Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 30 of 106

581Maarif-ul-Hadith

خاص اذکار اور دعائیں

عَنْ أَبِىْ هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْكُتُ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَبَيْنَ القِرَاءَةِ إِسْكَاتَةً فَقُلْتُ : بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِسْكَاتُكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالقِرَاءَةِ مَا تَقُولُ؟ قَالَ : " أَقُولُ : اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ ، كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ المَشْرِقِ وَالمَغْرِبِ ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالبَرَدِ " (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان کچھ دیر سکوت فرماتے تھے (یعنی آواز سے کچھ نہیں پڑھتے تھے، لیکن محسوس ہوتا تھا ک آپ ﷺ خاموشی سے کچھ پڑھتے ہیں) تو میں نے ایک دفعہ عرض کیا یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! مجھے بتا دیجئے کہ تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان کی خاموشی میں آپو کیا پڑھتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: میں اللہ سے دُعا کرتا ہوں اللَّهُمَّ بَاعِدْ ..... الخ کہ اے اللہ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنا طویل فاصلہ کر دے جتنا طویل فاصلہ تو نے مشرق و مغرب کے درمیان کر دیا ہے اور اے اللہ! مجھے خطاؤں سے ایسا پاک و صاف کر دے جیسا کہ سفید کپڑا میل کچیل سے پاک صاف کر دیا جاتا ہے، اور اے اللہ! میری خطاؤں کو پانی سے اور برف سے اور اولے سے دھو ڈال۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح رسول اللہ ﷺ نماز کے مختلف اجزاء یعنی قیام اور رکوع و سجود وغیرہ میں جن کلمات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس اور حمد و ثناء کرتے تھے اور اس سے جو دعائیں اور التجائیں کرتے تھے (جن میں چند ان شاء اللہ آگے درج ہونے والی حدیثوں سے ناظرین کو معلوم ہوں گی) ان اذکار و دعوات سے دل کی جس کیفیت کی ترجمانی ہوتی ہے وہی دراصل نماز کی حقیقت اور روح ہے۔ اسی نقطہ نظر سے ان حدیثوں کو پڑھئے اور ان کیفیات کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کیجئے، یہی دولت عظمیٰ رسول اللہ ﷺ کا خاص الخاص ورثہ ہے۔ تشریح ..... رسول اللہ ﷺ اگرچہ عام معاصی اور منکرات سے معصوم اور محفوظ تھے، لیکن “ قریباں را بیش بود حیرانی ” کے فطری اصول پر آپ ﷺ ان لغزشوں سے سخت لرزاں و ترساں رہتے تھے جو بر بنائے بشریت آپ ﷺ سے سرزد ہو سکتی تھیں اور معصیت نہ ہونے کے باوجود آپ ﷺ کی شان عالی ار مقام قرب کے لحاظ سے قابل گرفت ہو سکتی تھیں۔ ع جن کے رتبے ہیں سوا، ان کو سوا مشکل ہے بہرحال رسول اللہ ﷺ کی اس قسم کی دعاؤں میں “ خَطَايَا ” یا “ ذنوب ” جیسے الفاظ جہاں جہاں آتے ہیں وہاں اُن سے اسی قسم کی لغزشیں مراد ہیں۔ واللہ اعلم۔ اس حدیث میں جو دعا مذکور ہوئی ہے اس کا حاصل بس یہ ہے کہ اے میرے اللہ! تو مجھے ہر قسم کی خطاؤں اور غلطیوں سے اس قدر دور رکھ جس قدر تو نے مشرق کو مغرب سے اور مغرب کو مشرق سے دور رکھا ہے اور بنائے بشریت جب کوئی خطا مجھ سے سرزد ہو جائے تو اس کو معاف فرما کر اس کے داغ دھبہ سے بھی مجھے ایسا پاک صاف کر دے جیسا کہ میل کچیل دور کر کے سفید کپڑا بالکل پاک صاف کر دیا جاتا ہے، اور اپنی رحمت کے نہایت ٹھنڈے پانی سے میرے باطن کو غسل دے کر خطا قصور سے پیدا ہونے والی اپنے غضب کی آگ اور اس کی سوزش و جلن کو بالکل ٹھنڈا کر دے اور اس کے بجائے اپنی رضا کی ٹھنڈک اور سکینت میرے باطن کو نصیب فرما دے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ تکبیر کے بعد اور قرأت سے پہلے کبھی کبھی یہ دعا بھی پڑھتے تھے۔

582Maarif-ul-Hadith

خاص اذکار اور دعائیں

عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ قَالَ : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ ، وَتَعَالَى جَدُّكَ ، وَلاَ إِلَهَ غَيْرُكَ. (رواه الترمذى وابوداؤد)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع فرماتے تو پہلے اللہ کی تسبیح اور حمد اس طرح کرتے۔ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ..... الخ اے اللہ! تیری ذات پاک اور منزہ ہے اور میں تیر تقدیس بیان کرتا ہوں، اور سارے کمالات اور خوبیاں تجھ میں ہیں، میں تیری حمد کرتا ہوں اور تیرا نام پاک بڑا بابرکت ہے، اور تیری شان بہت اعلیٰ ہے، اور تو ہی معبود برحق ہے، تیرے سوا کوئی عبادت اور بندگی کے لائق نہیں ہے۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد) تشریح حافظ مجد الدین ابن تیمیہؒ نے منتقیٰ میں سنن سعید بن منصور کے حوالے سے حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے متعلق صحیح مسلم کے حوالہ سے حضرت عمر ؓ کے متعلق، دار قطنی کے حوالہ سے حضرت عثمان اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے متعلق یہ نقل کرنے کے بعد کہ یہ حضرت تکبیر تحریمہ کے بعد نماز کا افتتاح سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ..... الخ سے کیا کرتے تھے۔ لکھا ہے کہ ان سب حضرات کے اس طرز عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ تکبیر تحریمہ کے بعد عموماً اور اکثر و بیشتر یہی سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ..... پڑھا کرتے تھے۔ اس لیے احادیث میں وارد شدہ افتتاح نماز کی دوسری دعاؤں کے مقابلے میں یہی راجح و افضل ہے، اگرچہ دوسری ثابت شدہ دعاؤں کا پڑھنا بھھی بالکل صحیح ہے۔ مثلا وہ دعا جو حضرت ابو ہریرہؓ کی مندرجہ بالا روایت میں ابھی اوپر مذکور ہو چکی ہے، یعنی اللَّهُمَّ بَاعِدْ .... اور اسی طرح وہ دعا جو حضرت علی مرتضیٰ ؓ کی روایت سے اگلی حدیث میں آ رہی ہے۔

583Maarif-ul-Hadith

خاص اذکار اور دعائیں

عَنْ عَلِيِّ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كَانَ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ ، كَبَّرَ ثُمَّ قَالَ : « وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، إِنَّ صَلَاتِي ، وَنُسُكِي ، وَمَحْيَايَ ، وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، اللهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ رَبِّي ، وَأَنَا عَبْدُكَ ، ظَلَمْتُ نَفْسِي ، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي ، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا ، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ » ، وَإِذَا رَكَعَ ، قَالَ : « اللهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ ، وَبِكَ آمَنْتُ ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي ، وَبَصَرِي ، وَمُخِّي ، وَعَظْمِي ، وَعَصَبِي » ، فَإِذَا رَفَعَ ، قَالَ : « اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ ، وَالْأَرْضِ ، وَمَا بَيْنَهُمَا ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ » ، وَإِذَا سَجَدَ ، قَالَ : « اللهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ ، وَبِكَ آمَنْتُ ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ ، وَصَوَّرَهُ ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ ، تَبَارَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ » ، ثُمَّ يَكُونُ مِنْ آخِرِ مَا يَقُولُ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ : « اللهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، وَمَا أَسْرَفْتُ ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ » . (رواه مسلم)

حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوتے تو تکبیر تحریمہ کے بعد یہ دعا پڑھتے: وَجَّهْتُ وَجْهِي لِلَّذِي ..... أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ تک (یعنی میں نے اپنا رخ ہر طرف سے یکسو ہو کر اس اللہ کی طرف کر دیا جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور میں نے ان) میں سے نہیں ہوں جو اس کے تعلق میں کسی اور کو شریک کرتے ہیں۔ میری عبادت اور میرا ہر دینی عمل اور میرا جنیا اور میرا مرنا سب اللہ ہی کے لئے ہے جو رب العالمین ہے۔ مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے، اور میں فرمانبرداری کرنے والوں میں سے ہوں۔ اے اللہ! تو ہی بادشاہ اور مالک ہے تیرے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں ہے، تو میرا مالک اور رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا اور اپنے کو تباہ کیا ہے، اور مجھے اپنی خطاؤں کا اقرار ہے، پس سے میرے مالک! میری ساری خطائیں معاف کر دے، گناہوں کو بخشنے والا تیرے سوا کوئی نہیں، اور برے اخلاق میری طرف سے ہٹا دے اور دور کر دے، ایسا کرنے والا بھی تیرے سوا کوئی نہیں، تیرے حضور میں اور تیری خدمت و نصرت کے لئے حاضر ہوں، حاضر ہوں مولا! ہر قسم کی خیر اور بھلائی تیرے ہی ہاتھوں میں ہے اور برائی کا تیری طرف گزر نہیں مجھے تیرا ہی سہارا ہے اور تیری ہی طرف میرا رخ ہے، تو برکت والا اور رفعت والا ہے۔ میں تجھ سے مغفرت اور بخشش کا سائل ہوں اور تیرے حضور میں توبہ کرتا ہوں)۔ (یہ دعا تو آپ ﷺ تکبیر تحریمہ کے بعد قرأت شروع کرنے سے پہلے پڑھتے) پھر جب (قرأت سے فارغ ہو کر) آپ ﷺ رکوع میں جاتے تو کہتے “ اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ ..... وَعِظَامِي وَعَصَبِي ” تک (یعنی اے اللہ! میں تیرے حضور میں جھکا ہوا ہوں، اور میں تجھ پر ایمان لایا ہوں اور میں نے اپنے کو تیرے سپرد کر دیا ہے۔ میرے کان اور میری آنکھیں اور میرا مغز و استخوان اور میرے رگ پٹھے سب تیرے حضور میں جھکے ہوئے ہیں) ..... پھر جب آپ ﷺ رکوع سے سر اٹھاتے تو (سیدھے کھڑے ہو کر) اللہ کے حضور میں عرض کرتے: مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا (یعنی اے اللہ! تیرے ہی لئے حمد ہے، ایسی وسیع اور بے انتہا حمد جس سے آسمان و زمین کی ساری وسعتیں بھر جائیں اور ان کے درمیان کا سارا خلا پُر ہو جائے) اور جب آپ ﷺ سجدہ میں جاتے تو (اللہ کے حضور میں زمین پر اپنی پیشانی رکھ کے) عرض کرتے اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ ..... أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ تک (یعنی اے اللہ! میں تیرے لئے اور تیرے حضور میں سجدہ کر رہا ہوں اور میں تجھ پر ایمان لایا ہوں اور میں نے اپنے کو تیرے حوالے کر دیا ہے۔ میرا چہرہ اپنے ا خالق کے سامنے سجدہ کر رہا ہے جس نے اس کی تخلیق کی اور اس کی یہ صورت بنائی اور اس کے کان اور اس کی آنکھیں بنائیں، مبارک ہے ہمارا بہترین خالق)۔ پھر تشہد یعنی التحیات اور سلام کے درمیان (سب سے آخر میں) آپ ﷺ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ ..... لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ تک۔ (یعنی اے اللہ! جو خطائیں میں نے پہلے کیں یا پیچھے کیں اور چھپا کر کیں یا علانیہ کیں اور جو بھی میں نے زیادتی کی اور جس کا تجھے مجھ سے زیادہ علم ہے اس سب کو معاف فرما دے اور مجھے بخشش دے، تو ہی آگے کرنے والا اور تو ہی پیچھے ڈال دینے والا ہے، یعنی تو جسے چاہے آگے بڑھائے اور جسے چاہے پیچھے ہٹائے۔ تیرے سوا کوئی معبود و مالک نہیں) ..... (صحیح مسلم) تشریح حدیث کے دفاتر میں رسول اللہ ﷺ کی نماز سے متعلق روایات کا جو ذخیرہ ہے اس کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی ؓ نے اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کی جو تفصیل اور رکوع و سجود اور قومہ وغیرہ کی جو دعائیں ذکر کی ہیں یہ روزمرہ کی فرض نمازوں میں رسول اللہ ﷺ کا عام اور دائمی معمول نہیں تھا، غالباً آپ ﷺ کبھی کبھی ایسا بھی کرتے تھے اور یہ بھی ممکن ہے بلک اغلب ہے کہ آپ ﷺ تہجد کی نماز اس طرح پڑھتے ہوں۔ امام مسلمؒ نے اس حدیث کو تہجد ہی کی احادیث کے سلسلہ میں روایت کیا ہے اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کی جو دعائیں منقول ہوئی ہیں ان سے کچھ سمجھا جا سکتا ہے کہ نماز کی حالت میں حضور ﷺ کے قلب مبارک کی کیفیت کیا ہوتی تھی، اور آپ ﷺ نماز کس ذوق سے ادا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ اس کا کوئی ذرہ ہم کو نصیب فرمائے۔ نماز میں اور خا ﷺ ص کر تہجد میں رسول اللہ ﷺ سے اور بھی بہت سی دعاؤں کا پڑھنا ثابت ہے، جو ان شاء اللہ آئندہ اپنے موقع پر ذکر کی جائیں گی، ان سب دعاؤں میں ایک خاص روح ہے، اگر اس کا اطمینان ہو کہ مقتدیوں کو تکلیف اور گرانی نہ ہو گی تو فرض نمازوں میں بھی امام ان دعاؤں میں سے پڑھ سکتا ہے، اور نوافل میں تو اس دولت عظمیٰ سے حصہ لینا ہی چاہئے۔ وَ فِيْ ذٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَؕ.

584Maarif-ul-Hadith

نماز میں قرأت قرآن

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : « لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةٍ » قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : « فَمَا أَعْلَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَنَّاهُ لَكُمْ ، وَمَا أَخْفَاهُ أَخْفَيْنَاهُ لَكُمْ » (رواه مسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قرآن کی قرأت کے بغیر نماز ہوتی ہی نہیں۔ آگے حضرت ابو ہریرہؓ اپنی طرف سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جن نمازوں میں قرأت بالجہر فرماتے تھے ان میں ہم بھی جہر کرتے ہیں اور دوسروں کو سنا کے پڑھتے ہیں، اور جہاں آپ ﷺ آہستہ خاموشی سے پڑھتے تھے، وہاں ہم بھی ایسا ہی کرتے ہیں، اور تم سو سنا کے نہیں پڑھتے۔ (صحیح مسلم) تشریح قیام اور رکوع و سجود کی طرح قرآن مجید کی قرأت بھی نماز کا ایک لازمی جزو اور بُنیادی رکن ہے اور اس کا محل و موقع قیام ہے۔ جیسا کہ معلوم اور معمول ہے قرأت کی ترتیب یہ ہے کہ تکبیر تحریمہ کہنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء تسبیح و تقدیس اور اپنی عبودت کے اظہار پر مشتمل کوئی دعا اللہ تعالیٰ کے حضور میں عرض کی جاتی ہے (اس موقع کی تین ماثور دعائیں سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وبحمدك وغیرہ عنقریب ہی مذکور ہو چکی ہیں) اس کے بعد قرآن مجید کی سب سے پہلی سورۃ جو گویا اس کا افتتاحیہ ہے، یعنی سورہ فاتحہ پڑھی جاتی ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کی حمع کے ساتھ اس کی صفات کا بڑا جامع اور مؤثر بیان بھی ہے، ہر قسم کے شرک کی نفی کے ساتھ اس کی توحید کا اثبات و اقرار بھی ہے۔ صرف مستقیم یعنی دین حق اور شریعت الہیہ کے لئے اپنی ضرورت مندی اور محتاجی کی بناء پر اس کی ہدایت کے لئے عاجزانہ اور فقیرانہ سوال اور دعا بھی ہے۔ بہرحال سب سے پہلے یہ سورۃ پڑھی جاتی ہے، اور اپنی جامعیت اور خاص عظمت و اہمیت کی وجہ سے یہ متعین طور سے اس درجہ میں لازمی اور ضروری ہے کہ اس کے بغیر گویا نماز ہی نہیں ہوتی، اس کے بعد نمازی کو اجازت بلکہ حکم ہے کہ وہ قرآن مجید کی کوئی بھی سورت یا کسی سورۃ کا کوئی بھی حصہ پڑھے۔ قرآن مجید کا جو حصہ بھی وہ پڑھے گا اس میں اس کے لئے ہدایت کا کوئی نہ کوئی پیغام ضرور ہو گا، یا تو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی صفات کاملہ کا بیان ہو گا یا یوم آخرت اور جنت و دوزخ اور نیک کرداری و بدکرداری کی جزا سزا کا ذکر ہو گا، یا عملی زندگی سے متعلق کوئی فرمان ہو گا، یا کسی سبق آموز اور عبرت انگیز واقعہ کا تذکرہ ہو گا۔ الغرض پڑھنے والے کے کوئی نہ کوئی رہنمائی اس میں ضرور ہو گی، یہ گویا اس کی دعاء ہدایت (اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ) کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے نقد جواب ہو گا جو اسی کی زبان پر جاری ہو گا۔ پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح سورہ فاتحہ اور اس کے بعد کوئی اور سورۃ یا کسی سورۃ سے کچھ آیتیں پڑھی جائیں گی۔ اور اگر نماز تین یا چار رکعت والی ہو تو تیسری اور چوتھی رکعت میں بھی سورہ فاتحہ تو ضرور پڑھی جائے گی، لیکن اس کے ساتھ کچھ اور پڑھنا ضروری نہیں ہے۔ اس تمہید کے بعد مندرجہ ذیل حدیثیں پڑھئے جن میں سے بعض تو نماز کے اندر قرأت سے متعلق رسول اللہ ﷺ کے ارشادات ہیں، اور زیادہ تر وہ ہیں جن سے معلوم ہو گا کہ قراة فى الصلاة کے بارے میں آپ ﷺ کا طرز عمل کیا تھا اور کس نماز میں آپ کتنی قرأت کرتے تھے اور کون کون سی سورتیں زیادہ تر پڑھتے تھے۔ اس حدیث میں نماز کے لئے قرآن کی کسی خاص سورۃ کا نہیں بلکہ مطلب قرأت قرآن کا رکن ہونا بیان کیا ہے۔ آگے حدیث کے راوی حضرت ابو ہریرہ ؓ کا یہ بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ جن نمازوں اور جن رکعتوں میں بالجہر قرأت فرماتے تھے ان ہی میں ہم بھی بالجہر قرأت کرتے ہیں اور جہاں آپ ﷺ خاموشی سے پڑھتے تھے وہاں ہم بھی خاموشی پڑھتے ہیں۔

585Maarif-ul-Hadith

نماز میں قرأت قرآن

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ » (رواه البخارى ومسلم وفى رواية لمسلم لمن لم يقرء بام القران فصاعدا)

حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے نماز میں سورہ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز ہی نہیں ہوئی۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) اور اسی حدیث کی صحیح مسلم کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ: جس نے سورہ فاتحہ اور اس کے آگے کچھ اور نہیں پڑھا تو اس کی نماز ہی نہیں۔ تشریح اس حدیث سے یہ تفصیل معلوم ہوئی کہ سورہ فاتحہ تو متعین طور سے نماز کا لازمی جزو ہے، اور اس کے بعد قرآن مجید ہی میں سے کچھ اور بھی پڑھنا ضروری ہے۔ لیکن اس میں پوری وسعت ہے اور اجازت ہے کہ جہاں سے چاہئے پڑھے۔

586Maarif-ul-Hadith

مسئلہ قرأت فاتحہ میں ائمہ مجتہدین کے مذاہب

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا. (رواه ابوداؤد والترمذى وابن ماجه)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: امام اس لئے بنایا گیا ہے کہ مقتدی لوگ اس کی اقتداء اور اتباع کریں لہذا جب امام اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو اور جب وہ قرأت کرے تو تم خاموشی سے کان لگا کر سنو۔ (سنن ابی داؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ) تشریح ائمہ مجتہدین میں سے حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور بعض دوسرے حضرات نے اس حدیث سے اور اسی طرح کی بعض اور احادیث سے یہ سمجھا ہے کہ نمازی خواہ اکیلے نماز پڑھ رہا ہو، خواہ امامت کر رہا ہو، خواہ مقتدی ہو اور نماز خواہ جہری ہو یا سری ہر حال میں اس کے لئے سورہ فاتحہ پڑھنا ضروری ہے۔ اور حضرت امام مالک ؒ، حضرت امام احمد بن حنبلؒ اور ان کے علاوہ دوسرے بھی بہت سے ائمہ نے اس حدیث کے ساتھ اسی مسئلہ سے متعلق دوسری بعض حدیثوں کو بھی سامنے رکھ کر یہ رائے قائم فرمائی ہے کہ اگر نمازی مقتدی ہو اور نماز جہری ہو تو امام کی قرأت مقتدیوں کی طرف سے بھی کافی ہے، لہذا اس صورت میں مقتدی کو خود قرأت نہیں کرنی چاہئے۔ اس کے علاوہ باقی تمام صورتوں میں نمازی کو سورہ فاتحہ لازماً پڑھنا چاہئے۔ امام اعظم حضرت امام ابوحنیفہؒ بھی اسی کے قائل ہیں، بلکہ وہ سری نمازوں میں بھی امام کی قرأت کو مقتدی کی طرف سے کافی سمجھتے ہیں۔ ان حضرات کے اس نقطہ نظر کی بنیاد جن حدیثوں پر ہے ان میں سے ایک وہ بھی ہے جو اگلے ہی نمبر پر درج ہو رہی ہے۔ تشریح ..... امام کی قرأت کے وقت خاموشی سے سننے کی یہ ہدایت بالکل انہی الفاظ میں بعض اور صحابہ کرامؓ نے بھی رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم مں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے ایک طویل حدیث کے ضمن میں یہ ہدایت انہی الفاظ میں مروی ہے۔ اور وہیں ایک شاگرد کے سوال کے جواب میں امام مسلم نے حضرت ابو ہریرہؓ والی اس حدیث کی بھی صحیح اور توثیق کی ہے اور بظاہر رسول اللہ ﷺ کی اس ہدایت کا مأخذ و منشاء قرآن مجید کا یہ واضح فرمان ہے: وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۰۰۲۰۴ (اور جب قرآن پاک کی قرأت ہو تو تم اس کو متوجہ ہو کر سنو اور خاموش رہو، شاید کہ ان کی وجہ سے تم رحمت کے قابل ہو جاؤ) امام ابو حنیفہؒ جو سری نمازوں میں بھی امام کی قرأت کو مقتدی کے لئے کافی سمجھتے ہیں ان کا خاص استدلال حضرت جابر ؓ کی اس حدیث سے بھی ہے جس کو ام محمد اور امام طحاوی اور امام دار قطنی وغیرہ نے خود امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی سند سے اپنی مصنفات میں روایت کیا ہے۔ موطا امام محمد کی روایت کے الفاظ یہ ہے: عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللهِ عَنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "مَنْ صَلَّى خَلْفَ الْإِمَامِ فَإِنَّ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ له قراءة" حضرت جابر بن عبداللہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جو شخص امام کے پیچھے نماز پڑھے تو اما کی قرأت اس کی بھی قرأت ہے۔ فائدہ ........ یہ مسئلہ کہ امام کے پیچھے مقتدی کو سورہ فاتحہ پڑھنی چاہئے یا نہیں؟ ان معرکۃ الآراء اختلافی مسائل میں سے ہے جن پر ہماری اس صدی میں بلا مبالغہ سینکڑوں کتابیں دونوں طرف سے لکھی گئی ہیں، اور بلا شبہ ان میں بعض تو علم و تحقیق اور نکتہ آفرینی کے لحاظ سے شاہکار ہیں لیکن معارف الحدیث کا یہ سلسلہ امت کے جس طبقہ کے لئے اور جس مقصد کو سامنے رکھ کر لکھا جا رہا ہے، یہ مباحث اس کے لحاظ سے نہ صرف غیر ضروری ہیں بلکہ بعض پہلوؤں سے مضر بھی ہو سکتے ہیں،۔ اس قسم کے تمام اختلافی مسائل میں صحیح راہ یہ ہے کہ تمام ائمہ سلف کے ساتھ نیک گمان رکھا جائے، دل سے ان کا احترام کیا جائے اور سمجھا جائے کہ ان میں سے ہر ایک نے کتاب و سنت اور صحابہ کرامؓ کے طرز عمل کا مطالعہ اور اس میں غور فکر کے بعد جو کچھ اپنے نزدیک زیادہ راجح سمجھا ہے نیک نیتی سے اس کو اختیار کر لیا ہے، ان میں سے کوئی بھی باطل پر نہیں ہے۔ اور یہ اس کے منافی نہیں ہے کہ امت کی مصلحت عامہ کی خاطر، جہالت و نفسانیت اور فتنوں کے اس دور میں کسی ایک مسلک سے اپنے کو وابستہ رکھا جائے۔ بہرحال معارف الحدیث کے اس سلسلہ میں بحث و مناظرہ کی راہ سے بچتے ہوئے چلنے کا التزام کیا گیا ہے۔ الحمدللہ پوری بصیرت و یقین کے ساتھ اس عاجز کی یہ رائے ہے کہ ہندوستان کے مایہ فخر اور استاذ الاساتذہ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے حجۃ اللہ البالغۃ وغیرہ میں اصولی طور پر جو عدل و اعتدال ان اختلافی مسائل کے بارے میں اختیار کی ہے، اس دور میں امت محمدیہ کے لئے بس وہی راہ ہے جس کو اپنا لینے کے بعد امت کا بکھرا ہوا شیرازہ پھر سے جڑ سکتا ہے۔

587Maarif-ul-Hadith

نماز فجر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت

عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : كَانَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ بِ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ وَكَانَ صَلَاتُهُ بَعْدُ تَخْفِيفًا. (رواه مسلم)

حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فجر کی نماز میں سورہ ق اور اس جیسی دوسری سورتیں پڑھا کرتے تھے اور بعد میں آپ ﷺ کی نماز ہلکی ہوتی تھی۔ (صحیح مسلم) تشریح شارحین نے آخری خط کشیدہ فقرے کے دو مطلب بیان کئے ہیں، ایک یہ کہ فجر کے بعد آپ ﷺ کی نماز میں یعنی ظہر، عصر، مغرب، عشاء یہ سب بہ نسبت فجر کے ہلکی ہوتی تھیں اور ان میں بہ نسبت فجر کے آپ ﷺ قرأت کم فرماتے تھے۔ دوسرا مطلب اس فقرے کا یہ بیان کیا گیا ہے کہ ابتدائی دور میں جب صحابہ کرامؓ کی تعداد کم تھی، اور آپ ﷺ کے پیچھے جماعت میں سب سابقین اولین ہی ہوتے تھے۔ آپ ﷺ کی نمازیں عموماً طویل ہوتی تھیں اور بعد کے دور میں جب ساتھ میں نماز پڑھنے والوں کی تعداد زیادہ ہو گئی تھی، اور ان میں دوم سوم درجہ والے اہل ایمان بھی ہوتے تھے تو آپ ﷺ نمازیں نسبتاً ہلکی پڑھنے لگے تھے، کیوں کہ جماعت میں نمازیوں کی تعداد زیادہ ہونے کی صورت میں اس کا امکان زیادہ ہوتا تھا کہ کچھ لوگ مریض یا کمزور یا کم ہمت زیادہ بوڑھے ہوں جن کے لئے طویل نماز باعث زحمت ہو جائے۔ اگرچہ واقعاتی لحاظ سے دونوں ہی باتیں صحیح ہیں لیکن اس عاجز کے خیال میں دوسری تشریح اقرب ہے۔ واللہ اعلم۔

588Maarif-ul-Hadith

نماز فجر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت

عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ : « أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ » (رواه مسلم)

حضرت عمرو نم حریث ؓ سے روایت ہے، بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فجر کی نماز میں “ وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ ” (یعنی سورہ تکویر) پڑھتے ہوئے سنا۔ (صحیح مسلم)

589Maarif-ul-Hadith

نماز فجر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ : " صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الصُّبْحَ بِمَكَّةَ فَاسْتَفْتَحَ سُورَةَ الْمُؤْمِنِينَ حَتَّى جَاءَ ذِكْرُ مُوسَى ، وَهَارُونَ أَوْ ذِكْرُ عِيسَى أَخَذَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْلَةٌ فَرَكَعَ. (رواه مسلم)

حضرت عبداللہ بن سائب ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں ہمیں صبح کی نماز پڑھائی اور سورہ مؤمنوں پڑھنی شروع فرمائی، ابھی آپ ﷺ اس جگہ تک پہنچنے تھے، جہاں حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا یا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ہے کہ آپ ﷺ کو کھانسی آنے لگی اور آپ ﷺ نے رکوع فرما دیا۔ (صحیح مسلم)

590Maarif-ul-Hadith

نماز فجر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ : قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، وَقُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ " (رواه مسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فجر کی دو رکعتوں میں سورہ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ اور سورہ وَقُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ پڑھیں۔ (صحیح مسلم)

591Maarif-ul-Hadith

نماز فجر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت

عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ قَالَ : أَنَّ رَجُلًا ، مِنْ جُهَيْنَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ « قَرَأَ فِي الصُّبْحِ إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا » فَلَا أَدْرِي أَنَسِيَ أَمْ قَرَأَ ذَلِكَ عَمْدًا. (رواه ابوداؤد)

معاذ بن عبداللہ الجہنی سے روایت ہے کہ قبیلہ جہینہ کے ایک صاحب نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے ایک دفعہ صبح کی نماز کی دونوں رکعتوں میں رسول اللہ ﷺ کو إِذَا زُلْزِلَتِ پڑھتے ہوئے سنا۔ (آگے ان صاحب نے کہا کہ) مجھے معلوم نہیں کہ آپ ﷺ نے بھول کر ایسا کیا یا عمدا آپ ﷺ نے دونوں رکعتوں میں ایک ہی سورت پڑھی۔ (سنن ابی داؤد) تشریح چونکہ رسول اللہ ﷺ کا عام دستور دو رکعتوں میں الگ الگ دو سورتیں پڑھنے کا تھا اس لئے جب ایک دفعہ آپ ﷺ نے دونوں رکعتوں میں “ إِذَا زُلْزِلَتِ ” پڑھی تو ان صحابی کو یہ شبہ ہو گیا کہ آپ ﷺ نے بھول کر ایسا کیا یا یہ بتانے اور جتانے کے لئے کہ یہ بھی جائز ہے آپ ﷺ نے عمداً ایسا کیا۔

592Maarif-ul-Hadith

نماز فجر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ : {قُولُوا آمَنَّا بِاللهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا} ، وَالَّتِي فِي آلِ عِمْرَانَ : {قُلْ يَاَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ}. (رواه مسلم)

حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فجر کی دو رکعتوں میں سورہ بقرہ کی آیات: قُلْ يَاَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ الخ پڑھا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم)

593Maarif-ul-Hadith

نماز فجر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : كُنْتُ أَقُودُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ ، فَقَالَ لِىْ « يَا عُقْبَةُ ، أَلَا أُعَلِّمُكَ خَيْرَ سُورَتَيْنِ قُرِئَتَا؟ » فَعَلَّمَنِي قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ قَالَ فَلَمْ يَرَنِي سُرِرْتُ بِهِمَا جِدًّا ، فَلَمَّا نَزَلَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ صَلَّى بِهِمَا صَلَاةَ الصُّبْحِ لِلنَّاسِ ، فَلَمَّا فَرَغَ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ : « يَا عُقْبَةُ ، كَيْفَ رَأَيْتَ؟ » (رواه احمد وابوداؤد والنسائى)

حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کی نقہ مبارکہ کی مہار پکڑ کر چل رہا تھا، اثناء سفر میں رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: عقبہ! میں تم کو قرآن کی دو بہترین سورتیں تعلیم کروں؟ اس کے بعد آپ نے سورہ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ تعلیم فرمائیں۔ پھر آپ ﷺ نے محسوس فرمایا کہ ان دونوں سورتوں کی تعلیم سے مجھے بہت زیادہ خوشی نہیں ہوئی، تو جب صبح کی نماز کے لیے آپ ﷺ اترے ت آپ ﷺ نے یہی دونوں سورتیں پڑھ کر فجر کی نماز پڑھائی، پھر نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا عقبہ! تم نے کیا دیکھا اور کیا محسوس کیا۔ (مسند احمد، سنن ابی داؤد، سنن نسائی)

594Maarif-ul-Hadith

نماز فجر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ ، يَوْمَ الْجُمُعَةِ : بِالم تَنْزِيلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى ، وَفِي الثَّانِيَةِ هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن فجر کی پہلی رکعت میں الم تَنْزِيلُ (یعنی سورۃ السجدہ) اور دوسری رکعت میں هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ (یعنی سورۃ الدھر) پڑھا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح فجر کی نماز میں رسول اللہ ﷺ کی قرأت سے متعلق جو حدیثیں یہاں تک درج کی گئی اور کتب حدیث میں ان کے علاوہ جو روایات اس سلسلہ میں ملتی ہیں ان سب کو پیش نظر رکھنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی قرأت فجر کی نماز میں بہ نسبت دوسری نمازوں کے اکثر و بیشتر کسی قدر طویل ہوتی تھی، لیکن کبھی کبھی (غالبا کسی خاص داعیہ سے) آپ ﷺ فجر کی نماز بھی قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ اور قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ جیسی چھوٹی سورتوں سے پڑھا دیتے تھے۔ اسی طرح ان حدیثوں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کا عام معمول نماز کی رکعتوں میں مستقل سورتیں پڑھنے کا تھا، لیکن کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ کسی سورت میں سے کچھ آیات پڑھ دیتے تھے۔ اسی طرح کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ آپ ﷺ نے دونوں رکعتوں میں ایک ہی سورت کی قرأت فرمائی۔ جمعہ کی فجر میں سورۃ “ الم تَنْزِيلُ السجدہ ” اور سورۃ “ الدَّهْرِ ” پڑھنے کی حکمت حضرت شاہ ولی اللہ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ ان دونوں سورتوں میں قیامت اور جزا سزا کا بیان بہت موثر انداز میں کیا گیا ہے اور قیامت جیسا کہ احادیث صحیحہ میں بتایا گیا ہے جمعہ ہی کے دن قائم ہونے والی ہے، اس لئے غالباً آپ اس کی تذکری اور یاد دہانی کے لئے جمعہ کی فجر میں یہ دونوں سورتیں پڑھنا پسند فرماتے تھے۔ واللہ اعلم۔

595Maarif-ul-Hadith

ظہر و عصر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت

عَنْ أَبِي قَتَادَةَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ فِي الأُولَيَيْنِ بِأُمِّ الكِتَابِ ، وَسُورَتَيْنِ ، وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُخْرَيَيْنِ بِأُمِّ الكِتَابِ وَيُسْمِعُنَا الآيَةَ ، وَيُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى مَا لاَ يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ ، وَهَكَذَا فِي العَصْرِ وَهَكَذَا فِي الصُّبْحِ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور اس کے علاوہ دو سورتیں پڑھتے تھے، اور آخر کی دو رکعتوں میںصرف سورہ فاتحہ اور کبھی کبھی (سر نماز میں بھی) ایک آدھ آیت آپ ﷺ اتنی آواز سے پڑھتے تھے کہ ہم سن لیتے تھے، اور پہلی رکعت میں طویل قرأت فرماتے تھے، اور دوسری رکعت میں اتنی طویل نہیں فرماتے تھے، اور اسی طرح عصر میں، اور اسی طرح فجر میں آپ ﷺ کا معمول تھا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کبھی کبھی ظہر کی سری نماز میں ایک آدھ آیت آپ ﷺ اتنی آواز سے پڑھ دیتے تھے کہ پیچھے والے اس کو سن لیتے تھے بعض شارحین نے لکھا ہے کہ غالبا ایسا کبھی غلبہ استغراق میں ہو جاتا تھا، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ ﷺ بقصد تعلیم ایسا کرتے ہوں۔ یعنی یہ بتانا چاہتے ہوں کہ میں فلاں سورۃ پڑھ رہا ہوں یا اپنے اس عمل سے یہ مسئلہ واضح فرمانا چاہتے ہوں کہ اگر سری نماز میں ایک آدھ آیت اتنی آواز سے پڑھ دی جائے کہ پیچھے والے مقتدی سن لیں تو اس کی گنجائش ہے اور اس کی وجہ سے نماز میں کوئی نقصان نہیں آئے گا۔

596Maarif-ul-Hadith

ظہر و عصر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت

عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ بِاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى ، وَفِىْ رِوَايَةٍ بِسَبِّحِ اسْمِ رَبِّكَ الْاَعْلَى وَفِي الْعَصْرِ نَحْوَ ذَلِكَ. وَفِي الصُّبْحِ أَطْوَلَ مِنْ ذَلِكَ. (رواه مسلم)

حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ظہر کی نماز میں سورۃ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى پڑھتے تھے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ سورہ سَبِّحِ اسْمِ رَبِّكَ الْاَعْلَى پڑھتے تھے۔ اور عصر کی نماز میں بھی قریب قریب اتنی ہی بڑی سورت پڑھتے تھے، اور صبح کی نماز میں اس سے کچھ طویل۔ (صحیح مسلم)

597Maarif-ul-Hadith

نماز مغرب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ قَرَأَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ بِحم الدُّخَانِ » (رواه النسائى)

حضرت عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مغرب کی نماز میں سورہ حم الدُّخَانِ پڑھی۔ (سنن نسائی)

598Maarif-ul-Hadith

نماز مغرب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت

عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ : " سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي المَغْرِبِ بِالطُّورِ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت جبیر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ مغرب کی نماز میں سورہ طور پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

599Maarif-ul-Hadith

نماز مغرب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت

عَنْ أُمِّ الفَضْلِ بِنْتِ الحَارِثِ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ يَقْرَأُ فِي المَغْرِبِ بِالْمُرْسَلاَتِ عُرْفًا. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ام الفضل بن الحارث ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مغرب کی نماز میں سورہ وَالْمُرْسَلاَتِ عُرْفًا پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

600Maarif-ul-Hadith

نماز مغرب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت

عَنْ عَائِشَةَ رَضِىَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ بِسُورَةِ الْأَعْرَافِ فَرَّقَهَا فِي رَكْعَتَيْنِ » . (رواه النسائى)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورہ اعراف مغرب کی دو رکعتوں میں تقسیم کر کے پڑھی۔ (سنن نسائی) تشریح ان چاروں حدیثوں میں نماز مغرب میں جن سورتوں کی قرأت کا ذکر ہے ان میں سے کوئی بھی ان چھوٹی سورتوں مین سے نہیں ہے جن کو “ قصار ” کہا جاتا ہے، بلکہ سب سن بڑی سورتوں میں سے ہیں جن کو “ طوال ” کہا جاتا ہے۔ بلکہ حضرت صدیقہؓ والی آخری حدیث میں جس میں سورہ اعراف کی قرأت کا ذکر ہے وہ تو پورے سوا سیپارہ کی ہے۔ بہحال ان چار حدیثوں میں تو نماز مغرب میں رسول اللہ ﷺ کا طویل طویل سورتیں پڑھنا ہی ذکر کیا گیا ہے لیکن آگے درج ہونے والی بعض دوسری روایتوں سے معلوم ہو گا کہ آپ ﷺ کا اکثری معمول مغرب میں چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھنے کا تھا، اس لئے اکثر علمائے کرام کا خیال ہے کہ مندرجہ بالا حدیثوں میں نماز مغرب کے جن واقعات کا ذکر کیا گیا ہے (جن میں آپ ﷺ نے طویل طویل سورتیں پڑھیں) یہ سب اتفاقی واقعات ہیں اور آپ ﷺ کا عمومی اور اکثری معمول مغرب میں چھوٹی ہی سورتوں کی قرأت کا تھا، جیسا کہ حضرت عمر ؓ کے اس مکتوب سے بھی معلوم ہوتا ہے جو آپ ﷺ نے حضرت موسیٰ اشعریؓ کو لکھا تھا، ان شاء اللہ عنقریب ہی حضرت فاروق اعظم ؓ کا یہ مکتوب بھی درج کیا جائے گا۔