Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 11 of 265

202Sunan Abu Dawood

کیا سونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْجُدُ وَيَنَامُ وَيَنْفُخُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: صَلَّيْتَ وَلَمْ تَتَوَضَّأْ وَقَدْ نِمْتَ، فَقَالَ: إِنَّمَا الْوُضُوءُ عَلَى مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا، زَادَ عُثْمَانُ، وَهَنَّادٌ: فَإِنَّهُ إِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَوْلُهُ الْوُضُوءُ عَلَى مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا هُوَ حَدِيثٌ مُنْكَرٌ، لَمْ يَرْوِهِ إِلَّا يَزِيدُ أَبُو خَالِدٍ الدَّالَانِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، وَرَوَى أَوَّلَهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَلَمْ يَذْكُرُوا شَيْئًا مِنْ هَذَا، وَقَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَحْفُوظًا، وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي، وقَالَ شُعْبَةُ: إِنَّمَا سَمِعَ قَتَادَةُ مِنْ أَبِي الْعَالِيَةِ أَرْبَعَةَ أَحَادِيثَ: حَدِيثَ يُونُسَ بْنِ مَتَّى، وَحَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ فِي الصَّلَاةِ، وَحَدِيثَ الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ، وَحَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ مِنْهُمْ: عُمَرُ، وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَذَكَرْتُ حَدِيثَ يَزِيدَ الدَّالَانِيِّ لِأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، فَانْتَهَرَنِي اسْتِعْظَامًا لَهُ، وَقَالَ: مَا لِيَزِيدَ الدَّالَانِيِّ يُدْخِلُ عَلَى أَصْحَابِ قَتَادَةَ ؟ وَلَمْ يَعْبَأْ بِالْحَدِيثِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سجدہ کرتے اور (سجدہ میں) سو جاتے، اور خراٹے لینے لگتے تھے، پھر اٹھتے اور نماز پڑھتے، اور وضو نہیں کرتے تھے، (ایک بار) میں نے آپ ﷺ سے کہا: آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا، حالانکہ آپ سو گئے تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وضو تو اس شخص پر (لازم آتا) ہے جو لیٹ کر سوئے ۔ عثمان اور ہناد نے فإنه إذا اضطجع استرخت مفاصله (کیونکہ جب کوئی چت لیٹ کر سوتا ہے تو اس کے اعضاء اور جوڑ ڈھیلے ہوجاتے ہیں) کا اضافہ کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ حدیث کا یہ ٹکڑا: وضو اس شخص پر لازم ہے جو چت لیٹ کر سوئے منکر ہے، اسے صرف یزید ابوخالد دالانی نے قتادہ سے روایت کیا ہے، اور حدیث کے ابتدائی حصہ کو ایک جماعت نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے، ان لوگوں نے اس میں سے کچھ ذکر نہیں کیا ہے۔ نیز ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اس طرح (غفلت) کی نیند سے محفوظ تھے۔ اور ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میری دونوں آنکھیں سوتی ہیں، لیکن میرا دل نہیں سوتا ۔ اور شعبہ کہتے ہیں کہ قتادہ نے ابوالعالیہ سے صرف چار حدیثیں سنی ہیں: ایک یونس بن متی کی، دوسری ابن عمر ؓ کی جو نماز کے باب میں مروی ہے، تیسری حدیث القضاة ثلاثة ہے، اور چوتھی ابن عباس ؓ کی حدیث: حدثني رجال مرضيون منهم عمر وأرضاهم عندي عمر ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے یزید دالانی کی روایت کا احمد بن حنبل سے ذکر کیا، تو انہوں نے مجھے اسے بڑی بات سمجھتے ہوئے ڈانٹا: اور کہا یزید دالانی کو کیا ہے؟ وہ قتادہ کے شاگردوں کی طرف ایسی باتیں منسوب کردیتے ہیں جنہیں ان لوگوں نے روایت نہیں کی ہیں، امام احمد نے (دالانی کے ضعیف ہونے کی وجہ سے) اس حدیث کی پرواہ نہیں کی۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to prostrate and sleep (in prostration) and produce puffing sounds (during sleep). Then he would stand and pray and would not perform ablution. I said to him: you prayed but did not perform ablution though you slept (in prostration). He replied: Ablution is necessary for one who sleeps while he is lying down. Uthman and Hannad added: For when he lies down, his joints are relaxed. Abu Dawud said: The statement ablution is necessary for one who sleeps while one is lying down is a munkar (rejected) tradition. It has been narrated only by Yazid Abu Khalid al-Dalani, on the authority of Qatadah. And its earlier part has been narrated by a group (of narrators) from Ibn Abbas; they did not mention anything about it. He (Ibn Abbas) said: The Prophet ﷺ was protected (during his sleep). Aisha (RA) reported: The Prophet ﷺ said: My eyes sleep, but my heart does not sleep. Shubah said: Qatadah heard from Abul-Aliyah only four traditions: the tradition about Jonah son of Matthew, the tradition reported by Ibn Umar about prayer, the tradition stating that the judges are three, and the tradition narrated by Ibn Abbas saying: (This tradition) has been narrated to me by reliable persons ; Umar is one of them, and the most reliable of them in my opinion is Umar. Abu Dawud said: I asked Ahmad bin Hanbal about the tradition narrated by Yazid al-Dalani. He rebuked me out of respect for him. Then he said: Yazid al-Dalani does not add anything to what has been narrated by the teachers of Qatadah. He did not care of this tradition (due to its weakness).

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطھارة ٥٧ (٧٧)، (تحفة الأشراف: ٥٤٢٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٥٦) (ضعیف) (مؤلف نے سبب ضعف بیان کردیا ہے )
203Sunan Abu Dawood

کیا سونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحِمْصِيُّ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وِكَاءُ السَّهِ الْعَيْنَانِ، فَمَنْ نَامَ فَلْيَتَوَضَّأْ.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سرین کا بندھن دونوں آنکھیں (بیداری) ہیں، پس جو سو جائے وہ وضو کرے ١ ؎۔

Narrated Ali ibn Abu Talib: The Messenger of Allah ﷺ said: The eyes are the leather strap of the anus, so one who sleeps should perform ablution.

Notes · وضاحت
١ ؎: جمہور علماء کے نزدیک گہری نیند وضو کی ناقض یعنی توڑ دینے والی ہے، اور ہلکی نیند وضو نہیں توڑتی، کتب احکام میں قلیل و کثیر ( ہلکی اور گہری نیند) کی تحدید میں قدرے تفصیل بھی مذکور ہے، صفوان بن عسال ؓ کی حدیث سے ثابت ہے کہ نیند پاخانہ اور پیشاب کی طرح ناقض وضو ہے، جبکہ انس ؓ کی حدیث میں ہے کہ صحابہ کرام ؓ عشاء کے انتظار میں بیٹھے بیٹھے سو جاتے، پھر بلاوضو جدید نماز ادا کرتے تھے، اس سے یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ ہلکی نیند سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطھارة ٦٢ (٤٧٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١١١، ٤/٩٧) (حسن )
204Sunan Abu Dawood

کیا نجاست پر چلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنِي شَرِيكٌ، وَجَرِيرٌ، وَابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِكُنَّا لَا نَتَوَضَّأُ مِنْ مَوْطِئٍ، وَلَا نَكُفُّ شَعْرًا وَلَا ثَوْبًا، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي مُعَاوِيَةَ فِيهِ: عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَوْ حَدَّثَهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَقَالَ هَنَّادٌ: عَنْ شَقِيقٍ، أَوْ حَدَّثَهُ عَنْهُ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ہم راستہ میں چل کر پاؤں نہیں دھلتے تھے، اور نہ ہی ہم بالوں اور کپڑوں کو سمیٹتے تھے (یعنی اسی طرح نماز پڑھ لیتے تھے) ۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : We would not wash our feet after treading on something unclean, nor would we hold our hair and garments (during prayer). Abu Dawud said: The tradition has been reported by Ibrahim bin Abi Muawiyah through a different chain of narrators: Amash - Shaqiq - Masruq - Abdullah (bin Masud). And Hannad reported from Shaqiq, or reported on his authority saying: Abdullah (bin Masud) said.

Takhrij · تخریج
حدیث ابراہیم بن أبی معاویة عن أبی معاویة تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٩٥٦٤)، وحدیث ہناد عن أبی معاویة و عثمان عن شریک وجریر و عبداللہ بن ادریس، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ١٠٩ (١٤٣) تعلیقًا: سنن ابن ماجہ/الإقامة ٦٧ (١٠٤١)، (تحفة الأشراف: ٩٢٦٨) (صحیح )
205Sunan Abu Dawood

نماز کے درمیان وضو ٹوٹ جانے کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِيسَى بْنِ حِطَّانَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا فَسَا أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَتَوَضَّأْ، وَلْيُعِدِ الصَّلَاةَ.

علی بن طلق ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو نماز میں ہوا خارج ہوجائے تو وہ نماز چھوڑ کر چلا جائے، پھر وضو کرے، اور نماز کا اعادہ کرے ۔

Narrated Ali ibn Talq (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: When any of you breaks wind during the prayer, he should turn away and perform ablution and repeat the prayer.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الرضاع ١٢ (١١٦٤)، سنن النسائی/الکبری، عشرة النساء (٩٠٢٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٤٤)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطھارة ١١٤ (١١٨١)، مسند احمد (١/٨٦) ویأتي عند المؤلف برقم: ١٠٠٥ (ضعیف) (اس کے دو راوی عیسیٰ اور مسلم لَیِّن الحدیث ہیں )
206Sunan Abu Dawood

مذی کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ الْحَذَّاءُ، عَنْ الرَّكِينِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ، عَنْ عَلِيٍّرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَجَعَلْتُ أَغْتَسِلُ حَتَّى تَشَقَّقَ ظَهْرِي، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ ذُكِرَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَفْعَلْ إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ، فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، فَإِذَا فَضَخْتَ الْمَاءَ فَاغْتَسِلْ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسا آدمی تھا جسے مذی ١ ؎ بہت نکلا کرتی تھی، تو میں باربار غسل کرتا تھا، یہاں تک کہ میری پیٹھ پھٹ گئی ٢ ؎ تو میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا، یا آپ سے اس کا ذکر کیا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم ایسا نہ کرو، جب تم مذی دیکھو تو صرف اپنے عضو مخصوص کو دھو ڈالو اور وضو کرلو، جیسے نماز کے لیے وضو کرتے ہو، البتہ جب پانی ٣ ؎ اچھلتے ہوئے نکلے تو غسل کرو ۔

Ali said: My prostatic fluid flowed excessively. I used to take a bath until my back cracked (because of frequent washing). I mentioned it to the prophet ﷺ , or the fact was mentioned to him (by someone else). The Messenger of Allah ﷺ said; Do not do so. When you find prostatic fluid, wash your penis and perform ablution as you do for your prayer, but when you have seminal emission, you should take a bath.

Notes · وضاحت
١ ؎: مذی ایسی رطوبت کو کہتے ہیں جو عورت سے بوس وکنار کے وقت مرد کے ذکر سے بغیر اچھلے نکلتی ہے۔ ٢ ؎: یعنی ٹھنڈے پانی سے غسل کرتے کرتے پیٹھ کی کھال پھٹ گئی، جیسے سردی میں ہاتھ پاؤں پھٹ جاتے ہیں۔ ٣ ؎: اس سے مراد منی ہے یعنی وہ رطوبت جو شہوت کے وقت اچھل کر نکلتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطھارة ١١١ (١٥٢)، والغسل ٢٨ (٤٣٦)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٧٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل ١٣(٢٦٩)، سنن الترمذی/الطھارة ٨٣ (١١٤)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧٠ (٥٠٤)، مسند احمد (١/١٠٩، ١٢٥، ١٤٥) (صحیح )
207Sunan Abu Dawood

مذی کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ لَهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ إِذَا دَنَا مِنْ أَهْلِهِ فَخَرَجَ مِنْهُ الْمَذْيُ، مَاذَا عَلَيْهِ ؟، فَإِنَّ عِنْدِي ابْنَتَهُ وَأَنَا أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَهُ، قَالَ الْمِقْدَادُ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ، فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ.

مقداد بن اسود ؓ کہتے ہیں کہ علی ؓ نے انہیں رسول اللہ ﷺ سے (اپنے لیے) یہ مسئلہ پوچھنے کا حکم دیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے اور مذی نکل آئے تو کیا کرے؟ (انہوں نے کہا) چونکہ میرے نکاح میں رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی (فاطمہ ؓ) ہیں، اس لیے مجھے آپ سے یہ مسئلہ پوچھنے میں شرم آتی ہے۔ مقداد ؓ کہتے ہیں: تو میں نے جا کر پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اسے پائے تو اپنی شرمگاہ کو دھو ڈالے اور وضو کرے جیسے نماز کے لیے وضو کرتا ہے ۔

Narrated Al-Miqdad ibn al-Aswad (RA) : Ali ibn Abu Talib commanded him to ask the Messenger of Allah ﷺ what a man should do when he wants to have intercourse with his wife and the prostatic fluid comes out (at this moment). (He said): I am ashamed of consulting him because of the position of his daughter. Al-Miqdad said: I asked the Messenger of Allah ﷺ about it. He said: When any of you finds, he should wash his private part, and perform ablution as he does for prayer.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطہارة ١١٢ (١٥٦)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٧٠ (٥٠٥)، (تحفة الأشراف: ١١٥٤٤)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة ٨٣ (١٥٦)، موطا امام مالک/الطہارة ١٣ (٥٣)، مسند احمد (٦/٤، ٥) (صحیح )
208Sunan Abu Dawood

مذی کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ لِلْمِقْدَادِ وَذَكَرَ نَحْوَ هَذَا، قَالَ: فَسَأَلَهُ الْمِقْدَادُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِيَغْسِلْ ذَكَرَهُ وَأُنْثَيَيْهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَجَمَاعَةٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْمِقْدَادِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِيهِ: وَالأُنْثَيَيْنِ.

عروہ سے روایت ہے کہ علی بن ابی طالب ؓ نے مقداد ؓ سے کہا، پھر راوی نے آگے اسی طرح کی روایت ذکر کی، اس میں ہے کہ مقداد نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چاہیئے کہ وہ شرمگاہ (عضو مخصوص) اور فوطوں کو دھو ڈالے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ثوری اور ایک جماعت نے ہشام سے، ہشام نے اپنے والد عروہ سے، عروہ نے مقداد ؓ سے، مقداد ؓ نے علی ؓ سے، اور علی ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔

Urwah said: Ali b abi Talib said to al-miqdad, and made a similar statement as above. Al-Miqdad asked him (the prophet). The prophet ﷺ said: he should wash his penis and testicles. Abu Dawud said: The tradition has been narrators by al-Thawri and a group of narrators from Hisham on the authority of his father from al-Miqdad, from Ali reporting from the prophet ﷺ .

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطہارة ١١٢ (١٥٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٢٤) (صحیح )
209Sunan Abu Dawood

مذی کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَدِيثٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قُلْتُ لِلْمِقْدَادِ: فَذَكَرَ مَعْنَاهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد، وَرَوَاهُ الْمُفَضَّلُ بن فضالة وجماعة، والثوري، وابن عيينة، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَرَوَاهُ ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْمِقْدَادِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَذْكُرْ: أُنْثَيَيْهِ.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے مقداد ؓ سے کہا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے مفضل بن فضالہ، ایک جماعت، ثوری اور ابن عیینہ نے ہشام سے، ہشام نے اپنے والد عروہ سے، عروہ نے علی بن ابی طالب سے روایت کیا ہے، نیز اسے ابن اسحاق نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد عروہ سے، عروہ نے مقداد ؓ سے اور مقداد نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، مگر اس میں لفظ أنثييه دونوں فوطوں کا ذکر نہیں ہے۔

Urwah reported on the Authority of his father a tradition from Ali bin Abi Talib who said: I Asked al-Miqdad (to consult the prophet). He then narrated the tradition bearing the same meaning. Abu Dawud said; this tradition has been reported with another chain of narrators. This version does not mention the word “testicles”.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ١٠٢٤١) (صحیح )
210Sunan Abu Dawood

مذی کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ: كُنْتُ أَلْقَى مِنَ الْمَذْيِ شِدَّةً، وَكُنْتُ أُكْثِرُ مِنَ الِاغْتِسَالِ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّمَا يُجْزِيكَ مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي مِنْهُ ؟ قَالَ: يَكْفِيكَ بِأَنْ تَأْخُذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَتَنْضَحَ بِهَا مِنْ ثَوْبِكَ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَهُ.

سہل بن حنیف ؓ کہتے ہیں کہ مجھے مذی سے بڑی تکلیف ہوتی تھی، باربار غسل کرتا تھا، لہٰذا میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: اس میں صرف وضو کافی ہے ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کپڑے میں جو لگ جائے اس کا کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ایک چلو پانی لے کر کپڑے پر جہاں تم سمجھو کہ مذی لگ گئی ہے چھڑک لو ۔

Narrated Sahl ibn Hunayf: I felt greatly distressed by the frequent flowing of prostatic fluid. For this reason I used to take a bath very often. I asked the Messenger of Allah ﷺ about this. He replied: Ablution will be sufficient for you because of this. I asked: Messenger of Allah, what should I do if it smears my clothes. He replied: It is sufficient if you take a handful of water and sprinkle it on your clothe when you find it has smeared it.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطھارة ٨٤ (١١٥)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧٠ (٥٠٦)، (تحفة الأشراف: ٤٦٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٨٥، سنن الدارمی/الطھارة ٤٩ (٧٥٠) (حسن )
211Sunan Abu Dawood

مذی کا بیان

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْحَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا يُوجِبُ الْغُسْلَ، وَعَنِ الْمَاءِ يَكُونَ بَعْدَ الْمَاءِ، فَقَالَ: ذَاكَ الْمَذْيُ، وَكُلُّ فَحْلٍ يَمْذِي، فَتَغْسِلُ مِنْ ذَلِكَ فَرْجَكَ وَأُنْثَيَيْكَ وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ.

عبداللہ بن سعد انصاری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس چیز کے بارے میں پوچھا جو غسل کو واجب کرتی ہے، اور اس پانی کے بارے میں پوچھا جو غسل کے بعد عضو مخصوص سے نکل آئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہی مذی ہے، اور ہر مرد کو مذی نکلتی ہے، لہٰذا تم اپنی شرمگاہ اور اپنے دونوں فوطوں کو دھو ڈالو، اور وضو کرو جیسے نماز کے لیے وضو کرتے ہو ۔

Narrated Abdullah ibn Saad al-Ansari (RA) : I asked the Messenger of Allah ﷺ as to what makes it necessary to take a bath and about the (prostatic) fluid that flows after taking a bath. He replied: that is called madhi (prostatic fluid). It flows from every male. You should wash your private parts and testicles because of it and perform ablution as you do for prayer.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٣٢٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطھارة ١٠٠ (١٣٣)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٣٠ (٦٥١)، مسند احمد (٤/٣٤٢، ٥/٢٩٣) (صحیح )
212Sunan Abu Dawood

حائضہ عورت کے ساتھ کھانے پینے اور مباشرت کا حکم

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ،عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَحِلُّ لِي مِنَ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ: لَكَ مَا فَوْقَ الْإِزَارِ، وَذَكَرَ مُؤَاكَلَةَ الْحَائِضِ أَيْضًا، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

عبداللہ بن سعد انصاری ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: جب میری بیوی حائضہ ہو تو اس کی کیا چیز میرے لیے حلال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے لیے لنگی (تہبند) کے اوپر والے حصہ (سے لطف اندوز ہونا) درست ہے ، نیز اس کے ساتھ حائضہ کے ساتھ کھانے کھلانے کا بھی ذکر کیا، پھر راوی نے (سابقہ) پوری حدیث بیان کی۔

Narrated Abdullah ibn Saad al-Ansari (RA) : Abdullah asked the Messenger of Allah ﷺ : What is lawful for me to do with my wife when she is menstruating? He replied: What is above the waist-wrapper is lawful for you. The narrator also mentioned (the lawfulness of) eating with a woman in menstruation, and he transmitted the tradition in full.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطہارة ١٠٠(١٣٣)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٣٠ (٦٥١)، (تحفة الأشراف: ٥٣٢٦) (صحیح )
213Sunan Abu Dawood

حائضہ عورت کے ساتھ کھانے پینے اور مباشرت کا حکم

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْيَزَنِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سَعْدٍ الْأَغْطَشِ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ الْأَزْدِيِّ، قَالَ هِشَامٌ وَهُوَ ابْنُ قُرْطٍ أَمِيرُ حِمْصَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنَ امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ: فَقَالَ: مَا فَوْقَ الْإِزَارِ، وَالتَّعَفُّفُ عَنْ ذَلِكَ أَفْضَلُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَيْسَ هُوَ يَعْنِي الْحَدِيثَ بِالْقَوِيِّ.

معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: مرد کے لیے اس کی حائضہ بیوی کی کیا چیز حلال ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: لنگی (تہبند) کے اوپر کا حصہ (اس سے لطف اندوز ہونا) جائز ہے، لیکن اس سے بھی بچنا افضل ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے۔

Narrated Muadh ibn Jabal (RA) : I asked the Messenger of Allah ﷺ : What is lawful for a man to do with his wife when she is menstruating? He replied: What is above the waist-wrapper, but it is better to abstain from it, too. Abu Dawud said: This (tradition) is not strong.

Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٣٣٢) (ضعیف) (سعدالأغطش لین الحدیث اور بقیہ مدلس ہیں )
214Sunan Abu Dawood

غسل دخول سے واجب ہوتا ہے یا انزال سے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي بَعْضُ مَنْ أَرْضَي، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ ذَلِكَ رُخْصَةً لِلنَّاسِ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ لِقِلَّةِ الثِّيَابِ، ثُمَّ أَمَرَ بِالْغُسْلِ وَنَهَى عَنْ ذَلِكَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: يَعْنِي الْمَاءَ مِنَ الْمَاءِ.

ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو یہ رخصت ابتدائے اسلام میں کپڑوں کی کمی کی وجہ سے دی تھی (کہ اگر کوئی دخول کرے اور انزال نہ ہو تو غسل واجب نہ ہوگا) پھر آپ ﷺ نے صرف دخول کرنے اور انزال نہ ہونے کی صورت میں غسل کرنے کا حکم فرما دیا، اور غسل نہ کرنے کو منع فرما دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نهى عن ذلك یعنی ممانعت سے مراد الماء من الماء (غسل منی نکلنے کی صورت میں واجب ہے) والی حدیث پر عمل کرنے سے منع کردیا ہے۔

Ubayy bin Kaab reported: The Messenger of Allah ﷺ made a concession in the early days of Islam on account of the paucity of clothes that one should not take a bath if one has sexual intercourse (and has no seminal emission). But later on her commanded to take a bath in such a case and prohibited its omission.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطھارة ٨١ (١١٠)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١١١ (٦٠٩)، (تحفة الأشراف: ٢٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل ١٢ (٢٦٧)، صحیح مسلم/الحیض ٦ (٣٠٩)، سنن النسائی/الطہارة ١٧٠ (٢٦٤، ٢٦٥)، مسند احمد (٥/١١٥، ١١٦)، سنن الدارمی/الطھارة ٧٤ (٧٨٦) (صحیح) (اگلی سند نیز دیگر اسانید سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ مؤلف کی سند میں ایک مبہم راوی ہیں، علماء کی تصریح کے مطابق یہ مبہم راوی ابوحازم ہیں، نیز زہری خود سہل سے بھی براہ راست روایت کرتے ہیں)، (دیکھئے حاشیہ ترمذی از علامہ احمد محمد شاکر)۔
215Sunan Abu Dawood

غسل دخول سے واجب ہوتا ہے یا انزال سے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الْبَزَّازُ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرٌ الْحَلَبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدٍ أَبِي غَسَّانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، أَنّ الْفُتْيَا الَّتِي كَانُوا يَفْتُونَ أَنَّ الْمَاءَ مِنَ الْمَاءِ كَانَتْ رُخْصَةً رَخَّصَهَا رَسُولُ اللَّهِ فِي بَدْءِ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ أَمَرَ بِالِاغْتِسَالِ بَعْدُ.

سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ ابی بن کعب ؓ نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ بعض صحابہ کرام ؓ جو یہ فتوی دیا کرتے تھے کہ منی کے انزال ہونے پر ہی غسل واجب ہوتا ہے، یہ رخصت رسول اللہ ﷺ نے ابتدائے اسلام میں دی تھی پھر اس کے بعد آپ ﷺ نے غسل کرنے کا حکم دیا۔

Ubayy bin Kaab said: The verdict that water (bath) is necessary when there is emission given by the people (in the early days of Islam) was due to the concession granted by the Messenger of Allah in the beginning of Islam. He then commanded to take a bath (in such a case). Abu Dawud said: By Abu Ghassan is meant Muhammad bin mutarrif.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ٢٧) (صحیح )
216Sunan Abu Dawood

غسل دخول سے واجب ہوتا ہے یا انزال سے

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَرَاهِيدِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، وَشُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا قَعَدَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ وَأَلْزَقَ الْخِتَانَ بِالْخِتَانِ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب مرد عورت کی چاروں شاخوں (دونوں پنڈلیوں اور دونوں رانوں یا دونوں ہاتھوں اور دونوں پیروں) کے درمیان بیٹھے اور مرد کا ختنہ عورت کے ختنہ سے مل جائے (یعنی مرد کے عضو تناسل کی سپاری عورت کی شرمگاہ کے اندر داخل ہوجائے) تو غسل واجب ہوگیا ۔

Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying: when anyone sits between the four parts of a woman and the parts (of the male and female) which are circumscised join together, then bath becomes obligatory.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الغسل ٢٨ (٢٩١)، صحیح مسلم/الطہارة ٢٢ (٣٤٨)، سنن النسائی/الطھارة ١٢٩ (١٩١)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١١١ (٦١٠)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٣٤، ٢٤٧، ٣٩٣، ٤٧١، ٥٢٠)، سنن الدارمی/الطھارة ٧٥ (٧٨٨) (صحیح )
217Sunan Abu Dawood

غسل دخول سے واجب ہوتا ہے یا انزال سے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ، وَكَانَ أَبُو سَلَمَةَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانی پانی سے ہے (یعنی منی نکلنے سے غسل واجب ہوتا ہے) اور ابوسلمہ ایسا ہی کرتے تھے ١ ؎۔

Aba Saeed al-Khudri reported: The Messenger of Allah ﷺ said: water (bath) is necessary only when there is seminal emission. And Abu Salamah followed it.

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ وہ اسے منسوخ نہیں مانتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ٢١ (٣٤٣)، (تحفة الأشراف: ٤٤٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٩، ٣٦، ٤٧) (صحیح )
218Sunan Abu Dawood

کیا جنبی غسل سے پہلے دوسرا جماع کرسکتا ہے؟

حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى نِسَائِهِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَكَذَا رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، وَمَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، وَصَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، كُلُّهُمْ عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن ایک ہی غسل سے اپنی تمام بیویوں کے پاس گئے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح اسے ہشام بن زید نے انس سے اور معمر نے قتادہ سے، اور قتادہ نے انس سے اور صالح بن ابی الاخضر نے زہری سے اور ان سب نے انس ؓ سے اور انس نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔

Anas reported: One day the Messenger of Allah ﷺ had sexual intercourse with (all) his wives with a single bath. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted through another chain of narrators.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی سب سے صحبت کی، اور پھر آخر میں غسل کیا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطھارة ١٧٠ (١٩٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٠٣، ٥٦٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل ١٢ (٢٦٨)، ١٧ (٢٧٥)، والنکاح ٤ (٥٠٦٨)، ١٠٢ (٥٢١٥)، صحیح مسلم/الطہارة ٦ (٣٠٩)، سنن الترمذی/الطھارة ١٠٦ (١٤٠)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٠١ (١٤٠)، مسند احمد (٣/٢٢٥، سنن الدارمی/الطھارة ٧١ (٧٨٠) (صحیح )
219Sunan Abu Dawood

جنبی دوبارہ جماع کرنا چاہے تو وضو کرے

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَمَّتِهِ سَلْمَى، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى نِسَائِهِ يَغْتَسِلُ عِنْدَ هَذِهِ وَعِنْدَ هَذِهِ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَجْعَلُهُ غُسْلًا وَاحِدًا ؟ قَالَ: هَذَا أَزْكَى وَأَطْيَبُ وَأَطْهَرُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ أَنَسٍ أَصَحُّ مِنْ هَذَا.

ابورافع ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک دن اپنی بیویوں کے پاس گئے، ہر ایک کے پاس غسل کرتے تھے ١ ؎۔ ابورافع کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے کہا: اللہ کے رسول! ایک ہی بار غسل کیوں نہیں کرلیتے؟ آپ نے فرمایا: یہ زیادہ پاکیزہ، عمدہ اور اچھا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: انس ؓ کی روایت اس سے زیادہ صحیح ہے ٢ ؎۔

Narrated Abu Rafi (RA) : One day the Prophet ﷺ had intercourse with all his wives. He took a bath after each intercourse. I asked him: Messenger of Allah, why dont you make it a single bath? He replied: This is more purifying, better and cleaning. Abu Dawud said: The tradition narrated by Anas is more sound that this tradition.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ہر ایک سے جماع کر کے غسل کرتے تھے۔ ٢ ؎: یعنی اس سے پہلے والی حدیث (٢١٨)۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٠٢ (٥٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٨، ٩، ٣٩١) (حسن )
220Sunan Abu Dawood

جنبی دوبارہ جماع کرنا چاہے تو وضو کرے

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ، ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يُعَاوِدَ، فَلْيَتَوَضَّأْ بَيْنَهُمَا وُضُوءًا.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے ١ ؎ پھر دوبارہ صحبت کرنا چاہے، تو ان دونوں کے درمیان وضو کرے ۔

Abu Saeed Al-Khudri reported: The Prophet ﷺ said: When any of you has intercourse with his wife and desire to repeat it, he should perform ablution between them.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی صحبت کرے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ٦ (٣٠٨)، سنن الترمذی/الطھارة ١٠٧ (١٤١)، سنن النسائی/الطھارة ١٦٩ (٢٦٣)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٠٠ (٥٨٧)، (تحفة الأشراف: ٤٢٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٧، ٢١، ٢٨) (صحیح )
221Sunan Abu Dawood

جنابت کے بعد غسل سے پہلے سونا جائز ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ، ثُمَّ نَمْ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا کہ مجھے رات کو جنابت لاحق ہوجاتی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: وضو کرلو، اور اپنا عضو تناسل دھو کر سو جاؤ ۔

Abdullah bin Umar (RA) reported: Umar bin al-Khattab said to the Messenger of Allah ﷺ that he became sexually defiled at night (asking him what he should do). The Messenger of Allah ﷺ said: You should perform ablution and wash your penis and then sleep.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الغسل ٢٧ (٢٩٠)، صحیح مسلم/الطہارة ٦ (٣٠٦)، سنن النسائی/الطھارة ١٦٧، (٢٦١)، (تحفة الأشراف: ٧٢٢٤)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطھارة ٩٩ (٥٨٥)، موطا امام مالک/الطہارة ١٩(٧٦)، مسند احمد (٢/٦٤)، سنن الدارمی/الطھارة ٧٣ (٧٨٣) (صحیح )