Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 78 of 218

1541Sunan Ibne-Majah

نماز جنازہ پڑھنے کا ثواب اور دفن تک شریک رہنے کا ثواب

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَهَا حَتَّى تُدْفَنَ فَلَهُ قِيرَاطَانِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ الْقِيرَاطُ أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ هَذَا.

ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے نماز جنازہ پڑھی، اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہے، اور جو اس کے دفن تک جنازہ میں حاضر رہا اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے، اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، قیراط اس احد پہاڑ سے بڑا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Ubayy bin Kab that the Messenger of Allah ﷺ said: Whoever offers the funeral prayer will have one Qirat; and whoever attends until the burial is over, will have two Qirat. By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad ﷺ ! The Qirat is greater than this (mountain of) Uhud." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اگرچہ قیراط نہایت ہلکا وزن ہے یعنی دانق کا آدھا، اور دانق ایک درہم کا چھٹا حصہ ہے، تو قیراط درہم کا بارہواں حصہ ہوا، یعنی تقریباً دو رتی، لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ قیراط بہت بڑا ہے وہ جو پہاڑ سے بھی وزن میں زائد ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٣، ومصباح الزجاجة: ٥٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٣١) (صحیح) (دوسرے طرق سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں حجاج بن ارطاہ مدلس ہیں )
1542Sunan Ibne-Majah

جنازہ کی وجہ سے کھڑے ہوجانا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَسَمِعَهُ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا رَأَيْتُمُ الْجِنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ، أَوْ تُوضَعَ.

عامر بن ربیعہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ، یہاں تک کہ وہ تم سے آگے نکل جائے، یا رکھ دیا جائے ۔

It was narrated from Amir bin Rabi ah that the Prophet ﷺ said: "When you see a funeral (procession) stand up for it until it has passed by or it is placed on the ground." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٤٦ (١٣٠٧)، ٤٧ (١٣٠٨)، صحیح مسلم/الجنائز ٢٤ (٩٥٨)، سنن ابی داود/الجنائز ٤٧ (٣١٧٢)، سنن الترمذی/الجنائز ٥١ (١٠٤٢)، سنن النسائی/الجنائز ٤٥ (١٩١٦)، (تحفة الأشراف: ٥٠٤١)، مسند احمد (٣/٤٤٥، ٤٤٦، ٤٤٧) (صحیح )
1543Sunan Ibne-Majah

جنازہ کی وجہ سے کھڑے ہوجانا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ فَقَامَ، وَقَالَ: قُومُوا فَإِنَّ لِلْمَوْتِ فَزَعًا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے سے ایک جنازہ لے جایا گیا، تو آپ کھڑے ہوگئے اور فرمایا: کھڑے ہوجاؤ! اس لیے کہ موت کی ایک گھبراہٹ اور دہشت ہے ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "A funeral passed by the Prophet ﷺ and he stood up and said: Stand up out of recognition of the enormity of death:" (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٠٦٦، ومصباح الزجاجة: ٥٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٨٧، ٣٤٣) (صحیح )
1544Sunan Ibne-Majah

جنازہ کی وجہ سے کھڑے ہوجانا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِنَازَةٍ فَقُمْنَا حَتَّى جَلَسَ فَجَلَسْنَا.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک جنازہ کے لیے کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہوئے، پھر آپ بیٹھ گئے، تو ہم بھی بیٹھ گئے۔

It was narrated that Ali bin Abu Talib said: "The Messenger of Allah ﷺ stood up for a funeral, and we stood up, until he sat down, then we sat down: (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ٢٥ (٩٦٢)، سنن ابی داود/الجنائز ٤٧ (٣١٧٥)، سنن الترمذی/الجنائز ٥٢ (١٠٤٤)، سنن النسائی/الجنائز ٨١ (٢٠٠١)، (تحفة الأشراف: ١٩٢٧٦)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز ١١ (٣٣)، مسند احمد (١/٨٢، ٨٣، ١٣١، ١٣٨) (صحیح )
1545Sunan Ibne-Majah

جنازہ کی وجہ سے کھڑے ہوجانا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اتَّبَعَ جِنَازَةً لَمْ يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ، فَعَرَضَ لَهُ حَبْرٌ، فَقَالَ: هَكَذَا نَصْنَعُ يَا مُحَمَّدُ؟ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: خَالِفُوهُمْ.

عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی جنازے کے پیچھے چلتے تو اس وقت تک نہ بیٹھتے جب تک کہ اسے قبر میں نہ رکھ دیا جاتا، ایک یہودی عالم آپ کے سامنے آیا، اور کہا: اے محمد! ہم بھی ایسے ہی کرتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے بیٹھنا شروع کردیا، اور فرمایا: ان کی مخالفت کرو ١ ؎۔

It was narrated that Ubadahh bin Samit said: "When the Messenger of Allah ﷺ followed a funeral, he would not sit down until it had been placed in the niche-grave. A rabbi came to him and said: This is what we do, O Muhammad ﷺ ! So the Messenger of Allah ﷺ sat down and said: Be different from them:" (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ پہلے نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کو جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوجانے کا حکم دیا تھا، پھر جب آپ کو یہ معلوم ہوا کہ یہود بھی ایسا کرتے ہیں تو آپ نے ان کی مخالفت کا حکم دیا جس سے سابق حکم منسوخ ہوگیا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٤٧ (٣١٧٦)، سنن الترمذی/الجنائز ٣٥ (١٠٢٠)، (تحفة الأشراف: ٥٠٧٦) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: ٤٣٧ )
1546Sunan Ibne-Majah

قبرستان میں جانے کی دعا

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَقَدْتُهُ، تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ أَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ، وَإِنَّا بِكُمْ لَاحِقُونَ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُمْ، وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُمْ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے انہیں یعنی نبی اکرم ﷺ کو (ایک رات) غائب پایا، پھر دیکھا کہ آپ مقبرہ بقیع میں ہیں، اور آپ نے فرمایا: السلام عليكم دار قوم مؤمنين أنتم لنا فرط وإنا بکم لاحقون اللهم لا تحرمنا أجرهم ولا تفتنا بعدهم اے مومن گھر والو! تم پر سلام ہو، تم لوگ ہم سے پہلے جانے والے ہو، اور ہم تمہارے بعد آنے والے ہیں، اے اللہ! ہمیں ان کے ثواب سے محروم نہ کرنا، اور ان کے بعد ہمیں فتنہ میں نہ ڈالنا ۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "I could not find him, meaning the Prophet ﷺ and he was in Al-Baqi, He said: (Peace be upon you, O abode of believing people. You have gone ahead of us and verily we will join you soon. O Allah, do not deprive us of their reward and do not put us to trial after them)." (Daif)

1547Sunan Ibne-Majah

قبرستان میں جانے کی دعا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ آدَمَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْأَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُمْ إِذَا خَرَجُوا إِلَى الْمَقَابِرِ، كَانَ قَائِلُهُمْ يَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، نَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ صحابہ کرام ؓ کو تعلیم دیتے تھے کہ جب وہ قبرستان جائیں تو یہ کہیں: السلام عليكم أهل الديار من المؤمنين والمسلمين وإنا إن شاء الله بکم لاحقون نسأل الله لنا ولکم العافية اے مومن اور مسلمان گھر والو! تم پر سلام ہو، ہم تم سے انشاء اللہ ملنے والے ہیں، اور ہم اللہ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے عافیت کا سوال کرتے ہیں ۔

It was narrated from Sulaiman bin Buraidah that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ used to teach them, when they went out to the graveyard, to say: (peace be upon you, a inhabitants of the abodes, believers and Muslims, and we will join you soon if Allah wills. We ask Allah for well-being for us and for you). (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: السلام عليكم يا أهل القبور، يغفر الله لنا ولکم وأنتم سلفنا ونحن بالأثر یعنی سلام ہو تمہارے اوپر اے قبر والو! اللہ ہم کو اور تم کو بخشے، تم ہمارے اگلے ہو، اور ہم تمہارے پیچھے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ٣٥ (٩٧٥)، سنن النسائی/الجنائز ١٠٣ (٢٠٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٩٣٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥٣، ٣٦٠) (صحیح )
1548Sunan Ibne-Majah

قبرستان میں بیٹھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَاذَانَ، عَنْالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ فَقَعَدَ حِيَالَ الْقِبْلَةِ.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے، تو آپ قبلہ کی طرف رخ کر کے بیٹھے۔

It was narrated that Bara bin Azib (RA) said: "We went out with the Messenger of Allah ﷺ for a funeral, and he sat facing the Qiblah (prayer direction)." (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٦٨ (٣٢١٢)، السنة ٢٧ (٤٧٥٣، ٣٧٥٤)، سنن النسائی/الجنائز ٨١ (٢٠٠٣)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٨٧، ٢٩٥، ٢٩٧) (صحیح )
1549Sunan Ibne-Majah

قبرستان میں بیٹھنا

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ، فَجَلَسَ وَجَلَسْنَا كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرَ.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے، جب قبر کے پاس پہنچے تو آپ بیٹھ گئے، اور ہم بھی بیٹھ گئے، گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں ١ ؎۔

It was narrated that Bara bin Azib (RA) said: "We went out with the Messenger of Allah ﷺ for a funeral, and we came to a grave.He sat down and we sat down, as if there were birds on our heads." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی خاموش سر جھکا کر بیٹھے، صحابہ کرام ؓ نبی کریم ﷺ کے پاس ہمیشہ اسی طرح با ادب بیٹھتے تھے۔ اور قبرستان میں بھی باکل خاموش اور چپ چاپ بیٹھ جاتے تھے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٧٥٩) (صحیح )
1550Sunan Ibne-Majah

میّٹ کو قبر میں داخل کرنا

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُدْخِلَ الْمَيِّتُ الْقَبْرَ، قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ، وَقَالَ أَبُو خَالِدٍ مَرَّةً: إِذَا وُضِعَ الْمَيِّتُ فِي لَحْدِهِ، قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ، وَقَالَ هِشَامٌ فِي حَدِيثِهِ: بِسْمِ اللَّهِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ جب مردے کو قبر میں داخل کیا جاتا تو نبی اکرم ﷺ بسم الله وعلى ملة رسول الله اور ابوخالد نے اپنی روایت میں ایک بار یوں کہا: جب میت کو اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا تو آپ بسم الله وعلى سنة رسول الله کہتے، اور ہشام نے اپنی روایت میں بسم الله وفي سبيل الله وعلى ملة رسول الله کہا ہے۔

It was narrated that Ibn Umar said: "When the deceased was placed in the grave, the Prophet ﷺ would say: (In the Name of Allah and according to the religion of the Messenger of Allah) ﷺ . Abu Khalid said on one occasion, when the deceased was placed in the grave: (In the Name of Allah and according to the _Sunnah of the Messenger of Allah ﷺ )." Hisham said in his narration: (In the Name of Allah, for the sake of Allah and according to the religion of the Messenger of Allah) ﷺ ." (Sahih)

Takhrij · تخریج
حدیث ہشام بن عمار تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٣١٩)، وحدیث عبد اللہ بن سعید أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز ٥٤ (١٠٤٦)، (تحفة الأشراف: ٧٦٤٤)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز ٦٩ (٣٢١٣)، مسند احمد (٢/٢٧، ٤٠، ٥٩، ٦٩، ١٢٧) (صحیح) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں دو راوی اسماعیل بن عیاش اور لیث بن أبی سلیم ضعیف ہیں )
1551Sunan Ibne-Majah

میّٹ کو قبر میں داخل کرنا

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ، حَدَّثَنَا مَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: سَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدًا، وَرَشَّ عَلَى قَبْرِهِ مَاءً.

ابورافع ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سعد ؓ کو ان کی قبر کے پائتانے سے سر کی طرف سے قبر میں اتارا، اور ان کی قبر پہ پانی چھڑکا ١ ؎۔

It was narrated that Abu Rifi said: "The Messenger of Allah ﷺ placed Sad gently in his grave and sprinkled water on it." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: سنت یہی ہے کہ میت کو قبر کے پائتانے سے قبر کے اندر اس طرح کھینچا جائے کہ پہلے سر کا حصہ قبر میں داخل ہو، اور قبر میں اسے دائیں پہلو لٹایا جائے، اس طرح پر کہ چہرہ قبلہ کی طرف ہو اور سر قبلہ کے دائیں ہو، اور پیر اس کے بائیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٠١٤، ومصباح الزجاجة: ٥٥١) (ضعیف جدا) (اس کی سند میں مندل بن علی اور محمد بن عبید اللہ بن أبی رافع بہت زیادہ منکر الحدیث ہیں، نیز ملاحظہ ہو: المشکاة: ١٧٢١٩ )
1552Sunan Ibne-Majah

میّٹ کو قبر میں داخل کرنا

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُخِذَ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ وَاسْتُقْبِلَ اسْتِقْبَالًا، وَاسْتل استِلالًا.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو قبلہ کی طرف سے (قبر میں) اتارا گیا، اور کھینچ لیا گیا، آپ کا چہرہ قبلہ کی طرف کیا گیا۔

It was narrated from Abu Saeed that the Messenger of Allah ﷺ was brought into his grave from the direction of the Qiblah, and he was placed in his grave gently. (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٢١٨، ومصباح الزجاجة: ٥٥٢) (منکر) (اس کی سند میں عطیہ العوفی ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: احکام الجنائز: ١٥٠ )
1553Sunan Ibne-Majah

میّٹ کو قبر میں داخل کرنا

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكَلْبِيُّ، حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ الْأَوْدِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ: حَضَرْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي جِنَازَةٍ، فَلَمَّا وَضَعَهَا فِي اللَّحْدِ، قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ، فَلَمَّا أُخِذَ فِي تَسْوِيَةِ اللَّبِنِ عَلَى اللَّحْدِ، قَالَ: اللَّهُمَّ أَجِرْهَا مِنَ الشَّيْطَانِ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، اللَّهُمَّ جَافِ الْأَرْضَ عَنْ جَنْبَيْهَا، وَصَعِّدْ رُوحَهَا، وَلَقِّهَا مِنْكَ رِضْوَانًا، قُلْتُ: يَا ابْنَ عُمَرَ، أَشَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ أَمْ قُلْتَهُ بِرَأْيِكَ؟، قَالَ: إِنِّي إِذًا لَقَادِرٌ عَلَى الْقَوْلِ، بَلْ شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ میں ابن عمر ؓ کے پاس ایک جنازے میں آیا، جب انہوں نے اسے قبر میں رکھا تو کہا: بسم الله وفي سبيل الله وعلى ملة رسول الله اور جب قبر پر اینٹیں برابر کرنے لگے تو کہا: اللهم أجرها من الشيطان ومن عذاب القبر اللهم جاف الأرض عن جنبيها وصعد روحها ولقها منک رضوانا اے اللہ! تو اسے شیطان سے اور قبر کے عذاب سے بچا، اے اللہ! زمین کو اس کی پسلیوں سے کشادہ رکھ، اور اس کی روح کو اوپر چڑھا لے، اور اپنی رضا مندی اس کو نصیب فرما میں نے کہا: اے ابن عمر! یہ دعا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے، یا اپنی طرف سے پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: اگر ایسا ہو تو مجھے اختیار ہوگا، جو چاہوں کہوں (حالانکہ ایسا نہیں ہے) بلکہ اسے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔

It was narrated that Sa eed bin Musayyab said: "I was present with Ibn "Umar at a funeral. When the body was placed in the niche-grav:) he said: (In the Name of Allah, for the sake of Allah and according to the religion of the Messenger of Allah) ﷺ . When he started to place the bricks in the niche-grave he said: (O Allah, protect him from Satan and from the torment of the grave; O Allah, keep the earth away from his two sides and take his soul up and grant him pleasure from Yourself): I said: O Ibn Umar, is this something that you heard from the Messenger of Allah ﷺ is it your own words? He said: I could have said something like that, but this is something that I heard from the Messenger of Allah ﷺ " (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: ٧٠٨٤، ومصباح الزجاجة: ٥٥٣) (ضعیف) (اس کی سند میں حماد بن عبد الرحمن بالاتفاق ضعیف ہیں، ابتدائی حدیث صحیح ہے، کما تقدم: ١٥٥٠ )
1554Sunan Ibne-Majah

لحد کا اولیٰ ہونا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ الْأَعْلَى يَذْكُرُ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّحْدُ لَنَا، وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بغلی قبر (لحد) ہمارے لیے ہے، اور صندوقی اوروں کے لیے ہے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The niche-grave is for us and the ditch-grave is for others." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: بغلی قبر کو لحد کہتے ہیں اور ضرح اور شق صندوقی قبر کو جو بہت مشہور ہے، اس حدیث سے لحد کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، اس وجہ سے کہ اس میں مردے پر مٹی گرانی نہیں ہوتی، جو ادب و احترام کے خلاف ہے، نیز اس سے صندوقی قبر کی ممانعت مقصود نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٦٥ (٣٢٠٨)، سنن الترمذی/الجنائز ٥٣ (١٠٤٥)، سنن النسائی/الجنائز ٨٥ (٢٠١١)، (تحفة الأشراف: ٥٥٤٢) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: ٥٨٥ )
1555Sunan Ibne-Majah

لحد کا اولیٰ ہونا

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّحْدُ لَنَا، وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا.

جریر بن عبداللہ بجلی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بغلی قبر (لحد) ہمارے لیے ہے، اور صندوقی اوروں کے لیے ہے ۔

It was narrated that [arir bin Abdullah AI-Bajali said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The niche-grave is for us and the ditch-grave is for others. (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٢٠٩، ومصباح الزجاجة: ٥٥٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٥٧، ٣٥٩، ٣٦٢) (صحیح) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ابوالیقظان عثمان بن عمیر ضعیف ہیں )
1556Sunan Ibne-Majah

لحد کا اولیٰ ہونا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَلْحِدُوا لِي لَحْدًا، وَانْصِبُوا عَلَى اللَّبِنِ نَصْبًا، كَمَا فُعِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ.

سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے (اپنے انتقال کے وقت) کہا: میرے لیے بغلی قبر (لحد) بنانا، اور کچی اینٹوں سے اس کو بند کردینا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے کیا گیا تھا۔

It was narrated that Sad said: "Make a niche-grave for me, and block it up with bricks as was done for the Messenger of Allah ﷺ ." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ٢٩ (٩٦٦)، سنن النسائی/الجنائز ٨٥ (٢٠١٠)، (تحفة الأشراف: ٣٨٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٦٩، ١٧٣، ١٨٤) (صحیح )
1557Sunan Ibne-Majah

قش ( صند وقی قبر)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَلْحَدُ، وَآخَرُ يَضْرَحُ، فَقَالُوا: نَسْتَخِيرُ رَبَّنَا، وَنَبْعَثُ إِلَيْهِمَا، فَأَيُّهُمَا سُبِقَ تَرَكْنَاهُ، فَأُرْسِلَ إِلَيْهِمَا فَسَبَقَ صَاحِبُ اللَّحْدِ، فَلَحَدُوا لِلنَّبِيِّ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ کا انتقال ہوگیا، تو مدینہ میں قبر بنانے والے دو شخص تھے، ایک بغلی قبر بناتا تھا، اور دوسرا صندوقی، صحابہ کرام ؓ نے کہا: ہم اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرتے ہیں، اور دونوں کو بلا بھیجتے ہیں (پھر جو کوئی پہلے آئے گا، ہم اسے کام میں لگائیں گے) اور جو بعد میں آئے اسے چھوڑ دیں گے، ان دونوں کو بلوایا گیا، تو بغلی قبر بنانے والا پہلے آگیا، لہٰذا آپ ﷺ کے لیے بغلی قبر بنائی گئی۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "When the Prophet ﷺ died, there was a man in AI-Madinah who used to make a niche in the grave and another who used to dig graves without a niche. They said: Let us pray Istikhfirah to our Lord and call for them both, and whichever of them comes first, we will let him do it. So they were both sent for, and the one who used to make the niche-grave came first, so they made a niche-grave for the Prophet ﷺ ." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: ابوطلحہ ؓ لحد بناتے تھے اور عبیدہ ؓ صندوقی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٣٩، ومصباح الزجاجة: ٥٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد ٣٠/١٣٩) (حسن صحیح )
1558Sunan Ibne-Majah

قش ( صند وقی قبر)

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ بْنِ عُبَيْدَةَ بْنِ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ طُفَيْلٍ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفُوا فِي اللَّحْدِ، وَالشَّقِّ، حَتَّى تَكَلَّمُوا فِي ذَلِكَ وَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ، فَقَالَ عُمَرُ: لَا تَصْخَبُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيًّا وَلَا مَيِّتًا، أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا، فَأَرْسَلُوا إِلَى الشَّقَّاقِ، وَاللَّاحِدِ جَمِيعًا، فَجَاءَ اللَّاحِدُ فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ دُفِنَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہوگیا، تو لوگوں نے بغلی اور صندوقی قبر کے سلسلے میں اختلاف کیا، یہاں تک کہ اس سلسلے میں باتیں بڑھیں، اور لوگوں کی آوازیں بلند ہوئیں، تو عمر ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے پاس زندگی میں یا موت کے بعد شور نہ کرو، یا ایسا ہی کچھ کہا، بالآخر لوگوں نے بغلی اور صندوقی قبر بنانے والے دونوں کو بلا بھیجا، تو بغلی قبر بنانے والا پہلے آگیا، اس نے بغلی قبر بنائی، پھر اس میں رسول اللہ ﷺ کو دفن کیا گیا۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "When the Messenger of Allah ﷺ died, they differed as to whether his grave should have a niche or a ditch in the ground, until they spoke and raised their voices concerning that. Then Umar said: Do not shout in the presence of the Messenger of Allah ﷺ , living or dead: or words to that effect. So they sent for both the one who made a niche and the one who dug graves without a niche, and the one who used to make a niche came and dug a grave with a niche for the Messenger of Allah ﷺ , then he ﷺ was buried." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٢٤٦، ومصباح الزجاجة: ٥٥٦) (حسن) (متابعات و شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں عبید بن طفیل مجہول اور عبد الرحمن بن أبی ملیکہ ضعیف راوی ہیں) (تراجع الألبانی: رقم: ٥٩٠ )
1559Sunan Ibne-Majah

قبر گہری کھودنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ الْأَدْرَعِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: جِئْتُ لَيْلَةً أَحْرُسُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا رَجُلٌ قِرَاءَتُهُ عَالِيَةٌ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا مُرَاءٍ، قَالَ: فَمَاتَ بِالْمَدِينَةِ، فَفَرَغُوا مِنْ جِهَازِهِ فَحَمَلُوا نَعْشَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ارْفُقُوا بِهِ رَفَقَ اللَّهُ بِهِ، إِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ: وَحَفَرَ حُفْرَتَهُ، فَقَالَ: أَوْسِعُوا لَهُ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ حَزِنْتَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: أَجَلْ إِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ.

ادرع سلمی ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک رات آیا، اور میں نبی اکرم ﷺ کی پہرہ داری کیا کرتا تھا، ایک شخص بلند آواز سے قرآن پڑھ رہا تھا، نبی اکرم ﷺ باہر نکلے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو ریاکار معلوم ہوتا ہے، پھر اس کا مدینہ میں انتقال ہوگیا، جب لوگ اس کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہوئے، تو لوگوں نے اس کی لاش اٹھائی تب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس کے ساتھ نرمی کرو ، اللہ تعالیٰ بھی اس کے ساتھ نرمی کرے، یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا تھا، ادرع ؓ کہتے ہیں کہ اس کی قبر کھودی گئی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کی قبر کشادہ کرو، اللہ اس پر کشادگی کرے ، یہ سن کر بعض صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس کی وفات پر آپ کو غم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا تھا ۔

It was narrated that Adra As-Sulami said: "I came one night to guard the Prophet ﷺ , and there was a man reciting loudly.The Prophet ﷺ came out and I said: O Messenger of Allah, this man is showing off. Then he died in Al-Madinah, and they finished preparing him, then they carried his dead body. The Prophet ﷺ said: Be gentle with him, may Allah be gentle with him, for he loved Allah and His Messenger. Then his grave was dug and he (the Prophet ﷺ ) said: Make it spacious for him, and may Allah make it spacious for him. Some of his Companions said: O Messenger of Allah ﷺ , you are grieving for him. He said: Yes indeed, for he loved Allah and Bis Messenger. (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨١، ومصباح الزجاجة: ٥٥٧) (ضعیف) (موسیٰ بن عبیدة ضعیف راوی ہیں )
1560Sunan Ibne-Majah

قبر گہری کھودنا

حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي الدَّهْمَاءِ، عَنْهِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْفِرُوا، وَأَوْسِعُوا، وَأَحْسِنُوا.

ہشام بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قبر کو خوب کھودو، اسے کشادہ اور اچھی بناؤ۔

It was narrated from Hisham bin Amir that the Messenger of Allah ﷺ said: "Dig the grave deep, make it spacious and prepare it well." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٧١ (٣٢١٥، ٣٢١٦، سنن الترمذی/الجہاد ٣٣ (١٧١٣)، سنن النسائی/الجنائز ٨٦ (٢٠١٢)، ٨٧ (٢٠١٣)، ٩٠ (٢٠١٧)، ٩١ (٢٠٢٠)، (تحفة الأشراف: ١١٧٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٩، ٢٠) (صحیح )