سراقہ بن جعشم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اس وادی میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: آگاہ رہو، عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہوگیا ۔
It was narrated that Suraqah bin Jushum said: "The Messenger of Allah ﷺ stood up to deliver a speech in this valley, and said: Lo! Umrah has been included in Hajj until the Day of Resurrection." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٨١٥، ومصباح الزجاجة: ١٠٤٥)، سنن النسائی/الحج ٧٧ (٢٨٠٨)، مسند احمد (٤/١٧٥) (صحیح )
مطرف بن عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ مجھ سے عمران بن حصین ؓ نے کہا: میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں، ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے آج کے بعد فائدہ پہنچائے، جان لو کہ آپ ﷺ کے گھر والوں میں سے ایک جماعت نے ذی الحجہ کے دس دنوں میں عمرہ کیا، اور رسول اللہ ﷺ نے اس کو منع نہیں کیا، اور نہ قرآن مجید میں اس کا نسخ اترا، اس کے بعد ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہا ١ ؎۔
It was narrated that Mutarrif bin ‘Abdullah Shikhir said: Imran bin Hussain said to me: ‘I will tell you a Hadith, that Allah may benefit thereby after this day. Know Allah’s Messenger had a ip from his family perform air dining the ten (days) of Hijjah, and the Messenger of did not forbid that, and rogatlon of that was revealed, and it does not matter anyone else suggests.’(sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اور سنن ترمذی میں ہے کہ ایک شخص نے ابن عمر ؓ سے تمتع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ درست ہے، اس شخص نے کہا: آپ کے والد تو اس سے منع کرتے تھے، انہوں نے کہا: اگر میرے والد ایک بات سے منع کریں اور رسول اکرم ﷺ نے اس کو کیا ہو تو میرے والد کی پیروی کی جائے گی، یا رسول اللہ ﷺ کی؟ اس شخص نے کہا: رسول اللہ ﷺ کی، ابن عمر ؓ نے کہا: پس رسول اللہ ﷺ نے تو تمتع کیا۔
حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة ومحمد بن بشار قالا: حدثنا محمد بن جعفر (ح) وحدثنا نصر بن علي الجهضمي حدثني أبي قالا: حدثنا شعبة عن الحكم عن عمارة بن عمير عن إبراهيم بن أبي موسى عن أبي موسى الأشعري أنه كان يفتي بالمتعة فقال له رجل رويدك بعض فتياك فإنك لا تدري ما أحدث أمير المؤمنين في النسك بعدك. حتى لقيته بعد فسألته فقال عمر قد علمت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم فعله وأصحابه ولكني كرهت أن يظلوا بهن معرسين تحت الأراك ثم يروحون بالحج تقطر رءوسهم.
ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ وہ حج تمتع کے جواز کا فتویٰ دیتے تھے، ایک شخص نے ان سے کہا: آپ اپنے بعض فتوؤں سے دستبردار ہوجائیں کیونکہ آپ کے بعد امیر المؤمنین نے حج کے مسئلہ میں جو نئے احکام دئیے ہیں وہ آپ کو معلوم نہیں، ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں عمر ؓ سے ملا، اور ان سے پوچھا، تو آپ نے کہا: مجھے معلوم ہے کہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ نے ایسا کیا ہے، لیکن مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ لوگ پیلو کے درخت کے نیچے عورتوں کے ساتھ رات گزاریں پھر حج کو جائیں، اور ان کے سروں سے پانی ٹپک رہا ہو۔
It was narrated from Ibrahim bin Abu Musa (RA) : "Abu Musa AI-Ash ari used to issue rulings concerning Tamaitu, Then a man said to him: Withhold some of your rulings, for you do not know what the Commander of the Believers has introduced into the rites after you. (Abu Musa said:) Then when I met him later on, I asked him. Umar said: I know that the Messenger of Allah ﷺ and his Companions did it, but I did not like that people should lie with their wives in the shade of the Ariik trees and then go out for Hajj with their heads dripping: (i.e. due to the bath after sexual relations)." (Sahih)
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صرف حج کا تلبیہ کہا (یعنی احرام باندھا) ، اس میں عمرہ کو شریک نہیں کیا ١ ؎، پھر ہم مکہ پہنچے تو ذی الحجہ کی چار راتیں گزر چکی تھیں، جب ہم نے خانہ کعبہ کا طواف کیا، اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی تو رسول اللہ ﷺ نے ہم کو حکم دیا کہ ہم اسے عمرہ میں تبدیل کردیں، اور اپنی بیویوں کے لیے حلال ہوجائیں، ہم نے عرض کیا: اب عرفہ میں صرف پانچ دن رہ گئے ہیں، اور کیا ہم عرفات کو اس حال میں نکلیں کہ شرمگاہوں سے منی ٹپک رہی ہو؟ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تم میں سب سے زیادہ نیک اور سچا ہوں ٢ ؎، اگر میرے ساتھ ہدی (قربانی کا جانور) نہ ہوتا تو میں بھی (عمرہ کر کے) حلال ہوجاتا (یعنی احرام کھول ڈالتا اور حج کو عمرہ میں تبدیل کردیتا) ۔ سراقہ بن مالک ؓ نے اس وقت عرض کیا: حج میں یہ تمتع ہمارے لیے صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ ہمیش کے لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، ہمیشہ ہمیش کے لیے ہے ٣ ؎۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "We began our Talbiyah for Hajj only with Allahs Messenger ﷺ , and we did not mix it with Umrah. We arrived in Makkah when four nights of Dhul-Hijjah had passed, and when we had performed Tawaf around the Ka’bah and Sa’y between Safa and Marwah, the Messenger of Allah ﷺ commanded us to make it ‘Umra and to come out of Ihram and have relations with our wives. We said: ‘There are only five (days) until ‘Arafah. Will we go out to it with our male organs dripping with semen?’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘I am the most righteous and truthful among you and were it not for the sacrificial animal, I would have exited Ihrdm.’ Surâqah bin Málik said: ‘Is this Tamattu’ for this year only or forever?’ He said: ‘No, it is forever and ever.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حج افراد کا احرام باندھا۔ ٢ ؎: یعنی جو کہہ رہا ہوں کسی پس و پیش کے بغیر انجام دو، میری کوئی بات تقویٰ و پرہیز گاری کے منافی نہیں ہوسکتی۔ ٣ ؎: ہر ایک شخص کے لیے قیامت تک تمتع کرنا جائز ہے، اس حدیث کے ظاہر سے یہ معلوم ہوا کہ اگر کوئی احرام باندھے لیکن ہدی کا جانور ساتھ نہ ہو تو وہ مکہ میں جا کر حج کی نیت فسخ کرسکتا ہے، اور عمرہ کر کے احرام کھول سکتا ہے، پھر یوم الترویہ یعنی ذی الحجہ کی ٨ تاریخ کو حج کے لئے نیا احرام باندھے، اور اس تاریخ (آٹھ) تک سب کام کرسکتا ہے جو احرام کی حالت میں جائز نہ تھے، امام ابن القیم اعلام الموقعین میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا دینے کا فتوی ٰ دیا، پھر فتویٰ دیا کہ یہ امر مستحب ہے ضرور اس کام کو کرنا چاہیے، اور یہ حکم کسی دوسرے حکم سے منسوخ نہیں ہوا، اور دین اللہ تعالیٰ کا ہے، بلکہ ہم کہتے ہیں کہ حج کو فسخ کر ڈالنا اور عمرہ کردینا اگر کوئی ان احادیث کی رو سے واجب کہے تو اس کا قول قوی ہوگا، بہ نسبت اس شخص کے قول کے جو اس سے منع کرتا ہے ... الی آخرہ۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب ذی قعدہ کے پانچ دن باقی تھے تو ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، جب ہم مکہ پہنچے یا اس سے قریب ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کو جن لوگوں کے پاس ہدی (قربانی) کا جانور نہیں تھا احرام کھول دینے کا حکم دیا، تو سارے لوگوں نے احرام کھول دیا، سوائے ان لوگوں کے جن کے پاس ہدی (قربانی) کے جانور تھے، پھر جب نحر کا دن (ذی الحجہ کا دسواں دن) ہوا تو ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا، لوگوں نے کہا: یہ گائے رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کی طرف سے ذبح کی ہے۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "We went out with the Messenger of Allah ﷺ when there Were five nights left of Dhul-Qadah, intending only to perform Hajj. When we came dose, the Messenger of Allah ﷺ ordered that whoever did not have a sacrificial animal, then he should exit lhram, So all the people exited Ihram, except those Who had the sacrificial animal When the Day of sacrifice (i.e., the 10th of Dhul-Hijjah) came, some beef was brought to us, and it was said: The Messenger of Allah ﷺ has offered a sacrifice on behall of his wives. (Sahih)
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ نکلے، ہم نے حج کا احرام باندھا، جب ہم مکہ پہنچے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے حج کو عمرہ کر دو ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے حج کا احرام باندھا ہے ہم اس کو عمرہ کیسے کرلیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دیکھو جس کا میں تم کو حکم دیتا ہوں اس پر عمل کرو ، لوگوں نے پھر وہی بات دہرائی، آپ ﷺ غصہ ہو کر چل دئیے اور غصہ کی ہی حالت میں ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس آئے، انہوں نے آپ کے چہرے پر غصہ کے آثار دیکھے تو بولیں: کس نے آپ کو ناراض کیا ہے؟ اللہ اسے ناراض کرے، آپ ﷺ نے فرمایا: میں کیوں کر غصہ نہ کروں جب کہ میں ایک کام کا حکم دیتا ہوں اور میری بات نہیں مانی جاتی ١ ؎۔
It was narrated that Bara bin Azib (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ and his Companions came out to us and we entered Ihriim for Hajj. When we came to Makkah, he said: Make your Hajj (to) Umrah. The people said: O Messenger of Allah, we have entered lhram for Hajj, how can we make it umrah? He said: Look at what I command you to do, and do it. They repeated their question and he got angry and went away. Then he entered upon " Aisha (RA) angry and she saw anger in his face, and said: Who has made you angry? May Allah vex him! He said: Why should I not get angry, when I give a command and it is not obeyed? (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ کی حدیث کو سن کر اس پر عمل کرنے میں صرف اس خیال سے دیر کرے کہ یہ حدیث اس کے ملک کے رسم و رواج کے خلاف ہے، یا اس کے ملک یا قوم کے یا مذہب کے عالموں اور درویشوں یا اگلے بزرگوں نے اس پر عمل نہیں کیا، تو وہ رسول اللہ ﷺ کو غصہ دلاتا اور آپ کو ناراض کرتا ہے، اور جو اللہ تعالیٰ کے رسول کو غصہ دلائے اور اس کو ناراض کرے اس کا ٹھکانا کہیں نہیں ہے، آپ ﷺ کا ارشاد ہے: مومن کا کام یہ ہے کہ اس کو سنتے ہی جان و دل سے قبول کرے، اور فوراً اس پر عمل کرے، اگرچہ تمام جہاں کے مولوی، ملا، درویش، پیر، مرشد، عالم اور مجتہد اس کے خلاف ہوں، اور یہ بھی ضروری ہے کہ اس پر عمل کرنے میں دل نہایت خوش اور ہشاش بشاش ہو اور ذرا بھی کدورت اور تنگی نہ ہو بلکہ اپنے کو بڑا خوش قسمت سمجھے کہ اس کو حدیث رسول پر عمل کرنے کی توفیق ہوئی۔ اگر ایسا نہ کرے یعنی عمل ہی نہ کرے یا عمل تو کرے مگر ذرا لیت ولعل یا اداسی کے ساتھ اس خیال سے کہ درویش اور مولوی اس کے خلاف ہیں، آخر ان لوگوں کا بھی کچھ درجہ اور مقام ہے، اور کچھ سمجھ کر ہی ان لوگوں نے حدیث کے خلاف کیا ہوگا؟ تو جان لینا چاہیے کہ اللہ کے رسول ﷺ ان سے ناراض ہیں، اور ان کا کوئی ٹھکانہ نہیں جس سے آپ ﷺ ہی ناراض ہوگئے اور بالفرض سارے زمانے کے مولوی یا درویش ہم سے خوش بھی ہوئے تو ہم ان کی خوشی کو کیا کریں گے، وہ خوش ہوں یا ناخوش ہوں ہمارے آقا، ہمارے مولیٰ ہمارے رسول ہم سے خوش رہیں تو ہمارا بیڑا پار ہے، یا اللہ مرتے ہی ہمیں ہمارے رسول اور آل و اصحاب رسول سے ملا دے، ہم دنیا میں بھی ان ہی کے پیرو تھے، عالم برزخ اور آخرت میں بھی ان ہی کی جوتیوں کے پاس رہنا چاہتے ہیں، نہ دنیا میں ہم کو کسی سے مطلب تھا، نہ عقبیٰ (آخرت) میں ہمیں کسی اور کا ساتھ چاہیے۔ اگر جنت میں جانے کا ارادہ ہے تو محمد ﷺ کی غلامی کا پٹہ گردن میں پہن لو۔ مسلک سنت پہ سالک تو چلا چل بےڈھرک جنت الفردوس کو سیدھی گئی ہے یہ سڑک۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٩٠٧، ومصباح الزجاجة: ١٠٤٦)، وقد أخرجہ: (٤/٢٨٦) (ضعیف) (ابو بکر بن عیاش بڑھاپے کی وجہ سے سئی الحفظ (حافظہ کے کمزور) ہوگئے تھے، اور ابو اسحاق اختلاط کا شکار تھے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٤٧٥٣ )
اسماء بنت ابی بکر ؓ کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ احرام باندھ کر نکلے تو آپ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کے ساتھ ہدی (قربانی کا جانور) ہو، وہ اپنے احرام پر قائم رہے، اور جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ احرام کھول کر حلال ہوجائے اور میرے ساتھ ہدی کا جانور نہیں تھا چناچہ میں نے احرام کھول دیا، اور زبیر ؓ کے ساتھ ہدی کا جانور تھا تو انہوں نے احرام نہیں کھولا، میں نے اپنا کپڑا پہن لیا، اور زبیر ؓ کے پاس آئی تو انہوں نے کہا: میرے پاس سے چلی جاؤ، میں نے کہا: کیا آپ ڈرتے ہیں کہ میں آپ پر کود پڑوں گی؟۔
It was narrated that Asma bint Abi Bakr said: "We went out with the Messenger of Allah ﷺ in lhram. The Prophet ﷺ said: Whoever has a sacrificial animal with him, let him remain in Ihram. Whoever does not have a sacrificial animal with him, let him exit Ihram. She said: I did not have a sacrificial animal with me, so I exited Ihriim, but Zubair had a sacrificial animal with him, so he did not exit Ihriim. So I put on my regular clothes and came to Zubair, and he said: Go away from me. I said: Are you afraid I am going to jump on you?" (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٢٩ (١٢٣٦)، سنن النسائی/الحج ١٨٦ (٢٩٩٥)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٥١) (صحیح )
بلال بن حارث ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حج کو فسخ کر کے عمرہ کرلینا صرف ہمیں لوگوں کے لیے خاص ہے یا سارے لوگوں کے لیے عام ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (نہیں) بلکہ صرف ہمیں لوگوں کے لیے خاص ہے ۔
It was narrated from Harith bin Bilal (RA) bin Harith, that his father said: "I said: O Messenger of Allah, do you think that this cancellation of Hajj and it being replaced with Umrah is only for us, or for all people? The Messenger of Allah ﷺ said: No,It is only for us. (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٢٥ (١٨٠٨)، سنن النسائی/الحج ٧٧ (٢٨١٠)، (تحفة الأشراف: ٢٠٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٦٩)، سنن الدارمی/المناسک ٣٧ (١٨٩٧) (ضعیف) (حارث لین الحدیث ہیں، اور ان کی یہ روایت صحیح روایات کے خلاف ہے، اس لیے منکر ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ١٥٨٦ )
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ حج تمتع اصحاب محمد ﷺ کے لیے خاص تھا۔
It was narrated that Abu Dharr (RA) said: "Tamattu in Hajj was for the Companions of Muhammad specifically." (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٢٣ (١٢٢٤)، موقوفاً، سنن النسائی/الحج ٧٧ (٢٨١١، ٢٨١٢، ٢٨١٣)، (تحفة الأشراف: ١١٩٩٥) (صحیح) (موقوف صحیح ہے، لیکن سابقہ حج کو فسخ کر کے عمرہ میں بدل (دینے والی احادیث کے خلاف ہے )
عروہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے کہا: صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کرنے میں اپنے اوپر میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتا، آپ نے کہا: اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے: إن الصفا والمروة من شعائر الله فمن حج البيت أو اعتمر فلا جناح عليه أن يطوف بهما صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں، اور جو حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر گناہ نہیں، ان دونوں کی سعی کرنے میں اگر بات ویسی ہوتی جو تم کہتے ہو تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا: فلا جناح عليه أن يطوف بهما اگر سعی نہ کرے تو (اس پر گناہ نہیں ہے) بات یہ ہے کہ یہ آیت انصار کے کچھ لوگوں کے بارے میں اتری ہے، وہ جب لبیک پکارتے تو منات (جو عربوں کا مشہور بت تھا) کے نام سے پکارتے، ان (کے اپنے اعتقاد کے مطابق ان کے) کے لیے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا حلال نہ تھا تو جب وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کے لیے آئے تو انہوں نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: إن الصفا والمروة صفا اور مروہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، ان کے درمیان سعی کرنا گناہ نہیں (جیسا کہ تم اسلام سے پہلے سمجھتے تھے) اور قسم ہے کہ جس نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کی، اللہ تعالیٰ نے اس کا حج پورا نہیں کیا ١ ؎۔
It was narrated that Hisham bin Urwah said: "My father told me:said to !ushah: "I do not think there is any sin on me if I do not perform Tawaf. I between Safa and Marwah." She said: "Allah says: Verily, Safa and Marwah are of the Symbols of Allah. So it is not a sin on him who performs Hajj or Umrah of the House to y,perform Tuwaf between them. If the matter were as you say, then it would have said, it is not a sin on him to not perform the Say between them. Rather this was revealed concerning some people among the Ansiir who previously, when they stated the Talbiyaih, they used to recite it for Mandt, and it was not lawful to them to perform Sny between Sata and Marwah. When they arrived with the Prophet ﷺ for. Hajj, they entioned that to him, and Allah :vealed this Verse. By Allah, will not accept the Hajj as complete if one who does not perform Say between Safa and Marwah. " (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: تو سعی واجب ہے اور ارکان حج میں سے ہے، مالک، احمد، اسحاق، ابو ثور اور اہل حدیث وغیرہ کا یہی قول ہے۔
شیبہ کی ام ولد ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرتے دیکھا، آپ فرما رہے تھے: ابطح کو دوڑ ہی کر طے کیا جائے ١ ؎۔
It was narrated that an Umm Walad of Shaibah Said: I saw the Messenger of Allah ﷺ performing Say between Safa and Marwah saying: The valley should not be crossed except quickly. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: ام ولد: ایسی لونڈی جس نے اپنے مالک کے بچہ کو جنا ہو۔ ابطح: صفا اور مروہ کے درمیان ایک مقام ہے، اب وہاں دو ہرے نشان بنا دئیے گئے ہیں، وہاں دوڑ کر سعی کرنی چاہیے یہ ہاجرہ (علیہا السلام) کی سنت ہے، وہ پانی کی تلاش میں یہاں سات بار دوڑی تھیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الحج ١٧٧ (٢٩٨٣)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٠٤، ٤٠٥) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ اگر میں صفا اور مروہ کے درمیان دوڑوں تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دوڑتے ہوئے دیکھا ہے، اور اگر میں عام چال چلوں تو میں نے آپ کو ایسا بھی چلتے دیکھا ہے، اور میں بہت بوڑھا ہوں ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umar said: "If I go quickly between Safa and Marwah, that is because I saw the Messenger of Allah ﷺ i going quickly, and if I walk that is because I saw the Messenger of Allah ﷺ walking, even though I am an old man." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن عمر ؓ کے قول کا یہ مطلب ہے کہ دوڑنا اور معمولی چال سے چلنا دونوں طرح سنت ہے، اور اگر چلنا سنت بھی ہو تب بھی چلنے میں میرے لیے حرج نہیں، اس لیے کہ میں ناتواں بوڑھا ہوں۔
طلحہ بن عبیداللہ ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: حج جہاد ہے، اور عمرہ نفل ہے ۔
It was narrated from Talhah bin Ubaidullah that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: "Hajj is Jihad and Umran is voluntary." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٩٤، ومصباح الزجاجة: ١٠٤٧) (ضعیف) (عمر بن قیس اور حسن بن یحییٰ ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٢٠٠ )
عبداللہ بن ابی او فی ؓ کہتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ ﷺ نے عمرہ کیا ہم آپ کے ساتھ تھے، آپ نے طواف کیا، اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ طواف کیا، آپ نے نماز پڑھی، ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی، اور ہم مکہ والوں سے آپ کو آڑ میں کیے رہتے تھے کہ وہ آپ کو کوئی اذیت نہ پہنچا دیں۔
IsmaiI narrated: "I heard Abdullah bin Abu Awfa say: We are with the Messenger of Allah ﷺ when he performed Umrah, He performed Tawaf and we performed Tawaf with him. He prayed and we prayed with him, and we were shielding him from the people of Makkah lest anyone harm him. (Sahih)
ہرم بن خنبش ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رمضان میں عمرہ (کا ثواب) حج کے برابر ہے ۔
It was narrated from Harim bin Khanbash that the Messenger of Allah ﷺ said: Umrah during Ramadan is equivalent to Hajj (i.e., in reward)." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٧٢٨، مصباح الزجاجة: ١٠٤٩)، وقدأخرجہ: مسند احمد (٤/١٧٧، ١٨٦) (صحیح) (پہلی سند سے صحیح ہے، دوسری سند میں دادو بن یزید ضعیف راوی ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جتنے عمرے کیے ہیں، ماہ ذی قعدہ ہی میں کیے ہیں۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ did not perfonn any Umrah except in DhuI-Qadah." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٩٥٩، ومصباح الزجاجة: ١٠٥٠)، و قد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج ٧ (٨١٦)، مسند احمد (١/٢٤٦) (صحیح) (اس سند میں محمد بن عبدالرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف راوی ہیں، لیکن دوسرے شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ١٧٣٩ )