Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 2 of 265

21Sunan Abu Dawood

پیشاب کی چھینٹوں سے بچنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ، قَالَ: كَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ. وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: يَسْتَنْزِهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں جریر نے كان لا يستتر من بوله کہا ہے، اور ابومعاویہ نے يستتر کی جگہ يستنزه وہ پاکی حاصل نہیں کرتا تھا کا لفظ ذکر کیا ہے۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : A tradition from the Prophet ﷺ conveying similar meaning. The version of Jarir has the wording: he did not cover himself while urinating. The version of Abu Muawiyah has the wording: he did not safeguard himself (from urine).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الطہارة ٥٥ (٢١٦)، الادب ٤٩ (٦٠٥٥)، سنن النسائی/ الجنائز ١١٦ (٢٠٧٠)، (تحفة الأشراف: ٦٤٢٤) (صحیح )
22Sunan Abu Dawood

پیشاب کی چھینٹوں سے بچنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ وَمَعَهُ دَرَقَةٌ ثُمَّ اسْتَتَرَ بِهَا ثُمَّ بَالَ، فَقُلْنَا: انْظُرُوا إِلَيْهِ، يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ، فَسَمِعَ ذَلِكَ، فَقَالَ: أَلَمْ تَعْلَمُوا مَا لَقِيَ صَاحِبُ بَنِي إِسْرَائِيلَ ؟ كَانُوا إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَوْلُ قَطَعُوا مَا أَصَابَهُ الْبَوْلُ مِنْهُمْ، فَنَهَاهُمْ، فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ مَنْصُورٌ: عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: جِلْدِ أَحَدِهِمْ. وقَالَ عَاصِمٌ: عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: جَسَدِ أَحَدِهِمْ.

عبدالرحمٰن بن حسنہ کہتے ہیں: میں اور عمرو بن العاص ؓ دونوں نبی اکرم ﷺ کی طرف چلے تو (دیکھا کہ) آپ ﷺ (باہر) نکلے اور آپ کے ساتھ ایک ڈھال ہے، اس سے آپ ﷺ نے آڑ کی پھر پیشاب کیا، ہم نے کہا: آپ کو دیکھو عورتوں کی طرح (چھپ کر) پیشاب کر رہے ہیں، یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں اس چیز کا علم نہیں جس سے بنی اسرائیل کا ایک شخص دوچار ہوا؟ ان میں سے جب کسی شخص کو (اس کے جسم کے کسی حصہ میں) پیشاب لگ جاتا تو وہ اس جگہ کو کاٹ ڈالتا جہاں پیشاب لگ جاتا، اس شخص نے انہیں اس سے روکا تو اسے اس کی قبر میں عذاب دیا گیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: منصور نے ابو وائل سے، انہوں نے ابوموسیٰ ؓ سے، ابوموسیٰ نے نبی اکرم ﷺ سے اس حدیث میں پیشاب لگ جانے پر اپنی کھال کاٹ ڈالنے کی روایت کی ہے، اور عاصم نے ابو وائل سے، انہوں نے ابوموسیٰ سے، اور ابوموسیٰ نے نبی اکرم ﷺ سے اپنا جسم کاٹ ڈالنے کا ذکر کیا ہے۔

Narrated Amr ibn al-As (RA) : Abdur Rahman ibn Hasanah reported: I and Amr ibn al-As went to the Prophet ﷺ . He came out with a leather shield (in his hand). He covered himself with it and urinated. Then we said: Look at him. He is urinating as a woman does. The Prophet ﷺ , heard this and said: Do you not know what befell a person from amongst Banu Israil (the children of Israel)? When urine fell on them, they would cut off the place where the urine fell; but he (that person) forbade them (to do so), and was punished in his grave. Abu Dawud said: One version of Abu Musa has the wording: he cut off his skin. Another version of Abu Musa goes: he cut off (part of) his body.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطھارة ٢٦ (٣٠)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٢٦ (٣٤٦)، (تحفة الأشراف: ٩٦٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٩٦) (صحیح )
23Sunan Abu Dawood

کھڑے ہو کر پیشاب کرنا

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، وَهَذَا لَفْظُ حَفْصٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ،عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبَاطَةَ قَوْمٍ، فَبَالَ قَائِمًا ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ مُسَدَّدٌ: قَالَ: فَذَهَبْتُ أَتَبَاعَدُ، فَدَعَانِي حَتَّى كُنْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ.

حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک قوم کے کوڑے خانہ (گھور) پر آئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا ١ ؎ پھر پانی منگوایا (اور وضو کیا) اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد کا بیان ہے کہ حذیفہ ؓ نے کہا: میں پیچھے ہٹنے چلا تو آپ ﷺ نے مجھے (قریب) بلایا (میں آیا) یہاں تک کہ میں آپ ﷺ کی ایڑیوں کے پاس (کھڑا) تھا۔

Narrated Hudhaifah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ came to a midden of some people and urinated while standing. He then asked for water and wiped his shoes. Abu Dawud said: Musaddad, a narrator, reported: I went far away from him. He then called me and I reached just near his heals.

Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ نے یا تو یہ کام جواز کے بیان کے لئے کیا، یا وہ جگہ ایسی تھی جہاں بیٹھنا مناسب نہیں تھا، کیونکہ بیٹھنے میں وہاں موجود نجاست سے آپ ﷺ کے ملوث ہونے کا احتمال تھا، بعض لوگوں کی رائے ہے کہ آپ ﷺ کے گھٹنے میں کوئی بیماری تھی جس کے سبب آپ نے ایسا کیا، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٦٠ (٢٢٤)، ٦١ (٢٢٥)، ٦٢ (٢٢٦)، المظالم ٢٧ (٢٤٧١)، صحیح مسلم/الطھارة ٢٢ (٢٧٣)، سنن الترمذی/الطھارة ٩ (١٣)، سنن النسائی/الطھارة ١٧ (١٨)، ٢٤ ( ٢٦، ٢٧، ٢٨)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٣ (٣٠٥)، (تحفة الأشراف: ٣٣٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٩٤)، سنن الدارمی/الطھارة (٩/٦٩٥) (صحیح )
24Sunan Abu Dawood

رات کے وقت کسی برتن میں پیشاب کر کے رکھ چھوڑنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ حُكَيْمَةَ بِنْتِ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ، عَنْ أُمِّهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَحٌ مِنْ عِيدَانٍ تَحْتَ سَرِيرِهِ يَبُولُ فِيهِ بِاللَّيْلِ.

امیمہ بنت رقیقہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے لیے آپ کے تخت کے نیچے لکڑی کا ایک پیالہ (رہتا) تھا، جس میں آپ ﷺ رات کو پیشاب کرتے تھے۔

Narrated Umaymah daughter of Ruqayqah (RA) : The Prophet ﷺ had a wooden vessel under his bed in which he would urinate at night.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطھارة ٢٨ (٣٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٨٢) (حسن صحیح )
25Sunan Abu Dawood

پیشاب کے ممنوعہ مقامات

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اتَّقُوا اللَّاعِنَيْنِ، قَالُوا: وَمَا اللَّاعِنَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: الَّذِي يَتَخَلَّى فِي طَرِيقِ النَّاسِ أَوْ ظِلِّهِمْ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لعنت کے دو کاموں سے بچو ، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! لعنت کے وہ دو کام کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ یہ ہیں کہ آدمی لوگوں کے راستے یا ان کے سائے کی جگہ میں پاخانہ کرے ١ ؎۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ as saying: Be on your guard against two things which provoke cursing. They (the hearers) said: Prophet of Allaah ﷺ , what are these things which provoke cursing: easing in the watering places and on the thoroughfares, and in the shade (of the tree) (where they take shelter and rest).

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد وہ سایہ ہے جہاں لوگ آرام کرتے ہوں یا لوگوں کے عام راستہ میں ہو، نہ کہ ہر سایہ مراد ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطھارة ٢٠ (٢٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٣٩٧٨)، وقد أخرجہ: حم (٢/٣٧٢) (صحیح )
26Sunan Abu Dawood

پیشاب کے ممنوعہ مقامات

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَبُو حَفْصٍ، وَحَديِثُهُ أَتَمُّ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْحَكَمِ حَدَّثَهُمْ، أَخْبَرَنَانَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْحِمْيَرِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اتَّقُوا الْمَلَاعِنَ الثَّلَاثَةَ: الْبَرَازَ فِي الْمَوَارِدِ، وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ، وَالظِّلِّ.

معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لعنت کی تین چیزوں سے بچو: مسافروں کے اترنے کی جگہ میں، عام راستے میں، اور سائے میں پاخانہ پیشاب کرنے سے ۔

Narrated Muadh ibn Jabal (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Be on your guard against three things which provoke cursing: easing in the watering places and on the thoroughfares, and in the shade (of the tree).

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطھارة ٢١ (٣٢٨)، (تحفة الأشراف: ١١٣٧٠) (حسن )
27Sunan Abu Dawood

غسل خانہ میں پیشاب کرنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، أَخْبَرَنِيأَشْعَثُ، وَقَالَ الْحَسَنُ،عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي مُسْتَحَمِّهِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ فِيهِ، قَالَ أَحْمَدُ: ثُمَّ يَتَوَضَّأُ فِيهِ، فَإِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ.

عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ہرگز ایسا نہ کرے کہ اپنے غسل خانے (حمام) میں پیشاب کرے پھر اسی میں نہائے ۔ احمد کی روایت میں ہے: پھر اسی میں وضو کرے، کیونکہ اکثر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔

Narrated Abdullah ibn Mughaffal (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: No one of you should make water in his bath and then wash himself there (after urination). The version of Ahmad has: Then performs ablution there, for evil thoughts come from it.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطھارة ١٧ (٢١)، سنن النسائی/الطھارة ٣٢ (٣٦)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٢ (٣٠٤)، (تحفة الأشراف: ٩٦٤٨)، وقد أخرجہ: حم (٥/٥٦) (صحیح )
28Sunan Abu Dawood

غسل خانہ میں پیشاب کرنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدٍ الْحِمْيَرِيِّ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: لَقِيتُرَجُلًا صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا صَحِبَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْتَشِطَ أَحَدُنَا كُلَّ يَوْمٍ أَوْ يَبُولَ فِي مُغْتَسَلِهِ.

حمید بن عبدالرحمٰن حمیری کہتے ہیں کہ میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جو نبی اکرم ﷺ کی صحبت میں اسی طرح رہا جیسے ابوہریرہ ؓ آپ ﷺ کی صحبت میں رہے، اس نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے منع کیا ہے کہ ہم میں سے کوئی ہر روز کنگھی کرے یا غسل خانہ میں پیشاب کرے۔

Narrated A Man from the Companions: Humayd al-Himyari said: I met a man (Companion of the Prophet) who remained in the company of the Prophet ﷺ just as Abu Hurairah remained in his company. He then added: The Messenger of Allah ﷺ forbade that anyone amongst us should comb (his hair) every day or urinate in the place where he takes a bath.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطھارة ١٤٧ (٢٣٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٥٥٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١١٠، ١١١، ٥/٣٦٩) (صحیح )
29Sunan Abu Dawood

جانوروں کے بل میں پیشاب کرنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُبَالَ فِي الْجُحْرِ، قَالَ: قَالُوا لِقَتَادَةَ: مَا يُكْرَهُ مِنَ الْبَوْلِ فِي الْجُحْرِ ؟ قَالَ: كَانَ يُقَالُ: إِنَّهَا مَسَاكِنُ الْجِنِّ.

عبدللہ بن سرجس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سوراخ میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ہشام دستوائی کا بیان ہے کہ لوگوں نے قتادہ سے پوچھا: کس وجہ سے سوراخ میں پیشاب کرنا ناپسندیدہ ہے؟ انہوں نے کہا: کہا جاتا تھا کہ وہ جنوں کی جائے سکونت (گھر) ہے۔

Narrated Abdullah ibn Sarjis (RA) : The Prophet ﷺ prohibited to urinate in a hole. Qatadah (a narrator) was asked about the reason for the disapproval of urinating in a hole. He replied: It is said that these (hoes) are the habitats of the jinn.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطھارة ٣٠ (٣٤)، (تحفة الأشراف: ٥٣٢٢)، مسند احمد (٥/٨٢) (ضعیف) (قتادة مدلس ہیں، اور انہوں نے ابن سرجس سے سنا نہیں ہے) (ضعيف أبي داود: 8، والإرواء: 55، وتراجع الألباني: 131 )
30Sunan Abu Dawood

بیت الخلاء سے نکلنے کی دعائ

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ، قَالَ: غُفْرَانَكَ.

ابوبردہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین عائشہ ؓ نے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب بیت الخلاء (پاخانہ) سے نکلتے تو فرماتے تھے: غفرانک اے اللہ! میں تیری بخشش چاہتا ہوں ۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : When the Prophet ﷺ came out of the privy, he used to say: Grant me Thy forgiveness.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطھارة ٥ (٧)، سنن النسائی/الکبری (٩٩٠٧)، الیوم واللیلة (٧٩)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٠ (٣٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٩٤)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطھارة (١٧/٧٠٧) (صحیح )
31Sunan Abu Dawood

استنجاء کے لئے داہنے ہاتھ کا استعمال مکروہ ہے

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْأَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، وَإِذَا أَتَى الْخَلَاءَ، فَلَا يَتَمَسَّحْ بِيَمِينِهِ، وَإِذَا شَرِبَ، فَلَا يَشْرَبْ نَفَسًا وَاحِدًا

ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تو اپنے عضو تناسل کو داہنے ہاتھ سے نہ چھوئے، اور جب کوئی بیت الخلاء جائے تو داہنے ہاتھ سے استنجاء نہ کرے، اور جب پانی پیئے تو ایک سانس میں نہ پیئے ۔

Narrated Abu Qatadah (RA) : The Prophet ﷺ said: When any one of you urinates, he must not touch his penis with his right hand, and when he goes to relieve himself he must not wipe himself with his right hand (in the privy), and when he drinks, he must not drink in one breath.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ١٨ (١٥٣)، ١٩ (١٥٤)، الأشربة ٢٥ (٥٦٣٠)، صحیح مسلم/الطھارة ١٨ (٢٦٧)، سنن الترمذی/الطھارة ١١ (١٥)، سنن النسائی/الطھارة ٢٣ (٢٤، ٢٥)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٥ (٣١٠)، (تحفة الأشراف: ١٢١٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٩٦، ٣٠٠، ٣١٠)، سنن الدارمی/الطھارة (١٣/٧٠٠) (صحیح )
32Sunan Abu Dawood

استنجاء کے لئے داہنے ہاتھ کا استعمال مکروہ ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ يَعْنِي الْإِفْرِيقِيَّ، عَنْعَاصِمٍ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، وَمَعْبَدٍ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْعَلُ يَمِينَهُ لِطَعَامِهِ وَشَرَابِهِ وَثِيَابِهِ، وَيَجْعَلُ شِمَالَهُ لِمَا سِوَى ذَلِكَ.

حارثہ بن وہب خزاعی کہتے ہیں کہ ام المؤمنین حفصہ ؓ نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنے دائیں ہاتھ کو کھانے، پینے اور کپڑا پہننے کے لیے استعمال کرتے تھے، اور اپنے بائیں ہاتھ کو ان کے علاوہ دوسرے کاموں کے لیے۔

Narrated Hafsah, Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ used his right hand for taking his food and drink and used his left hand for other purposes.

Takhrij · تخریج
تفرد به أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٧٩٤)، مسند احمد (٦/٢٨٨) (صحیح )
33Sunan Abu Dawood

استنجاء کے لئے داہنے ہاتھ کا استعمال مکروہ ہے

حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيُمْنَى لِطُهُورِهِ وَطَعَامِهِ، وَكَانَتْ يَدُهُ الْيُسْرَى لِخَلَائِهِ، وَمَا كَانَ مِنْ أَذًى.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا داہنا ہاتھ وضو اور کھانے کے لیے، اور بایاں ہاتھ پاخانہ اور ان چیزوں کے لیے ہوتا تھا جن میں گندگی ہوتی ہے۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ used his right hand for getting water for ablution and taking food, and his left hand for his evacuation and for anything repugnant.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٩١٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 31 (١٦٨)، الصلاة ٤٧ (٤٢٦)، الجنائز ١٠ (١٢٥٥)، الأطمعة ٥ (٥٣٨٠)، اللباس ٣٨ (٥٨٥٤)، اللباس 77 (٥٩٢٦)، صحیح مسلم/الطہارة ١٩ (٢٦٨)، سنن الترمذی/الجمعة ٧٥ (٦٠٨)، سنن النسائی/الطہارة ٩٠ (١١٢)، وفي الزینة برقم: (٥٠٦٢)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٤٢ (٤٠١)، مسند احمد (٦/١٧٠، ٢٦٥) (صحیح) (وأبو معشر هو زياد بن کليب )
34Sunan Abu Dawood

استنجاء کے لئے داہنے ہاتھ کا استعمال مکروہ ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بُزَيْعٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِالْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ.

اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔

Aishah, also reported a tradition bearing similar meaning through another chain of transmitters.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٩٤٣)، مسند احمد (٦/٢٦٥) (صحیح )
35Sunan Abu Dawood

قضائے حاجت کے وقت پردہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنِ الْحُصَيْنِ الْحُبْرَانِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنِ اكْتَحَلَ فَلْيُوتِرْ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ مَنْ لَا فَلَا حَرَجَ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ، وَمَنْ أَكَلَ فَمَا تَخَلَّلَ فَلْيَلْفِظْ، وَمَا لَاكَ بِلِسَانِهِ فَلْيَبْتَلِعْ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ، وَمَنْ أَتَى الْغَائِطَ فَلْيَسْتَتِرْ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا أَنْ يَجْمَعَ كَثِيبًا مِنْ رَمْلٍ فَلْيَسْتَدْبِرْهُ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَلْعَبُ بِمَقَاعِدِ بَنِي آدَمَ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ثَوْرٍ، قَالَ حُصَيْنٌ الْحِمْيَرِيُّ: وَرَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ ثَوْرٍ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخَيْر، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو سَعِيدٍ الْخَيْر هُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص سرمہ لگائے تو طاق لگائے، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو اس میں کوئی مضائقہ اور حرج نہیں، جو شخص (استنجاء کے لیے) پتھر یا ڈھیلا لے تو طاق لے، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں، اور جو شخص کھانا کھائے تو خلال کرنے سے جو کچھ نکلے اسے پھینک دے، اور جسے زبان سے نکالے اسے نگل جائے، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں، جو شخص قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے لیے جائے تو پردہ کرے، اگر پردہ کے لیے کوئی چیز نہ پائے تو بالو یا ریت کا ایک ڈھیر لگا کر اس کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھ جائے کیونکہ شیطان آدمی کی شرمگاہ سے کھیلتا ہے ١ ؎، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا، اور جس نے نہیں کیا تو کوئی مضائقہ نہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوعاصم نے ثور سے روایت کی ہے، اس میں (حصین حبرانی کی جگہ) حصین حمیری ہے، اور عبدالملک بن صباح نے بھی اسے ثور سے روایت کیا ہے، اس میں (ابوسعید کی جگہ) ابوسعید الخیر ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوسعید الخیر نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ہیں۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone applies collyrium, he should do it an odd number of times. If he does so, he has done well; but if not, there is no harm. If anyone cleanses himself with pebbles, he should use an odd number. If he does so, he has done well; but if not, there is no harm. If anyone eats, he should throw away what he removes with a toothpick and swallow what sticks to his tongue. If he does so, he has done well; if not, there is no harm. If anyone goes to relieve himself, he should conceal himself, and if all he can do is to collect a heap of send, he should sit with his back to it, for the devil makes sport with the posteriors of the children of Adam. If he does so, he has done well; but if not, there is no harm.

Notes · وضاحت
١ ؎: شیطان کے کھیلنے سے یہ مقصود ہے کہ اگر آڑ نہ ہوگی تو پیچھے سے آ کر کوئی جانور اسے ایذا پہنچا دے گا، یا بےپردگی کی حالت میں دیکھ کر کوئی آدمی آ کر اس کا ٹھٹھا و مذاق اڑائے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطھارة ٢٣ (٣٣٨)، الطب ٦ (٣٤٩٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٣٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضو ٢٦ (١٦٢)، صحیح مسلم/الطہارة ٨ (٢٣٧) سنن النسائی/الطھارة ٧٢ (٨٨)، موطا امام مالک/الطھارة ١(٢)، مسند احمد (٢/٢٣٦، ٢٣٧، ٣٠٨، ٤٠١، ٣٧١)، سنن الدارمی/الطھارة ٥ (٦٨٩) (ضعیف) (حصین اور ابوسعید الخیر الحبرانی مجہول راوی ہیں )
36Sunan Abu Dawood

استنجاء کے لئے ممنوعہ چیزیں

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ الْمِصْرِيَّ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، أَنَّ شِيَيْمَ بْنَ بَيْتَانَ أَخْبَرَهُ، عَنْ شَيْبَانَ الْقِتْبَانِيِّ، قَالَ: إِنَّ مَسْلَمَةَ بْنَ مُخَلَّدٍ اسْتَعْمَلَ رُوَيْفِعَ بْنَ ثَابِتٍ عَلَى أَسْفَلِ الْأَرْضِ، قَالَ شَيْبَانُ: فَسِرْنَا مَعَهُ مِنْ كَوْمِ شَرِيكٍ إِلَى عَلْقَمَاءَ، أَوْ مِنْ عَلْقَمَاءَ إِلَى كُومِ شَرِيكٍ يُرِيدُ عَلْقَامَ. فَقَالَ رُوَيْفِعٌ: إِنْ كَانَ أَحَدُنَا فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيَأْخُذُ نِضْوَ أَخِيهِ عَلَى أَنَّ لَهُ النِّصْفَ مِمَّا يَغْنَمُ وَلَنَا النِّصْفُ. وَإِنْ كَانَ أَحَدُنَا لَيَطِيرُ، لَهُ النَّصْلُ وَالرِّيشُ وَلِلْآخَرِ الْقِدْحُ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رُوَيْفِعُ، لَعَلَّ الْحَيَاةَ سَتَطُولُ بِكَ بَعْدِي، فَأَخْبِرِ النَّاسَ أَنَّهُ مَنْ عَقَدَ لِحْيَتَهُ أَوْ تَقَلَّدَ وَتَرًا أَوِ اسْتَنْجَى بِرَجِعِ دَابَّةٍ أَوْ عَظْمٍ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ بَرِيءٌ.

شیبان قتبانی کہتے ہیں کہ مسلمہ بن مخلد نے (جو امیر المؤمنین معاویہ ؓ کی جانب سے بلاد مصر کے گورنر تھے) رویفع بن ثابت ؓ کو (مصر کے) نشیبی علاقے کا عامل مقرر کیا، شیبان کہتے ہیں: تو ہم ان کے ساتھ کو م شریک ١ ؎ سے علقماء ١ ؎ کے لیے یا علقماء سے کو م شریک کے لیے روانہ ہوئے، علقماء سے ان کی مراد علقام ہی ہے، رویفع بن ثابت نے (راستے میں مجھ سے) کہا: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کا اونٹ اس شرط پر لیتا کہ اس سے جو فائدہ حاصل ہوگا اس کا نصف (آدھا) تجھے دوں گا اور نصف (آدھا) میں لوں گا، تو ہم میں سے ایک کے حصہ میں پیکان اور پر ہوتا تو دوسرے کے حصہ میں تیر کی لکڑی۔ پھر رویفع نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: رویفع! شاید کہ میرے بعد تمہاری زندگی لمبی ہو تو تم لوگوں کو خبر کردینا کہ جس شخص نے اپنی داڑھی میں گرہ لگائی ٢ ؎ یا جانور کے گلے میں تانت کا حلقہ ڈالا یا جانور کے گوبر، لید یا ہڈی سے استنجاء کیا محمد ﷺ اس سے بری ہیں ۔

Narrated Ruwayfi ibn Thabit (RA) : Shayban al-Qatbani reported that Maslamah ibn Mukhallad made Ruwayfi ibn Thabit the governor of the lower parts (of Egypt). He added: We travelled with him from Kum Sharik to Alqamah or from Alqamah to Kum Sharik (the narrator doubts) for Alqam. Ruwayfi said: Any one of us would borrow a camel during the lifetime of the Prophet ﷺ from the other, on condition that he would give him half the booty, and the other half he would retain himself. Further, one of us received an arrowhead and a feather, and the other an arrow-shaft as a share from the booty. He then reported: The Messenger of Allah ﷺ said: You may live for a long time after I am gone, Ruwayfi, so, tell people that if anyone ties his beard or wears round his neck a string to ward off the evil eye, or cleanses himself with animal dung or bone, Muhammad has nothing to do with him.

Notes · وضاحت
١ ؎: ” کو م شریک “ اور ” علقماء “ مصر میں دو جگہوں کے نام ہیں۔ ٢ ؎: داڑھی کو گرہ دینا، یا بالوں کو موڑ کر گھونگریالے بنانا، یا نظر بد سے بچنے کے لئے جانوروں کے گلوں میں تانت کا گنڈا ڈالنا، زمانہ جاہلیت میں رائج تھا، اس لئے نبی اکرم ﷺ نے ان چیزوں سے منع فرمایا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزینة ١٢ (٥٠٧٠)، (تحفة الأشراف: ٨٦٥١، ٣٦١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٠٨، ١٠٩) (صحیح )
37Sunan Abu Dawood

استنجاء کے لئے ممنوعہ چیزیں

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، عَنْ عَيَّاشٍ، أَنَّ شِيَيْمَ بْنَ بَيْتَانَ أَخْبَرَهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَيْضًا، عَنْ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، يَذْكُرُ ذَلِكَ وَهُوَ مَعَهُ مُرَابِطٌ بِحِصْنِ بَابِ أَلْيُونَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: حِصْنُ أَلْيُونَ بِالْفِسْطَاطِ عَلَى جَبَلٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَهُوَ شَيْبَانُ بْنُ أُمَيَّةَ يُكْنَى أَبَا حُذَيْفَةَ.

ابوسالم جیشانی نے اس حدیث کو عبداللہ بن عمرو ؓ سے اس وقت سنا جب وہ ان کے ساتھ (مصر میں) باب الیون کے قلعہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: الیون کا قلعہ فسطاط (مصر) میں ایک پہاڑ پر واقع ہے۔

This tradition has also been narrated by Abu Salim al-JAishahni on the authority of Abd Allaah bin Amr. He narrated this tradition at the time when he besieged the fort at the gate of Alyun. Abu Dawud said: The fort of Alyun lies at the mountain in Fustat. Abu Dawud said: The kunyah (surname) of Shaiban bin Umayyah is Abu Hudhaifah.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ٨٦٥١، ٣٦١٦) (صحیح )
38Sunan Abu Dawood

استنجاء کے لئے ممنوعہ چیزیں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّه يَقُولُ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَمَسَّحَ بِعَظْمٍ أَوْ بَعْرٍ.

ابو الزبیر کا بیان ہے کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ہڈی یا مینگنی سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے۔

Narrated Jabir bin Abd Allaah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade us to use a bone or dung for wiping.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطھارة ١٧ (٢٦٣)، (تحفة الأشراف: ٢٧٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٤٣، ٣٨٤) (صحیح )
39Sunan Abu Dawood

استنجاء کے لئے ممنوعہ چیزیں

حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ الْجِنِّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ، انْهَ أُمَّتَكَ أَنْ يَسْتَنْجُوا بِعَظْمٍ أَوْ رَوْثَةٍ أَوْ حُمَمَةٍ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى جَعَلَ لَنَا فِيهَا رِزْقًا، قَالَ: فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ جنوں کا ایک وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا: آپ اپنی امت کو ہڈی، لید (گوبر، مینگنی) ، اور کوئلے سے استنجاء کرنے سے منع فرما دیجئیے کیونکہ ان میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے روزی بنائی ہے، تو آپ ﷺ نے اس سے منع فرما دیا ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : A deputation of the jinn came to the Prophet ﷺ and said: O Muhammad, forbid your community to cleans themselves with a bone or dung or charcoal, for in them Allah has provided sustenance for us. So the Prophet ﷺ forbade them to do so.

Notes · وضاحت
١ ؎: ہڈی جنوں کی اور لید ان کے جانوروں کی خوراک ہے، اور کوئلے سے وہ روشنی کرتے، یا اس پر کھانا پکاتے ہیں، اسی واسطے اس کو بھی روزی میں داخل کیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ٩٣٤٩) (صحیح )
40Sunan Abu Dawood

ڈھیلے سے استنجاء کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قُرْطٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ، فَلْيَذْهَبْ مَعَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ يَسْتَطِيبُ بِهِنَّ، فَإِنَّهَا تُجْزِئُ عَنْهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے لیے جائے تو تین پتھر اپنے ساتھ لے جائے، انہی سے استنجاء کرے، یہ اس کے لیے کافی ہیں ۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: When any of you goes to relieve himself, he should take with him three stones to cleans himself, for they will be enough for him.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطھارة ٤٠ (٤٤)، (تحفة الأشراف: ١٦٧٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٠٨، ١٣٣)، سنن الدارمی/الطھارة ١١ (٦٩٧) (حسن )