Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 130 of 218

2578Sunan Ibne-Majah

جورہزنی کرے اور زمین پر فسادبرپا کرے۔

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أُنَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ فَقَالَ: لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدٍ لَنَا، فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، فَفَعَلُوا فَارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ، وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَاقُوا ذَوْدَهُ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ فِي طَلَبِهِمْ، فَجِيءَ بِهِمْ، فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ وَتَرَكَهُمْ بِالْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ عرینہ کے چند لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں آئے، انہیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: اگر تم ہمارے اونٹوں کے ریوڑ میں جاؤ، اور ان کا دودھ اور پیشاب پیو تو صحت مند ہوجاؤ گے ١ ؎ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا، پھر وہ اسلام سے پھرگئے (مرتد ہوگئے) اور رسول اللہ ﷺ کے چرواہے کو قتل کر کے آپ کے اونٹوں کو ہانک لے گئے، یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے انہیں گرفتار کرنے کے لیے لوگوں کو بھیجا، چناچہ وہ گرفتار کر کے لائے گئے، تو آپ نے ان کے ہاتھ پیر کاٹ دئیے، ان کی آنکھوں میں لوہے کی گرم سلائی پھیر دی، ٢ ؎ اور انہیں حرہ ٣ ؎ میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مرگئے ۔

Anas bin Malik (RA) narrated that some people from (the tribe of Urainah came to us (to Al-Madinah) during the time of the Messenger of Allah, but they did not want to stay in Al- Madinah because the climate did not suit them. He said: "Go out to the camels which belong to us, and drink their milk and urine." So they did that (and recovered), then they apostatized from Islam and killed the herdsman of the Messenger of Allah ﷺ and stole his camels. The Messenger of Allah ﷺ sent people after them, and they were brought back. Then he cut off their hands and feet, branded their eyes and left them in Harrah until they died.

Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ حلال جانور کا پیشاب پاک ہے، ورنہ اس کے پینے کی اجازت نہ ہوتی، کیونکہ حرام اور نجس چیز سے علاج درست نہیں۔ ٢ ؎: یہ سزا قصاص کے طور پر تھی کیونکہ انہوں نے بھی رسول اکرم ﷺ کے چرواہوں کے ساتھ ایسے ہی کیا تھا۔ ٣ ؎: مدینہ منورہ کے مشرقی اور مغربی حصہ میں سیاہ پتھریلی جگہ کو حرہ کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٢٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضو ٦٧ (٢٢٣)، الزکاة ٦٨ (١٥٠١)، الجہاد ١٥٢ (٣٠١٨)، المغازي ٣٧ (١٤٩٢، ١٤٩٣)، الطب ٥ (٥٦٨٥)، ٦ (٥٦٨٦)، ٢٩ (٥٧٢٧)، الحدود ١ (٦٨٠٢)، ٢ (٦٨٠٣)، ٣ (٦٨٠٤)، ٤ (٦٨٠٥)، الدیات ٢٢ (٦٨٩٩)، صحیح مسلم/القسامة ٢ (١٦٧١)، سنن ابی داود/الحدود ٣ (٤٣٦٤)، سنن الترمذی/الاطعمة ٣٨ (١٨٤٥)، الطب ٦ (٢٠٤٢)، سنن النسائی/الطہارة ١٩١ (٣٠٦)، المحاربة (تحریم الدم) ٧ (٤٠٢٩)، مسند احمد (٣/١٦١، ١٦٣، ١٧٠، ٢٣٣) (صحیح )
2579Sunan Ibne-Majah

جورہزنی کرے اور زمین پر فسادبرپا کرے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَة، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ قَوْمًا أَغَارُوا عَلَى لِقَاحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے اونٹوں پر حملہ کردیا، چناچہ آپ ﷺ نے ان کے ہاتھ پیر کاٹ دئیے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں ١ ؎۔

It was narrated from Aisha (RA) that some people raided the she-camels of the Messenger of Allah, so the Prophet ﷺ cut off their hands and feet (on opposite sides) and lanced (gouged out) their eyes.

Notes · وضاحت
١ ؎: دوسری روایت میں ہے کہ پیاس کے مارے تڑپتے رہے لیکن کسی نے ان کو پانی نہیں دیا یہاں تک کہ وہ مرگئے، یہ آنکھیں پھوڑنا اور پانی نہ دینا تشدد کے لئے نہ تھا بلکہ اس لئے تھا کہ انہوں نے کئی کبیرہ گناہ کئے تھے، ارتداد، قتل، لوٹ پاٹ، ناشکری وغیرہ۔ بعضوں نے کہا کہ یہ قصاص میں تھا کیونکہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے چرواہے کے ساتھ ایسا ہی کیا تھا، غرض بدکار، بدفعل، بےرحم اور ظالم پر ہرگز رحم نہ کرنا چاہیے، اور اس کو ہمیشہ سخت سزا دینی چاہیے تاکہ عام لوگ تکلیف سے محفوظ رہیں، اور یہ عام لوگوں پر عین رحم و کرم ہے کہ ظالم کو سخت سزا دی جائے، اور ظالم پر رحم کرنا غریب رعایا پر ظلم ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/المحاریة (تحریم الدم) ٧ (٤٠٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٧٠٣٢) (صحیح )
2580Sunan Ibne-Majah

جسے اس کے مال کی خاطر قتل کردیا جائے وہ بھی شہید ہے۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ.

سعید بن زید بن عمرو بن نفیل ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو اپنا مال بچانے میں مارا جائے تو وہ شہید ہے ١ ؎۔

It was narrated from Saeed bin Zaid bin Amr bin Nufail that the Prophet ﷺ said: “Whoever is killed defending his property, he is a martyr."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کو شہید کا درجہ ملے گا، یہ جب ہے کہ ظالم ظلم سے اس کا مال لینا چاہتا ہو اور وہ اپنا مال بچاتے ہوئے مارا جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/السنة ٣٢ (٤٧٧٢)، سنن الترمذی/الدیات ٢٢ (١٤٢١)، سنن النسائی/الدم ١٨ (٤٠٩٥، ٤٠٩٦، ٤٠٩٩)، (تحفة الأشراف: ٤٤٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٨٧، ١٨٨، ١٨٩، ١٩٠) (صحیح )
2581Sunan Ibne-Majah

جسے اس کے مال کی خاطر قتل کردیا جائے وہ بھی شہید ہے۔

حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ الْجَزَرِيُّ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أُتِيَ عِنْدَ مَالِهِ فَقُوتِلَ فَقَاتَلَ، فَقُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس سے اس کا مال چھینا جائے اور لڑا جائے پھر وہ بھی لڑے اور قتل ہوجائے، تو وہ شہید ہے ۔

It was narrated from Ibn Umar (RA) that Messenger of Allah ﷺ said: “If a man’s property is targeted, and he is fought and fights back and he is killed, he is a martyr.”

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٤٦٨، ومصباح الزجاجة: ٩١٢) (صحیح) (سند میں یزید بن سنان تمیمی ضعیف ہیں لیکن، سعید بن زید ؓ کی سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
2582Sunan Ibne-Majah

جسے اس کے مال کی خاطر قتل کردیا جائے وہ بھی شہید ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أُرِيدَ مَالُهُ ظُلْمًا فَقُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس سے اس کا مال ناجائز طریقے سے لینے کا ارادہ کیا جائے، اور وہ اس کے بچانے میں قتل کردیا جائے، تو وہ شہید ہے ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: If a mans property is wrongfully targeted, and he is killed, he is a martyr."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٦٥٧، ومصباح الزجاجة: ٩١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٩٤، ٣٢٤) (حسن صحیح) (عبدالعزیز بن المطلب صدوق ہیں، اس لئے یہ سند حسن ہے، لیکن شواہد کی بناء پر صحیح ہے )
2583Sunan Ibne-Majah

چوری کرنے والے کی حد (سزا)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَنَ اللَّهُ السَّارِقَ يَسْرِقُ الْبَيْضَةَ، فَتُقْطَعُ يَدُهُ وَيَسْرِقُ الْحَبْلَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چور پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو، وہ ایک انڈا چراتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے، اور رسی چراتا ہے تو بھی اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "May Allah curse the thief! He steals an egg and his hand is cut off, and he steals a rope and his hand is cut off."

Notes · وضاحت
١ ؎: اعمش نے کہا انڈے سے مراد یہاں سر کا خود (لوہے کی ٹوپی) ہے اور رسی سے مراد جس کی قیمت کئی درہم ہوں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحدود ٢٣ (١٦٨٧)، (تحفة الأشراف: ١٢٥١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٤٣، ٣١٧، ٣٧٦، ٣٨٦، ٣٨٩) (صحیح )
2584Sunan Ibne-Majah

چوری کرنے والے کی حد (سزا)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹا، اس کی قیمت تین درہم تھی۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Prophet ﷺ cut off (the hand of a thief) for a shield worth three Dirham."

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحدود ١ (١٦٨٦)، سنن ابی داود/الحدود ١١ (٤٣٨٥)، سنن الترمذی/الحدود ١٦ (١٤٤٦)، سنن النسائی/قطع السارق ٧ (٤٩١٢)، (تحفة الأشراف: ٨٠٦٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحدود ١٤ (٦٧٩٥، ٦٧٩٦، ٦٧٩٧، ٦٧٩٨)، مسند احمد (٦/١٦٢)، سنن الدارمی/الحدود ٤، ٢٤٦) (صحیح )
2585Sunan Ibne-Majah

چوری کرنے والے کی حد (سزا)

حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَمْرَةَ أَخْبَرَتْهُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُقْطَعُ الْيَدُ إِلَّا فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا.

1 ام المؤمینین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاتھ اسی وقت کاٹا جائے گا جب (چرائی گئی چیز کی قیمت) چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ ہو ١ ؎۔

It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Do not cut off (the thief’s hand) except for something worth one quarter of a Dinar or more."

Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ ربع دینار یعنی تین درہم یا اس سے زیادہ کی مالیت کا سامان اگر کوئی چوری کرتا ہے، تو اس کے عوض ہاتھ کاٹا جائے گا، ایک درہم چاندی کا وزن تقریباً تین گرام ہے، اس طرح سے تقریباً نو گرام چاندی کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا، اور دینار کا وزن سوا چار گرام خالص سونا ہے۔ (ملاحظہ ہو: توضیح الأحکام من بلوغ المرام ٦ /٢٦٤- ٢٦٥ )
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحدود ١٤ (٦٧٨٩)، صحیح مسلم/الحدود ١ (١٦٨٤)، سنن ابی داود/الحدود ١١ (٤٣٨٣)، سنن الترمذی/الحدود ١٦ (١٤٤٥)، سنن النسائی/قطع السارق ٧ (٤٩٢٠)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٢٠)، و قد أخرجہ: موطا امام مالک/الحدود ٧ (٢٣)، مسند احمد (٦/٣٦، ٨٠، ٨١، ١٠٤، ١٦٣، ٢٤٩، ٢٥٢)، سنن الدارمی/الحدود ٤ (٢٣٤٦) (صحیح )
2586Sunan Ibne-Majah

چوری کرنے والے کی حد (سزا)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو وَاقِدٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي ثَمَنِ الْمِجَنِّ.

سعد ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ڈھال کی قیمت کے برابر میں چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا ۔

It was narrated from Amir bin Sad, from his father, that the Prophet ﷺ said: "The hand of the thief is to be cut off for the price of a shield."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٨٨٣، ومصباح الزجاجة: ٩١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٦٩) (ضعیف) (ابو واقد صالح بن محمد بن زائدہ اللیثی ضعیف ہے، لیکن متفق علیہ شواہد میں ربع دینار میں قطع ید (ہاتھ کاٹنے) کی قولی حدیث ہے، اور یہی ثمن المجن (ڈھال کی قیمت) ہے، اور فعلی حدیث اوپر گذری )
2587Sunan Ibne-Majah

ہاتھ گردن میں لٹکانا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَبُو سَلَمَةَ الْجُوبَارِيُّ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَطَاءِ بْنِ مُقَدَّمٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، قَالَ: سَأَلْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ عَنْ تَعْلِيقِ الْيَدِ فِي الْعُنُقِ، فَقَالَ: السُّنَّةُقَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ رَجُلٍ ثُمَّ عَلَّقَهَا فِي عُنُقِهِ.

ابن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے فضالہ بن عبید سے سوال کیا: ہاتھ کاٹ کر گردن میں ٹکانا کیسا ہے؟ انہوں نے کہا: سنت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کا ہاتھ کاٹا، پھر اسے اس کی گردن میں لٹکا دیا۔

It was narrated that, Ibn Muhairiz said: "I asked Fadalah bin Ubaid about hanging the hand (of the thief) from hi s neck and he said: It is Sunnah", The Messenger of Allah ﷺ cut off a mans hand then hung it from his neck.”

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحدود ٢١، (٤٤١١)، سنن الترمذی/الحدود ١٧ (١٤٤٧)، سنن النسائی/قطع السارق ١٥ (٤٩٨٥)، (تحفة الأشراف: ١١٠٢٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٩) (ضعیف) (سند میں عمر، حجاج اور مکحول تینوں مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے )
2588Sunan Ibne-Majah

چور اعتراف کرلے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ سَمُرَةَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي سَرَقْتُ جَمَلًا لِبَنِي فُلَانٍ فَطَهِّرْنِي، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّا افْتَقَدْنَا جَمَلًا لَنَا، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُطِعَتْ يَدُهُ. قَالَ ثَعْلَبَةُ: أَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ حِينَ وَقَعَتْ يَدُهُ وَهُوَ يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي طَهَّرَنِي مِنْكِ، أَرَدْتِ أَنْ تُدْخِلِي جَسَدِي النَّارَ.

ثعلبہ انصاری ؓ سے روایت ہے کہ عمرو بن سمرہ بن حبیب بن عبدشمس رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور کہا: اللہ کے رسول! میں نے بنی فلاں کا اونٹ چرایا ہے، لہٰذا مجھے اس جرم سے پاک کر دیجئیے، نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کے پاس کسی کو بھیجا، انہوں نے بتایا کہ ہمارا ایک اونٹ غائب ہوگیا ہے، چناچہ نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا، اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ ثعلبہ ؓ کہتے ہیں: میں دیکھ رہا تھا جب اس کا ہاتھ کٹ کر گرا تو وہ کہہ رہا تھا: اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے تجھ سے پاک کیا، تو چاہتا تھا کہ میرے جسم کو جہنم میں داخل کرے۔

It was narrated from Abdur-Rahman bin Thalabah Al-Ansari, from his father, that Amr bin Samurah bin Habib bin Abd Shams came to the Messenger of Allah ﷺ and said: "O Messenger of Allah ﷺ I stole a camel belonging to Banu so-and-so; purify me!" The Prophet ﷺ sent word to them and they said: "(Yes), we have lost a camel of ours." So the Prophet ﷺ ordered that his hand be cut off. ThaIabah said: "I was looking at him when his hand fell, and he said (to it): Praise is to Allah Who has purified me of you; you wanted to cause my whole body to enter Hell.”

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٠٧٥، ومصباح الزجاجة: ٩١٥) (ضعیف) (سند میں عبدالرحمن بن ثعلبہ مجہول اور عبداللہ بن لہیعہ ضعیف ہیں )
2589Sunan Ibne-Majah

غلام چوری کرے تو

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا سَرَقَ الْعَبْدُ فَبِيعُوهُ وَلَوْ بِنَشٍّ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر غلام چوری کرے تو اسے بیچ دو، خواہ وہ نصف اوقیہ (بیس درہم) میں بک سکے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "If a slave steals, then sell him, even for half price:"

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث ضعیف ہے علماء کا اتفاق ہے کہ غلام اور لونڈی جب چوری کریں تو ان کا بھی ہاتھ کاٹا جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحدود ٢٢ (٤٤١٢)، سنن النسائی/قطع السارق ١٣ (٤٩٨٣)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٧٩) (ضعیف) (سند میں عمر بن أبی سلمہ ہیں، جو روایت میں غلطی کرتے ہیں )
2590Sunan Ibne-Majah

غلام چوری کرے تو

حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدًا مِنْ رَقِيقِ الْخُمُسِ سَرَقَ مِنَ الْخُمُسِ فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَقْطَعْهُ وَقَالَ: مَالُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ سَرَقَ بَعْضُهُ بَعْضًا.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ بیت المال کے لیے مال غنیمت کے پانچویں حصے میں جو غلام ملے تھے ان میں سے ایک غلام نے خمس (پانچویں حصہ) میں سے کچھ چرا لیا، یہ معاملہ نبی اکرم ﷺ کے پاس پیش کیا گیا، آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا اور فرمایا: (خمس) اللہ کا مال ہے، ایک نے دوسرے کو چرایا ۔

It was narrated from Ibn Abbas (RA) that one of the slaves of Khumus stole something from Khumus and the matter was referred to the Prophet, but he did not cut off his hand, and he said: “The property of Allah, part of it stealing another part.”

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٥٠٨ (ألف)، ومصباح الزجاجة: ٩١٦) (ضعیف) (حجاج بن تمیم ضعیف ہیں، ملاحظہ الإرواء: ٢٤٤٤ )
2591Sunan Ibne-Majah

امانت میں خیانت کرنے والے، لوٹنے والے اور اچکے کا حکم

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يُقْطَعُ الْخَائِنُ وَلَا الْمُنْتَهِبُ وَلَا الْمُخْتَلِسُ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خائن، لٹیرے اور چھین کر بھاگنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔

It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: "The hand of the one who betrays a trust, the robber and the pilferer is not to be cut off."

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحدود ١٣ (٤٣٩١، ٤٣٩٢)، سنن الترمذی/الحدود ١٨ (١٤٤٨)، سنن النسائی/قطع السارق ١٠ (٤٩٧٥)، (تحفة الأشراف: ٢٨٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٨٠)، سنن الدارمی/الحدود ٨ (٤٩٨٨) (صحیح )
2592Sunan Ibne-Majah

امانت میں خیانت کرنے والے، لوٹنے والے اور اچکے کا حکم

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَاصِمِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَيْسَ عَلَى الْمُخْتَلِسِ قَطْعٌ.

عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چھین کر بھاگنے والے کی سزا ہاتھ کاٹنا نہیں ہے ١ ؎۔

It was narrated from Ibrahim bin Abdur-Rahman bin Awf that his father said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: “The hand of the pilferer is not to be cut off.”

Notes · وضاحت
١ ؎: جیب کترے کا ہاتھ کاٹا جائے گا، کیونکہ چوری کی تعریف اس پر صادق آتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٧١٥، ومصباح الزجاجة: ٩١٧) (صحیح )
2593Sunan Ibne-Majah

پھل اور گابھہ کی چوری پر ہاتھ نہ کاٹا جائے۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِوَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ.

رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہ پھل چرانے سے ہاتھ کاٹا جائے گا اور نہ کھجور کا گابھا چرانے سے ١ ؎۔

It was narrated from Rafi bin Khadij that the Messenger of Allah ﷺ said: "The hand is not to be cut off for (stealing) produce or the spadix of palm trees."

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث معلوم ہوا کہ میوہ، پھل اور کھجور کے گابھے کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، جب تک یہ چیزیں محفوظ مقام میں سوکھنے کے لئے نہ رکھی جائیں، یعنی جرین (کھلیان) میں، مگر شرط یہ ہے کہ چور اس میوے یا پھل کو صرف کھالے، اور گود میں بھر کر نہ لے جائے، اگر گود میں بھر کرلے جائے تو اس کو دوگنی قیمت اس کی دینا ہوگی، اور سزا کے لئے مار بھی پڑے گی۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحدود ١٩ (١٤٤٩)، سنن النسائی/قطع السارق ١٠ (٤٩٦٤)، (تحفة الأشراف: ٣٥٨٨)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحدود ١٢ (٤٣٨٨)، موطا امام مالک/الحدود ١١ (٣٢)، مسند احمد (٣/٤٦٣، ٤٦٤)، سنن الدارمی/الحدود ٧ (٢٣٥٠) (صحیح )
2594Sunan Ibne-Majah

پھل اور گابھہ کی چوری پر ہاتھ نہ کاٹا جائے۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پھل اور کھجور کا گابھا چرانے سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The hand is not to be cut off for (stealing) produce or the spadix of palm trees."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٩٦٧، ومصباح الزجاجة: ٩١٨) (صحیح) (سند میں عبداللہ بن سعید المقبری ضعیف ہیں، لیکن سابقہ رافع بن خدیج ؓ کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٨؍ ٧٣ )
2595Sunan Ibne-Majah

حرز میں چرانے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، عَنْأَبِيهِ، أَنَّهُ نَامَ فِي الْمَسْجِدِ وَتَوَسَّدَ رِدَاءَهُ، فَأُخِذَ مِنْ تَحْتِ رَأْسِهِ، فَجَاءَ بِسَارِقِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْطَعَ، فَقَالَ صَفْوَانُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أُرِدْ هَذَا رِدَائِي عَلَيْهِ صَدَقَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَهَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ.

صفوان ؓ سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں سو گئے، اور اپنی چادر کو تکیہ بنا لیا، کسی نے ان کے سر کے نیچے سے اسے نکال لیا، وہ چور کو لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، چناچہ نبی اکرم ﷺ نے ہاتھ کاٹے جانے کا حکم دیا، صفوان ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! میرا مقصد یہ نہ تھا، میری چادر اس کے لیے صدقہ ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم نے آخر میرے پاس اسے لانے سے پہلے ایسا کیوں نہیں کیا ؟ ١ ؎۔

It was narrated from Abdullah bin Safwan that his father slept in the Masjid, using his upper wrap as a pillow, and it was taken from beneath his head. He brought the thief to the Prophet ﷺ and the Prophet ﷺ ordered that his hand be cut off. Safwan said: “O Messenger of Allah, I did not wish this! I give my upper wrap to him in charity.” The Messenger of Allah ﷺ said: “Why did you not give it to him before you brought him to me?”

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ اگر مسجد یا صحرا میں کوئی مال کا محافظ ہو تو اس کے چرانے میں ہاتھ کاٹا جائے گا، اکثر علماء اسی طرف گئے ہیں کہ قطع کے لئے حرز (یعنی مال کا محفوظ ہونا) ضروری ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحدود ١٤ (٤٣٩٤)، سنن النسائی/قطع السارق ٤ (٤٨٨٢ مرسلاً )، (تحفة الأشراف: ٤٩٤٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحدود ٩ (٢٨)، مسند احمد (٣/٤٠١، ٦/٤٦٥، ٤٦٦)، سنن الدارمی/الحدود ٣ (٢٣٤٥) (صحیح )
2596Sunan Ibne-Majah

حرز میں چرانے کا بیان

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الثِّمَارِ، فَقَالَ: مَا أُخِذَ فِي أَكْمَامِهِ فَاحْتُمِلَ، فَثَمَنُهُ وَمِثْلُهُ مَعَهُ، وَمَا كَانَ مِنَ الْجِرَانِ، فَفِيهِ الْقَطْعُ إِذَا بَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ، وَإِنْ أَكَلَ وَلَمْ يَأْخُذْ، فَلَيْسَ عَلَيْهِ، قَالَ: الشَّاةُ الْحَرِيسَةُ مِنْهُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ثَمَنُهَا وَمِثْلُهُ مَعَهُ وَالنَّكَالُ، وَمَا كَانَ فِي الْمُرَاحِ، فَفِيهِ الْقَطْعُ إِذَا كَانَ مَا يَأْخُذُ مِنْ ذَلِكَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ مزینہ کے ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے پھلوں کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو شخص پھل خوشے میں سے توڑ کر چرائے تو اسے اس کی دوگنی قیمت دینی ہوگی، اور اگر پھل کھلیان میں ہو تو ہاتھ کاٹا جائے گا، بشرطیکہ وہ ڈھال کی قیمت کے برابر ہو، اور اگر اس نے صرف کھایا ہو لیا نہ ہو تو اس پر کچھ نہیں ، اس شخص نے پوچھا: اگر کوئی چراگاہ میں سے بکریاں چرا لے جائے (تو کیا ہوگا) ؟ اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: اس کی دوگنی قیمت ادا کرنی ہوگی، اور سزا بھی ملے گی، اور اگر وہ اپنے باڑے میں ہو تو اس میں (چوری کرنے پر) ہاتھ کاٹا جائے بشرطیکہ چرائی گئی چیز کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو ١ ؎۔

It was narrated from Amr bin Shu aib, from his father, from his grandfather, that a man from Muzainah asked the Prophet ﷺ about fruits. He said: "What is taken from the tree and carried away, its value and the like of it along with it (meaning double its price must be paid). What (is taken) from the place where dates are dried, (the penalty) is cutting off the hand if the amount taken is equal to the price of a shield. But if (the person) eats it and does not take it away, there is no penalty." He said: "What about the sheep taken from the pasture, O Messenger of Allah? ﷺ " He said: "(The thief) must pay double its price and be punished, and if it was in the pen then his hand should be cut off, if what was taken was worth the price of a shield."

Notes · وضاحت
١ ؎: ابوداود کی روایت میں ہے جو کوئی پھلوں کو منہ میں ڈال لے، اور گود میں بھر کر نہ لے جائے اس پر کچھ نہیں ہے، اور جو اٹھا کرلے جائے اس پر دوگنی قیمت ہے، اور سزا کے لئے مار ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللقطة ١ (١٧١١)، الحدود ١٢ (٤٣٩٠)، (تحفة الأشراف: ٨٨١٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع ٥٤ (١٢٨٩)، سنن النسائی/قطع السارق ١١ (٤٩٧٢)، مسند احمد (٢/١٨٦) (حسن )
2597Sunan Ibne-Majah

چور کو تلقین کرنا

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: سَمِعْتُأَبَا الْمُنْذِرِ مَوْلَى أَبِي ذَرٍّ يَذْكُرُ أَنَّ أَبَا أُمَيَّةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلِصٍّ فَاعْتَرَفَ اعْتِرَافًا وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ الْمَتَاعُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ؟قَالَ: بَلَى، ثُمَّ قَالَ: مَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ؟قَالَ: بَلَى، فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلْ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، قَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، قَالَ: اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِمَرَّتَيْنِ.

ابوامیہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک چور لایا گیا، اس نے اقبال جرم تو کیا لیکن اس کے پاس سامان نہیں ملا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم نے چوری نہیں کی ہے ، اس نے کہا: کیوں نہیں؟ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: میرے خیال میں تم نے چوری نہیں کی ، اس نے کہا: کیوں نہیں؟ پھر آپ ﷺ نے حکم دیا، تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، اس کے بعد نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کہو أستغفر الله وأتوب إليه میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس سے توبہ کرتا ہوں ، تو اس نے کہا: أستغفر الله وأتوب إليه تب آپ ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا: اللهم تب عليه اے اللہ تو اس کی توبہ قبول فرما ۔

It was narrated from Ishaq bin Abu Talhah: "I heard Abu Mundhir, the freed slave of Abu Dharr, say that Abu Umayyah narrated to him, that a thief was brought to the Messenger of Allah, and he admitted his crime, although the stolen goods were not found with him. The Messenger of Allah ﷺ said: “I do not think that you stole them.” He said: “Yes I did: Then he said (again): “I do not think that you stole them: and he said: “Yes I did: Then he ordered that his hand be cut off. The Prophet ﷺ said: “Say: I seek Allahs forgiveness and I repent to Him: So he (the thief) said: “I seek Allahs forgiveness and I repent to Him.” He (the Prophet ﷺ said twice: “O Allah! Accept his repentance:"

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحدود ٨ (٤٣٨٠)، سنن النسائی/قطع السارق ٣ (٤٨٨١)، (تحفة الأشراف: ١١٨٦١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٩٣)، سنن الدارمی/الحدود ٦ (٢٣٤٩) (ضعیف) (سند میں ابو المنذر غیر معروف راوی ہیں )