Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 127 of 218

2518Sunan Ibne-Majah

مکاتب کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثَةٌ كُلُّهُمْ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَوْنُهُ: الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الْأَدَاءَ، وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ التَّعَفُّفَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن میں سے ہر ایک کی مدد کرنا اللہ پر حق ہے، ایک وہ جو اللہ تعالیٰ کی راہ کا غازی ہو، دوسرے وہ مکاتب جو بدل کتابت ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، تیسرا وہ شخص جو پاک دامن رہنے کے ارادے سے نکاح کرے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "There are three who are all entitled to Allahs help: the one who fights in the cause of Allah; the Mukdtab who wants to pay (the price of his freedom); and the one who gets married seeking chastity."

Notes · وضاحت
١ ؎: مکاتب: وہ لونڈی یا غلام جس سے مالک کہے کہ تم اتنا مال ادا کر دو تو تم آزاد ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل الجہاد ٢٠ (١٦٥٥)، سنن النسائی/الجہاد ١٣ (٣١٢٣)، النکاح ٥ (٣٢٢٠)، (تحفة الأشراف: ١٣٠٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٥١، ٤٣٧) (حسن )
2519Sunan Ibne-Majah

مکاتب کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا عَبْدٍ كُوتِبَ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَ أُوقِيَّاتٍ فَهُوَ رَقِيقٌ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس غلام سے سو اوقیہ پر مکاتبت کی گئی ہو، اور وہ سوائے دس اوقیہ کے باقی تمام ادا کر دے، تو وہ غلام ہی رہے گا (جب تک پورا ادا نہ کر دے) ١ ؎۔

It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather that the Messenger af Allah said: “Any slave who has made a contract to buy his freedom for one hundred Uqiyyah and pays it all except ten Uqiyyah; he is still a slave." (One Uqiyyah is equal to 4O Dirham.)

Notes · وضاحت
١ ؎: اوقیہ: ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، جو تقریباً ایک سو اٹھارہ گرام کے مساوی ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٦٧٣، ومصباح الزجاجة: ٨٩٤)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/العتق ١ (٣٩٢٧)، سنن الترمذی/البیوع ٣٥ (١٢٦٠) (حسن) (سند میں حجاج بن ارطاہ مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن متابعت کی وجہ سے یہحسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٦٧٤ )۔
2520Sunan Ibne-Majah

مکاتب کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ نَبْهَانَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: إِذَا كَانَ لِإِحْدَاكُنَّ مُكَاتَبٌ وَكَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر تم میں سے کسی کے پاس مکاتب غلام ہو، اور اس کے پاس اس قدر مال ہوگیا ہو کہ وہ اپنا بدل کتابت ادا کرسکے، تو تم لوگوں کو اس سے پردہ کرنا چاہیئے ۔

It was narrated from Umm Salamah that the Prophet ﷺ said: "If anyone of you (women) has a Mukdtab, and he has enough (wealth) to payoff (his contract of manumission), she must veil herself from him."

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/العتق ١ (٣٩٢٨)، سنن الترمذی/البیوع ٣٥ (١٢٦١)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٨٩) (ضعیف) (سند میں نبہان مجہول راوی ہیں، نیز یہ حدیث اگلی حدیث کے مخالف بھی ہے )
2521Sunan Ibne-Majah

مکاتب کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَزَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ بَرِيرَةَ أَتَتْهَا وَهِيَ مُكَاتَبَةٌ قَدْ كَاتَبَهَا أَهْلُهَا عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ، فَقَالَتْ لَهَا: إِنْ شَاءَ أَهْلُكِ عَدَدْتُ لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً، وَكَانَ الْوَلَاءُ لِي، قَالَ: فَأَتَتْ أَهْلَهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُمْ، فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ تَشْتَرِطَ الْوَلَاءَ لَهُمْ، فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: افْعَلِي، قَالَ: فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: مَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، كُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ كِتَابُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ وَالْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کے پاس بریرہ ؓ آئیں جو مکاتب (لونڈی) تھیں، ان کے مالکوں نے نو اوقیہ پر ان سے مکاتبت کی تھی، عائشہ ؓ نے ان سے کہا: اگر تمہارے مالک چاہیں تو تمہارا بدل مکاتبت میں ایک ہی بار ادا کروں، مگر تمہاری ولاء (میراث) میری ہوگی، چناچہ بریرہ ؓ اپنے مالکوں کے پاس آئیں، اور ان سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے یہ (پیش کش) اس شرط پر منظور کرلی کہ ولاء (میراث) کا حق خود ان کو ملے گا، اس کا تذکرہ عائشہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم اپنا کام کر ڈالو ، اور پھر آپ نے کھڑے ہو کر لوگوں میں خطبہ دیا، اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کر کے فرمایا: آخر لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہیں ہیں، اور ہر وہ شرط جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہ ہو باطل ہے، اگرچہ ایسی سو شرطیں ہوں، اللہ کی کتاب سب سے زیادہ حقدار اور اللہ تعالیٰ کی شرط سب سے زیادہ قوی ہے، ولاء اسی کا حق ہے جو (مکاتب کی طرف سے مال ادا کر کے) اسے آزاد کرے ۔

It was narrated from Hisham bin Urwah, from his father, about Aisha (RA) , the wife of the Prophet ﷺ that Barirah came to her when she was Mukdtabah, and her masters had written a contract of manumission for nine Uqiyyah. She ( Aisha (RA) ) said: "If your masters wish I will pay them that in one sum, and the right of inheritance will belong to me." He said: "So she went to her masters and told them about that, but they insisted that the right of inheritance should belong to them. Aisha (RA) mentioned that to Prophet ﷺ and he Said Do it’. Then the Prophet ﷺ stood up and addressed the people. He praised and glorified Allah, then he said: What is the matter Wit some people who stipulated conditions that are not in the Book of Allah? Every condition that is not in the Book of Allah is invalid, even if there are one hundred conditions. The Book of Allah is more deserving of being followed and the conditions of Allah are more binding. And the Wala belongs to the one who manumits (the slave).

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ مکاتب جب بدل کتابت کی ادائیگی سے عاجز ہوجائے تو وہ پھر غلام ہوجاتا ہے، اور اس کی بیع درست ہوجاتی ہے، اور بریرہ ؓ کا یہی حال ہوا تھا، جب تو ام المؤمنین عائشہ ؓ نے ان کو خرید کر کے آزاد کردیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المکاتب ٣ (٢٥٦٣)، صحیح مسلم/العتق ٢ (١٥٠٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٢٦٣)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطلاق ١٩ (٢٢٣٣)، سنن الترمذی/البیوع ٣٣ (١٢٥٦)، سنن النسائی/الطلاق ٣١ (٣٤٨٣)، موطا امام مالک/الطلاق ١٠ (٢٥)، مسند احمد (٦/٤٦، ١١٥، ١٢٣، ١٧٢، ١٩١، ٢٠٧)، سنن الدارمی/الطلاق ١٥ (٢٣٣٥) (صحیح )
2522Sunan Ibne-Majah

غلام کو آزاد کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، قَالَ: قُلْتُ لِكَعْبٍ: يَا كَعْبَ بْنَ مُرَّةَ، حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا، كَانَ فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ يُجْزِئُ بِكُلُّ عَظْمٍ مِنْهُ عَظْمٍ مِنْهُ، وَمَنْ أَعْتَقَ امْرَأَتَيْنِ مُسْلِمَتَيْنِ، كَانَتَا فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ يُجْزِئُ بِكُلِّ عَظْمَيْنِ مِنْهُمَا عَظْمٌ مِنْهُ.

شرحبیل بن سمط کہتے ہیں کہ میں نے کعب ؓ سے کہا: کعب بن مرہ! ہم سے رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کریں، اور احتیاط سے کام لیں، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو شخص کسی مسلمان کو آزاد کرے گا تو وہ اس کے لیے جہنم سے نجات کا ذریعہ ہوگا، اس کی ہر ہڈی اس کی ہر ہڈی کا فدیہ بنے گی، اور جو شخص دو مسلمان لونڈیوں کو آزاد کرے گا تو یہ دونوں اس کے لیے جہنم سے نجات کا ذریعہ بنیں گی، ان کی دو ہڈیاں اس کی ایک ہڈی کے برابر ہوں گی ۔

It was narrated that Shurahbil bin Simt said: I said to Kab: O Kab bin Murrah, tell us a Hadith from the Messenger of Allah ﷺ , but be careful. He said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "Whoever frees a Muslim man, he will be his ransom from the Fire; each of his bones will suffice (as a ransom) for each of his bones. Whoever frees two Muslim women, they will be his ransom from the Fire; each of their two bones will suffice (as a ransom) for each of his bones.

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/العتق ١٤ (٣٩٦٧)، سنن النسائی/الجہاد ٢٦ (٣١٤٦)، (تحفة الأشراف: ١١١٦٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/فضائل الجہاد ٩ (١٦٣٤)، مسند احمد (٤/٢٣٥، ٢٣٦) (صحیح )
2523Sunan Ibne-Majah

غلام کو آزاد کرنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا وَأَغْلَاهَا ثَمَنًا.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا غلام آزاد کرنا سب سے زیادہ بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جو مالکوں کو سب سے زیادہ پسند ہو، اور جو قیمت کے اعتبار سے سب سے مہنگا ہو ١ ؎۔

It was narrated that Abu Dharr (RA) said “ I said: O Messenger of Allah, which slave is best? He said: The one who is most precious to his master and most valuable in price:’"

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اللہ کی راہ میں ہمیشہ عمدہ اور قیمتی چیز دینا بہتر ہے، کیونکہ وہ شہنشاہ بےپرواہ ہے اس کو کسی چیز کی پرواہ نہیں، اور ادب بھی یہی ہے کہ اس کے نام پر وہی چیز دیں جو نہایت محبوب اور مرغوب اور قیمتی ہو: لَن تَنَالُواْ الْبِرَّ حَتَّى تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَ (سورة آل عمران: 92)۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العتق ٢ (٢٥١٨)، صحیح مسلم/الإیمان ٣٥ (٨٤)، سنن النسائی/الجہاد ١٧ (٣١٣١)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٠٤) (صحیح )
2524Sunan Ibne-Majah

جومحرم رشتہ دار کا مالک ہوجائے تو وہ (رشتہ دار) آزاد ہے۔

حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْقَتَادَةَ وَعَاصِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ.

سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو کسی محرم رشتے دار کا مالک بن جائے تو وہ آزاد ہے ۔

It was narrated from Samurah bin Jundub that the Prophet ﷺ said: "Whoever becomes the master of a Mahram relative (with whom marriage is not lawful), he becomes free. "

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/العتق ٧ (٣٩٤٩)، سنن الترمذی/الأحکام ٢٨ (١٣٦٥)، (تحفة الأشراف: ٤٥٨٠، ٤٥٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٥، ١٨، ٢٠) (صحیح) (حدیث کو ترمذی نے حسن کہا ہے، اور حاکم نے صحیح، اور ذہبی نے ان کی موافقت فرمائی ہے، حالانکہ سند میں حسن بصری ہیں، جن کا سماع سمرة ؓ سے صرف حدیث عقیقہ کا ہے، دوسری کوئی حدیث ان سے نہیں سنی ہے، لیکن حدیث اپنے طرق و شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٧٤٦ )
2525Sunan Ibne-Majah

جومحرم رشتہ دار کا مالک ہوجائے تو وہ (رشتہ دار) آزاد ہے۔

حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعِيدٍ الرَّمْلِيُّ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَهْمِ الْأَنْمَاطِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی محرم رشتے دار کا مالک ہوجائے تو وہ آزاد ہے ۔

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever becomes the master of a Mahram relative, he becomes free."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧١٥٧، ومصباح الزجاجة: ٨٩٥)، سنن الترمذی/الأحکام ٢٨ (١٣٦٥ تعلیقاً ) (صحیح) (ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٧٤٦ )
2526Sunan Ibne-Majah

غلام کو آزاد کرنا اور اس پر اپنی خدمت کی شرط ٹھہرانا

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، عَنْ سَفِينَةَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: أَعْتَقَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ وَاشْتَرَطَتْ عَلَيَّ أَنْ أَخْدُمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عَاشَ.

عبداللہ بن معاویہ، حماد بن سلمہ، سعید بن جمہان، حضرت سفینہ ابوعبدالرحمن کہتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ نے مجھے آزاد کیا اور میرے ساتھ یہ شرط ٹھہرائی کہ حیات طیبہ میں نبی کی خدمت کروں۔

It was narrated that Safinah - Abu Abdur-Rahman said: "Umm Salamah freed me, but stipulated that I should serve the Prophet ﷺ as long as he lived."

2527Sunan Ibne-Majah

غلام میں اپنا حصہ آزاد کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْالنَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ أَوْ شِقْصًا، فَعَلَيْهِ خَلَاصُهُ مِنْ مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ فِي قِيمَتِهِ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی کسی (مشترک) غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دے، تو اس کی ذمہ داری ہے کہ اگر اس کے پاس مال ہو تو اپنے مال سے اس کو مکمل آزاد کرائے، اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو غلام سے باقی ماندہ قیمت کی ادائیگی کے لیے مزدوری کرائے، لیکن اس پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever frees his share of a slave or part of his share, must pay from his wealth if he has any wealth (in order to buy the rest of the slaves freedom). If he does not have ? wealth, then the slave should be asked to work for the price (of his freedom), without that causing , him too much hardship.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الشرکة ٥ (٢٤٩٢)، ١٤ (٢٥٠٤)، العتق ٥ (٢٥٢٦، ٢٥٢٧)، صحیح مسلم/العتق ١ (١٥٠٣)، سنن ابی داود/العتق ٣ (٣٩٣٤)، سنن الترمذی/الأحکام ١٤ (١٣٤٨)، (تحفة الأشراف: ١٢٢١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٥٥، ٣٤٧، ٤٢٦، ٤٦٨، ٤٧٢، ٥٣١) (صحیح )
2528Sunan Ibne-Majah

غلام میں اپنا حصہ آزاد کرنا

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ أُقِيمَ عَلَيْهِ بِقِيمَةِ عَدْلٍ، فَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ إِنْ كَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَهُ وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی غلام میں سے اپنے حصہ کو آزاد کر دے، تو کسی عادل شخص سے غلام کی قیمت لگوائی جائے گی، اور اس کے بقیہ شرکاء کے حصہ کی قیمت بھی اسے ادا کرنی ہوگی، بشرطیکہ اس کے پاس اس قدر مال ہو جتنی غلام کی قیمت ہے، اور اس طرح پورا غلام اس کی طرف سے آزاد ہوجائے گا، لیکن اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو ایسی صورت میں بس اسی قدر غلام آزاد ہوگا جتنا اس نے آزاد کردیا ۔

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever frees his share of a slave, the price of the slave should be fairly evaluated,and he (the partner who initiated this process) should free him (in full, by giving the rest of his price to the other co-owners), if he has enough wealth to do so. Otherwise, he will have freed whatever he freed."

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العتق ٤ (٢٥٢٢)، الشرکة ٥ (٢٤٩١)، ١٤ (٢٥٠٣)، صحیح مسلم/العتق ١ (١٥٠١)، الأإیمان ١٢ (١٥٠١)، سنن ابی داود/العتق ٦ (٣٩٤٠)، (تحفة الأشراف: ٧٦٠٤)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأحکام ١٤ (١٣٤٦)، سنن النسائی/ البیوع ١٠٤ (٤٧٠٣)، موطا امام مالک/العتق ١ (١)، مسند احمد (٢/٢، ١٥، ٣٤، ٧٧، ١٠٥، ١١٢، ١٤٢، ١٥٦) (صحیح )
2529Sunan Ibne-Majah

جو کسی غلام کو آزاد کرے اور اس غلام کے پاس مال بھی ہو

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ جَمِيعًا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ، فَمَالُ الْعَبْدِ لَهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ السَّيِّدُ مَالَهُ فَيَكُونَ لَهُ، وَقَالَ ابْنُ لَهِيعَةَ: إِلَّا أَنْ يَسْتَثْنِيَهُ السَّيِّدُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی ایسے غلام کو آزاد کرے جس کے پاس مال ہو، وہ مال غلام ہی کا ہوگا، سوائے اس کے کہ مالک غلام سے اس کے مال کی شرط لگالے تو وہ مال مالک کا ہوگا ۔ ابن لہیعہ کی روایت میں (شرط کے بجائے) إلا أن يستثنيه السيد ہے (سوائے اس کے کہ مالک مال کا استثناء کرلے) ۔

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever frees a slave who has some wealth, the slaves wealth belongs to him, unless the master stipulates that it will belong to him."

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/العتق ١١ (٣٩٦٢)، (تحفة الأشراف: ٧٦٠٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المساقاة ١٧ (٢٣٧٩)، صحیح مسلم/البیوع ١٥ (١٥٤٣)، سنن الترمذی/البیوع ٢٥ (١٢٤٤) (صحیح )
2530Sunan Ibne-Majah

جو کسی غلام کو آزاد کرے اور اس غلام کے پاس مال بھی ہو

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ جَدِّهِ عُمَيْرٍ وَهُوَ مَوْلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، قَالَ لَهُ: يَا عُمَيْرُ إِنِّي أُعِتِقُكَ عِتْقًا هَنِيئًا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَيُّمَا رَجُلٍ أَعْتَقَ غُلَامًا وَلَمْ يُسَمِّ مَالَهُ فَالْمَالُ لَهُفَأَخْبِرْنِي مَا مَالُكَ؟ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا الْمُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ لِجَدِّي فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

عمیر مولی عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ابن مسعود ؓ نے ان سے کہا: عمیر! میں نے تمہیں خوشی خوشی آزاد کردیا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جو شخص ایک غلام آزاد کرے اور اس کے مال کا تذکرہ نہ کرے، تو وہ مال غلام کا ہوگا ، مجھے بتاؤ تمہارے پاس کیا مال ہے؟۔

It was narrated from Ishaq bin Ibrahim, from his grandfather Umair, who was the freed slave of Ibn Masud, that Abdullah said to him: "O "Umair, I have set you free in a good way. I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Any man who frees a slave and does not say anything about his(the slave’s) wealth, it belongs to him (the slave) ‘So tell me, how much wealth do you have?”’

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٤٩٣، ومصباح الزجاجة: ٨٩٦) (ضعیف) (سند میں اسحاق بن ابراہیم المسعودی مجہول راوی ہیں، امام بخاری کہتے کہ حدیث کو مرفوع روایت کرنے میں ان کی متابعت نہیں کی جائے گی، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٧٤٨ ) اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٤٩٣، ومصباح الزجاجة: ٨٩٧ )
2531Sunan Ibne-Majah

ولدالزنا کو آزاد کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الضَّنيِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ مَوْلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ وَلَدِ الزِّنَا، فَقَالَ: نَعْلَانِ أُجَاهِدُ فِيهِمَا خَيْرٌ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ وَلَدَ الزِّنَا.

نبی اکرم ﷺ کی لونڈی میمونہ بنت سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ولد الزنا کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: جوتیوں کی ایسی جوڑی جسے پہن کر جہاد کروں، وہ ولد الزنا کو آزاد کرنے سے بہتر ہے ۔

It was narrated from Maimunah bint Sad, the freed slave woman of the Prophet ﷺ that the Messenger of Allah ﷺ was asked about illegitimate children. He said: "Two sandals in which I wage Jihad are better than freeing an illegitimate child."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٠٨٨، ومصباح الزجاجة: ٨٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٦٣)، (ضعیف) (سند میں ابویزید مجہول اور منکر الحدیث راوی ہے )
2532Sunan Ibne-Majah

مرد اور اس کی بیوی کو آزاد کرنا ہو تو پہلے مرد کو آزاد کرے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْعَائِشَةَ، أَنَّهَا كَانَ لَهَا غُلَامٌ وَجَارِيَةٌ زَوْجٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُعْتِقَهُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ أَعْتَقْتِهِمَا فَابْدَئِي بِالرَّجُلِ قَبْلَ الْمَرْأَةِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک غلام اور ایک لونڈی میاں بیوی تھے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں ان دونوں کو آزاد کرنا چاہتی ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم ان دونوں کو آزاد کرنا چاہتی ہو تو عورت سے پہلے مرد کو آزاد کرو ۔

It was narrated that Aisha (RA) had a male slave and a female slave who were married. She said: "O Messenger of Allah, I want to free them both." The Messenger of Allah ﷺ said: "If you free them, then start with the man before the woman."

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ٢ (٢٢٣٧)، سنن النسائی/الطلاق ٢٨ (٣٤٧٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٣٤) (ضعیف) (سند میں اسحاق بن منصور اور عبید اللہ بن عبد الرحمن بن موھب دونوں ضعیف ہیں )
2533Sunan Ibne-Majah

مسلمان کا خون حلال نہیں سوائے تین صورتوں کے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ فَسَمِعَهُمْ وَهُمْ يَذْكُرُونَ الْقَتْلَ، فَقَالَ: إِنَّهُمْ لَيَتَوَاعَدُونِي بِالْقَتْلِ فَلِمَ يَقْتُلُونِي وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثٍ: رَجُلٌ زَنَى وَهُوَ مُحْصَنٌ فَرُجِمَ، أَوْ رَجُلٌ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ، أَوْ رَجُلٌ ارْتَدَّ بَعْدَ إِسْلَامِهِ، فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا فِي إِسْلَامٍ وَلَا قَتَلْتُ نَفْسًا مُسْلِمَةً وَلَا ارْتَدَدْتُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ.

ابوامامہ بن سہل بن حنیف ؓ سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان ؓ نے ان (بلوائیوں) کو جھانک کر دیکھا، اور انہیں اپنے قتل کی باتیں کرتے سنا تو فرمایا: یہ لوگ مجھے قتل کی دھمکی دے رہے ہیں، آخر یہ میرا قتل کیوں کریں گے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: کسی مسلمان کا قتل تین باتوں میں سے کسی ایک کے بغیر حلال نہیں: ایک ایسا شخص جو شادی شدہ ہو اور زنا کا ارتکاب کرے، تو اسے رجم کیا جائے گا، دوسرا وہ شخص جو کسی مسلمان کو ناحق قتل کر دے، تیسرا وہ شخص جو اسلام قبول کرنے کے بعد اس سے پھر جائے (مرتد ہوجائے) ، اللہ کی قسم میں نے نہ کبھی جاہلیت میں زنا کیا، اور نہ اسلام میں، نہ میں نے کسی مسلمان کو قتل کیا، اور نہ ہی اسلام لانے کے بعد ارتداد کا شکار ہوا ١ ؎۔

It was narrated from Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif that Uthman bin Affan looked at them and heard them when they spoke of killing. He said: "Are they threatening to kill me? Why would they kill me? I heard the Messenger of Allah ﷺ say: It is not lawful to shed the blood of a Muslim except in one of three (cases): a man who commits adultery when he is a married person, then he should be stoned; a man who kills a soul not in retaliation for murder and a man Who apostatizes after becoming Muslim. By Allah, I never committed adultery either during Ignorance days nor in Islam, and I have never killed a Muslim soul, and I have not apostatized since I became Muslim."

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ عثمان ؓ نے حجت قائم کی ان بےرحم باغیوں پر جو آپ کے قتل کے درپے تھے، لیکن انہوں نے اس دلیل کا کوئی جواب نہیں دیا، اور بڑی بےرحمی کے ساتھ گھر میں گھس کر آپ ؓ کو قتل کیا، اس وقت آپ روزے سے تھے، اور تلاوت قرآن میں مصروف تھے، إنا للہ وإنا إلیہ راجعون۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الدیات ٣ (٤٥٠٢)، سنن الترمذی/الفتن ١ (٢١٥٨)، سنن النسائی/المحاربة (تحریم الدم) ٦ (٤٠٢٤)، (تحفة الأشراف: ٩٧٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٦١، ٦٢، ٦٥، ٧٠)، سنن الدارمی/الحدود ١ (٢٣٤٣) (صحیح )
2534Sunan Ibne-Majah

مسلمان کا خون حلال نہیں سوائے تین صورتوں کے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنِ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، إِلَّا أَحَدُ ثَلَاثَةِ نَفَرٍ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ وَالثَّيِّبُ الزَّانِي وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی مسلمان کا جو صرف اللہ کے معبود برحق ہونے، اور میرے اللہ کا رسول ہونے کی گواہی دیتا ہو، خون کرنا حلال نہیں، البتہ تین باتوں میں سے کوئی ایک بات ہو تو حلال ہے: اگر اس نے کسی کی جان ناحق لی ہو، یا شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کا مرتکب ہوا ہو، یا اپنے دین (اسلام) کو چھوڑ کر مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہوگیا ہو (یعنی مرتد ہوگیا ہو) ، (تو ان تین صورتوں میں اس کا خون حلال ہے) ١ ؎۔

It was narrated from Abdullah, who is Ibn Masud, that the Messenger of Allah ﷺ said: "It is not lawful to shed the blood of a Muslim who bears witness that none has the right to be worshiped but Allah, and that I am the Messenger of Allah, except in one of the three cases: a soul for a soul; a married person who commits adultery, and one who leaves his religion and splits from the Jamaah”.

Notes · وضاحت
١ ؎: پس جہاں توحید و رسالت پر ایمان لایا، مسلمان ہوگیا، اب اس کا خون بہانا حرام اور ناجائز ٹھہرا، اگرچہ وہ دوسرے فروعی مسائل میں کتنا ہی اختلاف رکھتا ہو۔ افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اس عمدہ قانون کو چھوڑ کر آپس ہی میں اختلاف و تشدد اور لڑائی جھگڑے کا بازار گرم کیا، اور مسلمان مسلمان ہی کو مارنے لگے، اور ان کے بعض جاہل مولوی فتوی دینے لگے کہ فلاں مسلمان اس مسئلہ میں خلاف کرنے سے کافر اور مرتد اور واجب القتل ہوگیا، حالانکہ صحیح حدیث سے صاف ثابت ہے کہ جو توحید اور رسالت کو مانتا ہو وہ مسلمان ہے، اس کا قتل کرنا کسی طرح جائز نہیں، اب اگر یہ کہیں کہ ابوبکر صدیق ؓ نے مانعین زکاۃ کے خلاف جہاد کیا تھا، حالانکہ وہ توحید اور رسالت کو مانتے تھے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ زکاۃ اسلام کا رکن ہے، اور اس کے ساتھ بھی ابوبکر ؓ پر صحابہ ؓ نے اعتراض کیا تھا، جب انہوں نے ان لوگوں سے لڑنا چاہا تھا، لیکن ابوبکر ؓ امام اور خلیفہ وقت تھے، اور ان کی اطاعت بموجب حدیث نبوی واجب تھی اور انہوں نے دلیل لی دوسری احادیث و آیات سے، اب ایسا واجب اطاعت امام اور خلیفہ کون ہے جس کے ماتحت ہو کر تم مسلمانوں سے لڑتے ہو اور ان کو ستاتے ہو، اور بات بات پر مار کاٹ اور زد و کو ب اور سب و شتم کا ارتکاب کرتے ہو، بھلا دوران نماز رفع یدین کرنا یا نہ کرنا، آمین زور سے یا آہستہ کہنا، ہاتھ زیر ناف یا ٍسینے پر باندھنا، یہ بھی ایسی چیزیں ہیں جن کے لئے مسلمانوں میں فتنہ و فساد ہو؟ اور ان کی عزت اور جان کو داؤ پر لگایا جائے؟ سنت نبوی پر عمل کرنے والوں کے خلاف محاذ آرائی کرنے والوں اور ان کو مارنے پیٹنے والوں کا معاملہ قاتلین عثمان کی طرح ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا مسلمان کو گالی دینا فسق ہے، اور اس سے لڑنا کفر ہے، پس مسلمانوں کو چاہیے کہ اس نکتہ کو سمجھیں اور باہم متحد ہوجائیں، مسلمانوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ جب وہ آپس میں فروعی مسائل میں اختلاف کی وجہ سے لڑتے جھگڑتے ہیں تو ان کی اس ناسمجھی پر دشمن کتنا ہنستے اور خوش ہوتے ہیں، برخلاف مسلمانوں کے نصاری میں متعدد فرقے ہیں اور ہر ایک دوسرے کو جہنمی خیال کرتا ہے، لیکن عیسیٰ (علیہ السلام) کے ماننے کی وجہ سے سب ایک رہتے ہیں، اور غیر مذہب والوں سے مقابلہ کرتے وقت سب ایک دوسرے کے مددگار اور معاون بن جاتے ہیں، مسلمانوں کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے کہ جو کوئی اللہ کی عبادت کرے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے، محمد ﷺ کو سچا رسول اور آخری نبی جانے اس آدمی کو اپنا مسلمان بھائی سمجھیں، گو فروعی مسائل میں اختلاف باقی رہے۔ مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق کا سب سے آسان نسخہ یہ ہے کہ وہ اللہ کی رسی یعنی کتاب و سنت کی تعلیمات کو مضبوطی سے پکڑ لیں اور آپس میں اختلاف نہ کریں، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَتَفَرَّقُواْ (سورة آل عمران: 103) سب مل کر اللہ کی رسی۔ یعنی اس کے دین اور کتاب و سنت۔ کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو، نیز رسول اکرم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے: ترکت فيكم أمرين لن تضلوا ما إن تمسکتم بهما کتاب الله و سنة رسوله میں نے تمہارے درمیان دو چیزیں یعنی کتاب اللہ و سنت رسول چھوڑی ہیں جب تک تم ان دونوں پر عمل کرتے رہو گے ہرگز گمراہ نہیں ہو گے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدیات ٦ (٦٨٧٦)، صحیح مسلم/القسامة ٦ (١٦٧٦)، سنن ابی داود/الحدود ١ (٤٣٥٢)، سنن الترمذی/الدیات ١٠ (١٤٠٢)، سنن النسائی/المحاربة ٥ (٤٠٢١)، (تحفة الأشراف: ٩٥٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٢، ٤٢٨، ٤٤٤، ٤٦٥)، سنن الدارمی/الحدود ٢ (٢٣٤٤) (صحیح )
2535Sunan Ibne-Majah

جو شخص اپنے دین سے پھر جائے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اپنے دین (اسلام) کو بدل ڈالے اسے قتل کر دو ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Abbas (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever changes his religion, execute him."

Notes · وضاحت
١ ؎: ابوموسی اشعری ؓ کی حدیث صحیحین میں ہے کہ معاذ بن جبل ؓ یمن میں ان کے پاس گئے، وہاں ایک شخص بندھا ہوا تھا، انہوں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ ابوموسی اشعری ؓ نے کہا: یہودی تھا پھر مسلمان ہوگیا، اب پھر یہودی ہوگیا، معاذ ؓ نے کہا: میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا جب تک کہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق اسے قتل نہ کردیا جائے، اور مرتد چاہے مرد ہو یا عورت واجب القتل ہے۔ امام ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ عورت کو قتل نہیں کیا جائے گا، بلکہ اسے قید کریں گے، یہاں تک کہ دوبارہ دین اسلام میں داخل ہوجائے۔ اور فقہاء کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے مرتد کے ان شبہات کا ازالہ کریں گے جو اس کو اسلام کے بارے میں لاحق ہے، اور تین دن تک قید میں رکھیں گے، اگر اس پر بھی مسلمان نہ ہو تو اس کو قتل کردیں گے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ١٤٩ (٣٠١٧)، المرتدین ٢ (٦٩٢٢)، سنن ابی داود/الحدود ١ (٤٣٥١)، سنن الترمذی/الحدود ٢٥ (١٤٥٨)، سنن النسائی/الحدود ١١ (٤٠٦٤)، (تحفة الأشراف: ٥٩٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٨٢، ٢٨٣، ٣٢٣) (صحیح )
2536Sunan Ibne-Majah

جو شخص اپنے دین سے پھر جائے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْ مُشْرِكٍ أَشْرَكَ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ عَمَلًا حَتَّى يُفَارِقَ الْمُشْرِكِينَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ.

معاویہ بن حیدۃ قشیری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی ایسے مشرک کا کوئی عمل قبول نہیں کرے گا جو اسلام لانے کے بعد شرک کرے، الا یہ کہ وہ پھر مشرکین کو چھوڑ کر مسلمانوں سے مل جائے ١ ؎۔

It was narrated from Bahz bin Hakim, from his father, from his grandfather that the Messenger of Allah ﷺ said: "Allah will not accept any good deed from a polytheist who committed polytheism after having become Muslim, until he leaves the polytheists and joins the Muslims."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دار الکفر سے دار الاسلام میں آجائے، مراد وہ دار الکفر ہے جہاں مسلمان اسلام کے ارکان اور عبادات بجا نہ لاسکیں، ایسی جگہ سے ہجرت کرنا فرض ہے اور بعضوں نے کہا: مسلمانوں کی جماعت میں شریک ہونے کا مقصدیہ ہے کہ کافروں کی عادات و اخلاق چھوڑ دے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ١ (٢٤٣٨)، ٧٣ (٢٥٦٩)، (تحفة الأشراف: ١١٣٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٥) (حسن )
2537Sunan Ibne-Majah

حدود کو نافذ کرنا

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ أَبِي شَجَرَةَ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِقَامَةُ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ مَطَرِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً فِي بِلَادِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی ایک حد کا نافذ کرنا اللہ تعالیٰ کی زمین پر چالیس رات بارش ہونے سے بہتر ہے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn’ Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Carrying out one of the legal punishments prescribed by Allah is better than if it were to rain for forty nights in the land of Allah, Glorified is He."

Notes · وضاحت
١ ؎: جیسے بارش سے خوشحالی آجاتی ہے، کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں۔ ایسے ہی رعایا کی زندگی اسلامی حدود کے نافذ کرنے سے ہوتی ہے، مجرمین کو سزا ہوتی ہے لوگوں کے جان و مال محفوظ رہتے ہیں، اور لوگوں کو راحت حاصل ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٣٨١، ومصباح الزجاجة: ٨٩٩) (حسن) (سند میں سعید بن سنان ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٣٣١ )