ایام تشریق میں رمی جمعرات۔
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ أَبُو شَيْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْمِي الْجِمَارَ، إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ قَدْرَ، مَا إِذَا فَرَغَ مِنْ رَمْيِهِ صَلَّى الظُّهْرَ.
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (دسویں ذی الحجہ کے بعد والے دنوں میں) رمی جمار سورج ڈھلنے کے بعد اس حساب سے کرتے تھے کہ جب آپ اپنی رمی سے فارغ ہوتے، تو ظہر پڑھتے۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ used to stone the Pillars when the sun had passed its zenith, to the extent that, as soon as he finished stoning them, he would pray Zuhr.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٦٢ (٨٩٨)، (تحفة الأشراف: ٦٤٦٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٤٨، ٢٩٠، ٣٢٨) (ضعیف الإسناد جدّاً ) (سند میں جبارہ ضعیف اور ابراہیم بن عثمان متروک الحدیث راوی ہے )