رکوع اور سجدے میں کیا پڑھا جائے؟
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِىَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ « فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ ، رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ » (رواه مسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رکوع اور سجود میں کہتے تھے سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ، رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ (نہایت پاک اور مقدس و منزہ ہے پروردگار ملائکہ کا اور روح کا) (صحیح مسلم)
رکوع اور سجدے میں کیا پڑھا جائے؟
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي " يَتَأَوَّلُ القُرْآنَ. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے رکوع و سجود ممیں بکثرت یہ کلمات کہا کرتے تھے سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي (اے اللہ! ہمارے رب ہم تیری حمد کے ساتھ تیری تسبیح کرتے ہیں، اے اللہ! میری مغفرت فرما)۔ آپ ﷺ (یہ کلمات کہہ کے) قرآن مجید کے حکم کی تعمیل کرتے تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے آخری لفظ يَتَأَوَّلُ القُرْآن کا مطلب یہ ہے کہ سورہ اِذَا جَاءَ میں آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو یہ حکم دیا گیا تھا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ (آپ اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کریں اور اس سے مغفرت طلب کریں) اس حکم کی تعمیل میں آپ ﷺ ان کلمات کے ذریعہ رکوع اور سجدے میں بھی اللہ کی حمد و تسبیح اور اس سے استغفار کرتے تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ہی سے یہ بھی مروی ہے کہ سورہ اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ کے نزول کے بعد نماز کے علاوہ بھی آپ ﷺ کی زبان مبارک پر اللہ تعالیٰ کی حمد و تسبیح اور استغفار کے جامع کلمات بکثرت جاری رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اس کی اقتدا اور پیروی ہم سب کو نصیب فرمائے۔
رکوع اور سجدے میں کیا پڑھا جائے؟
عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : فَقَدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنَ الْفِرَاشِ فَالْتَمَسْتُهُ فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى بَطْنِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ وَهُمَا مَنْصُوبَتَانِ وَهُوَ يَقُولُ : « اللهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ » (رواه مسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک رات کو (میری آنکھ کھلی تو) میں نے رسول اللہ ﷺ کو بستر پر نہ پایا، پس میں (اندھیرے میں) آپ کو ٹٹولنے لگی تو میرا ہاتھ آپ ﷺ کے پاؤں کے تلوؤں پر پڑا، اس وقت آپ سجدے میں تھے اور اللہ کے حضور میں عرض کر رہے تھے اللهُمَّ أَعُوذُ بِكَ... (اے اللہ! میں تیری ناراضی سے تیری رضامندی کی پناہ لیتا ہوں اور تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ لیتا ہوں اور تیری پکڑ سے بس تیری ہی پناہ لیتا ہوں۔ میں تیری ثنا و صفت پوری طرح بیان نہیں کر سکتا (بس یہی کہہ سکتا ہوں) کہ تو ویسا ہے جیسا کہ تو نے خود اپنی ذات اقدس کے بارے میں بتلایا ہے)۔ (صحیح مسلم)
رکوع اور سجدے میں کیا پڑھا جائے؟
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كَانَ النَّبِىُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : « فِي سُجُودِهِ اللهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ دِقَّهُ ، وَجِلَّهُ ، وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ وَعَلَانِيَتَهُ وَسِرَّهُ » (رواه مسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے سجدے میں (کبھی کبھی) یہ دعا بھی کرتے تھے اللهم اغفر لى ذنبى كله (اے اللہ! میرے سارے گناہ بخش دے، اس میں سے چھوٹے بھی بڑے بھی، پہلے بھی اور پچھلے بھی، کھلے ہوئے بھی اوار ڈھکے چھپے بھی)۔ (صحیح مسلم)
تشریح
بعض قرائن کی بناء پر بعض علمائے امت کا یہ خیال ہے کہ رکوع اور سجود میں یہ دعائیں آپ ﷺ زیادہ تر تہجد وغیرہ نفل نمازوں میں پڑھتے تھے۔ لیکن کبھی فرض نمازوں میں بھی بعض دعاؤں کا پڑھنا آپ ﷺ سے ثابت ہے۔
اللہ تعالیٰ اگر توفیق دے، اور ان مبارک دعاؤں کا مطلب آدمی سمجھتا ہو تو رکوع و سجود میں تسبیح کے ساتھ کبھی کبھی یہ دعائیں بھی پڑھنی چاہئیں۔ خاص کر نوافل میں جن میں آدمی کو اختیار ہے کہ جتنا لمبا چاہے رکوع و سجدہ کرے۔ ہاں فرض نمازوں میں امام کو اس کا لحاظ ضرور رکھنا چاہئے کہ مقتدیوں کو تکلیف اور گرانی نہ ہو۔
رکوع و سجود میں قرآن مجید نہ پڑھا جائے
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا ، فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ ، فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ » (رواه مسلم)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: مجھے اس کی ممانعت ہے کہ رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن مجید کی تلاوت کروں۔ پس رکوع میں تو تم لوگ اپنے مالک اور پروردگار کی عظمت و کبریائی بیان کیا کرو، اور سجدے میں دعا کی خوب کوشش کیا کرو، سجدے کی دعا (خاص طور سے) اس کی مستحق ہے کہ قبول کی جائے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
قرآن مجید کی قرأت جیسا کہ معلوم ہو چکا ہے نماز کا اہم رکن ہے۔ لیکن اس کا محل قیام ہے اور کلام الٰہی و فرمان خداوندی کے شایان یہی ہے کہ اس کی تلاوت و قرأت قیامت کی حالت میں ہو (شاہی فرامین کے کھڑے ہو کر ہی پڑھے جانے کا دستور ہے) اور رکوع و سجود کے لئے یہی مناسب ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس، اپنی بندگی و سرافگندگی کا اظہار اور اللہ تعالیٰ کے حضور میں دعا و استغفار ہو۔ رسول اللہ ﷺ کا عمل بھی مدت العمر یہی رہا اور اس حدیث میں آپ ﷺ نے زبانی بھی اسی کی ہدایت فرمائی۔
وہ حدیثیں اوپر گزر چکی ہیں جن میں رسول اللہ ﷺ نے سجدے میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى کہنے کی تلقین و ہدایت فرمائی ہے اور اسی کے مطابق خود آپ ﷺ کا عمل بھی معلوم ہو چکا ہے۔ اور یہاں اس حدیث میں آپ ﷺ نے سجدے میں دعا کرنے کی تاکید فرمائی۔ ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد اور منافات نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ دعا اور سوال کی ایک سادہ اور کھلی ہوئی صورت تو یہ ہے کہ بندہ صاسف صاف اپنی حاجت مانگے اور ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ جس سے مانگنا ہو فقیرانہ انداز میں بس اس کے محامد اور کمالات کے گیت گائے۔
ہماری اس دنیا میں بھی بہت سے مانگنے والے اس طرح مانگتے ہیں۔ بہرحال یہ بھی دعا کا ایک طریقہ ہے اور اسی بناء پر ایک حدیث میں اَلْحَمْدُ لِلهِ کو افضل الدعا کہا گیا ہے۔ (جامع ترمذی) اس لحاظ سے سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى بھی ایک دعائیہ کلمہ ہے اور جو شخص سجدے میں صرف یہی کلمہ بار بار اللہ تعالیٰ کے حضور میں عرض کرتا ہے اس کا سجدہ بھی دعا سے خالی نہیں ہے لیکن سجدے کی جو دعائیں آنحضرت ﷺ سے منقول و ماثور ہیں (جو ابھی اوپر مذکور ہو چکی ہیں) ظاہر ہے کہ اس لحاظ سے ان کی شان کچھ اور ہی ہے۔
عَنْ مَعْدَانِ بْنُ طَلْحَةَ قَالَ : لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ يُدْخِلُنِي اللهُ بِهِ الْجَنَّةَ؟ فَسَكَتَ. ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَسَكَتَ. ثُمَّ سَأَلْتُهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ : سَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : « عَلَيْكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ لِلَّهِ ، فَإِنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً ، إِلَّا رَفَعَكَ اللهُ بِهَا دَرَجَةً ، وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً » قَالَ مَعْدَانُ : ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لِي : مِثْلَ مَا قَالَ ثَوْبَانُ.
(رواه مسلم)
معدان بن طلحہ تابعی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام اور خادم خاص حضرت ثوبان ؓ سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جس کے کرنے سے اللہ تعالیٰ مجھے جنت عطا فرما دے! انھوں نے خاموشی اختیار فرمائی اور میری اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا میں نے دوبارہ وہی سوال کیا انہوں نے اس مرتبہ بھی کوئی جواب نہیں دیا اور سکوت اختیار فرمایا۔ اس کے بعد تیسری مرتبہ میں نے پھر وہی سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہی سوال میں نے رسول اللہ ﷺ سے کیا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ تم اللہ کے حضور میں سجدے زیادہ کیا کرو، جو سجدہ بھی تم اللہ کے لئے کرو گے اس کے صلہ میں اللہ تعالیٰ تمہارا درجہ ضرور بلند کرے گا اور تمہارا کوئی نہ کوئی گناہ اس کی وجہ سے ضرور معاف ہو گا۔ معدان کہتے ہیں کہ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے دوسرے صحابی حضرت ابو الدرداءؓ کی خدمت میں حاضری کا مجھے موقع ملا تو ان سے بھی میں نے یہی سوال کیا، انہوں نے بالکل وہی بتایا جو حضرت ثوبانؓ نے فرمایا تھا۔ (صحیح مسلم)
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : كُنْتُ أَبِيتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوئِهِ وَحَاجَتِهِ فَقَالَ لِي : « سَلْ » فَقُلْتُ : أَسْأَلُكَ مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ. قَالَ : « أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ » قُلْتُ : هُوَ ذَاكَ. قَالَ : « فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ »
(رواه مسلم)
ربیعہ بن کعب اسلمی (جو اصحاب صفہ میں سے تھے اور سفر و حضر میں رسول اللہ ﷺ کے خادم خاص کی حیثیت سے آپ ﷺ کے ساتھ رہتے تھے) بیان فرماتے ہیں کہ: میں ایک رات کو حضور ﷺ کے ساتھ اور آپ ﷺ کی خدمت میں تھا (جب آپ ﷺ تہجد کے لئے رات کو اٹھے) تو میں وضو کا پانی اور دوسری ضروریات لے کر حاضر خدمت ہوا تو آپ ﷺ نے (مسرت اور انبساط کے خاص عالم میں) مجھ سے فرمایا: “ ربیعہ کچھ مانگو ” (آپ ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ تمہارے دل میں اگر کسی خاص چیز کی چاہت اور آرزو ہو تو اس وقت مانگ لو میں اللہ تعالیٰ سے اس کے لئے دعا کروں گا، اور امید ہے کہ وہ تمہاری مراد پوری کر دے گا)۔ ربیعہؓ کہتے ہیں۔ میں نے عرج کیا۔ میری مانگ یہ ہے کہ جنت میں آپ کی رفاقت نصیب ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہی یا اس کے سوا کچھ اور؟ میں نے عرض کیا: میں تو بس یہی مانگتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو اپنے اس معاملہ میں سجدوں کی کثرت کے ذریعہ میری مدد کرو۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مقربین بارگاہ خداوندی پر کبھی کبھی ایسے احوال آتے ہیں کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ اس وقت رحمت حق متوجہ ہے، اور جو کچھ مانگا جائے امید ہے کہ ان شاء اللہ مل ہی جائے گا، بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت آنحضرت ﷺ نے ربیعہ بن مالک کی خدمت سے متاثر ہو کر ان سے فرمایا کہ « سَلْ » (جس چیز کی تمہیں چاہت ہو وہ مانگو) غالبا وہ کوئی ایسی ہی گھڑی تھی، لیکن جب انہوں نے اس کے جواب میں “ جنت میں حضور ﷺ کی رفاقت ” مانگی اور مکرر دریافت کرنے پر بھی یہی کہا کہ: “ مجھے تو بس یہی چاہئے اس کے سوا کچھ نہیں ” تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ: فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ (پھر اپنے اس معاملہ میں میری مدد کرو سجدوں کی کثرت کے ذریعہ) گویا اس ارشاد کے ذریعہ آپ نے ان کو بتایا کہ تم جو جنت میں میری رفاقت چاہتے ہو یہ بہت بلند درجہ اور عظیم مرتبہ ہے، میں تمہارے واسطے اللہ تعالیٰ سے اس کے لئے دعا کرتا ہوں اور کروں گا لیکن اتنا بلند مقام حاصل ہونے کے لئے ضروری ہے کہ تم بھی اس کا استحقاق پیدا کرنے کی عملی کوشش کرو، اور وہ خاص عمل جو اس منزل تک پہنچانے میں خصوصیت کے ساتھ مدد گار ہو سکتا ہے اللہ کے حضور میں سجدوں کی کثرت ہے لہذا تم اس کا خاص اہتمام کر کے اپنے اس معاملہ میں میری مدد کرو، اور اپنے عمل سے میری دعا کو قوت پہنچاؤ۔
واضح رہے کہ حضرت ربیعہؓ کی اس حدیث اور اس سے اوپر والی حضرت ثوبانؓ کی حدیث میں کثرت سجود سے مراد نمازوں کی کثرت ہے، لیکن چونکہ جنت اور اس میں رسول اللہ ﷺ کی رفاقت حاصل ہونے میں نماز کے دوسرے ارکان و اجزاء سے زیادہ سجدہ کو دخل ہے اس لئے بجائے کثرت صلوٰۃ کے کثرت سجود کا لفظ استعمال کی گیا ہے۔ واللہ اعلم۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَالَ الإِمَامُ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ ، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ المَلاَئِكَةِ ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب امام (رکوع سے اٹھتے ہوئے) کہے سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ (اللہ نے سنی اس بندہ کی جس نے اس کی حمد کی) تو تم (مقتدی لوگ) کہو اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ (اے اللہ! ہمارے پروردگار تیرے ہی لئے ساری حمد و ستائش ہے) تو جس کا کہنا ملائکہ کے کہنے کے موافق ہو گا اس کے پچھلے سارے گناہ معاف کر دئیے ج ائیں گے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
رکوع اور سجدے کے درمیان قومہ کا حکم ہے، اور اسی طرح ایک رکعت کے دو سجدوں کے درمیان جلسہ مشروع ہے، ان دونوں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی ہدایت اور آپ ﷺ کا معمول ذیل کی حدیثوں میں پڑھئے۔
تشریح ..... نماز باجماعت میں جب امام رکوع سے اٹھتے ہوئے سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہتا ہے تو اللہ کے فرشتے بھی، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ کہتے ہیں اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے امام کے پیچھے نماز پڑھنے والوں کو حکم دیا ہے کہ اس موقع پر وہ بھی یہی کلمہ کہا کریں اور فرمایا ہے کہ جن لوگوں کا یہ کلمہ فرشتوں کے کلمہ کے موافق اورمطابق ہو گا اس کلمہ کی برکت سے ان کے پچھلے قصور معاف ہو جائیں گے۔ موافق اور مطابق ہونے کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ بالکل ان کے ساتھ ہو آگے پیچھے نہ ہو۔ واللہ اعلم۔
یہ بات اس معاف الحدیث ہی کے سلسلہ میں بار بار لکھی جا چکی ہے کہ جن حدیثوں میں کسی خاص عمل کی برکت سے گناہوں کے معاف ہونے کی بشارت سنائی جاتی ہے اس کے مراد عموماً صغیرہ گناہ ہوتے ہیں۔ کبائر کے متعلق قرآنی آیات اور احادیث سے کچھ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کے معافی اصولی طور پر توبہ سے وابستہ ہے، یوں اللہ تعالیٰ کو اخٹیار ہے کہ وہ بڑے بڑے گناہ جس کے چاہے محض اپنے کرم سے بخش دے۔
عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا رَفَعَ ظَهْرَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، قَالَ : « سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، مِلْءُ السَّمَاوَاتِ ، وَمِلْءُ الْأَرْضِ وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ »
(رواه مسلم)
حضرت عبداللہ بن اوفی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب رکوع سے اٹھتے تو فرماتے: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءُ السَّمَاوَاتِ، وَمِلْءُ الْأَرْضِ وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ
اللہ نے سنی اس بندہ کی جس نے اس کی حمد کی اے اللہ ہمارے رب تیرے ہی لئے ساری حمد و ستائش ہے اتنی کہ جس سے زمین آسمان کی ساری وسعتیں بھر جائیں اور زمین و آسمان سے آگے جو سلسلہ وجود تیری مشئیت میں ہے اس کی بھی ساری وسعتیں بھر جائیں۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اور صحیح مسلم ہی میں حضرت ابو سعید خدری ؓ کی روایت سے قومہ میں یہی دعا کچھ اور اضافہ کے ساتھ مروی ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کے بعد کبھی صرف اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ کہتے تھے اور کبھی اس کے ساتھ وہ اضافہ بھی کرتے تھے جو عبداللہ بن اوفی ؓ کی اس روایت سے معلوم ہوا اور کبھی اس پر مزید اضافہ وہ بھی فرماتے تھے جس کی روایت حضرت ابو سعید خدری ؓ نے کی ہے اور اسی واسطے کبھی کبھی آپ کا قومہ اتنا طویل ہو جاتا تھا کہ لوگوں کو سہو کا شبہ ہونے لگتا تھا جیسا کہ آگے درج ہونے والے حضرت انس ؓ کی ایک حدیث سے معلوم ہو گا۔ واللہ اعلم۔
عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ قَالَ : " كُنَّا يَوْمًا نُصَلِّي وَرَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " ، فَقَالَ رَجُلٌ وَرَاءَهُ : رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : « مَنِ المُتَكَلِّمُ » قَالَ : أَنَا ، قَالَ : « رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلاَثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبُهَا أَوَّلاً »
(رواه البخارى)
حضرت رفاعہ بن رافع ؓ سے روایت ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے جب آپ ﷺ نے رکوع سے سر اٹھایا اور کہا سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ تو آپ ﷺ کے پیچھے مقتدیوں میں سے ایک شخص نے کہا: رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ اے ہمارے رب آپ ہی کے لئے ہی ساری حمد، بہت زیادہ حمد، بہت پاکیزہ اور مبارک حمد۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا اس وقت یہ کہنے والا کون تھا؟ اس شخص نے کہا کہ میں نے کہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے تیس سے کچھ اوپر فرشتوں کو دیکھا کہ وہ باہم مسابقت کر رہے تھے کہ کون اس کو پہلے لکھے گا۔ (صحیح بخاری)
تشریح
حدیث میں اس کلمہ “ رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا ” کے لکھنے کے لئے تیس سے زیادہ فرشتوں کی جس مسابقت کا ذکر ہے اس کا خاص سبب غالبا اس بندہ کے دل کی وہ خاص کیفیت تھی جس کیفیت سے اس نے اللہ کی حمد کا یہ مبارک کلمہ کہا تھا۔ واللہ اعلم۔
عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ : « رَبِّ اغْفِرْ لِي »
(رواه النسائى والدارمى)
حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دونوں سجدوں کے درمیان جلسہ میں کہا کرتے تھے۔ “ رَبِّ اغْفِرْ لِي ” “ سے اللہ! میری مغفرت فرما ”۔ (سنن نسائی، مسند دارمی)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ : « اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ، وَارْحَمْنِي ، وَعَافِنِي ، وَاهْدِنِي ، وَارْزُقْنِي »
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دونوں سجدوں کے درمیان یہ دعا کرتے تھے۔ “ رَبِّ اغْفِرْ لِي ” “ سے اللہ! میری مغفرت فرما، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت کی نعمت سے سواز، مجھے معاف فرما دے اور میری روزی کی کفالت فرما ”۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی)
عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ : « سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ » قَامَ ، حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَوْهَمَ ، ثُمَّ يَسْجُدُ وَيَقْعُدُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَوْهَمَ.
(رواه مسلم)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ (کبھی ایسا ہوتا) کہ رسول اللہ ﷺ جب رکوع سے اٹھ کر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے تو (اتنی دیر تک) کھڑے رہتے کہ ہم کو خیال ہوتا کہ شاید آپ کو سہو ہو گیا، پھر سجدہ میں جاتے اور اس سے اٹھنے کے بعد دونوں سجدوں کے درمیان (اتنی دیر) بیٹھتے کہ ہم خیال کرنے لگتے کہ شاید آپ ﷺ کو سہو ہو گیا۔ (صحیح مسلم)
تشریح
حضرت انس ؓ کی اس حدیث سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ کبھی کبھی آپ ﷺ کا قومہ اور جلسہ اتنا طویل ہو جاتا تھا کہ صحابہ کرامؓ کو سہو کا شبہ ہونے لگتا تھا وہیں اس سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ ایسا کبھی شاذ و نادر ہی ہوتا تھا، عام عادت شریفہ یہ نہیں تھی، ورنہ اگر روزمرہ کا معمول یہی ہوتا یا بکثرت ایسا ہوا کرتا تو کسی کو سہو کا شبہ کبھی نہ ہوتا۔
رکوع اور سجدہ کی طرح قومہ اور جلسہ میں بھی جو کلمات اور جو دعائیں رسول اللہ ﷺ سے منقول و ماثور ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ سب نہایت ہی مبارک اور مقبول دعائیں ہیں۔ البتہ اگر نماز پڑھنے والا امام ہو، تو حضور ﷺ ہی کی ہدایت کے مطابق اس کو اس کا لحاظ رکھنا چاہئے کہ اس کا طرز عمل مقتدیوں کے لئے زحمت و مشقت کا باعث نہ جائے۔
قعدہ کا صحیح اور مسنون طریقہ
عَنْ عَبْدُاللهِ بْنِ عُمَرَ « أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ، وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ الْيُمْنَى الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ ، فَدَعَا بِهَا وَيَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ بَاسِطَهَا عَلَيْهَا »
(رواه مسلم)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز میں بیٹھتے تھے تو اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھ لیتے تھے اور داہنے ہاتھ کے انگوٹھے کے برابر والی انگلی (انگشت شہادت) کو اٹھا کر اس سے اشارہ فرماتے تھے اور اس وقت بایاں ہاتھ آپ کا بائیں گھٹنے پر ہی دراز ہوتا تھا (یعنی اس سے آپ ﷺ کوئی اشارہ نہیں فرماتے تھے)۔ (صحیح مسلم)
تشریح
قعدہ، تشہد اور سلام
نماز کا خاتمہ قعدہ اور سلام پر ہوتا ہے، یعنی یہ دونوں اس کے آخری اجزاء ہیں، ہاں اگر نماز تین یا چار رکعت والی ہو تو پہلی دو رکعت پڑھنے کے بعد ایک دفعہ درمیان میں بھی بیٹھا جاتا ہے اس کو قعدہ اولیٰ کہتے ہیں لیکن اس میں صرف تشہد پڑھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور تیسری یا چوتھی رکعت پڑھنے کے بعد دوبارہ بیٹھتے ہیں اور اس میں تشہد کے بعد درود شریف بھی پڑےھنے کے بعد سلام پر نماز ختم کر دی جاتی ہے۔
ذیل کی حدیثوں سے معلوم ہو گا کہ قعدہ کا صحیح طریقہ کیا ہے اور رسول اللہ ﷺ کس طرح قعدہ فرماتے تھے، اور اس میں کیا پڑھنے کی آپ ﷺ نے تعلیم دی ہے، اور سلام پر کس طرح نماز ختم کرنی چاہئے۔
تشریح ..... قعدہ میں کلمہ شہادت کے وقت انگشت شہادت کا اٹھانا اور اشارہ کرنا حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے علاوہ دوسرے صحابہ کرامؓ نے بھی روایت کیا ہے، اور بلاشبہ رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔ اور اس کا مقصد بظاہر یہی ہے کہ جس وقت نمازی اشهد ان لا اله الا الله کہہ کر اللہ تعالیٰ کے وحدہ لا شریک ہونے کی شہادت دے رہا ہو اس وقت اس کا دل بھی توحید کے تصور اور یقین سے لبریز ہو اور ہاتھ کی ایک انگلی اٹھا کر جسم سے بھی اس کی شہادت دی جا رہی ہو، بلکہ حضرت عبادللہ بن عمرؓ کی اسی حدیث کی بعض روایات میں یہ اضافہ بھی ہے کہ انگشت شہادت کے اس اشارے کے ساتھ آپ ﷺ آنکھ سے بھی اشارہ فرماتے تھے۔ واتبعها بصره اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ ہی نے اس اشارہ کے متعلق رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد بھی نقل فرمایا ہے:
لَهِيَ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنَ الْحَدِيدِ
انگشت شہادت کا یہ اشارہ شیطان کے لئے لوہے کی دھار دار چھری اور تلوار سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ (مشکوٰۃ بحوالہ مسند احمد)
قعدہ کا صحیح اور مسنون طریقہ
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بن عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَرَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَتَرَبَّعُ فِي الصَّلاَةِ إِذَا جَلَسَ ، فَفَعَلْتُهُ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ ، فَنَهَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَقَالَ : « إِنَّمَا سُنَّةُ الصَّلاَةِ أَنْ تَنْصِبَ رِجْلَكَ اليُمْنَى وَتَثْنِيَ اليُسْرَى » ، فَقُلْتُ : إِنَّكَ تَفْعَلُ ذَلِكَ ، فَقَالَ : إِنَّ رِجْلَاىَ لاَ تَحْمِلاَنِي.
(رواه البخارى)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے فرزند عبداللہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے والد ماجد (حضرت عبداللہ بن عمرؓ) کو دیکھتے تھے کہ وہ نماز میں چہار زانو بیٹھتے تھے۔ (کہتے ہیں کہ والد ماجد کی پیروی میں) میں بھی اسی طرح چہار زانو بیٹھنے لگا۔ حالانکہ میں اس وقت بالکل نو عمر تھا، تو والد ماجد نے مجھے اس طرح بیٹھنے سے منع فرمایا اور مجھے بتایا کہ نماز میں بیٹھنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ اپنا داہنا پاؤں کھڑا کرو، اور بایاں پاؤں موڑ کر بچھاؤ۔ میں نے عرض کیا کہ: خود چہار انو بیٹھتے ہیں: انہوں نے فرمایا کہ (میں مجبوری اور معذوری کی وجہ سے اس طرح بیٹھتا ہوں) میرے پاؤں اب میرا بوجھ نہیں سہارتے۔ (صحیح بخاری)
تشریح
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے ایک صاحبزادے کا نام بھی عبداللہ ہی تھا، یہ انہیں کا واقعہ ہے جو مذکور ہوا۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو اللہ تعالیٰ نے طویل عمر عطا فرمائی۔ ۸۴ سال اور ایک روایت کے مطابق ۸۶ سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔ اخیر عمر میں ضعف پیری کی وجہ سے وہ نماز میں سنت کے مطابق اپنے پاؤں پر نہیں بیٹھ سکتے تھے، اس وجہ سے مجبورا چہار زانو بیٹھنا پڑتا تھا (اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے پاؤں میں کوئی خاص تکلیف تھی اس کی وجہ سے وہ قعدہ میں سنت کے مطابق بیٹھنے سے معذور تھے) بہرحال ان کے صاحبزادے عبداللہ نے بھی صرف ان کی تقلید اور پیروی میں ان ہی کی طرح چہار زانو بیٹھنا شروع کر دیا (اگرچہ وہ اس وقت بقول خود بوڑھے نہیں بلکہ نو عمر اور نو جوان تھے) حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے ان کو ایسا کرتے دیکھا تو منع فرمایا اور بتایا کہ نماز میں بیٹھنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ داہنا پاؤں کھڑا کیا جائے اور بایاں پاؤں موڑ کر اس پر بیٹھا جائے اور اپنے متعلق فرمایا کہ میں معذوری کی وجہ سے چہار زانوں بیٹھتا ہوں، میرے پاؤں میرے جسم کا بوجھ سہارنے کے قابل نہیں ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے آخری الفاظ “ إِنَّ رِجْلَاىَ لاَ تَحْمِلاَنِي ” (میری دونوں پاؤں میرا بوجھ نہیں سہار سکتے) سے یہ بات صاف سمجھ میں آتی ہے کہ ان کے نزدیک قعدہ کا مسنون طریقہ وہ تھا جس میں آدمی کے جسم کا بوجھ اس کے دونوں پاؤں پر رہتا ہے، اور وہ وہی ہے جس کو “ افتراش ” کہتے ہیں اور جو ہم لوگوں کا معمول ہے۔
شرح حدیث کے اسی سلسلہ میں زیر عنوان “ نماز کس طرح پڑھی جائے ” حضرت ابو حمید ساعدیؓ کی وہ روایت مذکور ہو چکی ہے جس میں آخری قعدہ میں رسول اللہ ﷺ کا ایک طریقے پر بیٹھنا بھی ذکر کیا گیا ہے جس کو “ تورک ” کہتے ہیں۔ اور اس بارے میں ائمہ اور شارحین حدیث کے مختلف نقطہ ہائے نظر کا بھی وہیں ذکر کیا جا چکا ہے۔
قعدہ اولیٰ میں اختصار اور عجلت
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : « كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ حَتَّى يَقُومَ.
(رواه الترمذى والنسائى)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب پہلی دو رکعتوں پر بیٹھتے تھے (یعنی قعدہ اولیٰ فرماتے تھے تو آپ جلدی کرتے تھے) جیسے کہ آپ تپتے پتھروں پر بیٹھتے ہیں، یہاں تک کہ تیسری رکعت کے لئے کھڑے ہو جاتے تھے۔ (جامع ترمذی، سنن نسائی)
تشریح
حضور ﷺ کے اس دوامی طرز عمل سے یہ سمجھا گیا ہے کہ قعدہ اولیٰ میں صرف تشہد پڑھ کے جلدی سے کھڑا ہو جانا چاہئے۔
عَنِ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ : عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ - كَفِّي بَيْنَ كَفَّيْهِ كَمَا يُعَلِّمُنِي السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ ، قَالَ : « التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ »
(رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس حالت میں کہ میرا ہاتھ آپ کے دونوں ہاتھوں کے درمیان تھا مجھے تشہد تعلیم فرمایا جس طرح کہ آپ قرآن مجید کی سورتیں تعلیم فرماتے تھے (آپ نے مجھے تلقین فرمایا): التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ الخ (ترجمہ) ادب و تعظیم اور اظہار نیاز کے سارے کلمے اللہ ہی کے لئے ہیں اور تمام عبادات اور تمام صدقات اللہ ہی کے واسطے ہیں (اور میں ان سب کا نذرانہ اللہ کے حضور میں پیش کرتا ہوں) تم پر سلام ہو اے نبی اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں۔ سلام ہو ہم پر اور اللہ کے سب نیک بندوں پر۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں (صرف وہی معبود برحق ہے)۔ اور میں اس کی بھی شہادت دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور پیغمبر ہیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
رسول اللہ ﷺ صحابہ کرامؓ کو جو کچھ سکھاتے اور بتاتے تھے اس میں سب سے زیادہ اہتمام قرآن مجید کی تعلیم کا فرماتے تھے، لیکن تشہد (التحیات) کی تعلیم و تلقین آپ نے اسی خاص الخاص اہتمام سے فرمائی جس اہتمام سے آپ قرآن مجید کی کسی سورت کی تعلیم دیتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا ہاتھ اس وقت اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان پکڑنا بھی اسی سلسلہ کی ایک چیز تھی، اور طحاوی کی ایک روایت میں ہے کہ آپ نے ابن مسعودؓ کو بہ تشہد ایک ایک کلمہ کر کے تلقین فرمایا جس طرح کہ بچوں یا ان پڑھوں کو کوئی اہم چیز یاد کرائی جاتی ہے۔ اور مسند احمد کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے عبداللہ بن مسعودؓ کو یہ تشہد تعلیم فرمایا اور ان کو حکم دیا کہ وہ دوسروں کو اس کی تعلیم دیں۔ تشہد، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے علاوہ حضرت عمرؓ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ، حضرت عائشہ صدیقہؓ اور بعض اور صحابہ کرامؓ سے بھی مروی ہے، اور ان روایات میں ایک دو لفظوں کا بہت معمولی سا فرق بھی ہے لیکن محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ سند اور روایت کے لحاظ سے حضرت ابن مسعودؓ کے اس تشہد ہی کو ترجیح ہے، اگرچہ دوسری روایات بھی صحیح ہیں اور ان میں وارد شدہ تشہد بھی پڑھایا جا سکتا ہے۔
بعض شارحین حدیث نے ذکر کیا ہے کہ یہ تشہد شب معراج کا مکالمہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو جب بارگاہ قدوسیت میں شرف حضوری نصیب ہوا تو آپ ﷺ نے نذرانہ، عبودیت اس طرح پیش کیا، اور گویا اس طرح سلامی دی: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ،
اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوا:
السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ،
آپ ﷺ نے جوابا عرض کیا: السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ،
اس کے بعد (عہد ایمان کی تجدید کے طور پر) مزید عرض کیا: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
ان شارحین نے لکھا ہے کہ نماز میں اس مکالمہ کو شب معراج کی یادگار کے طور پر جوں کا توں لے لیا گیا ہے، اور اسی وجہ سے السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ میں خطاب کی ضمیر کو برقرار رکھا گیا ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ صحیح بخاری وغیرہ میں خود حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ تشہد میں السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ ہم حضور ﷺ کی حیات طبیہ میں اس وقت کہا کرتے تھے جب آپ ہمارے ساتھ اور ہمارے درمیان ہوتے تھے، پھر جب آپ کا وصال ہو گیا تو ہم بجائے اس کے السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ کہنے لگے۔
لیکن جمہور امت کے عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جو لفظ تلقین فرمایا تھا (یا معراج کے مکالمہ والی مشہور عام روایت کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو لفظ ارشاد ہوا تھا) یعنی السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ حضور ﷺ کے وصال کے بعد بھی بطور یادگار اسی کو جوں کا توں برقرار رکھا گیا، اور بلا شبہ ارباب ذوق کے لئے اس میں ایک خاص لطف ہے۔ اب جو لوگ اس صیغہ خطاب سے حضور ﷺ کے حاضر ناظر ہونے کا عقیدہ پیدا کرنا چاہتے ہیں ان کے متعلق بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ شرک پسندی کے مریض، نہایت ہی کور ذوق اور عربی زبان و ادب کی لطافتوں سے بالکل ہی ناآشنا ہیں۔
عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ الصَّلاَةُ عَلَيْكُمْ اَهْلَ الْبَيْتِ فَاِن اللهَ قَدْ عَلَّمْنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكَ؟ فَقَالَ : " قُولُوا : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ".
(رواه البخارى ومسلم)
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ اعنہ (جو اصحاب بیعت رضوان میں سے ہیں) راوی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کرتے ہوئے عرض کیا کہ: اللہ تعالیٰ نے یہ تو ہم کو بتا دیا کہ ہم آپ کی خد مت میں سلام کس طرح عرض کیا کریں (یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ نے ہم کو بتا دیا ہے کہ ہم تشہد میں السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ کہہ کر آپ پر سلام بھیجا کریں) اب آپ ہمیں یہ بھی بتا دیجئے کہ ہم آپ پر صلوٰۃ (درود) کیسے بھیجا کریں؟ آپ نے فرمایا یوں کہا کرو۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ “ اے اللہ! اپنی خاص عنایت اور رحمت فرما حضرت محمد پر اور حضرت محمد کے گھر والوں پر جیسے کہ تو نے عنایت و رحمت فرمائی حضرت ابراہیم پر اور ان کے گھر والوں پر، تو حمد ستائش کا سزا وار اور عظمت و بزرگی والا ہے۔ اے اللہ! خاص برکتیں نازل فرما حضرت محمد ﷺ پر اور حضرت محمد ﷺ کے گھر والوں پر جیسے کہ تو نے خاص برکتیں نازل فرمائیں حضرت ابراہیم اور حضرت ابراہیم کے گھر والوں پر، تو حمد ستائش کا سزا وار اور عظمت و بزرگی والا ہے۔ ” (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
درود شریف کی حکمت
انسانوں پر خاص کر ان بندوں پر جن کو کسی نبی کی ہدایت و تعلیم سے ایمان نصیب ہوا۔ اللہ تعالیٰ کے بعد سب سے بڑا احسان اس نبی و رسول کا ہوتا ہے، جس کے ذریعہ ان کو ایمان ملا ہو اور ظاہر ہے کہ امت محمدیہ ﷺ کو ایمان کی دولت اللہ کے آخری نبی حضرت محمدمصطفیٰ ﷺ کے واسطہ سے ملی ہے، اس لئے یہ امت اللہ تعالیٰ کے بعد سب سے زیادہ ممنون احسان آنحضرت ﷺ کی ہے۔ پھر جس طرح اللہ تعالیٰ جو خالق و مالک اور پروردگار ہے اس کا حق یہ ہے کہ اس کی عبادت اور حمد و تسبیح کی جائے، اسی طرح اس کے پیغمبروں کا حق ہے کہ ان پر درود و سلام بھیجا جائے، یعنی اللہ تعالیٰ سے ان کے لئے مزید رحمت و رأفت اور رفع درجات کی دعا کی جائے۔ درود و سلام کا مطلب یہی ہوتا ہے۔ اور یہ دراصل ان محسوں کی بارگاہ میں عقیدت و محبت کا ہدیہ، وفاداری و نیاز کیشی کا نذرانہ اور ممنونیت و سپاس گزاری کا اظہار ہوتا ہے، ورنہ ظاہر ہے کہ ان کو ہماری دعاؤں کی کیا احتیاج، بادشاہوں کو فقیروں اور مسکینوں کے ہدیوں اور تحفوں کی کیا ضرورت!
تاہم اس میں شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارا یہ تحفہ بھی ان کی خدمت میں پہنچاتا ہے، اور ہماری اس دعا و التجا کے حساب میں بھی ان پر اللہ تعالیٰ کے الطاف و عنایات میں اضافہ ہوتا ہے، اور سب سے بڑا فائدہ اس دعا گوئی اور اظہار وفاداری کا خود ہم کو پہنچتا ہے، ہمارا ایمانی رابطہ مستحکم ہوتا ہے، اور ایک دفعہ کے مخلصانہ درود کے صلہ میں اللہ تعالیٰ کی کم از کم دس رحمتوں کے ہم مستحق ہو جاتے ہیں۔ یہ ہے درود و سلام کا راز اور اس کے فوائد و منافع۔
درود و سلام سے شرک کی جڑ کٹ جاتی ہے
اس کے علاوہ ایک خاص حکمت درود و سلام کی یہ بھی ہے کہ اس سے شرک کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بعد سب سے زیادہ مقدس اور محترم ہستیاں انبیاء علیہم السلام کی ہیں، جب ان کے لئے بھی حکم یہ ہے کہ ان پر درود و سلام بھیجا جائے (یعنی ان کے واسطے اللہ سے رحمت و سلامتی کی دعا کی جائے) تو معلوم ہوا کہ وہ بھی سلامتی اور رحمت کے لئے خدا کے محتاج ہیں، اور ان کا حق اور مقام علی بس یہی ہے کہ ان کے واسطے رحمت و سلامتی کی دعائیں کی جائیں۔ رحمت و سلامتی خود ان کے ہاتھ میں نہیں ہے، اور جب ان کے ہاتھ میں نہیں ہے تو پھر ظاہر ہے کہ کسی مخلوق کے بھی ہاتھ میں نہیں ہے، کیوں کہ ساری مخلوق میں انہیں کا مقام سب سے بالا و برتر ہے۔ اور شرک کی جڑ بنیاد یہی ہے کہ خیر و رحمت اللہ کے سوا کسی اور کے قبضہ میں بھی سمجھی جائے۔
بہرحال درود و سلام کے اس حکم نے ہم نو نبیوں اور رسولوں کا دعا گو بنا دیا، اور جو بندہ پیغمبروں کا دعا گو ہو وہ کسی مخلوق کا پرستار کیسے ہو سکتا ہے۔
قرآن مجید میں درود و سلام کا حکم
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ پر درود و سلام بھیجنے کا حکم سورہ احزاب کی اس آیت میں دیا ہے اور بڑی شاندار تمہید کے ساتھ دیا ہے:
اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىِٕكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ١ؕ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا۰۰۵۶ (احزاب 56: 33)
اللہ تعالیٰ کا خاص لطف و کرم ہے اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں ان نبی پر، اے ایمان والو تم بھی درود و سلام بھیجا کرو ان پر۔
اس آیت میں نماز یا غیر نماز کا کوئی تذکرہ نہیں ہے، بالکل اسی طرح جس طرح کہ قرآن مجید میں جا بجا اللہ کی حمد و تسبیح کا حکم ہے اور نماز یا غیر نماز کا وہاں کوئی تذکرہ نہیں ہے، لیکن جس طرح نور نبوت کی روشنی میں انہی آیتوں سے رسول اللہ ﷺ نے سمجھا کہ اس حمد و تسبیح کا خاص محل نماز ہے (چنانچہ یہ حدیث اپنے موقع پر پہلے گزر چکی ہے، کہ جب فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ اور سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى آیات قرآنی نازل ہوئیں تو آپ ﷺ نے بتایا کہ اس حکم کی تعمیل اس طرح کی جائے کہ رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ اور سجدہ میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى پڑھا جائے)۔
اس عاجز کا خیال ہے کہ اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے سورہ احزاب کی اس آیت (صَلُّوْا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا) کے نزول کے وقت بھی صحابہ کرامؓ کو غالبا بتایا تھا کہ اس حکم کی تعمیل کا خاص محل و موقع نماز کا جزو اخیر قعدہ اخیرہ ہے۔
اس بارے میں کوئی صریح روایت تو اس عاجز کی نظر سے نہیں گزری، لیکن جس بنیاد پر میرا یہ خیال ہے آگے درج ہونے والی حدیث کے ضمن میں اس کو عرض کروں گا۔ اب حدیث پڑھئے۔
تشریح ...... جیسا کہ سورہ احزاب کی مندرجہ بالا آیت میں نماز یا غیر نماز کا کوئی ذکر نہیں ہے اسی طرح کعب بن عجرہ رضی اللہ اعنہ کی اس روایت میں بھی اس کا کوئی ذکر نہیں ہے، لیکن ایک دوسرے صحابی حضرت ابو مسعود انصاری بدری رضی اللہ اعنہ سے بھی قریب قریب اسی مضمون کی ایک حدیث مروی ہے۔ اس کی بعض روایات میں سوال کے الفاظ یہ نقل کئے گئے ہیں:
كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ إِذَا نَحْنُ صَلَّيْنَا عَلَيْكَ فِي صَلَاتِنَا (۱)
حضرت (ﷺ)! ہم جب نماز میں آپ (ﷺ) پر درود پڑھیں تو کس طرح پڑھا کریں؟
اس روایت میں صراحۃً معلوم ہوا کہ صحابہؓ کا یہ سوال نماز میں درود شریف پڑھنے کے بارے میں تھا اور گویا یہ بات ان کو معلوم ہو چکی تھی کہ درود کا خاص محل نماز ہے۔
اس کے علاوہ حاکم نے مستدرک میں بہ سند قوی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ اعنہ کا یہ ارشاد روایت کیا ہے:
يتشهد الرجل ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى النَّبِىِّ ثُمَّ يَدْعُوْا لِنَفْسِهِ (۲) ؎
آدمی نماز میں (یعنی قعدہ اخیرہ میں) تشہد پڑھے اس کے بعد رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجے، اس کے بعد اپنے لئے دعا کرے۔
ظاہر ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ اعنہ نے یہ بات حضور ﷺ سے سننے کے بعد ہی فرمائی ہو گی، وہ اپنی طرف سے کیسے کہہ سکتے تھے کہ تشہد کے بعد نمازی کو درود شریف پڑھنی چاہئے۔
بہرحال ان ساری چیزوں کو سامنے رکھنے کے بعد یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ سورہ احزاب میں رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجنے کا جو حکم دیا گیا تھا اس کے بارے میں صحابہ کرامؓ کو یہ بات تو معلوم ہو چکی تھی کہ اس کی تعمیل کا خاص محل نماز اور اس کا بھی جزو اخیر قعدہ اخیرہ ہے۔ اس کے بعد انہوں نے آپ ﷺ سے دریافت کیا تھا کہ ہم نماز میں یہ درود کس طرح اور کن الفاظ میں بھیجا کریں، بس اسی کے جواب میں آپ نے یہ درود ابراہیمی تلقین فرمائی جو ہم اپنی نمازوں میں پڑھتے ہیں۔
درود شریف میں آل کا مطلب
اس درود میں ‘آل’ کا لفظ جو چار دفعہ آیا ہے اس کا ترجمہ ہم نے “ گھر والوں ” کیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ عربی زبان خاص کر قران و حدیث کے محاورے میں کسی شخص کے ‘آل’ ان کو کہا جاتا ہے جو اس کے ساتھ خاص الخاص تعلق رکھتے ہوں، خواہ یہ تعلق نسب اور رشتہ کا ہو (جیسے اس شخص کے بیوی بچے) یا رفاقت و معیت اور عقیدت و محبت اور اتباع و اطاعت (3) کا (جیسے کہ اس کے مشن کے خاص ساتھی اور محبین و متبعین)۔ اس لئے اصل لغت کے لحاظ سے یہاں آل کے معنی دونوں ہو سکتے ہیں، لیکن آگے حضرت ابو حمید ساعدی کی جو حدیث درج ہو رہی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ‘آل’ سے مراد آپ ﷺ کے گھر والے یعنی ازواج مطہرات اور آپ ﷺ کی نسل و اولاد ہی ہے۔ واللہ اعلم۔
نماز میں درود شریف کا موقع اور اس کی حکمت
عَنْ أَبِىْ حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُولُوا : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ".
(رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ اعنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ حضرت (ﷺ)! ہم آپ پر صلوٰۃ (درود) کس طرح پڑھا کریں؟ آپ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ سے یوں عرض کیا کرو۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ “ اے اللہ! اپنی خاص عنایت اور رحمت فرما حضرت محمد پر اور آپ کی (پاک) بیبیوں اور آپ کی نسل پر، جیسے کہ آپ نے عنایت و رحمت فرمائی آل ابراہیم پر، اور خاص برکت نازل فرما حضرت محمد ﷺ پر اور آپ کی (پاک) بیبیوں اور آپ کی نسل پر، جیسے کہ آپ نے برکتیں نازل فرمائیں آل ابراہیم پر، اے اللہ! تو ساری حمد و ستائش کا سزا وار اور عظمت و بڑائی والا ہے۔ ” (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث میں درود شریف کے جو الفاظ تلقین فرمائے گئے ہیں وہ پہلی حدیث سے کچھ مختلف ہیں لیکن معنی مطلب میں کوئی خاص فرق نہیں ہے، علماء اور فقہاء نے تصریح کی ہے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک درود نماز میں پڑھا جا سکتا ہے لیکن معمول زیادہ تر پہلے ہی والا ہے۔
اس حدیث میں بجائے آل کے وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ کے الفاظ ہیں۔ اس سے یہ بات بظاہر متعین ہو جاتی ہے کہ پہلی والی حدیث میں جو آل کا لفظ آیا ہے اس سے آپ کے گھر والے یعنی ازواج مطہرات اور ذریت طیبہ ہی مراد ہیں، اور جس طرح آنحضرت ﷺ نے قرابت و جزئیت اور زندگی میں شرکت کا خاص شرف ان کو حاصل ہے (جو دوسروں کو اگرچہ وہ مرتبہ میں ان سے افضل ہوں حاصل نہیں) اسی طرح درود سلام میں شرکت کا یہ خاص شرف بھی اللہ تعالیٰ نے ان کو بخشا ہے، اور گویا یہ ان کی خاص سعادت ہے، اور اس سے ہرگز یہ لازم نہیں آتا کہ یہ ازواج مطہرات وغیرہ امت میں سب سے افضل ہوں۔ اس کو بالکل یوں سمجھنا چاہئے کہ اہل عقیدت و محبت جب اپنے کسی محبوب بزرگ کی خدمت میں کوئی خاص تحفہ بھیجتے ہیں، تو ان کے پیش نظر خود وہ بزرگ اور ان کے گھر والے ہی ہوتے ہیں، اور فطری طور پر وہ اس کے خواہش مند ہوتے ہیں کہ ہمارا یہ تحفہ خود وہ بزرگ اور ان کے گھر والے استعمال کریں۔ اگرچہ ان بزرگ کے دوستوں یا خادموں میں ایسے بھی لوگ ہوں جن کو یہ تحفہ پیش کرنے والے محبتین و معتقدین بھی گھر والوں سے بدرجہا افضل سمجھتے ہوں۔ بس درود سلام بھی جیسا کہ شروع میں عرض کیا گیا ہے عقیدت و محبت کا تحفہ اور نیاز کیشی کا نظرانہ ہے، اس کو محبت کے فطری قانون ہی کی روشنی میں سمجھنا چاہئے۔ اس کی بنیاد پر افضلیت اور مفضولیت کی خالص کلامی اور قانونی بحث اٹھانا کوئی کوش ذوقی کی بات نہیں ہے۔
نماز میں درود شریف کا موقع اور اس کی حکمت
جیسا کہ معلوم ہے درود شریف نماز کے بالکل آخر میں یعنی آخری قعدہ میں تشہد کے بعد پڑھی جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہی اس کے لئے بہترین موقع ہو سکتا ہے، اللہ کے بندے کو رسول اللہ ﷺ کی ہدایت و تعلیم کے صدقے میں ایمان نصیب ہوا، اللہ تعالیٰ کو اس نے جانا پہنچانا اور نماز کی شکل میں اس کے دربار عالی کی حاضری اور حمد و تسبیح اور ذکر و مناجات کی دولت گویا ایک طرح کی معراج اسے نصیب ہوئی اور آخری قعدہ کے تشہد پر یہ نعمت گویا مکمل ہو گئی۔ اب اس کو حکم ہے کہ اللہ کے دربار سے رخصت ہونے سے پہلے اور اپنے لئے کچھ مانگنے سے بھی پہلے وہ بندہ حضڑت محمد ﷺ کے اس احسان کو محسوس کرتے ہوئے کہ انہی کی ہدایت کے صدقے میں اس دربار تک رسائی ہوئی اور یہ سب کچھ نصیب ہوا۔ اللہ تعالیٰ سے آپ کے لئے اور آپ ﷺ کی زندگی کی شریک ازواج مطہرات اور آپ ﷺ کی ذریت طیبہ کے لئے بہتر سے بہتر دعا کرے۔ اس کے سوا اور اس سے بہتر کوئی چیز اس کے پاس ہے ہی نہیں جس کو پیش کر کے وہ اپنے جذبہ ممنونیت کا اظہار اور احسان مندی کا حق ادا کر سکے۔ اسی کے لئے درود شریف کے یہ بہترین کلمے صحابہ کرام کو رسول اللہ ﷺ نے تلقین فرمائے۔
یہاں درود شریف کا یہ بیان نماز کے سلسلے میں آیا تھا اس لئے صرف انہی دو حدیثوں پر یہاں اکتفا کیا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ اس سلسلے میں قابل ذکر جو حدیثیں درود شریف کے فضائل وغیرہ سے متعلق کتب حدیث میں روایت کی گئی ہیں ان شاء اللہ وہ “ کتاب الدعوات ” میں اپنے موقع پر درج ہوں گی اور مندرجہ بالا درود ابراہیمی کے علاوہ “ صلوٰۃ و سلام ” کے جو اور صیغے آنحضرت ﷺ سے قابل اعتماد سندوں کے ساتھ مروی ہیں وہ بھی ان شاء اللہ وہیں درج ہوں گے۔
درود شریف کے بعد اور سلام سے پہلے دعا
ابھی مستدرک حاکم کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ اعنہ کا یہ ارشاد ذکر کیا جا چکا ہے کہ نمازی تشہد کے بعد درود شریف پڑھے اور اس کے بعد دعا کرے۔ بلکہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ اعنہ ہی کی ایک حدیث سے تو معلوم ہوتا ہے کہ آخری قعدہ میں تشہد کے بعد اور سلام سے پہلے دعا کا یہ حکم گالبا اس وقت بھی تھا جب کہ تشہد کے بعد درود شریف پڑھنے کا حکم نہیں کیا گیا تھا۔
صحیح بخاری و صحیح مسلم وغیرہ کی ایک روایت میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ اعنہ سے تشہد کی تلقین والی حدیث ہی کے آخر میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد مروی ہے:
ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ أَحَدُكُمْ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ فَيَدْعُوَ بِهِ
یعنی نمازی جب تشہد پڑھ چکے تو جو دعا اسے اچھی معلوم ہو اس کا انتخاب کر لے، اور اللہ سے وہی دعا کرے۔
اور یہی بات (کہ تشہد کے بعد دعا کی جائے) آگے درج ہونے والی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ اعنہ کی حدیث سے بھی معلوم ہوتی ہے۔
بہرحال سلام سے پہلے دعا کرنا آنحضرت ﷺ سے تعلیماً بھی ثابت ہے اور عملاً بھی، اور اس موقع کے لئے آپ ﷺ نے بعض خاص دعائیں بھی تعلیم فرمائیں ہیں۔ اس سلسلہ کی صرف تین حدیثیں یہاں درج کی جاتی ہیں:
نماز میں درود شریف کا موقع اور اس کی حکمت
عَنْ أَبِىْ هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنَ التَّشَهُّدِ الْآخِرِ ، فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللهِ مِنْ أَرْبَعٍ : مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ، وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ".
(رواه مسلم)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ اعنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آخری تشہد پڑھ کر فارغ ہو جائے تو اسے چاہئے کہ چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے۔ (۱) جہنم کے عذاب سے۔ (۲) قبر کے عذاب سے۔ (۳) زندگی اور موت کی آزمائش سے اور (۴) دجال کے شر سے۔ (صحیح مسلم)