دفعہ استغفار کرتے تھے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور میں عرض کرتے تھے أَسْتَغْفِرُ اللهَ، أَسْتَغْفِرُ اللهَ أَسْتَغْفِرُ اللهَ یہ دراصل کمال عبدیت ہے کہ نماز جیسی عبادت کے بعد بھی اپنے کو قصور اور حق عباد ت ادا کرنے سے قاصر و عاجز سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے معافی اور بخشش مانگی جائے۔
اس حدیث میں استغفار کے بعد جو چھوٹی سی دعا حضرت ثوبانؒ نے رسول اللہ ﷺ سے نقل کی ہے صحیح روایات میں وہ صرف اتنی ہی وارد ہوئی ہے یعنی: اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتُ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ عوام میں اس دعا کے اندر وَمِنْكَ السَّلَامُ کے بعد جو یہ اضافہ مشہور ہے۔ وإليك يرجع السلام فحينا ربنا بالسلام وادخلنا الجنة دارا السلام محدثین نے تصریح کی ہے کہ یہ بعد کا اضافہ ہے رسول اللہ ﷺ سے یہ ثابت نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاَةٍ مَكْتُوبَةٍ : « لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ المُلْكُ ، وَلَهُ الحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الجَدِّ مِنْكَ الجَدُّ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہر فرض نماز کے بعد کہا کرتے تھے۔ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ (اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا اور یکتا ہے، اس کا کوئی شریک ساجھی نہیں، اسی کی حکومت اور فرمانروائی ہے اور وہی حمد و ستائش کا مستحق ہے اور ہر چیز پر اس کی قدرت ہے، اے اللہ! جو کچھ تو کسی کو دے دے کوئی اس کو روک سکنے والا نہیں، اور کسی سرمایہ والے کو اس کا سرمایہ تجھ سے مستغنی نہیں کر سکتا (یعنی بڑے سے بڑا سرمایہ دار اور صاحب جاہ و عظمت بھی ہر آن تیرے کرم کا محتاج ہے)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
عَنْ أَبِىْ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَخْطُبُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ إِذَا سَلَّمَ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ أَوِ الصَّلَوَاتِ « لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ » (رواه مسلم)
ابو الزبیر تابعی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ سے سنا ہے وہ اس منبر پر خطبہ دیتے ہوئے بیان فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ پھیرنے کے بعد نماز کے ختم پر کہا کرتے تھے: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا اور یکتا ہے، اس کا کوئی شریک ساجھی اور نہیں، اسی کی حکومت اور فرمانروائی ہے اور وہی حمد و ستائش کا مستحق ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، گناہوں سے بچنے کی توفیق اور نیکی کرنے کی قوت سب اللہ ہی کے ارادہ سے ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں، سب نعمتیں اسی کی ہیں، فضل و احسان اسی کا ہے، اچھی تعریف بھی اسی کے لئے ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہم پورے اخلاص کے ساتھ اسی کی بندگی کرتے ہیں اگرچہ منکروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مغیرہ بن شعبہؓ کی اوپر والی حدیث اور عبداللہ بن الزبیرؓ کی اس حدیث میں کوئی منافات نہیں ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ کبھی آپ ﷺ سے نماز کے بعد اس طرح سنا گیا اور کبھی اس طرح جس نے جو سنا وہ نقل کر دیا۔ اس قسم کے اذکار اور دعاؤں میں تنگی اور پابندی نہیں ہے۔ وقت کی گنجائش اور اپنے ذوق کے مطابق جس کا جو جی چاہے پڑھ سکتا ہے۔
عَنْ سَعْدٍ أَنَّهُ كَانَ يُعَلِّمُ بَنِيهِ هَؤُلاَءِ الكَلِمَاتِ وَيَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْهُنَّ دُبُرَ الصَّلاَةِ : « اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الجُبْنِ ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ العُمُرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ »
(رواه البخارى)
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تعوذ کے یہ کلمات سکھایا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نماز کے بعد ان کلمات کے ذریعہ اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الجُبْنِ اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، بزدلی سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں بخل و کنجوسی سے، اور تیری پناہ چاہتا ہوں نکمی عمر سے (یعنی ایسے بڑھاپے سے جس میں حواس اور قوی صحیح سلامت نہ رہیں اور آدمی بالکل نکما اور دوسرون کے لئے بوجھ بن جائے) اور تیری پناہ چاہتا ہوں دنیا کے فتنوں سے اور قبر کے عذاب سے۔ (صحیح بخاری)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ سَبَّحَ اللهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَحَمِدَ اللهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَكَبَّرَ اللهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، فَتْلِكَ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ ، وَقَالَ : تَمَامَ الْمِائَةِ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ غُفِرَتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ ".
(رواه مسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو بندہ ہر نماز کے بعد ۳۳ دفعہ اللہ کی تسبیح کا کلمہ، سبحان اللہ کہے اور اسی طرح ۳۳ دفعہ اللہ کی حمد کا کلمہ، الحمد للہ کہے اور ۳۳ ہی دفعہ اللہ اکبر کہے۔ یہ سب ۹۹ کلمے ہو گئے، اور اس کے بعد سو کی گنتی پوری کرنے کے لئے ایک دفعہ کہے لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ تو اس کی سب خطائیں معاف کر دی جائیں گی، اگرچہ وہ اپنی کثرت میں سمندر کے کف کے برابر ہوں۔ (صحیح مسلم)
تشریح
نیک اعمال کی برکت سے گناہوں کی معافی اور مغفرت کی اس قسم کی بشارتوں کے بارے میں شرح حدیث کے اسی سلسلہ میں پہلے کئی جگہ ایک اصولی بات تفصیل سے لکھی جا چکی ہے وہ یہاں بھی ملحوظ رہنی چاہئے۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ کی اس حدیث میں سبحان الله، الحمدلله اور الله اكبر ان تین کلموں کا عدد ۳۳، ۳۳ بتایا گیا ہے، اور سو کی گنتی پوری کرنے کے لئے ایک دفعہ کلمہ توحید لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ پڑھنے کے لئے فرمایا گیا ہے۔ لیکن کعب بن عجرہ وغیرہ بعض دوسرے صحابہؒ کی روایت میں سبحان اللہ اور الحمدللہ ۳۳، ۳۳ دفعہ اور سو کی گنتی پوری کرنے کے لئے اللہ اکبر ۳۴ دفعہ پڑھنے کی ترغیب و تعلیم بھی وارد ہوئی ہے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی اس طرح بتلایا ہے اور کبھی اس طرح دونوں ہی طریقے صحیح اور ثابت ہیں۔ اپنے ذوق کے مطابق بندہ جس کو چاہے اختیار کرے۔ یہی تین کلمے اسی تعداد میں سونے کے وقت پڑھنے کے لئے بھی رسول اللہ ﷺ نے تعلیم فرمائے ہیں عرف عام میں اسی کو “ تسبیح فاطمہ ” بھی کہتے ہیں۔ ان شاء اللہ اس کی مزید تفصیل اور تشریح “ کتاب الدعوات ” میں کی جائے گی۔
عَنْ عَائِشَةَ رَضِىَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا سَلَّمَ لَمْ يَقْعُدْ إِلَّا مِقْدَارَ مَا يَقُولُ : « اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ »
(رواه مسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سلام پھیرنے کے بعد نہیں بیٹھتے تھے مگر بقدر اس کے کہتے: اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ (اے اللہ! تو سالم ہے۔ یعنی محفوظ و منزہ ہے ہر عیب و نقص سے، تمام آفات و حوادث سے، ہر قسم کے تغیر و زول سے۔ اور سلامتی تیری ہی طرف سے اور تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ یعنی جب جس کے لئے تو چاہے سلامتی کا فیصلہ کرے اور نہ چاہے تو نہ کرے۔ تو برکت والا ہے، اے بزرگی اور برتری والے، تعظیم و اکرام والے)۔ (صحیح مسلم)
تشریح
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی اس روایت سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ سلام پھیرنے کے بعد صرف اس مختصر دعا اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ کے بقدر ہی بیٹھتے تھے اور اس کے بعد فوراً اُٹھ جاتے تھے لیکن جو حدیثیں اوپر مذکور ہوئیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ سلام کے بعد اس کے علاوہ بھی مختلف دعائیں اور ذکر کے مختلف کلمات پڑھتے تھے اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب اور تعلیم دیتے تھے۔
بعض حضرات نے اس اشکال کو اس طرح حل کیا ہے کہ مندرجہ بالا حدیثوں میں اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی حمد، تسبیح اور توحید و تکبیر کے جن کلمات اور جن دعاؤں کا ذکر کیا گیا ہے ان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ آپ ﷺ سلام پھیرنے کے بعد متصلاً نہیں پڑھتے تھے، بلکہ بعد کی سنتوں وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد پڑھا کرتے تھے، اور دوسروں کو ان کے پڑھنے کی جو ترغیب و تعلیم آپ نے دی ہے اس کا بھی یہی محل ہے۔
لیکن واقعہ یہ ہے کہ جو حدیثیں اوپر ذکر کی گئی ہیں (اور ان کے علاوہ بھی نماز کے بعد دعاؤں کے بارے میں جو بہت سی حدیثیں کتب حدیث میں محفوظ ہیں) ان میں سے اکثر کے ظاہری الفاظ سے یہی مفہوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ سلام پھیرنے کے بعد متصلا یہ دعائیں اور ذکر کے یہ کلمات پڑھتے تھے اور دوسروں کو بھی اسی کی تعلیم دیتے تھے، اس لیے اس عاجز کے نزدیک صحیح طریق کار وہ معلوم ہوتا ہے جو حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے حجۃ اللہ البالغہ میں اختیار فرمایا ہے۔ وہ سلام کے بعد کی ان تمام ماثور دعاؤں کا حوالہ دینے کے بعد جو حدیث کی متداول کتابوں میں مروی ہیں (اور جن میں سے اکثر ان صفحات میں بھی نقل ہو چکی ہیں) فرماتے ہیں: “ بہتر یہ ہے کہ یہ دعا میں اور ذکر الہی کے یہ کلمے (سلام پھیرنے کے بعد متصلا) بعد والی سنتوں سے پہلے ہی پڑھے جائیں، کیوں کہ اس سلسلہ کی بعض حدیثوں میں تو اس کی بالکل تصریح ہے ....... اور بعض کے الفاظ کا ظاہری تقاضا یہی ہے ........ رہی حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی یہ حدیث کہ: آنحضرت ﷺ سلام پھیرنے کے بعد صرف اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ ...... کہنے کے بقدر ہی بیٹھتے تھے ” تو اس کی کئی توجیہیں کی جا سکتی ہیں۔ مثلا کہا جا سکتا ہے کہ حضرت صدیقہؓ کا مطلب یہ ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد آپ نماز کی ہیئت پر صرف اسی قدر بیٹھتے تھے، اس کے بعد نشست بدل دیتے تھے اور داہنی جانت یا بائیں جانب یا مقتدیوں کی طرف رخ کر کے بیٹھ جاتے تھے۔ (جیسا کہ آپ کا یہ معمول بعض روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے) اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ حضرت صدیقہ ؓ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ ہمیشہ ایسا ہی کرتے تھے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ گاہ بگاہ ایسا بھی ہوتا تھا کہ آپ سلام پھیرنے کے بعد صرف اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ ..... پڑھ کے اٹھ جاتے تھے اور ایسا آپ غالبا اس لئے کرتے تھے کہ لوگوں کو اپ کے عمل سے بھی معلوم ہو جائے کہ سلام کے بعد ان دعاؤں اور ذکر کے ان کلمات کا پڑھنا فرض یا واجب نہیں ہے، بلکہ اس کا درجہ ایک مستحب اور نفلی عبادت کا ہے۔ (حجۃ اللہ البالغہ۔ جلد ثانی ص ۱۲)
فائدہ ......... سلام کے بعد ذکر و دعا کے بارے میں جو حدیثیں اوپر مذکور ہوئیں ان سے یہ تو معلوم ہو چکا کہ نماز کے خاتمہ پر یعنی سلام کے بعد ذکر و دعا رسول اللہ ﷺ سے عملا بھی ثابت ہے اور تعلیما بھی، اور اس سے انکار کی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن یہ جو رواج ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد دعا میں بھی مقتدی نماز ہی کی طرح امام کے پابند رہتے ہیں۔ حتی کہ اگر کسی کو جلدی جانے کی ضرورت ہو تب بھی امام سے پہلے اس کا اٹھ جانا برا سمجھا جاتا ہے، یہ بالکل بےاصل ہے بلکہ قابل اصلاح ہے، امامت اور اقتداء کا رابطہ سلام پھیرنے پر ختم ہو جاتا ہے، اس لئے سلام کے بعد دعا میں امام کی اقتداء اور پابندی ضروری نہیں، چاہے تو مختصر دعا کر کے امام سے پہلے اٹھ جائے اور چاہے تو اپنے ذوق اور کیف کے مطابق دیر تک دعا کرتا رہے۔
سنتیں اور نوافل: دن رات کی مؤکدہ سنتیں
عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ ، أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ"
(رواه الترمذى)
ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دن رات میں بارہ رکعتیں (علاوہ فرض نمازوں کے) پڑھے، اس کے لیے جنت میں ایک گھر تیار کیا جائے گا (ان بارہ کی تفصیل یہ ہے) ۴ ظہر سے پہلے، اور ۲ ظہر کے بعد، ۲ مغرب کے بعد، اور ۲ عشاء کے بعد اور ۲ فجر سے پہلے۔
(حضرت ام حبیبہؓ کی یہ روایت صحیح مسلم میں بھی ہے، لیکن اس میں رکعات کی تفصیل مذکور نہیں ہے)۔
تشریح
شب و روز میں پانچ نمازیں تو فرض کی گئی ہیں اور وہ گویا اسلام کا رکن رکین اور لازمہ ایمان ہیں۔ ان کے علاوہ ان ہی کے آگے پیچھے اور دوسرے اوقات میں بھی کچھ رکعتیں پڑھنے کی ترغیب و تعلیم رسول اللہ ﷺ نے دی ہے۔ پھر ان میں سے جن کے لئے آپ ﷺ نے تاکیدی الفاظ فرمائے یا دوسروں کو ترغیب دینے کے ساتھ جن کا آپ ﷺ نے عملا بہت زیادہ اہتمام فرمایا ان کو عرف عام میں “ سنت ” کہا جاتا ہے اور ان کے ماسواء کو “ نوافل ” (نوافل کے اصل معنی زوائد کے ہیں اور حدیثوں میں فرض نمازوں کے علاوہ باقی سب نمازوں کو “ نوافل ” کہا گیا ہے)۔
پھر جن سنتوں یا نفلوں کو فرضوں سے پہلے پڑھنے کی تعلیم دی گئی ہے، بظاہر ان کی خاص حکمت اور مصلحت یہ ہے کہ فرض نماز جو اللہ تعالیٰ کے دربار عالی کی خاص الخاص حضوری ہے (اور اسی وجہ سے وہ اجتماعی طور پر اور مسجد میں ادا کی جاتی ہے) اس میں مشغول ہونے سے پہلے انفرادی طور پر دو چار رکعتیں پڑھ کے دل کو اس دربار سے آشنا اور مانوس کر لیا جائے، اور ملاء اعلیٰ سے ایک قرب و مناسبت پیدا کر لی جائے۔ اور جن سنتوں یا نفلوں کو فرضوں کے بعد پڑھنے کی تعلیم دی گئی ہے، ان کی حکمت اور مصلحت بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ فرض نماز کی ادائیگی میں جو قصور رہ گیا ہو اس کا کچھ تدارک بعد والی ان سنتوں اور نفلوں سے ہو جائے۔ (بطور جملہ معترضہ کے یہیں یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ جن نمازوں سے پہلے یا بعد میں سنتیں یا نفلیں پڑھنے کی ترغیب نہیں دی گئی ہے یا صراحۃً منع کیا گیا ہے، اس کی کوئی خاص حکمت اور مصلحت ہے جو ان شاء اللہ اپنے موقع پر ذکر کی جائے گی)۔
فرضوں کے آگے یا پیچھے والے سنن و نوافل کے علاوہ جن نوافل کی مستقل حیثیت ہے مثلا دن میں اور رات میں دراصل تقرب الی اللہ کے خاص طالبین کے لیے ترقی اور تخصص کا مخصوص نصاب ہے۔
اس مختصر تمہید کے بعد سنن و نوافل سے متعلق حدیثیں پڑھئے:
تشریح ..... اس حدیث میں ظہر سے پہلے چار رکعت سنت کا ذکر ہے۔ بالکل اسی مضمون کی ایک حدیث سنن نسائی وغیرہ میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے بھی مروی ہے اور صحیح مسلم میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ہی کی روایت سے رسول اللہ ﷺ کا عمل بھی یہی مروی ہے کہ: “ آپ ﷺ ظہر سے پہلے گھر میں چار رکعت سنت پڑھتے تھے، اس کے بعد جا کر مسجد میں ظہر کی نماز پڑھاتے تھے پھر گھر میں تشریف لا کر ۲ رکعتیں پڑھتے تھے، اسی طرح مغرب کی نماز پڑھانے کے بعد گھر میں تشریف لاتے تھے اور ۲ رکعتیں پڑھتے تھے، پھر عشاء کی نماز پڑھانے کے بعد بھی گھر میں تشریف لا کر ۲ رکعتیں پڑھتے تھے۔ آخر میں فرماتی ہیں پھر جب صبح صادق ہو جاتی تو فجر سے پہلے ۲ رکعتیں پڑھتے تھے ”۔ لیکن بعض حدیثوں میں ظہر سے پہلے بجائے ۴ رکعت کے ۲ رکعت پڑھنے کا ذکر بھی ہے جیسا کہ آگے درج ہونے والی حدیث سے معلوم ہو گا۔
سنتیں اور نوافل: دن رات کی مؤکدہ سنتیں
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : « صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ المَغْرِبِ فِي بَيْتِهِ ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ العِشَاءِ فِي بَيْتِهِ ، قَالَ وَحَدَّثَنِىْ حَفْصَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّىْ رَكْعَتَيْنِ خَفِيْفَتَيْنِ حِيْنَ يَطْلُعَ الْفَجْرُ.
(رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ مىں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دو رکعتیں پڑھی ہیں ظہر سے پہلے، دو رکعتیں ظہر کے بعد، اور دو رکعتیں مغرب کے بعد آپ ﷺ کے گھر میں، اور دو رکعتیں عشاء کے بعد آپ ﷺ کے گھر میں اور مجھ سے بیان کیا میری بہن ام المؤمنین حفصہؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ دو ہلکی ہلکی رکعتیں پڑھتے تھے صبح صادق ہو جانے پر۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث میں ظہر سے پہلے دو رکعت پڑھنے کا ذکر ہے۔ اس سلسلہ کی تمام حدیثوں کو سامنے رکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ظہر سے پہلے اکثر و بیشتر چار رکعت پڑھتے تھے، اور کبھی کبھی صرف دو بھی پڑھتے تھے۔ بہرحال دونوں ہی عمل آپ ﷺ سے ثابت ہیں اور جس پر بھی عمل کیا جائے سنت ادا ہو جائے گی۔ اس ناچیز نے بعض اہل علم کو دیکھا ہے کہ وہ ظہر سے پہلے اکثر و بیشتر ۴ رکعت سنت پڑھتے ہیں۔ لیکن جب دیکھتے ہیں کہ جماعت کا وقت قریب ہے تو صرف ۲ رکعت پر اکتفا کرتے ہیں۔
مندرجہ بالا ان حدیثوں میں جن ۱۲ رکعت یا ۱۰ رکعت سنتوں کا ذکر ہے، چونکہ رسول اللہ ﷺ عملا ان کا زیادہ اہتمام فرماتے تھے اور ان میں سے بعض کے متعلق آپ ﷺ نے خاص تاکید بھی فرمائی ہے اس لئے ان کو سنت مؤکدہ سمجھا گیا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ تاکید آپ ﷺ نے فجر کی سنتوں کے بارے میں فرمائی ہے۔
فجر کی سنتوں کی خاص اہمیت اور فضیلت
عَنْ عَائِشَةَ رَضِىَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَكْعَتَا الْفَجْرِ ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ".
(رواه مسلم)
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فجر کی دو رکعت سنت دنیا وما فیہا سے بہتر ہیں۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ آخرت میں فجر کی دو رکعت سنت کا جو ثواب ملنے والا ہے وہ “ دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے ” ان سب سے زیادہ قیمتی اور کارآمد ہے۔ دنیا وما فیہا سب فانی ہے اور ثواب آخرت باقی غیر فانی ہے۔ اس حقیقت کا پورا انکشاف بلکہ مشاہدہ ان شاء اللہ ہم سب کو آخرت میں ہو جائے گا۔
فجر کی سنتوں کی خاص اہمیت اور فضیلت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا تَدَعُوهُمَا وَإِنْ طَرَدَتْكُمُ الْخَيْلُ".
(رواه ابوداؤد)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: فجر کی دو رکعت سنت نہ چھوڑو اگرچہ حالت یہ ہو کہ گھوڑے تم کو دوڑا رہے ہوں (مطلب یہ ہے کہ اگر تم سفر میں ہو اور گھوڑوں کی پشت پر تیزی سے منزلیں طے کر رہے ہو تب بھی فجر کی سنتیں نہ چھوڑو)۔ (سنن ابی داؤد)
فجر کی سنتوں کی خاص اہمیت اور فضیلت
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : "لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَشَدَّ تَعَاهُدًا مِنْهُ عَلَى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ".
(رواه البخارى ومسلم)
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سنتوں اور نفلوں میں سے کسی نماز کا بھی اتنا زیادہ اہتمام نہیں فرماتے تھے جتنا کہ فجر سے پہلے کی دو رکعتوں کا فرماتے تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
فجر کی سنتوں کی خاص اہمیت اور فضیلت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَمْ يُصَلِّ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَلْيُصَلِّهِمَا بَعْدَ مَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ"
(رواه الترمذى)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جس نے فجر کی سنتیں نہ پڑھی ہوں اس کو چاہئے کہ وہ سورج نکلنے کے بعد ان کو پڑھے۔ (جامع ترمذی)
فجر کے علاوہ دوسرے اوقات کے سنن و نوافل کی فضیلت
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْاَنْصَارِىِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَرْبَعٌ قَبْلَ الظُّهْرِ لَيْسَ فِيهِنَّ تَسْلِيمٌ تُفْتَحُ لَهُنَّ أَبْوَابُ السَّمَاءِ"
(رواه ابوداؤد وابن ماجه)
حضرت ابوایوب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ظہر کے پہلے کی چار رکعتیں، جن کے درمیان سلام نہ پھیرا جائے، یعنی چار مسلسل پڑھی جائیں۔ ان کے لئے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ)
فجر کے علاوہ دوسرے اوقات کے سنن و نوافل کی فضیلت
عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا لَمْ يُصَلِّ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ صَلَّاهُنَّ بَعْدَهُ ".
(رواه الترمذى)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ ظہر سے پہلے کی چار رکعتیں جب آپ ﷺ نہیں پڑھی ہوتی تھیں تو آپ ﷺ ان کو ظہر سے فارغ ہونے کے بعد پڑھتے تھے۔ (جامع ترمذی)
تشریح
ابن ماجہ کی روایت میں یہ تصریح ہے کہ ایسی صورت میں ظہر سے پہلے والی چار رکعتیں آپ ﷺ بعد والی دو رکعتوں کے بعد پڑھتے تھے۔