Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 28 of 106

541Maarif-ul-Hadith

مسجدوں میں دینا کی بات نہ کی جائے

عَنِ الْحَسَنِ ، مُرْسَلاً قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَكُونُ حَدِيثُهُمْ فِي مَسَاجِدِهِمْ فِي أَمْرِ دُنْيَاهُمْ ، فَلَا تُجالِسُوهُمْ ، فَلَيْسَ لِلَّهِ فِيهِمْ حَاجَةٌ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)

حضرت حسن بصریؒ سے مرسلاً روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ مسجدوں میں لوگوں کی بات چیت اپنے دنیوی معاملات میں ہوا کرے گی، تمہیں چاہئے کہ ان لوگوں کے پاس بھی نہ بیٹھو، اللہ کو ان لوگوں سے کوئی سرو کار نہیں۔ (شعب الایمان للبیہقی) تشریح مسجد چونکہ خانہ خدا ہے اس لیے اس کے ادب کا یہ بھی تقاضا ہے کہ اس میں ایسی باتیں نہ کی جائیں جن کا اللہ کی رضا طلبی سے اور دین سے کوئی تعلق نہ ہو۔ ہاں مسلمانوں کے اجتماعی اور ملی مسائل کے بارے میں خواہ ان کا تعلق مسلمانوں کی زندگی کے کسی شعبہ سے ہو، مسجدوں میں مشورے کیے جا سکتے ہیں اور اس سلسلہ کے کاموں کے لیے مسجدوں کو استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن اس میں بھی مسجدوں کے عام آداب کا لحاظ ضروری ہو گا، نیز یہ بھی شرط ہو گی کہ یہ جو کچھ ہو اللہ کی ہدایت کے تحت ہو اس سے آزاد ہو کر نہ ہو۔ ف..... اس حدیث کے راوی حضرت حسن بصریؒ تابعی ہین، ظاہر ہے کہ ان کو یہ حدیث کسی صحابی کے واسطے پہنچی ہو گی، لیکن انہوں نے ان صحابی کا حوالہ نہیں دیا۔ ایسی حدیث کو جسے کوئی تابعی صحابی کا حوالہ دئیے بغیر روایت کرے محدثین کی اصطلاح میں “ مرسل ” کہا جاتا ہے یہ روایت بھی اسی قسم کی ہے۔

542Maarif-ul-Hadith

مسجد میں نماز کے لیے عورتوں کا آنا

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِذَا اسْتَأْذَنَكُمْ نِسَاؤُكُمْ بِاللَّيْلِ إِلَى المَسْجِدِ ، فَأْذَنُوا لَهُنَّ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تمہاری بیویاں رات کو مسجد جانے کے لیے تم سے اجازت مانگیں تو ان کو اجازت دے دیا کرو۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

543Maarif-ul-Hadith

مسجد میں نماز کے لیے عورتوں کا آنا

عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « لَا تَمْنَعُوا نِسَاءَكُمُ الْمَسَاجِدَ ، وَبُيُوتُهُنَّ خَيْرٌ لَهُنَّ » (رواه ابوداؤد)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنی عورتوں کو مسجدوں میں جانے سے منع نہ کرو، اور ان کے لیے بہتر ان کے گھر ہی ہیں۔ (سنن ابی داؤد) تشریح رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ میں جبکہ مسجد نبوی میں پانچویں وقت کی نماز بہ نفس نفیس آپ ﷺ خود پڑھاتے تھے تو آپ ﷺ کی طرف اے بار بار اس کی وضاھت کے باوجود کہ عورتوں کے لی اپنے گھروں ہی میں نماز پڑھنا افضل اور زیادہ ثواب کا باعث ہے، بہت ہی نیک بخت عورتوں کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ وہ کم از کم رات کی نمازوں میں (یعنی عشاء فجر میں) مسجد میں جا کر حضور ﷺ کے پیچھے نماز پڑھا کریں، لیکن بعض لوگ اپنی بیویوں کو اس کی اجازت نہیں دیتے تھے، اور ان کا یہ اجازت نہ دینا کسی فتنہ کے اندیشہ سے یا کسی بدگمانی کی وجہ سے نہ تھا (کیونکہ اس وقت کا پورا اسلامی معاشرہ اس لحاظ سے ہر طرح قابل اطمینان تھا) بلکہ ایک گیر شرعی قسم کی غیرت اس کی بنیاد تھی اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عورتیں اگر رات کی نمازوں میں مسجد میں آنے کی اجازت مانگیں تو ان کو اجازت دے دینا چاہیے لیکن خود عورتوں کو آپ ﷺ برابر یہی سمجھاتے رہے کہ بیبیو تمہارے لیے زیاہ بہتر اپنے گھروں ہی میں نماز پڑھنا ہے، جیسا کہ آگے درج ہونے والی حدیث اور زیادہ واضح ہو جائے گا۔

544Maarif-ul-Hadith

مسجد میں نماز کے لیے عورتوں کا آنا

عَنْ أُمِّ حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّةِ ، أَنَّهَا جَاءَتِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنِّي أُحِبُّ الصَّلَاةَ مَعَكَ ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكِ تُحِبِّينَ الصَّلَاةَ مَعِي ، وَصَلَاتُكِ فِي بَيْتِكِ خَيْرٌ لَكِ مِنْ صَلَاتِكِ فِي حُجْرَتِكِ ، وَصَلَاتُكِ فِي حُجْرَتِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِكِ فِي دَارِكِ ، وَصَلَاتُكِ فِي دَارِكِ خَيْرٌ لَكِ مِنْ صَلَاتِكِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِكِ ، وَصَلَاتُكِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِكِ خَيْرٌ لَكِ مِنْ صَلَاتِكِ فِي مَسْجِدِي " (رواه احمد ، كنزالعمال)

مشہور صحابی ابو حمید ساعدی کی بیوی ام حمید ساعدیہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ میں چاہتی ہوں کہ آپ کے ساتھ (جماعت سے مسجد میں) نماز ادا کیا کروں، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں جانتا ہوں کہ تمہیں میرے ساتھ (یعنی میرے پیچھے جماعت کے ساتھ) نماز پڑھنے کی بڑی چاہت ہے اور مسئلہ شریعت کا یہ ہے کہ تمہاری وہ نماز جو تم اپنے گھر کے اندرونی حصے میں پڑھو وہ اس نماز سے افضل اور بہتر ہے جو تم بیرونی دالان میں پڑھو، اور بیرونی دالان میں تمہار نماز پڑھنا اس سے بہتر ہے کہ تم اپنے گھر کے صحن میں پڑھو، اور اپنے گھر کے صحن میں تمہار نماز پڑھنا اس سے بہتر ہے کہ تم اپنے قبیلہ کی مسجد میں (جو تمہارے مکان سے قریب ہے) نماز پڑھو، اور اپنے قبیلہ والی مسجد میں تمہار نماز پڑھنا اس سے بہتر ہے کہ تم میری مسجد میں آ کر نماز پڑھو۔ (کنز العمال بحوالہ مسند احمد) تشریح اس حدیث کے علاوہ اور بھی بہت سے حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کی نماز کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح کی وضاحت بار بار ار مختلف موقعوں پر فرمائی ہے لیکن اس کے باوجود بہت سی صحابیات کا دلی جذبہ یہی ہوتا تھا کہ چاہے ہمارے لیے اپنے گھروں میں نماز پڑھنا افضل اور زیادہ ثواب کی بات ہو۔ لیکن ہم کم از کم رات کی نمازیں مسجد میں حاضر ہو کر حضور ﷺ کے پیچھے ہی پڑھ لیا کریں۔ اور چونکہ اس جذبہ کی بنیاد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ آپ کی سچی ایمانی محبت تھی اور اس زمانے میں کسی فتنہ کا اندیشہ بھی نہیں تھا اس لیے آنحضرت ﷺ نے لوگوں سے فرمایا کہ عورتیں اگر رات کو مسجدوں میں جانے کی اجازت چاہیں تو ان کو اجازت دے دیا کرو۔ بہرحال یہ اجازت دینے کا حکم اس وقت کا ہے جب کہ عورتوں کے مسجد جانے میں کسی برائی کا خطرہ اور کسی فتنہ کا اندیشہ نہیں تھا اور بعض صحابہ کرام صرف عرفی غیرت یا اپنی خاص افتاد طبع کی وجہ سے اپنی بیویوں کو مسجد میں جانے سے منع کر دیتے تھے۔ لیکن جب عورتوں اور مردوں دونوں کے حالات میں تبدیلی آ گئی اور فتنوں کے اندیشے پیدا ہو گئے تو خود حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے (جن سے زیادہ کوئی بھی عورتوں کے ظاہری و باطنی حال اور رسول اللہ ﷺ کے مزاج و منشاء سے واقف نہیں ہو سکتا) وہ فرمایا جو آگے درج ہونے والی حدیث میں آپ پڑھیں گے۔

545Maarif-ul-Hadith

مسجد میں نماز کے لیے عورتوں کا آنا

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : « لَوْ أَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ لَمَنَعَهُنَّ كَمَا مُنِعَتْ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا اگر رسول اللہ ﷺ ان باتوں کو دیکھتے جو عورتوں نے اپنے (طرز زندگی میں) اب پیدا کر لی ہیں تو آپ ﷺ خود ان کو مسجدوں میں جانے سے منع فرما دیتے، جس طرح کہ (اسی قسم کی باتوں کی وجہ سے) بنی اسرائیل کی عورتوں کو (ان کی عبادت گاہوں میں جانے سے اگلے پیغمبروں کے زمانہ میں) روک دیا گیا تھا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح یہ بات حضرت صدیقہ ؓ نے حضور ﷺ کے وصال کے بعد اپنے زمانہ میں فرمائی تھی اور بقول حضرت شاہ ولی اللہؒ اسی بناء پر جمہور صحابہؓ کی یہ رائے ہو گئی تھی کہ اب عورتوں کو مسجدوں میں نہ جانا چاہیے، بعد کے زمانوں میں ان تبدیلیوں میں جو اور ترقی ہوئی اور ہمارے معاشرے کی خرابیوں میں جو بے حساب اضافہ ہوا اس کے بعد تو ظاہر ہے کہ اس کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہی۔

546Maarif-ul-Hadith

جماعت کی اہمیت

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ : « لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنِ الصَّلَاةِ إِلَّا مُنَافِقٌ قَدْ عُلِمَ نِفَاقُهُ ، أَوْ مَرِيضٌ ، إِنْ كَانَ الْمَرِيضُ لَيَمْشِي بَيْنَ رَجُلَيْنِ حَتَّى يَأْتِيَ الصَّلَاةِ » ، وَقَالَ : « إِنْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَنَا سُنَنَ الْهُدَى ، وَإِنَّ مِنْ سُنَنَ الْهُدَى الصَّلَاةَ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي يُؤَذَّنُ فِيهِ » .....وَفِىْ رِوَايَةٍ ..... إِنَّ اللهَ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ سُنَنَ الْهُدَى ، وَإِنَّهُنَّ (اَىِ الصَّلَوَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ) مَنْ سُنَنَ الْهُدَى ، وَلَوْ أَنَّكُمْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ كَمَا يُصَلِّي هَذَا الْمُتَخَلِّفُ فِي بَيْتِهِ ، لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ. (رواه مسلم)

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم نے اپنے کو (یعنی مسلمانوں کو) اس حال میں دیکھا ہے کہ نماز باجماعت میں شریک نہ ہونے والا یا تو بس کوئی منافق ہوتا تھا جس کی منافقت ڈھکی چھپی نہیں ہوتی تھی، بلکہ عام طور سے لوگوں کو اس کی منافقت کا علم ہوتا تھا۔ یا کوئی بےچارہ مریض ہوتا تھا (جو بیماری کی مجبوری سے مسجد تک نہیں آ سکتا تھا) اور بعضے مریض بھی دو آدمیوں کے سہارے چل کر آتے اور جماعت میں شریک ہوتے تھے۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو “ سنن ہدی ” کی تعلیم دی ہے (یعنی دین و شریعت کی ایسی باتیں بتلائی ہیں جن سے ہماری ہدایت و سعادت وابستہ ہے) اور انہیں “ سنن ہدی ” میں سے ایسی مسجد میں جہاں اذان دی جاتی ہو جماعت سے نماز ادا کرنا بھی ہے۔ اور ایک دوسری روایت میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا یہ ارشاد اس طرح نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ: “ اے مسلمانو! اللہ نے تمہارے نبی ﷺ کے لیے “ سنن ہدی ” مقرر فرمائی ہیں (یعنی ایسے اعمال کا حکم دیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقام قرب و رضا تک پہنچانے والے ہیں) اور پانچوں نمازیں جماعت سے مسجد میں ادا کرنا انہی “ سنن ہدی ” میں سے ہے اور اگر تم اپنے گھروں ہی میں نماز پڑھنے لگو گے جیسا کہ یہ ایک آدمی جماعت سے الگ اپنے گھر میں نماز پڑھتا ہے (یہ اس زمانے کے کسی خاص شخص کی طرف اشارہ تھا) تو تم اپنے پیغمبر ﷺ کا طریقہ چھوڑ دو گے، اور جب تم اپنے پیغمبر کا طریقہ چھوڑ دو گے تو یقین جانو کہ تم راہ ہدایت سے ہٹ جاؤ گے اور گمراہی کے غار میں جا گرو گے۔ ” (صحیح مسلم) تشریح گزشتہ صفحات میں کتاب الصلوٰۃ کے بالکل شروع ہی میں یہ بات ذکر کی جا چکی ہے کہ نماز صرف ایک عبادتی فریضہ ہی نہیں ہے بلکہ وہ ایمان کی نشانی اور اسلام کا شعار بھی ہے اور اس کا ادا کرنا اسلامیت کا ثبوت اور اس کا ترک کر دینا دین سے بے اعتنائی اور اللہ و رسول ﷺ نے بے تعلقی کی علامت ہے، اس لیے ضروری تھا کہ نماز کی ادائیگی کا کوئی ایسا بندوبست ہو کہ ہر شخص اس فریضہ کو اعلانیہ اور على رؤس الاشهاد یعنی سب کے سامنے ادا کرے۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی ہدایت رسول اللہ ﷺ نے نماز با جماعت کا نظام قائم فرمایا اور ہر مسلمان کے لیے جو بیمار یا کسی دوسری وجہ سے معذور نہ ہو جماعت سے نماز ادا کرنا لازمی قرار دیا۔ ہمارے نزدیک اس نظام جماعت کا خاص راز اور اس کی خاص الخاص حکمت یہی ہے کہ اس کے ذریعہ افراد امت کا روزانہ، بلکہ ہر روز پانچ مرتبہ احتساب ہو جاتا ہے۔ نیز تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ اس جماعتی نظام کے طفیل بہت سے وہ لوگ بھی پانچوں وقت کی نماز پابندی سے ادا کرتے ہیں جو عزیمت کی کمی اور جذبے کی کمزوری کی وجہ سے انفرادی طور پر کبھی بھی ایسی پابندی نہ کر سکتے۔ علاوہ ازیں باجماعت نماز کا یہ نظام بجائے خود افراد امت کی دینی تعلیم و تربیت کا اور ایک دوسرے کے احوال سے باخبری کا ایسا غیر رسمی اور بے تکلف انتظام بھی ہے، جس کا بدل سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ نیز نماز باجماعت کی وجہ سے مسجد میں عبادت و انابت اور توجہ الی اللہ و دعوات صالحہ کی جو فضا قائم ہوتی ہے اور زندہ قلوب پر اس کے جو اثرات پڑتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس کے مختلف الحال بندوں کے قلوب ایک ساتھ متوجہ ہونے کی وجہ سے آسمانی رحمتوں کا جو نزول ہوتا ہے اور جماعت میں اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کی شرکت کی وجہ سے (جس کی اطلاع رسول اللہ ﷺ نے بہت سی حدیثوں میں دی ہے) نماز جیسی عبادت میں ملائکۃ اللہ کی جو معیت اور رفاقت نصیب ہوتی ہے یہ سب اسی نظام جماعت کے برکات ہیں۔ پھر اس سب کے علاوہ اس نظام جماعت کے ذریعہ امت میں جا اجتماعیت پیدا کی جا سکتی ہے اور محلہ کی مسجد کے روزانہ پنج وقتی اجتماع اور پوری بستی کی جامع مسجد کے ہفتہ وار وسیع اجتماع اور سال میں دو دفعہ عید گاہ کے اس سے بھی وسیع تر اجتماع سے جو عظیم اجتماعی اور ملی فائدے اٹھائے جا سکتے ہیں ان کا سمجھنا تو آج کے ہر آدمی کے لیے بہت آسان ہے۔ بہر حال نظام جماعت کے انہی برکات اور اس کے اسی قسم کے مصالح اور منافع کی وجہ سے امت کے ہر شخص کو اس کا پابند کیا گیا ہے کہ جب تک کوئی واقعی مجبوری اور معذوری نہ ہو تو وہ نماز جماعت ہی ادا کرے اور جب تک امت میں رسول اللہ ﷺ کی ہدایت و تعلیمات پر اسی طرح عمل ہوتا تھا جیسا کہ ان کا حق ہے اس وقت سوائے منافقوں یا معذوروں کے ہر شخص جماعت ہی سے نماز ادا کرتا تھا ار اس میں کوتاہی کو نفاق کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اس تمہید کے بعد جماعت کے متعلق ذیل کی حدیثیں پڑھئے۔ تشریح .....رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابی حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے اپنے اس ارشاد میں فرمایا ہے کہ پانچوں وقت کی نماز جماعت سے مسجد میں ادا کرنا رسول اللہ ﷺ کی تعلیم فرمودہ “ سنن ہدی ” میں سے ہے، یعنی آپ ﷺ کی ان اہم دینی تعلیمات میں سے ہے، جن سے امت کی ہدایت وابستہ ہے۔ آگے آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ جماعت کی پابندی ترک کر کے اپنے گھروں ہی میں نمازا پڑھنے لگنا، رسول اللہ ﷺ کے طریقے کو چھوڑ کر گمراہی اختیار کر لینا ہے۔ اسی کے ساتھ ٓپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: کہ اس امت کے اس اولین دور میں جو مثالی اور معیاری دور تھا، منافقوں اور مجبور مریضوں کے علاوہ ہر مسلمان جماعت ہی سے نماز ادا کرتا تھا، اور اللہ کے بعض صاحب عزیمت بندے تو بیماری کی حالت میں بھی دوسروں کے سہارے آ کر جماعت میں شرکت کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے اس پورے بیان سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ جماعت کی حیثیت ان کے اور عام صحابہؓ کے نزدیک دینی واجبات کی سی ہے۔ پس جن حضرات نے اس روایت کے لفظ “ سنن الہدی ” سے یہ سمجھا ہے کہ جماعت کا درجہ فقہی اصطلاح کے مطابق بس “ سنت ” کا ہے، غالباً انہوں نے غور کرتے وقت حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے اس پورے ارشاد کو سامنے نہیں رکھا۔ آگے درج ہونے والی حدیثوں سے اس مسئلہ پر اور زیادہ روشنی پڑے گی۔

547Maarif-ul-Hadith

جماعت کی اہمیت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « لَيْسَ صَلاَةٌ أَثْقَلَ عَلَى المُنَافِقِينَ مِنَ الفَجْرِ وَالعِشَاءِ ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ المُؤَذِّنَ ، فَيُقِيمَ ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا يَؤُمُّ النَّاسَ ، ثُمَّ آخُذَ شُعَلًا مِنْ نَارٍ ، فَأُحَرِّقَ عَلَى مَنْ لاَ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلاَةِ بَعْدُ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: منافقوں پر کوئی نماز بھی فجر و عشاء سے زیادہ بھاری نہیں ہے، اور اگر وہ جانتے کہ ان دونوں میں کیا اجر و ثواب ہے اور کیا برکتیں ہیں تو وہ ان نمازوں میں بھی حاضر ہوا کرتے اگرچہ ان کو گھٹنوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑتا (یعنی اگر بالفرض کسی بیماری کی وجہ سے وہ چل کر نہ آ سکتے تو گھٹنوں کے بل گھسٹ کے آتے، اس کے بعد ٓپ ﷺ نے ارشاد فرمایا) کہ میرے جی میں آتا ہے کہ (کسی دن) میں مؤذن کو حکم دوں کہ وہ جماعت کے لیے اقامت کہے، پھر میں کسی شخص کو حکم دوں کہ (میری جگہ) وہ لوگوں کی امامت کرے اور خود آگ کے فتیلے ہاتھ میں لوں اور ان لوگوں پر (یعنی ان کے موجود ہوتے ہوئے ان کے گھروں میں) آگ لگا دوں جو اس کے بعد بھی (یعنی اذان سننے کے بعد بھی) نماز میں شرکت کرنے کے لیے گھروں سے نہیں نکلتے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح للہ اکبر! کتنی سخت وعید ہے، اور کیسے جلال اور غصہ کا اظہار ہے، رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ان لوگوں کے حق میں جو آپ ﷺ کے زمانے میں جماعت میں غیر حاضر ہوتے تھے۔اور اسی بارے میں رسول اللہ ﷺ کا اسی طرح کا ایک لرزہ خیز ارشاد حضرت اسامہ ؓ کی روایت سے سنن ابن ماجہ میں مروی ہے، بلکہ وہ اس سے بھی زیادہ صاف و صریح ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں۔ لَيَنْتَهِيَنَّ رِجَالٌ عَنْ تَرْكِ الْجَمَاعَةِ، أَوْ لَأُحَرِّقَنَّ بُيُوتَهُمْ (كنز العمال بحواله ابن ماجه) لوگوں کو چاہیے کہ وہ جماعت ترک کرنے سے باز آئیں، نہیں تو میں ان کے گھروں میں آگ لگوا دوں گا۔ یہ تارکین جماعت جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے اتنے سخت غصہ کا اظہار فرمایا، خواہ عقیدے کے منافق ہوں یا عمل کے منافق (یعنی دینی اعمال میں سستی اور کوتاہی کرنے والے) بہرحال اس وعید اور دھمکی کا تعلق ان کے عمل “ ترک جماعت ” سے ہے۔ اسی بناء پر بعض ائمہ سلف (جن میں سے ایک امام احمد ابن حنبلؒ بھی ہیں) اس طرف گئے ہیں کہ ہر غیر معذور شخص کے لیے جماعت سے نماز پڑھنا فرض ہے۔ یعنی ان کے نزدیک جس طرح نماز پڑھنا فرض ہے اسی طرح اس کو جماعت سے پڑھنا ایک مستقل فرض ہے اور جماعت کا تارک ایک فرض عین کا تارک ہے۔ لیکن محققین احناف نے “ جماعت ” سے متعلق تمام احادیث کو سامنے رکھ کر یہ رائے قائم کی ہے کہ اس کا درجہ واجب کا ہے اور اس کا تارک گنہگار ہے۔ اور مندرجہ بالا حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ایک طرح کی تہدید اور دھمکی ہے۔ واللہ اعلم۔

548Maarif-ul-Hadith

جماعت کی اہمیت

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَنْ سَمِعَ الْمُنَادِيَ فَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنَ اتِّبَاعِهِ ، عُذْرٌ » ، قَالُوا : وَمَا الْعُذْرُ؟ ، قَالَ : « خَوْفٌ أَوْ مَرَضٌ ، لَمْ تُقْبَلْ مِنْهُ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّى » (رواه ابوداؤد والدار قطنى)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جو شخص نماز باجماعت کے لیے موذن کی پکار سنے اور اس کی بابعداری کرنے سے (یعنی جماعت میں شریک ہونے سے) کوئی واقعی عذر اس کے لیے مانع نہ ہو (اور اس کے باوجود وہ جماعت میں نہ آئے بلکہ الگ ہی اپنی نماز پڑھ لے) تو اس کی وہ نماز اللہ کے ہاں قبول نہیں ہو گی۔ بعض صحابہؓ نے عرض کیا کہ: حضرت (ﷺ) واقعی عذر کیا ہو سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جان و مال کا خوف یا مرض۔ (سنن ابی داؤد، سنن دار قطنی) تشریح اس حدیث میں بھی تارکین جماعت کے لیے سخت وعید اور تہدید ہے۔ بعض ائمہ سلف کا مذہب اسی حدیث کی بناء پر یہ ہے کہ جماعت وضو وغیرہ کی طرح نماز کے شرائط سے ہے، اور غیر معذور آدمی کی نماز جماعت کے بغیر سرے سے ہوتی ہی نہیں ہے۔ لیکن جمہور ائمہ کا مذہب یہ نہیں ہے، ان کے نزدیک ایسی نماز ہو تو جاتی ہے لیکن بہت ناقص ادا ہوتی ہے، اور اس کا ثواب بھی کم ہوتا ہے، اور رضاء الہٰی جو خاص الخاص مقصد اور ثمرہ ہے اس سے محروم رہتی ہے، جمہور کے نزدیک مقبول نہ ہونے کا مطلب یہی ہے۔ اور دوسری ان حدیثوں سے جن میں نماز باجماعت اور نماز بے جماعت کے ثواب کی کمی بیشی بتائی گئی ہے۔ جمہور ہی کے مسلک کی تائید ہوتی ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ بغیر عذر کے ترک جماعت بہت بڑی محرومی اور بدبختی ہے۔

549Maarif-ul-Hadith

جماعت کی اہمیت

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلَا بَدْوٍ لَا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ ، فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ » (رواه احمد وابوداؤد والنسائى)

حضرت ابو الدرداء ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: کسی بستی میں یا بادیہ (1) میں تین آدمی ہوں اور وہ نماز باجماعت نہ پڑھتے ہوں تو ان پر شیطان یقیناً قابو پا لے گا، لہٰذا تم جماعت کی پابندی کو اپنے پر لازم کر لو، کیوں کہ بھیڑیا اسی بھیڑ کو اپنا لقمہ بناتا ہے جو گلہ سے الگ دور رہتی ہے۔ (مسند احمد، سنن ابی داؤد، سنن نسائی) تشریح مطلب ہے کہ اگر کسی جگہ صرف تین آدمی بھی نماز پڑھنے والے ہوں تو ان کو جماعت ہی سے نماز پڑھنا چاہیے، اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو شیطان آسانی سے ان کو شکار کر سکے گا۔

550Maarif-ul-Hadith

نماز باجماعت کی فضیلت اور برکت

عَنِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « صَلاَةُ الجَمَاعَةِ تَفْضُلُ صَلاَةَ الفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا باجماعت نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے کے مقابلے میں ستائیس درجہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح جس طرح ہماری اس مادی دنیا میں چیزوں کے خواص اور اثرات میں درجوں اور نمبروں کا فرق ہوتا ہے اور اس کی بناء پر ان چیزوں کی افادیت اور قدر و قیمت میں بھی فرق ہو جاتا ہے، اسی طرح ہمارے اعمال میں بھی درجوں اور نمبروں کا فرق ہوتا ہے، اور اس کا صحیح اور تفصیلی علم بس اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ رسول اللہ ﷺ جب کسی عمل کے متعلق یہ فرماتے ہیں کہ یہ فلاں عمل کے مقابلے میں اتنے درجہ افضل ہے تو وہ اس انکشاف کی بناء پر فرماتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس سلسلہ میں آپ ﷺ پر کیا جاتا ہے۔ پس رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد کہ نماز باجماعت کی فضیلت اکیلے نماز پڑھنے کے مقابلے میں ۲۷ درجہ زیادہ ہے اور اس کا ثواب ۲۷ گنا زیادہ ملنے والا ہے، وہ حقیقت ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر منکشف فرمائی اور آپ نے اہل ایمان کو بتلائی۔ اب صاحب ایمان کا مقام یہ ہے کہ وہ اس پر دل سے یقین کرتے ہوئے ہر وقت کی نماز جماعت ہی سے پڑھنے کا اہتمام کرے۔ اس حدیث سے ضمناً یہ بھی معلوم ہوا کہ اکیلے پڑھنے والے کی نماز بھی بالکل کالعدم نہیں ہے وہ بھی ادا ہو جاتی ہے لیکن ثواب میں۲۶ درجہ کمی رہتی ہے اور یہ بھی یقیناً بہت بڑا خسارا اور بڑی محرومی ہے۔

551Maarif-ul-Hadith

نماز باجماعت کی فضیلت اور برکت

عَنْ أَنَسِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ صَلَّى لِلَّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا فِي جَمَاعَةٍ يُدْرِكُ التَّكْبِيرَةَ الأُولَى كُتِبَ لَهُ بَرَاءَتَانِ : بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ ، وَبَرَاءَةٌ مِنَ النِّفَاقِ. (رواه الترمذى)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص چالیس دن تک ہر نماز جماعت کے ساتھ پڑھے اس طرح کہ اس کی تکیبر اولیٰ بھی فوت نہ ہو تو اس کے لیے دو براءتیں لکھ دی جاتی ہیں ایک آتش دوزخ سے براءت اور دوسری نفاق سے براءت۔ (جامع ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ کامل ایک چلہ ایسی پابندی اور اہتمام سے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا کہ تکبیر اولیٰ بھی فوت نہ ہو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسا مقبول و محبوب ہے اور بندہ کے ایمان و اخلاص کی ایسی نشانی ہے کہ اس کے لیے فیصلہ کر دیا جاتا ہے کہ اس کا دل نفاق سے پاک ہے اور یہ ایسا جنتی ہے کہ دوزخ کی آنچ سے بھی وہ کبھی آشنا نہ ہو گا۔ اللہ کے بندے صدق دل سے ارادہ اور ہمت کریں تو اللہ تعالیٰ سے توفیق کی امید ہے، کوئی بہت بڑی بات نہیں ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی عمل خیر کی چالیس دن تک پابندی خاص تاثیر رکھتی ہے۔

552Maarif-ul-Hadith

جماعت کی نیت پر جماعت کا پورا ثواب

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ، ثُمَّ رَاحَ فَوَجَدَ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا اَعْطَاهُ اللَّهُ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ صَلَّاهَا وَحَضَرَهَا ، لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا » (رواه ابوداؤد والنسائى)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے وضو کیا اور اچھی طرح (یعنی پورے آداب کے ساتھ) وضو کیا، پھر وہ (جماعت کے ارادے سے مسجد کی طرف) گیا، وہاں پہنچ کر اس نے دیکھا کہ لوگ جماعت سے نماز پڑھ چکے اور جماعت ہو چکی، تو اللہ تعالیٰ اس بندے کو بھی ان لوگوں کے برابر ثواب دے گا جو جماعت میں شریک ہوئے اور جنہوں نے جماعت سے نماز ادا کی، اور یہ چیز ان لوگوں کے اجر و ثواب میں کمی کا باعث نہیں ہو گی۔ (سنن ابی داؤد، سنن نسائی) تشریح مطلب یہ ہے کہ ایک شخص جو جماعت کی پابندی کرتا ہے اور اس کے لیے پورا اہتمام کرتا ہے اس کو اگر کبھی ایسا واقعہ پیش آ جائے کہ وہ اپنی عادت کے مطابق اچھی طرح وضو کر کے جماعت کی نیت سے مسجد جائے اور وہاں جا کر اسے معلوم ہو کہ جماعت ہو چکی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیت اور اس کے اہتمام کی وجی سے اس کو جماعت والی نماز کا پورا ثواب عطا فرمائیں گے، کیوں کہ ظاہر ہے کہ اس کی کسی نادانستہ کوتاہی یا غفلت و لاپرواہی کی وجہ سے اس کی جماعت فوت نہیں ہوئی ہے، بلکہ وقت کے اندازہ کی غلطی یا کسی ایسی ہی وجہ سے وہ بےچارہ جماعت سے رہ گیا ہے، جس میں اس کا قصور نہیں ہے۔

553Maarif-ul-Hadith

کن حالات میں مسجد اور جماعت کی پابندی ضروری نہیں

عَنِ ابْنَ عُمَرَ أَنَّهُ أَذَّنَ بِالصَّلاَةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحٍ ، ثُمَّ قَالَ : أَلاَ صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ المُؤَذِّنَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ ذَاتُ بَرْدٍ وَمَطَرٍ ، يَقُولُ : « أَلاَ صَلُّوا فِي الرِّحَالِ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک رات میں جو بہت سردی اور تیز ہوا والی رات تھی، اذان دی، پھر خود ہی اذان کے بعد پکار کے فرمایا: لوگو! اپنے گھروں ہی پر نماز پڑھ لو۔ پھر آپ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کا دستور تھا کہ جب سردی اور بارش والی رات ہوتی تو آپ ﷺ مؤذن کو حکم فرما دیتے کہ وہ یہ بھی اعلان کر دے کہ آپ لوگ اپنے گھروں ہی میں نماز پڑھ لیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اس حدیث میں سردی اور ہوا کا جو ذکر ہے ظاہر ہے کہ اس سے غیر معمولی اور خطرناک قسم کی سردی اور ہوا ہی مراد ہے اور ایسی صورت میں یہی حکم ہے۔ اسی طرح بارش اگر اتنی ہو کہ مسجد تک جانے میں بھیگ جانے کا اندیشہ ہو، یا راستہ میں پانی یا کیچڑ یا پھسلن ہو تو بھی یہی حکم ہے یعنی اجازت ہے کہ نماز گھر ہی پر پڑھ لی جائے، ایسی سب صورتوں میں جماعت میں حاضری ضروری نہیں رہتی۔

554Maarif-ul-Hadith

کن حالات میں مسجد اور جماعت کی پابندی ضروری نہیں

عَنْ عَبْدُاللهِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِذَا وُضِعَ عَشَاءُ أَحَدِكُمْ وَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ ، فَابْدَءُوا بِالعَشَاءِ وَلاَ يَعْجَلْ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهُ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کا رات کا کھانا (کھانے کے لیے) سامنے رکھ دیا جائے اور (دوسری طرف مسجد میں) جماعت کھڑی ہو جائے تو پہلے وہ کھانا کھا لے اور جب تک اس سے فراغت نہ ہو جائے جلد بازی سے کام نہ لے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح شارحین لنے لکھا ہے اور واقعہ بھی یہی ہے کہ یہ حکم اس صورت میں ہے جب کہ آدمی کو بھوک اور کھانے کا تقاضا ہو اور کھانا سامنے رکھ دیا گیا ہو، ایسی حالت میں اگر آدمی کو حکم دیا جائے گا کہ وہ کھانا چھوڑ کے نماز میں شریک ہو تو اس کا کافی امکان ہے کہ اس کا دل نماز پڑھتے ہوئے بھی کھانے میں لگا رہے، اس لئے ایسی صورت میں شریعت کا حکم اور حکمت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ وہ پہلے کھانے سے فارغ ہو اس کے بعد نماز پڑھے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم کی اسی روایت میں حدیث کے راوی حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کے متعلق نقل کیا گیا ہے کہ خود ان کو بھی ایسا اتفاق ہو جاتا تھا کہ ان کے سامنے کھانا رکھ دیا گیا اور مسجد میں جماعت کھڑی ہو گئی، تو ایسی صورت میں آپ کھانا چھوڑ کے نہیں بھاگتے تھے بلکہ کھانا کھاتے رہتے تھے، حالانکہ (مکان مسجد کے بالکل قریب ہونے کی وجہ سے) امام کی قرأت کی آواز کانوں میں آتی رہتی تھی لیکن آپ کھانے سے فارغ ہو کر ہی نماز پڑھتے تھے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ملحوظ رہنا چاہئے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ شریعت و سنت کے بے حد پابند بلکہ عاشق تھے، ان کا یہ طرز عمل خود ان کی روایت کردہ مندرجہ بالا حدیث ہی کی وجہ سے تھا۔

555Maarif-ul-Hadith

کن حالات میں مسجد اور جماعت کی پابندی ضروری نہیں

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : « لَا صَلَاةَ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ ، وَلَا هُوَ يُدَافِعُهُ الْأَخْبَثَانِ » (رواه مسلم)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓسے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرماتے تھے: نماز کا حکم نہیں ہے کھانے کے سامنے ہوتے ہوئے اور نہ ایسی حالت میں جب کہ آدمی کو پائخانے یا پیشاب کا تقاضا ہو۔ (صحیح مسلم)

556Maarif-ul-Hadith

کن حالات میں مسجد اور جماعت کی پابندی ضروری نہیں

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الأَرْقَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ وَوَجَدَ أَحَدُكُمُ الخَلاَءَ فَلْيَبْدَأْ بِالخَلاَءِ. (رواه الترمذى وروى مالك وأبو داؤد والنسائى نحوه)

حضرت عبداللہ بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے: جب جماعت کھڑی ہو جائے اور تم میں سے کسی کو استنجے کا تقاضا ہو تو اس کو چاہئے کہ پہلے استنجے سے فارغ ہو۔ (جامع ترمذی۔ نیز یہی حدیث موطا امام مالک، سنن ابی داؤد و سنن نسائی میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ مروی ہے) تشریح ان حدیثوں میں طوفانی ہوا یا بارش یا سخت سردی کے اوقات میں یا کھانے پینے اور پیشاب پائخانے کے تقاضے کی حالت میں جماع سے غیر حاضری اور اکیلے ہی نماز پڑھنے کی جو اجازت دی گئی ہے یہ اس کی واضح مثال ہے کہ شریعت میں انسانوں کی حقیقی مشکلوں اور مجبوریوں کا کتنا لحاظ کیا گیا ہے: مَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ (الحج ۷۸: ۲۲) اللہ نے دین میں تمہارے لئے تنگی اور مشکل نہیں رکھی ہے۔

557Maarif-ul-Hadith

جماعت میں صف بندی: صفوں کو سیدھا اور برابر کرنے کی اہمیت اور تاکید

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَوُّوا صُفُوفَكُمْ ، فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفُوفِ مِنْ إِقَامَةِ الصَّلاَةِ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگو! نماز میں صفوں کو برابر کیا کرو، کیوں کہ صفوں کو وسیدھا اور برابر کرنا نماز اچھی طرح ادا کرنے کا جزو ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح نماز کے لئے جو اجتماعی نظام “ جماعت ” کی شکل میں تجویز کیا گیا ہے، اس کے لئے رسول اللہ ﷺ نے یہ طریقہ تعلیم فرمایا ہے کہ: لوگ صفیں بنا کر برابر برابر کھڑے ہوں۔ ظاہر ہے کہ نماز جیسی اجتماعی عبادت کے لئے اس سے زیادہ حسین و سنجیدہ اور اس سے بہتر کوئی صورت نہیں ہو سکتی۔ پھر اس کی تکمیل کے لئے آپ ﷺ نے تاکید فرمائی کہ صفیں بالکل سیدھی ہوں، کوئی شخص ایک انچ نہ آگے ہو اور نہ پیچھے، پہلے اگلی صف پوری کر لی جائے اس کے بعد پیچھے کی صف شروع کی جائے۔ بڑے اور ذمہ دار اور اصحاب علم و فہم اگلی صفوں میں اور امام سے قریب جگہ حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ چھوٹے بچے پیچھے کھڑے ہوں اور اگر خواتین جماعت میں شریک ہوں تو ان کی صف سب سے پیچھے ہو۔ امام سب سے آگے اور صفوں کے درمیان میں کھڑا ہو۔ ظاہر ہے کہ ان سب باتوں کا مقصد جماعت کی تکمیل اور اس کو زیادہ مفید اور موثر بنانا ہے۔ رسول اللہ ﷺ خود بھی ان باتوں کا عملاً اہتمام فرماتے اور وقتا فوقتا امت کو بھی ان کی ہدایت و تلقین فرماتے اور ان کا ثواب بیان فرما کر ترغیب دیتے، نیز ان امور میں بے پروائی کرنے والوں کو سخت تنبیہ فرماتے اور اللہ کے عذاب سے ڈراتے تھے۔ ان تمہیدی سطروں کے بعد اس سلسلہ کی مندرجہ ذیل حدیثیں پڑھئے!۔ مطلب یہ ہے کہ “ اقامت صلوٰۃ ” جس کا قرآن مجید میں جا بجا حکم دیا گیا ہے اور جو مسلمانوں کا سب سے اہم فریضہ ہے، اس کی کامل ادائیگی کے لئے یہ بھی شرط ہے کہ جماعت کی صفیں بالکل سیدھی اور برابر ہوں۔ سنن ابی داؤد وغیرہ میں حضرت انسؓ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوتے تو پہلے داہنی جانب رخ کر کے لوگوں سے فرماتے کہ: برابر برابر ہو جاؤ اور صفوں کو سیدھا کرو۔ پھر اسی طرح بائیں جانب رخ کر کے ارشاد فرمایا کہ برابر برابر ہو جاؤ اور صفوں کو سیدھا کرو۔ اس حدیث سے اور اس کے علاوہ بھی بعض دوسری حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ خصوصا نماز کے لئے کھڑے ہونے کے وقت اکثر بیشتر یہ تاکید فرماتے تھے۔

558Maarif-ul-Hadith

جماعت میں صف بندی: صفوں کو سیدھا اور برابر کرنے کی اہمیت اور تاکید

عَنِ النُّعْمَانِ بْنَ بَشِيرٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُسَوِّي صُفُوفَنَا حَتَّى كَأَنَّمَا يُسَوِّي بِهَا الْقِدَاحَ حَتَّى رَأَى أَنَّا قَدْ عَقَلْنَا عَنْهُ ، ثُمَّ خَرَجَ يَوْمًا فَقَامَ ، حَتَّى كَادَ يُكَبِّرُ فَرَأَى رَجُلًا بَادِيًا صَدْرُهُ مِنَ الصَّفِّ ، فَقَالَ : « عِبَادَ اللهِ لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ ، أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ » (رواه مسلم)

حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہماری صفوں کو اس قدر سیدھا اور برابر کراتے تھے گویا کہ ان کے ذریعہ آپ تیروں کو سیدھا کریں گے یہاں تک کہ آپ کو خیال ہو گیا کہ اب ہم لوگ سمجھ گئے (کہ ہم کو کس طرح برابر کھڑا ہونا چاہئے) اس کے بعد ایک دن ایسا ہوا کہ آپ ﷺ باہر تشریف لائے اور نماز پڑھانے کے لئے اپنی جگہ پر کھڑے بھی ہو گئے، یہاں تک کہ قریب تھا کہ آپ ﷺ تکبیر کہہ کے نماز شروع فرما دیں کہ آپ ﷺ کی نگاہ ایک شخص پر پڑی جس کا سینہ صف سے کچھ آگے نکلا ہوا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ کے بندو! اپنی صفوں کو سیدھا اور بالکل برابر کرو ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے رخ ایک دوسرے کے مخالف کر دے گا۔ (صحیح مسلم) تشریح حدیث کے الفاظ: حَتَّى كَأَنَّمَا يُسَوِّي بِهَا الْقِدَاحَ “ گویا کہ آپ ﷺ صفوں کے ذریعہ تیر سیدھے کریں گے ” کا مطلب سمجھنے کے لئے پہلے یہ جان لینا چاہیے کہ اہل عرب شکار یا جنگ میں استعمال کے لئے جو تیر تیار کرتے تھے ان کو بالکل سیدھا اور برابر کرنے کی بڑی کوشش کی جاتی تھی، اس لئے کسی چیز کی برابری اور سیدھے پن کی تعریف میں مبالغے کے طور پر وہاں کہا جاتا تھا کہ وہ چیز ایسی برابر اور اس قدر سیدھی ہے کہ اس کے ذریعہ تیروں کو سیدھا کیا جا سکتا ہے۔ یعنی وہ تیروں کو سیدھا اور برابر کرنے میں معیار اور پیمانہ کا کام دے سکتی ہے۔ الغرض اس حدیث کے راوی حضرت نعمان بن بشیر ؓ کا مطلب بس یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہماری صفوں کو اس قدر سیدھی اور برابر کرنے کی کوشش فرماتے تھے کہ ہم میں سے کوئی سوت برابر بھی آگے یا پیچھے نہ ہو، یہاں تک کہ طویل مدت کی اس مسلسل کوشش اور تربیت کے بعد آپ ﷺ کو اطمینان ہو گیا کہ ہم کو یہ بات سمجھ آ گئی، لیکن اس کے بعد جب ایک دن آپ ﷺ نے اس معاملہ میں ایک آدمی کی کوتاہی دیکھی تو بڑے جلال کے انداز میں فرمایا کہ: اللہ کے بندو! میں تم کو آگاہی دیتا ہوں کہ اگر صفوں کو برابر اور سیدھا کرنے میں تم بےپروائی اور کوتاہی کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کی سزا میں تمہارے رخ ایک دوسرے سے مختلف کر دے گا، یعنی تمہاری وحدت اور اجتماعیت پارہ پارہ کر دی جائے گی اور تم میں پھوٹ پڑ جائے گی، جو امتوں اور قوموں کے لیے اس دنیا میں سو عذابوں کا ایک عذاب ہے۔ صفوں کو برابر اور سیدھا کرنے میں کوتاہی اور غفلت پر باہمی اختلاف اور پھوٹ کی وعید متعدد حدیثوں میں وارد ہوئی ہے اور بلا شبہ اس قصور اور اس کی اس سزا میں خاص مناسبت ہے۔ افسوس بہت سی دوسری چیزوں کی طرح اس معاملہ میں بھی کوتاہی خاص کر بعض علاقوں میں بہت عام ہو چکی ہے۔

559Maarif-ul-Hadith

جماعت میں صف بندی: صفوں کو سیدھا اور برابر کرنے کی اہمیت اور تاکید

عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْاَنْصَارِىِّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلَاةِ ، وَيَقُولُ : « اسْتَوُوا ، وَلَا تَخْتَلِفُوا ، فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ ، لِيَلِنِي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ » (رواه مسلم)

حضرت ابو مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں (یعنی نماز کے لئے جماعت کھڑے ہونے کے وقت) ہمیں برابر کرنے کے لئے ہمارے مونڈھوں پر ہاتھ پھیرتے تھے اور فرماتے تھے برابر برابر ہو جاؤ اور مختلف (یعنی آگے پیچھے) نہ ہو کہ خدا نکردہ اس کی سزا میں تمہارے قلوب باہم مختلف ہو جائیں (اور فرماتے تھے کہ) تم میں سے جو دانش مند اور سمجھ دار ہیں وہ میرے قریب ہوں، ان کے بعد وہ لوگ ہوں جن کا نمبر اس صفت میں ان کے قریب ہو، اور ان کے بعد وہ لوگ جن کا درجہ ان سے قریب ہو۔ (صحیح مسلم) تشریح اس حدیث میں صفوں کی برابری کے علاوہ صف بندی ہی کے متعلق رسول اللہ ﷺ کی ایک دوسری ہدایت یہ بھی بیان ہوئی ہے کہ میرے قریب وہ لوگ کھڑے ہوں جن کو اللہ تعالیٰ نے فہم و دانش میں امتیاز عطا فرمایا ہے، ان کے بعد اس لحاظ سے دوم درجہ والے اور ان کے بعد سوم درجہ والے۔ ظاہر ہے کہ یہ ترتیب بالکل فطری بھی ہے اور تعلیم و تربیت کی مصلحت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اچھی اور ممتاز صلاحیتوں والے درجہ بدرجہ آگے اور قریب رہیں۔

560Maarif-ul-Hadith

جماعت میں صف بندی: صفوں کو سیدھا اور برابر کرنے کی اہمیت اور تاکید

عَنِ النُّعْمَانِ بْنَ بَشِيرٍ ، قَالَ : « كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّي صُفُوفَنَا إِذَا قُمْنَا لِلصَّلَاةِ فَإِذَا اسْتَوَيْنَا كَبَّرَ » (رواه ابوداؤد)

حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا دستور تھا کہ جب ہم کو نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوتے تو پہلے آپ ہماری صفوں کو برابر فرماتے، اور جب ہماری صفیں درست اور برابر ہو جاتیں، تو آپ ﷺ تکبیر کہتے یعنی نماز شروع فرماتے۔ (سنن ابی داؤد)