Sunan Abu Dawood 2703

جہاد کا بیان

2703Sunan Abu Dawood

جب غلہ کی کمی ہو تو ہر ایک کو غلہ لوٹ کر اپنے لئے رکھنا منع ہے بلکہ لشکر میں تقسیم کرنا چاہئے

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي لُبَيْدٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ بِكَابُلَ، فَأَصَابَ النَّاسُ غَنِيمَةً فَانْتَهَبُوهَا فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ النُّهْبَى فَرَدُّوا مَا أَخَذُوا فَقَسَمَهُ بَيْنَهُمْ.

ابو لبید کہتے ہیں کہ ہم عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ کے ساتھ کابل میں تھے وہاں لوگوں کو مال غنیمت ملا تو انہوں نے اسے لوٹ لیا، عبدالرحمٰن نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا کہ آپ لوٹنے سے منع فرماتے تھے، تو لوگوں نے جو کچھ لیا تھا واپس لوٹا دیا، پھر انہوں نے اسے ان میں تقسیم کردیا۔

Narrated Abdur Rahman ibn Samurah ibn Kabul (RA) : AbuLabid said: We were with Abdur Rahman ibn Samurah ibn Kabul. The people got booty and plundered it. He stood and addressed (the people): I heard the Messenger of Allah ﷺ prohibiting getting property from the booty before its distribution. Therefore, they returned what they had taken, He then distributed it among them.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٩٦٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٦٢، ٦٣)، سنن الدارمی/الأضاحي ٢٣ (٢٠٣٨) (صحیح )