Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 74 of 218

1461Sunan Ibne-Majah

میّت کو نہلانا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ مُبَشِّرِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِيُغَسِّلْ مَوْتَاكُمُ الْمَأْمُونُونَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے مردوں کو امانت دار لوگ غسل دیں ۔

It was narrated from Abdullah bin Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: Let the honest wash your dead." (Maudu)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٧٣٩، ومصباح الزجاجة: ٥١٧) (موضوع) (اس کی سند میں بقیہ بن الولید مدلس ہیں، نیز ان کے شیخ مبشر بن عبید پر حدیث وضع کرنے کی تہمت ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٤٣٩٥ )
1462Sunan Ibne-Majah

میّت کو نہلانا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا وَكَفَّنَهُ وَحَنَّطَهُ وَحَمَلَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ، وَلَمْ يُفْشِ عَلَيْهِ مَا رَأَى، خَرَجَ مِنْ خَطِيئَتِهِ مِثْلَ يَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی مردے کو غسل دیا، اسے کفن پہنایا، اسے خوشبو لگائی، اور اسے کندھا دے کر قبرستان لے گیا، اس پہ نماز جنازہ پڑھی، اور اگر کوئی عیب دیکھا تو اسے پھیلایا نہیں، تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہوگیا جیسے وہ اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا ۔

It was narrated from Ali that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever washes a deceased person, shrouds him, embalms him, carries him and offers the funeral prayer for him, and does not disclose wha t he has seen, he will emerge from his sins as on the day his mother bore him." (Maudu)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠١٣٤، ومصباح الزجاجة: ٥١٨) (ضعیف جدًا) (اس کی سند میں عباد بن کثیر ہے جن کے بارے میں امام احمد نے کہا ہے کہ غفلت کے سبب جھوٹی حدیثیں روایت کرتے ہیں، نیز اس کی سند میں عمرو بن خالد کذاب ہے )
1463Sunan Ibne-Majah

میّت کو نہلانا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَلْيَغْتَسِلْ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی مردے کو غسل دے وہ خود بھی غسل کرے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever washes a dead person, let him take a bath. " (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حکم مستحب ہے، کیونکہ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ليس عليكم في غسل ميتكم إذا اغسلتموه أن ميتكم يموت طاهرًا، وليس بنجس فحسبکم أن يغسلوا أيديكم جب تم لوگ اپنے میت کو غسل دو، تو تمہارے اوپر کچھ نہیں ہے، سوائے اس کہ تم اپنے ہاتھوں کو دھو لو، کیونکہ تمہارے میت پاک و صاف ہو کر وفات پائے ہیں وہ نجس نہیں ہیں نیز امام خطابی فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ کسی بھی عالم نے میت کو غسل دینے سے یا اسے اٹھانے سے غسل کو واجب کہا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ١٧ (٩٩٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٧٢٦)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز ٣٩ (٣١٦١)، مسند احمد (٢/٢٧٢) (صحیح )
1464Sunan Ibne-Majah

مرد کا اپنی بیوی کو اور بیوی کا خاوند کو غسل دینا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الذَّهَبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَوْ كُنْتُ اسْتَقْبَلْتُ مِنَ الأَمْرِ، مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ نِسَائِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ اگر مجھے اپنی اس بات کا علم پہلے ہی ہوگیا ہوتا جو بعد میں ہوا تو نبی اکرم ﷺ کو آپ کی بیویاں ہی غسل دیتیں ١ ؎۔

It was narrated that , Aisha (RA) said: "If I had known then what I know now, no one would have washed the Prophet ﷺ but his wives." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عورت اپنے شوہر کو غسل دے سکتی ہے کیونکہ بیوی محرم راز ہوتی ہے، اور اس سے ستر بھی نہیں ہوتا، پس اس کا غسل دینا شوہر کو بہ نسبت دوسروں کے اولیٰ اور بہتر ہے، اور ابوبکر صدیق ؓ کو ان کی بیوی اسماء بنت عمیس ؓ نے غسل دیا، اور کسی صحابی نے اس پر نکیر نہیں کی، اور یہ مسئلہ اتفاقی ہے، نیز ام المؤمنین عائشہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ کو غسل نہ دے سکنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے، اگر یہ جائز نہ ہوتا تو وہ افسوس کا اظہار نہ کرتیں، جیسا کہ امام بیہقی فرماتے ہیں: فتلهفت على ذلک ولا يتلهف إلا على ما يجوز۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦١٨٢، ومصباح الزجاجة: ٥١٩)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز ٣٢ (٣١٤١)، مسند احمد (٦/٢٦٧) (صحیح) (سند میں ابن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، لیکن منتقی ابن الجارو د، صحیح ابن حبان اور مستدرک الحاکم میں تحد یث کی صراحت ہے، دفاع عن الحدیث النبوی ٥٣ -٥٤، والإرواء: ٧٠٠ )
1465Sunan Ibne-Majah

مرد کا اپنی بیوی کو اور بیوی کا خاوند کو غسل دینا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَقِيعِ، فَوَجَدَنِي وَأَنَا أَجِدُ صُدَاعًا فِي رَأْسِي، وَأَنَا أَقُولُ وَا رَأْسَاهُ، فَقَالَ: بَلْ أَنَا يَا عَائِشَةُ وَا رَأْسَاهُ، ثُمَّ قَالَ: مَا ضَرَّكِ لَوْ مِتِّ قَبْلِي، فَقُمْتُ عَلَيْكِ فَغَسَّلْتُكِ، وَكَفَّنْتُكِ، وَصَلَّيْتُ عَلَيْكِ، وَدَفَنْتُكِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بقیع سے لوٹے تو مجھے اس حال میں پایا کہ میرے سر میں درد ہو رہا تھا، اور میں کہہ رہی تھی: ہائے سر!، تو آپ ﷺ نے فرمایا: بلکہ اے عائشہ! میں ہائے سر کہتا ہوں ١ ؎، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا کیا نقصان ہوگا اگر تم مجھ سے پہلے مرو گی تو تمہارے سارے کام میں انجام دوں گا، تمہیں غسل دلاؤں گا، تمہاری تکفین کروں گا، تمہاری نماز جنازہ پڑھاؤں گا، اور تمہیں دفن کروں گا ۔

It was narrated that , Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ came back from Al-Baqi and I had a headache and was saying: O my head! He said: Rather, I should say, O my head, o Aisha (RA) ! Then he said: It will not matter if you were to die before me, for I will take care of you, wash you, shroud you, offer the funeral prayer for you and bury you." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اے عائشہ! بلکہ میرے سر میں درد ہو رہا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٣١٣، ومصباح الزجاجة: ٥٢٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٢٨)، سنن الدارمی/المقدمة ١٤ (٨١) (حسن )
1466Sunan Ibne-Majah

آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کیسے غسل دیا گیا ؟

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْأَزْهَرِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا أَخَذُوا فِي غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَادَاهُمْ مُنَادٍ مِنَ الدَّاخِلِ، لَا تَنْزِعُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَهُ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ جب لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کو غسل دینا شروع کیا ١ ؎ تو کسی آواز لگانے والے نے اندر سے آواز لگائی کہ رسول اللہ ﷺ کا کرتہ نہ اتارو۔

It was narrated from Abu Buraidah that his father said: "When they started to wash the Prophet ﷺ a voice called out from inside (the house) saying: Do not remove the shirt of the Messenger of Allah ﷺ ". (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ ﷺ کے کپڑے نکالنے کے سلسلے میں متردد ہوئے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٩٤٢، ومصباح الزجاجة: ٥٢١) (منکر) (اس کی سند میں ابو بردہ عمر و بن یزید التیمی ضعیف ہیں )
1467Sunan Ibne-Majah

آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کیسے غسل دیا گیا ؟

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خِذَامٍ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: لَمَّا غَسَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَهَبَ يَلْتَمِسُ مِنْهُ مَا يَلْتَمِسُ مِنَ الْمَيِّتِ، فَلَمْ يَجِدْهُ، فَقَالَ بِأَبِي الطَّيِّبُ: طِبْتَ حَيًّا وَطِبْتَ مَيِّتًا.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ جب انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو غسل دیا، تو آپ کے جسم مبارک سے وہ ڈھونڈنے لگے جو میت کے جسم میں ڈھونڈتے ہیں ١ ؎ لیکن کچھ نہ پایا، تو کہا: میرے باپ آپ پر قربان ہوں، آپ پاک صاف ہیں، آپ زندگی میں بھی پاک تھے، مرنے کے بعد بھی پاک رہے ٢ ؎۔

It was narrated that Ali bin Abu Talib said that when he washed the Messenger of Allah ﷺ he looked for what which is usually looked for on the deceased (i.e., dirt), and he found none. He said: "May my father be sacrificed for you, you are pure; you were pure in life and you are pure in death." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نجاست وغیرہ۔ ٢ ؎: نبی اکرم ﷺ کے مزاج میں اللہ تعالیٰ نے نہایت نفاست، لطافت اور طہارت رکھی تھی، آپ خوشبو کا بہت استعمال کرتے تھے اور بدبو سے نہایت نفرت کرتے، آپ کے کپڑے اور بدن ہمیشہ معطر رہتے، یہاں تک کہ آپ جس کوچہ اور گلی سے چلے جاتے تو وہ معطر ہوجاتا، اور لوگ پہچان لیتے کہ آپ ادھر سے تشریف لے گئے ہیں، ایک بار آپ ﷺ نے شہد کا استعمال کیا، تو بعض ازواج مطہرات ؓن نے کہا کہ آپ کے منہ سے مغافیر (گوند) کی بو آتی ہے، آپ نے شہد کا استعمال اپنے اوپر حرام کرلیا، غرض آپ اس سے بہت بچتے تھے کہ آپ کے کپڑے یا بدن میں کسی قسم کی بو ہو جو دوسرے کو بری معلوم ہو، اور اسی وجہ سے آپ کچی پیاز یا لہسن نہیں کھاتے تھے، جب نبی اکرم ﷺ منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی ابن سلول سے ملنے گئے، جو بڑا دنیا دار اور مال دار تھا، تو وہ کہنے لگا کہ آپ اپنے گدھے کو مجھ سے ذرا دور رکھئیے اس کی بدبو سے مجھے تکلیف ہوتی ہے، صحابہ کرام ؓ نے جواب دیا کہ قسم اللہ کی! آپ ﷺ کے گدھے کی بو تیرے بدن کی بو سے اچھی ہے، غرض سر سے پاؤں تک آپ لطافت و طہارت اور خوشبو ہی میں ڈوبے ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ نے وفات کے بعد بھی آپ کو پاک و صاف رکھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠١١٥، ومصباح الزجاجة: ٥٢٢) (صحیح) (اس کی سند میں یحییٰ بن خذام مجہول ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے سند صحیح ہے )
1468Sunan Ibne-Majah

آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کیسے غسل دیا گیا ؟

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَاغْسِلْنِي بِسَبْعِ قِرَبٍ مِنْ بِئْرِي بِئْرِ غَرْسٍ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب میں انتقال کر جاؤں تو مجھے میرے کنویں (بئر غرس) کے سات مشکیزوں سے غسل دینا ۔

It was narrated from Ali that the Messenger of Allah ﷺ said: "When I die, then wash me with seven buckets from my well, the well of Ghars. " (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠١٦٤، ومصباح الزجاجة: ٥٢٣) (ضعیف) (اس کی سند میں عباد بن یعقوب متروک ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٢٣٧ )
1469Sunan Ibne-Majah

نبی اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کفن

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ يَمَانِيَةٍ، لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ، وَلَا عِمَامَةٌ، فَقِيلَ لِعَائِشَةَ: إِنَّهُمْ كَانُوا يَزْعُمُونَ أَنَّهُ قَدْ كَانَ كُفِّنَ فِي حِبَرَةٍ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: قَدْ جَاءُوا بِبُرْدِ حِبَرَةٍ فَلَمْ يُكَفِّنُوهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو تین سفید یمنی کپڑوں میں کفنایا گیا، جس میں کرتہ اور عمامہ نہ تھا، ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا گیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کو دھاری دار چادر میں کفنایا گیا تھا؟ تو عائشہ ؓ نے کہا: لوگ دھاری دار چادر لائے تھے مگر انہوں نے آپ ﷺ کو اس میں نہیں کفنایا ١ ؎۔

It was narrated from Aisha (RA) that the Prophet ﷺ was shrouded in three white Yemeni cloths, among which there was no shirt and no turban. It was said to Aisha (RA) : "They used to claim that he was shrouded in Hibarah." Aisha (RA) said: "They brought a Hibarah Burd, but they did not shroud him in it." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ سفید کپڑا کفن کے لیے بہتر ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ تین کپڑوں سے زیادہ مکروہ ہے بالخصوص عمامہ جسے متاخرین حنفیہ اور مالکیہ نے رواج دیا ہے، یہ بدعت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ١٣ (٩٤١)، سنن ابی داود/الجنائز ٣٤ (٣١٥٢)، سنن الترمذی/الجنائز ٢٠ (٩٩٦)، سنن النسائی/الجنائز ٣٩ (١٩٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٦٧٨٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز ١٨ (١٢٦٤)، ٢٣ (١٢٧١)، ٢٤ (١٢٧٢)، ٩٤ (١٣٨٧)، موطا امام مالک/الجنائز ٢ (٥) مسند احمد (٦/٤٠، ٩٣، ١١٨، ١٣٢، ١٦٥) (صحیح )
1470Sunan Ibne-Majah

نبی اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کفن

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: هَذَا مَا سَمِعْتُ مِنْ أَبِي مُعَيْدٍ حَفْصِ بْنِ غَيْلَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رِيَاطٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سحول کے بنے ہوئے تین باریک سفید کپڑوں میں کفنائے گئے۔

It was narrated that Abdullah bin Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ was shrouded in three thin white Suhuli cloths: (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: سحول: یمن کے ایک گاؤں کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٦٧٦، ومصباح الزجاجة: ٥٢٤) (حسن صحیح) (عائشہ ؓ کی سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں عمرو بن ابی سلمہ ضعیف ہیں )
1471Sunan Ibne-Majah

نبی اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کفن

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ، قَمِيصُهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، وَحُلَّةٌ نَجْرَانِيَّةٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تین کپڑوں میں کفنائے گئے، ایک اپنی قمیص میں جس میں آپ ﷺ نے وفات پائی تھی، اور دوسرے نجرانی ١ ؎ جوڑے میں۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ was shrouded in three garments: The shirt in which he died, and a Najrani Hullah.(Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: نجران: یمن سے متصل سعودی عرب کے ایک علاقہ کا نام ہے، اور نجران مشہور شہر بھی ہے۔
Takhrij · تخریج
حدیث یزید بن أبي زیاد عن الحکم تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٤٨٥)، وحدث یزید بن أبي زیاد عن مقسم أخرجہ، سنن ابی داود/الجنائز ٣٤ (٣١٥٣)، (تحفة الأشراف: ٦٤٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٢) (ضعیف) (اس کی سند میں یزید بن أبی زیاد ضعیف ہیں )
1472Sunan Ibne-Majah

مستحب کفن

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضُ، فَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ، وَالْبَسُوهَا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے کپڑوں میں سب سے بہتر سفید کپڑا ہے، لہٰذا تم اپنے مردوں کو اسی میں کفناؤ، اور اسی کو پہنو ۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: "The best of your garments are those which are white, so shroud your dead in them, and wear them." (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ١٦ (٤٠٦١)، سنن الترمذی/الجنائز ١٨ (٩٩٤)، (تحفة الأشراف: ٥٥٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣١، ٢٤٧، ٢٧٤، ٣٦٨، ٣٥٥، ٣٦٣)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: (٣٥٦٦) (صحیح )
1473Sunan Ibne-Majah

مستحب کفن

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي نَصْرٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَيْرُ الْكَفَنِ الْحُلَّةُ.

عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بہترین کفن جوڑا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Ubadah bin Samit that the Messenger of Allah ﷺ said: "The best of shrouds is the Hullah (twopiecer)." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تہبند اور چادر۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٣٥ (٣١٥٦)، (تحفة الأشراف: ٥١١٧) (ضعیف) (اس کی سند میں أبونصر اور نسی مجہول ہیں )
1474Sunan Ibne-Majah

مستحب کفن

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا وَلِيَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ.

ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی تجہیز و تکفین کا ذمہ دار ہو، تو اسے اچھا کفن دے ۔

It was narrated from Abu Qatadah that the Messenger of Allah ﷺ said: "If anyone of you is charged with taking care of his brother (after death), let him shroud him well." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اچھے کفن سے مراد کپڑے کی صفائی اور سفیدی ہے، قیمتی کپڑا مراد نہیں، اس لئے کہ قیمتی کفن سے آپ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ١٩ (٩٩٥)، (تحفة الأشراف: ١٢١٢٥) (صحیح )
1475Sunan Ibne-Majah

مستحب کفن

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سَمُرَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا أَبُو شَيْبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا قُبِضَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُدْرِجُوهُ فِي أَكْفَانِهِ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَيْهِ، فَأَتَاهُ فَانْكَبَّ عَلَيْهِ وَبَكَى.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تو آپ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا: انہیں کفن میں داخل نہ کرنا جب تک کہ میں دیکھ نہ لوں ، پھر آپ ﷺ آئے، اور ان کے اوپر جھک کر روئے۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "When Ibrahim the son of the Prophet ﷺ died, the Prophet ﷺ said to them: Do not wrap him in his shroud until I look at him: He came to him, bent over him and wept: (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٠٨، ومصباح الزجاجة: ٥٢٥) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں ابو شیبہ یوسف بن ابراہیم منکر الحدیث ہیں، بلکہ یہ صاحب عجائب کے نام سے مشہور ہیں )
1476Sunan Ibne-Majah

موت کی خبر دینے کی ممانعت

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى، قَالَ: كَانَ حُذَيْفَةُإِذَا مَاتَ لَهُ الْمَيِّتُ، قَالَ: لَا تُؤْذِنُوا بِهِ أَحَدًا، إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ نَعْيًا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ: يَنْهَى عَنِ النَّعْيِ.

بلال بن یحییٰ کہتے ہیں کہ جب حذیفہ ؓ کا کوئی رشتہ دار انتقال کرجاتا تو کہتے: کسی کو اس کے انتقال کی خبر مت دو، میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ نعی ١ ؎ نہ ہو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے ان کانوں سے نعی سے منع فرماتے سنا ہے۔

It was narrated that Bilal (RA) bin Yahya said: "If one of the members of his family died, Hudhaifah would say: Do not inform anyone of it, for I am afraid that that would be a public death announcement. I heard the Messenger of Allah ﷺ with these two ears of mine forbidding making public death announcements:" (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: نعی: کسی کے مرنے کی خبر دینے کو نعی کہتے ہیں، نعی جائز ہے، خود نبی اکرم ﷺ نے نجاشی کی وفات کی خبر دی ہے اسی طرح زید بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ ؓ کی وفات کی خبریں بھی آپ نے لوگوں کو دی ہیں، جس نعی کی ممانعت حدیثوں میں وارد ہے، یہ وہ نعی ہے جسے اہل جاہلیت کرتے تھے، جب کوئی مرجاتا تو وہ ایک شخص کو بھیجتے جو محلوں اور بازاروں میں پھر پھر کر اس کے مرنے کا اعلان کرتا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ١٢ (٩٨٦)، (تحفة الأشراف: ٣٣٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٨٥، ٤٠٦) (حسن )
1477Sunan Ibne-Majah

موت کی خبر دینے کی ممانعت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَسْرِعُوا بِالْجِنَازَةِ، فَإِنْ تَكُنْ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ، وَإِنْ تَكُنْ غَيْرَ ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنازہ کو جلدی لے کر چلو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اس کو نیکی کی طرف جلدی پہنچا دو گے، اور اگر بد ہے تو بدی کو اپنی گردن سے اتار پھینکو گے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger Allah ﷺ said: Hasten with the funeral (procession), for if the person was righteous then you are advancing him towards good and if he was otherwise then it is evil which you are taking off your necks." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٥١ (١٣١٥)، صحیح مسلم/الجنائز ١٦ (٩٤٤)، سنن ابی داود/الجنائز ٥٠ (٣١٨١)، سنن الترمذی/الجنائز ٣٠ (١٠١٥)، سنن النسائی/الجنائز ٤٤ (١٩١١)، (تحفة الأشراف: ١٣١٢٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز ١٦ (٥٦)، مسند احمد (٢/٢٤٠) (صحیح )
1478Sunan Ibne-Majah

موت کی خبر دینے کی ممانعت

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ: قَالَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: مَنِ اتَّبَعَ جِنَازَةً، فَلْيَحْمِلْ بِجَوَانِبِ السَّرِيرِ كُلِّهَا، فَإِنَّهُ مِنَ السُّنَّةِ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ فَلْيَتَطَوَّعْ، وَإِنْ شَاءَ فَلْيَدَعْ.

ابوعبیدہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ جو کوئی جنازہ کے ساتھ جائے تو (باری باری) چارپائی کے چاروں پایوں کو اٹھائے، اس لیے کہ یہ سنت ہے، پھر اگر چاہے تو نفلی طور پر اٹھائے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔

It was narrated that Abu Ubaidah said: "Abdullah bin Masud said: Whoever follows a funeral (procession), let him carry all (four) comers of it (in turn), for that is Sunnah. Then if he wishes ret him voluntarily carry it, and if he wishes let him not do so," (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٦١٢، ومصباح الزجاجة: ٥٢٦) (ضعیف) (اس سند میں انقطاع ہے، کیونکہ ابو عبیدة (عامر) نے اپنے والد سے کوئی حدیث نہیں سنی ہے )
1479Sunan Ibne-Majah

موت کی خبر دینے کی ممانعت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ رَأَى جِنَازَةً يُسْرِعُونَ بِهَا، قَالَ: لِتَكُنْ عَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک جنازہ دیکھا جسے لوگ دوڑتے ہوئے لے جا رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اطمینان سے چلو ۔

It was narrated from Abu Musa that the Prophet ﷺ saw a "funeral (procession) with which the people were rushing. He said: "You should move with tranquility," (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩١٢٩، ومصباح الزجاجة: ٥٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٠٣، ٤٠٦، ٤١٢) (منکر) (اس کی سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں، اور ابوہریرہ ؓ کی سابقہ حدیث کے معارض ہے، اس لئے یہ حدیث منکر ہے )
1480Sunan Ibne-Majah

موت کی خبر دینے کی ممانعت

حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا رُكْبَانًا عَلَى دَوَابِّهِمْ فِي جِنَازَةٍ، فَقَالَ: أَلَا تَسْتَحْيُونَ أَنَّ مَلَائِكَةَ اللَّهِ يَمْشُونَ عَلَى أَقْدَامِهِمْ، وَأَنْتُمْ رُكْبَانٌ.

رسول اللہ ﷺ کے غلام ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک جنازہ میں کچھ لوگوں کو جانوروں پر سوار دیکھا، تو فرمایا: تمہیں شرم نہیں آتی کہ اللہ کے فرشتے پیدل چل رہے ہیں اور تم سوار ہو ۔

It was narrated that Thawban, the freed slave of the Messenger of Allah ﷺ said: "The Messenger of Allah ﷺ saw some people riding on their animals in a funeral (procession). He said:Do you not feel ashamed that the angels of Allah are walking on foot and you are riding?" (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ٢٨ (١٠١٢)، (تحفة الأشراف: ٢٠٨١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز ٤٨ (٣١٧٧) (ضعیف) (اس کی سند میں ابوبکر بن ابی مریم ضعیف ہیں، اور بقیہ بن ولید مدلس ہیں )