حمید بن ابی سو یہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ہشام کو عطاء بن ابی رباح سے رکن یمانی کے متعلق سوال کرتے ہوئے سنا، اور وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، تو عطاء نے کہا: مجھ سے ابوہریرہ ؓ نے حدیث بیان کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: رکن یمانی پر ستر فرشتے متعین ہیں جو کوئی اللهم إني أسألک العفو والعافية في الدنيا والآخرة ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت میں مغفرت اور عافیت طلب کرتا ہوں، اے ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی سے نواز، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا کہتا ہے تو فرشتے آمین کہتے ہیں، پھر جب عطاء حجر اسود کے پاس پہنچے تو ابن ہشام نے کہا: ابو محمد! اس حجر اسود کے بارے میں آپ کو کیا بات پہنچی ہے؟ عطاء نے کہا: مجھ سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو اس کو چھوتا ہے وہ گویا رحمن کا ہاتھ چھو رہا ہے ۔ ابن ہشام نے ان سے کہا: ابو محمد! طواف یعنی اس کے متعلق آپ کو کیا معلوم ہے؟ عطاء نے کہا: مجھ سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جو خانہ کعبہ کے سات چکر لگائے اور سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولاقوة إلا بالله کے علاوہ کوئی بات نہ کرے، تو اس کی دس برائیاں مٹا دی جائیں گی، اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، اور اس کے دس درجے بڑھا دئیے جائیں گے، اور جو طواف کرے اور بات کرے تو اس کے پاؤں رحمت میں ڈوبے ہوئے ہوں گے، جیسے پانی میں داخل ہونے والے کے پاؤں پانی میں ڈوبے رہتے ہیں۔
Humaid bin Abu Sawiyyah said: I heard fun Hisham asking ,Ata bin Abu Rabah about the Yemenite Corner, when he was performing Tawaf around the House. Ata said: Abu Hurairah (RA) told me that the Prophet ﷺ said: "Seventy angels have been appointed over it. Whoever says: (O Allah I ask You for pardon and well-being in this world and in the Hereafter. Our Lord, give us good in this world and good in the Hereafter and protect us from the torment of the Fire), they say: Ami"." When he reached the Black Comer (where the Black Stone is), he said: a Abu Muhammad ﷺ ! What have you heard about this Black Corner? Ata said: Abu Hurairah (RA) told me that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: "Whoever faces it is facing the Hand of the Most Merciful. " Ibn Hisham said to him: a Abu Muhammad, what about TltWap. Ata said: Abu Hurairah (RA) told me that he heard the Prophet ﷺ say: "Whoever performs Tawa! Around the House seven times and does not say anything except: Subhan Allah wal-hamdu lillah, wa la ilaha illallah wa Allah" Akbar, wa la hawla wa la quwwata illa billah (Glory is to Allah, praise is to Allah, none has the right to be worshipped but Allah, and there is no power nor strength except with Allah), ten bad deeds will be erased from him, ten merits will be recorded for him, and he will be raised ten degrees in status. Whoever performs Tauidf and talks when he is in that situation, is wading in mercy like one who wades in water." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤١٧٤، ومصباح الزجاجة: ١٠٣٨) (ضعیف) (سند میں حمید مجہول، اور اسماعیل بن عیاش غیر شامی رواة سے روایت میں ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: المشکاة: ٢٥٩٠ )
مطلب بن ابی وداعہ سہمی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا جب آپ اپنے ساتوں پھیروں سے فارغ ہوئے حجر اسود کے بالمقابل آ کر کھڑے ہوئے، پھر مطاف کے کنارے میں دو رکعتیں پڑھیں اور آپ کے اور طواف کرنے والوں کے بیچ میں کوئی آڑ نہ تھی۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ (بغیر سترہ کے نماز پڑھنا) مکہ کے ساتھ خاص ہے۔
It was narrated that Muttalib said: "When he finished seven (circuits of Tawaf, I saw the Messenger of Allah ﷺ come until he was parallel with the Comer, then he prayed two Rakah at the edge of the Mata! (area for Tawaf, and there was nothing between him and the people who were performing Tawaf" (Daif) Ibn Majah said: This is in Makkah specifically.
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٨٩ (٢٠١٦)، سنن النسائی/القبلة ٩ (٧٥٩)، الحج ١٦٢ (٢٩٦٢)، (تحفة الأشراف: ١١٢٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٩٩) (ضعیف) (سند میں کثیر بن مطلب مجہول راوی ہیں، نیز سند میں بھی اختلاف ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٩٢٨ )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آ کر بیت اللہ کا سات بار طواف کیا، پھر طواف کی دونوں رکعتیں پڑھیں۔ وکیع کہتے ہیں: یعنی مقام ابراہیم کے پاس، پھر آپ ﷺ صفا پہاڑی کی طرف نکلے۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ came and performed Tawaf around the House seven times, then he prayed two Rakohs Waki said: "Meaning, at the Maqam then he went out to Safa," (Sahih)
جابر ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ بیت اللہ کے طواف سے فارغ ہوئے تو مقام ابراہیم کے پاس آئے، عمر ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ہمارے باپ ابراہیم کی جگہ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى مقام ابراھیم کو نماز کی جگہ بناؤ، ولید کہتے ہیں کہ میں نے مالک سے کہا: کیا اس کو اسی طرح (بکسر خاء) صیغہ امر کے ساتھ پڑھا؟ انہوں نے کہا: ہاں ١ ؎۔
It was narrated that Jabir said: "When Allahs Messenger finished circumambulating the House, he came to Maqfim Ibrahim. Umar said: O Messenger of Allah, this is the Maqam of our father Ibrahim, about which Allah says, "And take you (people) the Maqam (place) of Ibrahim as a place of prayer. (Sahih) (One of the narrators) Walid said: "I said to Malik: "This is how he recited it: "And take you"? He said: Yes.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہی قراءت مشہور ہے، اور بعضوں نے واتخَذوا خاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، یہ صیغہ ماضی یعنی انہوں نے مقام ابراہیم کو مصلیٰ بنایا۔
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ وہ بیمار ہوئیں تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کرنے کا حکم دیا، تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو بیت اللہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے دیکھا، آپ ﷺ سورة والطور وکتاب مسطور کی قرات فرما رہے تھے۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت ہے۔
It was narrated from Umm Salamah that she fell sick, so the Messenger of Allah ﷺ told her to perform Tawaf from behind the people, riding. She Said:I saw the Messenger of Allah ﷺ praying facing the House, and reciting: "By the Tur (Mount), And by the Book Inscribed .Ibn Majah said: This is the narration of Abu Bakr.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بیماری اور کمزوری کی حالت میں سوار ہو کر طواف کرنا درست ہے، آج کل بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے سواری پر طواف کرنا بڑا مشکل بلکہ ناممکن ہے، اس لیے اس کی جگہ پر مخصوص لوگ حجاج کو چارپائی پر بٹھا کر طواف کراتے ہیں۔
شعیب کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے دادا) عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کے ساتھ طواف کیا، جب ہم سات پھیروں سے فارغ ہوئے، تو ہم نے کعبہ کے پیچھے طواف کی دو رکعتیں ادا کیں، میں نے کہا: کیا ہم جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ نہ چاہیں؟ انہوں نے کہا: میں جہنم سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، شعیب کہتے ہیں: پھر عبداللہ بن عمرو ؓ نے چل کر حجر اسود کا استلام کیا، پھر حجر اسود اور باب کعبہ کے درمیان کھڑے ہوئے، اور اپنا سینہ، دونوں ہاتھ اور چہرے کو اس سے چمٹا دیا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔
Amr bin Shuaib narrated from his father that his grandfather said: "I performed Tawaf with Abdullah bin Amr, and When we had finished seven (circuits),We prayed two Rakah at the back of the Ka’bahh. I said: Why do you not seek refuge with Allah from the Fire? He said: I seek refuge with Allah from the Fire. Then he went and touched the Comer, then he stood between the (Black) Stone and the door (of the Ka’bahh) and clung with his chest, hands and cheek against it. Then he said: I saw the Messenger of Allah ﷺ do this." (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/المناسک ٥٥ (١٨٩٩)، (تحفة الأشراف: ٨٧٧٦) (حسن) (سند میں مثنی بن الصباح ضعیف ہیں، لیکن متابعت اور شواہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢١٣٨ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج کرنا تھا، جب ہم مقام سرف میں تھے یا سرف کے قریب پہنچے تو مجھے حیض آگیا، رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے، میں رو رہی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ کیا حیض آگیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تو ایسی چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں پر لکھ دیا ہے، تم حج کے سارے اعمال ادا کرو، البتہ خانہ کعبہ کا طواف نہ کرنا اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "We went out with the Messenger of Allah ﷺ intending only to perform Hajj. When we were in Sarif or close to Sar if, my menses came. The Messenger of Allah ﷺ entered upon me when I was weeping. He said: What is the matter with you? Have your menses come? I said: Yes. He said: This is some thing that Allah "-has decreed for the daughters of Adam. Do all the rites, but do not circumambulate the House. She said:. "And the Messenger of Allah ﷺ sacrificed a cowan behalf of his wives." (Sahih)
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حج افراد کیا۔
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah ﷺ performed Hajj Ifrad (Single Hajj). (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٦٣٨، ومصباح الزجاجة: ١٠٤٠) (صحیح) (ام المومنین عائشہ ؓ سے اور دوسرے صحابہ کرام ؓ سے یہ ثابت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے حج قران کیا، نیز ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: ٣٧١ )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ کی طرف نکلے، میں نے آپ کو حج اور عمرہ کا ایک ساتھ تلبیہ پکارتے ہوئے سنا ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "We went out with the Messanger of Allah ﷺ to Makkah, and I heard him. say: L abaika Umratan Wa hajjatan tere i am (O Allah), for Umran and Hajj. " (Sahih)
صبی بن معبد کہتے ہیں کہ میں نصرانی تھا، پھر اسلام لے آیا اور حج و عمرہ دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا، سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان نے مجھے قادسیہ میں عمرہ اور حج دونوں کا تلبیہ ایک ساتھ پکارتے ہوئے سنا، تو دونوں نے کہا: یہ تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ نادان ہے، ان دونوں کے اس کہنے نے گویا میرے اوپر کوئی پہاڑ لاد دیا، میں عمر بن خطاب ؓ کے پاس آیا، اور ان سے اس کا ذکر کیا، وہ ان دونوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ملامت کی، پھر میری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم نے نبی اکرم ﷺ کی سنت کو پایا، تم نے نبی اکرم ﷺ کی سنت کو پایا ١ ؎۔ ہشام اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ شقیق کہتے ہیں: میں اور مسروق دونوں صبی بن معبد کے پاس اس حدیث کے متعلق پوچھنے باربار گئے۔
It was narrated that Abdah bin Abu Lubabah said: "I heard Abu Wail, Shaqiq bin Salamah, say: I heard Subai bin Mabad say: "I was a Christian man, then I became Muslim and entered Ihram for Hajj and Umrah. Salman bin Rebi ah and Zaid bin Suhan heard me when I was entering lhram for them both together at Qadisiyyah. They said: This man is more lost than his camel! It was as if they had heaped a mountain on me with their words. I went to Umar bin Khattab and told him about that. He turned to them and reproached them, then he turned to me and said: You have been guided to the Sunnah of the Prophet ﷺ a you have been guided to the Sunnak of the Prophet ﷺ s.” (Sahih) In his narration Hishâm said: “Shaqiq said: ‘I often went myself and Masruq, to ask him about that.” Another chain that Shaqiq narrated, that Subai bin Ma’bad said: “I had recently been a Christian and was new in Islam. So I was trying my best (to understand the rulings of Islam). I entered Ihrâm for Hajj and ‘Umrah (together).” Then he mentioned a similar report.
Notes · وضاحت
١ ؎: عمر ؓ کا یہ فرمانا اس بنا پر تھا کہ سلمان اور زید ؓ حج قران کو مکروہ سمجھ رہے تھے جب کہ وہ سنت رسول ہے۔
صبی بن معبد نے کہا: مجھے نصرانیت سے اسلام قبول کیے ہوئے تھوڑی ہی مدت گزری تھی، میں نے عبادت کو بجا لانے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی، میں نے حج اور عمرہ دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا، پھر انہوں نے یہ حدیث اسی طرح بیان کی ہے جیسے اوپر گزری۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ مجھے ابوطلحہ ؓ نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے حج اور عمرہ دونوں کو ملایا یعنی قران کیا۔
It was narrated that Ibn ‘Abbâs said: “Abu Talhah told me that the Messenger of Allah ﷺ performed Hajj and ‘Umrah together (Qirãn).” (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٧٨٠، ومصباح الزجاجة: ١٠٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٨، ٢٩) (صحیح) (سند میں حجاج بن أرطاہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ١٥٧٥ ، ١٥٧٦ )
جابر بن عبداللہ، عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ جب مکہ آئے تو انہوں نے حج اور عمرہ دونوں کے لیے ایک ہی طواف کیا ١ ؎۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah, Ibn Umar and Ibn Abbas that when the Messenger of Allah ﷺ and his Companions came (to Makkah) to perform their Hajj and Umrah, they only performed Tawaf once. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں طواف سے مراد سعی ہے، متمتع پر صفا ومروہ کی دو سعی واجب ہیں جب کہ قارن کے لیے صرف ایک سعی کافی ہے خواہ طواف قدوم (زیارت) کے بعد کرے یہی مسئلہ مفرد حاجی کے لیے بھی ہے، واضح رہے کہ بعض حدیثوں میں سعی کے لیے بھی طواف کا لفظ وارد ہوا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٤٧٩، ومصباح الزجاجة: ١٠٤٣) (صحیح) (سند میں میں لیث بن أبی سلیم ضعیف اور مدلس ہیں، لیکن آگے کی حدیثوں سے یہ صحیح ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ حج قران کا احرام باندھ کر آئے، اور خانہ کعبہ کے سات چکر لگائے، پھر صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی اور کہا: اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے۔
It was narrated from Ibn Umar that he came (to Makkah) to perform Hajj and Umrah together (Qiran). He circumambulated the House seven times, and performed Say between Safa and Marwah then he said: "This is what the Messenger of Allah ﷺ did " (Sahih)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تو ان دونوں کے لیے اسے ایک ہی سعی کافی ہے، اور وہ احرام نہ کھولے جب تک حج کو پورا نہ کرلے، اور اس وقت ان دونوں سے ایک ساتھ احرام کھولے گا۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever enters Ihram for Hajj and Umrah, one Tuwaf is sufficient for both, and he should not exit Ihram until he has completed his Hajj, when he should exit lhriim for both." (Sahih)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ١٠٢ (٩٤٨)، (تحفة الأشراف: ٨٠٢٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٦٧)، سنن الدارمی/النسک ٢٩ (١٨٨٦) (صحیح )
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو وادی عقیق ١ ؎ میں فرماتے سنا: میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا، اور اس نے کہا: اس مبارک وادی میں نماز پڑھو اور کہو: یہ عمرہ ہے حج میں (یہ الفاظ دحیم کے ہیں) ۔
Umar bin Khattab said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say, when he was in "Aqiq: "Someone came to me from my Lord and said: Pray in this blessed valley and say: (I intend to do) Umran in Hajj. (Sahih) This is the wording of (one of the narrators) Duhaim. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: عقیق: مسجد نبوی سے چار میل (تقریباً ساڑھے چھ کلو) کی دوری پر ایک وادی ہے اور اب شہر کا ایک حصہ ہے۔ یہ جملہ وقل: عمرة في حجة احادیث میں تین طرح سے وارد ہے، مسکین کی روایت میں جسے انہوں نے اوزاعی سے روایت کیا ہے قال: عمرة في حجة ماضی کے صیغے کے ساتھ ہے اور ولید بن مسلم اور عبدالواحد کی روایت میں وقل: عمرة في حجة امر کے صیغے کے ساتھ ہے اور بخاری کی روایت میں وقل: عمرة و حجة ہے عمرة اور حجة کے درمیان واو عاطفہ کے ساتھ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٦ (١٥٣٤)، سنن ابی داود/الحج ٢٤ (١٨٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٥١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٤) صحیح )