Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 29 of 106

561Maarif-ul-Hadith

پہلے اگلی صفیں مکمل کی جائیں

عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « أَتِمُّوا الصَّفَّ الْمُقَدَّمَ ، ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ ، فَمَا كَانَ مِنْ نَقْصٍ فَلْيَكُنْ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ » (رواه ابوداؤد)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگو پہلے اگلی صف پوری کیا کرو، پھر اس کے قریب والی تا کہ جو کمی کسر رہے وہ آخری ہی صف میں رہے۔ (سنن ابی داؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ جماعت سے نماز پڑھی جائے تو لوگوں کو چاہئے کہ آگے والی صف پوری کر لینے کے بعد پیچھے والی صف میں کھڑے ہوں اور جب تک کسی اگلی صف میں جگہ باقی رہے پیچھے نہ کھڑے ہوں۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اگلی صفیں سب مکمل ہوں گی اور جو کمی کسر رہے گی وہ سب سے آخری ہی صف میں رہے گی!

562Maarif-ul-Hadith

صف اول کی فضیلت

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ ". قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَعَلَى الثَّانِي؟ قَالَ : " إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ ". قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَعَلَى الثَّانِي؟ قَالَ : " إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتِهِ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ " قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ ، وَعَلَى الثَّانِي؟ قَالَ : " وَعَلَى الثَّانِي ". (رواه احمد)

حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ رحمت فرماتا ہے اور اس کے فرشتے دعا رحمت کرتے ہیں پہلی صف والوں پر بعض صحابہؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (ﷺ) اور دوسری صف کے لئے بھی؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ رحمت فرماتا ہے اور اس کے فرشتے دعا رحمت کرتے ہیں پہلی صف والوں پر پھر عرض کیا گیا اور دوسری صف کے لئے بھی؟ آپ ﷺ نے پھر پہلی ہی بات دہرا دی۔ یعنی فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ رحمت فرماتا ہے اور اس کے فرشتے دعا رحمت کرتے ہیں پہلی صف کے لئے۔ پھر آپ سے عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ (ﷺ) اور دوسری صف کے لئے بھی؟ آپ ﷺ نے تیسری مرتبہ بھی وہی پہلی بات دہرا دی کہ اللہ تعالیٰ رحمت فرماتا ہے اور فرشتے دعا رحمت کرتے ہیں پہلی صف والوں کے لئے۔ ان لوگوں نے پھر عرض کیا کہ یا رسول اللہ (ﷺ) اور دوسری صف کے لئے بھی؟ تو اس چوتھی دفعہ آپ ﷺ نے فرمایا اور دوسری صف والوں کے لئے بھی۔ (مسند احمد) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت اور فرشتوں کی دعاء رحمت کے خصوصی مستحق اگلی صف والے ہی ہوتے ہیں، دوسری صف والے بھی اس سعادت میں اگرچہ شریک ہیں لیکن بہت پیچھے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ پہلی اور دوسری صف میں بظاہر اور ہماری نگاہوں میں فاصلہ تو بہت ہی تھوڑا سا ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان میں بہت فاصلہ ہے، اس لئے اللہ کی رحمت کے طالب کو چاہئے کہ وہ حتی الوسع پہلی ہی صف میں جگہ حاصل کرنے کی کوشش کرے، جس کا ذریعہ یہی ہو سکتا ہے کہ مسجد میں اول وقت پہنچ جائے۔ صحیحین کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: “ اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ پہلی صف میں کھڑے ہونے کا کیا اجر و ثواب ہے، اور اس پر کیا صلہ ملنے والا ہے تو لوگوں میں اس کے لئے ایسی مسابقت اور کشمکش ہو کہ قرعہ اندازی سے فیصلہ کرنا پڑے ”۔ اللہ تعالیٰ ان حقیقتوں کا یقین نصیب فرمائے۔ آمین

563Maarif-ul-Hadith

صفوں کی ترتیب

عَنْ أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ قَالَ : أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : « أَقَامَ الصَّلَاةَ ، وَصَفَّ الرِّجَالَ وَصَفَّ خ َلْفَهُمُ الْغِلْمَانَ ، ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ فَذَكَرَ صَلَاتَهُ » ثُمَّ قَالَ : " هَكَذَا صَلَاةُ أُمَّتِي. (رواه ابوداؤد)

حضرت ابو مالک اشعری سے روایت ہے کہ انہوں نے لوگوں سے کہا، میں تم سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کا بیان کروں؟ پھر بیان کیا کہ آپ ﷺ نے نماز قائم فرمائی، پہلے آپ ﷺ نے مردوں کو صف بستہ کیا، ان کے پیچھے بچوں کی صف بنائی، پھر آپ ﷺ نے ان کو نماز پڑھائی، اس کے بعد فرمایا کہ یہی طریقہ ہے میری امت کی نماز کا۔ (سنن ابی داؤد) تشریح اس سے معلوم ہوا کہ صحیح اور مسنون طریقہ یہ ہے کہ مردوں کی صفیں آگے ہوں، اور چھوٹے بچوں کی صفیں ان کے پیچھے الگ ہوں۔ اور آگے درج ہونے والی بعض حدیثوں سے معلوم ہو گا کہ اگر عورتیں بھی شریک جماعت ہوں تو وہ چھوٹے بچوں سے بھی پیچھے کھڑی ہوں۔

564Maarif-ul-Hadith

امام کو وسط میں کھڑا ہونا چاہئے

عَنْ أَبِىْ هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « تُوَسَّطُوا الْإِمَامَ وَسُدُّوا الْخَلَلَ » (رواه ابوداؤد)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: لوگو! امام کو اپنے وسط میں لو (یعنی اس طرح صف بناؤ کہ امام تمہارے درمیان میں ہو)۔ اور صفوں میں جو خلاء ہو اس کو پر کرو۔ (سنن ابی داؤد)

565Maarif-ul-Hadith

جب ایک یا دو مقتدی ہوں تو کس طرح کھڑے ہوں

عَنْ جَابِرٍ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّىْ فَجِئْتُ حَتَّى قُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ ، ثُمَّ جَاءَ جَبَّارُ بْنُ صَخْرٍ فَقَامَ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذَ بِيَدَيْنَا جَمِيعًا ، فَدَفَعَنَا حَتَّى أَقَامَنَا خَلْفَهُ. (رواه مسلم)

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ (ایک دفعہ) رسول اللہ ﷺ نماز کے لئے کھڑے ہوئے۔ (یعنی آپ ﷺ نے نماز شروع فرمائی) اتنے میں میں آ گیا اور (نیت کر کے) آپ ﷺ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور اپنے پیچھے کی جانب سے مجھے گھما کے اپنی داہنی جانب کھڑا کر لیا، پھر اتنے میں جبار بن صخرا آ گئے، وہ نیت کر کے آپ ﷺ کی بائیں جانب کھڑے ہو گئے، تو آپ ﷺ نے ہم دونوں کے ہاتھ پکڑ کے پیچھے کی جانب کر دیا اور پیچھے کھڑا کر لیا۔ (صحیح مسلم) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب امام کے ساتھ صرف ایک مقتدی ہو تو اس کو امام کی داہنی جانب کھڑا ہونا چاہئے، اور اگر وہ غلطی سے بائیں جانب کھڑا ہو جائے تو امام کو چاہئے کہ اس کو داہنی جانب کر لے، اور جب کوئی دوسرا مقتدی آ کر شریک ہو جائے تو امام کو آگے اور ان دونوں کو صف بنا کر پیچھے کھڑا ہونا چاہئے۔

566Maarif-ul-Hadith

صف کے پیچھے اکیلے کھڑے ہونے کی ممانعت

عَنْ أَنَسٍ قَالَ : صَلَّيْتُ أَنَا وَيَتِيمٌ فِي بَيْتِنَا خَلْفَ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا. (رواه مسلم)

حضرت وابصۃ بن معبد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ صف کے پیچھے اکیلا کھڑا نماز پڑھ رہا ہے تو آپ ﷺ نے اس کو دوبارہ نماز ادا کرنے کا حکم دیا۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد) تشریح صف کے پیچھے اکیلے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے میں چونکہ جماعت اور اجتماعیت کی شان بالکل نہیں پائی جاتی، اس لئے شریعت میں یہ اس قدر مکروہ اور ناپسندیدہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کو نماز دوبارہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ فائدہ .... اگر کوئی ایسے وقت جماعت میں شریک ہو کہ آگے کی صف بالکل بھر چکی ہو اور اس کے ساتھ کھڑا ہونے والا کوئی دوسرا نمازی موجود نہ ہو تو اس کو چاہئے کہ آگے کی صف میں سے کسی جاننے والے کو پیچھے ہتا کے اپنے ساتھ کھڑا کر لے، بشرطیکہ یہ امید ہو کہ وہ آسانی سے پیچھے ہٹ آئے گا، اور اگر ایسا کوئی آدمی اگلی صف میں نہ ہو تو پھر مجبوراً پیچھے اکیلے ہی کھڑا ہو جائے، اور اس صورت میں عند اللہ یہ شخص معذور ہو گا۔

567Maarif-ul-Hadith

عورتوں کو مردوں سے حتی کہ بچوں سے بھی الگ پیچھے کھڑا ہونا چاہئے

عَنْ أَنَسٍ قَالَ : صَلَّيْتُ اَنَا وَيَتِيْمٌ فِىْ بَيْتِنَا خَلْفَ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا (رواه مسلم)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ میں نے نماز پڑھی رسول اللہ ﷺ کے پیچھے اپنے گھر میں اور میرے ساتھ (میرے بھائی) یتیم نے بھی (یعنی ہم دونوں صف بنا کر حضور ﷺ کے پیچھے کھڑے ہوئے) اور ہماری والدہ ام سلیم ہم دونوں کے پیچھے کھڑی ہوئیں۔ (صحیح مسلم) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر جماعت میں سرف ایک عورت بھی شریک ہو تو اس کو بھی مردوں اور بچوں سے الگ سب سے پیچھے کھڑا ہونا چاہئے حتی کہ اگر بالفرض آگے صف میں اس کے سگے بیٹے ہی ہوں تب بھی وہ ان کے ساتھ کھڑی نہ ہو، بلکہ الگ پیچھے کھڑی ہو (صحیح مسلم ہی کی ایک دوسری روایت میں یہ بھی تصریح ہے کہ ام سلیم کو رسول اللہ ﷺ ہی نے پیچھے کھڑا کیا تھا)۔ اوپر کی حدیث سے معلوم ہو چکا ہے کہ صف کے پیچھے اکیلے کھڑے ہو کر نماز پڑھنا کس قدر ناپسندیدہ ہے، لیکن عورتوں کا مردوں بلکہ کمسن لڑکوں کے ساتھ بھی کھڑا ہونا چونکہ شریعت کی نگاہ می اس سے بھی زیادہ ناپسندیدہ اور خطرناک ہے، اس لئے عورت اگر اکیلی ہو تو اس کو نہ صرف اجازت بلکہ حکم ہے کہ وہ اکیلی ہی صف میں پیچھے کھڑی ہو کر نماز پڑھے۔

568Maarif-ul-Hadith

امامت کی ترتیب

عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللهِ ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً ، فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ ، فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً ، فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً ، فَأَقْدَمُهُمْ سِلْمًا ، وَلَا يَؤُمَّنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ ، وَلَا يَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ » (رواه مسلم)

حضرت ابو مسعود انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جماعت کی امامت وہ شخص کرے جو ان میں سب سے زیادہ کتاب اللہ کا پڑھنے والا ہو، اور اگر اس میں سب یکساں ہوں تو پھر وہ آدمی امامت کرے جو سنت و شریعت کا زیادہ علم رکھتا ہو، اور اگر اس میں بھی سب برابر ہوں تو وہ جس نے پہلے ہجرت کی ہو، اور اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں (یعنی سب کا زمانہ ہجرت ایک ہی ہو) تو پھر وہ شخص امامت کرے جو سن کے لحاظ سے مقدم ہو، اور کوئی آدمی دوسرے آدمی کے حلقہ سیادت و حکومت میں اس کا امام نہ بنے اور اس کے گھر میں اس کے بیٹھنے کی خاص جگہ پر اس کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھے۔ (صحیح مسلم) تشریح جیسا کہ معلوم ہو چکا ہے، دین کے تمام اعمال میں سب سے اہم اور مقدم نماز ہے اور دین کے نظام میں اس کا درجہ اور مقام گویا وہی ہے جو جسم انسانی میں قلب کا ہے، اس لئے اس کی امامت بہت بڑا دینی منصب اور بڑی بھاری ذمہ داری، اور رسول اللہ ﷺ کی ایک طرح کی نیابت ہے۔ اس واسطے ضروری ہے کہ امام ایسے شخص کو بنایا جائے جو موجودہ نمازیوں میں دوسروں کی بہ نسبت اس عظیم منصب کے لئے زیادہ اہل اور موزوں ہو، اور وہ وہی ہو سکتا ہے، جس کو رسول اللہ ﷺ سے نسبۃً زیادہ قرب و مناسبت حاصل ہو اور آپ ﷺ کی دینی وراثت سے جس نے زیادہ حصۃ لیا ہو، اور چونکہ آپ ﷺ کی وراثت میں اول اور اعلیٰ درجہ قرآن مجید کا ہے، اس لئے جس شخص نے سچا ایمان نصیب ہونے کے بعد قرآن مجید سے خاص تعلق پیدا کیا، اس کو یاد کیا اور اپنے دل میں اتارا، اس کی دعوت، اس کی تذکیر اور اس کے احکام کو سمجھا، اس کو اپنے اندر جذب اور اپنے اوپر طاری کیا، وہ رسول اللہ ﷺ کی وراثت کے خاص حصہ داروں میں ہو گا، اور ان لوگوں کے مقابلے میں جو اس سعادت میں اس سے پیچھے ہوں گے آپ ﷺ کی اس نیابت یعنی امامت کے لئے زیادہ اہل اور زیادہ موزوں ہو گا۔ اور اگر بالفرض سارے نمازی اس لحاظ سے برابر ہوں تو چونکہ قرآن مجید کے بعد سنت کا درجہ ہے اس لئے اس صورت می ترجیح اس کو دی جائے گی جو سنت و شریعت کے علم میں دوسروں کے مقابلے میں امتیاز رکھتا ہو گا اور اگر بالفرض اس لحاظ سے بھی سب برابر کے سے ہون تو پھر جو کوئی ان میں تقویٰ اور پرہیزگاری اور محاسن اخلاق جیسی دینی صفات کے لحاظ سے ممتاز ہو گا امامت کے لئے وہ لائق ہو گا، اور اگر بالفرض اس طرح کی صفات میں بھی یکسانی سی ہو تو پھر عمر کی بڑائی کے لحاظ سے ترجیح دی جائے گی، کیوں کہ عمر کی بڑائی اور بزرگی بھی ایک مسلم فضیلت ہے۔ بہرحال امامت کے لئے یہ اصولی ترتیب عقل سلیم کے بالکل مطابق مقتضائے حکمت ہے، ا ور یہی رسول اللہ ﷺ کی تعلیم و ہدایت ہے۔ تشریح ..... حدیث کے لفظ اقرأھم لکتاب اللہ کا لفظی ترجمہ وہی ہے جو یہاں کیا گیا ہے۔ یعنی “ کتاب اللہ کا زیادہ پڑھنے والا ” لیکن اس کا مطلب نہ تو صرف حفظ قرآن ہے اور نہ مجرد کثرت تلاوت، بلکہ اس سے مراد ہے حفظ قرآن کے ساتھ اس کا خاص علم اور اس کے ساتھ خاص شغف۔ عہد نبوی ﷺ میں جو لوگ قراء کہلاتے تھے ان کا یہی امتیاز تھا۔ اس بناء پر حدیث کا مطلب یہ ہو گا کہ نماز کی امامت کے لئے زیادہ اہل اور موزوں وہ شخص ہے جو کتاب اللہ کے علم اور اس کے ساتھ شغف و تعلق میں دوسروں پر فائق ہو، اور ظاہر ہے کہ عہد نبوی ﷺ میں یہی سب سے بڑا دینی امتیاز اور فضیلت کا معیار تھا، اور جس کا اس سعادت میں جس قدر زیادہ حصہ تھا وہ اسی قدر رسول اللہ ﷺ کی خاص وراثت و امانت کا حامل اور امین تھا۔ اس کے بعد سنت و شریعت کا علم فضیلت کا دوسرا معیار تھا (اور یہ دونوں علم یعنی علم قرآن اور علم سنت جس کے پاس بھی تھے، عمل کے ساتھ تھے۔ علم بلا عمل کا وہاں وجود ہی نہیں تھا) فضیلت کا تیسرا معیار عہد نبوت کے اس خاص ماحول میں ہجرت میں سابقیت تھی، اس لئے اس حدیث میں تیسرے نمبر پر اسی کا ذکر فرمایا گیا ہے لیکن بعد میں یہ چیز باقی نہیں رہی، اس لئے فقہائے کرام نے اس کی جگہ صلاح و تقوے میں فضیلت و فوقیت کو ترجیح کا تیسرا معیار قرار دیا ہے جو بالکل بجا ہے۔ ترجیح کا چوتھا معیار اس حدیث میں عمر میں بزرگی کو قرار دیا گیا ہے اور فرمایا گیا ہے کہ اگر مذکورہ بالا تین معیاروں کے لحاظ سے کوئی فائق اور قابل ترجیح نہ ہو تو پھر جو کوئی عمر میں بڑا اور بزرگ ہو وہ امامت کرے۔ حدیث کے آخر میں دو ہدایتیں اور بھی دی گئی ہیں ایک یہ کہ جب کوئی آدمی کسی دوسرے شخص کی امامت و سیادت کے حلقہ میں جائے تو وہاں امامت نہ کرے بلکہ اس کے پیچھے مقتدی بن کر نماز پڑھے۔ (ہاں اگر وہ شخص خود ہی اصرار کرے تو دوسری بات ہے)۔ اور دوسری یہ کہ جب کوئی آدمی کسی دوسرے کے گھر جائےتو اس کی خاص جگہ پر نہ بیٹھے، ہاں اگر وہ خود بٹھائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ ان دونوں ہدایتوں کی حکمت و مصلحت بالکل ظاہر ہے۔

569Maarif-ul-Hadith

اپنے میں سے بہتر کو امام بنایا جائے

عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اِجْعَلُوْا أَئِمَّتَكُمْ خِيَارَكُمْ فَإِنَّهُمْ وَفْدُكُمْ فِيْمَا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رَبِّكُمْ. (رواه الدار قطنى والبيهقى (كنز العمال)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں جو اچھے اور بہتر ہوں ان کو اپنا امام بناؤ، کیوں کہ تمہارے رب اور مالک کے حضور میں وہ تمہارے نمائندے ہوتے ہیں۔ (دار قطنی بیہقی) تشریح یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ امام اللہ تعالیٰ کے حضور میں پوری جماعت کی نمائندگی کرتا ہے، اس لئے خود جماعت کا فرض ہے کہ وہ اس اہم اور مقدس مقصد کے لئے اپنے میں سے بہترین آدمی کو منتخب کرے۔ رسول اللہ ﷺ جب تک اس دنیا میں رونق افروز رہے خود امامت فرماتے رہے اور مرض وفات میں جب معذور ہو گئے تو علم و عمل کے لحاظ سے امت کے افضل ترین فرد حضرت ابو بکر صدیقؓ کو امامت کے لئے نامزد اور مامور فرمایا۔ حضرت ابو مسعود انصاری ؓ کی مندرجہ بالا حدیث میں حق امامت کی جو تفصیلی ترتیب بیان فرمائی گئی ہے اس کا منشاء بھی دراصل یہی ہے کہ جماعت میں جو شخص سب سے بہتر اور افضل ہو اس کو امام بنایا جائے أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللهِ اور أَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ یہ سب اسی بہتری اور افضلیت فی الدین کی تفصیل ہے۔ افسوس ہے کہ بعد کے دور میں اس اہم ہدایت سے بہت تغافل برتا گیا اور اس کی وجہ سے امت کا پورا نظام درہم برہم ہو گیا۔

570Maarif-ul-Hadith

امام کی ذمہ داری اور مسئولیت

عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَمَّ قَوْمًا فَلْيَتَّقِ اللهَ وَلِيَعْلَمْ أَنَّهُ ضَامِنٌ مَسْؤُوْلٌ لِمَا ضَمِنَ ، وَإِنْ أَحْسَنَ كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ صَلَّى خَلْفَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَّنْقُصَ مِنْ أُجُوْرِهِمْ شَيْئًا ، وَمَا كَانَ مِنْ نَقْصٍ فَهُوَ عَلَيْهِ. (رواه الطبرانى فى الاوسط (كنز العمال)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جو شخص جماعت کی امامت کرے اس کو چاہئے کہ خدا سے ڈرے اور یقین رکھے کہ وہ مقتدیوں کی نماز کا بھی ضامن یعنی ذمہ دار ہے اور اس سے اس ذمہ داری کے بارے میں بھی سوال ہو گا، اگر اس نے اچھی نماز پڑھائی تو پیچھے نماز پڑھنے والے سب مقتدیوں کے مجموعی ثواب کے برابر اس کو ثواب ملے گا بغیر اس کے کہ مقتدیوں کےک ثواب میں کوئی کمی کی جائے، اور نماز میں جو نقص اور قصور رہا ہو گا اس کا بوجھ تنہا امام پر ہو گا۔ (معجم اوسط للطبرانی)

571Maarif-ul-Hadith

مقتدیوں کی رعایت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ ، فَإِنَّ فِيهِمُ السَّقِيمَ وَالضَّعِيفَ ، وَالْكَبِيرَ ، وَإِذَا صَلَّى اَحَدُكُمْ فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی لوگوں کا امام بن کر نماز پڑھائے تو چاہئے کہ ہلکی نماز پڑھائے (یعنی زیادہ طول نہ دے) کیوں کہ مقتدیوں میں بیمار بھی ہوتے ہیں اور کمزور بھی اور بوڑھے بھی (جن کے لئے طویل نماز باعث زحمت ہو سکتی ہے) اور جب تم میں سے کسی کو بس اپنی نماز اکیلے پڑھنی ہو تو جتنی چاہے لمبی پڑھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح بعض صحابہ کرام جو اپنے قبیلہ یا حلقہ کی مسجدوں میں نما پڑھاتے تھے اپنے عبادتی ذوق وشوق میں بہت لمبی نماز پڑھتے تھے جس کی وجہ سے بعض بیمار یا کمزور یا بوڑھے یا تھکے ہارے مقتدیوں کو کبھی کبھی بڑی تکلیف پہنچ جاتی تھی، اس غلطی کی اصلاح کے لئے رسول اللہ ﷺ نے مختلف موقعوں پر اس طرح کی ہدایت فرمائی۔ آپ ﷺ کا منشاء اس سے یہ تھا کہ امام کو چاہئے کہ وہ اس بات کا لحاظ رکھے کہ مقتدیوں میں کبھی کوئی بیمار یا کمزور یا بوڑھا بھی ہوتا ہے، اس لئے نماز زیادہ طویل نہ پڑھے۔ یہ مطلب نہیں کہ ہمیشہ اور ہر وقت کی نماز میں بس چھوٹی چھوٹی سورتیں ہی پڑھی جائیں اور رکوع سجدہ میں تین دفعہ سے زیادہ تسبیح بھی نہ پڑھی جائے خود رسول اللہ ﷺ جیسی معتدل نماز پڑھاتے تھے وہی امت کے لئے اس بارے میں اصل معیار اور نمونہ ہے اور اس کی روشنی میں ان ہدایات کا مطلب سمجھا چاہئے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ وہ حدیثیں آگے اپنے موقع پر آئیں گی جن سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کی تفصیلی کیفیت اور قرأت وغیرہ کی مقدار معلوم ہو گی۔

572Maarif-ul-Hadith

مقتدیوں کی رعایت

عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلاَةِ الغَدَاةِ مِنْ أَجْلِ فُلاَنٍ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا ، فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَوْعِظَةٍ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْهُ يَوْمَئِذٍ ، ثُمَّ قَالَ : « إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ ، فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيَتَجَوَّزْ ، فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالكَبِيرَ وَذَا الحَاجَةِ » (رواه البخارى ومسلم)

قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ مجھ سے ابو مسعود انصاری ؓ بے بیان کیا کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ! بخدا میں فلاں شخص کی وجہ سے صبح کی نماز میں شریک نہیں ہوتا (مجبوراً اپنی نماز الگ پڑھتا ہوں) کیوں کہ وہ بہت طویل نماز پڑھاتے ہیں (جو میرے بس کی نہیں) حدیث کے راوی ابو مسعود انصاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ (رسول اللہ ﷺ نے پھر اس بارے میں خطبہ دیا) اور میں نے کبھی آپ کو وعظ اور خطبہ کی حالت میں اس دن سے زیادہ غضبناک نہیں دیکھا۔ پھر اس خطبے میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ: تم میں سے بعض وہ لوگ ہیں جو اپنے غلط طرز عمل سے اللہ کے بندوں کو دور بھگانے والے ہیں جو کوئی تم میں سے لوگوں کا امام بنے اور ان کو نماز پڑھائے تو اس کے لئے لازم ہے کہ مختصر نماز پڑجئے (زیادہ طویل نہ پڑھائے) کیوں کہ ان میں ضعیف بھی ہوتے ہیں اور بوڑھے بھی اور حاجت والے بھی۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح یہ صحابی جن کی طویل نماز پڑھانے کی شکایت اس حدیث میں مذکور ہوئی ہے حضرت اُبی بن کعب ؓ ہیں۔ اس قسم کا ایک دوسرا واقعہ صحیح بخاری و صحیح مسلم ہی میں حضرت معاذ ؓ کا بھی مروی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ عام طور سے نمازِ عشاء دیر کر کے پڑھتے تھے۔ ایک دن حسبِ معمول نماز دیر سے شروع کی اور اس میں سورہ بقرہ پڑھنی شروع کر دی۔ مقتدیوں میں سے ایک صاحب نے (جو بےچارے دن بھر کے تھکے ہارے تھے) نیت توڑ کے اپنی الگ نماز پڑھی اور چکے گئے۔ آخر معاملہ حضور ﷺ تک پہنچا۔ آپ ﷺ نے حضرت معاذؓ کو ڈانٹا اور فرمایا افتان أنت يا معاذ (اے معاذ! کیا تم لوگوں کے لئے باعث فتنہ بننا چاہتے ہو اور ان کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہتے ہو) آگے اسی حدیچ میں ہے کہ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ: وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا اور وَ الَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى اور وَ الضُّحٰى وَ الَّيْلِ اِذَا سَجٰى اور سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى یہ سورتیں پڑھا کرو۔

573Maarif-ul-Hadith

مقتدیوں کی رعایت

عَنْ أَبِىْ قَتَادَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِنِّي لَأَدْخُلُ فِي الصَّلاَةِ ، فَأُرِيدُ إِطَالَتَهَا ، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ ، فَأَتَجَوَّزُ مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ مِنْ بُكَائِهِ » (رواه البخارى)

حضرت ابو قتادہ انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: (کبھی ایسا ہوتا ہے کہ) میں نماز شروع کرتا ہوں اور میرا ارادہ کچھ طویل پڑھنے کا ہوتا ہے، پھر میں کسی بچے کے رونے کی آواز سُن لیتا ہوں تو نماز میں اختصار کر دیتا ہوں۔ کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ اس کے رونے کی آوز سے اس کی ماں کا دل کتنا زیادہ پریشان ہو گا۔ (صحیح بخاری) تشریح رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ نماز پڑھانے کی حالت میں جب کسی بچے کے رونے کی آواز میرے کان میں آ جاتی ہے تو میں اس خیال سے کہ شاید اس بچے کی ماں جماعت میں شریک ہو اور اس کے رونے سے اس کا دل پریشان ہو رہا ہو، میں نماز مختصر پڑھ کے جلدی ختم کر دیتا ہوں۔

574Maarif-ul-Hadith

مقتدیوں کی رعایت

عَنْ أَنَسِ « مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ قَطُّ أَخَفَّ صَلاَةً ، وَلاَ أَتَمَّ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ كَانَ لَيَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ ، فَيُخَفِّفُ مَخَافَةَ أَنْ تُفْتَنَ أُمُّهُ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں: میں نے کبھی کسی امام کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو رسول اللہ ﷺ کی نماز سے ہلکی اور ساتھ ہی مکمل ہو (یعنی آپ کی نماز ہلکی بھی ہوتی تھی اور بالکل مکمل بھی) اور ایسا ہوتا تھا کہ نماز پڑھانے کی حالت میں کسی بچے کے رونے کی آواز آپ ﷺ سن لیتے تو نماز کو مختصر اور ہلکا کر دیتے اس خطرے کی وجہ سے کہ اس کی ماں بےچین ہو (اور اس بےچاری کی نماز خراب ہو)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح امام کے لئے صحیح معیار اور رہنما اصول یہی ہے کہ اس کی نماز ہلکی سُبک بھی ہو اور ساتھ ہی مکمل اور تام بھی۔ یعنی ہر رکن اور ہر چیز ٹھیک ٹھیک اور سنت کے مطابق ادا ہو جس کی تفصیلات ان شاء اللہ آئندہ اپنے موقع پر آئیں گی۔

575Maarif-ul-Hadith

مقتدیوں کو ہدایت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُبَادِرُوا الْإِمَامَ إِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَالَ : وَلَا الضَّالِّينَ فَقُولُوا : آمِينَ ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ "

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: لوگو! امام پر سبقت نہ کرو (بلکہ اس کی اتباع اور پیروی کرو) جب وہ الله اكبر کہے تو تم الله اكبر کہو اور جب وہ وَلَا الضَّالِّينَ کہے تو تم آمِينَ کہو، اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو، جب وہ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہے تو تم اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ کہو۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ نماز کے تمام ارکان اور اجزاء میں مقتدیوں کو امام کے پیچھے رہنا چاہئے کسی چیز میں بھی اس پر سبقت نہیں کرنی چاہئے۔ مسند بزار میں حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت سے ایک حدیث مروی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ جو شخص امام سے پہلے رکوع یا سجدے سے سر اٹھاتا ہے اس کی پیشانی شیطان کے ہاتھ میں ہے اور وہ اُس سے ایسا کراتا ہے .... اور حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت سے صحیح بخاری و صحیح مسلم میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد بھی مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص امام سے پہلے رکوع یا سجدے سے سر اُٹھاتا ہے اُس کو ڈرنا چاہئے کہ مبادا اس کا سر گدھے کا سا نہ کر دیا جائے۔ اعاذنا الله من ذالك.

576Maarif-ul-Hadith

مقتدیوں کو ہدایت

عَنْ عَلِيٍّ وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالاَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الصَّلاَةَ وَالإِمَامُ عَلَى حَالٍ فَلْيَصْنَعْ كَمَا يَصْنَعُ الإِمَامُ. (رواه الترمذى)

حضرت علی اور حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز کے لئے آئے اور امام کسی حال میں ہو (یعنی قیام یا رکوع یا سجدہ وغیرہ میں ہو) تو آنے والے کو چاہئے کہ جو امام کر رہا ہو وہی کرے۔ (جامع ترمذی)

577Maarif-ul-Hadith

مقتدیوں کو ہدایت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلَاةِ ، فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ » (رواه ابوداؤد)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم نماز کو آؤ اور ہم سجدے میں ہوں تو تم سجدے میں شریک ہو جاؤ اور اس کو کچھ شمار نہ کرو، اور جس نے امام کے ساتھ رکوع پا لیا اس نے نماز (یعنی نماز کی وہ رکعت) پا لی۔ (سنن ابی داؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ مقتدی اگر امام کے ساتھ رکوع میں شریک ہو جائے تو رکعت کی شرکت کے قائم مقام ہے۔ اور اگر صرف سجدے میں شرکت ہو سکے تو اگرچہ اللہ تعالیٰ اس سجدے کا بھی پورا ثواب یقیناً عطا فرمائیں گے، لیکن یہ سجدہ رکعت کے قائم مقام نہ ہو گا بلکہ وہ شمار بھی نہ ہو گا۔

578Maarif-ul-Hadith

نماز کس طرح پڑھی جائے ؟

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ المَسْجِدَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي نَاحِيَةِ المَسْجِدِ ، فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : « وَعَلَيْكَ السَّلاَمُ ، ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ » فَرَجَعَ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ ، فَقَالَ : « وَعَلَيْكَ السَّلاَمُ ، ارْجِعْ فَصَلِّ ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ » فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ ، أَوْ فِي الَّتِي بَعْدَهَا : عَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : « إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلاَةِ فَأَسْبِغِ الوُضُوءَ ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ القِبْلَةَ فَكَبِّرْ ، ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ القُرْآنِ ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا ، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ، « وَفِىْ رِوَايَةٍ ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا » ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلاَتِكَ كُلِّهَا » . (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں ایک جانب تشریف فرما تھے کہ ایک شخص مسجد میں آیا اس نے نماز پڑھی، اس کے بعد وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام عرض کیا۔ آپ ﷺ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: کہ پھر جا کر نماز پڑھو تم نے ٹھیک نماز نہیں پڑھی۔ وہ واپس گیا اور اس نے پھر سے نماز پڑھی اور پھر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام عرض کیا۔ آپ ﷺ نے سلام کا جواب دیتے ہوئے پھر فرمایا کہ: تم جا کہ پھر نماز پڑھو تم نے ٹھیک نماز نہیں پڑھی۔ اس آدمی نے تیسری دفعہ میں یا اس کے بعد والی دفعہ میں عرض کیا کہ: حضرت (ﷺ)! مجھے بتا دیجئےاور سکھا دیجئے کہ میں کس طرح نماز پڑھوں؟ (جیسی مجھے پڑھنی آتی ہے وہ تو میں کئی دفعہ پڑھ چکا) ..... آپ ﷺ نے فرمایا کہ: جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کرو تو پہلے خوب اچھی طرح وضو کرو، پھر قبلہ کی طرف اپنا رُخ کرو، پھر تکبیر تحریمہ کہہ کے نماز شروع کرو، اس کے بعد (جب قرأت کا موقع آ جائے تو) جو قرآن تمہیں یاد ہو اور تمہیں پڑھنا آسان ہو وہ پڑھو۔ (اسی حدیث کی بعض روایات میں ہے کہ اس موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ: سورہ فاتحہ پڑھو اور اس کے سوا جو چاہو پڑھو) پھر قرأت کے بعد رکوع کرو یہاں تک کہ مطمئن اور ساکن ہو جاؤ رکوع میں، پھر رکوع سے اٹھو یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ مطمئن اور ساکن ہو جاؤ سجدہ میں پھر اٹھو یہاں تک کہ مطمئن ہو کر بیٹھ جاؤ (اور ایک راوی نے اس آخری خط کشیدہ جملے کے بجائے کہا ہے (پھر اٹھو یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ) پھر اپنی پوری نماز میں یہی کرو۔ (یعنی ہر رکعت میں رکوع و سجود اور قومہ و جلسہ اور تمام ارکان اچھی طرح اطمینان و سکون سے اور ٹھہر ٹھہر کے ادا کرو)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح یہ صاحب جن کا واقعہ اس حدیث میں مذکور ہوا ہے مشہور صحابی رفاعہ بن رافع کے بھائی خلاد بن رافع تھے۔ اور سنن نسائی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے مسجد نبوی ﷺ میں آ کر دو رکعت نماز پڑھی تھی۔ بعض شارحین نے لکھا ہے کہ غالبا یہ تحیۃ المسجد کی دو رکعتیں تھیں لیکن انہوں نے ان رکعتوں میں بہت جلد بازی سے کام لیا اور رکوع و سجدہ وغیرہ جس طرح تعدیل و اطمینان کے ساتھ یعنی ٹھہر ٹھہر کے کرنا چاہئے نہیں کیا اس لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: “ تم نے نماز ٹھیک نہیں پڑھی ” اور دوبارہ پڑھنے کا حکم دیا۔ آپ نے پہلی دفعہ میں صاف صاف ان کو یہ نہیں بتلا دیا کہ تم سے نماز میں یہ غلطی ہوئی ہے اور تم کو نماز اس طرح پڑھنا چاہئے، بلکہ تیسری یا چوتھی دفعہ میں ان کے دریافت کرنے پر بتلایا جاننے والے جانتے ہیں کہ تعلیم و تربیت کے نقطہ نظر سے یہی بہترین طریقہ ہو سکتا تھا آدمی کو جو سبق اس طرح دیا جائے جس طرح رسول اللہ ﷺ نے اُن صاحب کو اس موقع پر دیا، وہ کبھی زندگی بھی نہیں بھولتا اور دوسرے لوگوں میں بھی اس کا چرچا خوب ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے اس موقع پر نماز کے متعلق تمام ضروری باتیں نہیں بتلائیں۔ مثلاً یہ نہیں بتلایا کہ رکوع میں قومہ میں، سجدہ میں کیا پڑھا جائے، یہاں تک کہ قعدہ اخیرہ اور تشہد اور سلام کا بھی ذکر نہیں فرمایا۔ ایسا آپ ﷺ نے اس لئے کیا کہ ان سب باتوں سے وہ صاحب واقف تھے۔ اُن کی خاص غلطی جس کی اصلاح ضروری تھی یہ تھی کہ وہ رکوع، سجدہ وغیرہ تعدیل کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر ادا نہیں کرتے تھے، اس لئے رسول اللہ ﷺ نے ان کی اسی غلطی کی خصوصیت کے ساتھ نشاندہی فرمائی اور اس کی اصلاح فرما دی۔ حدیث کے آخری جملہ کے بارے میں راویوں کے بیان میں ذرا سا اختلاف ہے۔ بعض راویوں کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دوسرے سجدے سے اُٹھنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا تھا: “ ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ” (پھر تم اٹھو یہاں تک کہ مطمئن ہو کر بیٹھ جاؤ)۔ اور بعض دوسرے راویوں کا بیان ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا تھا: “ ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا ” (پھر تم اٹھو یاہں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ)۔ یہ دونوں روایتیں امام بخارؒ نے بھی اپنی صحیح میں ذکر فرمائی ہیں ..... جن ائمہ علماء کی تحقیق یہ ہے کہ پہلی اور تیسری رکعت میں بھی دوسرے سجدے کے بعد کھڑے ہونے سے پہلے ذرا بیٹھ جانا چاہئے (جس کو جلسہ استراحت کہا جاتا ہے) ان کے نزدیک پہلی روایت راجح ہے۔ اور دوسرے حضرات دوسری روایت کو قابلِ ترجیح سمجھتے ہیں۔ اس حدیث کی خاص ہدایت یہی ہے کہ پوری نماز ٹھہر ٹھہر کے اور اطمینان سے پڑھی جائے اور اگر کسی نے بہت جلدی جلدی اس طرح نماز پڑھی کہ اس کے ارکان پوری طرح ادا نہ ہو سکے، مثلاً رکوع و سجدہ میں بس جانا آنا ہوا، اور جتنا توقف ضروری ہے وہ بھی نہیں ہوا، تو ایسی نماز ناقابل اعتبار اور واجب الاعادہ ہو گی۔

579Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز پڑھتے تھے ؟

عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ « يَسْتَفْتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ. وَالْقِرَاءَةِ ، بِالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، وَكَانَ إِذَا رَكَعَ لَمْ يُشْخِصْ رَأْسَهُ ، وَلَمْ يُصَوِّبْهُ وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ ، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ ، حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا ، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ ، لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا ، وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ ، وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ، وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عُقْبَةِ الشَّيْطَانِ. وَيَنْهَى أَنْ يَفْتَرِشَ الرَّجُلُ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ ، وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلَاةَ بِالتَّسْلِيمِ » (رواه مسلم)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ تکبیر تحریمہ سے نماز شروع فرماتے تھے اور قرأت کو الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِين سے کرتے تھے، اور جب آپ رکوع میں جاتے تو سر مبارک کو نہ تو اوپر کی جانب اٹھاتے اور نہ نیچے کی جانب جھکاتے، بلکہ درمیانی حالت میں رکھتے تھے (یعنی بالکل کمر کے متوازی) اور جب رکوع سے سر مبارک اٹھاتے تو سجدہ میں اس وقت تک نہ جاتے جب تک کہ سیدھے کھڑے نہ ہو جاتے، اور جب سجدہ سے سر مبارک اٹھاتے تو جب تک بالکل سیدھے نہ بیٹھ جاتے دوسرا سجدہ نہیں فرماتے اور ہر دو رکعت پر التحیات پڑھتے تھے، اور اس وقت اپنے بائیں پاؤں کو نیچے بچھا لیتے اور داہنے پاؤں کو کھڑا کر لیتے تھے، اور عُقْبَةِ الشَّيْطَانِ (یعنی شیطان کی طرح) بیٹھنے سے منع فرماتے تھے، اور اس بات سے بھی منع فرماتے تھے کہ آدمی (سجدہ میں) اپنی باہیں (یعنی کلائیاں کہنیوں تک) زمین پر رکھے جس طرح کہ درندے اپنی کلائیاں بچھا کے بیٹھتے ہیں، اور آپ ﷺ السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہہ کے نماز ختم فرماتے تھے۔ (صحیح مسلم) تشریح نماز عبادت بلکہ اعلیٰ درجہ کی عبادت ہے، اس لئے اس کے لئے قیام، قعود، رکوع و سجود کی وہ شکلیں اور ہیئیتیں مقرر کی گئی ہیں جو عبادت اور بندگی کی بہترین اور مکمل ترین تصویر ہیں، اور ان نامناسب ہیئتوں سے خصوصیت کے ساتھ منع فرمایا گیا ہے جن میں استکبار،، یا بےپروائی یا بدمنظری کی شان ہو یا کسی بد فطرت مخلوق کی ہیئت سے مشابہت ہو۔ اس اصول کے تحت رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا کہ سجدے میں آدمی کلائیاں زمین پر اس طرح بچھا دے جس طرح کتے اور بھیڑئیے وغیرہ درندے بچھا کر بیٹھتے ہیں اور اسی اصول کے تحت آپ ﷺ نے اس طرح بیٹھنے سے بھی منع فرمایا جس کو اس حدیث میں “ عُقْبَةِ الشَّيْطَانِ ” اور ایک دوسری حدیث میں “ اقعاء الكلب ” فرمایا گیا ہے۔ شارحین اور فقہاء نے اس کی تشریح دو طرح سے کی ہے۔ اس عاجز کے نزدیک راجح یہ ہے کہ اس سے مراد دونوں پاؤں پنجوں کے بل کھڑے کر کے اُن کی ایڑیوں پر بیٹھنا ہے (1)۔ اور چونکہ اس طریقے میں کچھ استکبار اور جلد بازی کی شان ہے، اور اس شکل میں صرف گھٹنے اور پنجے ہی زمین سے لگتے ہیں۔ نیز کتے، بھیڑئیے وغیرہ درندے بھی اس طرح ایڑیوں پر بیٹھا کرتے ہیں، اس لئےنماز میں اس طرح بیٹھنے سے بھی رسول اللہ ﷺ نے خصوصیت کے ساتھ منع فرمایا ہے۔ واضح رہے کہ یہ ممانعت صرف اس صورت میں ہے جب کہ بغیر کسی مجبوری کے آدمی ایسا کرے۔ اگر بالفرض کسی کو کوئی خاص مجبوری ہو تو وہ معذور ہے، اور اس کے حق میں بلا کراہت جائز ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے متعلق مروی ہے کہ ان کے پاؤں میں کچھ تکلیف رہتی تھی جس کی وجہ سے وہ بطریق مسنون قعدہ نہیں کر سکتے تھے، اس لئے کبھی کبھی اس طرح بھی بیٹھ جاتے تھے۔ اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے صحیح مسلم وغیرہ میں جو مروی ہے کہ انہوں نے اس طرح بیٹھنے کو “ سنة نبيكم ” فرمایا، تو اس کا مطلب بھی بظاہر یہی ہے رسول اللہ ﷺ کبھی کسی معذوری کی وجہ سے اس طرح بھی بیٹھے ہیں۔ واللہ اعلم۔ بہرحال اگر کوئی معذور ہو تو وہ اس طرح بھی بیٹھ سکتا ہے، ورنہ عام حالات میں اور بلا عذر نماز میں اس طرح بیٹھنے کی ممانعت ہے۔

580Maarif-ul-Hadith

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز پڑھتے تھے ؟

عَنْ أَبِىْ حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ قَالَ فِىْ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا كُنْتُ أَحْفَظَكُمْ لِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ « رَأَيْتُهُ إِذَا كَبَّرَ جَعَلَ يَدَيْهِ حِذَاءَ مَنْكِبَيْهِ ، وَإِذَا رَكَعَ أَمْكَنَ يَدَيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ ، ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهُ ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ اسْتَوَى حَتَّى يَعُودَ كُلُّ فَقَارٍ مَكَانَهُ ، فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ غَيْرَ مُفْتَرِشٍ وَلاَ قَابِضِهِمَا ، وَاسْتَقْبَلَ بِأَطْرَافِ أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ القِبْلَةَ ، فَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ جَلَسَ عَلَى رِجْلِهِ اليُسْرَى ، وَنَصَبَ اليُمْنَى ، فَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ قَدَّمَ رِجْلَهُ اليُسْرَى ، وَنَصَبَ الأُخْرَى وَقَعَدَ عَلَى مَقْعَدَتِهِ » (رواه البخارى)

حضرت ابو حمید ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے صحابہ کرامؓ کی ایک جماعت کے سامنے فرمایا کہ: مجھے رسول اللہ ﷺ کی نماز یعنی اس کی تفصیلات آپ سب لوگوں سے زیادہ یاد ہیں (اس کے بعد فرمایا کہ) میں نے آپ ﷺ کو دیکھا ہے کہ نماز شروع کرتے ہوئے جب آپ ﷺ تکبیر کہتے تو اپنے دوفنوں ہاتھ اٹھا کر مونڈھوں تک لے جاتے، اور جب رکوع میں جاتے تو اپنے دونوں ہاتھوں سے گھٹنوں کو مضبوطی سے پکڑ لیتے پھر اپنی کمر کو پوری طرح موڑ دیتے (اور بالکل سیدھی برابر کر دیتے)۔ پھر جب رکوع سے سر مبارک اٹھاتے تو بالکل سیدھے اس طرح کھڑے ہو جاتے کہ ریڑھ کی ہڈی کا ہر منکا (یعنی ہر جوڑ) ٹھیک اپنی جگہ پر آ جاتا (جہاں سیدھے کھڑے ہونے کی حالت میں وہ رہتا ہے) پھر جب آپ ﷺ سجدہ میں جاتے تو اپنے دونوں ہاتھ زمین پر اس طرح رکھ دیتے کہ نہ تو ان کو زمین پر بچھا دیتے اور نہ ان کو سکیڑ لیتے (مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ سجدہ کی حالت میں دونوں ہاتھوں کو سکیڑ نہیں لیتے تھے بلکہ آگے بڑھا کر اپنے چہرے کے مقابلے میں دائیں بائیں رکھ لیتے تھے، لیکن کلائیاں اور کہنیاں زمین سے الگ اور اُٹھی رہتی تھیں)۔ اور پاؤں کی انگلیوں کا رخ سجدہ میں قبلہ کی جانب ہوتا تھا۔ پھر جب دو رکعت پڑھ کے آپ ﷺ (التحیات کے لئے) بیٹھتے تو داہنے پاؤں کو کھڑا کر لیتے اور بائیں پاؤں پر بیٹھ جاتے۔ پھر جب آخری رکعت پڑھ کے آپ ﷺ قعدہ اخیرہ کرتے تو اس طرح بیٹھتے کہ داہنے پاؤں کو کھڑا کر لیتے اور بائیں پاؤں کو (اس کے نیچے سے) آگے کی جانب نکال دیتے اور اپنی سرینوں پر بیٹھ جاتے (جس کو تورّک کہتے ہیں)۔ (صحیح بخاری) تشریح ابو حمید ساعدی ؓ کی اس حدیث میں تکبیر تحریمہ کے وقت مونڈھوں تک ہاتھ اٹھانے کا ذکر ہے۔ اور صحیح بخاری و صحیح مسلم میں دوسرے ایک صحابی مالک بن الحویرثؓ کا بیان ہے کہ: “ حَتَّى يَدَيْهِ حِذَاءَ مَنْكِبَيْهِ ” جس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ ﷺ تکبیر تحریمہ کے وقت اپنے ہاتھ کانوں تک اٹھاتے تھے، لیکن ان دونوں باتوں میں کوئی منافات نہیں ہے جب ہاتھ اس طرح اٹھائے جائین کہ انگلیاں کانوں تک پہنچ جائیں تو ہاتھوں کا نیچے والا حصہ مونڈھوں کے مقابل ہو گا، اور اس صورت کو کانوں تک ہاتھ اٹھانے سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے اور مونڈھوں تک اُٹھانے سے بھی۔ ایک اور صحابی وائل بن حجرؓ نے وضاحت کے ساتھ یہی بات کہی ہے۔ سنن ابی داؤد کی ایک روایت میں ان کے الفاظ یہ ہیں: “ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى كَانَتَا بِحِيَالِ مَنْكَبَيْهِ وَحَاذَى إِبْهَامَيْهِ أُذُنَيْهِ ” (آپ تکبیر تحریمہ کے وقت اپنے ہاتھوں کو اتنا اٹھاتے کہ وہ مونڈھوں کے برابر ہو جاتے، اور دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے کانوں کے محاذات میں آ جاتے)۔ حضرت ابو حمید ساعدی کی اس حدیث میں ایک خاص بات یہ بھی بیان فرمائی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ قعدہ اخیرہ میں اس طریقہ پر بیٹھتے تھے جس تورُّک کہتے ہیں، لیکن حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی جو حدیث ابھی اوپر گزر چکی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قعدہ میں آپ ﷺ کے بیٹھنے کا عام طریقہ وہی تھا جو حضرت ابو حمید ساعدیؓ نے قعدہ اولیٰ کا بیان کیا ہے اور جس کو اصطلاح میں افتراش کہتے ہیں۔ بعض ائمہ اور شارحینحدیث کا خیال اس بارے میں یہ ہے کہ قعدہ میں رسول اللہ ﷺ کے بیٹھنے کا عام طریقہ تو وہی تھا جو حضرت صدیقہ ؓ کی حدیث سے معلوم ہو چکا ہے، لیکن کبھی کبھی سہولت کے لئے یا یہ ظاہر کرنے اور بتانے کے واسطے کہ اس طرح بھی بیٹھا جا سکتا ہے آپ ﷺ نے تورُّک بھی کیا، دوسری رائے اس کے بالکل برعکس بھی ہے ..... اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ دونوں ہی طریقے مشروع ہیں۔