Sunan Ibne-Majah 2598

حدود کا بیان

2598Sunan Ibne-Majah

جس پر زبردستی کی جائے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، وَأَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: اسْتُكْرِهَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَرَأَ عَنْهَا الْحَدَّ وَأَقَامَهُ عَلَى الَّذِي أَصَابَهَا وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُ جَعَلَ لَهَا مَهْرًا.

وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک عورت کے ساتھ جبراً بدکاری کی گئی، آپ ﷺ نے اس عورت پر حد نہیں لگائی بلکہ اس شخص پر حد جاری کی جس نے اس کے ساتھ جبراً بدکاری کی تھی، اس روایت میں اس کا تذکرہ نہیں ہے کہ آپ ﷺ نے اسے مہر بھی دلایا ہو ١ ؎۔

It was narrated from Jabbar bin Wail that his father said. A woman was coerced (i-e raped) during the time of the Messenger of Allah. He waived the legal punishment for her and carried it out on the one who had attacked her, but he (the narrator) did not say that he ruled that she should be given bridal-money.”

Notes · وضاحت
١ ؎: اس پر اکثر علماء کا اتفاق ہے کہ جب کسی کو ایسے جرم پر مجبور کیا جائے جس پر حد ہے، تو اس مجبور پر حد جاری نہیں ہوگی بلکہ جبراً بدکاری کرنے والے پر حد جاری ہوگی۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحدود ٢٢ ( ١٤٥٣ )، (تحفة الأشراف: ١١٧٦٠ )، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٤ /٣١٨) (ضعیف) (حجاج بن أرطاہ مدلس ہیں، روایت عنعنہ سے کی ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٧/٤٤١ )