وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک عورت کے ساتھ جبراً بدکاری کی گئی، آپ ﷺ نے اس عورت پر حد نہیں لگائی بلکہ اس شخص پر حد جاری کی جس نے اس کے ساتھ جبراً بدکاری کی تھی، اس روایت میں اس کا تذکرہ نہیں ہے کہ آپ ﷺ نے اسے مہر بھی دلایا ہو ١ ؎۔
It was narrated from Jabbar bin Wail that his father said. A woman was coerced (i-e raped) during the time of the Messenger of Allah. He waived the legal punishment for her and carried it out on the one who had attacked her, but he (the narrator) did not say that he ruled that she should be given bridal-money.”
Notes · وضاحت
١ ؎: اس پر اکثر علماء کا اتفاق ہے کہ جب کسی کو ایسے جرم پر مجبور کیا جائے جس پر حد ہے، تو اس مجبور پر حد جاری نہیں ہوگی بلکہ جبراً بدکاری کرنے والے پر حد جاری ہوگی۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحدود ٢٢ ( ١٤٥٣ )، (تحفة الأشراف: ١١٧٦٠ )، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٤ /٣١٨) (ضعیف) (حجاج بن أرطاہ مدلس ہیں، روایت عنعنہ سے کی ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٧/٤٤١ )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مساجد میں حدود نہ جاری کی جائیں ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said; "Do not carry out the legal punishments in the Masjids."
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ وہ ذکر، تلاوت اور نماز وغیرہ کی جگہ ہے، اس میں مار پیٹ سزا وغیرہ مناسب نہیں، کیونکہ چیخ و پکار سے مسجد کے احترام میں فرق آئے گا، نیز اس کے خون وغیرہ سے نجاست کا بھی خطرہ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدیات ٩ (١٤٠١)، (تحفة الأشراف: ٥٧٤٠)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الدیات ٦ (٢٤٠٢) (حسن) (اس کی سند میں اسماعیل بن مسلم مکی ضعیف ہے لیکن شواہد کی بناء پر حدیث حسن ہے )
ابوبردہ بن نیار انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: دس کوڑے سے زیادہ کسی کو نہ لگائے جائیں سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کوئی حد جاری کرنا ہو ۔
It was narrated from Abu Burdah bin Niyar that the Messenger of Allah ﷺ used to say. "No one should be given more than ten lashes, except in the case of one of the legal punishments of Allah."
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تعزیراً دس کوڑوں سے زیادہ کی سزا نہ دو ۔
It was narrated from Abu Hu;airah that the Messenger of Allah ﷺ said: “Do not punish with more than ten whips.”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٣٨١، ومصباح الزجاجة: ٩٢٠) (حسن) (سند میں عباد بن کثیر ثقفی اور اسماعیل بن عیاش دونوں ضعیف ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر حدیث حسن ہے )
عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے اگر کوئی ایسا کام کرے جس سے حد لازم آئے، اور اسے اس کی سزا مل جائے، تو یہی اس کا کفارہ ہے، ورنہ اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے ۔
It was narrated from Ubadahh bin Samit that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever among you undergoes a Hadd, his punishment has been brought forward, and it is an expiation for him, otherwise his case rests with Allah."
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے دنیا میں کوئی گناہ کیا، اور اسے اس کی سزا مل گئی، تو اللہ تعالیٰ اس بات سے زیادہ انصاف پسند ہے کہ بندے کو دوبارہ سزا دے، اور جو دنیا میں کوئی گناہ کرے، اور اللہ تعالیٰ اس کے گناہ پر پردہ ڈال دے، تو اللہ تعالیٰ کا کرم اس سے کہیں بڑھ کر ہے کہ وہ بندے سے اس بات پر دوبارہ مواخذہ کرے جسے وہ پہلے معاف کرچکا ہے ۔
It was narrated from Ali that the Messenger of Allah ﷺ said: “Whoever commits a sin in this world and is punished for it, Allah is too just to repeat the punishment for His slave (in the Hereafter). And whoever commits a sin in this world and Allah conceals him, Allah is too generous to go back to something that He has pardoned."
Notes · وضاحت
١ ؎: گذشتہ صحیح حدیثوں سے پتلا چلا کہ حدود کے نفاذ سے گناہ کا کفارہ ہوجاتا ہے، محققین علماء کا یہی قول ہے، لیکن بعض علماء نے کہا کہ حد سے گناہ معاف نہیں ہوتا بلکہ گناہ کی معافی کے لئے توبہ درکار ہے اور اس کی کئی دلیلیں ہیں: ایک یہ کہ ڈکیتی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ذلک لهم خزي في الدنيا ولهم في الآخرة عذاب عظيم (سورة المائدة: 33) یعنی حد دنیا کی رسوائی ہے، اور آخرت میں ان کو دردناک عذاب ہے، دوسرے یہ کہ ایک روایت میں ہے: میں نہیں جانتا حدود کفارہ ہیں یا نہیں، تیسرے یہ کہ ابوامیہ مخزومی کی حدیث میں گزرا کہ آپ ﷺ نے جب چور کا ہاتھ کاٹا گیا تو اس سے کہا: اللہ سے استغفار کر اور توبہ کر۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الإیمان ١١ (٢٦٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٠٣١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٩٩، ١٥٩) (ضعیف) (سند میں حجاج بن محمد مصیصی ہیں، جو بغداد آنے کے بعد اختلاط کا شکار ہوگئے، اور ہارون بن عبد اللہ الحمال ان کے شاگرد بغدادی ہیں، اس لئے ان کی روایت حجاج سے اختلاط کی وجہ سے ضعیف ہے )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ ؓ نے پوچھا: اللہ کے رسول! آدمی اگر اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہیں سعد ؓ نے کہا: کیوں نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کا اعزاز بخشا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگو! سنو تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے ؟ ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that Sad bin Ubadahh Al-Ansari said: "O Messenger of Allah, if a man finds another man with his wife, should he kill him?" The Messenger of Allah ﷺ said: “No.” Sa’d said: "Yes he should, by the One Who honored you with the Truth!" The Messenger of Allah ﷺ said: “Listen to what your leader says!”.
Notes · وضاحت
١ ؎: دوسری روایت میں ہے: میں اس سے زیادہ غیرت رکھتا ہوں، اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت والا ہے، آپ ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ سعد کا یہ کہنا بظاہر غیرت کی وجہ سے معلوم ہوتا ہے مگر مجھ کو اس سے زیادہ غیرت ہے، اور اللہ تعالیٰ کو مجھ سے بھی زیادہ غیرت ہے، اس پر بھی اللہ نے جو شریعت کا حکم اتارا اسی پر چلنا بہتر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللعان ١ (١٤٩٨)، سنن ابی داود/الدیات ١٢ (٤٥٣٢)، (تحفة الأشراف: ١٢٦٩٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة ١٩ (١٧)، الحدود ١ (٧) (صحیح )
سلمہ بن محبق ؓ کہتے ہیں کہ جب حدود کی آیت نازل ہوئی تو سعد بن عبادہ ؓ سے جو ایک غیرت مند شخص تھے، پوچھا گیا: اگر آپ اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائیں تو اس وقت آپ کیا کریں گے؟ جواب دیا: میں تلوار سے ان دونوں کی گردن اڑا دوں گا، کیا میں چار گواہ ملنے کا انتظار کروں گا؟ اس وقت تک تو وہ اپنی ضرورت پوری کر کے چلا جائے گا، اور پھر میں لوگوں سے کہتا پھروں کہ فلاں شخص کو میں نے ایسا اور ایسا کرتے دیکھا ہے، اور وہ مجھے حد قذف لگا دیں، اور میری گواہی قبول نہ کریں، پھر سعد ؓ کی اس بات کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ سے کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: (غلط حالت میں) تلوار سے دونوں کو قتل کردینا ہی سب سے بڑی گواہی ہے ، پھر فرمایا: نہیں میں اس کی اجازت نہیں دیتا، مجھے اندیشہ ہے کہ اس طرح غیرت مندوں کے ساتھ متوالے بھی ایسا کرنے لگیں گے۔ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوزرعہ کو کہتے سنا ہے کہ یہ علی بن محمد طنافسی کی حدیث ہے، اور مجھے اس میں کا کچھ حصہ یاد نہیں رہا۔
It was narrated that Salamah bin Muhabbiq said: “When the verse of legal punishments was revealed, it was said to Abu Thiibit, Sad bin Ubadahh, who was a jealous man: If you found another man with your wife, what would you do? He said: I would strike them both with the sword; do you think I should wait until I bring four (witnesses) and he has satisfied himself and gone away? Or should I say I saw such and such, and you will carry out the legal punishment on me (for slander) and never accept my testimony thereafter? Mention of that was made to the Prophet ﷺ and he said: The sword is sufficient as a witness. Then he said: “No, (on second thought) I am afraid that the drunkard and the jealous would pursue that.”
Notes · وضاحت
١ ؎: عورت کے ساتھ غیر مرد کو برے کام میں دیکھنے پر نبی اکرم ﷺ نے اس کے قتل کی اجازت نہ دی، پس اگر کوئی قتل کرے تو وہ قصاص میں قتل کیا جائے گا، لیکن اگر اپنے بیان میں سچا ہوگا تو آخرت میں اس سے مواخذہ نہ ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٥٦٢، ومصباح الزجاجة: ٩٢١) (ضعیف) (قبیصہ بن حریث ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٩١ ٤٠ )
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ میرے ماموں کا گزر میرے پاس سے ہوا (راوی حدیث ہشیم نے ان کے ماموں کا نام حارث بن عمرو بتایا) نبی اکرم ﷺ نے ان کو ایک جھنڈا باندھ دیا تھا، میں نے ان سے پوچھا: کہاں کا قصد ہے؟ انہوں نے عرض کیا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے ایسے شخص کے پاس روانہ کیا ہے جس نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد اس کی بیوی (یعنی اپنی سوتیلی ماں) سے شادی کرلی ہے، اور آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔
It was narrated that Bara bin Azib (RA) said: "My maternal uncle passed by me - (one of the narrators) Hushaim named him in his narration as Harith bin Amr - and the Prophet ﷺ had given him a banner to carry. I said to him: Where are you going? He said: The Messenger of Allah ﷺ has sent me to a man who married his fathers wife after he died, and has commanded me to strike his neck (i.e., execute him)."
قرہ بن ایاس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایسے شخص کے پاس بھیجا جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کرلی تھی، تاکہ میں اس کی گردن اڑا دوں اور اس کا سارا مال لے لوں ١ ؎۔
It was narrated from Mu awiyah bin Qurrah that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ sent me to a man who had married his father’s wife after he died, to strike his neck (execute him) and confiscate his wealth.”
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلامی شریعت میں مالی تعزیر درست ہے، اوپر سرقہ کے باب میں گزر چکا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس سے دوگنی قیمت لی جائے گی، اور بعضوں نے کہا کہ یہ شخص مرتد ہوگیا تھا تو آپ ﷺ نے اس کے قتل کا حکم دیا، اس لئے کہ حد زنا میں مال ضبط نہیں ہوتا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٠٨٢، ومصباح الزجاجة: ٩٢٢) (حسن صحیح) (سند میں خالد بن أبی کریمہ صدوق ہیں، لیکن حدیث کی روایت میں خطا اور ارسال کرتے ہیں، لیکن حدیث براء بن عازب ؓ کے شاہد کی وجہ سے صحیح ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اپنے کو اپنے والد کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرے، یا (کوئی غلام یا لونڈی) اپنے مالک کے بجائے کسی اور کو مالک بنائے تو اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی اس پر لعنت ہے ۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: “Whoever claims to belong to someone other than his father, or (a freed slave) who claims that his Wala is for other than his real master, the curse of Allah, the angels and all the people will be upon him.”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٥٤٠، ومصباح الزجاجة: ٩٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٠٩، ٣١٧، ٣٢٨) (صحیح) (سند میں محمد بن أبی الضیف مستور ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے )
سعد اور ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ میرے کانوں نے سنا، اور میرے دل نے یاد رکھا کہ محمد ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے آپ کو اپنے والد کے علاوہ کی طرف منسوب کرے، جب کہ وہ جانتا ہو کہ وہ اس کا والد نہیں ہے، تو ایسے شخص پر جنت حرام ہے ۔
It was narrated that Abu Uthman Nahdi said: "I heard Sad and Abu Bakrah both say that they heard directly from Muhammad saying it and memorized: “Whoever claims to belong to someone other than his father knowing that he is not his father, Paradise will be forbidden to him.”
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنا والد کسی اور کو بتائے، وہ جنت کی خوشبو نہیں سونگھ سکے گا، حالانکہ اس کی خوشبو پانچ سو سال کی مسافت سے محسوس ہوتی ہے ۔
It was narrated from Abdullah bin Amr that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever claims to belong to someone other than his father will not smell the fragrance of Paradise, even though its fragrance may be detected from a distance of five hundred years."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٩٢٢، ومصباح الزجاجة: ٩٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٧١، ٩٤) (ضعیف) (سند میں عبدالکریم بن ابی المخارق ضعیف ہیں، اور سبعین عاماً کے لفظ سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: ٣٦٠ )
اشعث بن قیس ؓ کہتے ہیں کہ میں قبیلہ کندہ کے وفد میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، وہ لوگ مجھے سب سے بہتر سمجھتے تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ لوگ ہم میں سے نہیں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہم نضر بن کنانہ کی اولاد ہیں، نہ ہم اپنی ماں پر تہمت لگاتے ہیں، اور نہ اپنے والد سے علیحدہ ہوتے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں: اشعث بن قیس ؓ کہا کرتے تھے کہ میرے پاس اگر کوئی ایسا شخص آئے جو کسی قریشی کے نضر بن کنانہ کی اولاد میں سے ہونے کا انکار کرے، تو میں اسے حد قذف لگاؤں گا۔
Muslim bin Haisam narrated from Ash ath bin Qais who said: "I came to the Messenger of Allah ﷺ with a delegation from Kinah and they thought that I was the best of them, I said: “O Messenger of Allah, are you not from among us? He said: We are the tribe of Banu Nadr bin Kinanah, and we do not attribute ourselves to our mother and we do not deny our forefathers.” He said: "Ash ath bin Qais used to say: “If any man is brought to me who suggests that a man fromQuraish does not belong to Nadr bin Kinanah, I would carry out the legal punishment (for slander) on him.”
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لئے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قریش نضر بن کنانہ کی اولاد ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفربہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦١، ومصباح الزجاجة: ٩٢٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٧٤، ٥/٢١١، ٢١٢) (حسن )
صفوان بن امیہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے کہ عمرو بن مرہ نے آ کر کہا: اللہ کے رسول! اللہ نے میرے مقدر میں بدنصیبی لکھ دی ہے، اور میرے لیے سوائے اپنی ہتھیلی سے دف بجا کر روزی کمانے کا کوئی اور راستہ نہیں، لہٰذا آپ مجھے ایسا گانا گانے کی اجازت دیجئیے جس میں فحش اور بےحیائی کی باتیں نہ ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نہ تو تمہیں اس کی اجازت دوں گا، نہ تمہاری عزت کروں گا، اور نہ تمہاری آنکھ ہی ٹھنڈی کروں گا، اے اللہ کے دشمن! تم نے جھوٹ کہا، اللہ تعالیٰ نے تمہیں پاکیزہ حلال روزی عطا کی تھی، لیکن تم نے اللہ تعالیٰ کی حلال کی ہوئی روزی کو چھوڑ کر اس کی حرام کی ہوئی روزی کو منتخب کیا، اگر میں نے تم کو اس سے پہلے منع کیا ہوتا تو (آج اجازت طلب کرنے پر) تجھے سزا دیتا، اور ضرور دیتا، میرے پاس سے اٹھو، اور اللہ تعالیٰ سے توبہ کرو، سنو! اگر تم نے اب منع کرنے کے بعد ایسا کیا تو میں تمہاری سخت پٹائی کروں گا، تمہارے سر کو مثلہ کر کے منڈوا دوں گا، تمہیں تمہارے اہل و عیال سے الگ کر دوں گا، اور اہل مدینہ کے نوجوانوں کے لیے تمہارے مال و اسباب کو لوٹنا حلال کر دوں گا ۔ یہ سن کر عمرو اٹھا، اس کی ایسی ذلت و رسوائی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ ہی اسے جانتا ہے، جب وہ چلا گیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ لوگ گنہگار ہیں، ان میں سے جو بلا توبہ کیے مرگیا، اللہ اسے قیامت کے روز اسی حالت میں اٹھائے گا جس حالت میں وہ دنیا میں مخنث اور عریاں تھا، اور وہ کپڑے کے کنارے سے بھی اپنا ستر نہیں چھپا سکے گا، جب جب کھڑا ہوگا گرپڑے گا۔
Safwan bin Umayyah said:"We were with the Messenger of Allah ﷺ and "Amr bin Murrah came and said: O Messenger of Allah, Allah has decreed that I be doomed, and He has not guided me to earn a living except by beating my tambourine with my hand; give me permission to sing without doing anything immoral. The Messenger of Allah ﷺ said: I will not give you permission, or honor you, nor give you what you want. You are lying, O enemy of Allah. Allah has granted you a good, lawful provision, but you have chosen the provision that Allah has forbidden to you Instead of that which He has permitted. If I had warned you before, I would have done such and such to you. Get away from me and repent to Allah. If you do that again, after this warning, I will give you a painful beating and shave your head, to make an example of you, and I will banish you from among your people, and tell the young men of AIMadinah to come and take your goods.” "Amr stood up, suffering grief and humiliation that is known only to Allah. When he went away, the Prophet ﷺ said: Those sinners, whoever among them dies without having repented, Allah will gather him on the Day of Resurrection just as he was in this world, effeminate and naked, with not even a piece of cloth to conceal him from the people. Every time he gets up, he will fall to the ground.”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٥٠، ومصباح الزجاجة: ٩٢٦) (موضوع) (بشر بن نمیر بصری ارکان کذب میں سے ہے )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس آئے، تو ایک مخنث کو عبداللہ بن ابی امیہ سے یہ کہتے سنا کہ اگر اللہ تعالیٰ کل طائف فتح کرا دے، تو میں تمہیں ایسی عورت کے بارے میں بتاؤں گا جو آگے کی طرف مڑتی ہے تو چار سلوٹیں پڑجاتی ہیں، اور پیچھے کی جانب مڑتی ہے تو آٹھ سلوٹیں ہوجاتی ہیں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ان (مخنثوں) کو اپنے گھروں سے نکال دو ١ ؎۔
It was narrated from Umm Salamah that the Prophet ﷺ entered upon her, and heard an effeminate man saying to Abdullah bin Abu Umayyah: "If Allah enables us to conquer Taif tomorrow, I will show you a woman who comes in on four (rolls of fat) and goes out on eight." The Prophet ﷺ said: “Throw them out of your houses.”
Notes · وضاحت
١ ؎: پہلے اس مخنث کو ام سلمہ ؓ نے یہ سمجھ کر اجازت دی ہوگی کہ وہ ان لوگوں میں سے ہے جن کو عورتوں کا خیال نہیں ہوتا جب آپ ﷺ نے دیکھا کہ وہ عورتوں کی خوبیوں اور خرابیوں کو سمجھتا ہے تو اس کے نکالنے کا حکم دیا، اس مخنث کا نام ہیت تھا، بعضوں نے کہا یہ مدینہ سے بھی نکال دیا گیا تھا، شہر کے باہر رہا کرتا تھا، عمر ؓ نے اپنی خلافت میں سنا کہ وہ بہت بوڑھا ہوگیا ہے، اور روٹیوں کا محتاج ہے تو ہفتہ میں ایک بار اس کو شہر میں آنے کی اجازت دی کہ بھیک مانگ کر واپس چلا جایا کرے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٥٦ (٤٣٢٤)، صحیح مسلم/السلام ١٣ (٢١٨٠)، سنن ابی داود/الأدب ٦١ (٤٩٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٩٠، ٣١٨) (ہذا الحدیث وقد مضی برقم: (١٩٠٣) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے خون کا فیصلہ کیا جائے گا ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: "The first matter concerning which judgment will be passed among the people on the Day of Resurrection will be bloodshed."
Notes · وضاحت
١ ؎: اور جس نے کسی کو ظلم سے قتل کیا ہوگا، اس کو سزا دی جائے گی۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب بھی کوئی شخص ناحق قتل کیا جاتا ہے، تو آدم (علیہ السلام) کے پہلے بیٹے (قابیل) پر بھی اس کے گناہ کا ایک حصہ ہوتا ہے، اس لیے کہ اس نے سب سے پہلے قتل کی رسم نکالی ۔
It was narrated from Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said. "No person is killed wrongfully, but a share of responsibility for his blood will be upon the first son of Adam, because he was the first one to kill.”
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے لوگوں کے درمیان خون کا فیصلہ کیا جائے گا ۔
It was narrated from Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said. "The first matter concerning which judgment will be passed among the people on the Day of Resurrection will be bloodshed."