عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: جب تم کسی مریض کے پاس جاؤ، تو اس سے اپنے لیے دعا کی درخواست کرو، اس لیے کہ اس کی دعا فرشتوں کی دعا کی طرح ہے ۔
It was narrated that Umar bin Al-Khattab (RA) said: "The Prophet ﷺ said to me: When you enter upon one who is sick, tell him to pray for you, for his supplication is like the supplication of the angels" (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٦٤٩، ومصباح الزجاجة: ٥١٠) (ضعیف جدًا) (اس سند میں انقطاع ہے، کیونکہ میمون بن مہران نے عمر ؓ کو نہیں پایا ہے )
علی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کے لیے آئے وہ جنت کے کھجور کے باغ میں چل رہا ہے یہاں تک کہ وہ بیٹھ جائے، جب بیٹھ جائے، تو رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے، اگر صبح کے وقت عیادت کے لیے گیا ہو تو ستر ہزار فرشتے شام تک اس کے لیے دعا کرتے ہیں، اور اگر شام کا وقت ہو تو ستر ہزار فرشتے صبح تک اس کے لیے دعا کرتے ہیں ۔
It was narrated that Ali said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ Whoever comes to his Muslim brother and visits him (when he is sick), he is walking among the harvest of Paradise until he sits down, and when he sits down he is covered with mercy. If it is morning, seventy thousand angels will send blessing upon him until evening, and If It 18 evening, seventy thousand angels will send blessing upon him un til monning:" (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٢١١، ومصباح الزجاجة: ٥١١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز ٧ (٣٠٩٨، ٣٠٩٩)، سنن الترمذی/الجنائز ٢ (٩٦٩)، مسند احمد (١/٩٧، ١٢٠) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی مریض کی عیادت کی تو آسمان سے منادی (آواز لگانے والا) آواز لگاتا ہے: تم اچھے ہو اور تمہارا جانا اچھا رہا، تم نے جنت میں ایک ٹھکانا بنا لیا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: Whoever visits a sick person, a caller calls from heaven: May you be happy, may your walking be blessed, and may you occupy a dignified position in Paradise:" (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البروالصلة ٦٤ (٢٠٠٨)، (تحفة الأشراف: ١٤١٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٢٦، ٣٤٤، ٣٥٤) (حسن) (تراجع الألبانی، رقم: ٥٩٣ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے مردوں کو لا إله إلا الله کی تلقین کرو ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: Urge your dying ones to say La ilaha illallah." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: مردوں سے مراد وہ بیمار ہیں جو مرنے کے بالکل قریب ہوں۔ ٢ ؎: تلقین سے مراد تذکیر ہے یعنی ان کے پاس پڑھ کر انہیں اس کی یاد دہانی کرائی جائے تاکہ سن کر وہ بھی پڑھنے لگیں۔
عبداللہ بن جعفر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے مردوں (جو لوگ مرنے کے قریب ہوں) کو یہ کہنے کی تلقین کرو: لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم الحمد لله رب العالمين کی تلقین کرو (ترجمہ) اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، جو حلیم و کریم والا ہے، اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے جو عرش عظیم کا رب ہے، تمام حمد و ثنا اللہ تعالیٰ کو لائق و زیبا ہے جو سارے جہاں کا رب ہے لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دعا زندوں کے لیے کیسی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: بہت بہتر ہے، بہت بہتر ہے ۔
It was narrated from Ishaq bin Abdullah bin Jafar that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Urge your dying nes to say: "La ilaha illallahul-Halimul-Karim, Subhan-Allahi illaRabbil-Arshil-Azim, AI-Hamdu Lillahi Rabbil-filamin (None has the right to be worshiped but Allah,the Forbearing, the Most Kind. Glory is to Allah, Lord of the magnificent Throne; praise is to Allah, the Lord of the worlds). They said: O Messenger of Allah, what about those who are alive? He said: Even better, even better. (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٢١٣، ومصباح الزجاجة: ٥١٢) (ضعیف) (اس کی سند میں اسحاق بن عبد اللہ مجہول الحال ہیں، ویسے حدیث کا یہ جملہ لقنوا موتاکم صحیح ہے، جیسا کہ اس سے پہلے والی حدیثوں میں گزرا ہے، ملاحظہ ہو: ٤٣١٧ )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم بیمار یا میت کے پاس جاؤ، تو اچھی بات کہو، اس لیے کہ فرشتے تمہاری باتوں پہ آمین کہتے ہیں ، چناچہ جب (میرے شوہر) ابوسلمہ کا انتقال ہوا تو میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی، اور میں نے کہا: اللہ کے رسول! ابوسلمہ ؓ کا انتقال ہوگیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم یہ کلمات کہو: اللهم اغفر لي وله وأعقبني منه عقبى حسنة اے اللہ مجھ کو اور ان کو بخش دے، اور مجھے ان کا نعم البدل عطا فرما ۔ ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بہتر محمد رسول اللہ ﷺ کو ان کے نعم البدل کے طور پر عطا کیا ١ ؎۔
It was narrated that Unun Salamah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When you visit one who is sick or dying, say Good things, for the angels say: Amin to whatever you say. When Abu Salamah died, I came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah! ﷺ Abu Salamah has died. He said: Say: "Allahhumaghfir Ii wa lahu, wa aqibni minhu. uqbfi hasanah (O Allah, forgive me and him, and compensate me with someone better than him). She said: I said that, and Allah compensated me with someone better than him: Muhammad the Messenger of Allah ﷺ . (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: دوسری روایت میں ہے کہ میں نے اپنے دل میں کہا: ابوسلمہ سے بہتر کون ہوگا، پھر اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کو دیا، جو ابوسلمہ سے بہتر تھے، ابوسلمہ کی وفات کے بعد ام سلمہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے نکاح کرلیا۔
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک بیان کرتے ہیں کہ جب ان کے والد کعب ؓ کی وفات کا وقت آیا، تو ان کے پاس ام بشر بنت براء بن معرور ؓ آئیں، اور کہنے لگیں: اے ابوعبدالرحمٰن! اگر فلاں سے آپ کی ملاقات ہو تو ان کو میرا سلام کہیں، کعب ؓ نے کہا: اے ام بشر! اللہ تمہیں بخشے، ہمیں اتنی فرصت کہاں ہوگی کہ ہم لوگوں کا سلام پہنچاتے پھریں، انہوں نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے نہیں سنا: مومنوں کی روحیں سبز پرندوں کی صورت میں ہوں گی، اور جنت کے درختوں سے کھاتی چرتی ہوں گی ، کعب ؓ کہا: کیوں نہیں، ضرور سنی ہے، تو انہوں نے کہا: بس یہی مطلب ہے۔
It was narrated from Abdur-Rahman bin Kab bin Malik, about Kab: "When Kab was dying, Umm e Bishr bint Bara bin Marur came to him and said: O Abu Abdur-Rahmanl If you meet so-and-so, convey Salam to him from me. He said: May Allah forgive you, O Umm Bishr! We are too busy to think of that. She said: O Abu Abdur-Rahman ! Did you not hear the Messenger of Allah ﷺ say: "The souls of the believers are in green birds, eating from the trees of Paradise"? He said: Yes. She said: That is what I mean. (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل الجہاد ١٣ (١٦٤١)، سنن النسائی/الجنائز ١١٧ (٢٠٧٥)، (تحفة الأشراف: ١١١٤٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز ١٦ (٤٩)، مسند احمد (٣/٤٥٥، ٤٥٦، ٤٦٠، ٦/٣٨٦، ٤٢٥) (ضعیف) (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اس لئے یہ ضعیف ہے، لیکن مرفوع حدیث صحیح ہے، جو ( ٤٢٧١ ) نمبر پر آرہی ہے )
محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ میں جابر بن عبداللہ ؓ کی وفات کے وقت ان کے پاس گیا، تو میں نے ان سے کہا: رسول اللہ ﷺ کو سلام کہئے گا۔
Muhammad bin Munkadir said: "I entered upon Jabir bin Abdullah when he was dying, and said: Convey my Salam to the Messenger of Allah ﷺ " (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٠٩٥، ومصباح الزجاجة: ٥١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٦٩) (ضعیف) (شیخ البانی نے اسے ضعیف کہا ہے، ضعیف الجامع: ٢٧٥ ، مسند احمد کے محققین نے اسے صحیح الاسناد کہا ہے، ملاحظہ ہو: ١١٦٦٠ ، ١٩٤٨٢ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس گئے، وہاں پر عائشہ ؓ کے ایک رشتہ دار کا موت سے دم گھٹ رہا تھا، جب نبی اکرم ﷺ نے عائشہ ؓ کا رنج دیکھا تو ان سے فرمایا: تم اپنے رشتہ دار پر غم زدہ نہ ہو، کیونکہ یہ اس کی نیکیوں میں سے ہے ۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ entered upon her and there was a close relative of hers who was in the throes of death. When the Prophet ﷺ saw how upset she was, he said: "Do not grieve for your relative, for that is part of his Hasaruit (merits)." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٣٨٣، ومصباح الزجاجة: ٥١٤) (ضعیف) ( اس کی سند میں ولید بن مسلم ہیں، جو کثیر التدلیس و التسویہ ہیں، گرچہ یہاں پر صیغہ تحدیث کا ہے، لیکن رواة کے اسقاط سے تدلس التسویة کا احتمال باقی ہے کہ درمیان سے کوئی راوی ساقط کردیا ہو، ملاحظہ ہو : تہذب الکمال : ٣١/٩٧ )
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مومن ایسی حالت میں مرتا ہے کہ اس کی پیشانی پسینہ آلود ہوتی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Buraidah from his father that the Prophet ﷺ said: "The believer dies with sweat on his brow." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مومن موت کی شدت سے دو چار ہوتا ہے، یا موت اسے اچانک اس حال میں پا لیتی ہے کہ وہ حلال رزق اور فرائض کی ادائیگی کے لیے اس قدر کوشاں رہتا ہے کہ اس کی پیشانی عرق آلود رہتی ہے۔
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: بندے سے لوگوں کی پہچان کب ختم ہوجاتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جب وہ (موت کے فرشتوں کو) دیکھ لیتا ہے ۔
It was narrated that Abu Musa said: "I asked the Messenger of Allah ﷺ When does a person stop recognizing people? He said When he sees:(Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩١٣٠، ومصباح الزجاجة: ٥١٥) (ضعیف جدًا) ( اس میں نصر بن حماد ہے، جس پر حدیث گھڑنے کی تہمت ہے )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ابوسلمہ ؓ کے پاس گئے، ان کی آنکھ کھلی ہوئی تھی، تو آپ ﷺ نے اسے بند کردیا، پھر فرمایا: جب روح قبض کی جاتی ہے، تو آنکھ اس کا پیچھا کرتی ہے ١ ؎۔
It was narrated that Umm Salamah said: "The Messenger of Allah ﷺ entered upon Abu Salamah (after he had died), and his eyes were wide open. He closed his eyes, then he said. When the soul is taken, the sight allows it:" (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: مردے کی آنکھ اس واسطے کھلی رہ جاتی ہے کہ روح کو جاتے وقت وہ دیکھتا ہے، پھر آنکھ بند کرنے کی طاقت نہیں رہتی اس لئے آنکھ کھلی رہ جاتی ہے،واللہ اعلم۔
شداد بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم اپنے مردوں کے پاس جاؤ تو ان کی آنکھیں بند کر دو، اس لیے کہ آنکھ روح کا پیچھا کرتی ہے، اور (میت کے پاس) اچھی بات کہو، کیونکہ فرشتے گھر والوں کی بات پر آمین کہتے ہیں ۔
It was narrated from Sha dd ad bin Aws that the Messenger of Allah ﷺ said: "When you come to your dead ones, close their eyes, for the sight follows the soul. And say good things, for the Angels say Amin to what the members of the household say. " (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٨٢٨، ومصباح الزجاجة: ٥١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٢٥) (حسن) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٠٩٢ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عثمان بن مظعون ؓ ١ ؎ کا بوسہ لیا، اور وہ مردہ تھے، گویا کہ میں نبی اکرم ﷺ کے آنسوؤں کو دیکھ رہی ہوں جو آپ کے رخسار مبارک پہ بہہ رہے تھے۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ kissed Uthmn bin Mazun when he had died, and it is as if I can see him with his tears flowing down his cheeks." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: عثمان بن مظعون ؓ نبی اکرم ﷺ کے رضاعی بھائی تھے، اور دونوں ہجرتوں میں شریک تھے، اور بدر کی لڑائی میں حاضر تھے، اور مہاجرین میں سے مدینہ میں سب سے پہلے آپ ہی کی وفات ہوئی، شعبان کے مہینے میں ہجرت کے ڈھائی سال کے بعد، اور جب آپ دفن ہوئے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہمارا پیش خیمہ اچھا ہے، اور وہ بقیع میں دفن ہوئے، عابد، زاہد اور فضلائے صحابہ میں سے تھے، اور نبی کریم ﷺ نے ایک پتھر خود اٹھایا اور ان کی قبر پر رکھا، ؓ وأرضاہ۔ ٢ ؎: اس حدیث سے میت پر رونے کا جواز ثابت ہوتا ہے، رہی ممانعت والی روایت تو اسے آواز اور جزع و فزع (بےصبری) کے ساتھ رونے پر محمول کیا جائے گا، یا یہ ممانعت عورتوں کے ساتھ مخصوص ہوگی کیونکہ اکثر وہ بےصبری ہوتی ہیں، اور رونے پیٹنے لگتی ہیں، اس لئے سدباب کے طور پر انہیں اس سے منع کردیا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٤٠ (٣١٦٣)، سنن الترمذی/الجنائز ١٤ (٩٨٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٣، ٥٥، ٢٠٦٧) (صحیح) (دوسری سند سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں عاصم بن عبیداللہ ضعیف ہیں، تراجع الألبانی، رقم: ٤٩٥ )
ام عطیہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے، ہم آپ کی بیٹی ام کلثوم ؓ کو غسل دے رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: انہیں تین بار، یا پانچ بار، یا اس سے زیادہ اگر تم مناسب سمجھو تو پانی اور بیری کے پتے سے غسل دو ١ ؎، اور اخیر بار کے غسل میں کافور یا کہا: تھوڑا سا کافور ملا لو، جب تم غسل سے فارغ ہوجاؤ تو مجھے خبر کرو ، لہٰذا جب ہم غسل سے فارغ ہوئے تو ہم نے آپ ﷺ کو خبر کی، آپ نے اپنا تہبند ہماری طرف پھینکا اور فرمایا: اسے جسم سے متصل کفن میں سب سے نیچے رکھو ٢ ؎۔
Muhammad bin Sirin narrated that Umm Atiyyah said: "The Messenger of Allah ﷺ entered upon us when we were washing his daughter Umm Kulthum. He said: Wash her three Or five times, or more than that if you think you need to, with water and lote leaves, and put camphor or a little camphor in (the water) for the last Washing. When you have finished, call for me. When we finished, we called him, and he gave his waist-wrapper to us andsaid: Shroud her with it. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: بیری کا پتہ استعمال کرنا مستحب ہے کیونکہ وہ میل کچیل کو صاف کرتا ہے، کیڑوں کو دفع کرتا ہے، اور بدبو کو بھی ختم کرتا ہے۔ ٢ ؎: شعار یعنی (اندر کا کپڑا) عربی میں اس کو کہتے ہیں جو کپڑا جسم سے لگا رہے، بطور تبرک آپ ﷺ نے اپنا کپڑا ام کلثوم ؓ کو دیا، اور اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ غسل میں کافور ملانا بھی مستحب ہے، بہتر یہ ہے کہ اخیر بار جو غسل دیں اس میں کافور ملا ہوا ہو، جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے۔
اس سند سے بھی ام عطیہ ؓ سے محمد بن سیرین کی سابقہ حدیث کی طرح مروی ہے اور حفصہ ؓ کی روایت میں یہ ہے کہ: ان کو طاق بار غسل دو ، اور اس میں یہ بھی ہے کہ: انہیں تین بار یا پانچ بار غسل دو، اور دائیں طرف کے اعضاء وضو سے غسل شروع کرو ۔ اور اس روایت میں یہ بھی ہے کہ ام عطیہ ؓ نے کہا: ہم نے ان کے بالوں میں کنگھی کر کے تین چوٹیاں کردیں ١ ؎۔
It was narrated from Ayyub who said: "Hafsah narrated to me, from Umm Atiyyah" and it is similar to the Hadith of Muhammad. And in the narration of Hafsah it says: "Wash her an odd number of times." And: "Wash her three or five times," And "Start on her right, with the places washed in ablution." And it says that Umm Atiyyah said: "And we combed her hair into three braids." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: امام ابن القیم نے کہا کہ بالوں میں سنت یہی ہے کہ ان کی تین چوٹیاں کی جائیں، صحیحین میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ان کے بالوں کی تین چوٹیاں کر دو، ام عطیہ ؓ نے کہا کہ ہم نے ان کا سر گوندھا، دو حصے کر کے دونوں چھاتیوں پر ڈال دیئے۔
علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: تم اپنی ران نہ کھولو، اور کسی زندہ یا مردہ کی ران نہ دیکھو ۔
It was narrated that Ali said: "The Prophet ﷺ said to me: Do not show your thigh, and do not look at the thigh of anyone, living or dead. (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎ اس حدیث کو مؤلف نے اس باب میں اس لئے ذکر کیا ہے کہ مردے کو غسل دینے میں اس کی ران نہ کھولیں اور نہ ستر بلکہ کپڑا ستر پر ڈھانپ کر غسل دیں کیونکہ ستر مردہ اور زندہ کا یکساں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٣٢ (٣١٤٠)، (تحفة الأشراف: ١٠١٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٤٦) (ضعیف جدًا) (بشربن آدم ضعیف ہیں، نیز سند میں دو جگہ انقطاع ہے، ابن جریج اور حبیب کے درمیان، اور حبیب اور عاصم کے درمیان، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢٦٩ )