Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 106 of 218

2098Sunan Ibne-Majah

جس نے ماسوا اسلام کے کسی دین میں چلے جانے کی قسم کھائی۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى الْإِسْلَامِ كَاذِبًا مُتَعَمِّدًا فَهُوَ كَمَا قَالَ.

ثابت بن ضحاک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اسلام کے سوا کسی اور دین میں چلے جانے کی جھوٹی قسم جان بوجھ کر کھائی، تو وہ ویسے ہی ہوگا جیسا اس نے کہا ١ ؎۔

It was narrated that Thâbit bin Ad-Dahhâk said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever takes an oath to follow a religion other than Islam, telling a deliberate lie, he will be as he said.’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: مثلاً یوں کہا : اگر میں فلاں کام کروں تو یہودی ہوں، یا نصرانی ہوں، یا اسلام سے یا نبی سے بری ہوں۔ اور اس کی طرح ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کافر ہوجائے گا، اور اسلام سے نکل جائے گا، ظاہر حدیث کا یہی مطلب ہے، واضح رہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اتنی سختی سے یہ بات اس لیے فرمائی کہ لوگ ایسا کہنے سے بچیں، ورنہ اگر اس کا عقیدہ اسلام کا ہے تو کافر نہ ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٨٣ (١٣٦٣)، الأدب ٤٤ (٦٠٤٧)، ٧٣ (٦١٠٥)، الأیمان ٧ (٦٦٥٢)، صحیح مسلم/الإیمان ٤٧ (١١٠)، سنن ابی داود/الأیمان ٩ (٣٢٥٧)، سنن الترمذی/الأیمان ١٥ (١٥٤٣)، سنن النسائی/الأیمان ٦ (٣٨٠١)، ٣١ (٣٨٢٢)، (تحفة الأشراف: ٢٠٦٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٣، ٣٤) (صحیح )
2099Sunan Ibne-Majah

جس نے ماسوا اسلام کے کسی دین میں چلے جانے کی قسم کھائی۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَرَّرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقُولُ: أَنَا إِذًا لَيَهُودِيٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَجَبَتْ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا کہ اگر میں ایسا کروں تو یہودی ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس پر یہ قسم واجب ہوگئی ۔

It was narrated from Anas that the Messenger of Allah ﷺ heard a man say: "If that happens, I will be a Jew." The Messenger of Allah ﷺ said: That is guaranteed." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣١٠، ومصباح الزجاجة: ٧٣٧) (ضعیف جدا) ( سند میں بقیہ بن ولید مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اور عبد اللہ بن محرر منکر الحدیث اور متروک ہے )
2100Sunan Ibne-Majah

جس نے ماسوا اسلام کے کسی دین میں چلے جانے کی قسم کھائی۔

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْأَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ: إِنِّي بَرِيءٌ مِنَ الْإِسْلَامِ، فَإِنْ كَانَ كَاذِبًا، فَهُوَ كَمَا قَالَ، وَإِنْ كَانَ صَادِقًا لَمْ يَعُدْ إِلَى الْإِسْلَامِ سَالِمًا.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کہے اگر ایسا کروں تو اسلام سے بری ہوں، اگر وہ جھوٹا ہے تو ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا، اور اگر وہ اپنی بات میں سچا ہے تو بھی اسلام کی جانب صحیح سالم سے نہیں لوٹے گا ١ ؎۔

It was narrated from Abdullah bin Buraidah that his father told that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever says: I have nothing to do with Islam: if he is lying then he is as he said, and if he is telling the truth, his Islam will not be sound." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ اس نے اسلام کی عظمت تسلیم نہیں کی، اور دین کو ایسا حقیر سمجھا کہ بات بات پر اس سے جدا ہوجانے کی شرط لگاتا ہے، مسلمان کو ہرگز ایسی شرط نہ لگانی چاہیے، گو وہ کتنا ہی بڑا کام ہو، اپنا دین سب سے زیادہ پیارا ہے، اور سب پر مقدم ہے، کوئی کام ہو یا نہ ہو، دین کی شرط لگانے سے کیا فائدہ؟ اور حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ جو کوئی ایسی شرط لگائے، پھر اس میں سچا بھی ہو جب بھی گنہگار ہوگا، اور اس کے دین میں خلل آئے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأیمان ٩ (٣٢٥٨)، سنن النسائی/الأیمان ٧ (٣٨٠٣)، (تحفة الأشراف: ١٩٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥٥، ٣٥٦) (صحیح )
2101Sunan Ibne-Majah

جس کے سامنے اللہ کی قسم کھائی جائے اس کو راضی بہ رضا ہوجانا چاہئے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سَمُرَةَ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، فَقَالَ: لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ مَنْ حَلَفَ بِاللَّهِ فَلْيَصْدُقْ، وَمَنْ حُلِفَ لَهُ بِاللَّهِ فَلْيَرْضَ، وَمَنْ لَمْ يَرْضَ بِاللَّهِ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک آدمی کو باپ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا: اپنے باپ دادا کی قسمیں نہ کھاؤ، جو شخص اللہ کی قسم کھائے تو چاہیئے کہ وہ سچ کہے، اور جس سے اللہ کی قسم کھا کر کوئی بات کہی جائے تو اس کو راضی ہونا چاہیئے، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے نام پہ راضی نہ ہو وہ اللہ سے کچھ تعلق نہیں رکھتا ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ heard a man taking an oath by his father and said: Do not make oaths by your forefathers. Whoever makes an oath by Allah, let him fulfill his oath, and if an oath is sworn for a person by Allah, let him accept it. Whoever is not content with Allah has nothing to do with Allah:" (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ جب مسلمان نے اللہ کی قسم کھائی، تو اب اس کے بیان کو مان لینا اور اس پر رضا مند ہوجانا چاہیے، اب اس سے یوں نہ کہنا چاہیے کہ تمہاری قسم جھوٹی ہے، یا اللہ کے سوا اب کسی اور شخص کی اس کو قسم نہ کھلانی چاہیے، جیسے جاہلوں کا ہمارے زمانہ میں حال ہے کہ اللہ کی قسم کھانے پر ان کی تسلی نہیں ہوتی، اور اس کے بعد پیر و مرشد یا نبی و رسول یا کعبہ یا ماں باپ کی قسم کھلاتے ہیں، یہ نری حماقت اور سراسر جہالت ہے، اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کسی کا درجہ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے برابر بھی کوئی نہیں ہے، سب سے زیادہ مومن کو اللہ کے نام کی حرمت و عزت اور عظمت کرنی چاہیے، اور احتیاط رکھنی چاہیے کہ اول تو اللہ کے سوا اور کسی کی قسم ہی نہ کھائے، اور اگر عادت کے طور پر اور کسی کے نام کی قسم نکل جائے اور جھوٹ اور غلط ہوجائے تو فوراً لا إِلَهَ إِلا الله کہے یعنی میں اللہ رب العالمین کے سوا کسی اور کو اس معاملے میں عظمت و احترام کے لائق نہیں جانتا غیر کے الفاظ تو یونہی سہواً یا عادتاً میرے زبان سے نکل گئے تھے، مگر ایک بات یاد رہے کہ اللہ کے نام کی کبھی جھوٹی قسم نہ کھائے، اگر پیر، رسول، نبی، مرشد، ولی، غوث اور قطب وغیرہ کے نام پر لاکھوں قسمیں جھوٹ ہوجائیں تو اتنا ڈر نہیں ہے جتنا اللہ تعالیٰ کے نام کی ایک قسم جھوٹ ہونے سے ہے، یہ حکم مسلمانوں کے لئے ہے کہ جب وہ اللہ کی قسم کھا لیں تو اب زیادہ تکلیف ان کو نہ دی جائے کہ وہ کسی اور کے نام کی بھی قسم کھائیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٤٣٩، ومصباح الزجاجة: ٧٣٨) (صحیح )
2102Sunan Ibne-Majah

جس کے سامنے اللہ کی قسم کھائی جائے اس کو راضی بہ رضا ہوجانا چاہئے۔

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ النَّضْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رَأَى عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَجُلًا يَسْرِقُ، فَقَالَ: أَسَرَقْتَ، قَالَ: لَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، فَقَالَ عِيسَى: آمَنْتُ بِاللَّهِ وَكَذَّبْتُ بَصَرِي.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے ایک شخص کو چوری کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: تم نے چوری کی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا: میں اللہ پر ایمان لایا، اور میں نے اپنی آنکھ کو جھٹلا دیا ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "Eisa bin Maryam saw a man stealing and said: Did you steal? He said: No, by the One besides Whom there is no other God: Eisa said: I believe in Allah, and I do not believe what my eyes see:" (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ کی عظمت کے سامنے میری آنکھ کی کوئی حقیقت نہیں ہے، ممکن ہے کہ مجھ کو دھوکا ہوا ہو، آنکھ نے دیکھنے میں غلطی کی ہو، لیکن یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا کہ مسلمان کی قسم کو جھٹلاؤں، ہمیشہ صالح، نیک اور بزرگ لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ جب مسلمان ان کے سامنے قسم کھا لیتا ہے تو ان کو یقین آجاتا ہے، اور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ مسلمان کبھی جھوٹی قسم نہیں کھائے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: (١٤٨١٦) )، وقد آخرجہ: صحیح البخاری/الأنبیاء ٤٨ (٣٤٤٣ تعلیقاً )، صحیح مسلم/الفضائل ٤٠ (٢٣٦٨)، سنن النسائی/آداب القضاة ٣٦ (٥٤٢٩)، مسند احمد (٢/٣١٤، ٣٨٣) (صحیح )
2103Sunan Ibne-Majah

قسم کھانے میں یا قسم توڑنا ہوتا ہے یا شرمندگی۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ بَشَّارِ بْنِ كِدَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا الْحَلِفُ حِنْثٌ أَوْ نَدَمٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قسم یا تو حنث (قسم توڑنا) ہے یا ندامت (شرمندگی) ہے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: “An oath (leads to) either sin or regret.” (Da’if)

Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ قسم اکثر ان دونوں باتوں سے خالی نہیں ہوتی، آدمی اکثر غصے میں بےسوچے سمجھے قسم کھا بیٹھتا ہے کہ فلانی چیز نہ کھائیں گے، یا فلانے سے بات نہ کریں گے، پھر ایسی ضرورت پیش آتی ہے کہ قسم توڑنی پڑتی ہے، اور جب توڑے تو کفارہ دینا پڑا، مال بےفائدہ خرچ ہوا، اور ندامت اور شرمندگی بھی ہوئی، اگر نہ توڑا تو بھی ندامت ہوئی کہ قسم کی وجہ سے ایک لذت سے محروم رہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٤٣٤، ومصباح الزجاجة: ٧٣٩) (ضعیف) (سند میں بشار بن کدام ضعیف راوی ہے )
2104Sunan Ibne-Majah

قسم میں انشاء اللہ (اگر اللہ نے چاہا) کہہ دیا تو ؟

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ، فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَلَهُ ثُنْيَاهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے قسم کھائی، اور إن شاء الله کہا، تو اس کا إن شاء الله کہنا اسے فائدہ دے گا ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: Whoever swears an oath and says In sha Allah, he will have made an exception.(Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: فائدہ یہ ہوگا کہ اگر قسم کے خلاف بھی کرے تو کفارہ لازم نہ ہوگا، اور آدمی جھوٹا نہ ہوگا، اس لئے کہ اس کی قسم اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت پر معلق تھی، معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا نہ چاہا تو اس نے قسم کے خلاف عمل کیا، یہ قسم کے کفارے سے بچنے کا عمدہ طریقہ ہے، صحیحین میں ہے کہ سلیمان بن داود (علیہما الصلاۃ والسلام) نے فرمایا: میں آج کی رات ستر عورتوں کے پاس جاؤں گا، اخیر حدیث تک، اس میں یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر وہ انشاء اللہ کہتے تو ان کی بات غلط نہ ہوتی، اور جمہور کا مذہب ہے کہ جب قسم میں إن شاء الله لگا دے تو وہ منعقد نہ ہوگی، یعنی توڑنے میں کفارہ واجب نہ ہوگا، لیکن شرط یہ ہے کہ إن شاء الله قسم کے ساتھ ہی کہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأیمان والنذور ٧ (١٥٣٢)، سنن النسائی/الإیمان والنذور ٤٢ (٣٨٨٦)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٠٩) (صحیح )
2105Sunan Ibne-Majah

قسم میں انشاء اللہ (اگر اللہ نے چاہا) کہہ دیا تو ؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ وَاسْتَثْنَى إِنْ شَاءَ رَجَعَ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ غَيْرُ حَانِثٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے قسم کھائی، اور إن شاء الله کہا، تو وہ چاہے قسم کے خلاف کرے، یا قسم کے موافق، حانث یعنی قسم توڑنے والا نہ ہوگا ۔

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever swears an oath and says In sha Allah, if he wishes he may go ahead and if he wishes he may not, without having broken his oath." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأیمان والنذور ١١ (٣٢٦١، ٣٢٦٢)، سنن الترمذی/الأیمان والنذور ٧ (١٥٣١)، سنن النسائی/الأیمان ١٨ (٣٨٢٤)، ٣٩ (٣٨٥٩)، (تحفة الأشراف: ٧٥١٧)، موطا امام مالک/النذ ور ٦ (١٠)، مسند احمد (٢/٦، ١٠، ٤٨، ١٥٣)، سنن الدارمی/النذور ٧ (٢٣٨٨) (صحیح )
2106Sunan Ibne-Majah

قسم میں انشاء اللہ (اگر اللہ نے چاہا) کہہ دیا تو ؟

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رِوَايَةً، قَالَ: مَنْ حَلَفَ وَاسْتَثْنَى، فَلَنْ يَحْنَثْ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ جس نے قسم کھائی اور إن شاء الله کہا، وہ حانث یعنی قسم توڑنے والا نہ ہوگا۔

It was narrated from Ibn Umar (RA) : "Whoever swears an oath and says In sha Allah, will never break his oath." (Sahih)

Takhrij · تخریج
أنظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٧٥١٧) (صحیح )
2107Sunan Ibne-Majah

قسم اٹھالی پھر خیال ہوا کہ اس کے خلاف کرنابہتر ہے تو۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي مُوسَى، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَاللَّهِ مَا أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ، قَالَ: فَلَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِإِبِلٍ فَأَمَرَ لَنَا بِثَلَاثَةِ إِبِلٍ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى فَلَمَّا انْطَلَقْنَا، قَالَ: بَعْضُنَا لِبَعْضٍ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ فَحَلَفَ أَلَّا يَحْمِلَنَا ثُمَّ حَمَلَنَا ارْجِعُوا بِنَا، فَأَتَيْنَاهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أَتَيْنَاكَ نَسْتَحْمِلُكَ، فَحَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا ثُمَّ حَمَلْتَنَا، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ فَإِنَّ اللَّهُ حَمَلَكُمْ وَاللَّهِ إِنَّا حَمِلْتَكُمْ بَلِ اللَّهُ حَمَلَكُمْ، إِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، أَوْ قَالَ: أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي.

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اشعری قبیلہ کے چند لوگوں کے ہمراہ آپ سے سواری مانگنے کے لیے حاضر ہوا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تم کو سواری نہیں دوں گا، اور میرے پاس سواری ہے بھی نہیں کہ تم کو دوں ، پھر ہم جب تک اللہ نے چاہا ٹھہرے رہے، پھر آپ کے پاس زکاۃ کے اونٹ آگئے، تو آپ ﷺ نے ہمارے لیے سفید کوہان والے تین اونٹ دینے کا حکم دیا، جب ہم انہیں لے کر چلے تو ہم میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس سواری مانگنے گئے تو آپ نے قسم کھالی کہ ہم کو سواری نہ دیں گے، پھر ہم کو سواری دی؟ چلو واپس آپ کے پاس لوٹ چلو، آخر ہم آپ کے پاس آئے اور ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم آپ کے پاس سواری مانگنے آئے تھے تو آپ نے قسم کھالی تھی کہ ہم کو سواری نہ دیں گے، پھر آپ نے ہم کو سواری دے دی، آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے تم کو سواری نہیں دی ہے بلکہ اللہ نے دی ہے، اللہ کی قسم! انشاء اللہ میں جب کوئی قسم کھاتا ہوں، پھر اس کے خلاف کرنا بہتر سمجھتا ہوں، تو اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں اور جو کام بہتر ہوتا ہے اس کو کرتا ہوں یا یوں فرمایا: جو کام بہتر ہوتا ہے اس کو کرتا ہوں، اور قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں ۔

It was narrated from Abu Burdah that his father Abu Musa said: "I came to the Messenger of Allah ﷺ with a group of Asharites and asked him to give us animals to ride. He said: By Allah, I cannot give you anything to ride, and I have nothing to give you to ride. We stayed as long as Allah willed, then some camels were brought to him, He ordered that we be given three she-camels with fine humps. When we left, we said to one another: We came to the Messenger of Allah ﷺ to ask him for animals to ride, and he swore by Allah that he would not give us anything to ride, then he gave us something. Let us go back. So we went to him and we said: O Messenger of Allah ﷺ We came to you seeking mounts, and you took an oath that you would not give us mounts, then you gave us some mounts. He said: By Allah, I did not give you animals to ride, rather Allah gave you them to ride. I, by Allah, if Allah wills, do not swear and then see something better than it, but I offer expiation for what I swore about, and do that which is better. Or he said: I do that which is better and offer expiation for what I swore about." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الخمس ١٥ (٣١٣٣)، المغازي ٧٤ (٤٣٨٥)، الصید ٢٦ (٥٥١٧، ٥٥١٨)، ا لأیمان ١ (٦٦٢٣)، ٤ (٦٦٤٩)، ١٨ (٦٦٨٠)، کفارات الأیمان ٩ (٦٧١٨)، ١٠ (٦٧١٩)، التوحید ٥٦ (٧٥٥٥)، صحیح مسلم/الأیمان ٣ (١٦٤٩)، سنن ابی داود/الأیمان والنذور ١٧ (٢٢٧٦)، سنن النسائی/الأیمان والنذور ١٤ (٣٨١١)، (تحفة الأشراف: ٩١٢٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٩٨، ٤٠١، ٤٠٤، ٤١٨) (صحیح )
2108Sunan Ibne-Majah

قسم اٹھالی پھر خیال ہوا کہ اس کے خلاف کرنابہتر ہے تو۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ.

عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے قسم کھائی، اور اس کے خلاف کرنے کو بہتر سمجھا تو جو بہتر ہو اس کو کرے، اور اپنی قسم کا کفارہ دیدے ۔

It was narrated from Adi bin Hatim that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever swears an oath then sees that something else is better that it, Jet him do that which is better and offer expiation for what he Swore about. " (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأیمان ٣ (١٦٥١)، سنن النسائی/الأیمان ١٥ (٣٨١٧)، (تحفة الأشراف: ٩٨٥١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٥٦، ٢٥٧، ٢٥٨، ٢٥٩)، سنن الدارمی/النذور ٩ (٢٣٩٠) (صحیح )
2109Sunan Ibne-Majah

قسم اٹھالی پھر خیال ہوا کہ اس کے خلاف کرنابہتر ہے تو۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الزَّعْرَاءِ عَمْرُو بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَمِّهِ أَبِي الْأَحْوَصِ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْجُشَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَأْتِينِي ابْنُ عَمِّي، فَأَحْلِفُ أَنْ لَا أُعْطِيَهُ وَلَا أَصِلَهُ، قَالَ: كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ.

مالک جشمی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرا چچا زاد بھائی میرے پاس آتا ہے، اور میں قسم کھا لیتا ہوں کہ اس کو کچھ نہ دوں گا، اور نہ ہی اس کے ساتھ صلہ رحمی کروں گا، آپ ﷺ نے فرمایا: اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو ١ ؎۔

It was narrated from Abul-Ahwas Awf bin Malik AI-Jushami that his father said: "I said:. a Messenger of AlIah, my cousin comes to me and I swear that I will not give him anything or uphold the ties of kinship with him.` He said: Offer expiation for what you swore about." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کے ساتھ صلہ رحمی کرو، اور یہ قسم کے خلاف بہتر کام ہے لہذا قسم کو توڑ دو، اور اس کا کفارہ ادا کرو۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الأیمان والنذور ١٥ (٣٨١٩)، (تحفة الأشراف: ١١٢٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٣٦، ١٣٧) (صحیح )
2110Sunan Ibne-Majah

نامناسب قسم کا کفارہ اس نامناسب کام کو نہ کرنا ہے۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ، أَوْ فِيمَا لَا يَصْلُحُ فَبِرُّهُ أَنْ لَا يُتِمَّ عَلَى ذَلِكَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے رشتہ توڑنے کی قسم کھائی، یا کسی ایسی چیز کی قسم کھائی جو درست نہیں، تو اس قسم کا پورا کرنا یہ ہے کہ اسے چھوڑ دے ۔

It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said. "Whoever takes an oath to cut off the ties of kinship, or to do something that is not nght, the fulfillment of his vow is not to do that." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨٩، ومصباح الزجاجة: ٧٤٠) (صحیح) (سند میں حارثہ ضعیف راوی ہیں، لیکن مشکل الآثار ١ /٢٨٧، میں قوی شاہد کی وجہ سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٣٣٤ )
2111Sunan Ibne-Majah

نامناسب قسم کا کفارہ اس نامناسب کام کو نہ کرنا ہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَتْرُكْهَا، فَإِنَّ تَرْكَهَا كَفَّارَتُهَا.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے قسم کھائی، پھر اس کے خلاف کرنا اس سے بہتر سمجھا، تو قسم توڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے ۔

It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, that his grandfather said that the Prophet ﷺ said: "Whoever swears an oath then sees that something else is better than it, let him not do it, and his leaving it is the expiation for it." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفردبہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٧٦٢، ومصباح الزجاجة: ٧٤١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأیمان والنذور ١٥ (٣٢٧٤)، سنن النسائی/الأیمان ١٦ (٣٨٢٣)، مسند احمد (٢/٢١٢) (منکر) (سند میں عون بن عمارہ منکر الحدیث راوی ہے، ملاحظہ ہو: إلارواء: ٧ / ١٦٨، سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٣٦٥ )
2112Sunan Ibne-Majah

قسم کے کفارہ میں کتناکھلائے۔

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى الثَّقَفِيُّ، عَنْالْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَفَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ وَأَمَرَ النَّاسَ بِذَلِكَ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَنِصْفُ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک صاع کھجور کفارہ میں دی، میں لوگوں کو اسی کا حکم دیتا ہوں، تو جس کسی کے پاس ایک صاع کھجور نہ ہو تو آدھا صاع گیہوں دے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ offered expiation of a sa of dates, and he enjoined the people to do likewise. Whoever does not have that (must give) half a sa of wheat." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: صاع: تقریبا ڈھائی کلو کا ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٦٣٦، ومصباح الزجاجة: ٧٤٢) (ضعیف) (سند میں عمر بن عبد اللہ ضعیف راوی ہیں )
2113Sunan Ibne-Majah

قسم کے کفارہ میں میانہ روی کے ساتھ کھلانا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يَقُوتُ أَهْلَهُ قُوتًا فِيهِ سَعَةٌ، وَكَانَ الرَّجُلُ يَقُوتُ أَهْلَهُ قُوتًا فِيهِ شِدَّةٌ، فَنَزَلَتْ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ سورة المائدة آية 89.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ بعض آدمی اپنے گھر والوں کو ایسا کھانا دیتے ہیں جس میں فراخی ہوتی ہے، اور بعض آدمی تنگی کے ساتھ دیتے ہیں تب یہ آیت اتری: من أوسط ما تطعمون أهليكم مسکینوں کو وہ کھانا دو جو درمیانی قسم کا اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو ۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "A man would give his family food that was abundant and another would give his family food that was barely sufficient, then the following was revealed: With the Awsat of that with which you feed your families …." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٥١٨، ومصباح الزجاجة: ٧٤٣) (صحیح الإسناد )
2114Sunan Ibne-Majah

اپنی قسم پر اصرار کرنے اور کفارہ نہ دینے سے ممانعت۔

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الْمَعْمَرِيُّ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اسْتَلَجَّ أَحَدُكُمْ فِي الْيَمِينِ، فَإِنَّهُ آثَمُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْكَفَّارَةِ الَّتِي أُمِرَ بِهَا. وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوَحَاظِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْعِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے کہ اللہ کے رسول ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی قسم پر اصرار کرے، تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کفارے سے زیادہ گنہگار ہوگا، جس کی ادائیگی کا اسے حکم دیا گیا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Hammam heard Abu Hurairah (RA) saying that Abul-Qasirn said: "If anyone of you insists on fulfilling what he swore to (after learning that it is wrong) then it is more sinful before Allah than (breaking the oath for which) the expiation that has been enjoined upon him." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: کفارہ ہمیشہ گناہ کا ہوتا ہے، تو قسم کا توڑنا بھی ایک گناہ ہے، اس لئے کہ اس میں اللہ کے نام کی بےحرمتی ہے، اسی کے نام پر کفارہ مقرر ہوا ہے، لیکن بری قسم کا نہ توڑنا، توڑنے سے زیادہ گناہ ہے۔ اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٧٩٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأیمان ١ (٦٦٢٥)، صحیح مسلم/الأیمان ٦ (١٦٥٥)، مسند احمد (٢/٢٧٨، ٣١٧) (صحیح ) صحیح البخاری/ الإیمان والنذور ١ (٦٦٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٥٦ )
2115Sunan Ibne-Majah

قسم کھانے والوں کو قسم پوری کرنے میں مدد دینا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں قسم دینے والے کی قسم پوری کرنے کا حکم دیا ہے۔

It was narrated that Bara bin Azib (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ commanded us to help fulfill the oath." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٢ (١٢٣٩)، المظالم ٥ (٢٤٤٥)، النکاح ٧١ (٥١٧٥)، الأشربة ٣٨ (٥٦٣٥)، المرضی ٤ (٥٦٥٠)، اللباس ٣٦ (٥٨٤٩)، ٤٥ (٥٨٦٣)، الأدب ١٢٤ (٥٨٤٩)، الاستئذان ٨ (٦٢٣٥)، صحیح مسلم/اللباس ٢ (٢٠٦٦)، سنن الترمذی/الأدب ٤٥ (٢٨٠٩)، سنن النسائی/الجنائز ٥٣ (١٩٤١)، الأیمان ١٢ (٣٨٠٩)، (تحفة الأشراف: ١٩١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٨٤، ٢٨٧، ٢٩٩) (صحیح )
2116Sunan Ibne-Majah

قسم کھانے والوں کو قسم پوری کرنے میں مدد دینا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ أَوْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيِّ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ جَاءَ بِأَبِيهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْ لِأَبِي نَصِيبًا فِي الْهِجْرَةِ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَا هِجْرَةَ، فَانْطَلَقَ فَدَخَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ، فَقَالَ: قَدْ عَرَفْتَنِي، قَالَ: أَجَلْ فَخَرَجَ الْعَبَّاسُ فِي قَمِيصٍ لَيْسَ عَلَيْهِ رِدَاءٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَرَفْتَ فُلَانًا، وَالَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ وَجَاءَ بِأَبِيهِ لِتُبَايعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ لَا هِجْرَةَ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ، فَمَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَمَسَّ يَدَهُ، فَقَالَ: أَبْرَرْتُ عَمِّي وَلَا هِجْرَةَ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، قَالَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ: يَعْنِي لَا هِجْرَةَ مِنْ دَارٍ قَدْ أَسْلَمَ أَهْلُهَا.

عبدالرحمٰن بن صفوان یا صفوان بن عبدالرحمٰن قرشی کہتے ہیں کہ جس دن مکہ فتح ہوا، وہ اپنے والد کو لے کر آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد کو ہجرت کے ثواب سے ایک حصہ دلوائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: اب ہجرت نہیں ہے، آخر وہ چلا گیا، اور عباس ؓ کے پاس آیا، اور کہنے لگا: آپ نے مجھے پہچانا؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر عباس ؓ ایک قمیص پہنے ہوئے نکلے ان پر چادر بھی نہ تھی عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھ میں اور فلاں شخص میں جو تعلقات ہیں وہ آپ کو معلوم ہیں، اور وہ اپنے والد کو لے کر آیا ہے تاکہ آپ اس سے ہجرت پہ بیعت کرلیں ١ ؎، آپ ﷺ نے فرمایا: اب ہجرت نہیں رہی ، عباس ؓ نے کہا: میں آپ کو قسم دیتا ہوں، یہ سن کر آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ بڑھایا، اور اس کا ہاتھ چھو لیا، اور فرمایا: میں نے اپنے چچا کی قسم پوری کی، لیکن ہجرت تو نہیں رہی ۔

It was narrated from Mujahid, that Abdur-Rahman bin Safwan, or Safwiin bin Abdur-Rahman Al-Qurashi said: "On the Day of the conquest of Makkah, he came with his father and he said: O Messenger of Allah, give my father a share of Hijrah. He said: There is no Hijrah. Then he went away and entered upon Abbas and said: Do you know who I am? He said: Yes. Then Abbas went out, wearing a shirt and no upper wrap, and said: 0 Messenger of Allah, do you know so-and-so with whom we have friendly ties? He brought his father to swear an oath of allegiance (i.e., promise) to emigrate. The Prophet ﷺ said: There is no Hijrah:" Abbas said: I adjure you to do it. The Prophet ﷺ stretched forth his hand and touched his hand, and said: I have fulfilled the oath of my uncle, but there is no Hijrah. (Daif) Another chain with similar wording. Yazid bin Abu Ziyad said: "Meaning: There is no Hijrah from a land whose people have accepted Islam.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی میرے اور آپ کے درمیان جو دوستی ہے، اب اس کا حق ادا کیجیے، اور ہجرت کا ثواب دلوائیے۔ یزید بن ابی زیاد کہتے ہیں کہ اس شہر سے ہجرت نہیں جس کے رہنے والے مسلمان ہوگئے ہوں۔ اس سند سے بھی یزید بن ابی زیاد نے ایسے ہی روایت کی ہے، اور سند دونوں کی ایک ہی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٧٠٤، ومصباح الزجاجة: ٧٤٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٣٠) (ضعیف) (سند میں یزید بن آبی زیاد ضعیف راوی ہیں )
2117Sunan Ibne-Majah

ماشاء اللہ وشئت (جو اللہ اور آپ چاہیں) کہنے کی ممانعت۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ الْكِنْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا حَلَفَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَقُلْ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ وَلَكِنْ لِيَقُلْ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ شِئْتَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص قسم کھائے تو ما شاء الله وشئت جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں نہ کہے، بلکہ یوں کہے: ما شاء الله ثم شئت جو اللہ چاہے پھر آپ چاہیں ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: When anyone of you swears an oath, let him not say: What Allah wills and what you will. Rather let him say: What Allah wills and then what you will. (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس لئے کہ اس میں مخاطب کو اللہ کے ساتھ کردیا ہے جس سے شرک کی بو آتی ہے، اگرچہ مومن کی نیت شرک کی نہیں ہوتی پھر بھی ایسی بات کہنی جس میں شرک کا وہم ہو منع ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٥٥٢، ومصباح الزجاجة: ٧٤٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢١٤، ٢٢٤، ٢٨٣، ٣٤٧) (حسن صحیح )