جن اوقات میں میّت کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے اور دفن نہیں کنا چاہئے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنْ مِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَدْخَلَ رَجُلًا قَبْرَهُ لَيْلًا، وَأَسْرَجَ فِي قَبْرِهِ.
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو رات میں دفن کیا، اور اس کی قبر کے پاس (روشنی کے لیے) چراغ جلایا ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ placed a man in his grave at night, and he lit a lamp in his grave. (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہو کہ رات کو دفن کرنا جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ٦٣ (١٠٥٧)، (تحفة الأشراف: ٥٨٨٩) (حسن) (شواہد و متابعات کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں منہال بن خلیفہ ضعیف راوی ہیں )