Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 77 of 218

1521Sunan Ibne-Majah

جن اوقات میں میّت کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے اور دفن نہیں کنا چاہئے

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ الْمَكِّيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَدْفِنُوا مَوْتَاكُمْ بِاللَّيْلِ إِلَّا أَنْ تُضْطَرُّوا.

جابربن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے مردوں کو رات میں دفن نہ کرو، مگر یہ کہ تم مجبور کر دئیے جاؤ ١ ؎۔

It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: "Do not bury your dead at night unless you are forced to." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بلا ضرورت رات میں دفن نہ کرو، لیکن اگر رات ہوجائے تو بالاتفاق رات کو دفن کرنا جائز اور صحیح ہے، جیسا کہ اس سے پہلے والی حدیث میں ذکر ہوا، نیز واضح رہے کہ فاطمہ ؓ کی نماز جنازہ رات ہی میں پڑھی گئی، اور ان کی تدفین بھی رات ہی میں ہوئی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٦٥٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجنائز ١٥ (٩٤٣)، سنن ابی داود/الجنائز ٢٤ (٣١٤٨)، سنن النسائی/الجنائز ٣٧ (١٨٩٦)، مسند احمد (٣/٢٩٥) (صحیح )
1522Sunan Ibne-Majah

جن اوقات میں میّت کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے اور دفن نہیں کنا چاہئے

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: صَلُّوا عَلَى مَوْتَاكُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ.

جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اپنے مردوں کی نماز جنازہ رات اور دن میں جس وقت چاہو پڑھو ۔

It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Prophet ﷺ said: "Offer the funeral prayer for your dead by night or by day."(Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٧٨٢، ومصباح الزجاجة: ٥٤٢) وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٣٦، ٣٤٩) (ضعیف) (اس کی سند میں ابن لہیعہ ضعیف اور ولید بن مسلم مدلس راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٣٩٧٤ )
1523Sunan Ibne-Majah

اہل قبلہ کا جنازہ پڑھنا

حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ، جَاءَ ابْنُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطِنِي قَمِيصَكَ أُكَفِّنْهُ فِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: آذِنُونِي بِهِ، فَلَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ، قَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: مَا ذَاكَ لَكَ، فَصَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ، اسْتَغْفِرْ لَهُمْ، أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ سورة التوبة آية 84.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ جب (منافقین کے سردار) عبداللہ بن ابی کا انتقال ہوگیا تو اس کے (مسلمان) بیٹے نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے اپنا کرتہ دے دیجئیے، میں اس میں اپنے والد کو کفناؤں گا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (اس کا جنازہ تیار کر کے) مجھے اطلاع دینا ، جب آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھنی چاہی تو عمر بن خطاب ؓ نے آپ سے کہا: یہ آپ کے لیے مناسب نہیں ہے، بہرحال نبی اکرم ﷺ نے اس پر نماز جنازہ پڑھی، اور عمر ؓ سے فرمایا: مجھے دو باتوں میں اختیار دیا گیا ہے استغفر لهم أو لا تستغفر لهم (سورة التوبة: 80) تم ان کے لیے مغفرت طلب کرو یا نہ کرو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره (سورة التوبة: 84) منافقوں میں سے جو کوئی مرجائے تو نہ اس کی نماز جنازہ پڑھیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "When Abdullah bin Ubayy died, his son came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah, give me your shirt so that I may shroud him in it. The Messenger of Allah ﷺ said: Notify me when he is ready (i.e., when he has been washed and shrouded). When the Prophet ﷺ wanted to offer the funeral prayer for him, Umar bin Khattab said to him: You should not do that. The Prophet ﷺ offered the funeral prayer for him, and the Prophet ﷺ said to him: I have been given two choices:…ask forgiveness for them (hypocrites) or ask not forgiveness for them ...Then Allah revealed: And never pray (the funeral prayer) for any of them (hypocrites) who dies, nor stand at his grave. (Sahih) Abu Abdullah said: From this Hadith we understand that standing at the grave is an act of kindness to the living.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٢٢ (١٢٦٩)، تفسیرالتوبہ ١٢ (٤٦٧٠)، ١٣ (٤٦٧٢)، اللباس ٨ (٥٧٩٦)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٢ (٢٤٠٠)، صفات المنافقین ٣ (٢٧٧٤)، سنن الترمذی/تفسیر التوبة (٣٠٩٨)، سنن النسائی/الجنائز ٤٠ (١٩٠١)، (تحفة الأشراف: ٨١٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨) (صحیح )
1524Sunan Ibne-Majah

اہل قبلہ کا جنازہ پڑھنا

حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْجَابِرٍ، قَالَ: مَاتَ رَأْسُ الْمُنَافِقِينَ بِالْمَدِينَةِ، وَأَوْصَى أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْ يُكَفِّنَهُ فِي قَمِيصِهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ وَكَفَّنَهُ فِي قَمِيصِهِ، وَقَامَ عَلَى قَبْرِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ سورة التوبة آية 84.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ منافقین کا سردار (عبداللہ بن ابی) مدینہ میں مرگیا، اس نے وصیت کی کہ نبی اکرم ﷺ اس کی نماز جنازہ پڑھیں، اور اس کو اپنی قمیص میں کفنائیں، تو نبی اکرم ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، اور اسے اپنے کرتے میں کفنایا، اور اس کی قبر پہ کھڑے ہوئے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره منافقوں میں سے جو کوئی مرجائے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھیں، اور اس کی قبر پہ مت کھڑے ہوں۔

It was narrated that Jabir said: "The leader of the hypocrites in AI-Madinah died, and left instructions that the Prophet ﷺ should offer the funeral prayer for him and shroud him in his shirt. He offered the funeral prayer for him and shrouded him in his shirt, and stood by his grave. Then Allah revealed the words: "And never pray (the funeral prayer) for any of them (hypocrites) who dies, nor stand at his grave." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٣٥٥) (منکر) (ملاحظہ ہو: احکام الجنائز: ١٦٠ ، اس حدیث میں وصیت کا ذکر منکر ہے )
1525Sunan Ibne-Majah

اہل قبلہ کا جنازہ پڑھنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ، حَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ يَقْظَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلُّوا عَلَى كُلِّ مَيِّتٍ، وَجَاهِدُوا مَعَ كُلِّ أَمِيرٍ.

واثلہ بن اسقع ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر میت کی نماز پڑھو، اور ہر امیر (حاکم) کے ساتھ (مل کر) جہاد کرو ۔

It was narrated from Wathilah bin Asqa that the Messenger of Allah ﷺ said: Offer prayer for everyone who dies, and strive in Jihad under every chief." (Maudu)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٧٥٠، ومصباح الزجاجة: ٥٤٢) (ضعیف) (اس سند میں تین روای: عتبہ بن یقظان ضعیف، حارث بن نبہان اور ابوسعید مصلوب فی الزندقہ دونوں متروک ہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢؍٣٠٩ )
1526Sunan Ibne-Majah

اہل قبلہ کا جنازہ پڑھنا

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُرِحَ فَآذَتْهُ الْجِرَاحَةُ، فَدَبَّ إِلَى مَشَاقِصَهِ، فَذَبَحَ بِهَا نَفْسَهُ، فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَكَانَ ذَلِكَ أَدَبًا مِنْهُ.

جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک شخص زخمی ہوا، اور زخم نے اسے کافی تکلیف پہنچائی، تو وہ آہستہ آہستہ تیر کی انی کے پاس گیا، اور اس سے اپنے کو ذبح کرلیا، تو نبی اکرم ﷺ نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی تاکہ اس سے دوسروں کو نصیحت ہو ١ ؎۔

It was narrated from Jabir bin Samurah that a man from ,among the Companions of the Prophet ﷺ was wounded, and the wound caused him a great deal of pain. He went and took a . spearhead, and slaughtered himself with it. The Prophet ﷺ did not offer the funeral prayer for him, and that was as an admonition for others. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ امام اور کوئی مقتدیٰ اور پیشوا نہ پڑھے، لیکن دوسرے عام لوگ پڑھ لیں، واضح رہے کہ ایک قرض دار تھا اور اس کا انتقال ہوگیا، تو اس کی بھی نبی کریم ﷺ نے نماز جنازہ نہیں پڑھائی تھی، لیکن لوگوں کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٥١ (٣١٨٥)، سنن الترمذی/الجنائز ٦٨ (١٠٦٨)، (تحفة الأشراف: ٢١٧٤)، وقد أخر جہ: صحیح مسلم/الجنائز ٣٦ (٩٧٨)، سنن النسائی/الجنائز ٦٨ (١٩٦٣)، مسند احمد (٥/٨٧، ٩٢، ٩٤، ٩٦، ٩٧) (صحیح )
1527Sunan Ibne-Majah

قبر پر نماز جنازہ پڑھنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ فَفَقَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عَنْهَا بَعْدَ أَيَّامٍ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهَا مَاتَتْ، قَالَ: فَهَلَّا آذَنْتُمُونِي؟ فَأَتَى قَبْرَهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک کالی عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی، رسول اللہ ﷺ نے اسے نہیں دیکھا، کچھ روز کے بعد اس کے متعلق پوچھا تو آپ سے عرض کیا گیا کہ اس کا انتقال ہوگیا، آپ ﷺ نے فرمایا: پھر مجھے خبر کیوں نہ دی، اس کے بعد آپ اس کی قبر پہ آئے، اور اس پر نماز جنازہ پڑھی ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that a black woman used to sweep the Masjid. The Messenger of Allah ﷺ noticed she was missing and he asked about her after a few days. He was told that she had died. He said, "Why did you not tell me?" Then he went to her grave and offered the funeral prayer for her. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٧٤ (٤٥٨)، صحیح مسلم/الجنائز ٢٣ (٩٥٦)، سنن ابی داود/الجنائز ٦١ (٣٢٠٣)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٥٣) (صحیح )
1528Sunan Ibne-Majah

قبر پر نماز جنازہ پڑھنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْيَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ، وَكَانَ أَكْبَرَ مِنْ زَيْدٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا وَرَدَ الْبَقِيعَ فَإِذَا هُوَ بِقَبْرٍ جَدِيدٍ، فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَالُوا: فُلَانَةُ، قَالَ: فَعَرَفَهَا، وَقَالَ: أَلَا آذَنْتُمُونِي بِهَا؟، قَالُوا: كُنْتَ قَائِلًا صَائِمًا فَكَرِهْنَا أَنْ نُؤْذِيَكَ، قَالَ: فَلَا تَفْعَلُوا لَا أَعْرِفَنَّ مَا مَاتَ فِيكُمْ مَيِّتٌ مَا كُنْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ إِلَّا آذَنْتُمُونِي بِهِ، فَإِنَّ صَلَاتِي عَلَيْهِ لَهُ رَحْمَةٌ، ثُمَّ أَتَى الْقَبْرَ، فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا.

یزید بن ثابت ؓ (وہ زید بن ثابت ؓ کے بڑے بھائی) کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نکلے، جب آپ مقبرہ بقیع پہنچے تو وہاں ایک نئی قبر دیکھی، آپ نے اس کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے کہا: فلاں عورت کی ہے، آپ نے اس کو پہچان لیا اور فرمایا: تم لوگوں نے اس کی خبر مجھ کو کیوں نہ دی؟ ، لوگوں نے کہا: آپ دوپہر میں آرام فرما رہے تھے، اور روزے سے تھے، ہم نے آپ کو تکلیف دینا مناسب نہ سمجھا، آپ ﷺ نے فرمایا: اب ایسا نہ کرنا، آئندہ مجھے یہ معلوم نہ ہونے پائے کہ پھر تم لوگوں نے ایسا کیا ہے، جب تم لوگوں میں سے کوئی شخص مرجائے تو جب تک میں تم میں زندہ ہوں مجھے خبر کرتے رہو، اس لیے کہ اس پر میری نماز اس کے لیے رحمت ہے، پھر آپ اس کی قبر کے پاس آئے، اور ہم نے آپ کے پیچھے صف باندھی، آپ نے اس پر چار تکبیریں کہیں ١ ؎۔

Kharijah bin Zaid bin Thabit narrated that Yazid bin Thabit, who was older than Zaid, Said: "We went out with the Prophet ﷺ and when we reached Al-Baqi, we saw a new grave. He asked about it and they said: (It is) so-and-so (a woman). He recognized the name and said: Why did you not tell me about her? They said: You were taking a nap and you were fasting, and we did not like to disturb you. He said: Do not do that; I do not want to see it happen again that one of you dies, while I am still among you, and you do not tell me, for my prayer for him is a mercy. Then he went to the grave and we lined up in rows behind him, and he said four Takbir (i.e. for the funeral prayer)." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کی نماز جنازہ پڑھی۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجنائز ٩٤ (٢٠٢٤)، (تحفة الأشراف: ١١٨٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٨٨) (صحیح )
1529Sunan Ibne-Majah

قبر پر نماز جنازہ پڑھنا

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ مَاتَتْ، وَلَمْ يُؤْذَنْ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ، فَقَالَ: هَلَّا آذَنْتُمُونِي بِهَا؟، ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: صُفُّوا عَلَيْهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا.

عامر بن ربیعہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک کالی عورت کا انتقال ہوگیا، اور نبی اکرم ﷺ کو اس کے انتقال کی خبر نہیں دی گئی، پھر جب آپ کو خبر ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگوں نے مجھے اس کے انتقال کی خبر کیوں نہیں دی ؟ اس کے بعد صحابہ کرام ؓ سے کہا: اس پہ صف باندھو، پھر آپ نے اس عورت کی نماز جنازہ پڑھی۔

It was narrated from Abdullah bin Amir bin Rabiah, from his father, that a black woman died and the Prophet ﷺ was not told about that. Then he was informed of it, and he said: "Why did you not tell me?" Then he said to his Companions: " Line up in rows to pray for her," and he offered the funeral prayer for her. (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٠٤٠، ومصباح الزجاجة: ٥٤٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٤٤) (حسن صحیح )
1530Sunan Ibne-Majah

قبر پر نماز جنازہ پڑھنا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، فَدَفَنُوهُ بِاللَّيْلِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَعْلَمُوهُ، فَقَالَ: مَا مَنَعَكُمْ أَنْ تُعْلِمُونِي، قَالُوا: كَانَ اللَّيْلُ، وَكَانَتِ الظُّلْمَةُ فَكَرِهْنَا أَنْ نَشُقَّ عَلَيْكَ، فَأَتَى قَبْرَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک ایسے شخص کا انتقال ہوگیا، جس کی عیادت رسول اللہ ﷺ کیا کرتے تھے، لوگوں نے اسے رات میں دفنا دیا، جب صبح ہوئی اور لوگوں نے (اس کی موت کے بارے میں) آپ کو بتایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگوں نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی ؟ لوگوں نے کہا کہ رات تھی اور تاریکی تھی، ہم نے آپ کو تکلیف دینا اچھا نہیں سمجھا، تو آپ ﷺ اس کی قبر کے پاس آئے، اور اس کی نماز جنازہ پڑھی ۔

It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "A man died whom the Messenger of Allah ﷺ used to visit, and they buried him at night. When morning came, the told him. He said: What kept you from telling me? They said: It was night and it was dark, and we did not like to cause you any inconvenience. Then he went to the grave and offered the funeral prayer for him." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٦١ (٨٥٧)، الجنائز ٥ (١٢٤٧)، ٥٤ (١٣٢١)، ٥٥ (١٣٢٢)، ٥٩ (١٣٢٦)، ٦٦ (١٣٣٦)، ٦٩ (١٣٤٠)، صحیح مسلم/الجنائز ٢٣ (٩٥٤)، سنن ابی داود/الجنائز ٥٨ (٣١٩٦)، سنن الترمذی/الجنائز ٤٧ (١٠٣٧)، سنن النسائی/الجنائز ٩٤ (٢٠٢٥، ٢٠٢٦)، (تحفة الأشراف: ٥٧٦٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٤، ٢٣٨، ٣٣٨) (صحیح )
1531Sunan Ibne-Majah

قبر پر نماز جنازہ پڑھنا

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْشُعْبَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَّى عَلَى قَبْرٍ بَعْدَ مَا قُبِرَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک قبر پر دفن کیے جانے کے بعد اس میت کی نماز جنازہ پڑھی۔

It was narrated from Anas that the Prophet ﷺ offered the funeral prayer at a grave after the burial. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ٢٣ (٩٥٥)، (تحفة الأشراف: ٢٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٠٦، ٣/١٣٠) (صحیح )
1532Sunan Ibne-Majah

قبر پر نماز جنازہ پڑھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مِهْرَانُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْأَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَّى عَلَى مَيِّتٍ بَعْدَ مَا دُفِنَ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک میت کی اس کے دفن کر دئیے جانے کے بعد نماز جنازہ پڑھی۔

It was narrated from Ibn Buraidah from his father that the Prophet ﷺ offered the funeral prayer for a deceased person after he had been buried. (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٩٤٣، ومصباح الزجاجة: ٥٤٤) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے کیونکہ ابو سنان مہران، اور محمد بن حمید متکلم فیہ راوی ہیں )
1533Sunan Ibne-Majah

قبر پر نماز جنازہ پڑھنا

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْأَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: كَانَتْ سَوْدَاءُ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ فَتُوُفِّيَتْ لَيْلًا، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَ بِمَوْتِهَا، فَقَالَ: أَلَا آذَنْتُمُونِي بِهَا؟ فَخَرَجَ بِأَصْحَابِهِ، فَوَقَفَ عَلَى قَبْرِهَا، فَكَبَّرَ عَلَيْهَا، وَالنَّاسُ خَلْفَهُ وَدَعَا لَهَا، ثُمَّ انْصَرَفَ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ایک کالی عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی، ایک رات اس کا انتقال ہوگیا، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کو اس کے مرنے کی اطلاع دی گئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگوں نے مجھے خبر کیوں نہ دی ؟ پھر آپ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ نکلے اور اس کی قبر پر کھڑے ہو کر تکبیر کہی، اور لوگ آپ کے پیچھے تھے، آپ نے اس کے لیے دعا کی پھر آپ لوٹ آئے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Saeed said: "There was a black woman who used to sweep the Masjid, and she passed away at rught. The following morning the Messenger of Allah ﷺ was told of her death. He said: Why did you not call me? Then he went out with his Companions and stood at her grave, and said Takbir over her, with the people behind him, and he supplicated for her, then he went away. (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قبر پر نماز جنازہ صحیح ہے، سنن ترمذی میں ایک حدیث ہے کہ آپ ﷺ نے ام سعد کی قبر پر نماز جنازہ پڑھی، ان کے دفن پر ایک مہینہ گزر چکا تھا، نیز یہ حدیث عام ہے خواہ اس میت پر لوگ نماز جنازہ پڑھ چکے ہوں یا کسی نے نہ پڑھی ہو، ہر طرح اس کی قبر پر نماز جنازہ پڑھنا صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٠٦٩، ومصباح الزجاجة: ٥٤٥) (صحیح) (سابقہ حدیث تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں )
1534Sunan Ibne-Majah

نجاشی کی نماز جنازہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ إِلَى الْبَقِيعِ، فَصَفَّنَا خَلْفَهُ، وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نجاشی کا انتقال ہوگیا ہے، پھر رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ مقبرہ بقیع کی طرف گئے، ہم نے صف باندھی، اور رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے، پھر آپ نے چار تکبیریں کہیں۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) : "The Messenger of Allah ﷺ said: Najashi has died. The Messenger of Allah ﷺ and his Companions went out to AIBaqi, and we lined up in rows behind him, and the Messenger of Allah ﷺ went forward, then he said four Takbir." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٤ (١٢٤٥)، ٥٤ (١٣١٨)، ٦٠ (١٣٣٤)، سنن الترمذی/الجنائز ٣٧ (١٠٢٢)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٦٧)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز ٦٢ (٣٢٠٤)، سنن النسائی/الجنائز ٧٢ (١٩٧٣)، موطا امام مالک/الجنائز ٥ (١٤)، مسند احمد (٢/٢٣٠، ٢٨٠، ٤٣٨، ٤٣٩) (صحیح )
1535Sunan Ibne-Majah

نجاشی کی نماز جنازہ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌجَمِيعًا، عَنْ يُونُسَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَخَاكُمُ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ فَصَلُّوا عَلَيْهِ، قَالَ: فَقَامَ فَصَلَّيْنَا خَلْفَهُ، وَإِنِّي لَفِي الصَّفِّ الثَّانِي، فَصَلَّى عَلَيْهِ.

عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے (دینی) بھائی نجاشی کا انتقال ہوگیا ہے، ان کی نماز جنازہ پڑھو عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ آپ کھڑے ہوئے، اور ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی، میں دوسری صف میں تھا، تو دو صفوں نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی۔

It was narrated from Imran bin Husain: "The Messenger of Allah ﷺ said: Your brother Najashi has died, so offer the funeral prayer for him." Then he stood and we prayed behind him. I was in the second row and two rows prayed for him." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ٤٨ (١٠٣٩)، سنن النسائی/الجنائز ٧٢ (١٩٧٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٨٩)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجنائز ٢٢ (٩٥٣)، مسند احمد (٤/٤٣١، ٤٣٣، ٤٤١) (صحیح )
1536Sunan Ibne-Majah

نجاشی کی نماز جنازہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَعْيَنَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَخَاكُمُ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ، فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِفَصَفَّنَا خَلْفَهُ صَفَّيْنِ.

مجمع بن جاریہ انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے (دینی) بھائی نجاشی کا انتقال ہوگیا ہے، تم لوگ کھڑے ہو، اور ان کی نماز جنازہ پڑھو، پھر ہم نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے دو صفیں لگائیں ۔

It was narrated from Mujammi bin Járiyah Al-Ansári the Messenger of Allah ﷺ “Your brother Najâshi has so stand and pray for him.” “so we formed two rows behind (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٢١٦، و مصباح الزجاجة: ٥٤٦) (صحیح) (سند میں حمران بن أعین ضعیف ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
1537Sunan Ibne-Majah

نجاشی کی نماز جنازہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْحُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ بِهِمْ، فَقَالَ: صَلُّوا عَلَى أَخٍ لَكُمْ مَاتَ بِغَيْرِ أَرْضِكُمْ، قَالُوا: مَنْ هُوَ؟، قَالَ: النَّجَاشِيُّ.

حذیفہ بن اسید ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ صحابہ کرام ؓ کو لے کر نکلے تو فرمایا: اپنے (دینی) بھائی پر نماز جنازہ پڑھو جن کی موت تمہارے علاقہ سے باہر ہوگئی ہے صحابہ ؓ نے پوچھا: وہ کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ نجاشی ہیں ۔

It was narrated from Hudhaifah bin Asid that the Prophet ﷺ led them out and said: "Pray for a brother of yours who has died in a land other than yours," They said: "Who is he?" He said: "Najashi." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٣٠٠، ومصباح الزجاجة: ٥٤٧)، مسند احمد (٤/٧) (صحیح )
1538Sunan Ibne-Majah

نجاشی کی نماز جنازہ

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو السَّكَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَّى عَلَى النَّجَاشِيِّ فَكَبَّرَ أَرْبَعًا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی، تو چار تکبیرات کہیں۔

It was narrated from Ibn Umar that the Prophet ﷺ offered the funeral prayer for Najashi and said four Takbir. (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٤٠٠، ومصباح الزجاجة: ٥٤٨) (صحیح )
1539Sunan Ibne-Majah

نماز جنازہ پڑھنے کا ثواب اور دفن تک شریک رہنے کا ثواب

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنِ انْتَظَرَ حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ، قَالُوا: وَمَا الْقِيرَاطَانِ؟، قَالَ: مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے نماز جنازہ پڑھی، اس کو ایک قیراط ثواب ہے، اور جو دفن سے فراغت تک انتظار کرتا رہا، اسے دو قیراط ثواب ہے لوگوں نے عرض کیا: دو قیراط کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دو پہاڑ کے برابر ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "Whoever offers the funeral prayer will have one Qirat and whoever awaits until (the burial) is finished will have two Qirat." They said: What are these two Qirat? He said: Like two mountains. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأیمان ٣٥ (٤٧)، الجنائز ٥٨ (١٣٢٥)، صحیح مسلم/الجنائز ١٧ (٩٤٥)، سنن النسائی/الجنائز ٧٩ (١٩٩٦)، الإیمان ٢٦ (٥٠٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٦٦)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز ٤٥ (٣١٦٨)، سنن الترمذی/الجنائز ٤٩ (١٠٤٠)، مسند احمد (٢/٢، ٢٣٣، ٢٤٦، ٢٨٠، ٣٢١، ٣٨٧، ٤٠١، ٤٣٠، ٤٥٨، ٤٧٥، ٤٨٠، ٤٩٣، ٤٩٨، ٥٠٣، ٥٢١، ٥٣١) (صحیح )
1540Sunan Ibne-Majah

نماز جنازہ پڑھنے کا ثواب اور دفن تک شریک رہنے کا ثواب

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْمَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَ دَفْنَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ، قَالَ: فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقِيرَاطِ؟، فَقَالَ: مِثْلُ أُحُدٍ.

ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی کی نماز جنازہ پڑھی، تو اس کو ایک قیراط ثواب ہے، اور جو اس کے دفن میں بھی شریک رہا، تو اس کو دو قیراط برابر ثواب ہے ، نبی اکرم ﷺ سے قیراط کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے ۔

It was narrated from Thawban that the Messenger of Allah ﷺ said. "Whoever offer the funeral prayer will have one Qirat and whoever attends the burial will have two Qirat." The Prophet ﷺ was asked about the Qirat and he said: "(It is) iike Uhud." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ١٧ (٩٤٦)، (تحفة الأشراف: ٢١١٥)، مسند احمد (٥/٢٧٦، ٢٧٧، ٢٨٢، ٢٨٣، ٢٨٤) (صحیح )