عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مشک کے منہ باہر کر کے پانی پینے سے منع فرمایا، رسول اللہ ﷺ کی اس ممانعت کے بعد ایک شخص نے رات کو اٹھ کر مشک کے منہ سے پانی پینا چاہا، تو اس میں سے ایک سانپ نکلا۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade tipping up water skins. After the Messenger of Allah ﷺ had forbidden that, a man got up at night and tipped up a water skin, and a snake fell out of it onto him," (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٠٩٩، ومصباح الزجاجة: ١١٨٤) (ضعیف) (سند میں زمعہ بن صالح ضعیف راوی ہیں، لیکن مرفوع حدیث صحیح ہے، کما تقدم، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١١٢٦ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مشک کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade drinking (directly) from the mouth of a water skin." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: ممانعت کی وجہ ظاہر ہے کہ پانی اس صورت میں نظر نہیں آتا، اور اندیشہ ہے کہ پانی میں کوڑا یا کیڑا ہو، اور وہ پی جائے، دوسرے یہ کہ مشک میں بدبو ہوجانے کا خیال ہے، تیسرے یہ کہ پانی گرنے کا اندیشہ ہے، اور اکثر علماء کے نزدیک یہ ممانعت تنزیہی ہے، یعنی خلاف اولیٰ۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو زمزم کا پانی پلایا، تو آپ نے کھڑے کھڑے پیا ١ ؎۔ شعبی کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث عکرمہ سے بیان کی تو انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے ایسا نہیں کیا۔
Asim narrated from Shabi, from Ibn Abbas who said: "I drew water from Zamzam for the Prophet ﷺ and he drank standing up." (Sahih) I ( Asim) mentioned that to Ikrimah and he swore by Allah that he did not do that.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کھڑے ہو کر پانی نہیں پیا، یہ عکرمہ نے اپنے گمان کے مطابق قسم کھائی، ورنہ مشہور روایتوں سے یہ ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے زمزم کا پانی کھڑے کھڑے ہی پیا، اور بعض علماء نے کہا کہ زمزم کا پانی اور وضو سے بچا ہوا پانی کھڑے رہ کر پینا مستحب ہے، اور باقی کل پانی بیٹھ کر پینا چاہیے، اور احتمال ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے جو زمزم کا پانی کھڑے رہ کر پیا یہ عذر کی وجہ سے ہو کہ وہاں بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے آپ ﷺ نے بیٹھنے کی جگہ نہ پائی ہو، اور بعضوں نے کہا کہ کھڑے رہ کر پانی پینا پہلے منع تھا، اس کی ممانعت منسوخ ہوگئی، اور بعضوں نے کہا: پہلے جائز تھا، پھر منع ہوا، جابر ؓ سے ایسا مروی ہے، غرض بہتر یہی ہے بیٹھ کر پانی پیئے، مجبوری کی بات اور ہے۔
کبشہ انصاریہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے، ان کے پاس ایک پانی کی مشک لٹکی ہوئی تھی، آپ ﷺ نے کھڑے کھڑے اس کے منہ سے منہ لگا کر پانی پیا، تو انہوں نے مشک کے منہ کو جہاں رسول اللہ ﷺ کے منہ کا لمس ہوا تھا برکت کے لیے کاٹ کر رکھ لیا۔
It was narrated from Abdur-Rahman bin Abi Amrah, from a grandmother of his who was called Kabshah AIAnsariyyah, that the Messenger of Allah ﷺ entered upon her, and there was a water skin hanging there. He drank from it while standing, and she cut off the mouth of the water skin, seeking the blessing of the place where the mouth of the Messenger of Allah ﷺ had been. (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأشربة ١٨ (١٨٩٢)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٣٤) (صحیح )
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس دودھ آیا جس میں پانی ملا ہوا تھا، اس وقت آپ کے دائیں جانب ایک اعرابی اور آپ کے بائیں جانب ابوبکر ؓ تھے، تو آپ ﷺ نے پیا، پھر اعرابی کو دیا اور فرمایا: دائیں طرف والے کو دینا چاہیئے، پھر وہ اپنے دائیں طرف والے کو دے ١ ؎۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ was brought some milk mixed with water. On his right there was a Bedouin and on his left was Abu Bakr. He drank some, then he gave it to the Bedouin and said: "Pass it around to the right." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: حالانکہ ابوبکر صدیق ؓ کا درجہ اس اعرابی سے بہت زیادہ تھا مگر آپ ﷺ نے داہنے کی رعایت مقام و مرتبت پر مقدم رکھی۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس دودھ آیا، اس وقت آپ کے دائیں جانب ابن عباس ؓ اور بائیں جانب خالد بن ولید ؓ تھے، رسول اللہ ﷺ نے ابن عباس ؓ سے پوچھا: کیا تم مجھے اس کی اجازت دیتے ہو کہ پہلے خالد کو پلاؤں؟ ابن عباس ؓ نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے جو ٹھے کے لیے اپنے اوپر کسی کو ترجیح دینا پسند نہیں کرتا، چناچہ ابن عباس ؓ نے لیا، اور پیا، اور پھر خالد ؓ نے پیا ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ was brought some milk.On his right was Ibn Abbas and on his left was Khalid bin Walid. The Messenger of Allah ﷺ said to Ibn Abbas (RA) : Will you permit me to give Khillid to drink? Ibn "Abbas said: I would not like to give preference to anyone over myself when it comes to the leftover drink of the Messenger of Allah ﷺ . So Ibn Abbas took it and drank some, then Khalid drank some." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن عباس ؓ کم عمر بچے تھے، اور خالد ؓ بڑی عمر والے، اس لئے آپ ﷺ نے ابن عباس ؓ سے پہلے ان کو دینے کی اجازت چاہی، لیکن جب انہوں نے اجازت نہ دی تو آپ ﷺ خاموش ہے کیونکہ اصولاً اور قاعدے سے پہلے ابن عباس ؓ کا حق تھا، ان پر زبردستی نہیں ہوسکتی تھی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٨٥٨، ومصباح الزجاجة: ١١٨٥)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأشربة ٢١ (٣٧٣٠)، سنن الترمذی/الدعوات ٥٥ (٣٤٥٥)، مسند احمد (١/٢٢٠، ٢٢٥) (حسن )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کچھ پئے تو برتن میں سانس نہ لے، اور اگر سانس لینا چاہے تو برتن کو منہ سے علیحدہ کرلے، پھر اگر چاہے تو دوبارہ پئے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "When anyone of you drinks let him not breathe I into the vessel. If he wants to continue drinking, let him move the vessel away (in order to breathe) then bring it back, if he wants." (Hasan)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اوندھے منہ پیٹ کے بل لیٹ کر پینے سے منع فرمایا ہے، اور یہی کرع ہے، اور ہمیں اس بات سے بھی منع فرمایا کہ ایک ہاتھ سے چلو لیں، اور ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی کتے کی طرح برتن میں منہ نہ ڈالے، اور نہ ایک ہاتھ سے پئے، جیسا کہ وہ لوگ پیا کرتے تھے جن سے اللہ ناراض ہوا، رات میں برتن کو ہلائے بغیر اس میں سے نہ پئے مگر یہ کہ وہ ڈھکا ہوا ہو، اور جو شخص محض عاجزی و انکساری کی وجہ سے اپنے ہاتھ سے پانی پیتا ہے حالانکہ وہ برتن سے پینے کی استطاعت رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کی انگلیوں کی تعداد کے برابر نیکیاں لکھتا ہے، یہی عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کا برتن تھا جب انہوں نے یہ کہہ کر پیالہ پھینک دیا: اف! یہ بھی دنیا کا سامان ہے ۔
It was narrated from Asim bin Muhammad bin Zaid bin Abdullah, from his father, that his grandfather said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade us to drink while (lying) on our bellies, lapping up water, and he forbade us to drink from one hand only. He said: None of you should lap up water as a dog does, and he should not drink water from one hand as the people with whom Allah is angry do, and he should not drink from a vessel at night without stirring it first, unless the vessel was covered. Whoever drinks from his hand when he is able to drink from a vessel, with the intention of humility, Allah will record good deeds equivalent to the number of his fingers for him. It (i.e., the hand) is the vessel of Eisa bin Maryam A.S, when he threw away the cup and said: Ugh! That belongs to this world. (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٤٣٣، ومصباح الزجاجة: ١١٨٧) (ضعیف) (سند میں بقیہ بن ولید مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز مسلم بن عبد اللہ مجہول راوی ہیں )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ انصار کے ایک شخص کے پاس تشریف لے گئے، وہ اپنے باغ میں پانی دے رہا تھا، رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: اگر تمہارے پاس مشک میں باسی پانی ہو تو ہمیں پلاؤ، ورنہ ہم بہتے پانی میں منہ لگا کر پئیں گے، اس نے جواب دیا: میرے پاس مشک میں باسی پانی ہے، چناچہ وہ اور اس کے ساتھ ساتھ ہم چھپر کی طرف گئے، تو اس نے نبی اکرم ﷺ کی خاطر بکری کا دودھ دوھ کر اس باسی پانی میں ملایا جو مشک میں رکھا ہوا تھا، چناچہ آپ ﷺ نے اسے پیا، پھر اس نے ایسا ہی آپ کے ساتھ موجود صحابی کے ساتھ کیا ١ ؎۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "The Messenger of Allah ﷺ entered upon a man among the Ansar when he was watering his garden. The Messenger of Allah ﷺ said to him: If you have any water that has been kept overnight in a water skin, then give us some to drink, otherwise we will drink by putting our mouths in the basin. He said: I have water that has been kept in a water skin. So he went and we went with him, to the shelter, where he milked a sheep for him and (mixed it with) the water that had been kept overnight in a water skin. He drank from it, then he did likewise for his Companion who was with him." (Sahih)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک حوض کے پاس سے ہمارا گزر ہوا تو ہم منہ لگا کے پانی پینے لگے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: منہ لگا کر پانی نہ پیو، بلکہ اپنے ہاتھوں کو دھو لو پھر ان سے پیو، اس لیے کہ ہاتھ سے زیادہ پاکیزہ کوئی برتن نہیں ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umar said: "We passed by a pond and we started to lap up water from it. The Messenger of Allah ﷺ said: Do not lap up the water, rather wash your hands then drink from them, for there is no better vessel than the hand:" (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: کرع: منہ سے پینا، اس میں ایک عیب یہ بھی ہے کہ اکثر کوڑا کرکٹ یا کیڑا مکوڑا بھی پانی کے ساتھ منہ میں چلا جاتا ہے، اور ہاتھ سے پینے میں یہ بات نہیں ہوتی آدمی پانی کو ہاتھ میں لے کر دیکھ لیتا ہے، پھر اس کو پیتا ہے، حافظ ابن حجر فتح الباری میں لکھتے ہیں کہ اگر یہ روایت محفوظ ہو تو نہی تنزیہی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٠٧٤، ومصباح الزجاجة: ١١٨٨) (ضعیف) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف اور سعید بن عامر مجہول راوی ہے )
ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قوم کا ساقی (پلانے والا) سب سے آخر میں پیتا ہے ۔
It was narrated from Abu Qatadah that the Messenger of Allah ﷺ said: "The one who serves water to others should be the last one to drink from it: (Sahih)
اسامہ بن شریک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اعرابیوں کو نبی اکرم ﷺ سے سوال کرتے دیکھا کہ کیا فلاں معاملے میں ہم پر گناہ ہے؟ کیا فلاں معاملے میں ہم پر گناہ ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے بندو! ان میں سے کسی میں بھی اللہ تعالیٰ نے گناہ نہیں رکھا سوائے اس کے کہ کوئی اپنے بھائی کی عزت سے کچھ بھی کھیلے، تو دراصل یہی گناہ ہے ، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر ہم دوا علاج نہ کریں تو اس میں بھی گناہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے بندو! دوا علاج کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسا مرض نہیں بنایا جس کی شفاء اس کے ساتھ نہ بنائی ہو سوائے بڑھاپے کے ، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بندے کو جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہیں ان میں سے سب بہتر چیز کیا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: حسن اخلاق ۔
It was narrated that Usamah bin Sharik said: "I saw the Bedouins asking the Prophet ﷺ Is there any harm in such and such, is there any harm in such and such? He said to them: O slaves of Allah! Allah has only made harm in that which transgresses the honor of ones brother. That is what is sinful. They said: O Messenger of Allah ﷺ Is there any sin if we do not seek treatment? He said: Seek treatment, O slaves of Allah! For Allah does not create any disease but He also creates with it the cure, except for old age. They said: O Messenger of Allah, what is the best thing that a person may be given? He said: Good manners.": (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٧، ومصباح الزجاجة: ١٢٧)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطب ١ (٣٨٥٥)، سنن الترمذی/الطب ٢ (٢٠٣٨)، مسند احمد (٤/٢٧٨) (صحیح )