نماز عشاء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت
عَنْ البَرَاءَ ، قَالَ : " سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي العِشَاءِ : وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ وَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ صَوْتًا مِنْهُ ". (رواه البخارى ومسلم)
حضرت براء ؓ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کو عشاء کی نماز مین سورہ وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ پڑھتے ہوئے سنا ہے اور میں نے آپ ﷺ سے زیادہ اچھی آواز والا کسی کو نہیں سنا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
صحیحین ہی کی بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ جس کا ذکر حضرت براء بن عازبؓ نے اس حدیث میں کیا ہے سفر کا ہے، اور آپ ﷺ نے اس نماز کی کسی ایک رکعت میں سورہ والتین پڑھی تھی۔
نماز عشاء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَأْتِي فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ ، فَصَلَّى لَيْلَةً مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ أَتَى قَوْمَهُ فَأَمَّهُمْ فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَانْحَرَفَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى وَحْدَهُ وَانْصَرَفَ فَقَالُوا لَهُ : أَنَافَقْتَ؟ يَا فُلَانُ ، قَالَ : لَا. وَاللهِ وَلَآتِيَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَأُخْبِرَنَّهُ. فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّا أَصْحَابُ نَوَاضِحَ نَعْمَلُ بِالنَّهَارِ وَإِنَّ مُعَاذًا صَلَّى مَعَكَ الْعِشَاءَ ، ثُمَّ أَتَى قَوْمَهُ فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُعَاذٍ فَقَالَ : « يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ أَنْتَ؟ اقْرَأْ وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَالضُّحَى ، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى ، وَسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل کا معمول تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کی مسجد میں نماز پڑھتے، پھر آ کر اپنے قبیلہ کی مسجد میں امامت کرتے۔ ایک رات انہوں نے عشاء کی نماز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پڑھی، پھر اپنے قبیلہ میں آئے اور ان کی امامت کی، اور (سورہ فاتحہ کے بعد) سورہ بقرہ شروع کر دی۔ ایک شخص نماز توڑ کر پیچھے ہٹ گیا، اور اس نے تنہا اپنی نماز پڑھی۔ (چانکہ یہ بات بہت غیر معمولی تھی، اور اس دور میں نماز باجماعت کا اہتمام نہ کرنا منافقوں ہی کا طریقہ تھا، اس لئے) لگوں نے اس کو بہت محسوس کیا، اور اس شخص سے کہا، “ فلانے! تو منافق تو نہیں ہو گیا ہے؟ ” اس نے جواب دیا “ خدا کی قسم نہیں! بلکہ میں خود رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ ﷺ کے سامنے یہ بات رکھوں گا ”۔ چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور عرض کیا “ یا رسول اللہ! ہمارا کام اونٹوں کے ذریعہ پانی سینچنا ہے، ہم لوگ دن بھر محنت مشقت کرتے ہیں اور (گزشتہ رات ایسا ہوا کہ) معاذ عشاء کی نماز آپ ﷺ کے ساتھ پڑھنے کے بعد اپنے قبیلہ کی مسجد میں آئے (اور یہاں انہوں نے نماز پڑھانی شروع کی) تو سورہ بقرہ شروع کر دی؟ ” رسول اللہ ﷺ نے یہ سن کر نے حضرت معاذؓ کی طرف رخ فرمایا اور ارشاد فرمایا۔ معاذ! کیا لوگوں کو تم فتنہ میں میں مبتلا کرنا چاہتے ہو سورہ
وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا، وَ الضُّحٰى، سورہ وَ الَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى اور سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى پڑھا کرو۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت معاذ ؓ عشاء کی نماز دو دفعہ پڑھتے تھے، ایک دفعہ مسجد نبوی میں آنحضرت ﷺ کے مقتدی بن کر، اور دوسری دفعہ اپنے قبیلہ کی مسجد میں امام بن کر، لیکن جمہور ائمہ و علماء اس پر متفق ہیں کہ ان میں سے ایک دفعہ کی نماز وہ نفل کی نیت سے پڑھتے تھے۔ حضرت امام شافعیؒ کا خیال ہے کہ جو نماز وہ مسجد نبوی میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اور آپ ﷺ کی اقتداء میں پڑھتے تھے وہ فرض کی نیت سے پڑھتے تھے اور اپنے قبیلہ والی مسجد میں امام بن کر نفل کی نیت سے پڑھتے تھے، اسی بناء پر حضرت امام شافعی ؒ اس کے قائل ہیں کہ نفل پڑھنے والے امام کی اقتداء میں فرض نماز پڑھی جا سکتی ہے، ان کے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن حضرت امام ابو حنیفہؒ اور امام مالکؒ کی تحقیق یہ ہے کہ نفل پڑھنے والے امام کی اقتداء میں فرض نماز نہیں پڑھی جا سکتی۔ حضرت معاذ ؓ کے زیر بحث واقعہ کے متعلق ان حضرات کا خیال یہ ہے کہ وہ فرض عشاء کی نیت سے اپنے قبیلہ کی مسجد ہی میں نماز پڑھاتے تھے، اور چونکہ مسجد نبوی کی جماعت کے وقت تک وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر رہتے تھے اس لئے آپ ﷺ کی نماز کی خاص برکات میں حصہ لینے کے لئے اور سیکھنے کی غرض سے وہ نفل کی نیت سے آپ ﷺ کے ساتھ بھی شریک ہو جاتے تھے۔ اس مسئلہ پر بھی دونوں طرف بڑی فاضلانہ فقیہانہ اور محدثانہ بحثیں کی گئی ہیں۔ اہل علم شروح حدیث فتح الباری عمدۃ القاری اور فتح الملہم میں دیکھ سکتے ہیں۔
حدیث کی خاص ہدایت جو ہمارے موضوع اور عنوان سے متعلق ہے بس یہ ہے کہ ائمہ کو چاہئے کہ وہ نماز اتنی طویل نہ پڑھیں جو مقتدیوں کے لیے باعث مشقت ہو جائے، خاص کر ضعیفوں، کمزوروں اور محنت پیشہ لوگوں کا لحاظ رکھیں۔
مختلف اوقات کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : « مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فُلَانٍ - قَالَ سُلَيْمَانَ – صَلَّيْتُ خَلْفَهُ فَكَانَ يُطِيلُ الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ ، وَيُخَفِّفُ الْأُخْرَيَيْنِ ، وَيُخَفِّفُ الْعَصْرَ ، وَيَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ ، وَيَقْرَأُ فِي الْعِشَاء بِوَسَطِ الْمُفَصَّلِ ، وَيَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِطُوَلِ الْمُفَصَّلِ » (رواه النسائى)
سلیمان بن یسار تابعی حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے (اپنے زمانہ کے ایک امام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) فرمایا کہ: میں نے کسی شخص کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی، جو رسول اللہ ﷺ کی نماز سے زیادہ مشابہ ہو فلاں امام کی بہ نسبت۔ سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ ان صاحب کے پیچھے میں نے بھی نماز پڑھی ہے۔ ان کا معمول یہ تھا کہ ظہر کی پہلی دنوں رکعتیں لمبی پڑھتے تھے اور آخری دو رکعتیں پڑھتے تھے، اور عصر ہلکی ہی پڑھتے تھے، اور مغرب میں قصار مفصل اور عشاء میں اوساط پڑھتے تھے اور فجر کی نماز میں طوال مفصل پڑھا کرتے تھے۔ (سنن نسائی)
تشریح
“ مفصل ” قرآن مجید کی آخری منزل کی سورتوں کو کہا جاتا ہے یعنی سورہ حجرات سے آخر قرآن تک پھر اس کے بھی تین حصے کئے گئے ہیں۔ حجرات سے لے کر سورہ بروج تک کی سورتوں کو “ طوال مفصل ” کہا جاتا ہے، اور بروج سے لے کر سورہ لم یکن تک کی سورتوں کو “ اوساط مفصل ” اور لم یکن سے لے کر آخر تک کی سورتوں کو “ قصار مفصل ” کہا جاتا ہے۔
اس حدیث میں ان صاحب کے نام کا ذکر نہیں کیا گیا ہے جن کے متعلق حضرت ابو ہریرہؓ کا بیان ہے کہ: “ ان کی نماز رسول اللہ ﷺ کی نماز سے بہت زیادہ مشابہ تھی، اور کسی شخص کے پیچھے میں نے ایسی نماز نہیں پڑھی، جو بہ نسبت ان کی نماز کے حضور ﷺ کی نماز سے بہت زیادہ مشابہ ہو ”۔
بہرحال ان صاحب کا نام نہ تو حضرت ابو ہریرہؓ نے ذکر کیا اور نہ سلیمان بن یسار تابعی نے، مگر شارحین حدیث نے محض قیاس اور اندازہ سے ان کو متعین کرنے کی کوشش کی ہے، مگر کوئی بات بھی اس بارے میں قابل اطمینان نہیں ہے، لیکن حدیث کا مضمون بالکل واضح ہے اور نام معلوم نہ ہونے سے اصل مقصد اور مسئلہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
سلیمان بن یسار تابعی نے ان صاحب کی نماز کے بارے میں جو تفصیل بیان کی ہے حضرت ابو ہریرہؓ کے مذکورہ بالا ارشاد کی روشنی میں اسیسے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ مختلف اوقات کی نماز کی قرأت کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا عام معمول بھی وہی تھا جو ان صاحب کا معمول سلیمان بن یسار نے بیان کیا ہے یعنی ظہر کی نماز میں تطویل، عصر میں تخفیف، مغرب میں قصار مفصل، عشاء میں اوساط مفصل، اور فجر میں طوال مفصل۔
حضرت عمر ؓ نے اس بارے میں حضرت موسیٰ اشعری ؓ کو جو خط لکھا تھا (جس کا پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے) اس میں بھی مختلف اوقات کی نمازوں کی قرأت کے بارے میں یہی ہدایت کی گئی ہے۔ مصنف عبدالرزاق میں سند کے ساتھ حضرت عمر ؓ کے اس خط کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے:
كَتَبَ عُمَرُ اِلَى اَبِىْ مُوْسَى اَنِ اقْرَاْ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ، وَفِي الْعِشَاءِ بِوَسَطِ الْمُفَصَّلِ، وَفِي الصُّبْحِ بِطِوَالِ الْمُفَصَّلِ » (نصب الرايه)
(حضرت عمر ؓ نے ابو موسیٰ اشعری کو لکھا تھا کہ مغرب کی نماز میں قصار مفصل، عشاء میں اوساط مفصل اور فجر میں طوال مفصل پڑھا کرو۔ (نصب الرایہ)
اور امام ترمذی نے اسی خط کا حوالہ دیتے ہوئے ظہر میں اوساط مفصل پڑھنے کی ہدایت کا بھی ذکر کیا ہے۔ (جامع ترمذى باب ما جاء فى القراءة فى الظهر والعصر)
ظاہر ہے کہ حضرت عمر ؓ نے یہ ہدایت جب ہی فرمائی ہو گی، جب کہ رسول اللہ ﷺ کی قولی اور عملی تعلیم سے انہوں نے ایسا ہی سمجھا ہو گا۔ اسی بناء پر اکثر ائمہ مجتہدین نے مختلف اوقات کی نمازوں میں قرأت کی مقدار کے بارے میٰں حضرت عمر رسول اللہ ﷺ کے اس خط کو خاص راہنما مان کر اسی کے مطابق عمل کو اولیٰ اور مستحسن قرار دیا ہے۔
جمعہ اور عیدین کی نمازوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت
عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ : اسْتَخْلَفَ مَرْوَانُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ ، وَخَرَجَ إِلَى مَكَّةَ ، فَصَلَّى لَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْجُمُعَةَ ، فَقَرَأَ سُورَةِ الْجُمُعَةِ ، فِي السَّجْدَةِ الْأُولَى وَفِي الْآخِرَةِ : إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ فَقَالَ : « سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقْرَأُ بِهِمَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ » . (رواه مسلم)
رسول اللہ ﷺ کے مشہور غلام اور خادم ابو رافع ؓ کے صاحبزادے عبید اللہ بن ابی رافع (جو اکابر تابعین میں ہیں) بیان کرتے ہیں کہ مروان (جس زمانہ میں کہ امیر معاویہؓ کی طرف سے مدینہ کا حاکم تھا) حج وغیرہ کسی ضرورت سے مکہ معظمہ گیا، اور حضرت ابو ہریرہ ؓ کو (ان دونوں کے لئے) اپنا قائم مقام بنا گیا تو حضرت ابو ہریرہؓ نے جمعہ کی نماز پڑھائی تو اس کی پہلی رکعت میں سورہ جمعہ اور دوسری میں سورہ منافقون پڑھی اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو جمعہ کے دن یہ دونوں سورتیں پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ (صحیح مسلم)
جمعہ اور عیدین کی نمازوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : « كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ ، وَفِي الْجُمُعَةِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ، وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ » ، قَالَ : « وَإِذَا اجْتَمَعَ الْعِيدُ وَالْجُمُعَةُ ، فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ ، يَقْرَأُ بِهِمَا أَيْضًا فِي الصَّلَاتَيْنِ » . (رواه مسلم)
حضرت نعمان بشیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عیدین اور جمعہ کی نماز میں سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى اور هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ پڑھا کرتے تھے اور عید اور جمعہ دونوں ایک دن میں جمع ہو جاتے تو آپ ﷺ دونوں نمازوں میں یہی دو سورتیں پڑھتے۔ (صحیح مسلم)
جمعہ اور عیدین کی نمازوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت
عَنْ عُبَيْدِ اللهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، سَأَلَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ : مَا كَانَ يَقْرَأُ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ؟ فَقَالَ : « كَانَ يَقْرَأُ فِيهِمَا بِ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ ، وَاقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ. (رواه مسلم)
(حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے بھتیجے) عبید اللہ بن مسعود (تابعی) سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب ؓ نے حضرت ابو واقد لیثیؓ سے پوچھا کہ “ عیدالاضحیٰ اور عید الفطر کی نمازوں میں رسول اللہ ﷺ کیا پڑھتے تھے؟ ”
انہوں نے فرمایا کہ: آپ ﷺ ان دونوں میں ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ اور وَاقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ پڑھا کرتے تھے ”۔ (صحیح مسلم)
تشریح
ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نماز جمعہ کی دونوں رکعتوں میں علی الترتیب اکثر و بیشتر سورہ جمعہ اور سورہ منافقون یا سورہ اعلیٰ و سورہ غاشیہ پڑھا کرتے تھے، اور عیدین کی نماز میں بھی یا تو یہی دونوں آخری سورتیں سورہ اعلی و غاشیہ پڑھا کرتے تھے، یا ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ اور وَاقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ۔
نماز پنجگانہ اور جمعہ و عیدین کی نمازوں میں قرأت سے متعلق اب تک جو حدیثیں درج کی گئی ہیں اور جو کچھ ان کی تشریح کے سلسلہ میں لکھا گیا ہے اس سے ناظرین نے یہ دو باتیں ضرور سمجھ لی ہوں گی۔
۱۔ آپ ﷺ کا اکثر معمول یہ تھا کہ فجر میں قرأت طویل فرماتے تھے اور زیادہ تر طوال مفصل پڑھتے تھے، ظہر میں بھی کسی قدر طویل قرأت فرماتے تھے، عصر مختصر اور ہلکی پڑھتے تھے، اور اسی طرح مغرب بھی، عشاء میں اوساط مفصل پڑھنا پسند فرماتے تھے، لیکن کبھی کبھی اس کے خلاف بھی ہوتا تھا۔
۲۔ کسی نماز میں ہمیشہ کسی خاص سورت کے پڑھنے کا نہ آپ ﷺ نے حکم دیا، اور نہ عملاً ایسا کیا، ہاں بعض نمازوں میں اکثر و بیشتر بعض خاص سورتیں پڑھنا آپ ﷺ سے ثابت ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ “ حجۃ اللہ البالغہ ” میں فرماتے ہیں:
وقد اختار رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بعض السور فى بعض الصلوات لفوائد من غير حتم ولا طلب مؤكد فمن اتبع فقد احسن ومن لا فلا حرج. (حجة الله البالة (مقصد دوم)
رسول اللہ ﷺ نے بعض نمازوں میں کچھ مصالح اور فوائد کے پیش نظر بعض خاص سورتیں پڑھنی پسند فرمائیں، لیکن قطعی طور پر نہ ان کی تعیین کی نہ دوسروں کو تاکید فرمائی کہ وہ ایسا ہی کریں۔ پس اس بارے میں اگر کوئی آپ ﷺ کا اتباع کرے (اور ان نمازوں میں وہی سورتیں اکثر و بیشتر پڑھے) تو اچھا ہے، اور جو ایسا نہ کرے تو اس کے لئے بھی کوئی مضائقہ اور حرج نہیں ہے۔
سورہ فاتحہ کے ختم پر “ آمین ”
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا ، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب امام (سورہ فاتحہ کے ختم پر) “ آمین ” کہے تو تم مقتدی بھی آمین کہو، جس کی آمین ملائکہ کی آمین کے موافق ہو گی اس کے سابقہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
سورہ فاتحہ جو متعین اور حتمی طور سے نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے، جیسا کہ معلوم ہے اس کی ابتدائی تین آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء ہے اور چوتھی آیت میں اس کی توحید کا اقرار و اظہار اور دعا کی تمہید ہے، اور اس کے بعد کی تین آیتوں میں اللہ تعالیٰ سے ہدایت کی دعا اور اس کا سوال ہے، اور اسی پر یہ سورۃ ختم ہو جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے ختم پر “ آمین ” کہنے کی ہدایت فرمائی ہے، اور جب نماز جماعت کے ساتھ کسی امام کے پیچھے پڑھی جا رہی ہو تو حکم ہے کہ جب امام سورہ فاتحہ کی آخری دعائیہ آیتیں پڑھنے کے بعد اس حکم کے مطابق آمین کہے تو اس کے ساتھ مقتدی بھی آمین کہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی اطلاع ہے کہ اس وقت اللہ کے فرشتے بھی آمین کہتے ہیں۔
تشریح ..... کسی کی آمین ملائکہ کی آمین کے موافق ہونے کے شارحین نے کئی مطلب بیان کئے ہیں، ان میں سب سے زیادہ راجح یہ ہے کہ ملائکہ کی آمین کے ساتھ آمین کہی جائے نہ اس سے پہلے ہو نہ اس کے بعد میں اور ملائکہ کی آمین کا وقت وہی ہے جب کہ امام آمین کہے۔ اس بناء پر رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہو گا کہ جب امام ورہ فاتحہ ختم کر کے آمین کہے تو مقتدیوں کو چاہئے کہ وہ بھی اسی وقت آمین کہیں کیوں کہ اللہ کے فرشتے بھی اسی وقت آمین کہتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ جو بندے فرشتوں کی آمین کے ساتھ آمین کہیں گے ان کے سابقہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔
سورہ فاتحہ کے ختم پر “ آمین ”
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ثُمَّ لْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا قَالَ {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} فَقُولُوا : آمِينَ ، يُجِبْكُمُ اللهُ. (رواه مسلم)
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم نماز پڑھنے لگو تو اپنی صفیں اچھی طرح درست اور سیدھی کرو، پھر تم میں سے کوئی امام بنے، پھر جب وہ امام تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو، اور جب وہ سورہ فاتحہ کی آخری آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ پڑھے تو تم کہو آمین (یعنی اے اللہ! قبول فرما۔ جب تم ایسا کرو گے) تو اللہ تعالیٰ سورہ فاتحہ میں مانگی ہوئی ہدایت کی دعا قبول فرما لے گا۔ (صحیح مسلم)
تشریح
آمین دراصل قبولیت دیا کی درخواست ہے، اور بندے کی طرف سے اس بات کا اظہار ہے کہ میرا کوئی حق نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ میری دعا قبول ہی کر لے اس لئے سائلانہ دعا کرنے کے بعد وہ آمین کہہ کے پھر درخواست کرتا ہے کہ اے اللہ! محض اپنے کرم سے میری حاجت پوری فرما دے اور میری دعا قبول فرما لے۔ اس طرح یہ مختصر سا لفظ رحمت خداوندی کو متوجہ کرنے والی ایک مستقل دعا ہے۔ سنن ابی داؤد میں ابو زہیر نمیری ؓ سے روایت ہے کہ:
“ ایک رات ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چلے جا رہے تھے ایک شخص کے پاس سے گزرنا ہوا جو بڑے الحاح اور انہماک کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کر رہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ شخص اپنی دعا پر مہر لگا دے تو یہ ضرور قبول کرا لے گا۔ آپ ﷺ کے ساتھیوں میں سے کسی نے عرض کیا کہ کس چیز کی مہر؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ آمین کی مہر ”
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دعا کے ختم پر آمین کہنا ان چیزوں میں سے ہے جن سے دعا کی قبولیت کی خاص امید کی جا سکتی ہے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ ، وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ ، وَقَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ ، وَكَانَ لاَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ " (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع فرماتے تھے تو (تکبیر تحریمہ کہنے کے ساتھ) دونوں ہاتھ مونڈھوں تک اٹھاتے تھے اور جب رکوع میں جانے کے لئے تکبیر کہتے تھے اور اسی طرح جب رکوع سے اٹھتے تھے تب بھی دونوں ہاتھ اسی طرح اٹھاتے تھے اور کہتے تھے “ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ ” اور سجدے میں ایسا نہیں کرتے تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
نماز میں آمین بالجہر کہی جائے یا بالسر! یہ مسئلہ میں خواہ مخواہ معرکہ جا مسئلہ بن گیا ہے، حالانکہ کوئی با انصاف صاحب علم اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ حدیث کے مستند ذخیرے میں جہر کی روایت بھی موجود ہے اور سِر کی بھی، اسی طرح اس سے بھی کسی کو انکار کی گنجائش نہیں ہے کہ صحابہ اور تابعین دونوں میں آمین بالجہر کہنے والے بھی تھے اور بالسر کہنے والے بھی (1)، اور یہ بجائے خود اس بات کی واضح دلیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دونوں طریقے ثابت ہیں اور آپ ﷺ کے زمانہ میں دونوں طرح عمل ہوا ہے، یہ ناممکن ہے کہ آپ ﷺ کے زمانہ میں کبھی آمین بالجہر نہ کہی گئی ہو اور آپ ﷺ کے بعد بعض صحابہ جہر سے کہنے لگے ہوں۔ اسی طرح یہ بھی قطعا ناممکن ہے کہ آپ ﷺ کے دور میں اور آپ ﷺ کے سامنے آمین بالسر پر کبھی عمل نہ ہوا ہو اور آپ ﷺ کے بعد بعض صحابہ ایسا کرنے لگے ہوں۔ الغرض صحابہ اور تابعین میں دونوں طرح کا عمل پایا جانا اس کی قطعی دلیل ہے کہ عہد نبوی ﷺ میں دونوں طرح عمل ہوا ہے۔ بعد میں بعض ائمہ مجتہدین نے اپنے علم و تحقیق کی بناء پر یہ سمجھا کہ آمین میں اصل جہر ہے اور عہد نبوی ﷺ میں زیادہ تر عمل اسی پر تھا، اگرچہ کبھی کبھی اس کے خلاف بھی ہوتا تھا اس لئے ان حضرات نے آمین بالجہر کو افضل کہا اور بالسر کو بھی جائز کہا، اور اس کے برعکس دوسرے بعض ائمہ نے اپنے معلومات کی بناء پر یہ سمجھا کہ آمین جو قرآن کا لفظ بھی نہیں ہے دراصل وہ بالسر یعنی آہستہ سے کہنے کی چیز ہے اور رسول اللہ ﷺ کے دور میں عام طور سے آہستہ ہی کہا جاتا تھا اگرچہ کبھی کبھی بالجہر بھی کہا جاتا تھا۔ الغرض جن ائمہ کی تحقیق اور غور و فکر نے ان کو اس نتیجہ پر پہنچایا ان کی رائے یہ ہوئی کہ اصل اور افضل بالسر کہنا ہی ہے لیکن جائز بالجہر بھی ہے۔ بہرحال ائمہ کے درمیان اختلاف صرف افضلیت میں ہے، جواز سے کسی کو بھی انکار نہیں ہے اور یقیناً ہمارے ائمہ سلف میں سے ہر ایک نے وہی رائے قائم کی ہے اور اسی کو اختیار کیا ہے جس کو انہوں نے دیانتدارانہ غور و فکر اور تحقیق کے بعد زیادہ صحیح سمجھا۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر دے اور ہم سن کو اتباع حق اور عدل کی توفیق!
رفع یدین
بالکل یہی حال مسئلہ رفع یدین کا بھی ہے، اس میں شک کرنے کی قطعا گنجائش نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تکبیر تحریمہ کےعلاوہ رکوع میں جاتے وقت، رکوع سے اٹھتے وقت۔ بلکہ سجدے سے اٹھتے وقت، اور تیسری رکعت کے لئے کھڑے ہوتے وقت بھی۔ رفع یدین کیا ہے۔ (جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمر، وائل بن حجر اور ابو حمید ساعدی ؓ وغیرہ متعدد صحابہ کرام نے روایت کیا ہے)۔ اسی طرح اس میں بھی شک کی گنجائش نہیں ہے کہ آپ ﷺ نماز اس طرح بھی پڑھتے تھے کہ صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کرتے تھے اور اس کے بعد پوری نماز میں کسی موقع پر بھی رفع یدین نہیں کرتے تھے (جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اور براء ن عازبؓ وغیرہ نے روایت کیا ہے)۔ اسی طرح صحابہ کرامؓ اور تابعین میں بھی دونوں طرح عمل کرنے والوں کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے اس لئے ائمہ مجتہدین کے درمیان اس بارے میں بھی اختلاف صرف ترجیح اور افضلیت کا ہے، دونوں طریقوں کے جائز اور ثابت ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
تشریح ..... حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی اس حدیث میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ صرف رکوع میں جاتے اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کا ذکر ہے اور اسی کے ساتھ سجدے میں رفع یدین نہ کرنے کی تصریح ہے۔ اور ان ہی کی بعض دوسری روایات میں تیسری رکعت کے لئے اٹھتے وقت بھی رفع یدین کا ذکر ہے، اور یہ روایت بھی صحیح بخاری ہی میں موجود ہے۔
اور مالک بن الحویرثؓ اور وائل بن حجرؓ کی حدیثوں میں (جن کو امام نسائی اور امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے) سجدے کے وقت بھی رفع یدین کا ذکر ہے، جس کی حضرت ابن عمر کی مندرجہ بالا حدیث میں صراحۃً نفی کی گئی ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ ان میں سے ہر روایت اور ہر بیان بجائے خود صحیح ہے اور مالک بن الحویرث اور وائل بن حجر کے اس بیان میں کہ رسول اللہ ﷺ سجدے میں جاتے وقت اور اس سے اٹھتے وقت بھی رفع یدین کرتے تھے۔ اور حضرت ابن عمر کے اس بیان میں کہ آپ ﷺ سجدے میں رفع یدین نہیں کرتے تھے تطبیق اس طرح دی جا سکتی ہے کہ ایسا آپ ﷺ نے کبھی کبھی کیا جس کو مالک بن الحویرث اور وائل بن حجر نے تو دیکھا اور حضرت ابن عمر نے اتفاق سے نہیں دیکھا اس لئے اپنے علم کے مطابق انہوں نے اس کی نفی کی، اگر یہ آپ ﷺ کا دائمی یا اکثری عمل ہوتا تو ناممکن تھا کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ جیسے صحابی کو اس کی خبر نہ ہوتی۔
عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : قَالَ لَنَا اِبْنُ مَسْعُودٍ : أَلاَ أُصَلِّي بِكُمْ صَلاَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَصَلَّى ، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلاَّ فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ. (رواه الترمذى وابوداؤد والنسائى)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے خاص شاگرد علقمہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ نے ایک دفعہ ہم سے کہا کہ میں تمہیں رسول اللہ ﷺ والی نماز پڑھاؤں! یہ کہہ کر انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی، اس نماز میں انہوں نے بس پہلی ہی دفعہ (تکبیر تحریمہ کے ساتھ) رفع یدین کیا، اس کے سوا رفع یدین بالکل نہیں کیا۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن نسائی)
تشریح
حضرت ابن مسعود ؓ رسول اللہ ﷺ کے ان ممتاز اور جلیل القدر صحابہ میں سے ہیں جن کو رسول اللہ ﷺ کی ہدایت تھی کہ وہ نماز میں پہلی صف میں رسول اللہ ﷺ کے قریب کھڑے ہوں، انہوں نے اپنے شاگردوں کو دکھانے اور سکھانے کے لئے اہتمام کے ساتھ رسول اللہ ﷺ والی نماز پڑھائی، اور اس میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ کسی موقع پر بھی رفع یدین نہیں کیا۔
حضرت ابن مسعودؓ کی اس حدیث کی بناء پر یہ ماننا پڑے گا کہ حضرت ابن عمرؓ وغیرہ نے رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کا جو ذکر کیا ہے وہ بھی رسول اللہ ﷺ کا دائمی یا اکثری معمول نہ تھا، اگر ایسا ہوتا تو حضرت ابن مسعودؓ جو آپ ﷺ کے قریب صف اول میں کھڑے ہونے والوں میں تھے اس سے یقیناً واقف ہوتے اور تعلیم کے اس موقع پر رفع یدین ہرگز ترک نہ کرتے۔
ان سب حدیثوں کو سامنے رکھ کر ہر منصف صاحب علم اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول نماز میں رفع یدین کا بھی رہا ہے اور ترک رفع یدین کا بھی۔ یعنی ایسا بھی ہوتا تھا کہ آپ ﷺ پوری نماز میں سوائے تکبیر تحریمہ کے کسی موقع پر بھی رفع یدین نہیں کرتے تھے ایسا بھی ہوتا تھا کہ تحریمہ کے علاوہ صرف رکوع میں جاتے وقت اور اس سے اٹھتے وقت رفع یدین کرتے تھے، اور شاذ و نادر ایسا بھی ہوتا تھا کہ آپ ﷺ سجدے میں جاتے وقت اور اس سے اٹھتے وقت بھی رفع یدین کرتے تھے۔ حضرت ابن مسعودؓ جیسے صحابہ نے آپ ﷺ کی نماز کے مسلسل مطالعہ اور مشاہدے سے یہ سمجھا کہ نماز میں اصل ترک رفع یدین ہے، اور حضرت ابن عمرؓ جیسے بہت سے صحابہ نے یہ سمجھا کہ اصل رفع یدین ہے۔ پھر رائے اور فکر کا یہی اختلاف تابعین اور بعد کے اہل علم میں بھی رہا۔
امام ترمذیؒ نے حضرت عبداللہ ابن عمرؓ والی مندرجہ بالا حدیث سند کے ساتھ نقل کرنے کے بعد اور حسب عادت یہ بتانے کے بعد کہ فلاں دیگر صحابہ کرام سے بھی رفع یدین کی احادیث روایت کی گئی ہیں لکھا ہے کہ:
“ رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ مثلاً حضرت عبداللہ بن عمرؓ، حضرت جابرؓ، حضرت ابو ہریرہؓ اور حضرت انسؓ وغیرہ اسی کے قائل ہیں یعنی انہوں نے رفع یدین کو اختیار کیا ہے، اور اسی طرح تابعین اور بعد کے ائمہ میں فلاں اور فلاں حضرات اسی کے قائل ہیں ”۔
اس کے بعد ترک رفع یدین کے بارے میں حضرت ابن مسعود ؓ کی مندرجہ بالا حدیث نقل کرنے کے بعد اور اسی مضمون کی براء عازبؓ کی ایک دوسری حدیث کا حوالہ دینے کے بعد امام ترمذیؒ نے لکھا ہے کہ:
“ متعدد صحابہؓ اسی کے قائل ہیں اور انہوں نے ترک رفع یدین کو اختیار کیا ہے، اور اسی طرح تابعین اور بعد کے ائمہ میں سے فلاں فلاں حضرات نے اس کو اختیار کیا ہے ”۔
الغرض آمین بالجہر اور آمین بالسر کی طرح رفع یدین اور ترک رفع یدین بلا شبہ دونوں عمل رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہیں۔ اور صحابہ کرامؓ کے درمیان ترجیح و اختیار میں اختلاف اسی وجہ سے ہوا ہے کہ ان میں سے بعض نے اپنے غور و فکر، اپنے دینی وجدان اور ادراک اور رسول اللہ ﷺ کے معمولات کے مطالعہ و تجزیہ کی بناء پر یہ سمجھا کہ نماز میں اصل ترک رفع یدین ہے، اور رفع یدین جب ہوا ہے وقتی اور عارضی طور پر ہوا ہے۔ حضرت ابن مسعودؓ جیسے صحابہ کرام نے یہی سمجھا اور امام ابو حنیفہؒ اور سفیان ثوریؒ وغیرہ ائمہ نے اسی کو اختیار کیا۔ اور حضرت عبداللہ ابن عمرؓ اور حضرت جابرؓ وغیرہ دوسرے بہت سے صحابہ کرامؓ نے اس کو برعکس سمجھا اور حضرت امام شافعیؒ اور امام احمدؒ وغیرہ نے اس کو اختیار کیا، اور رائے کا یہ اختلاف بھی صرف فضیلت میں ہوا، رفع اور ترک رفع کا جواز سب کے نزدیک مسلم ہے۔
اللہ تعالیٰ غلو اور ناانصافی سے حفاظت فرمائے اور اتباع حق کی توفیق دے۔
رکوع و سجود اچھی طرح ادا کرنے کی تاکید
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْاَنْصَارِىْ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « لَا تُجْزِئُ صَلَاةُ الرَّجُلِ حَتَّى يُقِيمَ ظَهْرَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ » (رواه ابوداؤد والترمذى والنسائى وابن ماجة والدارمى)
حضرت ابو مسعود انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: آدمی کی نماز اس وقت تک کافی نہیں ہوتی (یعنی پوری طرح ادا نہیں ہوتی) جب تک کہ وہ رکوع اور سجدہ میں اپنی پیٹھ کو سیدھا برابر نہ کرے۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، سنن دارمی)
تشریح
نماز کیا ہے؟ ....... اللہ تعالیٰ کے حضور میں قلب و قالب اور قول و عمل سے ایک خاص طریقے پر اپنی بندگی و نیاز مندی کا اظہار اور اس کی بے نہایت عظمت و جلالت کے سامنے اپنے انتہائی تذلل اور فروتنی کا مظاہرہ ...... قیام و قعود اور رکوع و سجود اور جو کچھ ان میں پڑھا جاتا ہے اس سب کی روح یہی ہے، لیکن اس بندگی اور تذلل کا سب سے بڑا مظہر نماز کے اعمال و اجزاء میں رکوع وسجود ہیں ..... سر اونچا رکھنا، تکبیر، یعنی برتری اور بالاتری کے احساس کی علامت ہے، اور اس کے برعکس اس کو نیچا کرنا اور جھکانا تواضع اور خاکساری کی نشانی ہے۔ اور اپنے کو کسی کے سامنے رکوع کی شکل میں جھکا دینا اس تواضع اور تقسیم کی غیر معمولی شکل میں جو صرف خالق و مالک ہی کا حق ہے اور سجدہ اس کی بالکل ہی آخری اور انتہائی شکل ہے، اس میں بندہ اپنی پیشانی اور ناک کو جو انسانی اعضاء میں سب سے زیادہ محترم ہیں خاک پر رکھ دیتا ہے، اس لحاظ سے رکوع و سجود نماز کے ارکان میں سب سے زیادہ اہم ہیں اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے ان کو اچھی طرح اور صحیح طریقے پر ادا کرنے کی سخت ہدایت اور تاکید فرمائی ہے، اور بہترین کلمات کے ساتھ ان میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس یا اس کے حضور میں دعا کرنے کی اپنے ارشاد اور عمل سے تلقین فرمائی ہے۔
اس تمہید کے بعد اس سلسلہ کی حدیثیں ذیل میں پڑھئے۔
رکوع و سجود اچھی طرح ادا کرنے کی تاکید
عَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ الْحَنَفِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَنْظُرُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى صَلَاةِ عَبْدٍ لَا يُقِيمُ فِيهَا صُلْبَهُ بَيْنَ رُكُوعِهَا وَسُجُودِهَا " (رواه احمد)
حضرت طلق بن علی حنفی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو بندہ رکوع اور سجدے میں اپنی پشت کو سیدھی برابر نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس کی نماز کی طرف دیکھتا بھی نہیں۔ (مسند احمد)
تشریح
نماز کی طرف اللہ تعالیٰ کے نہ دیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ایسی نماز اس کے نزدیک قابل قبول نہیں، ورنہ ظاہر ہے کہ زمین و آسمان کی کوئی چیز بھی اللہ تعالیٰ سے مخفی اور اس کی نظر سے غائب نہیں ہے ....... ان دونوں حدیثوں میں رسول اللہ ﷺ نے تنبیہ فرمائی ہے کہ جو شخص رکوع و سجود کو قاعدے کے مطابق صحیح طور سے ادا نہیں کرے گا، اس کی نماز قبول نہیں ہو گی، یہی ان دونوں حدیثوں کی ہدایت ہے۔
رکوع و سجود اچھی طرح ادا کرنے کی تاکید
عَنْ أَنَسِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ ، وَلاَ يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الكَلْبِ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: سجدہ اعتدال کے ساتھ کرو اور کوئی اپنی باہیں سجدے میں اس طرح نہ بچھا دے جس طرح کتا زمین پر باہیں بچھا دیتا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
سجدے میں اعتدال کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ سجدہ طمانیت کے ساتھ کیا جائے، ایسا نہ ہو کہ سر زمین پر رکھا اور فوراً اٹھا لیا۔ اور بعض شارحین نے اعتدال کے حکم کا مطلب یہ بھی سمجھا ہے کہ ہر عضو سجدے میں اس طرح رہے جس طرح کہ اس کو رہنا چاہئے۔ دوسری ہدایت اس حدیث میں یہ فرمائی گئی ہے کہ سجدے میں کلائیوں کو زمین سے اوپر اٹھا رہنا چاہیے اس سلسلہ میں کتے کی مثال آپ ﷺ نے اس واسطے دی کہ اس کی شناعت اور قباحت اچھی طرح سامعین کے ذہن نشیں ہو جائے۔
رکوع و سجود اچھی طرح ادا کرنے کی تاکید
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِذَا سَجَدْتَ ، فَضَعْ كَفَّيْكَ وَارْفَعْ مِرْفَقَيْكَ » (رواه مسلم)
حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم سجدہ کرو تو اپنی ہتھیلیاں زمین پر رکھو اور کہنیاں اوپر اٹھاؤ۔ (صحیح مسلم)
رکوع و سجود اچھی طرح ادا کرنے کی تاکید
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ فَرَّجَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سجدہ میں جاتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اچھی طرح کھول دیتے تھے، یعنی پہلوؤں سے الگ رکھتے تھے) یہاں تک کہ بغل کی سفیدی نظر آ سکتی تھی۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
رکوع و سجود اچھی طرح ادا کرنے کی تاکید
عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ : « رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ وَضَعَ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ ، وَإِذَا نَهَضَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ » (رواه ابوداؤد والترمذى والنسائى وابن ماجه)
حضرت وائل بن حجر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو خود دیکھا ہے کہ جب آپ ﷺ سجدے میں جاتے تھے تو ہاتھوں سے پہلے اپنے گھٹنے زمین پر رکھتے تھے، اور جب آپ ﷺ سجدے سے اٹھتے تھے تو اس کے برعکس اپنے ہاتھ گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے تھے۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ)
رکوع و سجود اچھی طرح ادا کرنے کی تاکید
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ عَلَى الجَبْهَةِ ، وَاليَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ ، وَأَطْرَافِ القَدَمَيْنِ وَلاَ نَكْفِتَ الثِّيَابَ وَالشَّعَرَ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے حکم ملا ہے (یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے) کہ میں سات اعضاء پر سجدہ کروں (یعنی سجدہ اس طرح کروں کہ یہ سات عضو زمیں پر رکھے ہوں) پیشانی اور دونوں ہاتھ اور دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کے کنارے۔ اور یہ (بھی حکم ہے) کہ ہمااپنے کپڑوں اور بالوں کو نہ سمیٹیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
یہ سات اعضاء جن کا حدیث میں ذکر ہے “ اعضاء سجدہ ” کہلاتے ہیں۔ سجدے میں ان کو زمین پر ٹکنا چاہئے۔ بعض آدمی سجدے میں جاتے ہوئے اس کی کوشش کرتے ہیں کہ اپنے کپڑ ﷺ ں اور بالوں کو خاک آلودگی سے بچائیں، یہ بات چونکہ سجدے کی غایت اور روح کے منافی ہے اس لئے اس سے منع فرمایا گیا ہے۔
رکوع اور سجدے میں کیا پڑھا جائے؟
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : {فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ} ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « اجْعَلُوهَا فِي رُكُوعِكُمْ » ، فَلَمَّا نَزَلَتْ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « اجْعَلُوهَا فِي سُجُودِكُمْ » (رواه ابوداؤد وابن ماجه والدارمى)
حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ جب قرآن مجید کی آیت فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: اس کو اپنے رکوع میں رکھو (یعنی اس حکم کی تعمیل میں سبحان ربی العظیم رکوع میں کہا کرو) پھر جب آیت سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى کا نزول ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ: اس کو اپنے سجدے میں رکھو (یعنی اس کی تعمیل میں سُبْحَانَ رَبِّىَ الْأَعْلَى سجدے میں کہا کرو)۔ (سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ، سنن دارمی)
رکوع اور سجدے میں کیا پڑھا جائے؟
عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ : « سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ » ، وَفِي سُجُودِهِ : « سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى »
(رواه النسائى وابن ماجه والترمذى وابوداؤد والدارمى مع زيادة)
حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے بیان فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، آپ ﷺ رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ اور سجدے میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى کہتے تھے۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن دارمی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ)
رکوع اور سجدے میں کیا پڑھا جائے؟
عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ ، فَقَالَ فِي رُكُوعِهِ : سُبْحَانَ رَبِّيَ العَظِيمِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، فَقَدْ تَمَّ رُكُوعُهُ ، وَذَلِكَ أَدْنَاهُ ، وَإِذَا سَجَدَ ، فَقَالَ فِي سُجُودِهِ : سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، فَقَدْ تَمَّ سُجُودُهُ ، وَذَلِكَ أَدْنَاهُ. (رواه الترمذى وابوداؤد وابن ماجه)
عون بن عبداللہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: جب کوئی شخص اپنے رکوع میں ۳ بار سُبْحَانَ رَبِّيَ العَظِيمِ کہے تو اس کا رکوع مکمل ہو گیا، اور یہ اس کا ادنیٰ درجہ ہوا، اسی طرح جب اپنے سجدے میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى ۳ بار کہے تو اس کا سجدہ پورا ہو گیا، اور یہ اس کا ادنیٰ درجہ ہوا۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ رکوع میں سجدے میں اگر تسبیح ۳ دفعہ سے کم کہی گئی تو رکوع اور سجدہ تو ادا ہو جائے گا لیکن اس میں ایک گونہ نقصان رہے گا، کامل ادائیگی کے لئے کم سے کم ۳ دفعہ تسبیح کہنا ضروری ہے، اور اس سے زیادہ کہنا اور بہتر ہے۔ ہاں امام کے لئے ضروری ہے کہ وہ رکوع اور سجدہ اتنا زیادہ طویل نہ کرے جو مقتدیوں کے لئے زحمت اور گرانی کا باعث ہو۔ حضرت سعید بن جبیر تابعی سے ابو داؤد اور نسائی نے وایت کیا ہے کہ حضرت انس ؓ نے عمر بن عبدالعزیزؒ کے متعلق فرمایا کہ اس جوان کی نماز حضور ﷺ کی نماز کے ساتھ بہت ہی مشابہت ہے۔ ابن جبیر فرماتے ہیںٰ کہ اس کے بعد ہم نے عمر بن عبدالعزیزؒ کے رکوع و سجعد کی تسبیحات کے بارے میں اندازہ کیا کہ وہ تقریبا دس دفعہ پڑھتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ بھی رکوع و سجود میں تقریبا دس دس دفعہ تسبیح کہتے تھے، اس لئے بہتر یہ ہے کہ جو شخص نماز پڑھائے وہ کم سے کم تین دفعہ اور زیادہ سے زیادہ دس دفعہ تسبیح پڑھا کرے۔
مندجہ بالا تینوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے رکوع سجدے میں سبحان ربی العظیم اور سبحان ربی الاعلیٰ کہنے کی امت کو ہدایت و تلقین فرمائی اور یہی آپ ﷺ کا معمول بھی تھا، لیکن دوسری بعض احادیث میں رکوع اور سجدہ ہی کی حالت میں تسبیح و تقدیس کے بعض دوسرے کلمات اور دعاؤں کا پڑھنا بھی آنحضرت ﷺ سے ثابت ہے۔ جیسا کہ آگے درج ہونے والی حدیثوں سے معلوم ہو گا۔