Sunan Abu Dawood 2702

جہاد کا بیان

2702Sunan Abu Dawood

دشمن کی سر زمین پر مال غنیمت میں سے تقسیم سے قبل کھانے پینے کی چیزیں کھانے کی اجازت

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، وَالْقَعْنَبِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ حُمَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍقَالَ: دُلِّيَ جِرَابٌ مِنْ شَحْمٍ يَوْمَ خَيْبَرَ قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَالْتَزَمْتُهُ قَالَ: ثُمَّ قُلْتُ: لَا أُعْطِي مِنْ هَذَا أَحَدًا الْيَوْمَ شَيْئًا قَالَ: فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَسَّمُ إِلَيَّ.

عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ خیبر کے دن چربی کا ایک مشک لٹکایا گیا تو میں آیا اور اس سے چمٹ گیا، پھر میں نے کہا: آج میں اس میں سے کسی کو بھی کچھ نہیں دوں گا، پھر میں مڑا تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ میری اس حرکت پر کھڑے مسکرا رہے ہیں۔

Abd Allaah bin Mughaffal said “On the day of Khaibar a skin of fat was hanging. I came to it and clung to it. I then said (i. e., thought) I shall not give any one any of it today. I then turned round and saw the Messenger of Allah ﷺ smiling at me.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الخمس ٢٠ (٣١٥٣)، والمغازي ٣٨ (٤٢١٤)، والصید ٢٢ (٥٥٠٨)، صحیح مسلم/الجھاد ٢٥ (١٧٧٢)، سنن النسائی/الضحایا ٣٧ (٤٤٤٠)، (تحفة الأشراف: ٩٦٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨٦، ٥/٥٥، ٥٦)، سنن الدارمی/السیر ٥٧ (٢٥٤٢) (صحیح )