Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 72 of 218

1421Sunan Ibne-Majah

نماز میں لمبا قیام کرنا

حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟، قَالَ: طُولُ الْقُنُوتِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا: کون سی نماز افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس میں قیام لمبا ہو ۔

It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "The Prophet ﷺ was asked: Which prayer is best? He said: That with the longer Qunut. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٢٢ (٦٥)، (تحفة الأشراف: ٢٨٢٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ١٦٨ (٣٨٧)، مسند احمد (٣/٣٠٢، ٣٩١، ٤١٢، ٤/٣٨٥) (صحیح )
1422Sunan Ibne-Majah

سجدے بہت سے کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيَّانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، أَنَّ أَبَا فَاطِمَةَ حَدَّثَهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ أَسْتَقِيمُ عَلَيْهِ وَأَعْمَلُهُ، قَالَ: عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ، فَإِنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً، إِلَّا رَفَعَكَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ بِهَا عَنْكَ خَطِيئَةً.

ابوفاطمہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیے جس پر میں جما رہوں اور اس کو کرتا رہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے اوپر سجدے کو لازم کرلو، اس لیے کہ جب بھی تم کوئی سجدہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے تمہارا ایک درجہ بلند کرے گا، اور ایک گناہ مٹا دے گا ۔

It was narrated from Kathir bin Murrah that Abu Fatimah told him: " said: O Messenger of Allah! ﷺ Tell me of a deed that I can adhere to and act upon. He said: "You should prostrate, for you will not prostrate to Allah but He will raise you in status one degree thereby and erase from you one sin." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٠٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٧٦، ٢٨٠) (حسن صحیح )
1423Sunan Ibne-Majah

سجدے بہت سے کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ، حَدَّثَهُ مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيُّ، قَالَ: لَقِيتُ ثَوْبَانَ، فَقُلْتُ لَهُ: حَدِّثْنِي حَدِيثًا عَسَى اللَّهُ أَنْ يَنْفَعَنِي بِهِ، قَالَ: فَسَكَتَ، ثُمَّ عُدْتُ فَقُلْتُ مِثْلَهَا: فَسَكَتَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ لِي: عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ لِلَّهِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً، قَالَ مَعْدَانُ: ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَسَأَلْتُهُ: فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ.

معدان بن ابی طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ میں ثوبان ؓ سے ملا، اور ان سے کہا: آپ مجھ سے کوئی حدیث بیان کریں، امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس سے فائدہ دے گا، یہ سن کر وہ خاموش رہے، پھر میں نے دوبارہ وہی بات کہی، تو بھی وہ خاموش رہے، تین بار ایسا ہی ہوا، پھر انہوں نے کہا: تم اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ لازم کرلو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے، اور ایک گناہ مٹا دیتا ہے ۔ معدان کہتے ہیں کہ پھر میں ابوالدرداء ؓ سے ملا، اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بھی ایسا ہی بیان کیا۔

Madan bin Abu Talhah AI-Yamuri said: "I met Thawban and said to him: Tell me a Hadith that Allah may benefit me thereby. But he remained silent.Then I said the same and he remained silent. That happened three times, Then he said to me: You should prostrate to Allah for I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "No one prostrates to Allah but Allah will raise him one degree in status thereby and will erase one of his sins." Madan said: "Then I met Abu Darda and asked him the same question, and he gave a similar answer." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٣ (٤٨٨)، سنن الترمذی/الصلاة ١٧٠ (٣٨٨، ٣٨٩)، (تحفة الأشراف: ٢١١٢، ١٠٩٦٥)، مسند احمد (٥/٢٧٦، ٢٨٠، ٢٨٣) (صحیح )
1424Sunan Ibne-Majah

سجدے بہت سے کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ الْمُرِّيِّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، عَنْ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً، وَمَحَا عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةً، وَرَفَعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةً، فَاسْتَكْثِرُوا مِنَ السُّجُودِ.

عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرے گا، اللہ اس کے بدلے ایک نیکی لکھے گا، اور اس کا ایک گناہ مٹا دے گا، اور اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا، لہٰذا تم کثرت سے سجدے کرو ۔

It was narrated from Ubadahh bin Samit that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: "No one prostrates to Allah but Allah will record one Hasanan (good reward) for him, and will erase thereby one bad deed and raise him in status one degree. So prostrate a great deal." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥١٠٢، ومصباح الزجاجة: ٥٠٣) (صحیح) (صحیح مسلم وغیرہ میں ثوبان کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ولید بن مسلم مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، الإرواء: ٤٥٧ )
1425Sunan Ibne-Majah

سب سے پہلے بندے سے نماز کا حساب لیا جائے گا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ حَكِيمٍ الضَّبِّيِّ، قَالَ: قَالَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ: إِذَا أَتَيْتَ أَهْلَ مِصْرِكَ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الصَّلَاةُ الْمَكْتُوبَةُ، فَإِنْ أَتَمَّهَا وَإِلَّا قِيلَ انْظُرُوا هَلْ لَهُ مِنْ تَطَوُّعٍ، فَإِنْ كَانَ لَهُ تَطَوُّعٌ أُكْمِلَتِ الْفَرِيضَةُ مِنْ تَطَوُّعِهِ، ثُمَّ يُفْعَلُ بِسَائِرِ الْأَعْمَالِ الْمَفْرُوضَةِ مِثْلُ ذَلِكَ.

انس بن حکیم کہتے ہیں کہ ابوہریرہ ؓ نے مجھ سے کہا کہ جب تم اپنے شہر والوں کے پاس پہنچو تو ان کو بتاؤ کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: مسلمان بندے سے قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا حساب لیا جائے گا وہ فرض نماز ہوگی، اگر اس نے اسے کامل طریقے سے ادا کی ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ کہا جائے گا کہ دیکھو کیا اس کے پاس کچھ نفل ہے؟ اگر اس کے پاس نفل نمازیں ہوں گی تو اس سے فرض میں کمی پوری کی جائے گی، پھر باقی دوسرے فرائض اعمال کے ساتھ ایسا ہی کیا جائے گا ۔

It was narrated that Anas bin Hakim Dabbi said: " Abu Hurairah (RA) said to me: When you go to your country, tell them that I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "The first thing for which the Muslim will be brought to account on the Day of Resurrection will be the prescribed prayers. If they are complete, all well and good, otherwise it will be said: Look and see whether he has any voluntary prayers: If he has any voluntary prayers, his prescribed prayers will be completed from his voluntary prayers. Then the same will be done wi th regard to all his obligatory deeds.(Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٤٩ (٨٦٤، ٨٦٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٠٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ١٨٩ (٤١٣)، سنن النسائی/الصلاة ٩ (٤٦٦)، مسند احمد (٢/ ٢٩٠، ٤٢٥) (صحیح )
1426Sunan Ibne-Majah

سب سے پہلے بندے سے نماز کا حساب لیا جائے گا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْزُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَاعَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَدَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَلَاتُهُ، فَإِنْ أَكْمَلَهَا كُتِبَتْ لَهُ نَافِلَةً، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَكْمَلَهَا قَالَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ لِمَلَائِكَتِهِ: انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ، فَأَكْمِلُوا بِهَا مَا ضَيَّعَ مِنْ فَرِيضَتِهِ، ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ.

تمیم داری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن بندے سے جس چیز کا سب سے پہلے حساب لیا جائے گا وہ نماز ہوگی، اگر اس نے نماز مکمل طریقے سے ادا کی ہوگی تو نفل نماز علیحدہ لکھی جائے گی، اور اگر مکمل طریقے سے ادا نہ کی ہوگی تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہے گا: دیکھو، کیا میرے بندے کے پاس نفل نمازیں ہیں، تو ان سے فرض کی کمی کو پورا کرو، پھر باقی اعمال کا بھی اسی طرح حساب ہوگا ۔

It was narrated from Tamim Dari that the Prophet ﷺ said: "The first thing for which a person will be brought to account on the Day of Resurrection will be his prayer. If it is complete, then the voluntary (prayers) will also be recorded for him (as an increase). If it is not complete then Allah will say to His angels: Look and see whether you find any voluntary prayers for my slave, and take them to make up what is lacking from his obligatory prayers. Then all his deeds will be reckoned in like manner." (Sahih)

Takhrij · تخریج
حدیث تمیم الداری أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ١٤٩ (٨٦٦)، (تحفة الأشراف: ٢٠٥٤)، وحدیث أبی ہریرة تقدم تخریجہ حدیث رقم: ١٤٢٥، (تحفة الأشراف: ١٤٢٥) (صحیح )
1427Sunan Ibne-Majah

نفل نماوہاں نہ پڑھے جہاں فرض پڑھے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيل، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ إِذَا صَلَّى أَنْ يَتَقَدَّمَ أَوْ يَتَأَخَّرَ، أَوْ عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ؟يَعْنِي: السُّبْحَةَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا تم میں کا کوئی اتنا عاجز و مجبور ہے کہ جب (فرض) نماز پڑھ چکے تو نفل کے لیے آگے بڑھ جائے، یا پیچھے ہٹ جائے، یا دائیں، بائیں ہوجائے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "Is anyone of you incapable, when he prays, of stepping forward or backwards, or to his right or left?" meaning in order to offer a voluntary prayer. (Daif)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأاذان ٥٧ (٨٤٨) تعلیقاً، سنن ابی داود/الصلاة ١٩٤ (١٠٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٢١٧٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٢٥) (صحیح) (سند میں لیث بن أبی سلیم ضعیف، اور ابراہیم بن اسماعیل مجہول الحال ہیں، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٦٢٩ ، ٩٢٢ ، ١٠٣٤ )
1428Sunan Ibne-Majah

نفل نماوہاں نہ پڑھے جہاں فرض پڑھے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يُصَلِّي الْإِمَامُ فِي مُقَامِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ الْمَكْتُوبَةَ، حَتَّى يَتَنَحَّى عَنْهُ. حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.

مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: امام اس جگہ سنت (نفل نماز) نہ پڑھے جہاں پر اس نے فرض پڑھائی ہے، جب تک کہ وہاں سے دور نہ جائے ۔

It was narrated from Mughirah bin Shubah that" the Messenger of Allah ﷺ said: The Imam should not pray in the place where he offered the obligatory prayer until he moves aside”.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٥٧ (٨٤٨ تعلیقاً )، سنن ابی داود/الصلاة ٧٣ (٦١٦)، (تحفة الأشراف: ١١٥١٧) (صحیح) (دوسری حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں عثمان بن عطاء ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٦٢٩ ) اس سند سے بھی مغیرہ ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ انظر ما قبلہ: (اس کی سند میں بقیہ ضعیف ہیں، ابو عبد الرحمن مجہول ہیں، اور عثمان ضعیف ہیں )
1429Sunan Ibne-Majah

مسجد میں نماز کے لئے ایک جگہ ہمیشہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ مَحْمُودٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَلَاثٍ: عَنْ نَقْرَةِ الْغُرَابِ، وَعَنْ فِرْشَةِ السَّبُعِ، وَأَنْ يُوطِنَ الرَّجُلُ الْمَكَانَ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ كَمَا يُوطِنُ الْبَعِيرُ.

عبدالرحمٰن بن شبل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (نماز میں) تین چیزوں سے منع فرمایا: ایک تو کوے کی طرح ٹھونگ مارنے سے، دوسرے درندے کی طرح بازو بچھانے سے، اور تیسرے نماز کے لیے ایک جگہ متعین کرنے سے جیسے اونٹ اپنی جگہ مقرر کرتا ہے ۔

It was narrated that ,Abdur-Rahman bin Shibl said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade three things: Pecking like a crow, spreading the forearms) like a beast of prey, and a man having a place in the Masjid in which he usually offers the prayer, like a camel has a place to which it usually goes," (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٤٨ (٨٦٢)، سنن النسائی/التطبیق ٥٥ (١١١٣)، (تحفة الأشراف: ٩٧٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٢٨، ٤٤٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٧٥ (١٣٦٢) (حسن )
1430Sunan Ibne-Majah

مسجد میں نماز کے لئے ایک جگہ ہمیشہ

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ: أَنَّهُ كَانَ يَأْتِي إِلَى سُبْحَةِ الضُّحَى، فَيَعْمِدُ إِلَى الْأُسْطُوَانَةِ دُونَ الْمُصْحَفِ، فَيُصَلِّ قَرِيبًا مِنْهَا، فَأَقُولُ لَهُ: أَلَا تُصَلِّي هَا هُنَا وَأُشِيرُ إِلَى بَعْضِ نَوَاحِي الْمَسْجِدِ، فَيَقُولُ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى هَذَا الْمُقَامَ.

سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ وہ نماز الضحیٰ (چاشت کی نفل نماز) کے لیے آتے اور صف سے پہلے ستون کے پاس جاتے اور اس کے نزدیک نماز پڑھتے، میں مسجد کے ایک گوشے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان سے کہتا: آپ اس جگہ نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ تو وہ کہتے: میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ اسی جگہ کا قصد کرتے تھے ١ ؎۔

It was narrated from Yazid bin Abu Ubaid that Salamah bin Al-Akwa used to offer the Dulta prayer, and he would come to the pillar that was near the Mushaf. I said to him: "Why do you not pray over there?" And l pointed to some comer of the Masjid. He said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ seeking out this place." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: بظاہر یہ حدیث اگلی حدیث کے خلاف ہے جس میں مسجد کے اندر ایک جگہ متعین کرنے کی ممانعت ہے، تطبیق اس طرح ممکن ہے کہ یہ ممانعت فرائض کے لئے ہے، سنن اور نوافل کے لئے نہیں، اور بعض نے کہا ہے کہ قصد کرنا اور خاص کرنا دونوں الگ الگ چیز ہے، کیوں کہ خاص کرنے میں ملکیت ثابت ہوتی ہے، اور مسجد کسی کی ملک نہیں ہے، اور قصد کرنے کا یہ مطلب ہوگا کہ اگر جگہ خالی ہو تو وہاں پڑھے، اور نبی کریم ﷺ جو اس ستون کا قصد کرتے تو اس کی کوئی علت حدیث میں مذکور نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٩٥ (٥٠٢)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٩ (٥٠٩)، (تحفة الأشراف: ٤٥٤١)، مسند احمد (٤/٤٨) (صحیح )
1431Sunan Ibne-Majah

نماز کے لئے جوتا اتار کر کہاں رکھے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَّى يَوْمَ الْفَتْحِ فَجَعَلَ نَعْلَيْهِ عَنْ يَسَارِهِ.

عبداللہ بن سائب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فتح مکہ کے دن نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو آپ نے اپنے جوتے بائیں طرف رکھے۔

It was narrated that Abdullah bin Saib said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ praying on the Day of the Conquest, and he put his shoes on his left," (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٨٩ (٦٤٨)، سنن النسائی/الافتتاح ٧٦ (١٠٠٨)، (تحفة الأشراف: ٥٣١٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ١٠٦ (٧٧٤ تعلیقاً )، صحیح مسلم/الصلاة ٣٥ (٤٥٥)، مسند احمد (٣/٤١١) (صحیح )
1432Sunan Ibne-Majah

نماز کے لئے جوتا اتار کر کہاں رکھے ؟

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلْزِمْ نَعْلَيْكَ قَدَمَيْكَ، فَإِنْ خَلَعْتَهُمَا فَاجْعَلْهُمَا بَيْنَ رِجْلَيْكَ، وَلَا تَجْعَلْهُمَا عَنْ يَمِينِكَ، وَلَا عَنْ يَمِينِ صَاحِبِكَ، وَلَا وَرَاءَكَ، فَتُؤْذِيَ مَنْ خَلْفَكَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جوتے اپنے پاؤں میں پہنے رکھو، اور اگر انہیں اتارو تو اپنے پیروں کے درمیان رکھو، اور اپنے دائیں طرف نہ رکھو، نہ اپنے ساتھی کے دائیں طرف رکھو، اور نہ پیچھے رکھو کیونکہ پیچھے والوں کو تکلیف ہو ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Keep your shoes on YOUl" feet. If you take them off then place them between your two feet; do not place them to your right, or to the right of your companions, or behind you, for they may annoy whoever is behind you. (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اگر جوتے پاک و صاف ہوں تو اس کو پہن کر نماز پڑھنا صحیح ہے، خود رسول اللہ ﷺ نے اور آپ کے صحابہ کرام ؓ نے جوتے پہن کر نماز پڑھی ہے، نیز اس حدیث میں جوتے رکھنے کے آداب بھی سکھائے گئے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٩٦٩، ومصباح الزجاجة: ٥٠٤) وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٩٠ (٦٥٥) (ضعیف جدا) (یہ حدیث سخت ضعیف ہے کیونکہ سند میں عبد اللہ بن سعید متروک اور منکر الحدیث ہے، لیکن ابو داود کی صحیح روایت میں سیاق اس سے مختلف ہے، ألزم نعليك قدميك اور ولا ورائك فتؤذي من خلفک صرف ابن ماجہ میں ہے، اس لئے یہ الفاظ منکر ہیں )
1433Sunan Ibne-Majah

بیمار کی عیادت

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتَّةٌ بِالْمَعْرُوفِ: يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ، وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ، وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ، وَيَتْبَعُ جِنَازَتَهُ إِذَا مَاتَ، وَيُحِبُّ لَهُ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان کی مسلمان پر حسن سلوک کے چھ حقوق ہیں: ١ ۔ جب اس سے ملاقات ہو تو اسے سلام کرے، ٢ ۔ جب وہ دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرے، ٣ ۔ جب وہ چھینکے اور الحمد لله کہے تو جواب میں يرحمک الله کہے، ٤ ۔ جب وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت (بیمار پرسی) کرے، ٥ ۔ جب اس کا انتقال ہوجائے تو اس کے جنازہ کے ساتھ جائے، ٦ ۔ اور اس کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے ۔

It was narrated that Ali said that the Messenger of Allah ﷺ said: "The Muslim has six courtesies due from the Muslim: He should greet him with Salaam when he meets him; he should accept his invitation if he invites him; he should answer [by Yarhamuk-Allah (may Allah have mercy on you) to him if he sneezes (and says AI-Hamdulillah); he should visit him if he falls sick; he should follow his funeral if he dies; and he should love for him what he loves for himself." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ١ (٢٧٣٦)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٤٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨٨، ٨٩، ٢/٣٧٢، ٤١٢)، سنن الدارمی/الاستئذان ٥ (٢٦٧٥) (صحیح )
1434Sunan Ibne-Majah

بیمار کی عیادت

حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ أَرْبَعُ خِلَالٍ: يُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ، وَيَشْهَدُهُ إِذَا مَاتَ، وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ.

ابومسعود (عقبہ بن عمرو) انصاری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چار حقوق ہیں: جب اسے چھینک آئے اور وہ الحمدلله کہے تو اس کے جواب میں يرحمک الله کہے، جب وہ دعوت دے تو اس کی دعوت کو قبول کرے، جب اس کا انتقال ہوجائے تو اس کے جنازہ میں حاضر ہو، اور جب بیمار ہوجائے تو اس کی عیادت کرے ۔

It was narrated from Abu Masud that the Prophet ﷺ said: "The Muslim has four things due from the Muslim: He should if answer [by saying Yarhamuk-Allah (may Allah have mercy on you) , to him if he sneezes (and says AI-Hamdulillah); he should accept his invitation if he invites him; he should attend his funeral if he dies; and he should visit him if he falls sick." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٩٧٩، ومصباح الزجاجة: ٥٠٥)، مسند احمد (٥/٢٧٢) (صحیح )
1435Sunan Ibne-Majah

بیمار کی عیادت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَمْسٌ مِنْ حَقِّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ: رَدُّ التَّحِيَّةِ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ، وَشُهُودُ الْجِنَازَةِ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ إِذَا حَمِدَ اللَّهَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان کے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں: سلام کا جواب دینا، دعوت قبول کرنا، جنازہ میں حاضر ہونا، مریض کی عیادت کرنا، اور جب چھینکنے والا الحمد لله کہے، تو اس کے جواب میں يرحمک الله کہنا۔

lt was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Five are the rights of the Muslim over the Muslim: Returning his greeting, accepting his invitation; attending his funeral; visiting the sick; and answering (saying Yarhamuk-Allah) to the one who sneezes, if he praises Allah (says AI-Hamdu Lillah)." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٠٩٢، ومصباح الزجاجة: ٥٠٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز ٢ (١٢٤٠)، صحیح مسلم/السلام ٣ (٢١٦٢)، سنن النسائی/الجنائز ٥٢ (١٩٤٠)، مسند احمد (٢/٣٢١، ٣٣٢، ٣٥٧، ٣٧٢، ٣٨٨) (صحیح )
1436Sunan Ibne-Majah

بیمار کی عیادت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاشِيًا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَأَنَا فِي بَنِي سَلَمَةَ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ پیدل چل کر میری عیادت کے لیے آئے، اور میں (مدینہ سے دور) قبیلہ بنو سلمہ میں تھا۔

Jabir bin Abdullah said: "The Messenger of Allah ﷺ came walking to visit me (when I was sick), as did Abu Bakr, when I was with Banu Salimah. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٤٥ (١٩٤)، التفسیر ٤ (٤٥٧٧)، المرضی ٥ (٥٦٥١)، الفرائض ١ (٦٧٢٣)، الاعتصام ٨ (٣٠١٥)، صحیح مسلم/الفرائض ٢ (١٦١٦)، سنن ابی داود/الجنائز ٢ (٢٨٨٦)، سنن الترمذی/الفرائض ٧ (٢٠٩٧)، تفسیرالقرآن ٥ (٣٠١٥)، سنن النسائی/الطہارة ١٠٣ (١٣٨)، (تحفة الأشراف: ٣٠٢٨)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطہارة ٥٦ (٧٦٠) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٢٧٢٨) (صحیح )
1437Sunan Ibne-Majah

بیمار کی عیادت

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَعُودُ مَرِيضًا إِلَّا بَعْدَ ثَلَاثٍ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مریض کی عیادت اس کی بیماری کے تین دن گزر جانے کے بعد فرماتے تھے۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Prophet ﷺ did not visit any sick person until after three days." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧١٨، و مصباح الزجاجة: ٥٠٧) (موضوع) (اس میں مسلمہ بن علی متروک اور منکر الحدیث ہے، ابن الجوزی نے اسے موضوعات میں داخل کیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٤٥ )
1438Sunan Ibne-Majah

بیمار کی عیادت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ السَّكُونِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا دَخَلْتُمْ عَلَى الْمَرِيضِ، فَنَفِّسُوا لَهُ فِي الْأَجَلِ، فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَرُدُّ شَيْئًا، وَهُوَ يَطِيبُ بِنَفْسِ الْمَرِيضِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم مریض کے پاس جاؤ، تو اسے لمبی عمر کی امید دلاؤ، اس لیے کہ ایسا کہنے سے تقدیر نہیں پلٹتی، لیکن بیمار کا دل خوش ہوتا ہے ۔

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Messenger of Allah ﷺ said: "When you enter upon one who is sick, cheer him up and give him hope of a long life, for that does not change anything (of the Divine Decree), but it will cheer the heart of the one who is sick." (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطب ٣٥ (٠٨٧)، (تحفة الأشراف: ٤٢٩٢) (ضعیف) (موسیٰ بن محمد اس سند میں ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٨٢ )
1439Sunan Ibne-Majah

بیمار کی عیادت

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ هُبَيْرَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَكِينٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا، فَقَالَ: مَا تَشْتَهِي؟، قَالَ: أَشْتَهِي خُبْزَ بُرٍّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ عِنْدَهُ خُبْزُ بُرٍّ، فَلْيَبْعَثْ إِلَى أَخِيهِ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اشْتَهَى مَرِيضُ أَحَدِكُمْ شَيْئًا، فَلْيُطْعِمْهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک بیمار کی عیادت کی، تو اس سے پوچھا: کیا کھانے کو جی چاہتا ہے؟ اس نے کہا: گیہوں کی روٹی کھانے کی خواہش ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کے پاس گیہوں کی روٹی ہو، وہ اسے اپنے بیمار بھائی کے پاس بھیج دے پھر آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کا مریض کچھ کھانے کی خواہش کرے تو وہ اسے وہی کھلائے ۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet ﷺ visited a man and said: "What do you long for?" He said: "I long for wheat bread." The Prophet ﷺ said: "Whoever has any wheat bread, let him send it to his brother." Then the Prophet ﷺ said: "If any sick person among you longs for something, then feed him." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٢٢٤، ومصباح الزجاجة: ٥٠٨) (ضعیف) (اس میں صفوان بن ھبیرہ لین الحدیث ہیں، نیز یہ حدیث ( ٣٤٤٠ ) نمبر پر آرہی ہے )
1440Sunan Ibne-Majah

بیمار کی عیادت

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَرِيضٍ يَعُودُهُ، فَقَالَ: أَتَشْتَهِي شَيْئًا؟ أَتَشْتَهِي كَعْكًا؟، قَالَ: نَعَمْ، فَطَلَبُوا لَهُ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک مریض کی عیادت کے لیے گئے، تو پوچھا: کیا کچھ کھانے کو جی چاہتا ہے؟ کیا کیک کھانا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں، تو لوگوں نے اس کے لیے کیک منگوایا۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Prophet ﷺ entered upon a sick person to visit him. He said: Do you long for anything? Do you long for Kak (a type of bread)? He said:Yes. So they sent someone to bring some Kak for him." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٨٣، ومصباح الزجاجة: ٥٠٩) (ضعیف) (اس میں یزید بن ابان الرقاشی ضعیف ہیں، نیز ٣٤٤١ نمبر پر یہ حدیث آرہی ہے )