Sunan Ibne-Majah 2585

حدود کا بیان

2585Sunan Ibne-Majah

چوری کرنے والے کی حد (سزا)

حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَمْرَةَ أَخْبَرَتْهُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُقْطَعُ الْيَدُ إِلَّا فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا.

1 ام المؤمینین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاتھ اسی وقت کاٹا جائے گا جب (چرائی گئی چیز کی قیمت) چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ ہو ١ ؎۔

It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Do not cut off (the thief’s hand) except for something worth one quarter of a Dinar or more."

Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ ربع دینار یعنی تین درہم یا اس سے زیادہ کی مالیت کا سامان اگر کوئی چوری کرتا ہے، تو اس کے عوض ہاتھ کاٹا جائے گا، ایک درہم چاندی کا وزن تقریباً تین گرام ہے، اس طرح سے تقریباً نو گرام چاندی کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا، اور دینار کا وزن سوا چار گرام خالص سونا ہے۔ (ملاحظہ ہو: توضیح الأحکام من بلوغ المرام ٦ /٢٦٤- ٢٦٥ )
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحدود ١٤ (٦٧٨٩)، صحیح مسلم/الحدود ١ (١٦٨٤)، سنن ابی داود/الحدود ١١ (٤٣٨٣)، سنن الترمذی/الحدود ١٦ (١٤٤٥)، سنن النسائی/قطع السارق ٧ (٤٩٢٠)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٢٠)، و قد أخرجہ: موطا امام مالک/الحدود ٧ (٢٣)، مسند احمد (٦/٣٦، ٨٠، ٨١، ١٠٤، ١٦٣، ٢٤٩، ٢٥٢)، سنن الدارمی/الحدود ٤ (٢٣٤٦) (صحیح )