Sunan Abu Dawoodسنن ابو داؤد

All 5,295 hadiths in order · Page 203 of 265

4056Sunan Abu Dawoodصحیح

کسی عذر کی وجہ سے ریشم پہننا جائز ہے

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَلِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي قُمُصِ الْحَرِيرِ فِي السَّفَرِ مِنْ حِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا.

انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام (رض) کو کجھلی کی وجہ سے جو انہیں ہوئی تھی سفر میں ریشمی قمیص پہننے کی رخصت دی۔

Narrated Anas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ gave license to Abdur-Rahman bin Awf and al-Zubair bin al-Awwam to wear silk shirts during a journey because of an itch which they had.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ٩١ (٢٩١٩) ، واللباس ٢٩ (٥٨٣٩) ، صحیح مسلم/اللباس ٣ (٢٠٧٦) ، سنن النسائی/الزینة من المجتمع ٣٨ (٥٣١٢) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ١٧ (٣٥٩٢) ، (تحفة الأشراف : ١١٦٩) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/اللباس ٢ (١٧٢٢) ، مسند احمد (٣/١٢٧، ١٨٠، ٢١٥، ٢٥٥، ٢٧٣) (صحیح )
4057Sunan Abu Dawoodصحیح

عورتوں کے لئے ریشم پہننے کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي أَفْلَحَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ يَعْنِي الْغَافِقِيَّ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ حَرِيرًا فَجَعَلَهُ فِي يَمِينِهِ، وَأَخَذَ ذَهَبًا، فَجَعَلَهُ فِي شِمَالِهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي.

علی (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ریشم لے کر اسے اپنے داہنے ہاتھ میں رکھا اور سونا لے کر اسے بائیں ہاتھ میں رکھا، پھر فرمایا : یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں ۔

Narrated Ali ibn Abu Talib: The Prophet of Allah ﷺ took silk and held it in his right hand, and took gold and held it in his left hand and said: both of these are prohibited to the males of my community.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزینة ٤٠ (٥١٤٧) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ١٩ (٣٥٩٥) ، (تحفة الأشراف : ١٠١٨٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٩٦، ١١٥) (صحیح )
4058Sunan Abu Dawoodصحیح

عورتوں کے لئے ریشم پہننے کا بیان

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيَّانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍأَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ رَأَى عَلَى أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدًا سِيَرَاءَ، قَالَ: وَالسِّيَرَاءُ الْمُضَلَّعُ بِالْقَزِّ.

انس بن مالک (رض) کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بیٹی ام کلثوم (رض) کو ریشمی دھاری دار چادر پہنے دیکھا۔ راوی کہتے ہیں : سیراء کے معنی ریشمی دھاری دار کپڑے کے ہیں۔

Anas bin Malik (RA) said that he saw a striped garment over Umm Kulthum, daughter of the Messenger of Allah ﷺ . He said: The word siyara means striped with silk.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٣٠ (٥٨٤٢ تعلیقًا) ، سنن النسائی/الزینة من المجتبی ٣٠ (٥٢٩٩) ، (تحفة الأشراف : ١٥٣٣) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/اللباس ١٩(٣٥٩٨) (صحیح )
4059Sunan Abu Dawoodصحیح

عورتوں کے لئے ریشم پہننے کا بیان

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ يَعْنِي الزُّبَيْرِيَّ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُنَّا نَنْزِعُهُ عَنِ الْغِلْمَانِ وَنَتْرُكُهُ عَلَى الْجَوَارِي، قَالَ: مِسْعَرٌ فَسَأَلْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ عَنْهُ فَلَمْ يَعْرِفْهُ.

جابر (رض) کہتے ہیں کہ ہم ریشمی کپڑوں کو لڑکوں سے چھین لیتے تھے اور لڑکیوں کو (اسے پہنے دیکھتے تو انہیں) چھوڑ دیتے تھے۔ مسعر کہتے ہیں : میں نے عمرو بن دینار سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا ١ ؎۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : We used to take it away (i. e. silk) from boys, and leave it for girls. Misar said: I asked Amr ibn Dinar about it, but he did not know it.

Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی مسعر نے جب یہ حدیث عبدالملک بن میسرہ زراد کوفی سے عمرو بن دینار کے واسطہ سے روایت کرتے سنی تو انہوں نے براہ راست عمرو بن دینار سے اس کے بارے میں پوچھا تو عمرو نے لاعلمی کا اظہار کیا ممکن ہے انہیں یہ حدیث یاد نہ رہی ہو وہ بھول گئے ہوں، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢٥٦١) (صحیح )
4060Sunan Abu Dawoodصحیح

یمنی چادر کے بیان میں

حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: قُلْنَا لِأَنَسٍ يَعْنِي ابْنَ مَالِكٍأَيُّ اللِّبَاسِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَعْجَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: الْحِبَرَةُ.

قتادہ کہتے ہیں ہم نے انس بن مالک (رض) سے پوچھا : رسول اللہ ﷺ کو کون سا لباس زیادہ محبوب یا زیادہ پسند تھا ؟ تو انہوں نے کہا : دھاری دار یمنی چادر ١ ؎۔

Narrated Qatadah (RA) : We asked Anas bin Malik (RA): Which cloth was dearer to the Messenger of Allah ﷺ ? or Which cloth did the Messenger of Allah ﷺ like best to wear ? He replied: The striped cloaks (hibrah).

Notes · وضاحت
١ ؎ : حبرہ : یمن کے اچھے کپڑوں کو کہتے تھے ، اور یہاں اس سے یمن کی لال رنگ کی خط دار چادر جو سوت یا کتان کی ہوتی تھی مراد ہے ، اور اس کا شمار عرب کے بہترین کپڑوں میں تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ١٨ (٥٨١٢) ، صحیح مسلم/اللباس ٥ (٢٠٧٩) ، (تحفة الأشراف : ١٣٩٥) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/اللباس ٤٥ (١٧٨٧) ، الشمائل ٨ (٦٠) ، مسند احمد (٣/١٣٤، ١٨٤، ٢٥١، ٢٩١) (صحیح )
4061Sunan Abu Dawoodصحیح

سفید کپڑوں کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ، فَإِنَّهَا خَيْرُ ثِيَابِكُمْ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ، وَإِنَّ خَيْرَ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ وہ تمہارے بہتر کپڑوں میں سے ہے اور اسی میں اپنے مردوں کو کفناؤ اور تمہارے سرموں میں بہترین سرمہ اثمد ہے کیونکہ وہ نگاہ کو تیز کرتا اور (پلکوں کے) بال اگاتا ہے ۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: Wear your white garments, for they are among your best garments, and shroud your dead in them. Among the best types of collyrium you use is antimony (ithmid) for it clears the vision and makes the hair sprout.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٣٨٧٨) ، (تحفة الأشراف : ٥٥٣٤) (صحیح )
4062Sunan Abu Dawoodصحیح

پرانے کپڑوں کا دھونا اور صاف ستھرا رہنا ضروری ہے

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ نَحْوَهُ، عَنْحَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى رَجُلًا شَعِثًا قَدْ تَفَرَّقَ شَعْرُهُ، فَقَالَ: أَمَا كَانَ يَجِدُ هَذَا مَا يُسَكِّنُ بِهِ شَعْرَهُ، وَرَأَى رَجُلًا آخَرَ وَعَلْيِهِ ثِيَابٌ وَسِخَةٌ، فَقَالَ: أَمَا كَانَ هَذَا يَجِدُ مَاءً يَغْسِلُ بِهِ ثَوْبَهُ.

جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے ایک پراگندہ سر شخص کو جس کے بال بکھرے ہوئے تھے دیکھا تو فرمایا : کیا اسے کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس سے یہ اپنا بال ٹھیک کرلے ؟ اور ایک دوسرے شخص کو دیکھا جو میلے کپڑے پہنے ہوئے تھا تو فرمایا : کیا اسے پانی نہیں ملتا جس سے اپنے کپڑے دھو لے ؟ ۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ paid visit to us, and saw a dishevelled man whose hair was disordered. He said: Could this man not find something to make his hair lie down? He saw another man wearing dirty clothes and said: Could this man not find something to wash his garments with.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزینة من المجتبی ٦ (٥٢٣٨) ، (تحفة الأشراف : ٣٠١٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٥٧) (صحیح )
4063Sunan Abu Dawoodصحیح

پرانے کپڑوں کا دھونا اور صاف ستھرا رہنا ضروری ہے

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبٍ دُونٍ، فَقَالَ: أَلَكَ مَالٌ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: مِنْ أَيِّ الْمَالِ ؟ قَالَ: قَدْ آتَانِي اللَّهُ مِنَ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ وَالْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ، قَالَ: فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالًا، فَلْيُرَ أَثَرُ نِعْمَةِ اللَّهِ عَلَيْكَ وَكَرَامَتِهِ.

مالک بن نضلۃ الجشمی (رض) کہتے ہیں میں نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک معمولی کپڑے میں آیا تو آپ نے فرمایا : کیا تم مالدار ہو ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں مالدار ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : کس قسم کا مال ہے ؟ تو انہوں نے کہا : اونٹ، بکریاں، گھوڑے، غلام (ہر طرح کے مال سے) اللہ نے مجھے نوازا ہے، یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا : جب اللہ نے تمہیں مال و دولت سے نوازا ہے تو اللہ کی نعمت اور اس کے اعزاز کا اثر تمہارے اوپر نظر آنا چاہیئے ۔

Abu al-Ahwas quoted his father saying: I came to the Prophet ﷺ wearing a poor garment and he said (to me): Have you any property? He replied: Yes. He asked: What kind is it? He said: Allah has given me camels. Sheep, horses and slaves. He then said: When Allah gives you property, let the mark of Allahs favour and honour to you be seen.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزینة ٥٢ (٥٢٢٥) ، الزینة من المجتبی ٢٨ (٥٢٩٦) ، (تحفة الأشراف : ١١٢٠٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/ ٤٧٣، ٤/١٣٧) (صحیح الإسناد )
4064Sunan Abu Dawoodصحیح

زرد رنگ میں رنگے ہوئے کپڑے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَكَانَ يَصْبُغُ لِحْيَتَهُ بِالصُّفْرَةِ حَتَّى تَمْتَلِئَ ثِيَابُهُ مِنَ الصُّفْرَةِ، فَقِيلَ لَهُ: لِمَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ ؟ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْهَا، وَقَدْ كَانَ يَصْبُغُ ثِيَابَهُ كُلَّهَا حَتَّى عِمَامَتَهُ.

زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ابن عمر (رض) اپنی داڑھی زرد (زعفرانی) رنگ سے رنگتے تھے یہاں تک کہ ان کے کپڑے زردی سے بھر جاتے تھے، ان سے پوچھا گیا : آپ زرد رنگ سے کیوں رنگتے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس سے رنگتے دیکھا ہے آپ کو اس سے زیادہ کوئی اور چیز پسند نہ تھی آپ اپنے تمام کپڑے یہاں تک کہ عمامہ کو بھی اسی سے رنگتے تھے۔

Narrated Zayd ibn Aslam (RA) : Ibn Umar used to dye his beard with yellow colour so much so that his clothes were filled (dyed) with yellowness. He was asked: Why do you dye with yellow colour? He replied: I saw the Messenger of Allah ﷺ dyeing with yellow colour, and nothing was dearer to him than it. He would dye all his clothes with it, even his turban.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٣٧ (٥٨٥٢) ، صحیح مسلم/الحج ٥ (١١٨٧) ، سنن النسائی/الزینة ١٧ (٥٠٨٨) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٤ (٣٦٢٦) ، (تحفة الأشراف : ٦٧٢٨) (صحیح الإسناد )
4065Sunan Abu Dawoodصحیح

سبز رنگ کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِيَادٍ، حَدَّثَنَا إِيَادٌ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْتُ عَلَيْهِ بُرْدَيْنِ أَخْضَرَيْنِ.

ابورمثہ (رض) کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا تو میں نے آپ پر دو سبز رنگ کی چادریں دیکھا۔

Narrated Abu Rimthah (RA) : I went with my father to the Prophet ﷺ and saw two green garments over him.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ٤٨ (٢٨١٣) ، سنن النسائی/العیدین ١٥ (١٥٧٣) ، الزینة من المجتبی ٤٢ (٥٣٢١) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٣٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٢٦، ٢٢٧، ٢٢٨) (صحیح )
4066Sunan Abu Dawoodصحیح

سرخ رنگ کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: هَبَطْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثَنِيَّةٍ، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ وَعَلَيَّ رَيْطَةٌ مُضَرَّجَةٌ بِالْعُصْفُرِ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ الرَّيْطَةُ عَلَيْكَ ؟ فَعَرَفْتُ مَا كَرِهَ فَأَتَيْتُ أَهْلِي وَهُمْ يَسْجُرُونَ تَنُّورًا لَهُمْ، فَقَذَفْتُهَا فِيهِ ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنَ الْغَدِ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ مَا فَعَلَتِ الرَّيْطَةُ ؟ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: أَلَا كَسَوْتَهَا بَعْضَ أَهْلِكَ فَإِنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ لِلنِّسَاءِ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک گھاٹی سے اترے، آپ ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے، اس وقت میں کسم میں رنگی ہوئی چادر اوڑھے ہوئے تھا آپ ﷺ نے فرمایا : یہ تم نے کیسی اوڑھ رکھی ہے ؟ میں سمجھ گیا کہ یہ آپ کو ناپسند لگی ہے، تو میں اپنے اہل خانہ کے پاس آیا وہ اپنا ایک تنور سلگا رہے تھے تو میں نے اسے اس میں ڈال دیا پھر میں دوسرے دن آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے پوچھا : عبداللہ ! وہ چادر کیا ہوئی ؟ تو میں نے آپ کو بتایا (کہ میں نے اسے تنور میں ڈال دیا) تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم نے اسے اپنے گھر کی کسی عورت کو کیوں نہیں پہنا دیا کیونکہ عورتوں کو اس کے پہننے میں کوئی حرج نہیں ۔

Narrated Amr bin Suhaib: On his fathers authority, said that his grandfather said: We came down with the Messenger of Allah ﷺ from a turning of a valley. He turned his attention to me and I was wearing a garment dyed with a reddish yellow dye. He asked: What is this garment over you? I recognised what he disliked. I then came to my family who were burning their oven. I threw it (the garment) in it and came to him the next day. He asked: Abdullah, what have you done with the garment? I informed him about it. He said: Why did you not give it to one of your family to wear, for there is no harm in it for women.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/اللباس ٢١ (٣٦٠٣) ، (تحفة الأشراف : ٨٨١١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٦٤، ١٩٦) (حسن )
4067Sunan Abu Dawoodصحیح

سرخ رنگ کا بیان

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: قَالَ هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ الْغَازِ الْمُضَرَّجَةُالَّتِي لَيْسَتْ بِمُشَبَّعَةٍ وَلَا الْمُوَرَّدَةُ.

ہشام بن غاز کہتے ہیں کہ وہ مضرجہ (چادر) ہوتی ہے جو درمیانی رنگ کی ہو نہ بہت زیادہ لال ہو اور نہ بالکل گلابی۔

Hisham bin al-Ghaz said: The word mudarrajah mentioned in the previous tradition means a colour which is neither crimson nor pink.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٨٨١١) (صحیح )
4068Sunan Abu Dawoodضعیف

سرخ رنگ کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ شُفْعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُئِيُّ: أُرَاهُ وَعَلَيَّ ثَوْبٌ مَصْبُوغٌ بِعُصْفُرٍ مُوَرَّدٍ، فَقَالَ: مَا هَذَا ؟، فَانْطَلَقْتُ، فَأَحْرَقْتُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا صَنَعْتَ بِثَوْبِكَ ؟ فَقُلْتُ: أَحْرَقْتُهُ، قَالَ: أَفَلَا كَسَوْتَهُ بَعْضَ أَهْلِكَ ؟، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ثَوْرٌ، عَنْ خَالِدٍ، فَقَالَ: مُوَرَّدٌ، وَطَاوُسٌ، قَالَ: مُعَصْفَرٌ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا، اس وقت میں گلابی کسم سے رنگا ہوا کپڑا پہنے تھا آپ نے (ناگواری کے انداز میں) فرمایا : یہ کیا ہے ؟ تو میں نے جا کر اسے جلا دیا پھر نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے پوچھا : تم نے اپنے کپڑے کے ساتھ کیا کیا ؟ تو میں نے عرض کیا : میں نے اسے جلا دیا، آپ ﷺ نے فرمایا : اپنی کسی گھر والی کو کیوں نہیں پہنا دیا ؟ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ثور نے خالد سے مورد (گلابی رنگ میں رنگا ہوا کپڑا) اور طاؤس نے معصفر (کسم میں رنگا ہوا کپڑا) روایت کیا ہے۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Messenger of Allah ﷺ saw me. The version of Abu Ali al-Lula has: I think I wore a garment dyed with a reddish yellow colour. He asked: What is this? So I went and burnt it. The Prophet ﷺ said: What have you done with your garment? I replied: I burnt it. He said: Why did you not give it to one of your women to wear? Abu Dawud said: Thawr transmitted it from Khalid and said: Pink (muwarrad) while Tawus said: Reddish yellow colour (muasfar).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : (٤٠٦٦) ، (تحفة الأشراف : ٨٨٢٤) (ضعیف )
4069Sunan Abu Dawoodضعیف

سرخ رنگ کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُزَابَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَحْمَرَانِ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ایک شخص گزرا جس کے جسم پر دو سرخ کپڑے تھے، اس نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اسے جواب نہیں دیا۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: A man wearing two red garments passed the Prophet ﷺ and gave him a greeting, but he did not respond to his greeting.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ٤٥ (٢٨٠٧) ، (تحفة الأشراف : ٨٩١٨) (ضعیف) (سند میں ابویحیی القتات لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں )
4070Sunan Abu Dawoodضعیف

سرخ رنگ کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَوَاحِلِنَا وَعَلَى إِبِلِنَا أَكْسِيَةً فِيهَا خُيُوطُ عِهْنٍ حُمْرٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أَرَى هَذِهِ الْحُمْرَةَ قَدْ عَلَتْكُمْ ؟، فَقُمْنَا سِرَاعًا لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَفَرَ بَعْضُ إِبِلِنَا، فَأَخَذْنَا الْأَكْسِيَةَ فَنَزَعْنَاهَا عَنْهَا.

رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں نکلے آپ نے ہمارے کجاؤں (پالانوں) پر اور اونٹوں پر ایسے زین پوش دیکھے جس میں سرخ اون کی دھاریاں تھیں تو آپ ﷺ نے فرمایا : کیا میں نہیں دیکھ رہا ہوں کہ یہ سرخی تم پر غالب ہونے لگی ہے (ابھی تو زین پوش سرخ کئے ہو آہستہ آہستہ اور لباس بھی سرخ پہننے لگو گے) تو رسول اللہ ﷺ کی یہ بات سن کر ہم اتنی تیزی سے اٹھے کہ ہمارے کچھ اونٹ بدک کر بھاگے اور ہم نے ان زین پوشوں کو کھینچ کر ان سے اتار دیا۔

Narrated Rafi ibn Khadij (RA) : We went out with the Messenger of Allah ﷺ on a journey, and we had on our saddles and camels garments consisting of red warp of wool. The Messenger of Allah ﷺ said: Do I not see that red colour has dominated you. We then got up quickly on account of this saying of the Messenger of Allah ﷺ and some of our camels ran away. We then took the garments and withdrew them.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٣٥٩٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٦٣) (ضعیف الإسناد )
4071Sunan Abu Dawoodضعیف

سرخ رنگ کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنِي أَبِي، قَال َ ابْنُ عَوْفٍ الطَّائِي ّ: وَقَرَأْتُ فِي أَصْلِإِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنِي ضَمْضَمٌ يَعْنِي ابْنَ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ حُرَيْثِ بْنِ الْأَبَحِّ السَّلِيحِيِّ: أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ، قَالَتْ: كُنْتُ يَوْمًا عِنْدَ زَيْنَبَ امْرَأَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَصْبُغُ ثِيَابًا لَهَا بِمَغْرَةٍ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَى الْمَغْرَةَ رَجَعَ فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ زَيْنَبُ عَلِمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَرِهَ مَا فَعَلَتْ فَأَخَذَتْ، فَغَسَلَتْ ثِيَابَهَا وَوَارَتْ كُلَّ حُمْرَةٍ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَعَ فَاطَّلَعَ فَلَمَّا لَمْ يَرَ شَيْئًا دَخَلَ.

حریث بن ابح سلیحی کہتے ہیں کہ بنی اسد کی ایک عورت کہتی ہے : میں ایک دن ام المؤمنین زینب (رض) کے پاس تھی اور ہم آپ کے کپڑے گیروے میں رنگ رہے تھے کہ اسی دوران رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے، جب آپ کی نظر گیروے رنگ پر پڑی تو واپس لوٹ گئے، جب زینب (رض) نے یہ دیکھا تو وہ سمجھ گئیں کہ رسول اللہ ﷺ کو یہ ناگوار لگا ہے، چناچہ انہوں نے ان کپڑوں کو دھو دیا اور ساری سرخی چھپا دی پھر رسول اللہ ﷺ واپس تشریف لائے اور دیکھا جب کوئی چیز نظر نہیں آئی تو اندر تشریف لے گئے۔

Narrated Hurayth ibn al-Abajj as-Sulayhi (RA) : That a woman of Banu Asad: One day I was with Zaynab, the wife of the Messenger of Allah ﷺ , and we were dyeing her clothes with red ochre. In the meantime the Messenger of Allah ﷺ peeped us. When he saw the red ochre, he returned. When Zaynab saw this, she realised that the Messenger of Allah ﷺ disapproved of what she had done. She then took and washed her clothes and concealed all redness. The Messenger of Allah ﷺ then returned and peeped, and when he did not see anything, he entered.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٨٣٦٩) (ضعیف الإسناد )
4072Sunan Abu Dawoodصحیح

سرخ رنگ کی اجازت کا بیان

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ شَعْرٌ يَبْلُغُ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ وَرَأَيْتُهُ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ لَمْ أَرَ شَيْئًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ.

براء (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بال آپ کے دونوں کانوں کی لو تک پہنچتے تھے، میں نے آپ کو ایک سرخ جوڑے میں دیکھا اس سے زیادہ خوبصورت میں نے کوئی چیز کبھی نہیں دیکھی۔

Narrated Al-Bara bin Azib: The Messenger of Allah ﷺ had hair which reached the lobes of his ears, and I saw him wearing red robe. I did not see anything more beautiful than it.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٣ (٣٥٥١) ، اللباس ٣٥ (٥٨٤٨) ، ٦٨ (٥٩٠١) ، صحیح مسلم/الفضائل ٢٥ (٢٣٣٧) ، سنن الترمذی/اللباس ٤ (١٧٢٤) ، الأدب ٤٧ (٢٨١١) ، المناقب ٨ (٣٦٣٥) ، الشمائل ١ (٦٢) ، ٣ (٦٤) ، سنن النسائی/الزینة من المجتبی ٥ (٥٢٣٤) ، (تحفة الأشراف : ١٨٦٩) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٠ (٣٥٩٩) ، مسند احمد (٤/٢٨١، ٢٩٥) ، وأعاد المؤلف بعضہ فی الترجل (٤٢٨٤) (صحیح )
4073Sunan Abu Dawoodصحیح

سرخ رنگ کی اجازت کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى يَخْطُبُ عَلَى بَغْلَةٍ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ أَحْمَرُ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَامَهُ يُعَبِّرُ عَنْهُ.

عامر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منیٰ میں ایک خچر پر خطبہ دیتے دیکھا، آپ پر لال چادر تھی اور علی (رض) آپ کے آگے آپ کی آواز دوسروں تک پہنچا رہے تھے ١ ؎۔

Narrated Amir: I saw the Messenger of Allah ﷺ at Mina giving sermon on a mule and wearing a red garment, while Ali was announcing.

Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی آپ جو کہتے ہیں اسے بلند آواز سے پکار کر کہہ دیتے تاکہ آپ کی باتیں لوگوں کو پہنچ جائیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٥٠٥٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٧٧) (صحیح )
4074Sunan Abu Dawoodصحیح

سیاہ رنگ کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: صَنَعْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدَةً سَوْدَاءَ فَلَبِسَهَا فَلَمَّا عَرَقَ فِيهَا وَجَدَ رِيحَ الصُّوفِ، فَقَذَفَهَا، قَالَ: وَأَحْسِبُهُ، قَالَ: وَكَانَ تُعْجِبُهُ الرِّيحُ الطَّيِّبَةُ.

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے لیے ایک سیاہ چادر رنگی تو آپ نے اس کو پہنا پھر جب اس میں پسینہ لگا اور اون کی بو محسوس کی تو اس کو اتار دیا، آپ کو خوشبو پسند تھی۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : I made a black cloak for the Prophet ﷺ and he put it on; but when he sweated in it and noticed the odour of the wool, he threw it away. The narrator said: I think he said: He liked good smell.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٧٦٦٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٣٢، ١٤٤، ٢١٩، ٢٤٩) (صحیح )
4075Sunan Abu Dawoodضعیف

کپڑوں کے دامن کا ذکر

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ أَبِي خِدَاشٍ، عَنْأَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ،عَنْ جَابِرٍ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْتَبٍ بِشَمْلَةٍ وَقَدْ وَقَعَ هُدْبُهَا عَلَى قَدَمَيْهِ.

جابر بن سلیم (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا تو آپ بحالت احتباء ایک چادر میں لپٹے بیٹھے تھے اور اس کی جھالر آپ کے دونوں پیروں پر تھی۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : When I came to the Prophet ﷺ , he was sitting with his hands round his knees wearing the cloak the fringe of which was over his feet.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٢١٢٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٦٣) (ضعیف )