دشمن کی سر زمین پر مال غنیمت میں سے تقسیم سے قبل کھانے پینے کی چیزیں کھانے کی اجازت
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ جَيْشًا غَنِمُوا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا وَعَسَلًا فَلَمْ يُؤْخَذْ مِنْهُمُ الْخُمُسُ.
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک لشکر رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں (دوران جنگ) غلہ اور شہد غنیمت میں لایا تو اس میں سے خمس نہیں لیا گیا۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : In the time of the Messenger of Allah ﷺ an army got food and honey and a fifth was not taken from them.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٨١١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فرض الخمس ٢٠ (٣١٥٤) (صحیح )