عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مؤذنوں کو ہم پر فضیلت حاصل ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم بھی اسی طرح کہو جس طرح وہ کہتے ہیں (یعنی اذان کا جواب دو ) ، پھر جب تم اذان ختم کرلو تو (اللہ تعالیٰ سے) مانگو، تمہیں دیا جائے گا ۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: A man said: Messenger of Allah, the muadhdhins excel us. The Messenger of Allah ﷺ said: Say (the same words) as they say, and when you come to the end, make a petition and that will be granted to you.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٨٥٤)، مسند احمد (٢/١٧٢) (حسن صحیح )
سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے مؤذن کی اذان سن کر یہ کلمات کہے: وأنا أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله رضيت بالله ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا اور میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، میں اللہ کے رب ہونے، محمد ﷺ کے رسول ہونے، اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں تو اسے بخش دیا جائے گا ۔
Saad bin Abi Waqqas reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone says when he hears the MuadhDHIN: “And I testify that there is no god but Allah alone who has no partner and that Muhammad is His servant and Messenger: I am satisfied with Allah as lord, with Muhammad as Messenger and with Islam as religion”, he will be forgiven.
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مؤذن کو: أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن محمدًا رسول الله کہتے ہوئے سنتے تو فرماتے: اور میں بھی (اس کا گواہ ہوں) اور میں بھی (اس کا گواہ ہوں) ۔
Aishah said that when the Messenger of Allah ﷺ heard the Muadhdhin uttering the testimony, he would say: “And I too, and I too”.
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب مؤذن: الله أكبر الله أكبر کہے تو تم میں سے جو (اخلاص کے ساتھ) الله أكبر الله أكبر کہے، پھر جب وہ أشهد أن لا إله إلا الله کہے تو یہ بھی أشهد أن لا إله إلا الله کہے، اور جب وہ أشهد أن محمدا رسول الله کہے تو یہ بھی أشهد أن محمدا رسول الله کہے، جب وہ حى على الصلاة کہے تو یہ لا حول ولا قوة إلا بالله کہے، جب وہ حى على الفلاح کہے تو یہ لا حول ولا قوة إلا بالله کہے، پھر جب وہ الله أكبر الله أكبر کہے تو یہ بھی الله أكبر الله أكبر کہے، اور جب وہ لا إله إلا الله کہے تو یہ بھی لا إله إلا الله کہے تو وہ جنت میں جائے گا ۔
Umar bin al-khattab reported the Messenger of Allah ﷺ as saying; When the MuadhDHIN says: “Allah is most great, Allah is most great”, and one of you says in response: “Allah is most great”, Allah is most great; then says: “ I testify tht there is no god but Allah”, and he says in response: “I testify that there is no god but Allah”, then say: ” I testify that Muhammad is the Messenger of Allah”, and he makes the response: “ I testify that Muhammad is the Messenger of Allah”, then says: “Come to prayer”, and he makes the response: “There is no might and no power except in Allah”: then says: “ Allah is most great, Allah is most great”, and he makes the response: “Allah is most great”, then says: “There is no god but Allah”, if he says this from his heart, he enter Paradise.
ابوامامہ ؓ سے یا بعض صحابہ کرام سے روایت ہے کہ بلال ؓ نے اقامت شروع کی، جب انہوں نے قد قامت الصلاة کہا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: أقامها الله وأدامها اللہ اسے قائم رکھے اور اس کو دوام عطا فرمائے اور باقی اقامت کے جواب میں وہی کہا جو اذان کے سلسلے میں عمر ؓ کی حدیث میں ہے۔
Narrated Abu Umamah, or one of the Companion of the Prophet: Bilal began the Iqamah, and when he said: The time for prayer has come, the Prophet ﷺ said: May Allah establish it and cause it to continue.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٨٨٨) (ضعیف) (اس کے راوی محمد بن ثابت اور شہر ضعیف ہیں اور دونوں کے درمیان ایک مبہم راوی ہے )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے اذان سن کر یہ دعا پڑھی: اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته اے اللہ! اس کامل دعا اور ہمیشہ قائم رہنے والی نماز کے رب! محمد ﷺ کو وسیلہ ١ ؎ اور فضیلہ ٢ ؎ عطا فرما اور آپ کو مقام محمود ٣ ؎ پر فائز فرما جس کا تو نے وعدہ فرمایا ہے تو قیامت کے دن اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوجائے گی ۔
Jabir bin Abdullah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: if anyone says when he hears the call to prayer: “O Allah, Lord of this perfect call and of the prayer which is established for all time, grant Muhammad the wasilah and excellency, and raise him up in a praiseworthy position which Thou hast promised, he will be assured of my intercession.
Notes · وضاحت
١ ؎: وسیلہ جنت کے درجات میں سے ایک اعلیٰ درجہ کا نام ہے۔ ٢ ؎: فضیلہ وہ اعلیٰ مرتبہ ہے جو نبی اکرم ﷺ کو خصوصیت کے ساتھ تمام مخلوقات پر حاصل ہوگا، اور یہ بھی احتمال ہے کہ وسیلہ ہی کی تفسیر ہو۔ ٣ ؎: یہ وہ مقام ہے جو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو عطا فرمائے گا اور اسی جگہ آپ وہ شفاعت عظمیٰ فرمائیں گے جس کے بعد لوگوں کا حساب و کتاب ہوگا۔
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے سکھایا کہ میں مغرب کی اذان کے وقت کہوں:اللهم إن هذا إقبال ليلک وإدبار نهارک وأصوات دعاتک فاغفر لي اے اللہ! یہ تیری رات کی آمد اور تیرے دن کی رخصت کا وقت ہے، اور تیری طرف بلانے والوں کی آوازیں ہیں تو تو میری مغفرت فرما ۔
Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ taught me to say when the adhan for the sunset prayer was called; O Allah, this is the time when Thy night comes on, Thy day retires, and the voices of Thy summoners are heard, so forgive me.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ١٢٧ (٣٥٨٩)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٤٦) (ضعیف) (اس کے راوی ابوکثیر لین الحدیث ہیں )
عثمان بن ابی العاص ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے میری قوم کا امام مقرر فرما دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: تم ان کے امام ہو تو تم ان کے کمزور ترین لوگوں کی رعایت کرنا، اور ایسا مؤذن مقرر کرنا جو اذان پر اجرت نہ لے ۔
Narrated Uthman ibn Abul As: Messenger of Allah, appoint me the leader of the tribe in prayer. He said: You are their leader, but you should follow on who is the weakest of them: and appoint a muadhdhin who does not charge for the calling of adhan.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الأذان ٣٢ (٦٧٣)، سنن ابن ماجہ/الأذان ٣ (٩٨٧)، (تحفة الأشراف: ٩٧٧٠)، مسند احمد (٤/٢١٧)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة ٣٧ (٤٦٨)، سنن الترمذی/الصلاة ٤١ (٢٠٩) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ بلال ؓ نے فجر کا وقت ہونے سے پہلے اذان دے دی تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ دوبارہ اذان دیں اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہیں: سنو، بندہ سو گیا تھا، سنو، بندہ سو گیا تھا۔ موسیٰ بن اسماعیل کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ بلال ؓ نے دوبارہ اذان دی اور بلند آواز سے کہا: سنو، بندہ سو گیا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ایوب سے حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کی ہے۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Bilal made a call to prayer before the break of dawn; the Prophet ﷺ , therefore, commanded him to return and make a call: Lo! the servant of Allah (i. e. I) had slept (hence this mistake). The version of Musa has the addition: He returned and made a call: Lo! the servant of Allah had slept. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by al-Darawardi from Ubaid Allah on the authority of Ibn Umar saying: There was a muadhdhin of Umar, named Masud. He then narrated the rest of the tradition. This version is more correct than that one.
عمر ؓ کے مسروح نامی مؤذن سے روایت ہے کہ انہوں نے صبح صادق سے پہلے اذان دے دی تو عمر ؓ نے انہیں حکم دیا، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن زید نے عبیداللہ بن عمر سے، عبیداللہ نے نافع سے یا کسی اور سے روایت کیا ہے کہ عمر ؓ کا ایک مؤذن تھا (جس کا نام مسروح یا کچھ اور تھا) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے دراوردی نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے نافع سے، نافع نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ عمر ؓ کا مسعود نامی ایک مؤذن تھا، اور دراوردی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی اور یہ پہلی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔
Nafi reported: A muadhdhin of Umar, named Masruh, called the Adhan for the morning prayer before the break of dawn; Umar commanded him (to repeat). The narrator reported the tradition in a similar way. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by al-Darawardi from Ubaid Allah on the authority of Ibn Umar, saying: there was a muadhdhin of Umar, named Masud. He then narrated the rest of the tradition. This version is more correct than one.
بلال ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: تم اذان نہ دیا کرو جب تک کہ فجر تمہارے لیے اس طرح واضح نہ ہوجائے ، اور آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ چوڑائی میں پھیلائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عیاض کے آزاد کردہ غلام شداد نے بلال ؓ کو نہیں پایا ہے۔
Narrated Bilal (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said to Bilal (RA) : Do not call adhan until the dawn appears clearly to you in this way, stretching his hand in latitude. Abu Dawud said: Shaddad did not see Bilal.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٠٣٤) (حسن) (اس کے راوی شدّاد مجہول ہیں، حافظ ابن حجر نے انہیں مقبول یرسل کہا ہے، لیکن اس کی تقویت ابو ذر ؓ کی حدیث ہے، ملاحظہ ہو مسند احمد: ٥/١٧١- ١٧٢، و صحیح ابی داود: ٣/٤٥ )
ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ ہم ابوہریرہ ؓ کے ساتھ مسجد میں تھے کہ ایک شخص مؤذن کے عصر کی اذان دینے کے بعد نکل کر (مسجد سے باہر) گیا تو آپ نے کہا: اس نے ابوالقاسم (رسول اللہ ﷺ کی کنیت ہے) کی نافرمانی کی ہے۔
Abu al-Shatha said: we were sitting with Abu Hurairah in the mosque. A man went out of the mosque after the ADHAN for the afternoon prayer had been called. Abu Hurairah said: As regards this (man), he disobeyed Abu al-Qasim, the prophet ﷺ .
جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ بلال ؓ اذان دیتے تھے پھر رکے رہتے تھے، پھر جب نبی اکرم ﷺ کو دیکھ لیتے کہ آپ نکل چکے ہیں تو نماز کی اقامت کہتے تھے۔
Jabir bin Samurah said: Bilal would call the Adhan, then he used come to wait. When he would see that the prophet ﷺ had come out (of his house), he would pronounce the iqama.
مجاہد کہتے ہیں کہ میں ابن عمر ؓ کے ساتھ تھا کہ ایک شخص نے ظہر یا عصر میں تثویب ١ ؎ کی، تو ابن عمر ؓ نے کہا: ہمیں یہاں سے لے چلو، اس لیے کہ یہ بدعت ہے۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Mujahid reported: I was in the company of Ibn Umar. A person invited the people for the noon or afternoon prayer (after the adhan had been called). He said: Go out with us (from this mosque) because this is an innovation (in religion).
Notes · وضاحت
١ ؎: اذان کے بعد دوبارہ نماز کے لئے اعلان کرنے کا نام ” تثویب “ ہے، اور ” تثویب “ کا اطلاق اقامت پر بھی ہوتا ہے اور فجر کی اذان میں الصلاة خير من النوم کہنے پر بھی، لیکن یہاں پہلا معنی مراد ہے۔
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب نماز کے لیے تکبیر کہی جائے تو جب تک تم مجھے نکلتے ہوئے نہ دیکھ لو کھڑے نہ ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے ایوب اور حجاج الصواف نے یحییٰ سے روایت کیا ہے۔ اور ہشام دستوائی کا بیان ہے کہ مجھے یحییٰ نے یہ حدیث لکھ کر بھیجی، نیز اسے معاویہ بن سلام اور علی بن مبارک نے بھی یحییٰ سے روایت کیا ہے، ان دونوں کی روایت میں ہے: یہاں تک کہ تم مجھے دیکھ لو، اور سکون اور وقار کو ہاتھ سے نہ جانے دو ۔
Abu Qatadah reported on the authority of his father: the prophet ﷺ said; When the Iqamah for prayer is pronounced, do not stand until you see me. Abu Dawud said: this has been narrated by Ayyub and Hajjaj al-Sawwaf from Yahya and Hisham al-Duatawa’i in a similar way, saying: Yahya wrote to me (in this way). And this has been narrated by Muawiyah bin Sallam and Ali bin al-Mubarak from Yahya: “Until you see me and show tranquility”.
یحییٰ سے اسی سند سے گذشتہ حدیث کے ہم مثل حدیث مروی ہے، اس میں ہے یہاں تک کہ تم مجھے دیکھ لو کہ میں نکل چکا ہوں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: معمر کے علاوہ کسی نے قد خرجت کا لفظ ذکر نہیں کیا۔ ابن عیینہ نے بھی اسے معمر سے روایت کیا ہے، اس میں بھی انہوں نے قد خرجت نہیں کہا ہے۔
This tradition has also been reported through a different chain of narrators in a similar way. This version says: “Until you see me that I have come out”. Abu dawud said: No one except Mamar has narrated the words “that I have come out”. And the version transmitted by Ibn ‘Uyainah from Mamar does not mention the words “that I have come out”.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے جب نماز کی تکبیر کہی جاتی تھی تو لوگ اپنی اپنی جگہیں لے لیتے قبل اس کے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی جگہ لیں۔
Abu Hurairah reported: when the Iqamah was pronounced for prayer during the time of the Messenger of Allah ﷺ , the people would take their seats before the prophet ﷺ came to his seat.
حمید کہتے ہیں میں نے ثابت بنانی سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو نماز کی تکبیر ہوجانے کے بعد بات کرتا ہو، تو انہوں نے مجھ سے انس ؓ کے واسطے سے حدیث بیان کی کہ نماز کی تکبیر کہہ دی گئی تھی کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے سامنے آیا اور اس نے آپ کو تکبیر ہوجانے کے بعد (باتوں کے ذریعے) روکے رکھا۔
Humaid reported: I asked Thabit al-Bunani whether it was permissible for a man to talk after the qamah had been pronounced. He narrated a tradition on the authority of Anas (RA) : (once) the Iqamah was pronounced, and a person came to the Messenger of Allah ﷺ and detained him after the Iqamah had been pronounced.
کہمس کہتے ہیں کہ ہم منیٰ میں نماز کے لیے کھڑے ہوئے، امام ابھی نماز کے لیے نہیں نکلا تھا کہ ہم میں سے کچھ لوگ بیٹھ گئے، تو کوفہ کے ایک شیخ نے مجھ سے کہا: تمہیں کون سی چیز بٹھا رہی ہے؟ میں نے ان سے کہا: ابن بریدہ کہتے ہیں: یہی سمود ١ ؎ ہے، یہ سن کر مذکورہ شیخ نے مجھ سے کہا: مجھ سے عبدالرحمٰن بن عوسجہ نے براء بن عازب ؓ کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں آپ کے تکبیر کہنے سے پہلے صفوں میں دیر تک کھڑے رہتے تھے ٢ ؎۔ براء ؓ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ ان لوگوں پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے دعا کرتے ہیں، جو پہلی صفوں میں کھڑے ہوتے ہیں اور صف میں شامل ہونے کے لیے جو قدم اٹھایا جائے اس سے بہتر اللہ کے نزدیک کوئی قدم نہیں ۔
Awn bin Kahmas reported on the authority of his father Kahmas (RA) : we stood for praying at Mina when the Imam had not come out. Some of us sat down (and I too). An old man from Kufah said to me: Why did you down? I said: Ibn Buraidah, this is Sumud (i. e., waiting for the Imam in the standing condition). The old man then narrated a tradition from Abdur-Rahman bin ‘Awaajah on the authority of al-Bara bin Azib: We would stand in rows during the time of the Messenger of Allah ﷺ for a long time before he pronounced Takbir. He further said; Allah, the Exalted and Mighty, sends blessings and the angles invoke blessings for those who are nearer to the front rows. No step is more liking to Allah than a step which one takes to join the row (of the prayer).
Notes · وضاحت
١ ؎: امام کے انتظار میں کھڑے رہنے کو سمود کہتے ہیں جو منع ہے، ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ صحابہ ؓ سمود کو مکروہ سمجھتے تھے۔ ٢ ؎: یہ حدیث ضعیف ہے اس لئے اس کو کسی صحیح حدیث کے مقابلہ میں پیش نہیں کیا جاسکتا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٧٧) (ضعیف) (اس کی سند میں شیخ من أہل الکوفة مبہم راوی ہے )