ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو احرام باندھتے وقت، اور احرام کھولتے وقت خوشبو لگائی ١ ؎۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "I applied perfume to the Messenger of Allah ﷺ for his ihram when he entered ihram, and when he exited Ihram."
Notes · وضاحت
١ ؎: حلق یعنی سر منڈانا اور تقصیر یعنی بال کترانا دونوں جائز ہیں، لیکن حلق افضل ہے، کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے تین بار حلق کرانے والوں کے لیے دعا کی، حج میں حلق ا فضل ہے، حلق اور تقصیر حج اور عمرہ کا ایک رکن ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈانے والوں کو بخش دے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اور بال کتروانے والوں کو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈانے والوں کو بخش دے ، آپ نے یہ تین بار فرمایا: تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اور بال کتروانے والوں کو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اور بال کتروانے والوں کو بھی ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "O Allah, forgive those who shave (their heads)."They said: "O Messenger of Allah, and those who cut (their hair)? He said: "O Allah, forgive those who shave (their heads)," three times. They said: "O Messenger of Allah, and those who cut (their hair)?" He said: "And those who cut (their hair)."
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث سے معلوم ہوا کہ سر منڈانا کتروانے سے افضل ہے کیونکہ سر منڈوانے والوں کے لیے آپ ﷺ نے تین بار دعا کی، اور بال کتروانے والوں کے لیے ایک بار اور وہ بھی آخر میں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٢٧ (١٧٢٨)، صحیح مسلم/الحج ٥٥ (١٣٠٢)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٣١) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے ، لوگوں نے عرض کیا: اور بال کٹوانے والوں پر؟ اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے ، لوگوں نے عرض کیا: اور بال کٹوانے والوں پر؟ اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے ، لوگوں نے عرض کیا: اور بال کٹوانے والوں پر؟ اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: اور بال کٹوانے والوں پر بھی ۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "May Allah have mercy on those who shave (their heads)." They said: "And those who cut (their hair), O Messenger of Allah ﷺ He said: "May Allah have mercy on those who shave (their heads)." They said: "And those who cut (their hair), O Messenger of Allah ﷺ " He said, "May Allah have mercy on those who shave (their heads)." They said: "And those who cut (their hair), O Messenger of Allah ﷺ " He said: And those who cut (their hair).”
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا کہ اللہ کے رسول! آپ نے بال منڈوانے والوں کے لیے تین بار دعا فرمائی، اور بال کتروانے والوں کے لیے ایک بار، اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: انہوں نے شک نہیں کیا ١ ؎۔
It was narrated that lbn ‘Abbas said: "It was said: O Messenger of Allah, why did you support (by supplicating for) those who shave (their heads) three times and those who cut,(their hair) only once? He said: Because they did not entertain any doubts.
Notes · وضاحت
١ ؎: بلکہ جس حکم کو اللہ تعالیٰ نے پہلی بار بیان کیا اسی پر عمل کیا، قرآن شریف میں ہے: محلقين رؤوسکم ومقصرين (سورة الفتح: 27) تو پہلے حلق کو ذکر فرمایا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٤١٠، ومصباح الزجاجة: ١٠٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٥٣) (حسن )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین حفصہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا بات ہے لوگوں نے اپنے عمرے سے احرام کھول دیا، اور آپ نے نہیں کھولا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے اپنے سر کی تلبید ١ ؎ کی تھی، اور ہدی (کے جانور) کو قلادہ پہنایا تھا ٢ ؎ اس لیے جب تک میں قربانی نہ کرلوں حلال نہیں ہوسکتا ٣ ؎۔
It was narrated from Ibn Umar that Hafsah, the wife of the Prophet, said: "I said: O Messenger of Allah, what is the matter with people who have exited Ihram when you have not exited your Ihram? He said: I have applied something to my head to keep my hair together, and I have garlanded my sacrificial animal, so I will not exit Ihram until I have offered my sacrifice.
Notes · وضاحت
١ ؎: تلبید کہتے ہیں بالوں کو گوند وغیرہ سے جما لینا تاکہ پریشان نہ ہوں، اور احرام کے وقت گرد و غبار سے سر محفوظ رہے۔ ٢ ؎: ہدی کے جانور کو قلادہ پہنانے کو تقلید کہتے ہیں، تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ ٣ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تلبید جائز ہی نہیں بلکہ مسنون ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو لبیک پکارتے ہوئے سنا، اس حال میں کہ آپ سر کی تلبید کیے ہوئے تھے۔
It was narrated from Salim, from his father: "I heard the Messenger of Allah ﷺ reciting the Talbiyah when he entered Ihram with something applied to his head to keep the hair together.
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پورا منیٰ قربانی کی جگہ ہے، اور مکہ کی سب گلیاں راستے، قربانی کی جگہیں ہیں، پورا عرفات اور پورا مزدلفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے ۔
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah ﷺ said: "All of Mina is a place of sacrifice. Every road of Makkah is a thoroughfare and a place of sacrifice. All of Arafat is the place of standing and all of Muzdalifah is a place of standing."
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/المناسک ٦٥ (١٩٣٧)، (تحفة الأشراف: ٢٣٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٢٦)، سنن الدارمی/المناسک ٥٠ (١٩٢١) (حسن صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے جب بھی اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے حج کے کسی عمل کو دوسرے پر مقدم کردیا، تو آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے یہی اشارہ کیا کہ کوئی حرج نہیں ۔
. It was narrated that Ibn ‘Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ was never asked about someone who had done one thing before another, but he would gesture with both his hands to say: There is no harm in that."
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ منیٰ کے دن رسول اللہ ﷺ سے پوچھا جاتا تو آپ ﷺ فرماتے: کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں ، ایک شخص نے آ کر کہا: میں نے قربانی سے پہلے حلق کرلیا، آپ ﷺ نے فرمایا: کوئی بات نہیں ، دوسرا بولا: میں نے رمی شام کو کی، آپ ﷺ نے فرمایا: کوئی بات نہیں ١ ؎۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ was asked on the Day of Mina, and he would say: There is no harm in that, there is no harm that. A man came to him and said: I shaved my head before slaughtered (my sacrifice): and he said: There is no harm in that. He said: I stoned (the Pillar) after evening came, and he said: There is no harm in that.
Notes · وضاحت
١ ؎: جمرہ کبری کو کنکری مارنا، ہدی کا جانور ذبح کرنا، بالوں کا حلق (منڈوانا) یا قصر (کٹوانا) پھر طواف افاضہ (طواف زیارت) (یعنی کعبۃ اللہ کا طواف اور صفا ومروہ کی سعی) میں ترتیب افضل ہے مگر باب کی روشنی میں رمی، ذبح حلق اور طواف میں ترتیب باقی نہ رہ جائے تو دم لازم نہیں ہوگا، اور نہ ہی حج میں کوئی حرج واقع ہوگا۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے سر منڈانے سے پہلے قربانی کرلی، یا قربانی سے پہلے سر منڈا لیا، آپ ﷺ نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ۔
It was narrated from Abdullah bin Amr that the Prophet ﷺ was asked about a man who slaughtered his sacrifice before shaving his head, or who shaved his head before slaughtering his sacrifice, and he said: "There is no harm in that."
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دسویں ذی الحجہ کو منیٰ میں لوگوں (کو حج کے احکام بتانے) کے لیے بیٹھے، تو ایک شخص آپ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ، پھر دوسرا شخص آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کرلی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ، آپ سے اس دن جس چیز کے بارے میں بھی پوچھا گیا جسے کسی چیز سے پہلے کرلیا گیا ہو تو آپ ﷺ نے یہی فرمایا: کوئی حرج نہیں ١ ؎۔
Jabir bin Abdullah said: "The Messenger of Allah ﷺ sat in Mina, on the Day of Sacrifice, for the people (to come and speak to him). A man came to him and said: O Messenger of Allah ﷺ I shaved my head before I slaughtered my sacrifice. He said: There is no harm in that. Then another man came and said: O Messenger of Allah, I slaughtered my sacrifice before I stoned (the Pillar). He said: There is no harm in that. And he was not asked that day about anything being done before another but he replied: There is no harm in that.
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیحین میں ابن عمر ؓ سے روایت کہ نبی اکرم ﷺ جمرہ کے پاس کھڑے تھے، ایک شخص نے آ کر کہا: میں نے رمی سے پہلے بال منڈا دیے، آپ ﷺ نے فرمایا: رمی کرلو کچھ حرج نہیں، دوسرے نے کہا: میں نے رمی سے پہلے ذبح کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: رمی کرلو کچھ نہیں ہے، تیسرے نے کہا: میں نے رمی سے پہلے طواف افاضہ کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: رمی کرلو کچھ حرج نہیں ہے، غرض جس چیز کے متعلق اس دن سوال ہوا آپ ﷺ نے فرمایا: اب کرلو کچھ حرج نہیں اور اہل حدیث کا عمل انہی حدیثوں پر ہے، ان اعمال کی اگر تقدیم و تاخیر سہو سے ہوجائے تو کچھ نقصان نہیں، نہ دم لازم آئے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٣٩٨، ومصباح الزجاجة: ١٠٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٢٦) (حسن صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو میں نے دیکھا کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی چاشت کے وقت کی، اور اس کے بعد جو رمی کی (یعنی ١١ ، ١٢ اور ١٣ ذی الحجہ) کو تو وہ زوال (سورج ڈھلنے) کے بعد کی۔
It was narrated that Jabir said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ stoning Aqabahh Pillar at forenoon, but after that day, he would do it after the sun had passed its zenith."
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (دسویں ذی الحجہ کے بعد والے دنوں میں) رمی جمار سورج ڈھلنے کے بعد اس حساب سے کرتے تھے کہ جب آپ اپنی رمی سے فارغ ہوتے، تو ظہر پڑھتے۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ used to stone the Pillars when the sun had passed its zenith, to the extent that, as soon as he finished stoning them, he would pray Zuhr.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٦٢ (٨٩٨)، (تحفة الأشراف: ٦٤٦٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٤٨، ٢٩٠، ٣٢٨) (ضعیف الإسناد جدّاً ) (سند میں جبارہ ضعیف اور ابراہیم بن عثمان متروک الحدیث راوی ہے )
عمرو بن احوص ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو حجۃ الوداع میں فرماتے سنا: لوگو! سنو، کون سا دن زیادہ تقدیس کا ہے ؟ آپ نے تین بار یہ فرمایا، لوگوں نے کہا: حج اکبر ١ ؎ کا دن، آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزت و آبرو ایک دوسرے پر ایسے ہی حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی، اور تمہارے اس مہینے کی، اور تمہارے اس شہر کی حرمت ہے، جو کوئی جرم کرے گا، تو اس کا مواخذہ اسی سے ہوگا، باپ کے جرم کا مواخذہ بیٹے سے، اور بیٹے کے جرم کا مواخذہ باپ سے نہ ہوگا، سن لو! شیطان اس بات سے ناامید ہوگیا ہے کہ اب تمہارے اس شہر میں کبھی اس کی عبادت کی جائے گی، لیکن عنقریب بعض کاموں میں جن کو تم معمولی جانتے ہو، اس کی اطاعت ہوگی، وہ اسی سے خوش رہے گا، سن لو! جاہلیت کے سارے خون معاف کر دئیے گئے (اب اس کا مطالبہ و مواخذہ نہ ہوگا) اور میں حارث بن عبدالمطلب کا خون سب سے پہلے زمانہ جاہلیت کے خون میں معاف کرتا ہوں، (جو قبیلہ بنی لیث میں دودھ پیا کرتے تھے اور قبیلہ ہذیل نے انہیں شیر خوارگی کی حالت میں قتل کردیا تھا) سن لو! جاہلیت کے تمام سود معاف کر دئیے گئے، تم صرف اپنا اصل مال لے لو، نہ تم ظلم کرو، نہ تم پر ظلم ہو، آگاہ رہو، اے میری امت کے لوگو! کیا میں نے اللہ کا حکم تمہیں پہنچا دیا ہے ؟ آپ ﷺ نے یہ تین بار فرمایا، لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ نے پہنچا دیا، آپ نے فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہ ، اور اسے آپ نے تین بار دہرایا۔
It was narrated from Sulaiman bin Amr bin Ahwas that his father said: "I heard the Prophet ﷺ say, during the Farewell Pilgrimage: O people! Which day is the most is sacred? three times. They said: The day of the greatest Hajj. He said: Your blood and your wealth and your honor are sacred to one another, as sacred as this day of yours, in this month of yours, in this land of yours. No sinner commits a sin but it is against himself. No father is to be punished for the sins of his child, and no child is to be punished for the sins of his father. Satan has despaired of ever being worshipped in this land of yours, but he will be obeyed in some matters which you regard as insignificant, and he will be content with that. All the blood feuds of the Ignorance days are abolished, and the first of them that I abolish is the blood feud of Harith bin Abdul-Muttalib, who was nursed among Banu Laith and killed by Hudhail. All the usuries of the Ignorance days are abolished, but you will have your capital. Do not wrong others and you will not be wronged. O my nation, have I conveyed (the message)? (He asked this) three times. They said: Yes. He said: O Allah, bear witness! three times."
Notes · وضاحت
١ ؎: ہر حج کو حج اکبر کہتے ہیں، اور عمرہ کو حج اصغر، رہی بات عوام الناس کی جو ان کے درمیان مشہور ہے کہ حج اکبر اس حج کو کہتے ہیں، جس میں عرفہ کا دن جمعہ کے دن آئے اس کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٥ (٣٣٣٤)، سنن الترمذی/الفتن ٢ (٢١٥٩)، تفسیر القرآن ١٠ (١) (٣٠٨٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٦٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٢٦، ٤٨٩) (صحیح )
جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ منیٰ میں مسجد خیف میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات سنے، اور اسے لوگوں کو پہنچائے، کیونکہ بہت سے فقہ کی بات سننے والے خود فقیہ نہیں ہوتے، اور بعض ایسے ہیں جو فقہ کی بات سن کر ایسے لوگوں تک پہنچاتے ہیں جو ان سے زیادہ فقیہ ہوتے ہیں، تین باتیں ایسی ہیں جن میں کسی مومن کا دل خیانت نہیں کرتا، ایک اللہ کے لیے عمل خالص کرنے میں، دوسرے مسلمان حکمرانوں کی خیر خواہی کرنے میں، اور تیسرے مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ ملے رہنے میں، اس لیے کہ ان کی دعا انہیں چاروں طرف سے گھیرے رہتی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Muhammad bin Jubair bin Mutim that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ stood up in Khaif in Mina, and said: May Allah make his face shine, the man who hears my words and conveys them. It may be that the bearer of knowledge does not understand it, and it may be that he takes it to one who will understand it more than he does. There are three things in which the heart of the believer does not betray: sincerity of action for the sake of Allah, offering sincere advice to the rulers of the Muslims, and adhering to the Jama’ah: (main body of the Muslims). Their supplication is answered (i.e. encompassing every good, and all of the people)."
Notes · وضاحت
١ ؎: شیطان کا مکر جماعت پر نہیں چلتا، اور جو جماعت سے الگ رہتا ہے شیطان اسے اچک لیتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣١٩٨، ومصباح الزجاجة: ١٠٦٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨٠) (یہ حدیث مکرر ہے دیکھئے: ٢٣١) (صحیح) (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اور عبدالسلام ضعیف ہیں، لیکن متن صحیح ہے، بلکہ حدیث متواتر ہے، ملاحظہ ہو: دراستہ حدیث نضر اللہ ٠٠٠ للشیخ عبد المحسن العباد )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، اور اس وقت آپ عرفات میں اپنی کنکٹی اونٹنی پر سوار تھے: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے، اور کون سا مہینہ ہے، اور کون سا شہر ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ حرمت والا شہر، حرمت والا مہینہ، اور حرمت والا دن ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: سنو! تمہارے مال اور تمہارے خون بھی ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارا یہ مہینہ تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس دن میں، سنو! میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا، اور تمہاری کثرت کے سبب دوسری امتوں پر فخر کروں گا، تو تم مجھے رو سیاہ مت کرنا، سنو! کچھ لوگوں کو میں (عذاب کے فرشتوں یا جہنم سے) نجات دلاؤں گا، اور کچھ لوگ مجھ سے چھڑائے جائیں گے (فرشتے مجھ سے چھین کر انہیں جہنم میں لے جائیں گے) ، میں کہوں گا: یا رب! یہ میرے صحابہ ہیں وہ فرمائے گا: آپ نہیں جانتے جو انہوں نے آپ کے بعد بدعتیں ایجاد کی ہیں ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah bin Masud said: "The Messenger of Allah ﷺ said, when he was atop his camel with the clipped ears in Arafat: Do you know what day this is, what month this is and what land this is? They said: This is a sacred land, a sacred month and a sacred day. He said: Your wealth and your blood are sacred to you as this month of yours, in this land of yours, on this day of yours. I will reach the Cistern (Hawd) before you, and I will be proud of your great numbers before the nations, so do not blacken my face (ie., cause me to be ashamed). I will rescue some people, and some people will be taken away from me. I will say: "O Lord, my companions!" and He will say: "You do not know what innovations they introduced after you were gone."
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ کی وفات کے بعد اسلام سے پھرگئے، مسلمانوں کو مارا، اور اصحاب سے مراد یہ ہے کہ میری امت کے لوگ ہیں۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جس سال حج کیا دسویں ذی الحجہ کو جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: آج کون سا دن ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ یوم النحر ہے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کون سا شہر ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ اللہ کا حرمت والا شہر ہے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کون سا مہینہ ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ اللہ کا حرمت والا مہینہ ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ حج اکبر کا دن ہے، اور تمہارے خون، تمہارے مال، تمہاری عزت و آبرو اسی طرح تم پر حرام ہیں جیسے اس شہر کی حرمت اس مہینے اور اس دن میں ہے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں نے (اللہ کے احکام تم کو) پہنچا دئیے ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، (آپ نے پہنچا دئیے) پھر آپ ﷺ یہ فرمانے لگے: اے اللہ! تو گواہ رہ ، اس کے بعد لوگوں کو رخصت کیا، تو لوگوں نے کہا: یہ حجۃ الوداع یعنی الوداعی حج ہے ١ ؎۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah ﷺ stood, on the Day of Sacrifice, between the Pillars, during the Hajj that he performed. The Prophet ﷺ said: "What day is this?" They said: "The day of sacrifice." He said: "What land is this?" They said: "This is the sacred land of Allah." He said: "What month is this?" They said: "The sacred month of Allah." He said: "This is the day of the greatest Hajj, and your blood, your wealth and your honor are sacred to you, as sacred as this land, in this month, on this day." Then he said: "Have I conveyed (the message)?" They said: "Yes." Then the Prophet ﷺ started to say: "O Allah, bear witness." Then he bade farewell to the people, and they said: "This is the Farewell Pilgrimage."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ کا آخری حج ہے، اس کے بعد آپ ہمیں جدائی کا داغ دے جائیں گے، نیز اس حج کے تھوڑے دنوں کے بعد آپ کی وفات ہوئی اس واسطے اس کو حجۃ الوداع کہتے ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے طواف زیارت میں رات تک تاخیر فرمائی ١ ؎۔
It was narrated from Aisha (RA) and Ibn Abbas that the Prophet ﷺ delayed Tawafuz-Ziyarah until nighttime.
Notes · وضاحت
١ ؎: دسویں تاریخ کے طواف کو طواف زیارت یا طواف افاضہ کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
حدیث ابن عباس أخرجہ: صحیح البخاری/ الحج ١٢٩ (١٧٣٢ تعلیقاً )، سنن ابی داود/المناسک ٨٢ (٢٠٠٠)، سنن الترمذی/الحج ٨٠ (٩٢٠)، (تحفة الأشراف: ٦٤٥٢، ١٧٥٩٤)، حدیث عائشہ تقدم تخریجہ في حدیث ابن عباس، وحدیث طاوس تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٨٤٥، ومصباح الزجاجة: ١٠٦٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٨٨) (شاذ) (اس حدیث کی سند میں ابو الزبیر مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، ترمذی اور منذری نے اس حدیث کی تحسین کی ہے، اور ابن القیم نے اس کو وہم کہا ہے، اور البانی صاحب نے شاذ کا حکم لگایا ہے، اس لیے کہ صحیح ترین احادیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے طواف زیارہ (افاضہ) زوال کے بعد کیا تھا، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٤ / ٣٦٤ - ٣٦٥ و ضعیف أبی داود: ٣٤٢ )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے طواف افاضہ کے سات چکروں میں رمل نہیں کیا ١ ؎۔ عطا کہتے ہیں کہ طواف افاضہ میں رمل نہیں ہے۔
It was narrated from Abdullah bin Abbas that the Prophet ﷺ did not walk quickly (Ramal) during the seven circuits of Tawaful-ifadah (done on 10th day of Dhul-Hijjah). (One of the narrators) Ata said: And there is no Ramal in it."
محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی بکر کہتے ہیں کہ میں ابن عباس ؓ کے پاس بیٹھا تھا کہ اتنے میں ان کے پاس ایک شخص آیا، تو انہوں نے پوچھا کہ تم کہاں سے آئے ہو؟ اس نے کہا: زمزم کے پاس سے، پوچھا: تم نے اس سے پیا جیسا پینا چاہیئے، اس نے پوچھا: کیسے پینا چاہیئے؟ کہا: جب تم زمزم کا پانی پیو تو کعبہ کی طرف رخ کر کے کھڑے ہو اور اللہ کا نام لو، اور تین سانس میں پیو، اور خوب آسودہ ہو کر پیو، پھر جب فارغ ہوجاؤ تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ہمارے اور منافقوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ وہ سیر ہو کر زمزم کا پانی نہیں پیتے ۔
It was narrated that Muhammad bin Abdur-Rahman bin Abu Bakr (RA) said: "I was sitting with Ibn Abbas, and a man came to him and he said: Where have you come from? He said: From Zamzam. He said: Did you drink from it as you should? He said: How is that? He said: When you drink from it, turn to face the Qiblah and mention the Name of Allah, drink three draughts and drink your fill of it. When you have finished, then praise Allah: The Messenger of Allah ﷺ said: The sign (that differentiates) between us and the hypocrites is that they do not drink their fill from Zamzam."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٤٤٢، ومصباح الزجاجة: ١٠٦٣) (ضعیف) (سند میں اختلاف کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ١١٢٥ )