جس پر زبردستی کی جائے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، وَأَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: اسْتُكْرِهَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَرَأَ عَنْهَا الْحَدَّ وَأَقَامَهُ عَلَى الَّذِي أَصَابَهَا وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُ جَعَلَ لَهَا مَهْرًا.
وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک عورت کے ساتھ جبراً بدکاری کی گئی، آپ ﷺ نے اس عورت پر حد نہیں لگائی بلکہ اس شخص پر حد جاری کی جس نے اس کے ساتھ جبراً بدکاری کی تھی، اس روایت میں اس کا تذکرہ نہیں ہے کہ آپ ﷺ نے اسے مہر بھی دلایا ہو ١ ؎۔
It was narrated from Jabbar bin Wail that his father said. A woman was coerced (i-e raped) during the time of the Messenger of Allah. He waived the legal punishment for her and carried it out on the one who had attacked her, but he (the narrator) did not say that he ruled that she should be given bridal-money.”