Sunan Ibne-Majah 2605

حدود کا بیان

2605Sunan Ibne-Majah

مرد اپنی بیوی کے ساتھ اجنبی مرد کو پائے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَدِينِيُّ أَبُو عُبَيْدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْسُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ يَجِدُ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، قَالَ سَعْدٌ: بَلَى، وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِالْحَقِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْمَعُوا مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ ؓ نے پوچھا: اللہ کے رسول! آدمی اگر اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہیں سعد ؓ نے کہا: کیوں نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کا اعزاز بخشا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگو! سنو تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے ؟ ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that Sad bin Ubadahh Al-Ansari said: "O Messenger of Allah, if a man finds another man with his wife, should he kill him?" The Messenger of Allah ﷺ said: “No.” Sa’d said: "Yes he should, by the One Who honored you with the Truth!" The Messenger of Allah ﷺ said: “Listen to what your leader says!”.

Notes · وضاحت
١ ؎: دوسری روایت میں ہے: میں اس سے زیادہ غیرت رکھتا ہوں، اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت والا ہے، آپ ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ سعد کا یہ کہنا بظاہر غیرت کی وجہ سے معلوم ہوتا ہے مگر مجھ کو اس سے زیادہ غیرت ہے، اور اللہ تعالیٰ کو مجھ سے بھی زیادہ غیرت ہے، اس پر بھی اللہ نے جو شریعت کا حکم اتارا اسی پر چلنا بہتر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللعان ١ (١٤٩٨)، سنن ابی داود/الدیات ١٢ (٤٥٣٢)، (تحفة الأشراف: ١٢٦٩٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة ١٩ (١٧)، الحدود ١ (٧) (صحیح )