Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 75 of 218

1481Sunan Ibne-Majah

موت کی خبر دینے کی ممانعت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ، سَمِعَ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الرَّاكِبُ خَلْفَ الْجِنَازَةِ، وَالْمَاشِي مِنْهَا حَيْثُ شَاءَ.

مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: سوار شخص جنازہ کے پیچھے چلے اور پیدل شخص (آگے پیچھے، دائیں، بائیں) جہاں چاہے چلے ۔

Al-Mughirah bin Shubah said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: The rider should travel behind the funeral (procession) but the one who is walking may walk wherever he wants: (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٤٩ (٣١٨٠)، سنن الترمذی/الجنائز ٤٢ (١٠٣١)، سنن النسائی/الجنائز ٥٥ (١٩٤٤)، (تحفة الأشراف: ١١٤٩٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٤٧، ٢٤٨، ٢٤٩، ٢٥٢) (صحیح )
1482Sunan Ibne-Majah

جنازہ کے سامنے چلنا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْأَبِيهِ، قَال: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ يَمْشُونَ أَمَامَ الْجِنَازَةِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ، ابوبکر اور عمر ؓ کو دیکھا کہ وہ جنازہ کے آگے چلتے تھے۔

It was narrated from Salim that his father said: "I saw the Prophet, Abu Bakr (RA) and Umar walking ahead of the funeral (procession)." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: جنازہ کے ساتھ جنازہ سے قریب ہو کر آگے پیچھے دائیں بائیں ہر طرح سے چلنا جائز ہے، البتہ پیچھے چلنا افضل ہے، اور سوار کے لئے آگے چلنا صحیح نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٤٩ (١١٧٩)، سنن الترمذی/الجنائز ٢٦ (١٠٠٧)، سنن النسائی/الجنائز ٥٦ (١٩٤٦)، (تحفة الأشراف: ٦٨٢٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز ٣ (٨)، مسند احمد (٢/٨، ١٢٢) (صحیح )
1483Sunan Ibne-Majah

جنازہ کے سامنے چلنا

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ يَمْشُونَ أَمَامَ الْجِنَازَةِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ابوبکر، عمر اور عثمان ؓ عنہم جنازہ کے آگے چلتے تھے۔

lt was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ , Abu Bakr, Umar and Uthman used to walk ahead of the funeral (procession)." (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ٢٦ (١٠١٠)، (تحفة الأشراف: ١٥٦٢) (صحیح )
1484Sunan Ibne-Majah

جنازہ کے سامنے چلنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مَاجِدَةَ الْحَنَفِيِّ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْجِنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ، وَلَيْسَتْ بِتَابِعَةٍ، لَيْسَ مِنْهَا مَنْ تَقَدَّمَهَا.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنازہ کے پیچھے چلنا چاہیئے، اس کے آگے نہیں چلنا چاہیئے، جو کوئی جنازہ کے آگے ہو وہ اس کے ساتھ نہیں ہے ۔

It was narrated from "Abdullah bin Masud that the Messenger of Allah ﷺ said: The funeral should be followed and should not follow. There should be no one with it who walks ahead of it. "(Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٥٠ (٣١٨٤)، سنن الترمذی/الجنائز ٢٧ (١٠١١)، (تحفة الأشراف: ٩٦٣٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٧٨، ٣٩٤، ٤١٥، ٤١٩، ٤٣٢) (ضعیف) (اس کی سند میں ابو ماجدہ حنفی ضعیف ہیں )
1485Sunan Ibne-Majah

جنا زے کے ساتھ سوگ کا لباس پہننے کی مما بعت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَزَوَّرِ، عَنْ نُفَيْعٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، وأبى برزة قَالَا: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ، فَرَأَى قَوْمًا قَدْ طَرَحُوا أَرْدِيَتَهُمْ، يَمْشُونَ فِي قُمُصٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبِفِعْلِ الْجَاهِلِيَّةِ تَأْخُذُونَ أَوْ بِصُنْعِ الْجَاهِلِيَّةِ تَشَبَّهُونَ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَدْعُوَ عَلَيْكُمْ دَعْوَةً تَرْجِعُونَ فِي غَيْرِ صُوَرِكُمْ، قَالَ: فَأَخَذُوا أَرْدِيَتَهُمْ، وَلَمْ يَعُودُوا لِذَلِكَ.

عمران بن حصین اور ابوبرزہ اسلمی ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے، تو آپ نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی چادریں پھینک دیں، اور صرف قمیصیں پہنے ہوئے چل رہے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم لوگ دور جاہلیت کا طریقہ اپناتے ہو یا جاہلیت کے طریقہ کی مشابہت کرتے ہو؟ میں نے ارادہ کیا کہ تم پر ایسی بد دعا کروں کہ تم اپنی صورتوں کے علاوہ دوسری صورتوں میں اپنے گھروں کو لوٹو یہ سنتے ہی ان لوگوں نے اپنی چادریں لے لیں، اور دوبارہ ایسا نہ کیا۔

It was narrated that Imran bin Husain and Abu Barzah said: "We went out with the Messenger of Allah ﷺ to attend a funeral, and he saw some people who had cast aside their upper sheets and were walking in their shirts only. The Messenger of Allah ﷺ said: Are you adopting the practice of the days of Ignorance? or; Are you imitating the behavior of the days of Ignorance? I was about to supplicate against you that you would return in a different form. So they put their sheets back on and never did that again." (Maudu)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٨٦٤، ١١٦٠٢، ومصباح الزجاجة: ٥٢٨) (موضوع) (اس کی سند میں نفیع بن حارث متروک الحدیث اور متہم بالوضع ہے، نیز علی بن الحزور متروک و منکر الحدیث ہے، نیز ملاحظہ ہو: المشکاة: ١٧٥٠ )
1486Sunan Ibne-Majah

جب جنازہ آجائے تو نماز جنازہ میں تاخیر نہ کی جائے اور جنازے کے ساتھ آگ نہیں ہونی چاہئے۔

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيُّ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تُؤَخِّرُوا الْجِنَازَةَ إِذَا حَضَرَتْ.

علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب جنازہ تیار ہو تو اس (کے دفنانے) میں دیر نہ کرو ۔

It was narrated from Ali bin Abu Talib that the Messenger of Allah ﷺ said: "Do not delay the funeral once it is ready." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٢٧ (١٧١)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٥١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٠٥، ١٠٢٥١) (ضعیف) (اس میں سعید بن عبد اللہ اور ان کے شیخ محمد بن عمر بن علی مجہول ہیں )
1487Sunan Ibne-Majah

جب جنازہ آجائے تو نماز جنازہ میں تاخیر نہ کی جائے اور جنازے کے ساتھ آگ نہیں ہونی چاہئے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، أَنْبَأَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، أَنَّ أَبَا بُرْدَةَ حَدَّثَهُ، قَالَ: أَوْصَى أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ، فَقَالَلَا تُتْبِعُونِي بِمِجْمَرٍ، قَالُوا لَهُ: أَوَ سَمِعْتَ فِيهِ شَيْئًا؟، قَالَ: نَعَمْ، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابوبردہ ؓ کہتے ہیں کہ جب ابوموسیٰ اشعری ؓ کی وفات کا وقت ہوا، تو انہوں نے وصیت کی کہ میرے جنازے کے ساتھ آگ نہ لے جانا، لوگوں نے پوچھا: کیا اس سلسلے میں آپ نے کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔

It was narrated from Abu Hariz that Abu Burdah said: "Abu Musa Ashari left instructions, when he was dying, saying: Do not follow me with a censer. They said to him: Did you hear something concerning that? He said: Yes, from the Messenger of Allah ﷺ ." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩١١٠، ومصباح الزجاجة: ٥٢٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٩٧) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں ابو حریز عبد اللہ بن حسین ہیں، جن کے بارے میں ابن حجر نے صدوق یخطی کہا ہے )
1488Sunan Ibne-Majah

جس کا جنازہ مسلمانوں کی ایک جماعت پڑھے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَنَا شَيْبَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ مِائَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ غُفِرَ لَهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص کی نماز جنازہ سو مسلمانوں نے پڑھی اسے بخش دیا جائے گا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "Whoever has the funeral "prayer offered for him by one hundred Muslims, he will be forgiven." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٤١٢، ومصباح الزجاجة: ٥٣٠) (صحیح )
1489Sunan Ibne-Majah

جس کا جنازہ مسلمانوں کی ایک جماعت پڑھے۔

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سُلَيْمٍ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ الْخَرَّاطُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْكُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: هَلَكَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ لِي: يَا كُرَيْبُ، قُمْ فَانْظُرْ: هَلِ اجْتَمَعَ لِابْنِي أَحَدٌ؟، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: وَيْحَكَ، كَمْ تَرَاهُمْ، أَرْبَعِينَ؟، قُلْتُ: لَا، بَلْ هُمْ أَكْثَرُ، قَالَ: فَاخْرُجُوا بِابْنِي، فَأَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ أَرْبَعِينَ مِنْ مُؤْمِنٍ يَشْفَعُونَ لِمُؤْمِنٍ إِلَّا شَفَّعَهُمُ اللَّهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کے غلام کریب کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس ؓ کے ایک بیٹے کا انتقال ہوگیا، تو انہوں نے مجھ سے کہا: اے کریب! جاؤ، دیکھو میرے بیٹے کے جنازے کے لیے کچھ لوگ جمع ہوئے ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: تم پر افسوس ہے، ان کی تعداد کتنی سمجھتے ہو؟ کیا وہ چالیس ہیں؟ میں نے کہا: نہیں، بلکہ وہ اس سے زیادہ ہیں، تو انہوں نے کہا: تو پھر میرے بیٹے کو نکالو، میں قسم کھاتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: اگر چالیس ١ ؎ مومن کسی مومن کے لیے شفاعت کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی شفاعت کو قبول کرے گا ۔

It was narrated that Kuraib the freed slave of Abdullah bin Abbas said: "A son of Abdullah bin Abbas died, and he said to me: O Kuraib! Cet up and see if anyone has assembled (to pray) for my son. I said: Yes. He said: Woe to you, how many do you see? Forty? I said: No, rather there are more. He said: Take my son out, for J bear witness that I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "No (group of) forty believers intercede for a believer, but Allah will accept their intercession." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اوپر کی حدیث میں سو مسلمان کا ذکر ہے، اور اس حدیث میں چالیس کا، بظاہر دونوں میں تعارض ہے، تطبیق کی صورت یہ ہے کہ پہلے نبی اکرم ﷺ کو سو کی تعداد بتائی گئی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر مزید احسان فرمایا، اور اس تعداد میں تخفیف فرما دی، اور سو سے گھٹا کر چالیس کردی، نیز چالیس کا عدد مغفرت کے لئے کافی ہے، اب اگر سو ہوں گے تو اور زیادہ مغفرت کی امید ہے، ان شاء اللہ العزیز۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ١٩ (٩٤٨)، سنن ابی داود/الجنائز ٤٥ (٣١٧٠)، (تحفة الأشراف: ٦٣٥٤)، مسند احمد (١/٢٧٧) (صحیح )
1490Sunan Ibne-Majah

جس کا جنازہ مسلمانوں کی ایک جماعت پڑھے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ هُبَيْرَةَ الشَّامِيِّ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ: كَانَ إِذَا أُتِيَ بِجِنَازَةٍ فَتَقَالَّ: مَنْ تَبِعَهَا؟ جَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ صُفُوفٍ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا صَفَّ صُفُوفٌ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى مَيِّتٍ إِلَّا أَوْجَبَ.

مالک بن ہبیرہ شامی ؓ (انہیں صحبت رسول کا شرف حاصل تھا) کہتے ہیں کہ جب ان کے پاس کوئی جنازہ لایا جاتا، اور وہ اس کے ساتھ آنے والوں کی تعداد کم محسوس کرتے تو انہیں تین صفوں میں تقسیم کردیتے، پھر اس کی نماز جنازہ پڑھتے اور کہتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جس کسی میت پہ مسلمانوں کی تین صفوں نے صف بندی کی، تو اس کے لیے جنت واجب ہوگئی ۔

Malik bin Hubairah Ash-Shami, who was a Companion of the Prophet ﷺ said: "If a funeral procession was brought and the number of people who followed it Was considered to be small, they would be organized into three rows, then the funeral prayer Would be offered." He said: "The Messenger of Allah ﷺ said: No three rows of Muslims offer the funeral prayer for one who has died, but he will be guaranteed (Paradise). (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٤٣ (٣١٦٦)، سنن الترمذی/الجنائز ٤٠ (١٠٢٨)، (تحفة الأشراف: ١١٢٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٧٩) (ضعیف) (اس میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، تراجع الألبانی: رقم: ٣٦٣ )
1491Sunan Ibne-Majah

میّت کی تعریف کرنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ، فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ، فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَالَ: وَجَبَتْ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْتَ لِهَذِهِ: وَجَبَتْ، وَلِهَذِهِ: وَجَبَتْ، فَقَالَ: شَهَادَةُ الْقَوْمِ وَالْمُؤْمِنُونَ شُهُودُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے سے ایک جنازہ لے جایا گیا، لوگوں نے اس کی تعریف کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس پر (جنت) واجب ہوگئی پھر آپ کے سامنے سے ایک اور جنازہ لے جایا گیا، تو لوگوں نے اس کی برائی کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس پر (جہنم) واجب ہوگئی ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کے لیے بھی فرمایا: واجب ہوگئی ، اور اس کے لیے بھی فرمایا: واجب ہوگئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: لوگوں کی گواہی واجب ہوگئی، اور مومن زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہیں ١ ؎۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "A funeral (procession) passed by the Prophet ﷺ and they praised (the deceased) and spoke well of him. He said: (Paradise is) guaranteed for him. Then another funeral passed by and they spoke badly of him, and he (the Prophet ﷺ ) said: (Hell is) guaranteed for him. It was said: O Messenger of Allah, you said that (Paradise was) guaranteed for this one and that (Hell was) guaranteed for the other one. He said: It is the testimony of the people, and the believers are the witnesses of Allah on earth. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پکے سچے مسلمان جن کا شیوہ عدل و انصاف ہے، جس شخص کی دینی اور اخلاقی بنیادوں پر تعریف کریں، گویا وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جنتی ہے، اور جس کی وہ ہجو اور برائی کریں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک برا ہے، کیونکہ واقعہ یہ ہے کہ موت سے تمام دنیاوی عداوتیں اور دشمنیاں ختم ہوجاتی ہیں، اور دشمن بھی اس وقت دشمن نہیں رہتا، لہذا اب جو کوئی اس کی برائی بیان کرے گا تو اس کا سبب دنیوی عداوت نہ ہوگا، بلکہ حقیقت میں اس کے اخلاق یا دین میں کوئی برائی ہوگی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٨٥ (١٣٦٧)، الشہادات ٦ (٢٦٤٢)، صحیح مسلم/الجنائز ٢٠ (٩٤٩)، (تحفة الأشراف: ٢٩٤)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز ٦٤ (١٠٥٨)، سنن النسائی/الجنائز ٥٠ (١٩٣٤)، مسند احمد (٣/١٧٩، ١٨٦، ٧ ١٩، ٢٤٥، ٢٨١) (صحیح )
1492Sunan Ibne-Majah

میّت کی تعریف کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ، فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا فِي مَنَاقِبِ الْخَيْرِ، فَقَالَ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مَرُّوا عَلَيْهِ بِأُخْرَى، فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا فِي مَنَاقِبِ الشَّرِّ، فَقَالَ: وَجَبَتْ، إِنَّكُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو اس کی اچھی خصلتوں کی تعریف کی گئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس پر (جنت) واجب ہوگئی پھر آپ کے پاس سے ایک اور جنازہ گزرا، اس کی بری خصلتوں کا تذکرہ ہوا، آپ ﷺ نے فرمایا: اس پر (جہنم) واجب ہوگئی، تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "A funeral passed by the Prophet ﷺ and they praised (the deceased) and spoke well of him and mentioned his good characteristics. He said: (paradise is) guaranteed for him: Then another funeral passed by and they spoke badly of him and mentioned his bad characteristics, and he (the Prophet ﷺ ) said: (Hell is) guaranteed for him. You are the witnesses of Allah on earth. (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٠٧٤، ومصباح الزجاجة: ٥٣١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز ٨٠ (٣٢٣٣)، سنن النسائی/الجنائز ٥٠ (١٩٣٥)، مسند احمد (٢/٢٦١، ٤٩٩) (صحیح )
1493Sunan Ibne-Majah

نماز جنازہ کے وقت امام کہاں کھڑا ہو ؟

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: الْحُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ أَخْبَرَنِي، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ الْفَزَارِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَّى عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ وَسَطَهَا.

سمرہ بن جندب فزاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک عورت کی نماز جنازہ پڑھائی جو زچگی میں مرگئی تھی ١ ؎، تو آپ اس کے بیچ میں کھڑے ہوئے۔

It was narrated from Samurah bin Jundab Al-Eazari I that the Messenger of Allah ﷺ offered the funeral prayer for a woman who had died in Nifas} and he stood level with her middle. (i.e. her waist)." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس عورت کی کنیت ام کعب ہے جیسا کہ نسائی کی روایت میں اس کی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ٢٩ (٣٣٢)، الجنائز ٦٢ (١٣٣٢)، ٦٣ (١٣٣٣)، صحیح مسلم/الجنائز ٢٧ (٩٦٤)، سنن ابی داود/الجنائز ٥٧ (٣١٩٥)، سنن الترمذی/الجنائز ٤٥ (١٠٣٥)، سنن النسائی/الحیض ٢٥ (٣٩٣)، الجنائز ٧٣ (١٩٧٨)، (تحفة الأشراف: ٤٦٢٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٤، ١٩) (صحیح )
1494Sunan Ibne-Majah

نماز جنازہ کے وقت امام کہاں کھڑا ہو ؟

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، قَالَ: رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍصَلَّى عَلَى جِنَازَةِ رَجُلٍ، فَقَامَ حِيَالَ رَأْسِهِ، فَجِيءَ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى بِامْرَأَةٍ، فَقَالُوا: يَا أَبَا حَمْزَةَ، صَلِّ عَلَيْهَا، فَقَامَ حِيَالَ وَسَطِ السَّرِيرِ، فَقَالَ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، هَكَذَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَامَ مِنَ الْجِنَازَةِ مُقَامَكَ مِنَ الرَّجُلِ، وَقَامَ مِنَ الْمَرْأَةِ مُقَامَكَ مِنَ الْمَرْأَةِ؟، قَالَ: نَعَمْ، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: احْفَظُوا.

ابوغالب کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک آدمی کی نماز جنازہ پڑھائی تو اس کے سر کے سامنے کھڑے ہوئے، پھر ایک دوسرا جنازہ ایک عورت کا لایا گیا، تو لوگوں نے کہا: اے ابوحمزہ! اس کی نماز جنازہ پڑھائیے، تو وہ چارپائی کے بیچ میں کھڑے ہوئے، تو ان سے علاء بن زیاد نے کہا: اے ابوحمزہ! کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح مرد اور عورت کے جنازے میں کھڑے ہوتے ہوئے دیکھا، جس طرح آپ کھڑے ہوئے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور بولے: سب لوگ یاد کرلو۔

It was narrated that Abu Ghalib said: "I saw Anas bin Malik (RA) offering the funeral prayer for a man, and he stood level with his head. Then another funeral Was brought, that of a woman, and they said: O Abu Hamzah Offer the funeral prayer for her. So he stood level with the middle of the bed (the body was upon). Ala bin Ziyad said to him: O Abu Hamzah! Is this how you saw the Messenger of Ailah ﷺ standing in relation to the body of a man and a woman as you have stood? He said: Yes. Then he turned to us and said: Remember this. (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: ابوحمزہ: انس ؓ کی کنیت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٥٧ (٣١٩٤)، سنن الترمذی/الجنائز ٤٥ (١٠٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٦٢١)، وقد أخرجہ: حم (٣/١١٨، ١٥١، ٢٠٤) (صحیح )
1495Sunan Ibne-Majah

نماز جنازہ میں قرآت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَرَأَ عَلَى الْجِنَازَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے نماز جنازہ میں سورة فاتحہ پڑھی ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet ﷺ recited the Opening of the Book (AIFatihah) in the funeral prayer.(Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہی محققین علماء کا مذہب ہے یعنی چار تکبیریں ہیں اور تکبیر اولیٰ کے بعد سورة فاتحہ اور سورة اخلاص پڑھے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ٣٩ (١٠٢٦)، (تحفة الأشراف: ٦٤٦٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز ٦٥ (١٢٣٥) (صحیح )
1496Sunan Ibne-Majah

نماز جنازہ میں قرآت

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَاصِمٍ النَّبِيلُ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ شَرِيكٍ الْأَنْصَارِيَّةُ، قَالَتْ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَقْرَأَ عَلَى الْجِنَازَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ.

ام شریک انصاریہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم نماز جنازہ میں سورة فاتحہ پڑھیں۔

Umm Sharik Al-Ansari said: "The Messenger of Allah ﷺ commanded us to recite the Opening of the Book (AI-Fatihah) in the funeral prayer." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٣٣٢، ومصباح الزجاجة: ٥٣٢) (ضعیف) (اس سند میں شہر بن حوشب کثیر الارسال ہیں، اور حماد بن جعفر بھی متکلم فیہ ہیں )
1497Sunan Ibne-Majah

نماز جنازہ میں دعا

حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ الْمَدِينِيِّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى الْمَيِّتِ فَأَخْلِصُوا لَهُ الدُّعَاءَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جب تم میت کی نماز جنازہ پڑھو، تو اس کے لیے خلوص دل سے دعا کرو ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: When you offer the prayer for the deceased, supplicate sincerely for him. (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٦٠ (٣١٩٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٩٣) (حسن )
1498Sunan Ibne-Majah

نماز جنازہ میں دعا

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی نماز جنازہ پڑھتے تو یہ دعا پڑھتے: اللهم اغفر لحينا وميتنا وشاهدنا وغائبنا وصغيرنا وكبيرنا وذکرنا وأنثانا اللهم من أحييته منا فأحيه على الإسلام ومن توفيته منا فتوفه على الإيمان اللهم لا تحرمنا أجره ولا تضلنا بعده اے اللہ! ہمارے زندوں کو، ہمارے مردوں کو، ہمارے حاضر لوگوں کو، ہمارے غائب لوگوں کو، ہمارے چھوٹوں کو، ہمارے بڑوں کو، ہمارے مردوں کو اور ہماری عورتوں کو بخش دے، اے اللہ! تو ہم میں سے جس کو زندہ رکھے اس کو اسلام پر زندہ رکھ، اور جس کو وفات دے، تو ایمان پر وفات دے، اے اللہ! ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ کر، اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کر ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "When the Messenger of Allah ﷺ offered the funeral prayer he would say: [O Allah, forgive our living and our dead, those who are present and those who are absent, OUI young and our old, our males and our females. a Allah, whomever of us You cause to live, let him live in Islam, and whomever of us You cause to die, let him die in (a state of) faith. a Allah, do not deprive us of his reward, and do not let us go astray after him. (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٩٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٦٨) (صحیح )
1499Sunan Ibne-Majah

نماز جنازہ میں دعا

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ جَنَاحٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَأَسْمَعُهُ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ وَحَبْلِ جِوَارِكَ، فَقِهِ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَأَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَقِّ، فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ.

واثلہ بن اسقع ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مسلمان کے نماز جنازہ پڑھائی، تو میں آپ کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سن رہا تھا: اللهم إن فلان بن فلان في ذمتک وحبل جو ارک فقه من فتنة القبر و عذاب النار وأنت أهل الوفاء والحق فاغفر له وارحمه إنك أنت الغفور الرحيم اے اللہ! فلاں بن فلاں، تیرے ذمہ میں ہے، اور تیری پناہ کی حد میں ہے، تو اسے قبر کے فتنے اور جہنم کے عذاب سے بچا لے، تو عہد اور حق پورا کرنے والا ہے، تو اسے بخش دے، اور اس پر رحم کر، بیشک تو غفور (بہت بخشنے والا) اور رحیم (رحم کرنے والا) ہے۔

It was narrated that Wathilah bin Asqa said: "The Messenger of Allah ﷺ offered the funeral prayer for a man among the Muslims and I heard him say: O Allah, so-and-so the son of soand-so is in Your care and under Your protection. Protect him from the trial of the grave and the torment of the Fire, for You are the One Who keeps the promIse and You are the Truth. Forgive him and have mercy on him, for You are the Oft-Forgiving, Most Merciful." (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٦٠ (٣٢٠٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٩١) (صحیح )
1500Sunan Ibne-Majah

نماز جنازہ میں دعا

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ الْفَضَالَةِ، حَدَّثَنِي عِصْمَةُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْحَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ وَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَاغْسِلْهُ بِمَاءٍ وَثَلْجٍ وَبَرَدٍ، وَنَقِّهِ مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، وَأَبْدِلْهُ بِدَارِهِ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ، وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ، وَقِهِ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَعَذَابَ النَّارِ، قَالَ عَوْفٌ: فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي مُقَامِي ذَلِكَ أَتَمَنَّى أَنْ أَكُونَ مَكَانَ الرَّجُلِ.

عوف بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک انصاری شخص کی نماز جنازہ پڑھائی، میں حاضر تھا، تو میں نے آپ ﷺ کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا: اللهم صل عليه واغفر له وارحمه وعافه واعف عنه واغسله بماء وثلج وبرد ونقه من الذنوب والخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس وأبدله بداره دارا خيرا من داره وأهلا خيرا من أهله وقه فتنة القبر و عذاب النار اے اللہ! اس پر اپنی رحمت نازل فرما، اسے بخش دے، اس پر رحم کر، اسے اپنی عافیت میں رکھ، اسے معاف کر دے، اور اس کے گناہوں کو پانی، برف اور اولے سے دھو دے، اور اسے غلطیوں اور گناہوں سے ایسے ہی پاک کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے پاک کیا جاتا ہے، اور اس کے اس گھر کو بہتر گھر سے، اور اہل خانہ کو بہتر اہل خانہ سے بدل دے، اور اسے قبر کے فتنہ اور جہنم کے عذاب سے بچا لے ۔ عوف بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ اس وقت میں نے تمنا کی کاش اس میت کی جگہ میں ہوتا۔

It was narrated that Awf bin Malik said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ offering the funeral prayer for a man among the Ansar, and I heard him say: (O Allah, send blessing upon him, forgive him, have mercy on him, keep him safe and sound, and pardon him; Wash him with water and snow and hail, and cleanse him of sins just as a white garment is cleansed of dirt. Give him in exchange for his house a house that is better than his house, and a family that is better than his family. Protect rum from the trial of the grave and the torment of the Fire)." (Sahih) Awf said: "I remember standing there, wishing that I was in the place of that man."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٩٠٧)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجنائز ٢٦ (٩٦٣)، سنن الترمذی/الجنائز ٣٨ (١٠٢٥)، سنن النسائی/الطہارة ٥٠ (٦٢)، الجنائز ٧٧ (١٩٨٥)، مسند احمد (٦/٢٣، ٢٨) (صحیح )