بیت اللہ کی زیارت۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَارِقٍ، عَنْ طَاوُسٍ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ طَوَافَ الزِّيَارَةِ إِلَى اللَّيْلِ.
ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے طواف زیارت میں رات تک تاخیر فرمائی ١ ؎۔
It was narrated from Aisha (RA) and Ibn Abbas that the Prophet ﷺ delayed Tawafuz-Ziyarah until nighttime.
Notes · وضاحت
١ ؎: دسویں تاریخ کے طواف کو طواف زیارت یا طواف افاضہ کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
حدیث ابن عباس أخرجہ: صحیح البخاری/ الحج ١٢٩ (١٧٣٢ تعلیقاً )، سنن ابی داود/المناسک ٨٢ (٢٠٠٠)، سنن الترمذی/الحج ٨٠ (٩٢٠)، (تحفة الأشراف: ٦٤٥٢، ١٧٥٩٤)، حدیث عائشہ تقدم تخریجہ في حدیث ابن عباس، وحدیث طاوس تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٨٤٥، ومصباح الزجاجة: ١٠٦٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٨٨) (شاذ) (اس حدیث کی سند میں ابو الزبیر مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، ترمذی اور منذری نے اس حدیث کی تحسین کی ہے، اور ابن القیم نے اس کو وہم کہا ہے، اور البانی صاحب نے شاذ کا حکم لگایا ہے، اس لیے کہ صحیح ترین احادیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے طواف زیارہ (افاضہ) زوال کے بعد کیا تھا، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٤ / ٣٦٤ - ٣٦٥ و ضعیف أبی داود: ٣٤٢ )