Maarif-ul-Hadith

All 2,115 hadiths in order · Page 27 of 106

521Maarif-ul-Hadith

اذان کا جواب اور اس کے بعد کی دعا

عَنْ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ : اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ ، فَقَالَ أَحَدُكُمْ : اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ ، ثُمَّ قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ ، ثُمَّ قَالَ : حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، قَالَ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ ، ثُمَّ قَالَ : حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ، قَالَ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ ، ثُمَّ قَالَ : اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ ، قَالَ : اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ ، ثُمَّ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مِنْ قَلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ " (رواه مسلم)

حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب موذن کہے اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، اور (اس کے جواب میں) تم میں سے کوئی کہے اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، پھر موذن کہے أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، اور جواب دینے والا بھی (اس جواب میں) کہے، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، پھر موذن کہے أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ اور جواب دینے والا بھی کہے، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، پھر موذن کہے حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، تو جواب دینے والا کہے لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، پھر موذن کہے حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اور جواب دینے والا کہے لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، پھر موذن کہے اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، اور جواب دینے والا بھی کہے اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، پھر موذن کہے لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، اور جواب دینے والا بھی کہے لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ اور یہ کہنا دل سے ہو تو وہ جنت میں جائے گا۔ (صحیح مسلم) تشریح ناظرین کو جیسا کہ پہلے معلوم ہو چکا ہے اذان کے دو پہلو ہیں یا کہنا چاہیے کہ اذان دو حیثیتوں کی جامع ہے، ایک یہ کہ وہ نماز باجماعت کا اعلان اور بلاوا ہے دوسرے یہ کہ وہ ایمان کی دعوت و پکار اور دین حق کا منشور ہے۔ پہلی حیثیت سے اذان سننے والے اور ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اذان کی آواز سنتے ہی نماز میں شرکت کے لیے تیار ہو جائے اور ایسے وقت مسجد میں پہنچ جائے کہ جماعت میں شریک ہو سکے۔ (1) اور دوسری حیثیت سے ہر مسلمان کو حکم ہے کہ وہ اذان سنتے وقت اس ایمانی دعوت کے ہر جزو اور ہر کلمے کی اور اس آسمانی منشور کی ہر دفعہ کی اپنے دل اور اپنی زبان سے تصدیق کرے اور اس طرح پوری اسلامی آبادی ہر اذان کے وقت اپنے ایمان عہد و میثاق کی تجدید کیا کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے اذان کا جواب دینے کی اور اس کے بعد دعا میں پھر کلمہ شہادت کی اپنے ارشادات میں جو تعلیم و ترغیب دی ہے۔ اس عاجز کے نزدیک اس کی خاص حکمت یہی ہے۔ واللہ اعلم۔ اس سے یہ بات بھی سمجھ میں آ جاتی ہے کہ اذان کا جواب جو بظاہر ایک معمولی سا عمل ہے اس پر داخلہ جنت کی بشارت کا کیا راز ہے؟

522Maarif-ul-Hadith

اذان کا جواب اور اس کے بعد کی دعا

عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : « مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ » (رواه مسلم)

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جو شخص موذن کی اذان سننے کے وقت (یعنی جب وہ اذان پڑھ کر فارغ ہو جائے) کہے کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور شہادت دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہین اور میں راضی و خوش ہوں اللہ کو رب مان کر اور حضرت محمد ﷺ کو رسول اللہ مان کر اور اسلام کو دین حق مان کر، تو اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ (صحیح مسلم) تشریح نیک اعمال کی برکت سے گناہوں کی بخشش کے بارے میں کچھ ضروری وضاحت وضو کے فضائل و برکات کے بیان میں کی جا چکی ہے وہ یہاں بھی ملحوظ رہنی چاہیے۔

523Maarif-ul-Hadith

اذان کا جواب اور اس کے بعد کی دعا

عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ : اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ ، وَالصَّلاَةِ القَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الوَسِيلَةَ وَالفَضِيلَةَ ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ ، حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ القِيَامَةِ " (رواه البخارى)

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی بندہ اذان سننے کے وقت اللہ تعالیٰ سے یوں دعا کرے “ اے اللہ اس دعوت تامہ کاملہ اور اس صلوٰۃ قائمہ و دائمہ کے رب! (یعنی اے وہ اللہ جس کے لیے اور جس کے حکم سے یہ اذان اور یہ نماز ہے (اپنے رسول پاک) محمد کو وسیلہ اور فضیلہ کے خاص درجہ اور مرتبہ عطا فرما اور ان کو اس مقام محمود پر سرفراز فرما جس کا تو نے ان کے لیے وعدہ فرمایا ہے۔ ” تو وہ بندہ قیامت کے ند میری شفاعت کا حق دار ہو گیا۔ (صحیح بخاری) تشریح اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے لیے تین چیزوں کی دعا کا ذکر کیا گیا ہے اور فرمایا گیا ہے کہ جو بندہ اذان سننے کے وقت اللہ تعالیٰ سے ان تین چیزوں کے رسول اللہ ﷺ کو عطا کرنے کی دعا کرے گا وہ قیامت کے دن شفاعت محمدی ﷺ کا خاص طور سے حق دار ہو گا۔ ایک وسیلہ۔ دوسرے فضیلۃ۔ تیسرے مقام محمود۔ صحیح مسلم کی ایک حدیث میں اس وسیلہ کی تشریح خود رسول اللہ ﷺ سے یہ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مقبولیت و محبویت کا ایک خاص الخاص مقام و مرتبہ اور جنت کا ایک مخصوص و ممتاز درجہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے کسی ایک ہی بندہ کو ملنے والا ہے، اور سمجھنا چاہیے کہ فضیلۃ بھی گویا اسی مقام اختصاص و امتیاز کا ایک عنوان ہے اور اسی طرح مقام محمود و مقام عزت ہے جس پر فائز ہونے والا ہر ایک کی نگاہ میں محمود اور محترم ہو گا اور سب اس کے ثنا خواں اور شکر گزار ہوں گے۔ اسی سلسلہ میں معارف الحدیث کی پہلی جلد میں شفاعت کے بیان مین وہ حدیثیں ناظرین کی نظر سے گزر چکی ہوں گی جن مین بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے جلال کے ظہور کا خاص دن ہو گا اور سارے انسان اپنے اعمال اور احوال کے اختلاف کے باوجود اس وقت دہشت زدہ اور پریشان ہوں گے۔ حتیٰ کہ حضرت نوح و ابراہیم اور موسیٰ و عیسیٰ علیہم السلام جیسے اولو العزم پیغمبر بھی اللہ تعالیٰ کے حضور میں کچھ عرض کرنے کی ہمت نہ کر سکیں گے تو اس وقت سید الرسل حضرت محمد ﷺ ہی انا لها انا لها کہہ کرا حکم الحاکمین کی بارگاہ جلال میں سب سے پہلے سارے انسانوں کے لیے حساب اور فیصلہ کی استدعا اور شفاعت کریں گے اور اس کے بعد گنہگاروں کی سفارش اور ان کے دوزخ سے نکالے جانے کی استدعا کا دروازہ بھی آپ ہی کے اقدام سے کھلے گا، خود آپ ﷺ کا ارشاد ہے “ أَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ، وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ ” (سب سے پہلا شافع میں ہوں گا اور بارگاہ خداوندی میں سے سے پہلے میری ہی شفاعت قبول کی جائے گی) نیز آپ ﷺ کا ارشاد ہے “ أَنَا حَامِلُ لِوَاءِ الْحَمْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَحْتَهُ آدَمُ فَمَنْ دُوْنَهُ، وَلَا فَخْرَ ” (قیامت کے دن حمد کا جھنڈا میرے ہی ہاتھ میں ہو گا اور آدم اور ان کے علاوہ سارے انبیاء و رسل اور ان کے متبعین میرے اسی جھنڈے لواء الحمد کے نیچے ہوں گے) بس یہی وہ مقام ہے جس کے متعلق قرآن مجید میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا گیا ہے۔ “ عَسٰۤى اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا ” (بنی اسرائیل۔ ع ۱۰) (امید ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود عطا فرما دے)۔ الغرض وہ خاص الخاص مرتبہ اور درجہ جس کو حدیث میں وسیلہ اور فضیلہ کہا گیا ہے اور عزت و امتیاز اور محمودیت عامہ کا وہ مقام بلند جس کو قرآن مجید میں اور اس حدیث مقام محمود کہا گیا ہے۔ یقیناً رسول اللہ ﷺ کی ہم امتیوں پر یہ نوازش ہے کہ زیر تشریح حدیث میں آپ ﷺ نے ہم کو اس کی ترغیب دی کہ ہم بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ یہ درجے اور مقامات آپ ﷺ کو عطا کیے جائیں اور بتلایا کہ جو کوئی میرے لیے یہ دعا کرے گا وہ قیامت کے دن میری شفاعت کا خاص طور سے مستحق ہو گا۔ فائدہ ...... مندرجہ بالا تینوں حدیثوں پر عمل کرنے کا طریقہ اور ترتیب یہ ہے کہ موذن کی اذان کے ساتھ تو اس کے ہر کلمے کو دہرایا جائے جس طرح کہ حضرت عمر ؓ کی حدیث میں مذکور ہوا، اور اس کے بعد سعد بن ابی وقاص کی حدیث کے مطابق کہا جائے أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ (آخر تک) اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حضور میں دعا کی جائے “ اللهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ سے وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ ” تک۔ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں نقل کیا ہے کہ بیہقی کی روایت میں اس دعا کے آخر میں “ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ ” کا اضافہ بھی ہے اللہ تعالیٰ ہم کو توفیق دے کہ ان احکام کی روح کو سمجھ کر ان پر عمل کی حقیقی برکات حاصل کریں۔

524Maarif-ul-Hadith

مساجد: ان کی عظمت و اہمیت اور آداب و حقوق

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « أَحَبُّ الْبِلَادِ إِلَى اللهِ مَسَاجِدُهَا ، وَأَبْغَضُ الْبِلَادِ إِلَى اللهِ أَسْوَاقُهَا » (رواه مسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شہروں اور بستیوں میں سے اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ان کی مسجدیں ہیں اور سب سے زیادہ مبغوض ان کے بازار اور منڈیاں ہیں۔ (صحیح مسلم) تشریح جو عظیم و وسیع مقاصد نماز سے وابستہ ہیں جن میں سے بعض کی طرف حضرت شاہ ولی اللہ کے حوالے سے کچھ اشارے بھی کیے جا چکے ہیں۔ (1) ان کی تحصیل و تکمیل کے لیے یہ بھی ضروری تھا کہ نماز کا کوئی اجتماعی نظام ہو، اسلامی شریعت میں اس اجتماعی نظام کا ذریعہ مسجد اور جماعت کو بنایا گیا ہے، ذرا سا غور کرنے سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس امت کی دینی زندگی کی تشکیل و تنظیم اور تربیت و حفاظت میں مسجد اور جماعت کا کتنا بڑ ا دخل ہے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے ایک طرف تو جماعتی نظام کے ساتھ نماز ادا کرنے کی انتہائی تاکید فرمائی اور ترک جماعت پر سخت وعیدیں سنائیں (جیسا کہ ناظرین عنقریب ہی پڑھیں گے) اور دوسری طرف آپ ﷺ نے مساجد کی اہمیت پر زور دیا اور کعبۃ اللہ کے بعد بلکہ اسی کی نسبت سے ان کو بھی “ خدا کا گھر ” اور امت کا دینی مرکز بنایا اور ان کی برکات اور اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ان کی عظمت و محبوبیت بیان فرما کر امت کو ترغیب دی کہ ان کے جسم خواہ کسی وقت کہیں ہوں لیکن ان کے دلوں اور ان کی روحوں کا رخ ہر وقت مسجد کی طرف رہے، اسی کے ساتھ آپ ﷺ نے مساجد کے حقوق اور آداب بھی تعلیم فرمائے۔ اس سلسلے کے آپ ﷺ کے چند ارشادات ذیل میں پڑھئے! تشریح ..... انسان کی زندگی کے دو پہلو ہیں۔ ایک ملکوتی و روحانی، یہ نورانی اور لطیف پہلو ہے، اور دوسرا مادی و بہیمی جو ظلماتی اور کثیف پہلو ہے۔ ملکوتی و روحانی پہلو کا تقاضا اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کا ذکر جیسے مقدس اشغال و اعمال ہیں، انہیں سے اس پہلو کی تربیت و تکمیل ہوتی ہے اور انہیں کی وجہ سے انسان اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت و محبت کا مستحق ہوتا ہے، اور ان مبارک اشغال و اعمال کے خاص مراکز مسجدیں ہیں جو ذکر و عبادت سے معمور رہتی ہیں اور اس کی وجہ سے ان کو “ بیت اللہ ” سے ایک خاص نسبت ہے اس لیے انسانی بستیوں اور آبادیوں میں سے اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں سب سے زیادہ محبوب یہ مسجدیں ہی ہیں۔ اور بازار اور منڈیاں انے اصل موضوع کے لحاظ سے انسانوں کی مادی و بہیمی تقاضوں اور نفسانی خواہشوں کے مراکز ہیں اور وہاں جا کر انسان عموماً خدا سے غافل ہو جاتے ہین اور ان کی فضا غفلت اور منکرات و معصیات کی کثرت کی وجہ ظلماتی اور مکدررہتی ہے۔ اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں انسانی آبادیوں کا سب سے زیادہ مبغوض حصہ ہیں۔ حدیث کی اصل روح اور اس کا منشاء یہ ہے کہ اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ مسجدوں سے زیادہ سے زیادہ تعلق رکھیں اور ان کو اپنا مرکز بنائیں اور منڈیوں اور بازاروں میں صرف ضرورت سے جائیں اور ان سے دل نہ لگائیں اور وہاں کی آلودگیوں سے مثلاً جھوٹ، فریب اور بد دیانتی سے اپنی حفاظت کریں۔ ان حدود کی پابندی کے ساتھ بازاروں سے تعلق رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ بلکہ ایسے سودا گروں اور تاجروں کو خود رسول اللہ ﷺ نے جنت کی بشارت سنائی ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام اور اصول دیانت و امانت کی پابندی کے ساتھ تجارتی کاروبار کریں اور یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ بیت الخلا غلاظت اور گندگی کی جگہ ہونے کی وجہ سے اگرچہ اصلا سخت ناپسندیدہ مقام ہے لیکن ضرورت کے بقدر اس سے بھی تعلق رکھا جاتا ہے، بلکہ وہاں کے آنے جانے میں اور قضاء حاجت میں اگر بندہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور رسول اللہ ﷺ کی ہدایات و سنن کا لحاظ رکھے تو بہت کچھ ثواب بھی کما سکتا ہے۔

525Maarif-ul-Hadith

مساجد: ان کی عظمت و اہمیت اور آداب و حقوق

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ ، يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ : الإِمَامُ العَادِلُ ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ رَبِّهِ ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي المَسَاجِدِ ، وَرَجُلاَنِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ : إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لاَ تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ" (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سات قسم کے آدمی ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے سایہ میں جگہ دے گا۔ قیامت کے اس دن میں جس دن کہ اس کے سایہ رحمت کے سوا کوئی دوسرا سایہ نہیں ہو گا، ایک عدل و انصاف سے حکمرانی کرنے والا فرمانروا، دوسرا وہ جوان جس کی نشوونما اللہ تعالیٰ کی عبادت میں ہوئی (یعنی جو بچپن سے عبادت گزار تھا اور جوانی میں بھی عبادت گزار رہا اور جوانی کی مستیوں نے اسے غافل نہیں کیا) تیسرا وہ مرد مومن جس کا حال یہ ہے کہ مسجد سے باہر جانے کے بعد بھی اس کا دل مسجد ہی سے اٹکا رہتا ہے جب تک کہ پھر مسجد میں نہ آ جائے، اور چوتھے وہ دو آدمی جنہوں نے اللہ کے لیے باہم محبت کی، اسی پر جڑے رہے اور اسی پر الگ ہوئے (یعنی ان کی محبت صرف منہ دیکھے کی محبت نہیں جیسی کہ اہل دنیا کی محبتیں ہوتی ہیں، بلکہ ان کا حال یہ ہے کہ جب یکجا اور ساتھ ہیں جب بھی محبت ہے اور جب ایک دوسرے سے الگ اور غائب ہوتے ہیں جب بھی ان کے دل للہی محبت سے لبریز ہوتے ہیں) پانچواں خدا کا وہ بندہ جس نے اللہ کو یاد کیا تنہائی میں تو اس کے آنسو بہہ پڑے اور چھٹا وہ مردِ خدا جسے حرام کی دعوت دی کسی ایسی عورت نے جو خوبصورت بھی ہے اور صاحب وجاہت و عزت بھی، تو اس بندے نے کہا کہ میں خدا سے ڈرتا ہوں اس لیے حرام کی طرف قدم نہیں اتھا سکتا) اور ساتواں وہ شخص جس نے اللہ کی راہ میں کچھ صدقہ کیا اور اس قدر چھپا کر کیا کہ گویا اس کے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہیں کہ اس کا داہنا ہاتھ اللہ کی راہ میں کیا خرچ کر رہا ہے اور کس کو دے رہا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اس حدیث میں تیسرے نمبر پر اس شخص کو اللہ کے سایہ رحمت کی بشارت سنائی گئی ہے جس کا حال یہ ہو کہ مسجد سے باہر ہونے کی حالت میں بھی اس کا دل مسجد میں اٹکا رہے۔ بے شک مومن کا حال یہی ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ان سات باتوں میں سے کوئی نہ کوئی بات ہم کو بھی نصیب فرمائے۔

526Maarif-ul-Hadith

مساجد: ان کی عظمت و اہمیت اور آداب و حقوق

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَنْ غَدَا إِلَى المَسْجِدِ وَرَاحَ ، أَعَدَّ اللَّهُ لَهُ نُزُلَهُ مِنَ الجَنَّةِ كُلَّمَا غَدَا أَوْ رَاحَ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو بندہ جس وقت بھی صبح کو یا شام کو اپنے گھر سے نکل کر مسجد کی طرف جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے واسطے جنت کی مہمانی کا سامان تیار کراتا ہے۔ وہ جتنی دفعہ بھی صبح یا شام کو جائے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بندہ صبح یا شام جس وقت بھی اور دن میں جتنی دفعہ بھی خدا کے گھر میں (یعنی مسجد میں) حاضر ہوتا ہے، رب کریم اس کو اپنے عزیز مہمان کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ہر دفعہ کی حاضری پر جنت میں اس کے لیے مہمانی کا خاص سامان تیار کراتا ہے، جو وہاں پہنچنے کے بعد بندہ کے سامنے آنے والا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ رب کریم کے جنت والے سامان مہمانی کا یہاں کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا، کنز العمال میں تاریخ حاکم کے حوالے سے بروایت عبداللہ بن عباس ایک حدیث کے الفاظ یہ نقل کئے گئے ہیں۔ المساجد بيوت الله والمؤمنون زوار الله، وحق على المزور أن يكرم زائره. (کنز العمال ص ۱۲۴، ج ۴) مسجدیں اللہ کے گھر ہیں اور ان میں حاضر ہونے والے اہل ایمان اللہ تعالیٰ کے ملاقاتی (اور مہمان) ہیں اور جن کی ملاقات کو کوئی آئے اس پر حق ہے کہ وہ آنے والے ملاقات کا اکرام اوراس کی خاطر داری کرے۔ “ تاریخ حاکم ” جس کے حوالے سے یہ روایت کنزالعمال میں نقل کی گئی ہے اس کی روایتیں محدثین کے نزدیک عموماً ضعیف ہیں خود کنز العمال کے مقدمہ میں بھی اس کی تصریح کر دی گئی ہے۔ لیکن اس کی اس روایت کا مضمون بخاری و مسلم کی مندرجہ بالا ابو ہریرہؓ والی حدیث کے بالکل مطابق ہے اس لیے تشریح میں یہاں اس کو نقل کر دینا مناسب معلوم ہوا۔ (1)

527Maarif-ul-Hadith

مساجد: ان کی عظمت و اہمیت اور آداب و حقوق

عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلاَةُ الرَّجُلِ فِي الجَمَاعَةِ تُضَعَّفُ عَلَى صَلاَتِهِ فِي بَيْتِهِ ، وَفِي سُوقِهِ ، خَمْسًا وَعِشْرِينَ ضِعْفًا ، وَذَلِكَ أَنَّهُ : إِذَا تَوَضَّأَ ، فَأَحْسَنَ الوُضُوءَ ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى المَسْجِدِ ، لاَ يُخْرِجُهُ إِلَّا الصَّلاَةُ ، لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً ، إِلَّا رُفِعَتْ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ ، وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ ، فَإِذَا صَلَّى ، لَمْ تَزَلِ المَلاَئِكَةُ تُصَلِّي عَلَيْهِ ، مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ ، وَلاَ يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَةٍ مَا انْتَظَرَ الصَّلاَةَ " (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آدمی کی نماز جو وہ جماعت سے مسجد میں ادا کرے اس کی اس نماز کے مقابلہ میں جو اپنے گھر میں یا بازار میں پڑھے (ثواب میں) پچیس گنا زیادہ ہوتی ہے اور وجہ یہ ہے کہ جب وہ بندہ اچھی طرح وضو کر کے مسجد کی طرف جاتا ہے اور اس جانے میں نماز کے سوا اس کا کوئی دنیوی مقصد نہیں ہوتا، تو اس کے ہر قدم پر اس کا ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے اور اس کی ایک خطا معاف کر دی جاتی ہے، پھر جب وہ نماز پڑھتا ہے تو فرشتے اس وقت تک برابر اس کے حق میں عنایت اور رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں جب تک کہ وہ نماز پڑھنے کی جگہ میں رہے، ان فرشتوں کی دعا یہ ہوتی ہے، اے اللہ اپنے اس بندے پر خاص عنایت فرما۔ اس پر رحمت فرما! اور جب تک تم میں سے کوئی نماز کے انتظار میں مسجد میں رہتا ہے، اللہ کے نزدیک اور اس کے حساب میں وہ برابر نماز ہی میں رہتا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح مسجد میں جماعت سے نماز پڑھنے پر بہ نسبت گھر اور دکان وغیرہ کے ۲۵ گنا ثواب اور راستہ کے ہر قدم پر ایک درجہ کی بلندی اور ایک گناہ کی معافی، یہ کتنی بڑی اور کتنی ارزاں دولت ہے؟ اور پھر اس سے بھی آگے فرشتوں کی دعا اللهم صلى عليه اللهم ارحمه کیسی عظیم نعمت ہے۔ اس کے علاوہ اس حدیث کی ایک دوسری روایت میں فرشتوں کی اس دعا میں اللهم اغفر له اللهم تب عليه کا اضافہ بھی ہے (یعنی اے اللہ اس بندے کی مغفرت فرما دے، اس کی توبہ کو قبول فرما لے)۔ نیز اسی روایت کے آخر میں ایک اضافہ یہ بھی ہے مالم يوذ فيه مالم يحدث یعنی نماز کے بعد مسجد میں بیٹھنے والے اس بندے کے حق میں فرشتے یہ دعائیں اس وقت تک برابر کرتے رہتے ہیں جب تک وہ کسی کو اپنے ہاتھ یا اپنی زبان سے ایذا نہ پہنچائے یا اس کا وضو ٹوٹ نہ جائے۔

528Maarif-ul-Hadith

مساجد: ان کی عظمت و اہمیت اور آداب و حقوق

عَنْ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ائْذَنْ لَنَا فِي التَّرَهُّبِ ، فَقَالَ : « إِنَّ تَرَهُّبَ أُمَّتِي الْجُلُوسُ فِي الْمَسَاجِدِ انْتِظَارَ الصَّلاةِ » (رواه فى شرح السنة)

حضرت عثمان بن مظعون ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ حضرت مجھ کو رہبانیت اختیار کرنے کی اجازت دے دیجئے۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کی رہبانیت نماز کے انتظار میں مسجدوں میں بیٹھنا ہے۔ (شرح السنہ) تشریح رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہؓ میں دینوی معاملات اور دنیا کی لذتوں سے بے تعلق اور کنارہ کش ہو جانے کا جذبہ پیدا ہوتا تھا اور وہ اس باب میں رسول اللہ ﷺ سے عرض معروض کرتے تھے۔ اس حدیث کے راوی عثمان بن مظعون ؓ میں یہ رجحان بہت تیز تھا، انہوں نے ایک دفعہ کئی باتیں اسی طرح کی حضور ﷺ سے عرض کیں، ان میں سے آخری بات یہ تھی کہ ہمیں رہبانیت اختیار کرنے کی اجازت دے دی جائے جس کے بعد ہم تارک الدنیا راہبوں والی زندگی گزاریں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کا جو جواب دیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جن روحانی مقاصد اور اخروی منافع کے لیے پہلی امتوں میں رہبانیت تھی میری امت کو وہ چیزیں نماز کے انتظار میں مسجد میں بیٹھنے ہی پر اللہ تعالیٰ عطا فرمانے والے ہیں اور بس یہی میری امت کی رہبانیت اور درویشی ہے۔ دراصل نماز کے انتظار میں مسجد میں بیٹھنا بھی ایک طرح کا “ اعتکاف ” ہے۔ کاش ہم اس کی قدر و قیمت جانیں۔

529Maarif-ul-Hadith

مساجد: ان کی عظمت و اہمیت اور آداب و حقوق

عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ » (رواه الترمذى وابوداؤد)

حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے جو بندے اندھیروں میں مسجدو ں کو جاتے ہیں، ان کو بشارت سناؤ کہ (ان کے اس عمل کے صلہ میں) قیامت کے دن ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نور کامل عطا ہو گا۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد) تشریح رات کے اندھیروں میں نماز کے لیے پابندی سے مسجد جانا بلا شبہ بڑا مجاہدہ اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچے تعلق کی دلیل ہے، ایسے بندوں کو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی زبانی بشارت سنوائی ہے کہ ان کے اس عمل کے صلہ میں قیامت کے اندھیروں میں ان کو اللہ تعالیٰ کیطرف سے نور کامل عطا فرما دیا جائے گا۔ فبشرى لهم وطوبى لهم.

530Maarif-ul-Hadith

مسجد میں داخل ہونے اور باہر آنے کی دعا

عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ ، فَلْيَقُلْ : اللهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ ، وَإِذَا خَرَجَ ، فَلْيَقُلْ : اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ ". (رواه مسلم)

حضرت ابو اسید ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہونے لگے تو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرے اللهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ (اے اللہ میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے) اور جب مسجد سے باہر جانے لگے تو دعا کرے اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ (اے اللہ میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں تو میرے لیے اس کا فیصلہ فرما دے)۔ (صحیح مسلم) تشریح قرآن و حدیث میں رحمت کا لفظ زیادہ تر اخروی اور دینی و روحانی انعامات کے لیے اور فضل کا لفظ رزق وغیرہ دنیوی نعمتوں کی داد دہش اور ان میں زیادتی کے لیے استعمال کیا گیا ہے اس لیے رسول اللہ ﷺ نے مسجد کے داخلہ کے لیے فتح باب رحمت کی دعا تعلیم فرمائی، کیوں کہ مسجد دینی و روحانی اور اخروی نعمتوں ہی کے حاصل کرنے کی جگہ ہے اور مسجد سے نکلتے وقت کے لیے اللہ سے اس کا فضل یعنی دینوی نعمتوں کی فراوانی مانگنے کی تلقین فرمائی، کیوں کہ مسجد سے باہر کی دنیا کے لیے یہی مناسب ہے۔ ان دونوں باتوں کا خاص منشاء یہ ہےکہ مسجد میں آنے اور جانے کے وقت بندہ غافل نہ ہو اور ان دونوں حالتوں میں اللہ تعالیٰ کیطرف اس کی توجہ سائلانہ ہو۔

531Maarif-ul-Hadith

تحیۃ المسجد

عَنْ أَبِي قَتَادَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : « إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ المَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو اس کو چاہیے کے بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح مسجد کو اللہ تعالیٰ سے ایک خاص نسبت اور اسی نسبت سے اس کو “ خانہ خدا ” کہا جاتا ہے، اس لیے اس کے حقوق اور اس میں داخلہ کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ وہاں جا کر بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز ادا کی جائے، یہ گویا بارگاہ خداوندی کی سلامی ہے، اس لیے اس کو “ تحیۃ المسجد ” کہتے ہیں (تحیۃ کے معنی سلامی کے ہیں) لیکن یہ حکم جمہور ائمہ کے نزدیک استحبابی ہے۔ ف....... اس حدیث میں صراحۃً حکم ہے کہ تحیۃ المسجد کی یہ دو رکعتیں مسجد میں بیٹھنے سے پہلے پڑھنی چاہئیں، بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ مسجد میں جا کر پہلے قصداً بیٹھتے ہیں اس کے بعد کھڑے ہو کر نماز کی نیت کرتے ہیں معلوم نہیں یہ غلطی کہاں سے رواج پا گئی ہے۔ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اب سے چار صدی پہلے ان کے زمانہ کے عام مسلمانوں میں بھی یہ غلطی رائج تھی۔

532Maarif-ul-Hadith

تحیۃ المسجد

عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ « كَانَ لَا يَقْدَمُ مِنْ سَفَرٍ إِلَّا نَهَارًا فِي الضُّحَى ، فَإِذَا قَدِمَ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ ، فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ جَلَسَ فِيهِ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا دستور تھا کہ سفر سے واپسی میں آپ ﷺ دن ہی میں چاشت کے وقت مدینہ میں تشریف لاتے اور پہلے مسجد میں رونق افروز ہوتے تھے اور وہاں دو رکعت نماز پڑھنے کے بعد وہیں (کچھ دیر تک) تشریف رکھتے تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح دوسری بعض حدیثوں میں یہ تفصیل آتی ہے کہ آپ ﷺ سفر سے واپسی میں آخری منزل عموماً مدینہ طیبہ کے قریب ہی فرماتے تھے، جس کی وجہ سے مدینہ طیبہ میں یہ اطلاع ہو جاتی تھی کہ آپ ﷺ فلاں مقام پر ٹھہر گئے اور کل صبح تشریف لانے والے ہیں، پھر علی الصبح آپ ﷺ اس منزل سے روانہ ہو کر کچھ دن چڑھے یعنی چاشت کے وقت مدینہ طیبہ میں رونق افروز ہوتے تھے اور سب سے پہلے سیدھے اپنی مسجد مبارک میں تشریف لاتے تھے، گویا گھر والوں کی ملاقات سے بھی پہلے بارگاہ خداوندی میں حاضر ہو کر اس کے حضور ﷺ میں یہ ہدیہ عبودیت پیش کرتے تھے، پھر اس کے بعد بھی کچھ دیر تک مسجد ہی میں تشریف رکھتے تھے اور مشتاقان زیارت وہیں آ کر آپ ﷺ سے ملاقات کی سعادت حاصل کرتے تھے۔ یہ تھا مسجد کے تعلق کے بارہ میں آنحضرت ﷺ کا اسوہ حسنہ، اللہ تعالیٰ ہم امتیوں کو اس کی روح کو سمجھنے اور اس کی پیروی کرنے کی توفیق دے۔

533Maarif-ul-Hadith

مسجد سے تعلق ایمان کی نشانی

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ يَتَعَاهَدُ الْمَسْجِدَ فَاشْهَدُوا لَهُ بِالإِيمَانِ ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ : {إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ. (رواه الترمذى وابن ماجه والدارمى)

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تک کسی شخص کو دیکھو کہ وہ مسجد سے تعلق رکھتا ہے اور اس کی خدمت اور نگہداشت کرتا ہے تو اس کے لیے ایمان کی شہادت دو، کیوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ کی مسجدوں کو آباد وہی لوگ کرتے ہیں جو ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور یوم آخرت پر۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، مسند دارمی) تشریح مطلب یہ ہے کہ مسجد اللہ تعالیٰ کی عبادت کا مرکز اور دین مقدس کا شعار و نشان ہے اس لیے اس کے ساتھ مخلصانہ تعلق اور اس کی خدمت و نگہداشت اور اس بات کی فکر و سعی کہ وہ اللہ کے ذکر و عبادت سے معمور اور آباد رہے، یہ سب سچے ایمان کی نشانی اور دلیل ہے۔

534Maarif-ul-Hadith

مسجدوں میں صفائی اور خوشبو کا حکم

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبِنَاءِ المَسْجِدِ فِى الدُّوْرِ وَاَنْ يُّنَظَّفَ وَيُطَيَّبَ. (رواه ابوداؤد والترمذى وابن ماجه)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا محلوں میں مسجدیں بنانے اور یہ بھی حکم دیا کہ ان کی صفائی کا اور خوشبو کے استعمال کا اہتمام کیا جائے۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ) تشریح مطلب یہ ہے کہ جو محلے اور آبادیاں دور دور ہوں (جیسا کہ مدینہ کے قرب و جوار کی بستیوں کا حال تھا) تو ضرورت کے مطابق وہاں مسجدیں بنائی جائیں اور ہر قسم کے کوڑے کرکٹ سے ان کی صفائی کا اور ان میں خوشبو کے استعمال کا انتظام کیا جائے، مسجدوں کی دینی عظمت اور اللہ تعالیٰ سے ان کی نسبت کا یہ بھی خاص حق ہے۔

535Maarif-ul-Hadith

مسجد بنانے کا اجر

عَنْ عُثْمَانَ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا بَنَى اللَّهُ لَهُ بِهِ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عثمان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی اللہ کے لیے (یعنی صرف اس کی خوشنودی اور اس کا ثواب حاصل کرنے کی نیت سے) مسجد تعمیر کرائے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک شاندار محل تعمیر فرمائیں گے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حدیث و قرآن کے بہت سے ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ آخڑت میں ہر عمل کا صلہ اس کے مناسب عطا ہو گا۔ اس بنیاد پر مسجد بنانے والے کے لیے جنت میں ایک شاندار محل عطا ہونا یقیناً قرین حکمت ہے۔

536Maarif-ul-Hadith

مسجدوں کی ظاہری شان و شوکت اور ٹیپ ٹاپ پسندیدہ نہیں

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَا أُمِرْتُ بِتَشْيِيدِ الْمَسَاجِدِ » ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَتُزَخْرِفُنَّهَا كَمَا زَخْرَفَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى. (رواه ابوداؤد)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے خدا کی طرف سے حکم نہیں دیا گیا ہے مسجدوں کو بلند اور شاندار بنانے کا (یہ حدیث بیان فرمانے کے بعد حدیث کے راوی عبداللہ بن عباسؓ نے بطور پیشن گوئی) فرمایا کہ یقینا تم لوگ اپنی مسجدوں کی آرائش و زیبائش اسی طرح کرنے لگو گے جس طرح یہود و نصاریٰ نے اپنی عبادت گاہوں میں کی ہے۔ (سنن ابی داؤد) تشریح رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد “ ما امرت بتشهيد المساجد ” کا منشاء اور اس کی روح یہ ہے کہ مسجدوں میں ظاہری شان و شوکت اور ٹیپ ٹاپ مطلوب اور محمود نہیں ہے بلکہ ان کے لیے سادگی ہی مناسب اور پسندیدہ ہے۔ آگے حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے مسجدوں کے متعلق امت کے بے راہ روی کے بارے میں جو پیشن گئی فرمائی ظاہر یہی ہے کہ وہ بات بھی انہوں نے کسی موقع پر رسول اللہ ﷺ ہی سے سنی ہو گی۔ سنن ابن ماجہ میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ ہی کی روایت سے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا گیا ہے۔ أَرَاكُمْ سَتُشَرِّفُونَ مَسَاجِدَكُمْ بَعْدِي، كَمَا شَرَّفَتِ الْيَهُودُ كَنَائِسَهَا، وَكَمَا شَرَّفَتِ النَّصَارَى بِيَعَهَا (کنز العمال بحالہ ابن ماجہ) میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ ایک وقت (جب میں تم میں نہ ہوں گا) اپنی مسجدوں کو اسی طرح شاندار بناؤ گے جس طرح یہود نے اپنے کنیسے بنائے ہیں اور نصاریٰ نے اپنے گرجے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے (جو رسول اللہ ﷺ کے بعد قریباً ساٹھ سال تک اس دنیا میں رہے) مسلمانوں کے مزاج اور طرز زندگی میں تبدیلی کا رخ اور کی رفتار دیکھ کر یہ پیشن گوئی فرمائی ہو۔ بہت حال پیشن گوئی کی بنیاد جو بھی ہو وہ حرف بحرف پوری ہوئی، خود ہم نے اپنی آنکھوں سے ہندوستان ہی کے بعض علاقوں میں ایسی مسجدیں دیکھی ہیں جن کی آرائش و زیبائش کے مقابلے میں ہمارا خیال ہے کہ کوئی کنیسہ اور کوئی گرجہ پیش نہیں کیا جا سکتا۔

537Maarif-ul-Hadith

مسجدوں کی ظاہری شان و شوکت اور ٹیپ ٹاپ پسندیدہ نہیں

عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ : أَنْ يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ " (رواه ابوداؤد والنسائى والدارمى وابن ماجه)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مسجدوں کے بارے میں لوگ ایک دوسرے کے مقابلہ میں فخر و مباہات کرنے لگیں گے۔ (یعنی اپنا تفوق اور اپنی بڑائی ظاہر کرنے کے لیے ایک کے مقابلہ میں ایک شاندار مسجد بنائے گا) (سنن ابی داؤد، سنن نسائی، مسند دارمی، سنن ابن ماجہ) تشریح قیامت کی نشانیوں میں سے بعض تو وہ ہیں جو اس کے بالکل قریب ظاہر ہوں گی، جیسے خروج دجال اور آفتاب کا مغرب کی سمت سے طلوع ہونا وغیرہ وغیرہ اور بعض وہ ہیں جو قیامت سے پہلے کسی نہ کسی وقت ظاہر ہو گی۔ رسول اللہ ﷺ نے امت میں پیدا ہونے والی جن خرابیوں اور جن فتنوں کو قیامت کی نشانیوں میں سے بیاتا ہے وہ اکثر اسی قسم کی ہیں۔ اور مسجدوں کے بارہ میں فخر و مباہات بھی انہی میں سے ہے اور مسلمان اب سے بہت پہلے اس میں مبتلا ہو چکے ہیں۔اللهم اصلح امة سيدنا محمد صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

538Maarif-ul-Hadith

بدبو دار چیز کھا کر مسجد میں آنے کی ممانعت

عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُنْتِنَةِ ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَأَذَّى ، مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الْإِنْسُ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اس بدبودار درخت (پیاز یا لہسن) سے کھائے وہ ہماری مسجد میں نہ آئے کیونکہ جس چیز سے آدمیوں کو تکلیف ہوتی ہے اس سے فرشتوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح مسجدوں کی دینی عظمت اور حق تعالیٰ کے ساتھ ان کی خاص نسبت کا ایک حق یہ بھی ہے کہ ہر قسم کی بدبو سے ان کی حفاظت کی جائے، چونکہ لہسن اور پیاز میں بھی ایک طرح کی بدبو ہوتی ہے اور بعض مخصوص علاقوں میں پیدا ہونے والی ان دونوں چیزوں کی بو بہت ہی تیز اور سخت ناگوار ہوتی ہے اور حضور ﷺ کے زمانے میں لوگ ان کو کچا بھی کھاتے تھے اس لیے آپ ﷺ نے حکم دیا کہ ان کو کھا کر کوئی آدمی مسجد میں نہ آئے اور اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس چیز سے سلیم الطبع آدمیوں کو اذیت ہوتی ہے اس سے اللہ کے فرشتوں کو بھی اذیت ہوتی ہے اور مسجدوں میں چونکہ فرشتوں کی آمدو رفت بڑی کثرت سے ہوتی ہور خاص کر نماز میں وہ بنی آدم کے ساتھ بڑی تعداد میں شریک رہتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ بدبو جیسی کسی بھی چیز سے ان مقدس اور محترم مہمانوں کو ایذا نہ پہنچے۔ ایک دوسری حدیث میں صراحت کے ساتھ پیاز اور لہسن دونوں کا نام لے کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان کو کھا کر کوئی ہماری مسجد میں نہ آیا کرے۔ اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ اگر کسی کو یہ چیزیں کھانی ہی ہوں تو وہ پکا کر ان کی بدبو زائل کر لیا کرے۔ (1) ان حدیثوں میں اگرچہ صرف پیاز اور لہسن کا ذکر آیا ہے، لیکن ظاہر ہے کہ ہر بدبو دار چیز بلکہ ہر اس چیز کا جس سے سلیم الفطرت انسانوں کو اذیت پہنچے یہی حکم ہے۔

539Maarif-ul-Hadith

مسجدوں میں شعر بازی اور خرید و فروخت کی ممانعت

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : « نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَنَاشُدِ الأَشْعَارِ فِي الْمَسْجِدِ ، وَعَنِ البَيْعِ وَالاِشْتِرَاءِ فِيهِ ، وَأَنْ يَتَحَلَّقَ النَّاسُ فِيهِ يَوْمَ الجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلاَةِ فِي الْمَسْجِدِ. (رواه ابوداؤد والترمذى)

عمرو بن شعیب روایت کرتے ہیں اپنے والد شعیب سے اور وہ روایت کرتے ہیں اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجدوں میں شعر بازی کرنے سے اور خرید و فروخت کرنے سے منع فرمایا ار اس سے بھی منع فرمایا کہ جمعہ کے دن مسجد میں نماز سے پہلے لوگ اپنے حلقے بنا بنا کر بیٹھیں۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی) تشریح مسجدوں کی دینی عظمت کا یہ بھی حق ہے کہ جو مشغلے اللہ کی عبادت سے اور دین سے قریبی تعلق نہ رکھتے ہوں وہ اگرچہ فی نفسہ جائز ہوں (خواہ کاروباری ہوں جیسے تجارت سودا گری یا تفریحی ہوں جیسے مشاعرے اور ادبی مجلسیں) مسجدیں ان کے لیے استعمال نہ کی جائیں۔ مسجد میں شعر بازی اور خرید و فروخت کی ممانعت کی بنیاد یہی ہے حدیث کا آخری جز جو جمعہ کے دن سے متعلق ہے اس کا منشاء اور مطلب بظاہر یہ ہے کہ جو لوگ جمعہ کے دن نماز کے لیے پہلے سے مسجد پہنچ جائیں (جس کی خود حدیثوں میں ترغیب دی گئی ہے) ان کو چاہیے کہ وہ نماز تک یکسوئی کے ساتھ ذکر و عبادات اور دعا جیسے اشغال میں مشغول رہیں اپنے الگ الگ حلقے اور مجلسیں قائم نہ کریں۔ واللہ اعلم۔

540Maarif-ul-Hadith

چھوٹے بچوں سے اور شور و شغب وغیرہ سے مسجدوں کی حفاظت

عَنْ وَاثِلَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « جَنِّبُوا مَسَاجِدَكُمْ صِبْيَانَكُمْ ، وَمَجَانِينَكُمْ ، وَشِرَاءَكُمْ ، وَبَيْعَكُمْ ، وَخُصُومَاتِكُمْ ، وَرَفْعَ أَصْوَاتِكُمْ ، وَإِقَامَةَ حُدُودِكُمْ ، وَسَلَّ سُيُوفِكُمْ. (رواه ابن ماجه)

واثلہ بن الاسقع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اپنی مسجدوں سے دور اور الگ رکھو اپنے چھوٹے بچوں کو اور دیوانوں کو (ان کو مسجدوں میں نہ آنے دو) اور اسی طرح مسجدوں سے الگ اور دور رکھو اپنی خرید و فروخت کو اور اپنے باہمی جھگڑوں ٹنٹوں کو اور اپنے شور و شغب کو اور حدوں کی قائم کرنے کو اور تلواروں کو نیاموں سے نکالنے کو (یعنی ان میں سے کوئی بات بھی مسجدوں کی حدود میں نہ ہو، یہ سب باتیں مسجد کے تقدس اور احترام کے خلاف ہیں)۔ (سنن ابن ماجہ)