ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی ایک حد جو دنیا میں نافذ ہو، اہل زمین کے لیے یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ چالیس دن تک بارش ہو ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "A legal punishment that is carried out in the land is better for the people of that land than if it were to rain for forty days."
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قطع السارق ٧ (٤٩١٩، ٤٩٢٠ موقوفاً )، (تحفة الأشراف: ١٤٨٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٦٢، ٤٠٢) (حسن) (سند میں جریر بن یزید ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث حسن ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو قرآن کی کسی آیت کا انکار کرے، اس کی گردن مارنا حلال ہے، اور جو یہ کہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، اس پر زیادتی کرنے کا اب کوئی راستہ باقی نہیں، مگر جب وہ کوئی ایسا کام کر گزرے جس پر حد ہو تو اس پر حد جاری کی جائے گی ۔
It was narrated from Ibn Abbas (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever denies a Verse of the Quran, it is permissible to strike his neck (i.e., execute him). Whoever says,(None has the right to be worshiped but Allah alone, with no partner or associate, and Muhammad is His slave and Messenger), no one has any way of harming him, unless he (does something which) deserves a legal punishment, and it is carried out on him."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٠٤٢، ومصباح الزجاجة: ٩٠٠) (ضعیف) (سند میں حفص بن عمر ضعیف راوی ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٤١٦ )
عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی حدود کو نافذ کرو، خواہ کوئی قریبی ہو یا دور کا، اور اللہ تعالیٰ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرو ۔
It was narrated from Ubadahh bin Samit that the Messenger of Allah ﷺ said: "Carry out the legal punishments on relatives and strangers, and do not let the fear of blame stop you from carrying out the command of Allah."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٠٨٧، ومصباح الزجاجة: ٩٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٣٠) (حسن )
عطیہ قرظی ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ غزوہ قریظہ کے دن (جب بنی قریظہ کے تمام یہودی قتل کردیئے گئے) رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کئے گئے تو جس کے زیر ناف بال اگ آئے تھے اسے قتل کردیا گیا، اور جس کے نہیں اگے تھے اسے (نابالغ سمجھ کر) چھوڑ دیا گیا، میں ان لوگوں میں تھا جن کے بال نہیں اگے تھے تو مجھے چھوڑ دیا گیا ١ ؎۔
It was narrated that Abdul-Malik bin Umair said: "I heard Atiyyah Al-Qurazi say: We were presented to the Messenger of Allah ﷺ on the Day of Quraizah. Those whose pubic hair had grown were killed, and those whose pubic hair had not yet grown were let go. I was one of those whose pubic hair had not yet grown, so I was let go."
Notes · وضاحت
١ ؎: عطیہ ؓ کا تعلق یہود بنی قریظہ سے تھا، غزوہ احزاب کے فوراً بعد اس قبیلے کی غداری اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے بعد اس پر چڑھائی کا واقعہ پیش آیا، اس غزوہ میں عطیہ ؓ دیگر نابالغ بچوں کے ساتھ قتل ہونے سے بچ گئے، اور بعد میں اسلام قبول کیا، ان کا اسلام اور ان کی اسلامی خدمات بہت اعلیٰ درجے کی ہیں۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے سامنے غزوہ احد کے دن پیش کیا گیا، اس وقت میری عمر چودہ سال کی تھی، آپ ﷺ نے مجھے (غزوہ میں شریک ہونے کی) اجازت نہیں دی، لیکن جب مجھے آپ کے سامنے غزوہ خندق کے دن پیش کیا گیا، تو آپ ﷺ نے اجازت دے دی، اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی۔ نافع کہتے ہیں کہ یہ حدیث میں نے عمر بن عبدالعزیز سے ان کے عہد خلافت میں بیان کی تو انہوں نے کہا: یہی نابالغ اور بالغ کی حد ہے۔
It was narrated that Ibn Umar (RA) said "I was presented to the Messenger of Allah ﷺ on the day of Uhud, when I was fourteen years old but he did not permit me (to fight). I was presented to him on the day of Khandaq when I was Fifteeen years old and he permitted me (to fight)".
Notes · وضاحت
١ ؎: بلوغ کی کئی نشانیاں ہیں: زیر ناف بال اگنا، ڈاڑھی مونچھ کے بال اگنا، احتلام ہونا، پندرہ برس کی عمر کا ہونا۔
Takhrij · تخریج
حدیث أبي أسامة أخرجہ: صحیح البخاری/الشہادات ١٨ (٢٦٦٤)، المغازي ٢٩ (٤٠٩٧)، (تحفة الأشراف: ٧٨٣٣)، وقد أخرجہ: وحدیث عبد اللہ بن نمیر صحیح مسلم/الإمارہ ٢٣ (١٨٦٤)، (تحفة الأشراف: ٧٩٥٥)، مسند احمد (٢/١٧)، وحدیث أبي معاویہ تفردبہ ابن ماجہ، تحفة الأشراف: ٨١١٥)، سنن ابی داود/الخراج ١٦ (٢٩٥٧)، الحدود ١٧ (٤٤٠٦)، سنن الترمذی/الأحکام ٢٤ (١٣١٦)، الجہاد ٣١ (١٧١١)، سنن النسائی/الطلا ق ٢٠ (٣٤٣١)، مسند احمد (٢/١٧) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت دونوں میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever covers (the sin of) a Muslim, Allah Will cover him (his sin) in this world and in the Hereafter."
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرے گا، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا، اور جو اپنے مسلمان بھائی کا کوئی عیب فاش کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کا عیب فاش کرے گا، یہاں تک کہ وہ اسے اس کے گھر میں بھی ذلیل کرے گا ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet ﷺ said: "Whoever conceals the (hidden) fault of his Muslim brother, Allah will conceal his faults on the Day of Resurrection. Whoever exposes the fault of his Muslim brother, Allah will expose his faults, until (so that) He shames him, due to it, in his (own) house."
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ تجربہ کی بات ہے کہ جو کوئی اپنے بھائی مسلمان کا عیب اس کو ذلیل کرنے کے لئے ظاہر کرتا ہے وہ اس سے بڑھ کر عیب میں گرفتار ہوتا ہے، اور اس سے بڑھ کر ذلیل و خوار ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٠٤٣، ومصباح الزجاجة: ٩٠٣) (صحیح) (سند میں محمد بن عثمان جُمَحِي ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: ٣٨٧ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ مخزوم کی ایک عورت کے معاملے میں جس نے چوری کی تھی، قریش کافی فکرمند ہوئے اور کہا: اس کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ سے کون گفتگو کرے گا؟ لوگوں نے جواب دیا: رسول اللہ ﷺ کے چہیتے اسامہ بن زید ؓ کے علاوہ کون اس کی جرات کرسکتا ہے؟ چناچہ اسامہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے گفتگو کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہے ہو ؟ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: لوگو! تم سے پہلے کے لوگ اپنی اس روش کی بناء پر ہلاک ہوئے کہ جب کوئی اعلیٰ خاندان کا شخص چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کمزور حال شخص چوری کرتا تو اس پر حد جاری کرتے۔ اللہ کی قسم! اگر محمد کی بیٹی فاطمہ چوری کرتی تو میں اس کا (بھی) ہاتھ کاٹ دیتا ۔ محمد بن رمح (راوی حدیث) کہتے ہیں کہ میں نے لیث بن سعد کو کہتے سنا: اللہ تعالیٰ نے فاطمہ ؓ کو چوری کرنے سے محفوظ رکھا اور ہر مسلمان کو ایسا ہی کہنا چاہیئے۔
It was narrated from Aisha (RA) that Quraish became concerned about the case of the Makhzumi woman who had stolen, and they said: "Who Will speak to the the Messenger of Allah ﷺ Concerning her?." They said: "Who would dare to do that other than Usama h bin Zaid, the beloved Messenger of Allah? ﷺ " So Usamah spoke to. him, and the Messenger of Allah. said "Are you interceding Concerning one of the legal punishments of Allah?". Then he stood up and addressed (the people) and said: "O people! those who came before you were only destroyed because when one of their nobles stole, they let him off but when one of the weak people among them stole, they would carry out the punishment on him. By Allah if Fatimah the daughter of Muhammad were to steal, I would cut off her hand”
مسعود بن اسود ؓ کہتے ہیں کہ جب اس عورت (فاطمہ بنت اسود) نے رسول اللہ ﷺ کے گھر سے چادر چرائی تو ہمیں اس کی بڑی فکر ہوئی، وہ قریشی عورت تھی، چناچہ ہم گفتگو کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے عرض کیا: ہم اس کے فدیہ میں چالیس اوقیہ ادا کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس عورت کا پاک کردیا جانا اس کے حق میں بہتر ہے ، جب ہم نے رسول اللہ ﷺ کی نرم گفتگو سنی تو (امیدیں لگائے) اسامہ ؓ کے پاس آئے اور ان سے کہا: رسول اللہ ﷺ سے (اس کے سلسلے میں) گفتگو کرو، جب رسول اللہ ﷺ نے یہ دیکھا (کہ اسامہ سفارش کر رہے ہیں) تو کھڑے ہو کر خطبہ دیا، اور فرمایا: کیا بات ہے تم باربار مجھ سے اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہے ہو؟ جو اللہ کی ایک باندی پر ثابت ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر یہ چیز اللہ کے رسول کی بیٹی فاطمہ کے ساتھ پیش آتی، جو اس کے ساتھ پیش آئی ہے تو محمد اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتے ۔
It was narrated from Aisha (RA) bint Masud bin Aswad, that her father said: "When the woman stole the Qatifah from the house of the Messenger of Allah, we regarded that as a serious matter. She was a woman from Quraish. So we came to the Prophet ﷺ and spoke to him, and he said: We will ransom her for forty Uqiyyah: The Messenger of Allah ﷺ said: Purification is better for her: When we heard the Messenger of Allah ﷺ speak so kindly, we went to Usamah and said: Speak to the Messenger of Allah: When the Messenger of Allah ﷺ saw that, he stood up to speak and said: How much do you intercede with me concerning one of the legal punishments of Allah that has befallen one of the female slaves of Allah! By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad, if Fatimah the daughter of the Messenger of Allah, were to do what she has done, Muhammad would cut off her hand:"
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٢٦٣، ومصباح الزجاجة: ٩٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٠٩) (ضعیف) (محمد بن اسحاق مدلس ہیں، روایت عنعنہ سے کی ہے نیز ملاحظہ ہو: الضعیفة: ٤٤٢٥ )
ابوہریرہ، زید بن خالد اور شبل ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا، اور بولا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، اللہ کی کتاب کے مطابق آپ ہمارا فیصلہ کر دیجئیے، اس کا فریق (مقابل) جو اس سے زیادہ سمجھ دار تھا، بولا: آپ ہمارا فیصلہ اللہ کی کتاب کے مطابق فرمائیے لیکن مجھے کچھ کہنے کی اجازت دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: کہو اس نے بیان کیا کہ میرا بیٹا اس آدمی کے یہاں مزدور تھا، اس نے اس کی بیوی سے زنا کرلیا، میں نے اس کی جانب سے سو بکریاں اور ایک نوکر فدیہ میں دے دیا ہے، پھر میں نے اہل علم میں سے کچھ لوگوں سے پوچھا، تو مجھے معلوم ہوا کہ میرے بیٹے کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے، اور اس کی بیوی کے لیے رجم یعنی سنگساری کی سزا ہے، رسول اللہ ﷺ نے یہ سن کر فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب (قرآن) کے مطابق فیصلہ کروں گا، سو بکریاں اور خادم تم واپس لے لو، اور تمہارے بیٹے کے لیے سو کوڑوں اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے، اور اے انیس! کل صبح تم اس کی عورت کے پاس جاؤ اور اگر وہ اقبال جرم کرلے تو اسے رجم کر دو ١ ؎۔ حدیث کے راوی ہشام کہتے ہیں: انیس صبح کو اس کے ہاں پہنچے، اس نے اقبال جرم کیا، تو انہوں نے اسے رجم کردیا۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) Zaid bin Khalid and Shibl said: "We were with the Messenger of Allah and a man came to him and said: I adjure you by Allah to judge between us according to the Book of Allah His opponent, who was more knowledgeable than him, said: Judge between us according to the Book of Allah, but let me speak first: He said: Speak: He said: My son was a servant of this man, and he committed adultery with his wife, and I ransomed him for one hundred sheep and a servant. I asked some men of knowledge and I was told that my son should be given one hundred lashes and exiled for a year, and that the wife of this man should be stoned: The Messenger of Allah ﷺ said: By the One in Whose Hand is my soul, I will judge between you according to the Book of Allah. The one hundred sheep and the servant are to be returned to you, and your son is to be given one hundred lashes and exiled for a year. Go tomorrow, O Unais, to the wife of this man and if she admits it then stone her:"
Notes · وضاحت
١ ؎: عورت شادی شدہ تھی اس لئے اسے پتھر مار مار کر ہلاک کردیا گیا، اور لڑکا شادی شدہ نہیں تھا، اس لئے اس کے لئے ایک سال جلا وطنی اور سو کوڑوں کی سزا متعین کی گئی۔
عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (دین کے احکام) مجھ سے سیکھ لو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے (جنہیں زنا کے جرم میں گھروں میں قید رکھنے کا حکم دیا گیا تھا، اور اللہ کے حکم کا انتظار کرنے کے لیے کہا گیا تھا) راہ نکال دی ہے: کنوارا کنواری کے ساتھ زنا کا مرتکب ہو تو سو کوڑوں اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے، اور شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت کے ساتھ زنا کرے ہو تو سو کوڑوں اور رجم کی سزا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Ubadahh bin Samit that the Messenger of Allah ﷺ said: "Learn from me. Allah has ordained for them (women)) another way. (If) a virgin (commits illegal sexual intercourse) with a virgin, (the punishment is) one hundred lashes and exile for one year. (If) a Thayyib (commits adultery) with a Thayyib, (the punishment is) one hundred lashes and stoning."
Notes · وضاحت
١ ؎: محصن (شادی شدہ) زانی اور محصنہ (شادی شدہ) زانیہ کی سزا سو کوڑے ہیں، پھر رجم کا حکم دیا جائے گا، اور اگر کوڑے نہ مارے جائیں اور صرف رجم پر اکتفا کیا جائے تو ایسا بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے انیس ؓ کو اس عورت کے رجم کا حکم دیا، اور کوڑے مارنے کے لئے نہیں فرمایا، اسی طرح آپ ﷺ نے ماعز اسلمی، غامدیہ ؓ اور یہود کو رجم کا حکم دیا اور کسی کو کوڑے نہیں لگوائے، اسی طرح شیخین (ابوبکر و عمر ؓ) نے اپنی خلافت میں صرف رجم کیا کوڑے نہیں مارے، بعضوں نے کہا: عبادہ ؓ کی حدیث کا حکم منسوخ ہے، اور یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس میں سورة نساء کی آیت کا حوالہ ہے اور سورة نساء اخیر میں اتری۔ اور حق یہ ہے کہ امام کو اس باب میں اختیار ہے، خواہ کوڑے لگا کر رجم کرے، خواہ رجم ہی پر بس کرے۔
حبیب بن سالم کہتے ہیں کہ نعمان بن بشیر ؓ کے پاس ایک ایسا شخص لایا گیا جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کرلی تھی، تو نعمان ؓ نے کہا: میں اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا، پھر کہا: اگر اس کی عورت نے اسے اس لونڈی کے ساتھ صحبت کرنے کی اجازت دی ہے تو میں اس شخص کو سو کوڑے لگاؤں گا، اور اگر اس نے اجازت نہیں دی ہے تو میں اسے رجم کروں گا ۔
It was narrated that Habib bin Salim said: "A man who had intercourse with the slave woman his wife was brought to Numan bin Bashir. He said: I will pass no other judgement than that of the Messenger of Allah ﷺ He said: if (his wife) had made her lawful for him, then I will give him one hundred lashes, but if she has not given permission, I will stone him."
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحدود ٢٨ (٤٤٥٨، ٤٤٥٩)، سنن الترمذی/الحدود ٢١ (١٤٥١)، سنن النسائی/النکاح ٧٠ (٣٣٦٢)، (تحفة الأشراف: ١١٦١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٧٢، ٢٧٦، ٢٧٧)، سنن الدارمی/الحدود ٢٠ (٢٣٧٤) (ضعیف) (سند میں حبیب بن سالم کے بارے میں بخاری نے کہا: فیہ نظر )
سلمہ بن محبق ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص لایا گیا اس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کی تھی، آپ ﷺ نے اس پر حد نافذ نہیں کی ۔
It was narrated from Salamah bin Muhabbiq that the case of a man who had intercourse with the slave woman of his wife was referred to the Messenger of Allah, and he did not stipulate any legal punishment for him.
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحدود ٢٨ (٤٤٦٠، ٤٤٦١)، سنن النسائی/النکاح ٧٠ (٣٣٦٥)، (تحفة الأشراف: ٤٥٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٧٦، ٥/٦) (ضعیف) (سند میں حسن بصری مدلس ہیں، اور ان کی ہشام سے روایت میں کلام ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے کہا: مجھے اندیشہ ہے کہ جب زمانہ زیادہ گزر جائے گا تو کہنے والا یہ کہے گا کہ میں کتاب اللہ میں رجم (کا حکم) نہیں پاتا، اور اس طرح لوگ اللہ تعالیٰ کے ایک فریضے کو ترک کر کے گمراہ ہوجائیں، واضح رہے کہ رجم حق ہے، جب کہ آدمی شادی شدہ ہو گواہی قائم ہو، یا حمل ٹھہر جائے، یا زنا کا اعتراف کرلے، اور میں نے رجم کی یہ آیت پڑھی ہے: الشيخ والشيخة إذا زنيا فارجموهما البتة جب بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت زنا کریں تو ان دونوں کو ضرور رجم کرو ... ١ ؎، رسول اللہ ﷺ نے رجم کیا، اور آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا۔
lt was narrated from Ibn Abbas that Umar bin Khattab said: "I fear that after a long time has passed, Some will say: I do not find (the sentence of) stoning in the Book of Allah, and they will go astray by abandoning one of the obligations enjoined by Allah. Rather stoning is a must if a man is married (or previously married) and proof is established, or if pregnancy results or if he admits it. I have read it (in the Quran), "And if an old man and an old woman commit adultery, stone them both." The Messenger of Allah ﷺ stoned (adulterers) and we stoned (them) after him:"
Notes · وضاحت
١ ؎: بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت سے مراد شادی شدہ لوگ ہیں۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ماعز بن مالک ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور کہا: میں نے زنا کیا ہے، آپ ﷺ نے ان کی طرف سے منہ پھیرلیا، انہوں نے پھر کہا: میں نے زنا کیا ہے، آپ ﷺ نے پھر منہ پھیرلیا، انہوں نے پھر کہا: میں نے زنا کیا ہے، آپ ﷺ نے پھر منہ پھیرلیا، انہوں نے پھر کہا: میں نے زنا کیا ہے، آپ ﷺ نے پھر منہ پھیرلیا یہاں تک کہ چار بار زنا کا اقرار کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ انہیں رجم کردیا جائے، چناچہ جب ان پر پتھر پڑے تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگے، ایک شخص نے انہیں پا لیا، اس کے ہاتھ میں اونٹ کے جبڑے کی ہڈی تھی، اس نے ماعز کو مار کر گرا دیا، پتھر پڑتے وقت ان کے بھاگنے کا تذکرہ جب نبی اکرم ﷺ سے کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: آخر تم نے انہیں چھوڑ کیوں نہ دیا ؟۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "Maiz bin Malik came to the Prophet ﷺ and said: I have committed fornication, and he (the Prophet) turned away from him. He said: I have committed fornication, and he turned away from him. He said: I have committed fornication, and he turned away from him. Then, he said: I have committed fornication, he turned away until when he had confessed four times , he ordered that he should be stoned. When he was being struck with the stones, he ran away, but a man caught up with him who had a camel’s jawbone in his hand; he struck him and he fell down. The Prophet ﷺ was told about. How he fled when the stones hit him, and he said: Why did you not let him be?”
Notes · وضاحت
١ ؎: تاکہ ان سے پھر پوچھے شاید وہ اپنے اقرار سے پھرجاتے اور حد ساقط ہوجاتی، زنا کا اقرار ایک بار کرنا حد کے لئے کافی ہے، اور صحیح مسلم میں ہے کہ آپ ﷺ نے غامدیہ کو رجم کیا، اس نے ایک ہی بار اقرار کیا تھا، ایک یہودی اور یہودیہ کا رجم آگے مذکور ہوگا، اس میں بھی چار بار اقرار کا ذکر نہیں ہے۔
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر زنا کا اعتراف کیا، آپ ﷺ نے حکم دیا تو اس کے کپڑے باندھ دئیے گئے، پھر اس کو رجم کیا، اس کے بعد اس کی نماز جنازہ پڑھی ١ ؎۔
It was narrated from Imran bin Husain that a woman came to the Prophet ﷺ and confessed to committing fornication. He issued orders, and her garments were tightened around her (so that her prirate parts would not become uncovered) then he stoned her, then he offered the funeral prayer for her.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا تو اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے تاکہ بےپردگی نہ ہو، بعضوں نے اس کے حق میں کچھ برے الفاظ نکالے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ سارے مدینہ والوں میں بانٹ دی جائے تو ان کو کافی ہوجائے گی، بیشک یہ عورت اس زمانہ کے تمام عابدوں اور زاہدوں سے درجہ میں زیادہ تھی کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے گناہ کا اقرار کیا، سزا پائی، پھر نبی کریم ﷺ کی نماز جنازہ سے مشرف ہوئی، اللہ ان کے درجہ کو بلند کرے، آمین۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک یہودی جوڑے کو رجم کیا، میں بھی اس کو رجم کرنے والوں میں شامل تھا، میں نے دیکھا کہ یہودی مرد یہودیہ کو پتھروں سے بچانے کے لیے آڑے آجاتا تھا۔
It was narrated from Ibn Umar (RA) : "The Prophet ﷺ stoned two Jews, and I Was among those who stoned them. I saw (the man) trying to shield (the woman) from the stones."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٠١٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحدود ٢٤ (٦١٤٨)، صحیح مسلم/الحدود ٦ (١٦٩٩)، سنن ابی داود/الحدود ٢٦ (٤٤٤٦)، سنن الترمذی/االحدود ١٠ (١٤٣٦)، موطا امام مالک/الحدود ١ (١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٧، ٦٣، ٧٦)، سنن الدارمی/الحدود ١٥ (٢٣٦٧) (صحیح )