Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 105 of 218

2079Sunan Ibne-Majah

لونڈی کی طلاق اور عدت کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبِيبٍ الْمُسْلِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: طَلَاقُ الْأَمَةِ اثْنَتَانِ وَعِدَّتُهَا حَيْضَتَانِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لونڈی کے لیے دو طلاقیں ہیں، اور اس کی عدت دو حیض ہے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "The divorce of a slave woman is twice, and her waiting period is two menstrual cycles." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٣٣٨، ومصباح الزجاجة: ٧٣٣) (ضعیف) (سند میں ضعف کا سبب عطیہ العوفی ہیں، جو ضعیف ہیں )
2080Sunan Ibne-Majah

لونڈی کی طلاق اور عدت کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُظَاهِرِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: طَلَاقُ الْأَمَةِ تَطْلِيقَتَانِ، وَقُرْؤُهَا حَيْضَتَانِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لونڈی کی دو طلاقیں ہیں، اور اس کی عدت دو حیض ہے ۔

It was narrated from Aisha (RA) that the prophet ﷺ said: "The divorce of a slave woman is twice, and her (waiting) period is two menstrual cycles." Abu Asim said: "I mentioned this to Muzahir and said: Tell me what you told Ibn Juraij. So he told me, narrating from Qasim from Aisha (RA) , that the Prophet ﷺ said: The divorce of a slave woman is twice, and her (waiting) period is two menstrual cycles. (Daif)

2080Sunan Ibne-Majah

لونڈی کی طلاق اور عدت کا بیان۔

(حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ أَبُو عَاصِمٍ: فَذَكَرْتُهُ لِمُظَاهِرٍ، فَقُلْتُ: حَدِّثْنِي كَمَا حَدَّثْتَ ابْنَ جُرَيْجٍ، فَأَخْبَرَنِي: عَنَ الْقَاسِمِ، عَنْعَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: طَلَاقُ الْأَمَةِ تَطْلِيقَتَانِ، وَقُرْؤُهَا حَيْضَتَانِ.

ابوعاصم کہتے ہیں کہ میں نے مظاہر بن اسلم سے اس حدیث کا ذکر کیا اور ان سے عرض کیا کہ یہ حدیث آپ مجھ سے ویسے ہی بیان کریں جیسے کہ آپ نے ابن جریج سے بیان کی ہے، تو انہوں نے مجھے قاسم عن عائشہ کے طریق سے بتایا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لونڈی کے لیے دو طلاقیں ہیں اور اس کی عدت دو حیض ہے ۔

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ٦ (٢١٨٩)، سنن الترمذی/الطلاق ٧ (١١٨٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٥٥)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطلاق ١٧ (٢٣٤٠) (ضعیف) (سند میں مظاہر بن أسلم ضعیف راوی ہیں )
2081Sunan Ibne-Majah

غلام کے بارے میں طلاق کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ الْغَافِقِيِّ، عَنْعِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ سَيِّدِي زَوَّجَنِي أَمَتَهُ، وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنِي وَبَيْنَهَا، قَالَ: فَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يُزَوِّجُ عَبْدَهُ أَمَتَهُ، ثُمَّ يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُمَا، إِنَّمَا الطَّلَاقُ لِمَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے مالک نے اپنی لونڈی سے میرا نکاح کردیا تھا، اب وہ چاہتا ہے کہ مجھ میں اور میری بیوی میں جدائی کرا دے، یہ سن کر آپ ﷺ منبر پر چڑھے اور فرمایا: لوگو! تمہارا کیا حال ہے کہ تم میں سے ایک شخص اپنے غلام کا نکاح اپنی لونڈی سے کردیتا ہے، پھر وہ چاہتا ہے کہ ان دونوں میں جدائی کرا دے، طلاق تو اسی کا حق ہے جو عورت کی پنڈلی پکڑے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "A man came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah, my master married me to his slave woman, and now he wants to separate me and her. The Messenger of Allah ﷺ P.U.B.H ascended the pulpit and said: O people, what is the matter with one of you who marries his slave to his slave woman, then wants to separate them? Divorce belongs to the one who takes hold of the calf (i.e., her husband). (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو اس سے صحبت کرتا ہو یعنی شوہر کے اختیار میں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٢١٩، ومصباح الزجاجة: ٧٣٤) (حسن) (سند میں ابن لہیعہ ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد ومتابعات کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے )
2082Sunan Ibne-Majah

اس شخص کا بیان جو لونڈی کو دو طلاقیں دے کر پھر خرید لے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجَوَيْهِ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُعَتِّبٍ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ: عَنْ عَبْدٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَتَيْنِ، ثُمَّ أُعْتِقَا يَتَزَوَّجُهَا؟، قَالَ: نَعَمْ، فَقِيلَ لَهُ: عَمَّنْ، قَالَ: قَضَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: لَقَدْ تَحَمَّلَ أَبُو الْحَسَنِ هَذَا صَخْرَةً عَظِيمَةً عَلَى عُنُقِهِ.

ابوالحسن مولی بنی نوفل کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس ؓ سے اس غلام کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو دو طلاق دے دی ہو پھر دونوں آزاد ہوجائیں، کیا وہ اس سے نکاح کرسکتا ہے؟ ابن عباس ؓ نے جواب دیا: ہاں، کرسکتا ہے، ان سے پوچھا گیا: یہ فیصلہ کس کا ہے؟ تو وہ بولے: رسول اللہ ﷺ نے اس کا فیصلہ کیا۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک نے کہا: ابوالحسن نے یہ حدیث روایت کر کے گویا ایک بڑا پتھر اپنی گردن پہ اٹھا لیا ہے۔

It was narrated that Abul Hasan, the freed slave of Banu Nawfal, said: "Ibn Abbas was asked about a slave who divorces his wife twice, then (they are freed). Can he marry her? He said: Yes: It was said to him: On what basis? He said: The Messenger of Allah ﷺ passed such a judgement:" (Daif) (One of the narrators) Abdur-Razzaq said: "Abdullah bin Al-Mubarak said: This Abul Hasan loaded a tremendous boulder upon his neck:"

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ٦ (٢١٨٧، ٢١٨٨)، سنن النسائی/الطلاق ١٩ (٣٤٥٧، ٣٤٢٨)، (تحفة الأشراف: ٦٥٦١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٩، ٣٣٤) (ضعیف) (عمر بن معتب ضعیف راوی ہیں )
2083Sunan Ibne-Majah

ام ولد کی عدت کا بیان

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: لَا تُفْسِدُوا عَلَيْنَا سُنَّةَ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا.

عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ ہم پر ہمارے نبی محمد ﷺ کی سنت کو نہ بگاڑو، ام ولد کی عدت چار ماہ دس دن ہے ١ ؎۔

It was narrated that Amr bin As said: "Do not corrupt the Sunnah of our Prophet ﷺ Muhammad ﷺ . The waiting period of an Umm Walad is four months and ten (days): (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: ام ولد وہ لونڈی جو اپنے مالک کا بچہ جنے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب ام ولد کے شوہر کا انتقال ہوجائے تو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے، گویا یہ عدت میں مثل آزاد کے ہے، اور دونوں میں کوئی فرق نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ٤٨ (٢٣٠٨)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٤٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/ ٢٠٣) (صحیح )
2084Sunan Ibne-Majah

بیوہ عورت (دوران عدت) زیب وزینت نہ کرے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْنَبَ ابْنَةَ أُمِّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ، أَنَّهَا سَمِعَتْ أُمَّ سَلَمَةَ، وَأُمَّ حَبِيبَةَ، تَذْكُرَانِ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ ابْنَةً لَهَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، فَاشْتَكَتْ عَيْنُهَا، فَهِيَ تُرِيدُ أَنْ تَكْحَلَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ، وَإِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا.

ام المؤمنین ام سلمہ اور ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ ذکر کرتی ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا کہ اس کی بیٹی کا شوہر مرگیا ہے، اور اس کی بیٹی کی آنکھ دکھ رہی ہے وہ سرمہ لگانا چاہتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پہلے (زمانہ جاہلیت میں) تم سال پورا ہونے پر اونٹ کی مینگنی پھینکتی تھی اور اب تو عدت صرف چار ماہ دس دن ہے ١ ؎۔

It was narrated from Humaid bin Nafay? that he heard Zainab the daughter of Umm Salamah narrating that she heard Umm Salamah and Umm Habibah mention that a woman caine to the Prophet ﷺ and said that her daughter’s husband had died, and she was suffering from an eye disease, and she wanted to apply kohl to her eyes (as a remedy). The Messenger of Allah ﷺ said: “One of you would throw ashe-camels dropping when a year had passed )Sinee the death of her husband). Rather it is four months and ten (days)." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ جب عورت کا شوہر مرجاتا تو وہ ایک خراب اور تنگ کوٹھری میں چلی جاتی، اور برے سے برے کپڑے پہنتی، نہ خوشبو لگاتی نہ زینت کرتی، کامل ایک سال تک ایسا کرتی، جب سال پورا ہوجاتا تو ایک اونٹنی کی مینگنی لاتی، عورت اس کو پھینک کر عدت سے باہر آتی، رسول اکرم ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ جاہلیت کے زمانہ میں تو ایسی سخت تکلیف ایک سال تک سہتی تھیں، اب صرف چار مہینے دس دن تک عدت رہ گئی ہے، اس میں بھی زیب و زینت سے رکنا مشکل ہے، امام احمد اور اہلحدیث کا عمل اسی حدیث پر ہے کہ سوگ والی عورت کو سرمہ لگانا کسی طرح جائز نہیں اگرچہ عذر بھی ہو، اور حنفیہ اور مالکیہ کے نزدیک عذر کی وجہ سے جائز ہے، بلاعذر جائز نہیں، اور شافعی نے کہا رات کو لگالے اور دن کے وقت اس کو صاف کر ڈالے، تمام فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ جس عورت کا شوہر مرجائے وہ چار مہینے دس دن تک سوگ میں رہے، یعنی زیب و زینت نہ کرے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ٤٦ (٥٣٣٦)، ٤٧ (٥٣٣٨)، الطب ١٨ (٥٧٠٦)، صحیح مسلم/الطلاق ٩ (١٤٨٨)، سنن ابی داود/الطلاق ٤٣ (٢٢٩٩)، سنن الترمذی/الطلاق ١٨ (١١٩٧)، سنن النسائی/الطلاق ٥٥ (٣٥٣٠)، ٦٧ (٣٥٦٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٧٦ و ١٨٢٥٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق ٣٥ (١٠١)، مسند احمد (٦/٣٢٥، ٣٢٦)، سنن الدارمی/الطلاق ١٢ (٢٣٣٠) (صحیح )
2085Sunan Ibne-Majah

کیا عورت اپنے شوہر کے علاوہ کسی دوسرے پہ سوگ کرسکتی ہے؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کسی عورت کے لیے حلال نہیں کہ شوہر کے سوا کسی میت پہ تین دن سے زیادہ سوگ منائے ۔

It was narrated from Aisha (RA) that the Prophet ﷺ said: "It is not pennissible for a woman to mourn for any deceased person for more than three days, except for her husband." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطلاق ٩ (١٤٩١)، سنن النسائی/الطلاق ٥٨ (٣٥٥٥)، (تحفة الأشراف: ١٦٤٤١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق ٣٥ (١٠٤)، مسند احمد (٦/٣٧، ١٤٨، ٢٤٩)، سنن الدارمی/الطلاق ١٢ (٢٣٢٩) (صحیح )
2086Sunan Ibne-Majah

کیا عورت اپنے شوہر کے علاوہ کسی دوسرے پہ سوگ کرسکتی ہے؟

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْحَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ.

ام المؤمنین حفصہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے حلال نہیں کہ شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے ۔

It was narrated from Hafsah the wife of the Prophet ﷺ that the Messenger of Allah ﷺ said: “It is not permissible for a woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for any eceased person for more than three days, except for her husband.”(Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطلاق ٩ (١٤٩٠)، سنن النسائی/الطلاق ٥٥ (٣٥٣٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٨١٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق ٣٥ (١٠٤)، مسند احمد (٦/١٨٤، ٢٨٦، ٢٨٧) (صحیح )
2087Sunan Ibne-Majah

کیا عورت اپنے شوہر کے علاوہ کسی دوسرے پہ سوگ کرسکتی ہے؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا امْرَأَةٌ تُحِدُّ عَلَى زَوْجِهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ، وَلَا تَكْتَحِلُ وَلَا تَطَيَّبُ إِلَّا عِنْدَ أَدْنَى طُهْرِهَا بِنُبْذَةٍ مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ.

ام عطیہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی میت پہ تین دن سے زیادہ سوگ نہ منایا جائے البتہ بیوی اپنے شوہر پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرے، رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے، ہاں رنگین بنی ہوئی چادر اوڑھ سکتی ہے، سرمہ اور خوشبو نہ لگائے، مگر حیض سے پاکی کے شروع میں تھوڑا سا قسط یا اظفار (خوشبو) لگالے ١ ؎۔

It was narrated from Umin ‘Atiyyah that the Messenger of Allah ﷺ said: ‘No deceased person should be mourned for more than three days, except a woman should mourn for her husband for four months and ten days, and she should not wear dyed clothes, except for a garment of ‘Mb, and she should not wear kohl or perfume, except at the beginning of her purity)’ when she may apply a little Qust and Azffir.’”121 (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: شرم گاہ کی بدبو دور کرنے کے لئے تھوڑا سا خوشبو استعمال کرسکتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ١٢ (١٣١٣، الجنائز ٣٠ (١٢٧٨)، الطلاق ٤٧ (٥٣٣٩)، ٤٩ (٥٣٤٢)، صحیح مسلم/الطلاق ٩ (٩٣٨)، سنن ابی داود/الطلاق ٤٦ (٢٣٠٢، ٢٣٠٣)، سنن النسائی/الطلاق ٦٤ (٣٥٦٤)، ٦٥ (٣٥٦٦)، (تحفة الأشراف: ١٨١٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٦٥، ٨٥، ٤٠٨)، سنن الدارمی/ الطلاق ١٣ (٢٣٣٢) (صحیح )
2088Sunan Ibne-Majah

والد اپنے بیٹے کو حکم دے کہ اپنی بیوی کو طلاق دو توباپ کا حکم ماننا چاہئے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ خَالِهِالْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ وَكُنْتُ أُحِبُّهَا، وَكَانَ أَبِي يُبْغِضُهَا، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَنِي أَنْ أُطَلِّقَهَا فَطَلَّقْتُهَا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میرے نکاح میں ایک عورت تھی میں اس سے محبت کرتا تھا، اور میرے والد اس کو برا جانتے تھے، انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے طلاق دے دوں، چناچہ میں نے اسے طلاق دے دی۔

It was narrated that Abdullah bin Umar said: "I had a wife whom I loved, but my father hated her, Umar mentioned that to the Prophet ﷺ and he ordered me to divorce her, so I divorced her." (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الادب ١٢٩ (٥١٣٨)، سنن الترمذی/الطلاق ١٣ (١١٨٩)، (تحفة الأشراف: ٦٧٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٢، ٥٣، ١٥٧) (حسن )
2089Sunan Ibne-Majah

والد اپنے بیٹے کو حکم دے کہ اپنی بیوی کو طلاق دو توباپ کا حکم ماننا چاہئے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ رَجُلًا أَمَرَهُ أَبُوهُ أَوْ أُمُّهُ شَكَّ شُعْبَةُ، أَنْ يُطَلِّقَ امْرَأَتَهُ، فَجَعَلَ عَلَيْهِ مِائَةَ مُحَرَّرٍ، فَأَتَى أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي الضُّحَى وَيُطِيلُهَا وَصَلَّى مَا بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: أَوْفِ بِنَذْرِكَ وَبِرَّ وَالِدَيْكَ، وَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَحَافِظْ عَلَى وَالِدَيْكَ أَوِ اتْرُكْ.

ابوعبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ایک شخص کو اس کی ماں نے یا باپ نے (یہ شک شعبہ کو ہوا ہے) حکم دیا کہ اپنی بیوی کو طلاق دیدے، اس نے نذر مان لی کہ اگر اپنی بیوی کو طلاق دیدے تو اسے سو غلام آزاد کرنا ہوں گے، پھر وہ ابوالدرداء ؓ کے پاس آیا، وہ صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) پڑھ رہے تھے، اور اسے خوب لمبی کر رہے تھے، اور انہوں نے نماز پڑھی ظہر و عصر کے درمیان، بالآخر اس شخص نے ان سے پوچھا، تو ابوالدرداء ؓ نے کہا: اپنی نذر پوری کرو، اور اپنے ماں باپ کی اطاعت کرو۔ ابوالدرداء ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: باپ جنت میں جانے کا بہترین دروازہ ہے، اب تم اپنے والدین کے حکم کی پابندی کرو، یا اسے نظر انداز کر دو ١ ؎۔

It was narrated from Abdur-Rahrnan that a mans father or mother - Shubah (one of the narrators) was not sure -ordered him to divorce his wife, and he made a vow that he would free one hundred slaves if he did that He came to Abu Darda while he was praying the Ouha, and he was making his prayer lengthy, and he prayed between Zunr and Asr. Then he asked him, and Abu Darda said: "Fulfill your vow and honor your parents," Abu Ad-Darda said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: (Honoring) ones father may lead one to enter through the best of the gates of Paradise; so take care of your parents, (it is so, whether you take care of them) or not" (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ ماں باپ کی اطاعت ایسی عمدہ چیز ہے، جن کی اطاعت سے جنت ملتی ہے، اور ظاہر ہے کہ جنت کی آدمی کو کتنی فکر ہونی چاہیے، پس ویسے ہی ماں باپ کی اطاعت کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البر و الصلة ٣ (١٩٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٩٦، ١٩٧، ٦/٤٤٥، ٤٤٧، ٤٥١) (صحیح )
2090Sunan Ibne-Majah

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کس چیز کی قسم کھاتے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَلَفَ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ.

رفاعہ جہنی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب قسم کھاتے تو یہ فرماتے: والذي نفس محمد بيده قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ١ ؎۔

It was narrated that Rifaah AI-Juhani said: "When the Prophet ﷺ took an oath, he would say: By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad:" (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ قسم کھانی جائز ہے، بشرطیکہ سچ بات پر کھائے، لیکن یہ ضروری ہے کہ سوائے اللہ کے نام یا اس کی صفت کے دوسرے کسی کی قسم نہ کھائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٦١٢، ومصباح الزجاجة: ٧٣٥) (صحیح) (اس سند میں محمد بن مصعب ضعیف راوی ہیں، لیکن یہ شواہد کی بناء پر صحیح ہے )
2091Sunan Ibne-Majah

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کس چیز کی قسم کھاتے ؟

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْهِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ عَرَابَةَ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: كَانَتْ يَمِينُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي يَحْلِفُ بِهَا أَشْهَدُ عِنْدَ اللَّهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ.

رفاعہ بن عرابہ جہنی ؓ کہتے ہیں کہ میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کی قسم جو آپ کھایا کرتے تھے، یوں ہوتی تھی: والذي نفسي بيده قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔

It was narrated that Rifâ’ah bin ‘Arâbah Al-Juhani said: “The swearing of the Messenger of Allah ﷺ when he took an oath; and I bear witness before Allah was: ‘By the One in Whose Hand is my soul.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٦١٢، ومصباح الزجاجة: ٧٣٦) (صحیح) (سند میں عبد الملک صنعانی ضعیف راوی ہے، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے )
2092Sunan Ibne-Majah

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کس چیز کی قسم کھاتے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الشَّافِعِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَتْ أَكْثَرُ أَيْمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا وَمُصَرِّفِ الْقُلُوبِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی قسم اکثر یوں ہوتی تھی: لا ومصرف القلوب قسم ہے اس ذات کی جو دلوں کو پھیرنے والا ہے ۔

It was narrated from Salim that his father said: "The swearing most frequently sworn by the Messenger of Allah ﷺ was: No, by the Controller of the hearts:" (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الأیمان والنذور ١ (٣٧٩٣)، (تحفة الأشراف: ٦٨٦٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/القدر ١٤ (٦٦١٧)، الأیمان ٣ (٦٦٢٨)، التوحید ١١ (٧٣٩١)، سنن ابی داود/الأیمان والنذور ١٢ (٣٢٦٣)، سنن الترمذی/الأیمان ١٢ (١٥٤٠)، مسند احمد (٢/٢٦، ٦٧، ١٢٧)، سنن الدارمی/الأیمان والنذور ١٢ (٢٣٩٥) (حسن )
2093Sunan Ibne-Majah

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کس چیز کی قسم کھاتے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ . ح وحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى جَمِيعًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَتْ يَمِينُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی قسم یوں ہوتی تھی: لا وأستغفر الله ایسا نہیں ہے، اور میں اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The swearing of the Messenger of Allah ﷺ was: No, and I ask Allah for forgiveness:" (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: لغو وہ قسم ہے جو آدمی کی زبان پر بےقصد و ارادہ جاری ہوجائے، اس سے کوئی کفارہ لازم نہیں آتا، یہ قسمیں آپ کی اسی قبیل سے ہوتیں مگر اس سے بھی آپ ﷺ نے استغفار کیا تاکہ امت کے لوگ اس سے بھی پرہیز کریں، صحیح بخاری میں ہے کہ اکثر آپ ﷺ یوں قسم کھاتے تھے: لا ومقلب القلوب اور صحیحین میں ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: وأيم الله إن کان لخليقاً للإمارة یعنی، اللہ کی قسم! زید بن حارثہ امیر ہونے کے لائق تھا، اور جبریل (علیہ السلام) نے اللہ سے کہا: رب تیری عزت کی قسم، جو کوئی اس کو سن پائے گا، وہ جنت میں جائے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأیمان والنذور ١٢ (٣٢٦٥)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٠٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٨٨) (ضعیف) (سند میں محمد بن ہلال اور ان کے والد دونوں مجہول ہیں، نیز ملاحظہ ہو: المشکاة: ٣٤٢٣ )
2094Sunan Ibne-Majah

ماسوا اللہ (کی ذات کے) کے قسم کھانے کی ممانعت۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الَخَطَّابِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَهُ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ، أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، قَالَ عُمَرُ: فَمَا حَلَفْتُ بِهَا ذَاكِرًا، وَلَا آثِرًا.

عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں باپ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا: اللہ تمہیں باپ دادا کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے ، اس کے بعد میں نے کبھی باپ دادا کی قسم نہیں کھائی، نہ اپنی طرف سے، اور نہ دوسرے کی نقل کر کے ١ ؎۔

It was narrated from Salim bin Abdullah bin Umar, from his father, from Umar, that the Messenger of Allah ﷺ heard him swearing by his father. The Messenger of Allah ﷺ said: "Allah forbids you from making oaths by your forefathers." Umar said: "I never took an oath by them (i.e., my forefathers) myself nor narrating such words from anyone else." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: امام مسلم کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر جو کوئی قسم کھانا چاہے تو اللہ کی قسم کھائے یا چپ رہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأیمان ٤ (٦٦٤٧)، صحیح مسلم/الأیمان والنذور ٥ (١٦٤٦)، سنن النسائی/الأیمان والنذور ٤ (٣٧٩٨)، سنن ابی داود/الأیمان والنذور ٥ (٣٢٥٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٥١٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأیمان ٨ (١٥٣٣)، مسند احمد (٢/١١، ٣٤، ٦٩، ٨٧، ١٢٥، ١٤٢) (صحیح )
2095Sunan Ibne-Majah

ماسوا اللہ (کی ذات کے) کے قسم کھانے کی ممانعت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَحْلِفُوا بِالطَّوَاغِي وَلَا بِآبَائِكُمْ.

عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہ طاغوتوں (بتوں) کی، اور نہ اپنے باپ دادا کی قسم کھاؤ ۔

It was narrated from ‘Abdur-Rahrnân bin Samurah that the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Do not take oaths by idols nor by your forefathers. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الایمان ٢ (١٦٤٨)، سنن النسائی/الأیمان ٩ (٣٨٠٥)، (تحفة الأشراف: ٩٦٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٦٢) (صحیح )
2096Sunan Ibne-Majah

ماسوا اللہ (کی ذات کے) کے قسم کھانے کی ممانعت۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ حَلَفَ، فَقَالَ فِي يَمِينِهِ: بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے قسم کھائی، اور اپنی قسم میں لات اور عزیٰ کی قسم کھائی، تو اسے چاہیئے کہ وہ لا إله إلا الله کہے: اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “Whoever takes an oath, and swears, saying: ‘By Al-Lât and Al-’Uzza,’ let him say: ‘La ilaha illallah .’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: لات اور عزی دو بڑے بت تھے جن کی زمانہ جاہلیت میں عرب عبادت کرتے تھے، واضح رہے اگر بےاختیار عادت کے طور پر ان کا نام نکل جائے اور دل میں ان کی کوئی تعظیم نہ ہو تو آدمی کافر نہ ہوگا، اگر تعظیم کی نیت سے کہا تو وہ کافر و مرتد ہے، اس پر دوبارہ اسلام لانا واجب ہے (لمعات التنقیح)۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة النجم ٢ (٤٨٦٠)، الادب ٧٤ (٦١٠٧)، الاستئذان ٥٢ (٦٣٠١)، الأیمان ٥ (٦٦٥٠)، صحیح مسلم/الأیمان ٢ (١٦٤٧)، سنن ابی داود/الایمان ٤ (٢٣٤٧)، سنن الترمذی/الأیمان ١٧ (١٥٤٥)، سنن النسائی/الأیمان ١٠ (٣٨٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٠٩) (صحیح )
2097Sunan Ibne-Majah

ماسوا اللہ (کی ذات کے) کے قسم کھانے کی ممانعت۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْمُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: حَلَفْتُ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فقال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، ثُمَّ انْفُثْ عَنْ يَسَارِكَ ثَلَاثًا وَتَعَوَّذْ وَلَا تَعُدْ.

سعد ؓ کہتے ہیں کہ میں نے لات اور عزیٰ کی قسم کھالی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لا إله إلا الله وحده لا شريك له اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اس کا کوئی شریک نہیں ، پھر اپنے بائیں طرف تین بار تھو تھو کرو، اور اعوذ باللہ کہو میں شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں پھر ایسی قسم نہ کھانا ١ ؎۔

It was narrated that Sad said: "[ took an oath by Lat and Uzza. The Messenger of Allah ﷺ said: Say: "La ilaha illallah wahdahu Ia sharika lahu" (None has the right to be worshipped but Allah alone, with no partner or associate)," then spit toward your left three times, and seek refuge with Allah, and do not do that again:" (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے اور اوپر کی حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ اگر غیر اللہ کی قسم اس کو معظم سمجھ کر کھائے تو آدمی کافر ہوجاتا ہے، لیکن معظم سمجھنے سے کیا مراد ہے؟ اس میں علماء کا اختلاف ہے، بعضوں نے کہا: ان کو اللہ تعالیٰ کے برابر اور ہمسر سمجھے، لیکن ایسا تو کفار و مشرکین بھی نہیں سمجھتے تھے، وہ بھی جانتے تھے کہ اللہ سب سے بڑا ہے، اور آسمان اور زمین کا وہی خالق ہے جیسے اس آیت میں ہے: وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ ( سورة لقمان: 25 ) اور اس آیت میں : مَا نَعْبُدُهُمْ إِلا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى ( سورة الزمر:3 ) یعنی ہم بتوں کو اس لئے پوجتے ہیں تاکہ وہ ہم کو اللہ کے نزدیک کردیں، اور یہ مسئلہ بڑا نازک ہے اور شرک کا معاملہ بہت بڑا ہے، شرک ایسا گناہ ہے جو کبھی نہیں بخشا جائے گا، پس ہر مسلمان کو اس سے پرہیز کرنا چاہیے، شرک یہ ہے کہ جب اللہ کے علاوہ کسی کو کوئی اس لائق سمجھے کہ وہ بغیر اللہ کی مشیت اور ارادے کے کوئی برائی یا بھلائی کا کام کرسکتا ہے، یا اس کا کچھ زور اللہ تعالیٰ پر ہے، معاذ اللہ، دنیا کے بادشاہوں کی طرح جیسے وہ اپنے نائبوں کا لحاظ رکھتے ہیں، یہ ڈر کر کہ اگر وہ ناراض ہوجائیں گے تو ان کے کارخانہ میں خلل ہوجائے گا۔ یا وہ اللہ کی طرح ہر پکارنے والے کی پکار سن لیتا ہے، یا نزدیک ہو یا دور، یا ہر مشکل کے وقت نزدیک ہو یا دور کام آسکتا ہے، یا ہر بات دیکھتا اور سنتا ہے، تو اس نے شرک کیا، گو وہ اس کو اللہ کے برابر نہ سمجھے، معظم سمجھنے کے یہی معنی ہیں، یہ مطلب نہیں ہے کہ غیر اللہ کی عظمت بالکل نہ کرے، انبیاء ورسل، فرشتوں اور اولیاء وصلحاء کی تعظیم ہماری شریعت میں ہے، مگر یہ تعظیم یہی ہے کہ ان سے محبت کی جائے، ان کو اللہ کا نیک بندہ سمجھا جائے، مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ اللہ کی مشیت کے بغیر کسی کا رتی بھر کام نکال سکتے ہیں، یا اللہ تعالیٰ کے حکم میں کچھ چوں چرا کرسکتے ہیں، یا ان کا کچھ زور۔ معاذ اللہ۔ اللہ تعالیٰ پر ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کو کسی سے رتی برابر بھی ڈر و خوف نہیں ہے۔ اور یہ سب اگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف متحد ہوجائیں تو وہ ایک لحظہ میں ان سب کو تباہ و برباد کرسکتا ہے، اور ان سب کے خلاف ہوجانے سے اس کا ذرہ برابر بھی کوئی کام متاثر نہیں ہوسکتا، یہ موحدوں کا اعتقاد ہے، پس موحد جب غیر اللہ کی قسم کھائے گا تو یقینا کہا جائے گا کہ اس کی قسم لغو اور عادت کے طور پر ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ موحد غیر اللہ میں سے کسی میں کچھ بالاستقلال قدرت یا اختیار سمجھے۔ جو شرکیہ افعال کیا کرتا ہے لیکن نام کا مسلمان ہے وہ جب غیر اللہ کی قسم کھائے گا تو شرک کا گمان اس کی طرف اور زیادہ قوی ہوگا، اور بہت مسلمان ایسے ہیں کہ اللہ کی قسم کہو تو وہ سو کھا ڈالیں لیکن کیا ممکن ہے کہ اپنے پیر مرشد یا مدار یا سالار یا غوث کی جھوٹی قسم کھائیں، ان کے مشرک ہونے میں تو کوئی شبہ نہیں ہے، اب یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ جو چیزیں ہماری شریعت میں بالکل لائق تعظیم نہیں ہیں بلکہ ان کی تحقیر اور توڑ ڈالنے کا حکم ہے، جیسے بت، اور تعزیہ والے جھنڈے وغیرہ ان کی تو ذرا سی تعظیم بھی کفر ہے، اس لیے کہ ان کی تعظیم مشرکین کی خاص نشانی ہے مثلاً ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی قبر یا کسی ولی یا نبی کی قبر پر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو، اور دوسرا شخص کسی بت کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو تو دوسرے شخص کے کفر میں کوئی شبہ نہ رہے گا، لیکن پہلے شخص کی نیت معلوم کی جائے گی، اگر عبادت کی نیت سے اس نے ایسا کیا تو وہ بھی کافر ہوجائے گا، اور جو صرف ادب اور تعظیم میں ایسا کیا لیکن عقیدہ اس کا توحید کا ہے، تو وہ کافر نہ ہوگا مگر شرع کے خلاف کرنے پر اس کو اس سے منع کیا جائے گا۔ اکثر علماء محققین نے اس فرق کو مانا ہے، اور بعضوں نے اس باب میں دونوں کا حکم ایک سا رکھا ہے جو فعل ایک کے ساتھ کفر ہے وہ دوسرے کے ساتھ بھی کفر ہے، مثلاً بت کا سجدہ بھی کفر ہے اور قبر کا سجدہ بھی کفر ہے البتہ فرق یہ ہے کہ بت کی اہانت و تذلیل اور اس کے توڑنے کا حکم ہے، اور مومنین صالحین کی قبریں کھودنے کا حکم نہیں ہے اور یہ فرقہ کہتا ہے کہ انبیاء، اولیاء، ملائکہ اور شعائر اللہ کی تعظیم درحقیقت اللہ کی ہی تعظیم ہے کیونکہ اللہ ہی کے حکم سے اللہ کا مقبول بندہ سمجھ کر اس کی تعظیم کرتے ہیں، پس یہ غیر اللہ کی تعظیم نہیں ہوئی بلکہ صلحاء کی تعظیم ہوئی، وہ اس میں مستثنیٰ رہے گی، اس لیے کہ وہ اللہ ہی کی تعظیم ہے۔ اس فائدہ کو یاد رکھنا چاہیے اور ممکنہ حد تک جس کام میں شرک شک و شبہ بھی ہو اسے باز رہنا چاہیے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الأیمان والنذور ١١ (٣٨٠٧)، (تحفة الأشراف: ٣٩٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٨٣) (ضعیف) (سند میں ابو اسحاق مختلط ومدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، ملاحظہ ہو: إلارواء: ٨/١٩٢ )