Ayahs 7:201–2025 پہلے تو تنہا حضور ﷺ کو خطاب تھا گو حکم استعاذہ میں سب شامل تھے اب عام متقین (خدا ترس پرہیزگاروں) کا حال بیان فرماتے ہیں یعنی عام متقین کے حق میں یہ محال نہیں کہ شیطان کا گزر ان کی طرف ہو، اور کوئی چرکہ لگا جائے۔ البتہ متقین کی شان یہ ہوتی ہے کہ شیطان کے اغواء سے ممتد غفلت میں نہیں پڑتے بلکہ ذرا غفلت ہوئی اور خدا کو یاد کر کے چونک پڑے ٹھوکر لگی اور معًا سنبھل گئے، سنبھلتے ہی آنکھیں کھل گئیں، غفلت کا پردہ اٹھ گیا۔ نیکی، بدی کا انجام سامنے نظر آنے لگا اور بہت جلد نازیبا کام سے رک گئے۔ باقی غیر متقین (جن کے دل میں خدا کا ڈر نہ ہو، اور جنہیں شیطان کی برادری کہنا چاہیے) ان کا حال یہ ہے کہ شیاطین ہمیشہ انہیں گمراہی میں کھینچتے چلے جاتے ہیں اور رگیدنے میں ذرا کمی نہیں کرتے۔ ادھر یہ لوگ ان کی اقتداء و پیروی میں کوتاہی نہیں کرتے۔ اور اس طرح ان شیاطین کے غرور و سرکشی کو اور زیادہ بڑھاتے رہتے ہیں۔ بہرحال متقی کی شان یہ ہے کہ جب شیطان دق کرے، فوراً خدا سے پناہ مانگے دیر نہ کرے۔ ورنہ غفلت میں تمادی ہو کر رجوع الی اللہ کی توفیق بھی نہ رہے گی۔
Ayah 7:2031 جب کبھی وحی کے آنے میں تاخیر ہوتی، تو کفار از راہ تمسخر کہتے تھے کہ اب کوئی آیت کیوں گھڑ کر نہیں لے آتے۔ آخر سارا قرآن تم نے بنایا ہی ہے (العیاذ باللہ) ۔ اسی طرح کبھی دق کرنے کے لیے بعض ایسے نشان (معجزات) طلب کرتے جن کے دکھلانے کو خدا کی حکمت مقتضی نہ تھی۔ جب آپ دکھلانے سے انکار کرتے تو کہتے۔ " لَوْلَا اجْتَبَیْتَہَا " یعنی اپنے خدا سے کہہ کر ہمارا مانگا ہوا نشان کیوں چھانٹ کر نہ لے آئے دونوں باتوں کے جواب میں فرمایا۔ (ۭقُلْ اِنَّمَآ اَتَّبِعُ مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ مِنْ رَّبِّيْ ) 7 ۔ الاعراف :103) یعنی ان سے کہہ دو کہ (نبی کا یہ کام نہیں کہ اپنی طرف سے خدا پر افتراء کرے، یا لوگوں کے کہنے سننے پر اقدام کر کے خدا سے وہ چیز مانگے جس کا دینا اس کی حکمت کے منافی ہے یا جس کے طلب کرنے کی اجازت نہیں ہے) اس کا وظیفہ صرف یہ ہے کہ جو کچھ خدا وحی بھیجے، قبول کرے، اس پر عمل پیرا ہو اور دوسروں کو عمل پیرا ہونے کی دعوت دے۔ باقی آیات تنزیلیہ یا تکوینیہ جو مجھ سے طلب کرتے ہو، تو قرآن سے بڑھ کر کون سی آیات ہوں گی اور اس سے زیادہ عظیم الشان معجزہ کون سا ہوگا جو سارے جہان کے لیے بصیرت افروز حقائق و مواعظ کا خزانہ اور ایمان لانے والوں کے لیے خاص قسم کی ہدایت و رحمت کا ذخیرہ اپنے اندر رکھتا ہے۔ اسی کو تم کب ماننے کے لیے تیار ہوئے، جو فرمائشی آیات کو تسلیم کرو گے۔
Ayah 7:2042 جب قرآن ایسی دولت بےبہا اور علم و ہدایت کی کان ہے تو اس کی قرأت کا حق سامعین پر یہ ہے کہ پوری فکر و توجہ سے ادھر کان لگائیں، اس کی ہدایات کو سمع قبول سے سنیں اور ہر قسم کی بات چیت، شور وشغب اور ذکر و فکر چھوڑ کر ادب کے ساتھ خاموش رہیں تاکہ خدا کی رحمت اور مہربانی کے مستحق ہوں۔ اگر کافر اس طرح قرآن سنے تو کیا بعید ہے کہ خدا کی رحمت سے مشرف بایمان ہوجائے۔ اور پہلے سے مسلمان ہے تو ولی بن جائے یا کم از کم اس فعل کے اجر وثواب سے نوازا جائے۔ اس آیت سے بہت سے علماء نے یہ مسئلہ بھی نکالا ہے کہ نماز میں جب امام قرأت کرے تو مقتدی کو سننا اور خاموش رہنا چاہیے جیسا کہ ابو موسیٰ اور ابوہریرہ کی حدیث میں حضور ﷺ نے فرمایا " واذاقرأ فانصتوا " (جب نماز میں امام قرأت کرے تو چپ رہو) یہاں اس مسئلہ کی تفصیل کا مواقع نہیں۔ صحیح مسلم کی شرح میں ہم نے نہایت شرح وبسط سے اس کے مالہ ' وماعلیہ پر بحث کی ہے۔
Ayah 7:2053 بڑا ذکر تو قرآن کریم ہے، اس کا ادب بیان ہوچکا ہے۔ اب عام " ذکر اللہ " کے سوا کچھ آداب بیان فرماتے ہیں۔ یعنی " ذکر اللہ " کی اصلی روح یہ ہے کہ جو زبان سے کہے دل سے اس کی طرف دھیان رکھے تاکہ ذکر کا پورا نفع ظاہر ہو اور زبان و دل دونوں عضو خدا کی یاد میں مشغول ہوں۔ ذکر کرتے وقت دل میں رقت ہونی چاہیے۔ سچی رغبت ورہبت سے خدا کو پکارے۔ جیسے کوئی خوشامد کرنے والا ڈرا ہوا آدمی کسی کو پکارتا ہے۔ ذاکر کے لہجہ میں، آواز میں ہئیت میں تضرع و خوف کا رنگ محسوس ہونا چاہیے۔ ذکر و مذکور کی عظمت و جلال سے آواز کا پست ہونا قدرتی چیز ہے وَخَشَعَتِ الْاَصْوَات للرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّاھمْسًا۔ اسی لیے زیادہ چلانے کی ممانعت آئی ہے۔ دھیمی آواز سے سراً یا جہراً خدا کا ذکر کرے تو خدا اس کا ذکر کرے گا۔ پھر اس سے زیادہ عاشق کی خوش بختی اور کیا ہوسکتی ہے۔
Ayah 7:2064 یعنی رات دن خصوصاً صبح و شام کے اوقات میں اس کی یاد سے غافل مت رہ۔ جب مقرب فرشتوں کو اس کی بندگی سے عار نہیں، بلکہ ہمہ وقت اسی کی یاد میں لگے رہتے ہیں، اسی کو سجدہ کرتے ہیں، تو انسان کو اور بھی زیادہ ضروری ہے کہ اس کے ذکر و عبادت و سجود سے غافل نہ رہے۔ چناچہ اس آیت پر بھی سجدہ کرنا چاہیے۔