حذیفہ بن یمان ؓ سے روایت ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ وہ اہل کتاب کے ایک شخص سے ملا تو اس نے کہا: تم کیا ہی اچھے لوگ ہوتے اگر شرک نہ کرتے، تم کہتے ہو: جو اللہ چاہے اور محمد چاہیں، اس مسلمان نے یہ خواب نبی اکرم ﷺ سے بیان کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں اس بات کو جانتا ہوں (کہ ایسا کہنے میں شرک کی بو ہے) ۔ لہٰذا تم ما شاء الله ثم شاء محمد جو اللہ چاہے پھر محمد چاہیں کہو ١ ؎۔
It was narrated from Hudhaifah bin Yaman that a Muslim man saw in a dream that he met a man from among the People of the Book, who said: "What good people you would be if only you were not committing Shirk. For you say: What Allah wills and Muhammad wills." He mentioned that to the Prophet ﷺ and he said: "By Allah, I am aware of that. Say: What Allah wills then what Muhammad wills. (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ کے بعد محمد کو رکھو تو حرج نہیں اس لئے کہ اللہ کے برابر کوئی نہیں، سب اس کے بندے اور غلام ہیں، جب نبی کریم ﷺ نے اپنی نسبت ایسا کہنے سے منع فرمایا تو اب کسی ولی، پیر و مرشد اور فقیر و درویش کی کیا بساط ہے کہ وہ کسی کام کے کرنے یا ہونے یا نہ ہونے میں اللہ کے نام کے ساتھ شریک ہوجائے۔
اس سند سے ام المؤمنین عائشہ ؓ کے علاتی بھائی طفیل بن سخبرہ ؓ سے بھی اسی طرح کی مرفوعاً روایت آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تجفة الأشراف: ٣٣١٨، ومصباح الزجاجة: ٧٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣٩٣٥) (صحیح )
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٩٢، ومصباح الزجاجة: ٧٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٧٢، ٣٩٨ )
سوید بن حنظلہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہونے کے ارادے سے نکلے، اور ہمارے ساتھ وائل بن حجر ؓ بھی تھے، ان کو ان کے ایک دشمن نے پکڑ لیا، تو لوگوں نے قسم کھانے میں حرج محسوس کیا، آخر میں نے قسم کھائی کہ یہ میرا بھائی ہے، تو اس نے انہیں چھوڑ دیا، ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اور میں نے آپ کو بتایا کہ لوگوں نے قسم کھانے میں حرج محسوس کیا، اور میں نے قسم کھائی کہ یہ میرا بھائی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے سچ کہا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ۔
It was narrated that Suwaid bin Hanzalah said: "We went out looking for the Messenger of Allah ﷺ , and Wail bin Hujr was with us.An enemy of his seized him and the people were reluctant to swear an oath but I swore that he was my brother, so they set him free. We came to the Messenger of Allah ﷺ and I told him that the people had been reluctant to swear an oath, but I had sworn that he was my brother. He said: You told the truth. The Muslim is the brother of his fellow Muslim. (Hasan) ,
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأیمان ٨ (٣٢٥٦)، (تحفة الأشراف: ٤٨٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٧٩) (ضعیف) (قصہ کے تذکرہ کے ساتھ یہ ضعیف ہے لیکن مرفوع حدیث صحیح ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قسم کا اعتبار صرف قسم دلانے والے کی نیت پر ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The oath is only according to the intention of the one who requests the oath to be taken." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: گو قسم کھانے والا دوسرا کچھ مطلب رکھ کر قسم کھائے یعنی توریہ کرے تو اس کا توریہ اس کو مفید نہ ہوگا بلکہ جھوٹی قسم کا وبال اس پر ہوگا، اس حدیث کا محل یہ ہے کہ جب کوئی شخص قسم کھا کر دوسرے کا حق دبانا چاہے اور اگلی حدیث کا محل یہ ہے کہ جب کسی مسلمان کی ظالم کے ظلم سے جان یا عزت بچانی مقصود ہو، اور دونوں قسموں میں منافات نہ ہوگی۔ امام احمد (رح) کا قول اس حدیث کے موافق ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نذر سے منع کرتے ہوئے فرمایا: اس سے صرف بخیل کا مال نکالا جاتا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah bin Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade vows and said: They are just a means of taking wealth from the miserly. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: بخیل بغیر مصیبت پڑے خرچ نہیں کرتا، جب آفت آتی ہے تو نذر مانتا ہے، اس وجہ سے نذر کو نبی کریم ﷺ نے مکروہ جانا کیونکہ وہ بخلاء کا شعار ہے، اور سخی تو بغیر نذر کے اللہ کی راہ میں ہمیشہ خرچ کرتے ہیں، اور بعضوں نے کہا: نذر سے ممانعت اس حال میں ہے جب یہ سمجھ کر نذر کرے کہ اس کی وجہ سے تقدیر بدل جائے گی، یا مقدر میں جو آفت ہے، وہ ٹل جائے گی۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نذر سے آدمی کو کچھ نہیں ملتا مگر وہ جو اس کے لیے مقدر کردیا گیا ہے، لیکن آدمی کی تقدیر میں جو ہوتا ہے وہ نذر پر غالب آجاتا ہے، تو اس نذر سے بخیل کا مال نکالا جاتا ہے، اور اس پہ وہ بات آسان کردی جاتی ہے، جو پہلے آسان نہ تھی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تو مال خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Vows do not bring the son of Adam anything unless it has been decreed for him. But he is dominated by Divine preordainment, and will get what is decreed for him, And (vows) are a means of making the miser give something, so what he desires becomes obtainable for him, which was not obtainable before his vow. And Allah says: Spend, I will spend on you: (Sahih)
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معصیت (گناہ) میں نذر نہیں ہے، اور نہ اس میں نذر ہے جس کا آدمی مالک نہ ہو ١ ؎۔
It was narrated from Imran bin Husain that the Messenger of Allah ﷺ said "[There is no vow to commit disobedience and no vow concerning that which the san of Adam does not possess. " (Sahih)
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معصیت (گناہ) میں نذر نہیں ہے، اور ایسی نذر کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no vow to commit disobedience, and the expiation (for such a vow) is the expiation for breaking an oath,"(Sahih)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانی ہو وہ اس کی اطاعت کرے، اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نذر مانی ہو تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے ١ ؎۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever vows to obey Allah, let him obey Him, and whoever vows to disobey Allah, let him not disobey Him,"(Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: آیت کریمہ: يُوفُونَ بِالنَّذْرِ (سورة الإنسان: 7) سے مراد یہی اطاعت کی نذر ہے، طبری نے باسناد صحیح قتادہ سے آیت کریمہ:يُوفُونَ بِالنَّذْرِ کی تفسیر نقل کی ہے کہ اگلے لوگ صوم، صلاۃ، زکاۃ، حج و عمرہ اور فرائض کی نذر کرتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ابرار کہا، اور احمد، ابوداود نے عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: نذر صرف وہی ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی رضامندی مطلوب ہو۔
عقبہ بن عامر جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے نذر مانی، اور اس کی تعیین نہ کی تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔
It was narrated from Uqbah bin Amir Al-Juhani that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever makes a vow and does not state it specifically, the expiation (for such a vow) is the expiation for breaking an oath." (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٩٢٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/النذر ٥ (١٦٤٥)، سنن ابی داود/الأیمان ٣١ (٣٣٢٣)، سنن الترمذی/الأیمان ٤ (١٥٢٨)، سنن النسائی/الأیمان ٤٠ (٣٨٦٣)، مسند احمد (٤/١٤٤، ١٤٦، ١٤٧) (صحیح) دون قولہ اذا لم یسمّہ من غیر ھذا السند وأما ھذا السند فضعیف لأجل إسماعیل بن رافع (ملاحظہ ہو: إلارواء: ٢٥٨٦ )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے نذر مانی اور اس کی تعیین نہ کی، تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے، اور جس نے ایسی نذر مانی جس کے پورا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے، اور جس نے ایسی نذر مانی جس کے پورا کرنے کی طاقت ہو تو اس کو پورا کرے ۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet ﷺ said: "Whoever makes a vow and does not state it specifically, the expiation (for such a vow) is the expiation for breaking an oath, Whoever makes a vow and is not able to fuIfill it, the expiation for that is the expiation for breaking an oa tho Whoever makes a vow and is able to fulfill it, let him do so," (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأیمان والنذور ٣٠ (٣٣٢٢)، (تحفة الأشراف: ٦٣٤١) (ضعیف جدا) (سند میں خارجہ بن مصعب متروک راوی ہے جو کذابین سے تدلیس کرتا تھا، صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٨ / ٢١١ )
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں نذر مانی، پھر اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا، تو آپ ﷺ نے مجھے اپنی نذر پوری کرنے کا حکم دیا ١ ؎۔
It was narrated that "Umar bin Khattab said: "I made a vow during the Ignorance period and I asked the Prophet ﷺ (about it) after I became Muslim, He told me to fulfill my vow," (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اگر کافر یا مشرک حالت شرک و کفر میں کسی نیک کام کی نذر مانے جیسے اعتکاف یا صدقہ وغیرہ اور پھر اس کے بعد اسلام لے آئے تو اس نذر کا پورا کرنا واجب ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے مقام بوانہ میں قربانی کرنے کی نذر مانی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے دل میں جاہلیت کا کوئی اعتقاد باقی ہے ؟ اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اپنی نذر پوری کرو ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas that a man came to the Prophet ﷺ and said: "O Messenger of Allah, I vowed to offer a sacrifice at Buwanah." He said: "Do you intend any action of Ignorance period?" He said: "No," He said: "Then fulfill your vow." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مکہ کے نشیب میں یا ینبوع کے پیچھے ایک جگہ ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بت یا قبر جس کی لوگ پوجا کریں، اس پر ذبح کرنا جائز نہیں، اور جو جانور اولیاء اللہ کی قبروں پر ذبح کئے جاتے ہیں اور انہی کے نام پر پالے جاتے ہیں ان کا کھانا حرام ہے، اگرچہ ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے، کیونکہ مقصود ان کے ذبح کرنے سے غیر اللہ کی تعظیم ہے، تو وہ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللّهِ (سورة البقرة: 173) میں سے ہوا۔
میمونہ بنت کردم یساریہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے نبی اکرم ﷺ سے ملاقات کی، وہ اس وقت اپنے والد کے پیچھے ایک اونٹ پر بیٹھی تھیں، والد نے کہا: میں نے مقام بوانہ میں اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہاں کوئی بت ہے ؟ کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اپنی نذر پوری کرو ۔
It was narrated from Maimunah bint Kardam AlYasâriyyah that her father met the Prophet ﷺ when she was riding behind him. He said: “I vowed to offer a sacrifice at Buwânah.” The Messenger of Allah ﷺ said: “Is there any idol there?” He said: “No.” He said: “Fulfill your vow." (Hasan) Another chain with similar wording.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٠٩٢، ومصباح الزجاجة: ٧٥١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأیمان ٢٧ (٣٣١٤)، مسند احمد (٦/٣٦٦) (صحیح )
اس سند سے بھی میمونہ بنت کردم ؓ سے اسی طرح روایت ہے۔
انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: ١٨٠٩٢) (یزید بن مقسم نے میمونہ سے نہیں سنا ہے، اس لئے اس میں انقطاع ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ پوچھا کہ میری ماں کے ذمہ ایک نذر تھی وہ مرگئیں، اور اس کو ادا نہ کرسکیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم ان کی جانب سے اسے پوری کر دو ۔
It was narrated from Ibn Abbas that Sad bin Ubadahh asked the Messenger of Allah ﷺ about a vow which his mother had made, but she had died without fulfilling it. The Messenger of Allah ﷺ said: "Fulfill it on her behalf." (Sahih)
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی، اور اس نے کہا: میری ماں کا انتقال ہوگیا، اور ان کے ذمہ روزوں کی نذر تھی، اور وہ اس کی ادائیگی سے پہلے وفات پا گئیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان کا ولی ان کی جانب سے روزے رکھے ١ ؎۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah that a woman came to the Messenger of Allah ﷺ and said: "My mother has died, and she had made a vow to fast, but she died before she could fulfill it. The Messenger of Allah ﷺ said. Let her guardian fast on her behalf." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ میت کی طرف سے نذر کا روزہ ہو یا نماز اس کا ولی رکھ سکتا ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے کہ عبداللہ بن عمر ؓ نے ایک عورت کو جس کی ماں نے قبا میں نماز پڑھنے کی نذر مانی تھی اور وہ مرگئی تھی، حکم دیا کہ تم اس کی طرف سے پڑھ لو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٥٥٤) (صحیح) (سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ٢٠٧٧ )
عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ ان کی بہن نے نذر مانی کہ ننگے پاؤں، ننگے سر اور پیدل چل کر حج کے لیے جائیں گی، تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے حکم دو کہ سوار ہوجائے، دوپٹہ اوڑھ لے، اور تین دن کے روزے رکھے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Saeed Ar-Ru aini that Abdullah bin Malik told him, that Uqbah bin Amir told him, that his sister vowed to walk, barefoot and bareheaded, and he mentioned that to the Messenger of Allah ﷺ He said. "Order her to ride and to cover her head, and to fast for three days." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی قسم کو توڑ دے، اور بطور کفارہ تین دن کے روزے رکھے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأیمان ٢٣ (٣٢٩٣، ٣٢٩٤)، سنن الترمذی/الأیمان ١٦ (١٥٤٤)، سنن النسائی/الأیمان ٣٢ (٣٨٤٦)، (تحفة الأشراف: ٩٩٣٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٤٣، ٤/ ١٤٥، ١٤٩، ١٥١)، سنن الدارمی/النذور ٢ (٢٣٧٩) (ضعیف) (سند میں عبید اللہ بن زحر ضعیف راوی ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک بوڑھے کو دیکھا کہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان چل رہا ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: اس کا کیا معاملہ ہے ؟ اس کے بیٹوں نے کہا: اس نے نذر مانی ہے، اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: بوڑھے سوار ہوجاؤ، اللہ تم سے اور تمہاری نذر سے بےنیاز ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said. "The Prophet ﷺ saw an old man walking between his two sons, and he said. What is the matter with him? His sons said: A vow, O Messenger of Allah. He said. Let this old man ride, for Allah has no need of you or your vow. (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النذ ر ٤ (١٦٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٣٩٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٧٣)، سنن الدارمی/النذور ٢ (٢٣٨١) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں ایک آدمی کے پاس سے گزرے، وہ دھوپ میں کھڑا تھا، آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا: اس نے نذر مانی ہے کہ وہ روزہ رکھے گا، اور رات تک سایہ میں نہیں رہے گا، اور نہ بولے گا، اور برابر کھڑا رہے گا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس کو چاہیئے کہ بولے، سایہ میں آجائے، بیٹھ جائے اور اپنا روزہ پورا کرے ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ passed by a man in Makkah who was standing in the sun. He said. "What is this?" They said. "He vowed to fast and not to seek shade until night comes, and not to speak, and to remain standing." He said: "Let him speak and seek shade, and let him sit down, but let him complete his fast." (Sahih) Another chain from Ibn Abbas, from the Prophet ﷺ , with similar wording.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس شخص نے بری اور اچھی دونوں کو ملا کر نذر کی تھی جیسے روزہ جس کا رکھنا ایک اچھا اور ثواب کا کام ہے، لیکن کسی سے بات نہ کرنا یہ لغو اور بےکار چیز ہے، بلکہ گناہ ہے، تو آپ ﷺ نے بری باتوں کو ختم کردیا، اور اچھی بات کے پورا کرنے کا حکم دیا۔
اس سند سے بھی ابن عباس ؓ سے اسی طرح کی مرفوعاً روایت آئی ہے۔ واللہ اعلم۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی کا سب سے عمدہ کھانا وہ ہے جو اس کی اپنی کمائی کا ہو، اور اس کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: The best (most pure) food a man consumes is that which he has earned himself, and his child (and his childs wealth) is part of his earnings." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر والدین محتاج اور ضرورت مند ہوں تو ان کا نفقہ (خرچ) اولاد پر واجب ہے، اور جو محتاج یا عاجز نہ ہوں تب بھی اولاد کی رضامندی سے اس کے مال میں سے کھا سکتے ہیں، مطلب حدیث کا یہ ہے کہ اولاد کا مال کھانا بھی طیب (پاکیزہ) اور حلال ہے، اور اپنے کمائے ہوئے مال کی طرح ہے۔