جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ، ابوبکر اور عمر ؓ نے جس قدر نماز جنازہ میں چھوٹ دی اتنی کسی چیز میں نہ دی یعنی اس کا وقت مقرر نہیں کیا۔
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah ﷺ Abu Bakr (RA) and Umar did not give us so much leeway in anything as they did with regard to the prayer for the deceased," meaning that there was nothing affixed. (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٦٧٨، ومصباح الزجاجة: ٥٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٥٧) ضعیف) (اس میں حجاج بن أرطاہ ضعیف اور مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے )
ابراہیم بن مسلم ہجری کہتے ہیں کہ میں نے صحابی رسول عبداللہ بن ابی اوفی اسلمی ؓ کے ساتھ ان کے ایک بیٹے کی نماز جنازہ پڑھی، تو انہوں نے اس میں چار تکبیریں کہیں، چوتھی تکبیر کے بعد کچھ دیر ٹھہرے، (اور سلام پھیرنے میں توقف کیا) تو میں نے لوگوں کو سنا کہ وہ صف کے مختلف جانب سے سبحان الله کہہ رہے ہیں، انہوں نے سلام پھیرا، اور کہا: کیا تم لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ میں پانچ تکبیریں کہوں گا؟ لوگوں نے کہا: ہمیں اسی کا ڈر تھا، عبداللہ بن ابی اوفی ؓ نے کہا کہ میں ایسا کرنے والا نہیں تھا، لیکن چوں کہ رسول اللہ ﷺ چار تکبیریں کہنے کے بعد کچھ دیر ٹھہرتے تھے، اور جو اللہ توفیق دیتا وہ پڑھتے تھے، پھر سلام پھیرتے تھے۔
Al-Hajari said: "I prayed with Abdullah bin Abi Awfa AIAslami, the Companion of the Messenger of Allah ﷺ offering the funeral prayer for a daughter of his, He said Takbir over her four times, and he paused for a while after the fourth. I heard the people saying Subhan-Allah to him throughout the rows. Then he said the Salam and said: Did you think that I was going to say a fifth Takbir? They said: We were afraid of that: He said: I was not going to do that, but the Messenger of Allah ﷺ ,used to say four Takbir, then pause for a while, and he would say Whatever Allah willed he should say, then he would say the Salam:" (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥١٥٢، ومصباح الزجاجة: ٥٣٥) وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٥٦، ٣٨٣) (حسن) (متابعات و شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں ابراہیم بن مسلم الہجری الکوفی ضعیف ہیں )
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ زید بن ارقم ؓ ہمارے جنازوں میں چار بار اللہ اکبر کہا کرتے تھے، ایک بار انہوں نے ایک جنازہ میں پانچ تکبیرات کہیں، میں نے ان سے وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ پانچ تکبیرات ١ ؎ (بھی) کہتے تھے۔
It was narrated that ,Abdur-Rahman bin Abi Laila said: "Zaid bin Arqam used to say the Takbir four times in the funeral prayer, and he said the Takbir five times for one funeral. I asked him (about that) and he said: The Messenger of Allah ﷺ used to do that:" (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: جنازے کی تکبیرات کے سلسلے میں چار سے لے کر نو تک کی حدیثیں اور آثار مروی ہیں، بعض آثار سے پتہ چلتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے بعد تک بھی صحابہ کرام ؓ نے پانچ اور چھ تکبیرات کہی ہیں، خود نبی اکرم ﷺ نے بعض شہداء احد پر نو تکبیرات کہی ہیں، بعض لوگوں نے كان آخر ماکبر رسول الله صلى الله عليه وسلم على الجنازة أربعا چار سے زائد تکبیرات والی حدیثوں کے منسوخ ہونے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن اس روایت کے تمام طرق ضعیف اور ناقابل استدلال ہیں، ان کی وجہ سے صحیح سندوں سے ثابت احادیث رد نہیں کی جا سکتیں، واضح رہے جب پانچ تکبیریں کہی جائیں تو پہلی تکبیر کے بعد دعائے ثنا پڑھے، دوسری کے بعد سورة فاتحہ اور تیسری کے بعد نبی اکرم ﷺ پر صلاۃ (درود) اور چوتھی کے بعد دعا اور پانچویں کے بعد سلام پھیرے۔ (ملاحظہ ہو: الروضہ الندیہ: ١؍٤١٦ -٤١٩، احکام الجنائز للألبانی: ١٤١-١٤٧ )
عمرو بن عوف مزنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پانچ تکبیرات کہیں۔
It was narrated from Kathir bin Abdullah, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah ﷺ said the Takbir five times. (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٧٨٢، ومصباح الزجاجة: ٥٣٦) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ابراہیم بن علی اور کثیر بن عبد اللہ ضعیف ہیں )
مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: بچہ کی بھی نماز جنازہ پڑھی جائے گی ۔
Abu Jubair bin Hayyah narrated that he heard Mughirah bin Shu bah say: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: The (funeral) prayer should be offered for a child:" (Sahih)
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب بچہ (پیدائش کے وقت) روئے تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اور وہ وارث بھی ہوگا ۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: "If a child utters a sound (after being born), the funeral prayer should be offered for him and (his relatives) may inherit from him." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٧٠٨)، و قد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز ٤٣ (١٠٣٢)، سنن الدارمی/الفرائض ٤٧ (٣١٦٨) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: ٢٣٦ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اپنے بچوں کی نماز جنازہ پڑھو، کیونکہ وہ تمہارے پیش رو ہیں ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Prophet ﷺ said: Offer the (funeral) prayer for your children, for they have gone ahead of you (i.e. to prepare your place in Paradise for you)." (Da if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤١٢٨، ومصباح الزجاجة: ٥٣٧) (ضعیف جدا) (اس کی سند میں بختری بن عبید متہم بالوضع راوی ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٧٢٥ )
اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ ﷺ کے صاحب زادے ابراہیم کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: ابراہیم بچپن ہی میں انتقال کر گئے، اور اگر نبی اکرم ﷺ کے بعد کسی کا نبی ہونا مقدر ہوتا تو آپ کے بیٹے زندہ رہتے، لیکن آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے ١ ؎۔
Ismail bin Abu Khalid said: "I said to Abdullah bin Abi Awla: Did you see Ibrahim, the son of the Messenger of Allah ﷺ He said: He died when he was small, and if it had been decreed that there should be any Prophet ﷺ after Muhammad ﷺ his son would have lived. But there is no Prophet ﷺ after him:" (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک حدیث میں ہے کہ اگر ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے، اور اس حدیث میں ہے کہ اگر نبی اکرم ﷺ کے بعد کسی کا نبی ہونا مقدر ہوتا تو ابراہیم زندہ رہتے، ایسا ہونا محال تھا کیونکہ نبی اکرم ﷺ خاتم الانبیاء تھے، آپ ﷺ کے بعد دوسرا کوئی نبی نہیں ہوسکتا، اور تقدیر الٰہی بھی ایسی ہی تھی، جب تو آپ کے صاحبزادوں میں سے کوئی زندہ نہ بچا، جیسے طیب، طاہر اور قاسم، خدیجہ ؓ سے، اور ابراہیم ماریہ ؓ سے، یہ چار صاحبزادے بچپن ہی میں انتقال کر گئے، اگرچہ یہ لازم نہیں ہے کہ نبی کا بیٹا بھی نبی ہی ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ١٠٩ (٦١٩٤)، (تحفة الأشراف: ٥١٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٥٣) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کے بیٹے ابراہیم کا انتقال ہوگیا، تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، اور فرمایا: جنت میں ان کے لیے ایک دایہ ہے، اور اگر وہ زندہ رہتے تو صدیق اور نبی ہوتے، اور ان کے ننہال کے قبطی آزاد ہوجاتے، اور کوئی بھی قبطی غلام نہ بنایا جاتا ۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "When Ibrahim the son of the Messenger of Allah ﷺ died, the Messenger of Allah ﷺ prayed and said: He has a wetnurse in Paradise, and if he had lived he would have been a Siddiq and a Prophet. If he had lived his maternal uncles, the Egyptians, would have been set free and no Egyptian would ever have been enslaved:" (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: قبطی: ایک مصری قوم ہے، فرعون اسی قوم سے تھا، اور اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ ہاجرہ بھی اسی قوم کی تھیں، نیز نبی اکرم ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم کی والدہ ماریہ بھی اسی قوم کی تھیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٤٨٢، ومصباح الزجاجة: ٥٣٨) (صحیح) (اس کی سند میں ابراہیم بن عثمان ابو شیبہ متروک الحدیث ہے، لیکن عتق کے جملہ کے علاوہ بقیہ حدیث عبد اللہ بن ابی اوفی سے صحیح ہے، تراجع الألبانی: رقم: ٢٣٥ )
حسین بن علی ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے قاسم کا انتقال ہوگیا، تو ام المؤمنین خدیجہ ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! قاسم جس پستان سے دودھ پیتے تھے اس میں دودھ جمع ہوگیا ہے، کاش کہ اللہ ان کو باحیات رکھتا یہاں تک کہ دودھ کی مدت پوری ہوجاتی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان کی مدت رضاعت جنت میں پوری ہو رہی ہے تو خدیجہ ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! اگر یہ بات مجھے معلوم رہی ہوتی تو مجھ پر ان کا غم ہلکا ہوگیا ہوتا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں اللہ سے دعا کروں کہ وہ قاسم کی آواز تمہیں سنا دے ، خدیجہ ؓ بولیں: (نہیں) بلکہ میں اللہ اور اس کے رسول کی تصدیق کرتی ہوں۔
Husain bin Ali said: "When Qasim the son of the Messenger of Allah ﷺ died, Khadijah said: O Messenger of Allah, the milk of Qasirns mother is overflowing. Would that Allah had let him live until he had hnished breastfeeding. The Messenger of Allah ﷺ said: He will complete his breastfeeding in Paradise: She said: If I know that, O Messenger of Allah, it makes it easier for me to bear. The Messenger of Allah ﷺ said: If you wish, I will pray to Allah to let you hear his voice: She said: O Messenger of Allah, rather I believe Allah and His Messenger:" (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٤١٣، ومصباح الزجاجة: ٥٣٩) (ضعیف جدا) (اس میں ہشام بن أبی الولید متروک راوی ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن شہداء رسول اللہ ﷺ کے پاس لائے گئے، تو آپ دس دس آدمیوں پر نماز جنازہ پڑھنے لگے، اور حمزہ ؓ کی لاش اسی طرح رکھی رہی اور باقی لاشیں نماز جنازہ کے بعد لوگ اٹھا کرلے جاتے رہے، لیکن حمزہ ؓ کی لاش جیسی تھی ویسی ہی رکھی رہی۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "They (the martyrs) were brought to the Messenger of Allah ﷺ on the Day of Uhud, and he started to offer the funeral prayer for them, ten by ten. Hamzah lay where he lay, and they were taken awar but he was left where he was."! (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٤٩٧، ومصباح الزجاجة: ٥٤٠) (صحیح) (شواہد سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں یزید بن أبی زیاد ضعیف راوی ہے )
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ غزوہ احد کے شہداء میں سے دو دو تین تین کو ایک کپڑے میں لپیٹتے، پھر پوچھتے: ان میں سے قرآن کس کو زیادہ یاد ہے ؟ جب ان میں سے کسی ایک کی جانب اشارہ کیا جاتا، تو اسے قبر (قبلہ کی طرف) میں آگے کرتے، اور فرماتے: میں ان لوگوں پہ گواہ ہوں،، اور آپ ﷺ نے انہیں ان کے خونوں کے ساتھ دفن کرنے کا حکم دیا، نہ تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھی، اور نہ غسل دلایا ١ ؎۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ used to put two or three of the slain of Uhud in one shroud. He would ask: "Which of them had memorized more Quran?" And if one of them was pointed out to him, he would put him in the niche-grave first. And he said: "I am a witness over them." He commanded that they should be buried with their blood, and that the funeral prayer should not be offered for them and they should not be washed. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شہداء کو غسل نہیں دیا جائے گا، اس پر سب کا اتفاق ہے، نیز امام احمد کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے شہیدوں کو غسل دینے سے منع کیا، اور فرمایا: اس کا زخم قیامت کے دن مشک کی خوشبو چھوڑے گا اور حنظلہ ؓ جنابت کی حالت میں شہید ہوئے تھے، جب بھی نبی اکرم ﷺ نے ان کو غسل نہیں دیا، اور فرمایا: فرشتے ان کو غسل دیتے ہیں۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شہداء احد کے بارے میں حکم دیا کہ ان سے ہتھیار اور پوستین اتار لی جائے، اور ان کو انہیں کپڑوں میں خون سمیت دفنایا جائے۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ commanded that the weapons and armor should be removed from the slain of Uhhud, and they should be buried in their clothes stained with blood. (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٣١ (٣١٣٤)، (تحفة الأشراف: ٥٥٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٤٧) (ضعیف) (اس کے راوی علی بن عاصم اور عطاء اخیر میں اختلاط کا شکار ہوگئے تھے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٧٠٩ )
جابربن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شہداء احد کے بارے میں حکم دیا کہ وہ اپنی شہادت گاہوں کی جانب لوٹا دئیے جائیں، لوگ انہیں مدینہ لے آئے تھے ١ ؎۔
It was narrated from Aswad bin Qais that he heard Nubaih Al-Anazi say: "I heard Jabir bin Abdullah say: The Messenger of Allah ﷺ commanded that the slain of the battle of Uhud should be returned to the battlefield; they had been moved to Al-Madinah. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شہداء اپنی شہادت کی جگہ سے کہیں اور منتقل نہ کئے جائیں، بلکہ جہاں وہ شہید ہوئے ہوں، وہیں ان کو دفن کردیا جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٤٢ (٣١٦٥)، سنن الترمذی/الجہاد ٣٧ (١٧١٧)، سنن النسائی/الجنائز ٨٣ (٢٠٠٦)، (تحفة الأشراف: ٣١١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/ ٢٩٧، ٣٠٣، ٣٠٨، ٣٩٧)، سنن الدارمی/المقدمة ٧ (٤٦) (صحیح) (متابعات و شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ اس کے روای نبی ح لین الحدیث ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص نماز جنازہ مسجد میں پڑھے تو اس کے لیے کچھ نہیں ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever offers the funeral prayer in the Masjid will have nothing (i.e., no reward). (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: افضل یہ ہے کہ نماز جنازہ مسجد سے باہر ایسی جگہ پڑھی جائے جو اس کے لئے خاص کردی گئی ہو، نبی اکرم ﷺ کے عہد مبارک میں عام طریقہ یہی تھا، البتہ اگر کوئی عذر ہو تو مسجد میں بھی پڑھی جاسکتی ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ نے سہیل بن بیضاء ؓ کی نماز جنازہ مسجد ہی میں پڑھی۔ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ کی حدیث زیادہ قوی ہے۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "By Allah! The Messenger of Allah ﷺ did not offer the funeral prayer for Suhail bin Baida anywhere but in the Masjid." (Sahih) Ibn Majah said: The Hadith of Aisha (RA) is stronger.
عقبہ بن عامر جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ ہم کو تین اوقات میں نماز پڑھنے، اور مردوں کو دفن کرنے سے منع فرماتے تھے: ایک تو جب سورج نکل رہا ہو، اور دوسرے جب کہ ٹھیک دوپہر ہو، یہاں تک کہ زوال ہوجائے یعنی سورج ڈھل جائے، تیسرے جب کہ سورج ڈوبنے کے قریب ہو یہاں تک کہ ڈوب جائے ١ ؎۔
Uqbah bin Amir AI·Juhani said: "There are three times during the day when the Messenger of Allah ﷺ forbade us to offer the funeral prayer or bury our dead: When the sun has fully risen (until it is higher up in the sky); when it is overhead at noon, until it has passed the mend Ian: and when it is starting to set until it has set." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث عام ہے جس میں نماز جنازہ بھی داخل ہے، اور صحابہ کرام ؓ نے بھی حدیث سے یہی سمجھا ہے، اس لیے بغیر کسی مجبوری کے ان اوقات میں نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو رات میں دفن کیا، اور اس کی قبر کے پاس (روشنی کے لیے) چراغ جلایا ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ placed a man in his grave at night, and he lit a lamp in his grave. (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہو کہ رات کو دفن کرنا جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ٦٣ (١٠٥٧)، (تحفة الأشراف: ٥٨٨٩) (حسن) (شواہد و متابعات کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں منہال بن خلیفہ ضعیف راوی ہیں )