براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک یہودی کے پاس سے ہوا جس کا منہ کالا کیا گیا تھا اور جس کو کوڑے لگائے گئے تھے، آپ ﷺ نے ان یہودیوں کو بلایا اور پوچھا: کیا تم لوگ اپنی کتاب توریت میں زانی کی یہی حد پاتے ہو ؟ لوگوں نے عرض کیا: ہاں، پھر آپ ﷺ نے ان کے عالموں میں سے ایک شخص کو بلایا، اور اس سے پوچھا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں جس نے موسیٰ پر توراۃ نازل فرمائی: کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی حد یہی پاتے ہو ؟ اس نے جواب دیا: نہیں، اور اگر آپ نے مجھے اللہ کی قسم نہ دی ہوتی تو میں آپ کو کبھی نہ بتاتا، ہماری کتاب میں زانی کی حد رجم ہے، لیکن ہمارے معزز لوگوں میں کثرت سے رجم کے واقعات پیش آئے، تو جب ہم کسی معزز آدمی کو زنا کے جرم میں پکڑتے تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر پکڑا جانے والا معمولی آدمی ہوتا تو ہم اس پر حد جاری کرتے، پھر ہم نے لوگوں سے کہا کہ آؤ ایسی حد پر اتفاق کریں کہ جو معزز اور معمولی دونوں قسم کے آدمیوں پر ہم یکساں طور پر قائم کرسکیں، چناچہ ہم نے رجم کی جگہ منہ کالا کرنے اور کوڑے مارنے کی سزا پر اتفاق کرلیا، یہ سن کر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللهم إني أول من أحيا أمرك إذ أماتوه یعنی اے اللہ! میں پہلا وہ شخص ہوں جس نے تیرے اس حکم کو زندہ کیا ہے جسے ان لوگوں نے مردہ کردیا تھا ، آپ ﷺ نے حکم دیا اور وہ یہودی رجم کردیا گیا۔
It was narrated that Bara bin Azib (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ passed by a Jew with a blackened face who had been flogged. He called them and said: Is this the punishment for the adulterer that you find in your Book? They said: Yes. Then he called one of their scholars and said: I adjure you by Allah Who sent down the Tawrah (Torah) to Musa Is this the punishment for the adulterer that you find in your Book? . He said: No; if, you had not adjured me by Allah, I would not have to told you. The Punishment for the adulterer that we find in our Book is stoning, but many of our nobles where being stoned (because of the prevalence of adultery among them), so if we caught one of our nobles (committing adultery, we would let him go; but If we caught one of the weak among us, we would carry out the punishment on him. We said: "Come, let us agree. Upon something that we may Impose on both noble and weak alike. " So we agreed to blacken the face and whip them, instead ,of stoning. The Prophet ﷺ said: ‘O Allah I am the first of those who revive Your command which they had killed off’, and he issued orders that (the man) be stoned”.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میں گواہوں کے بغیر کسی کو رجم کرتا تو فلاں عورت کو کرتا، اس لیے کہ اس کی بات چیت سے اس کی شکل و صورت سے اور جو لوگ اس کے پاس آتے ہیں اس سے اس کا فاحشہ ہونا ظاہر ہوچکا ہے ١ ؎۔
It was narrated from ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: "If I were to stone anyone without proof, I would have stoned so-and-so, for there is obviously doubt concerning her speech, her appearance and those who enter upon her."
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کسی عورت کا فاحشہ ہونا معلوم ہو، تو بھی اس کو زنا کی حد نہیں لگا سکتے جب تک کہ اس کی طرف سے جرم کا اعتراف و اقرار نہ ہو، یا چار آدمیوں کی گواہی کا ثبوت نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٨٧٧، ومصباح الزجاجة: ٩٠٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطلاق ٣١ (٥٣١٠)، ٣٦ (٥٣١٦)، الحدود ٤٣ (٦٨٥٦)، صحیح مسلم/اللعان ١ (١٤٩٧)، سنن النسائی/الطلاق ٣٦ (٣٤٩٧)، مسند احمد (١/٣٣٥، ٣٥٧، ٣٦٥) (صحیح )
قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ ابن عباس ؓ نے دو لعان کرنے والوں کا تذکرہ کیا، تو ان سے ابن شداد نے پوچھا: کیا یہ وہی عورت تھی جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: اگر میں گواہوں کے بغیر کسی کو رجم کرتا تو اس عورت کو کرتا؟ ابن عباس ؓ نے کہا: وہ تو ایسی عورت تھی جو علانیہ بدکار تھی۔
It was narrated that Qasim bin Muhammad said: "Ibn Abbas mentioned two people who had engaged in the process of Lian Ibn Shaddad said to him: Is this the one of whom the Messenger of Allah ﷺ said: "If I were to stone anyone without proof I would have stoned so-and-so." Ibn Abbas said: No, that was a woman who, (although she was a Muslim), used to expose herself."
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کو تم پاؤ کہ وہ قوم لوط کا عمل (اغلام بازی) کر رہا ہے، تو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو ۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever you find doing the action of the people of Lut. kill the one who does It, and the one to whom it is done."
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحدود ٢٩ (٤٤٦٢)، سنن الترمذی/الحدود ٢٤ (١٤٥٦)، (تحفة الأشراف: ٦١٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٦٩، ٣٠٠) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے قوم لوط کے عمل یعنی اغلام بازی کرنے والوں کے بارے میں فرمایا: اوپر والا ہو کہ نیچے والا، دونوں کو رجم کر دو ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said concerning those who do the action of the people of Lut: "Stone the upper and the lower, stone them both."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٦٨٦، ومصباح الزجاجة: ٩٠٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحدود ٢٤، (١٤٥٦ تعلیقاً ) (حسن) (سند میں عاصم بن عمر ضعیف ہیں، لیکن سابقہ شاہد سے تقویت پاکر یہ حسن ہے )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ قوم لوط کے عمل یعنی اغلام بازی کا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: "The thing that I most fear for my nation is the action of the people of Lut.”
Notes · وضاحت
١ ؎: ابن الطلاع مالکی أقضیۃ الرسول ﷺ میں کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے لواطت میں رجم ثابت نہیں ہے اور نہ اس کے بارے میں آپ کا کوئی فیصلہ ہی ہے، بلکہ ابن عباس، ابوہریرہ ؓ سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو، اور بیہقی نے علی ؓ سے روایت کی کہ انہوں نے ایک اغلام باز کو رجم کیا ( ٨ /٢٣٢)، شافعی کہتے ہیں کہ ہمارا یہی قول ہے کہ وہ رجم کیا جائے، چاہے شادی شدہ ہو یا کنوارا، اور بیہقی نے روایت کی کہ ابوبکر ؓ نے ایک مفعول کے لئے صحابہ کرام ؓ کو جمع کیا، تو اس دن سب سے زیادہ سخت رائے علی ؓ نے دی اور کہا: اس گناہ کو کسی امت نے نہیں کیا سوائے ایک امت کے، تو ہم سمجھتے ہیں کہ اس کو آگ سے جلا دیں، تو صحابہ کرام نے اس کو آگ سے جلانے پر اتفاق کیا، ابوبکر ؓ نے خالد بن ولید ؓ کو لکھا کہ اس کو آگ سے جلا دو، لیکن یہ صحیح نہیں ہے، اس کی سند میں ابراہیم بن ابی رافع مدینی ضعیف راوی ہے، بعضوں نے اس کو جھوٹا کہا ہے، لیکن اس کا دوسرا طریق بھی ہے، جس سے روایت صرف مرسل ہے۔ ابوداود نے صحیح سند سے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ اغلام بازی کرنے والے کو رجم کیا جائے گا، اور بیہقی نے صحیح سند سے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ ان سے اغلام بازی کرنے والے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: سب سے اونچے مکان سے اوندھا کر کے گرا دیا جائے، پھر پتھروں سے کچلا جائے۔ اغلام بازی متفقہ طور پر حرام اور کبیرہ گناہ ہے، لیکن اس کی سزا کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے، اوپر بعض صحابہ کا مذہب مذکور ہوا کہ اس کی سزا قتل ہے، چاہے وہ غیر شادی شدہ ہو، اور فاعل اور مفعول دونوں اس سزا میں برابر ہیں، یہی امام شافعی کا مسلک ہے، اور اہل حدیث کا مذہب یہ ہے کہ فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کریں گرچہ وہ شادی شدہ نہ ہوں بشرطیکہ مفعول پر جبر نہ ہوا ہو، بعض لوگوں نے اس پر صحابہ کا اجماع نقل کیا ہے، اور بغوی نے شعبی، زہری، مالک، احمد اور اسحاق سے نقل کیا کہ وہ رجم کیا جائے، شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ۔ ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ اگر زانی کا دو بار رجم درست قرار دیا جائے تو اغلام باز کو بھی رجم کیا جائے گا، منذری کہتے ہیں کہ اغلام بازی کرنے والے کو ابوبکر، علی، عبداللہ بن زبیر ؓ، اور ہشام بن عبدالملک نے زندہ جلایا۔ امام شافعی کہتے ہیں کہ زیادہ واضح بات یہ ہے کہ اغلام باز کی حد زانی کی حد ہے، اگر وہ شادی شدہ ہو تو رجم کیا جائے گا، ورنہ کوڑے مارے جائیں گے اور جلا وطن کیا جائے گا، اور جس کے ساتھ یہ فعل قبیح کیا گیا ہو یعنی مفعول کو کوڑے لگائے جائیں گے، اور جلا وطن کیا جائے گا۔ امام ابوحنیفہ (رح) کہتے ہیں کہ امام جو سزا مناسب سمجھے وہ دے، لیکن نہ رجم ہوگا اور نہ کوڑے لگائے جائیں گے۔ نواب صدیق حسن فرماتے ہیں کہ فاعل اور مفعول کے قتل کرنے کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کا حکم صحیح اور ثابت ہے، اور صحابہ کرام نے اس حکم کی تنفیذ فرمائی یہ بھی ثابت ہے، اور انہوں نے اس عظیم فحش کام کرنے والوں کو شادی اور غیر شادی کی تفریق کے بغیر قتل کیا، اور ان کے زمانے میں ایسا کئی بار ہوا، اور ان میں سے کسی نے اس کی مخالفت نہیں کی، جب کہ مسلمان کے خون بہائے جانے جیسے مسئلے پر کسی مسلمان کے لیے خاموشی جائز نہیں ہے، اور یہ وہ عہد تھا کہ حق بات جو بھی ہو اور جہاں سے بھی ہو مقبول ہوتی تھی، تو اگر اغلام باز کا زانی کے سلسلے کے وارد دلائل کے عموم میں اندراج صحیح ہو تو ہر فاعل چاہے وہ شادی ہو یا غیر شادی شدہ کے قتل کے سلسلے میں وارد دلیل سے وہ عموم مخصوص ہوجائے گا، (ملاحظہ ہو: الروضۃ الندیۃ ٣ /٢٨٣- ٢٨٦ )
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحدود ٢٤ (١٤٥٧)، (تحفة الأشراف: ٢٣٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٨٢) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں عبد اللہ بن محمد بن عقیل منکر الحدیث ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی محرم سے جماع کرے اسے قتل کر دو، اور جو کسی جانور سے جماع کرے تو اسے بھی قتل کر دو، اور اس جانور کو بھی ۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever has intercourse with a Mahram relative, kill him; and whoever has intercourse with an animal, kill him, and kill the animal."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٠٧٩، ومصباح الزجاجة: ٩٠٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحدود ٢٣ (١٤٥٥)، مسند احمد (١/٣٠٠) (ضعیف) (اس حدیث میں ابراہیم بن اسماعیل ضعیف راوی ہیں، اور داود بن الحصین کی عکرمہ سے روایت میں بھی کلام ہے، لیکن حدیث کا پہلا ٹکڑا مَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ فَاقْتُلُوهُ ضعیف ہے، اور دوسرا ٹکڑا صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢٣٤٨ ، ٨ -٤- ١٥ - ٢٣٥٢ )
ابوہریرہ، زید بن خالد اور شبل ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس تھے کہ ایک شخص نے آپ سے اس لونڈی کے بارے میں سوال کیا جس نے شادی شدہ ہونے سے پہلے زنا کیا ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے کوڑے مارو، اگر پھر زنا کرے تو پھر کوڑے مارو ، پھر آپ ﷺ نے تیسری یا چوتھی مرتبہ میں کہا: اسے بیچ دو خواہ وہ بالوں کی ایک رسی کے عوض بکے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) h, Zaid bin Khalid and Shibl said: “We were with the Prophet ﷺ and a man asked him about a slave woman who commits fornication before she is married. He said: Whip her and if she commits fornication (again), whip her (again). Then he said, on the third or fourth time: Then sell her, even if that is for a Tope of hair.”
ام المؤمنین عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب لونڈی زنا کرے تو اسے کوڑے مارو، پھر زنا کرے تو پھر کوڑے مارو، اگر اب بھی زنا کرے تو پھر کوڑے مارو، اس کے بعد اگر زنا کرے تو اسے بیچ دو خواہ ایک ضفیر ہی کے بدلے ہو، اور ضفیر رسی کو کہتے ہیں۔
Aisha (RA) narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: "If a slave woman commits fornication then whip her, and if she commits fornication then whip her, and if she commits fornication then whip her and if she commits fornication then whip her, then sell her even if that is for a rope."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٩٠٩، ومصباح الزجاجة: ٩٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٦٥) (صحیح) (سند میں عمّار بن أبی فروہ ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٩٢١ ، تراجع الألبانی: رقم: ٤٨٨ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب میری براءت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور اس کا تذکرہ کر کے قرآنی آیات کی تلاوت کی، اور جب منبر سے اتر آئے، تو دو مردوں اور ایک عورت کے بارے میں حکم دیا چناچہ ان کو حد لگائی گئی ١ ؎۔
It was narrated that Aisha (RA) said:" When my innocence was revealed, the Messenger of Allah ﷺ stood on the pulpit and mentioned that, and he recited Quran. When he came down, he ordered that the legal punishment (of slandering) be carried out on two men and a woman.”
Notes · وضاحت
١ ؎: اگرچہ بہتان باندھنے میں سب سے بڑھ چڑھ کر منافقین نے حصہ لیا تھا، لیکن نبی اکرم ﷺ نے ان پر حد جاری نہیں کی، اس لئے کہ حد پاک کرنے کے لئے ہے، اور منافقین پاک نہیں ہوسکتے وہ ہمیشہ کے لئے جہنمی رہیں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحدود ٣٥ (٤٤٧٤، ٤٤٧٥)، سنن الترمذی/تفسیر القرآن، سورة النور ٢٥ (٣١٨١)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٥، ٦١) (حسن) (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر کوئی آدمی کسی کو کہے: اے مخنث! تو اسے بیس کوڑے لگاؤ، اور اگر کوئی کسی کو کہے: اے لوطی! تو اسے بیس کوڑے لگاؤ۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet ﷺ said: "If one man says to another: O effeminate one! give him twenty lashes. And if one man says tom another: O homosexual give him twenty lashes.”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٠٧٥، ومصباح الزجاجة: ٩٠٩)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحدود ٢٩ (١٤٦٢)، ولم یذکر الشطر الثانی: وَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: يَا لُوطِيُّ! ......) (ضعیف) (سند میں ابن أبی حبیبہ ضعیف راوی ہیں )
علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ جس پر میں حد جاری کروں (اگر وہ مرجائے) تو میں اس کی دیت ادا نہیں کروں گا، سوائے شرابی کے، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی کوئی حد نہیں مقرر فرمائی، بلکہ یہ تو ہماری اپنی مقرر کی ہوئی حد ہے۔
Ali bin Abu Talib said: "I would not pay the blood money (Diyah) for those on whom I carried out the legal punishment, except for the wine drinker. The Messenger of Allah ﷺ did not institute anything in that case, rather it is something that we would do.”
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ شراب کے جرم میں جوتوں اور چھڑیوں سے مارنے کی سزا دیتے تھے۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ used to beat (offenders) for drinking wine with sandals and date-palm stalks."
حضین بن منذر رقاشی کہتے ہیں کہ جب ولید بن عقبہ کو عثمان ؓ کے پاس لایا گیا اور لوگوں نے ان کے خلاف گواہی دی، تو عثمان ؓ نے علی ؓ سے کہا: اٹھئیے اور اپنے چچا زاد بھائی پر حد جاری کیجئے، چناچہ علی ؓ نے ان کو کوڑے مارے اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے چالیس کوڑے لگائے، اور ابوبکر ؓ نے چالیس کوڑے لگائے، اور عمر ؓ نے اسی کوڑے لگائے، اور ان میں سے ہر ایک سنت ہے ١ ؎۔
Hudain bin Mundhir said: "When Walid bin Uqbah was brought to Uthman, they had testified against him. He said to Ali (RA) : “You are close to your uncles son, so carry out the legal punishment on him. So Ali whipped him. He said: The Messenger of Allah ﷺ gave forty lashes and Abu Bakr (RA) gave forty lashes and Umar gave eighty and all are Sunnah.
Notes · وضاحت
١ ؎: ولید بن عقبہ عثمان ؓ کے اخیافی بھائی تھے، اور ان کے دور خلافت میں کوفہ کے عامل تھے، انہوں نے لوگوں کو صبح نماز فجر چار رکعتیں پڑھائیں، اور بولے: اور زیادہ کروں؟ عبد اللہ بن مسعود ؓ نے کہا: ہم ہمیشہ زیادتی ہی میں رہے جب سے تم حاکم ہوئے، یہ عقبہ بن ابی معیط کا بیٹا تھا جس نے نبی کریم ﷺ پر اونٹنی کی بچہ دانی لا کر ڈال دی تھی، جب آپ ﷺ سجدہ میں تھے، ولید بن عقبہ نے شراب پی کر نشہ کی حالت میں نماز پڑھائی، آخر لوگوں کی شکایت پر معزول ہو کر مدینہ میں عثمان ؓ کے پاس حاضر کیا گیا، شرابی کی حد کوئی معین نہیں، امام کو اختیار ہے خواہ چالیس کوڑے مارے یا کم یا زیادہ، خواہ جوتوں سے مارے، صحیح مسلم میں ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے شراب پی تھی، آپ ﷺ نے اس کو چالیس کے قریب چھڑی سے مارا، راوی نے کہا: ابوبکر ؓ نے بھی ایسا ہی کیا، جب عمر ؓ کا زمانہ آیا تو انہوں نے لوگوں سے رائے لی، عبدالرحمن بن عوف ؓ نے کہا: سب حدوں میں جو ہلکی حد قذف ہے، اس میں اسی ( ٨٠ ) کوڑے ہیں، پھر عمر ؓ نے بھی شراب میں اسی کوڑے مارنے کا حکم دیا، اور بخاری میں عقبہ بن حارث سے روایت ہے کہ نعمان نبی کریم ﷺ کے پاس لائے گئے، آپ ﷺ نے ان لوگوں سے جو گھر میں تھے فرمایا: اس کو مارو تو میں نے بھی اس کو جوتوں اور چھڑیوں سے مارا، اور اس باب میں کئی حدیثیں ہیں ان سب سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے شراب پینے کی حد مقرر نہیں کی، جیسا مناسب ہوتا ویسا آپ عمل کرتے، اور ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے تھوڑی مٹی لی اور شرابی کے منہ پر ڈال دی۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی نشے میں آجائے تو اسے کوڑے لگاؤ، اور اگر پھر ایسا کرے تو پھر کوڑے مارو، اور پھر بھی ایسا کرے تو پھر کوڑے مارو ، پھر چوتھی بار کے لیے فرمایا: اس کے بعد بھی ایسا کرے تو اس کی گردن اڑا دو ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "If he gets drunk, then whip him. If he does it again, then whip him. If he does it again, then whip him. And he said concerning the fourth time: If he does it again, then strike his neck (i.e., execute him).
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ روایت منسوخ ہے، عبداللہ بن مسعود ؓ کی اس روایت سے جو باب لايحل دم امريء مسلم إلافي ثلاث میں گزر چکی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں، لايحل دم امريء مسلم يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله إلا أحد ثلاثة نفر: النفس بالنفس، والثيب الزاني، و التارک لدينه المفارق للجماعة نیز جابر ؓ کی ایک روایت سے بھی اس حدیث کے منسوخ ہونے کا پتا چلتا ہے جس میں ہے کہ آپ کے پاس ایسا شخص لایا گیا جس نے چوتھی بار شراب پی تھی، لیکن آپ ﷺ نے اسے کوڑے لگا کر چھوڑ دیا۔
معاویہ بن ابی سفیان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب لوگ شراب پئیں تو انہیں کوڑے لگاؤ، پھر پئیں تو کوڑے لگاؤ، اس کے بعد بھی پئیں تب بھی کوڑے لگاؤ، اس کے بعد پئیں تو انہیں قتل کر دو ١ ؎۔
It was narrated from Muawiyah bin Abu Sufyan (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "If they drink wine, then whip them. If they drink (again), then whip them. If they drink (again), then whip them. If they drink (again), then kill them
1 سعید بن سعد بن عبادہ کہتے ہیں کہ ہمارے گھروں میں ایک ناقص الخلقت (لولا لنگڑا) اور ضعیف و ناتواں شخص تھا، اس سے کسی شر کا اندیشہ نہیں تھا، البتہ (ایک بار) وہ گھر کی لونڈیوں میں سے ایک لونڈی کے ساتھ زنا کر رہا تھا، سعد ؓ اس کے معاملے کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر پہنچے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے سو کوڑے مارو ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! وہ اس سے کہیں زیادہ کمزور ہے، اگر ہم اسے سو کوڑے ماریں گے تو مرجائے گا، آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا کھجور کا ایک خوشہ لو جس میں سو شاخیں ہوں، اور اس سے ایک بار مار دو ١ ؎۔
It was narrated that Saeed bin Sad bin Ubadahh said: "There was a man living among our dwellings who had a physical defect, and to our astonishment he was seen with one of the slave women of the dwellings, committing illegal sex with her. Sad bin "Ubadahh referred his case to the Messenger of Allah ﷺ who said: Give him one hundred lashes. They said: O Prophet ﷺ of Allah he is too weak to bear that. If we give him one hundred lashes he will die. He said: Then take a branch with a hundred twigs and hit him once.” Another chain with similar wording.
Notes · وضاحت
١ ؎: تو گویا سو مار ماریں، یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے ضعیف بندوں پر عنایت ہے، اور مسلم نے علی ؓ سے روایت کی کہ نبی کریم ﷺ کی ایک لونڈی نے زنا کیا، تو آپ ﷺ نے مجھ کو اسے کوڑے مارنے کا حکم دیا، میں اس کے پاس آیا تو دیکھا کہ اس نے ابھی بچہ جنا ہے، میں ڈرا کہیں کوڑے لگانے سے وہ مر نہ جائے، میں نے نبی کریم ﷺ سے بیان کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا اس کو چھوڑ دو یہاں تک کہ نفاس سے پاک ہوجائے صحیح مسلم کی اس روایت میں مہلت کا ذکر ہے جب کہ اس سے پہلی والی حدیث میں بوڑھے پر کوڑے لگانے میں کسی مہلت کا ذکر نہیں تو ان دونوں حدیثوں میں جمع کی صورت یہ ہے کہ جب کسی بیمار کے اچھا ہونے کی امید ہو تو حد نافذ کرنے سے رک جائے یہاں تک کہ وہ اچھا ہوجائے اور جو اس کے اچھا ہوجانے کی امید نہ ہو تو حد نافذ کردیں جیسے سعید بن عبادہ کی روایت میں ہے، واضح رہے بڑھاپا وہ بیماری ہے جس سے اچھا ہونے کی کوئی امید نہیں، اور نفاس وہ بیماری جو کچھ دنوں میں ٹھیک ہوجاتی ہے، اس لئے اس میں مہلت ہے۔
اس سند سے سعد بن عبادہ ؓ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١ ٤٤٧، ومصباح الزجاجة: ٩١٠)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحدود ٣٤ (٤٤٧٢)، مسند احمد (٥/٢٢٢) (صحیح) (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، لیکن حدیث دوسرے طریق سے صحیح ہے )
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٨٣٩، ومصباح الزجاجة: ٩١١)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو ہم مسلمانوں پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "Whoever bears weapons against us is not one of us."
Notes · وضاحت
١ ؎: ارشاد گرامی: وہ ہم میں سے نہیں ہے میں اس شخص کے لئے جو مسلمان پر ہتھیار اٹھائے بڑی وعید ہے، یعنی وہ اپنے اخلاق و عادات میں زمانہ جاہلیت کے کفار کی طرح ہوگیا، جو آپس میں لڑنے بھڑنے اور جنگ کرنے کے عادی تھے، جن احادیث میں گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرنے والے سے رسول اکرم ﷺ کی براءت کا ذکر ہے اس کے سلسلے میں علماء اسلام کی آراء مندرجہ ذیل ہیں: ١ ۔ مرتکب کبیرہ سے رسول اکرم ﷺ کے اعلان براءت کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپ کی اطاعت و اقتداء کرنے والا نہیں، اور اسلامی شریعت کا محافظ و پابند نہیں ہے، تو وہ احادیث جن میں نبی اکرم ﷺ نے صغیرہ گناہوں کے مرتکب سے متعلق ليس منا (فلاں کام کرنے والا ہم میں سے نہیں ہے) فرمایا ہے، تو ان میں ایمان کی نفی سے مراد ایسا ضروری ولابدی ایمان ہے جس کے ذریعہ وہ بغیر سزا و عقاب کے ثواب و اجر کا مستحق ہے، اور یہ معنی سابقہ ایمان کی نفی سے توجیہ کے ہم مثل ہے، ابوعبید القاسم بن سلام اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا یہی مذہب ہے۔ ٢ ۔ امام سفیان بن عیینہ سے اس کا معنی یوں منقول ہے: ليس مثلنا یعنی وہ ہماری طرح نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
حدیث یعقوب بن حمید بن کا سب عن عبدالعزیز أخرجہ: صحیح مسلم/الإیمان ٤٣ (١٠١)، (تحفة الأشراف: ١٢٦٩٢)، وحدیث یعقوب بن حمید بن کا سب عن المغیرة بن عبدالرحمن تفرد بہ ابن ماجہ، تحفة الأشراف: ١٤١٤٩)، وحدیث یعقوب بن حمید بن کا سب عن أنس بن عیاض قد تفرد بہ ابن ماجہ، تحفة الأشراف: ١٤٦٠١، ١٤٦٣١) (صحیح )