اگر وقت سے پہلے اذان دے دی جائے تو کیا کرنا چاہیئے
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَدَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ بِلَالًا أَذَّنَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْجِعَ فَيُنَادِيَ: أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ قَدْ نَامَ أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ قَدْ نَامَ، زَادَ مُوسَى: فَرَجَعَ فَنَادَى: أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ قَدْ نَامَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَيُّوبَ إِلَّا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ بلال ؓ نے فجر کا وقت ہونے سے پہلے اذان دے دی تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ دوبارہ اذان دیں اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہیں: سنو، بندہ سو گیا تھا، سنو، بندہ سو گیا تھا۔ موسیٰ بن اسماعیل کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ بلال ؓ نے دوبارہ اذان دی اور بلند آواز سے کہا: سنو، بندہ سو گیا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ایوب سے حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کی ہے۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Bilal made a call to prayer before the break of dawn; the Prophet ﷺ , therefore, commanded him to return and make a call: Lo! the servant of Allah (i. e. I) had slept (hence this mistake). The version of Musa has the addition: He returned and made a call: Lo! the servant of Allah had slept. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by al-Darawardi from Ubaid Allah on the authority of Ibn Umar saying: There was a muadhdhin of Umar, named Masud. He then narrated the rest of the tradition. This version is more correct than that one.