Sunan Abu Dawood 2704

جہاد کا بیان

2704Sunan Abu Dawood

جب غلہ کی کمی ہو تو ہر ایک کو غلہ لوٹ کر اپنے لئے رکھنا منع ہے بلکہ لشکر میں تقسیم کرنا چاہئے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُجَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: قُلْتُ: هَلْ كُنْتُمْ تُخَمِّسُونَ يَعْنِي الطَّعَامَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَصَبْنَا طَعَامًا يَوْمَ خَيْبَرَ فَكَانَ الرَّجُلُ يَجِيءُ فَيَأْخُذُ مِنْهُ مِقْدَارَ مَا يَكْفِيهِ ثُمَّ يَنْصَرِفُ.

عبداللہ بن ابی اوفی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: کیا آپ لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں غلہ کا پانچواں حصہ نکالا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہمیں خیبر کے دن غلہ ملا تو آدمی آتا اور اس میں سے کھانے کی مقدار میں لے لیتا پھر واپس چلا جاتا۔

Narrated Abdullah ibn Abu Awfa (RA) : Muhammad ibn AbulMujahid reported Abdullah ibn Abu Awfa as saying: I asked: Did you set aside the fifth of the food in the time of the Messenger of Allah ﷺ ? He replied: On the day of Khaybar we captured food and a man would come and take as much food of it as needed and then go away.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٥١٧٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٥٥) (صحیح )