سنگسار کرنا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي زَنَيْتُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي زَنَيْتُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: قَدْ زَنَيْتُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، حَتَّى أَقَرَّ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ فَلَمَّا أَصَابَتْهُ الْحِجَارَةُ أَدْبَرَ يَشْتَدُّ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ بِيَدِهِ لَحْيُ جَمَلٍ فَضَرَبَهُ فَصَرَعَهُ، فَذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرَارُهُ حِينَ مَسَّتْهُ الْحِجَارَةُ فَقَالَ: فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهُ.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ماعز بن مالک ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور کہا: میں نے زنا کیا ہے، آپ ﷺ نے ان کی طرف سے منہ پھیرلیا، انہوں نے پھر کہا: میں نے زنا کیا ہے، آپ ﷺ نے پھر منہ پھیرلیا، انہوں نے پھر کہا: میں نے زنا کیا ہے، آپ ﷺ نے پھر منہ پھیرلیا، انہوں نے پھر کہا: میں نے زنا کیا ہے، آپ ﷺ نے پھر منہ پھیرلیا یہاں تک کہ چار بار زنا کا اقرار کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ انہیں رجم کردیا جائے، چناچہ جب ان پر پتھر پڑے تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگے، ایک شخص نے انہیں پا لیا، اس کے ہاتھ میں اونٹ کے جبڑے کی ہڈی تھی، اس نے ماعز کو مار کر گرا دیا، پتھر پڑتے وقت ان کے بھاگنے کا تذکرہ جب نبی اکرم ﷺ سے کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: آخر تم نے انہیں چھوڑ کیوں نہ دیا ؟۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "Maiz bin Malik came to the Prophet ﷺ and said: I have committed fornication, and he (the Prophet) turned away from him. He said: I have committed fornication, and he turned away from him. He said: I have committed fornication, and he turned away from him. Then, he said: I have committed fornication, he turned away until when he had confessed four times , he ordered that he should be stoned. When he was being struck with the stones, he ran away, but a man caught up with him who had a camel’s jawbone in his hand; he struck him and he fell down. The Prophet ﷺ was told about. How he fled when the stones hit him, and he said: Why did you not let him be?”