Sunan Ibne-Majah 2614

حدود کا بیان

2614Sunan Ibne-Majah

ہیجڑوں کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَمِعَ مُخَنَّثًا، وَهُوَ يَقُولُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، إِنْ يَفْتَحْ اللَّهُ الطَّائِفَ غَدًا، دَلَلْتُكَ عَلَى امْرَأَةٍ تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ، وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس آئے، تو ایک مخنث کو عبداللہ بن ابی امیہ سے یہ کہتے سنا کہ اگر اللہ تعالیٰ کل طائف فتح کرا دے، تو میں تمہیں ایسی عورت کے بارے میں بتاؤں گا جو آگے کی طرف مڑتی ہے تو چار سلوٹیں پڑجاتی ہیں، اور پیچھے کی جانب مڑتی ہے تو آٹھ سلوٹیں ہوجاتی ہیں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ان (مخنثوں) کو اپنے گھروں سے نکال دو ١ ؎۔

It was narrated from Umm Salamah that the Prophet ﷺ entered upon her, and heard an effeminate man saying to Abdullah bin Abu Umayyah: "If Allah enables us to conquer Taif tomorrow, I will show you a woman who comes in on four (rolls of fat) and goes out on eight." The Prophet ﷺ said: “Throw them out of your houses.”

Notes · وضاحت
١ ؎: پہلے اس مخنث کو ام سلمہ ؓ نے یہ سمجھ کر اجازت دی ہوگی کہ وہ ان لوگوں میں سے ہے جن کو عورتوں کا خیال نہیں ہوتا جب آپ ﷺ نے دیکھا کہ وہ عورتوں کی خوبیوں اور خرابیوں کو سمجھتا ہے تو اس کے نکالنے کا حکم دیا، اس مخنث کا نام ہیت تھا، بعضوں نے کہا یہ مدینہ سے بھی نکال دیا گیا تھا، شہر کے باہر رہا کرتا تھا، عمر ؓ نے اپنی خلافت میں سنا کہ وہ بہت بوڑھا ہوگیا ہے، اور روٹیوں کا محتاج ہے تو ہفتہ میں ایک بار اس کو شہر میں آنے کی اجازت دی کہ بھیک مانگ کر واپس چلا جایا کرے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٥٦ (٤٣٢٤)، صحیح مسلم/السلام ١٣ (٢١٨٠)، سنن ابی داود/الأدب ٦١ (٤٩٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٩٠، ٣١٨) (ہذا الحدیث وقد مضی برقم: (١٩٠٣) (صحیح )