جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کو پختہ بنانے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade plastering over graves."(Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: قبروں کے پختہ بنانے میں ایک تو فضول خرچی ہے اس سے مردے کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا دوسرے اس میں مرنے والوں کی ایسی تعظیم ہے جو انسان کو شرک کی طرف لے جاتی ہے اس لئے اس سے منع کیا گیا ہے۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبر پر کچھ لکھنے سے منع کیا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade writing anything on graves." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: قبر پر لکھنے سے مراد وہ کتبہ ہے جو لوگ قبر پر لگاتے ہیں، جس میں میت کی تاریخ وفات اور اوصاف و فضائل درج کئے جاتے ہیں، بعض علماء نے کہا ہے کہ ممانعت سے مراد اللہ یا رسول اللہ کا نام لکھنا ہے، یا قرآن مجید کی آیتیں لکھنا ہے کیونکہ بسا اوقات کوئی جانور اس پر پاخانہ پیشاب وغیرہ کردیتا ہے جس سے ان چیزوں کی توہین ہوتی ہے۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے قبر پر عمارت بنانے سے منع کیا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Sa eed that the Prophet ﷺ forbade building structures over graves. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: قبروں پر قبہ اور گنبد کی تعمیر کا معاملہ بھی یہی ہے یہ بلاوجہ کا اسراف ہے جس سے مردوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور مرنے والوں کی ایسی تعظیم ہے جو شرک کی طرف لے جاتی ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک نماز جنازہ پڑھی، پھر میت کی قبر کے پاس تشریف لا کر اس پر سرہانے سے تین مٹھی مٹی ڈالی۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ offered the funeral prayer, then he came to the grave of the deceased and scattered three handfuls of earth from the side of (the deceaseds) head. (Hasan)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کسی کا آگ کے شعلہ پر جو اسے جلا دے بیٹھنا اس کے لیے قبر پر بیٹھنے سے بہتر ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ said: "If one of you were to sit on a live coal that burns him, that would be better for him than if he were to sit on a grave." (Sahih)
عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میں انگارے یا تلوار پہ چلوں، یا اپنا جوتا پاؤں میں سی لوں، یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں کسی مسلمان کی قبر پر چلوں، اور میں کوئی فرق نہیں سمجھتا کہ میں قضائے حاجت کروں قبروں کے بیچ میں یا بازار کے بیچ میں ١ ؎۔
It was narrated from Uqbah bin Amir that the Messenger of Allah ﷺ said: If I were to walk on a live coal or a sword, or if T were to sew my shoes to my feet, that would be better for me than walking on the grave of a Muslim. And I see no difference between relieving myself in the midst of the graves or in the middle of the marketplace. " (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ لوگوں سے شرم کی وجہ سے بازار میں آدمی کسی طرح پاخانہ نہیں کرسکتا، پس ایسا ہی مردوں سے بھی شرم کرنی چاہیے، اور قبرستان میں پاخانہ نہیں کرنا چاہیے، اور جو کوئی قبروں کے درمیان پاخانہ کرے وہ بازار کے اندر بھی پیشاب پاخانہ کرنے سے شرم نہیں کرے گا۔
بشیر ابن خصاصیہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جا رہا تھا کہ آپ نے فرمایا: اے ابن خصاصیہ! تجھے اللہ سے کیا شکوہ ہے (حالانکہ تجھے یہ مقام حاصل ہوگیا ہے کہ) تو رسول اللہ کے ساتھ چل رہا ہے ؟ میں نے کہا، اے اللہ کے رسول! مجھے اللہ تعالیٰ سے کوئی شکوہ نہیں۔ مجھے اللہ نے ہر بھلائی عنایت فرمائی ہے۔ (اسی اثناء میں) آپ مسلمانوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: انہیں بہت بھلائی مل گئی ۔ پھر مشرکوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: یہ بہت سی بھلائی سے محروم رہ گئے ۔ اچانک آپ کی نگاہ ایسے آدمی پر پڑی جو قبروں کے درمیان جوتوں سمیت چل رہا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اے جوتوں والے! انہیں اتار دے ۔ امام ابن ماجہ نے اپنے استاذ محمد بن بشار سے بیان کیا کہ ابن مہدی کہتے ہیں، عبداللہ بن عثمان کہا کرتے تھے یہ حدیث عمدہ ہے اور اس کا راوی خالد بن سمیر ثقہ ہے۔
It was narrated that Bashir bin Khasasiyyah said: "While I was walking with the Messenger of Allah ﷺ he said: O son of Khasasiyyah, why are you angry with Allah when you are walking with the Messenger of Allah ﷺ I snaot angry with Allah at all. Allah, has bestowed all good on me. Then he passed by the graves of the MuslimS and said: They have caught up with a great deal of good. Then he passed by the graves of the idolaters and said: They died before a great deal of good came to them. Then he turned and saw a man walking between the graves in his shoes and he said: O you with the shoes, take them off. (Sahih) Muhammad bin Bashshar narrated from Abdur-Rahman bin Mahdi that he said: Abdullah bin Uthman used to say (about this Hadith): A good Hadith, and a reliable narrator.
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے روک دیا تھا، تو اب ان کی زیارت کرو، اس لیے کہ یہ دنیا سے بےرغبتی پیدا کرتی ہے، اور آخرت کی یاد دلاتی ہیں ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Masud that the Messenger of Allah ﷺ said, "I used to forbid you to visit the graves, but now visit them, for they will draw your attention away from this world and remind you of the Hereafter." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: پہلے نبی اکرم ﷺ نے شرک کا زمانہ قریب ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کو قبروں کی زیارت سے منع فرما دیا تھا، جب ایمان خوب دلوں میں جم گیا اور شرک کا خوف نہ رہا، تو آپ نے اس کی اجازت دے دی، ترمذی کی روایت میں ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی اپنی ماں کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت اللہ تعالیٰ نے دے دی اب یہ حکم عام ہے، عورت اور مرد دونوں کے لئے، یا صرف مردوں کے لئے خاص ہے، نیز صحیح یہ ہے کہ عورتیں بھی قبروں کی زیارت کرسکتی ہیں، اس لئے کہ قبروں کی زیارت سے ان کو موت اور آخرت کی یاد اور دنیا سے بےرغبتی کے فوائد حاصل ہوں گے، البتہ زیارت میں مبالغہ کرنے والی عورتوں پر حدیث میں لعنت آئی ہے، اس لئے عورتوں کو محدود انداز سے زیارت قبور کی اجازت ہے، موجودہ زمانہ میں قبروں اور مشاہد کے ساتھ مسلمانوں نے اپنی جہالت کی وجہ سے جو سلوک کر رکھا ہے، اس میں قبروں کی زیارت کا اصل مقصد اور فائدہ ہی اوجھل ہوگیا ہے، اس لئے تمام مسلمانوں کو زیارت قبور کے شرعی آداب کو سیکھنا اور اس کا لحاظ رکھنا چاہیے، اور صحیح طور پر مسنون طریقے سے قبروں کی زیارت کرنی چاہیے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٥٦٢، ومصباح الزجاجة: ٥٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٥٢) (ضعیف) (ایوب بن ہانی میں کلام ہے، لیکن فإنها تزهد في الدنيا کے جملہ کے علاوہ دوسری احادیث سے یہ ثابت ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی تو آپ روئے، اور آپ کے گرد جو لوگ تھے انہیں بھی رلایا، اور فرمایا: میں نے اپنے رب سے اجازت مانگی کہ اپنی ماں کے لیے استغفار کروں، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کی اجازت نہیں دی، اور میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو اس نے مجھے اجازت دے دی، لہٰذا تم قبروں کی زیارت کیا کرو اس لیے کہ وہ موت کو یاد دلاتی ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Prophet ﷺ visited the grave of his mother and wept, causing the people around him to weep. Then he said: I asked my Lord for permission to seek forgiveness for her, but He did not give me permission. Then I asked my Lord for permission to visit her grave and He gave me permission. So visit the graves, for they will remind you of death. (Sahih)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور کہا: اللہ کے رسول! میرے والد صلہ رحمی کیا کرتے تھے، اور اس اس طرح کے اچھے کام کیا کرتے تھے، تو اب وہ کہاں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ جہنم میں ہیں اس بات سے گویا وہ رنجیدہ ہوا، پھر اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ کے والد کہاں ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم کسی مشرک کی قبر کے پاس سے گزرو، تو اس کو جہنم کی خوشخبری دو اس کے بعد وہ اعرابی (دیہاتی) مسلمان ہوگیا، اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھ پر ایک ذمہ داری ڈال دی ہے، اب کسی بھی کافر کی قبر سے گزرتا ہوں تو اسے جہنم کی بشارت دیتا ہوں۔
It was narrated from Salim that his father said: "A Bedouin came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah, my father used to uphold the ties of kinship, and so and so forth, where is he? He said: In the Fire. It was as if he found that difficult to bear. Then he said: O Messenger of Allah. Where is your father? The Messenger of Allah ﷺ said: Whenever you pass by the grave of an idolater, give him the tidings of Hell-fire. The Bedouin later became Muslim, and he said: The Messenger of Allah ﷺ gave me a difficult task. I never passed the grave of an idolater but I gave him the tidings of Hell-fire. (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٨٠٣، ومصباح الزجاجة: ٥٦٤) (صحیح) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٨ )
حسان بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے ١ ؎۔
It was narrated from ,Abdur-Rahman bin Hassan bin Thabit that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ cursed women who visit graves." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اور اس معنی کی دوسری احادیث سے یہ امر قوی ہوتا ہے کہ عورتوں کو قبروں کی زیارت کرنا منع ہے، اس حدیث میں زوارات مبالغہ کا صیغہ ہے، اس لئے عام عورتوں کے لئے زیارت قبور کی اجازت اوپر کی (حدیث نمبر ١٥٧١ ) سے حاصل ہے، جس میں رسول اکرم ﷺ نے ممانعت کے بعد مسلمانوں کو زیارت قبور کا اذن عام دیا ہے، تاکہ وہ اس سے عبرت و موعظت حاصل کریں، اور عورتیں بھی اس سے عبرت و موعظت کے حصول میں مردوں کی طرح محتاج اور حقدار ہیں۔ اس سلسلے میں متعدد احادیث بھی ہیں۔ ١ ۔ ام المومنین عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے عورتوں کو قبروں کی زیارت کی اجازت دی۔ (سنن الاثرم ومستدرک الحاکم) ٢ ۔ صحیح مسلم میں ام المومنین عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! جب میں قبروں کی زیارت کروں تو کیا کہوں؟۔ آپ ﷺ نے یوں فرمایا: کہو السلام على أهل الديار من المؤمنين۔ ٣ ۔ حاکم نے روایت کی ہے کہ فاطمہ الزہراء ؓ اپنے چچا حمزہ ؓ کے قبر کی زیارت ہر جمعہ کو کیا کرتیں تھیں۔ ٤ ۔ صحیح بخاری میں ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک عورت پر سے گزرے جو ایک قبر پر رو رہی تھی، لیکن آپ ﷺ نے اس پر قبر کی زیارت کی وجہ سے نکیر نہیں فرمائی۔ اجازت اور عدم اجازت میں یوں مطابقت ہوسکتی ہے کہ ان عورتوں کے لئے ممانعت ہے جو زیارت میں مبالغہ سے کام لیں، یا زیارت کے وقت نوحہ وغیرہ کریں، اور ان عورتوں کے لئے اجازت ہے جو خلاف شرع کام نہ کریں۔ قرطبی نے کہا کہ لعنت ان عورتوں سے خاص ہے جو بہت زیادہ زیارت کو جائیں، کیونکہ حدیث میں زوارات القبور مبالغہ کا صیغہ منقول ہے، اور شاید اس کی وجہ یہ ہوگی کہ جب عورت اکثر زیارت کو جائے گی تو مرد کے کاموں اور ضرورتوں میں خلل واقع ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٤٠٣، ومصباح الزجاجة: ٥٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٤٢، ٤٤٣) (حسن) (نیز ملاحظہ ہو: الإرواء )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔
It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ cursed women who visit graves" (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٨٢ (٣٢٣٦)، سنن الترمذی/الصلاة ١٢٢ (٣٢٠)، سنن النسائی/الجنائز ١٠٤ (٢٠٤٥)، (تحفة الأشراف: ٥٣٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٩، ٣٢٤، ٣٣٧) (حسن) (سابقہ حدیث سے یہ حسن ہے، لیکن زائرات کے لفظ کی روایت ضعیف ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ cursed women who visit graves." (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ٦٢ (١٠٥٦)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٣٧، ٣٥٦) (حسن) (شواہد و متابعات کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں محمد بن طالب مجہول ہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٧٦٢ )
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نکلے اور کئی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں، آپ نے پوچھا: تم لوگ کیوں بیٹھی ہوئی ہو ؟ انہوں نے کہا: ہم جنازے کا انتظار کر رہی ہیں، آپ نے پوچھا: کیا تم لوگ جنازے کو غسل دو گی ؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: کیا اسے اٹھاؤ گی ؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: کیا تم بھی ان لوگوں کے ساتھ جنازہ قبر میں اتارو گی جو اسے اتاریں گے ؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ گناہ گار ہو کر ثواب سے خالی ہاتھ (اپنے گھروں کو) واپس جاؤ ۔
It was narrated that Ali said: "The Messenger of Allah ﷺ went out and saw some women silting, and he said: What are you silting here for? They said: We are waiting for the funeral. He said: Are you going to wash the deceased? They said: No. He said: Are you going to lower him into the grave? They said: No. He said: Then go back with a burden of sin and not rewarded. (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٢٦٩، ومصباح الزجاجة: ٥٦٦) (ضعیف) (اس کی سند میں دینار ابو عمر اور اسماعیل بن سلمان ضعیف ہیں، ابن الجوزی نے اس حدیث کو العلل المتناہیہ میں ذکر کیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: ١ لضعیفہ: ٢٧٤٢ )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے آیت کریمہ: ولا يعصينک في معروف (سورة الممتنحة: 12) نیک باتوں میں تمہاری نافرمانی نہ کریں کی تفسیر کے سلسلہ میں فرمایا: اس سے مراد نوحہ ہے ١ ؎۔
It was narrated from Umm Salamah from the Prophet ﷺ regarding: "And that they will not disobey you in Marut (all that that is good in Islam);" he said: "(It is about) wailing." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: نوحہ کہتے ہیں چلا چلا کر میت پر رونے، اور اس کے فضائل بیان کرنے کو، یہ جاہلیت کی رسم تھی، اور اب تک جاہلوں میں رائج ہے اس لئے نبی کریم ﷺ نے اس سے منع کیا، لیکن آہستہ سے رونا جو بےاختیاری اور رنج کی وجہ سے ہو وہ منع نہیں ہے، جیسا کہ آگے آئے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٦٠ (٣٣٠٧)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٢٠) (حسن )
معاویہ ؓ کے غلام حریز کہتے ہیں کہ معاویہ ؓ نے حمص میں خطبہ دیا تو اپنے خطبہ میں یہ ذکر کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے نوحہ (چلّا کر رونے) سے منع فرمایا ہے۔
[arir, the freed slave of Mu`awiyah, said: "Muawiyah delivered a sermon in Hims, and in his sermon he mentioned that the Messenger of Allah ﷺ ! Forbade wailing." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٤٠٣، ومصباح الزجاجة: ٥٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٠١) (صحیح) (دوسری سندوں سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ” عبد اللہ بن دینار “ ضعیف اور حریز مجہول راوی ہیں )