7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 7:121–122

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:121 in the Quran reader

بولے ہم ایمان لائے پروردگار عالم پر

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 7:122 in the Quran reader

جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا9

9 چونکہ فرعون بھی اپنی نسبت اَنَارَبُّکُمُ الْاَعْلٰی کہتا تھا، شاید اس لیے رَبُّ الْعَالَمِیْنَ کے ساتھ رَبِّ مُوْسیٰ وَھرُوْنَ کہنے کی ضرورت ہوئی۔ اس میں یہ بھی اشارہ ہوگیا کہ بیشک جہان کا پروردگار وہ ہی ہوسکتا ہے جس نے موسیٰ و ہارون کو اپنی خاص ربوبیت سے بدون توسط اسباب ظاہرہ دنیا کے متکبروں پر علیٰ رؤس الاشہاد اس طرح غالب کر کے دکھلا دیا۔
Ayah 7:123

قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِی الْمَدِیْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَاۤ اَهْلَهَا١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:123 in the Quran reader

بولا فرعون کیا تم ایمان لے آئے اس پر میری اجازت سے پہلے یہ تو مکر ہے جو بنایا تم سب نے اس شہر میں تاکہ نکال دو اس شہر سے اس کے رہنے والوں کو سو اب تم کو معلوم ہوجائے گا1

1 یعنی یہ تم سب جادو گروں کی ملی بھگت ہے، غالباً موسیٰ تمہارا بڑا استاد ہوگا۔ اس کو آگے بھیج دیا پھر سب نے اپنی مغلوبیت کا اظہار کردیا۔ تاکہ عام لوگ متاثر ہوجائیں۔ اس گہری سازش سے تمہارا مقصود یہ ہے کہ اس ملک کے اصلی باشندوں کو نکال باہر کرو اور خود مصر کی سلطنت پر قبضہ کرلو۔ یہ تقریر فرعون نے اپنی کھلی شکست پر پردہ ڈالنے اور لوگوں کو اُلُّو بنانے کی غرض سے کی تھی (فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ ) 43 ۔ الزخرف :53) مگر جس چیز سے فرعون اور فرعونی ڈر رہے تھے، آخر تقدیر الٰہی سے وہ ہی پیش آئی (وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الْاَرْضِ وَنُرِيَ فِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَحْذَرُوْنَ ) 28 ۔ القصص :6)
Ayahs 7:124–125

لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:124 in the Quran reader

میں ضرور کاٹوں گا تمہارے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں پھر سولی پر چڑھاؤں گا تم سب کو

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 7:125 in the Quran reader

وہ بولے ہم کو تو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہی ہے2

2 ساحرین توحید اور تمنائے لقاء اللہ کی شراب سے مخمور ہوچکے تھے، جنت و دوزخ گویا آنکھوں کے سامنے تھیں۔ بھلا وہ ان دھمکیوں کی کیا پرواہ کرسکتے تھے انہوں نے صاف کہہ دیا کہ کچھ مضائقہ نہیں جو کرنا ہو کر گزر پھر ہم کو اپنے خدا کے پاس جانا ہے تیرے سر ہو کر سہی۔ وہاں کے عذاب سے یہاں کی تکلیف آسان ہے اور اس کی رحمت و خوشنودی کے راستہ میں دنیا کی بڑی سے بڑی تکالیف و مصائب کا برداشت کرلینا بھی عاشقوں کے لیے سہل ہے۔ " ہنیئًا لارباب النعیم نعیمہم۔ وللعاشق المسکین مایتجرَّع "
Ayah 7:126

وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا١ؕ رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:126 in the Quran reader

اور تجھ کو ہم سے یہی دشمنی ہے کہ مان لیا ہم نے اپنے رب کی نشانیوں کو جب وہ ہم تک پہنچیں اے ہمارے رب دہانے کھول دے ہم پر صبر کے اور ہم کو مار مسلمان3

3 یعنی جب رب کی نشانیوں کو مان لینے سے ہم تیری نگاہ میں مجرم ٹھہرے ہیں، اسی رب سے ہماری دعا ہے کہ وہ تیری زیادتیوں اور سختیوں پر ہم کو صبر جمیل کی توفیق بخشے اور مرتے دم تک اسلام پر مستقیم رکھے ایسا نہ ہو کہ گھبرا کر کوئی بات تسلیم و رضاء کے خلاف کر گزریں۔
Ayah 7:127

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰى وَ قَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ١ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ Open ayah 7:127 in the Quran reader

اور بولے سردار قوم فرعون کے کیوں چھوڑتا ہے تو موسیٰ کو اور اس کی قوم کو کہ دھوم مچائیں ملک میں4 اور موقوف کر دے تجھ کو اور تیرے بتوں کو5 بولا اب ہم مار ڈالیں گے ان کے بیٹوں کو اور زندہ رکھیں گے ان کی عورتوں کو اور ہم ان پر زور آور ہیں6

4 جب حق کے نشان دیکھ کر ساحرین سجدہ میں گرپڑے اور بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) کا ساتھ دینا شروع کردیا بلکہ بعض قبطیوں کا میلان بھی ان کی طرف ہونے لگا تو فرعونی لیڈر گھبرائے اور فرعون کو یہ کہہ کر تشدّد پر آمادہ کرنے لگے کہ موسیٰ اور اس کی قوم بنی اسرائیل کو یہ موقع نہ دینا چاہیے کہ وہ آزاد رہ کر ملک میں اودھم مچاتے پھریں اور عام لوگوں کو اپنی طرف مائل کر کے حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کردیں اور آئندہ تیری اور تیرے تجویز کئے ہوئے معبودوں کی پرستش ملک سے موقوف کرا دیں۔ 5 فرعون اپنے کو " رب اعلیٰ " بڑا پروردگار کہتا تھا۔ غالبًا اسی " اعلیٰ " کو نباہنے کے لیے کچھ ادنیٰ پروردگار بھی تجویز کئے ہوں گے۔ ان کو یہاں " اٰلِھَتکَ " کہا۔ بعض نے کہا کہ وہ گائے وغیرہ کی مجسم تصویریں تھیں، بعض نے سورج اور ستاروں کا ارادہ کیا ہے بعض کے نزدیک خود فرعون نے اپنی تصویر کے مجسمے پرستش کے لیے تقسیم کر دئیے تھے کچھ سہی بہرحال بڑا معبود اپنے ہی کو کہلواتا تھا۔ اور (عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ ) 28 ۔ القصص :38) کہہ کر خدا کے وجود کی نفی کرتا تھا۔ العیاذ باللہ۔ 6 موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے بھی فرعون نے بنی اسرائیل پر ظلم کر رکھا تھا کہ لڑکوں کو قتل کردیتا۔ اس خوف سے کہ کہیں یہ وہ ہی اسرائیلی نہ ہو جس کے ہاتھ پر اس کی سلطنت کے زوال کی خبر منجمین نے دی تھی۔ اور لڑکیوں کو خدمت وغیرہ کے لیے زندہ رہنے دیتا۔ اب موسیٰ (علیہ السلام) کا اثر دیکھ کر اندیشہ ہوا کہ کہیں اس کی تربیت و اعانت سے بنی اسرائیل زور نہ پکڑ جائیں اس لیے انہیں خوفزدہ اور عاجز کرنے کے لیے اپنے زور و قوت کے نشہ میں پھر اسی پرانی اسکیم پر عمل کرنے کی ٹھہرائی۔ بنی اسرائیل اس سفاکانہ تجویز کو سن کر طبعی طور پر پریشان اور دہشت زدہ ہوئے ہوں گے۔ اس کا علاج موسیٰ (علیہ السلام) نے آئندہ آیت میں بتلایا۔
Ayah 7:128

قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْا١ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 7:128 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا اپنی قوم سے مدد مانگو اللہ سے اور صبر کرو بیشک زمین ہے اللہ کی اس کا وارث کر دے جس کو وہ چاہے اپنے بندوں میں اور آخر میں بھلائی ہے ڈرنے والوں کے لیے7

7 یعنی گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ اللہ کے سامنے کسی کا زور نہیں چلتا، ملک اسی کا ہے جس کو مناسب جانے عطا فرمائے۔ لہذا ظالم کے مقابلہ میں اسی سے مدد مانگو۔ اسی پر نظر رکھو، اسی سے ڈرو، صبر وتقویٰ کی راہ اختیار کرو، اور یقین رکھو، کہ آخری کامیابی صرف متقین کے لیے ہے۔
Ayah 7:129

قَالُوْۤا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا١ؕ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:129 in the Quran reader

وہ بولے ہم پر تکلیفیں رہیں تیرے آنے سے پہلے اور تیرے آنے کے بعد8 کہا نزدیک ہے کہ رب تمہارا ہلاک کر دے تمہارے دشمن کو اور خلیفہ کردے تم کو ملک میں پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو9

8 یعنی ہم تو ہمیشہ مصیبت ہی میں رہے۔ تمہاری تشریف آوری سے قبل ہم سے ذلیل بیگار لی جاتی تھی۔ اور ہمارے لڑکے قتل کیے جاتے تھے۔ تمہارے آنے کے بعد طرح طرح کی سختیاں کی جا رہی ہیں اور قتل ابناء کے مشورے ہو رہے ہیں۔ دیکھئے کب ہماری مصیبتوں کا خاتمہ ہو۔ 9 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تسلی دی کہ زیادہ مت گھبراؤ۔ خدا کی مدد قریب آگئی ہے۔ تم دیکھ لو گے کہ تمہارا دشمن ہلاک کردیا جائے گا اور تم کو ان کے اموال کا مالک بنادیا جائے گا تاکہ جس طرح آج سختی و غلامی میں تمہارا امتحان ہو رہا ہے، اس وقت خوشحالی اور آزادی دے کر آزمایا جائے کہ کہاں تک اس کی نعمتوں کی قدر اور احسانات کی شکر گزاری کرتے ہو۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ یہ کلام مسلمانوں کے سنانے کو نقل فرمایا، یہ سورت مکی ہے، اس وقت مسلمان بھی ایسے ہی مظلوم تھے " گفتہ آید در حدیث دیگراں " کے رنگ میں یہ بشارت ان کو پہنچائی
Ayahs 7:130–131

وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:130 in the Quran reader

اور ہم نے پکڑ لیا فرعون والوں کو قحطوں میں اور میووں کے نقصان میں تاکہ وہ نصیحت مانیں

فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ١ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:131 in the Quran reader

پھر جب پہنچی ان کو بھلائی کہنے لگے یہ ہے ہمارے لائق اور اگر پہنچی برائی تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھ والوں کی سن لو ان کی شومی تو اللہ کے پاس ہے پر اکثر لوگ نہیں جانتے1

1 گزشتہ آیت میں فرمایا تھا " قریب ہے کہ خدا تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے۔ " یہاں سے اسی ہلاک موعود کے بعض مبادی کی تفصیل شروع کی گئی ہے۔ یعنی اسی سنت اللہ کے موافق جس کا بیان اسی پارہ کے شروع میں آیت ( وَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْ قَرْيَةٍ مِّنْ نَّبِيٍّ اِلَّآ اَخَذْنَآ اَهْلَهَا بالْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُوْنَ ) 7 ۔ الاعراف :94) کے تحت میں گزر چکا، خدا تعالیٰ نے فرعونیوں کو ابتدائی تنبیہ کے طور پر قحط، خشک سالی وغیرہ معمولی تکالیف اور سختیوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ خواب غفلت سے چونکیں اور موسیٰ (علیہ السلام) کی پیغمبرانہ نصیحتوں کو قبول کرلیں۔ مگر وہ ایسے کا ہے کو تھے، انہوں نے ان تنبیہات کی کچھ پروا نہ کی بلکہ پہلے سے زیادہ ڈھیٹ اور گستاخ ہوگئے۔ چناچہ (ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَان السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ ) 7 ۔ الاعراف :95) کے قاعدہ سے جب قحط وغیرہ دور ہو کر ارزانی اور خوشحالی حاصل ہوتی تو کہنے لگتے کہ دیکھو ہماری خوش طالعی اوراقبال مندی کے لائق تو یہ حالات ہیں پھر اگر درمیان میں کبھی کسی ناخوشگوار اور بری حالت سے دوچار ہونا پڑجاتا تو کہتے کہ یہ سب (معاذ اللہ) موسیٰ اور اس کے رفقاء کی شومیٔ تقید اور نحوست ہے۔ حق تعالیٰ نے اسی کا جواب دیا اَلَآ اِنَّمَا طَآئِرُھمْ عِنْدَاللّٰہِ الخ یعنی اپنی بدبختی اور نحوست کو مقبول بندوں کی طرف کیوں نسبت کرتے ہو۔ تمہاری اس نحوست کا واقعی سبب تو خدا کے علم میں ہے۔ اور وہ تمہارا ظلم وعدوان اور بغاوت و شرارت ہے۔ اسی سبب کی بناء پر خدا کے یہاں سے کچھ حصہ نحوست کا وقتی سزا اور تنبیہ کے طور پر تم کو پہنچ رہا ہے۔ باقی رہی تمہارے ظلم و کفر کی اصلی شومیٔ و نحوست یعنی پوری پوری سزا تو وہ ابھی اللہ کے پاس محفوظ ہے جو دنیا میں یا آخرت میں اپنے وقت پر تم کو پہنچ کر رہے گی۔ جس کی ابھی اکثر لوگوں کو خبر نہیں۔
Ayah 7:132

وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:132 in the Quran reader

اور کہنے لگے جو کچھ تو لائے گا ہمارے پاس نشانی کہ ہم پر اس کی وجہ سے جادو کرے، سو ہم ہرگز تجھ پر ایمان نہ لائیں گے2

2 یہ موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات و نشانات دیکھ کر کہتے تھے کہ خواہ کیسا ہی جادو آپ ہم پر چلائیں اور اپنے خیال کے موافق کتنے ہی نشان دکھلائیں، ہم کسی طرح تمہاری بات ماننے والے نہیں۔ جب انہوں نے یہ آخری فیصلہ سنا دیا اور قبول حق کے سب دروازے اپنے اوپر بند کرلیے، تب خدا نے ان پر چند قسم کی عظیم الشان بلائیں یکے بعد دیگرے مسلط کردیں۔ جن کی تفصیل اگلی آیت میں آتی ہے۔
Ayah 7:133

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 7:133 in the Quran reader

پھر ہم نے بھیجا ان پر طوفان3 اور ٹڈی اور چچڑی4 اور مینڈک اور خون بہت سی نشانیاں جدا جدا پھر بھی تکبر کرتے رہے اور تھے وہ لوگ گناہ گار5

3 یعنی بارش اور سیلاب کا طوفان یا طاعون کی وجہ سے موت کا طوفان علیٰ اختلاف الاقوال۔ 4 " قمل " سے مراد چچڑیاں ہیں، جیسا کہ مترجم رحمۃ اللہ نے اختیار کیا۔ یا جوئیں یا گیہوں وغیرہ غلہ میں جو کیڑا لگ جاتا ہے جس سے غلہ خراب ہوجاتا ہے یعنی بدن اور کپڑوں میں چچڑیاں اور جوئیں پڑگئیں۔ غلہ میں گھن لگ گیا۔ 5 یعنی تھوڑے تھوڑے وقفہ کے ساتھ یہ سب آیات دکھلائی گئیں مگر وہ کچھ ایسے متکبرانہ، جرائم پیشہ اور پرانے گنہگار تھے کہ کسی طرح مان کر نہ دیا سعید بن جبیر سے منقول ہے کہ جب فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے مطالبہ (بنی اسرائیل کی آزادی) کو تسلیم نہ کیا تو حق تعالیٰ نے بارش کا طوفان بھیجا، جس سے کھیتیوں وغیرہ کی تباہی کا اندیشہ پیدا ہوگیا۔ آخر گھبرا کر حضرت موسیٰ سے درخواست کی کہ تم اپنے خدا سے کہہ کر یہ بلائے طوفان دور کرا دو تو ہم بنی سرائیل کو آزادی دے کر تمہارے ساتھ روانہ کردیں گے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے بارش بند ہوگئی اور بجائے نقصان کے پیداوار بہت کثرت سے ہوئی۔ فرعونی عذاب سے بےفکر ہو کر اپنے عہد پر قائم نہ رہے، تب اللہ تعالیٰ نے تیار کھیتیوں پر ٹڈی دل بھیج دیا جسے دیکھ کر پھر گھبرائے کہ یہ نئی آفت کہاں سے آگئی پھر موسیٰ (علیہ السلام) سے دعاء کی درخواست کی اور پختہ وعدے کئے کہ اگر یہ عذاب ٹل گیا تو ہم ضرور بنی اسرائیل کو آزاد کردیں گے۔ جب یہ عذاب بھی اٹھا لیا گیا تو پھر مطمئن ہوگئے اور سب وعدے فراموش کر دئیے۔ آخر جس وقت غلہ اٹھا کر مکانوں میں بھر لیا تو خدا کے حکم سے غلہ میں گھن لگ گیا۔ پھر موسیٰ سے دعاء کرائی اور بڑے پکے عہد و پیمان کیے۔ لیکن جہاں وہ حالت ختم ہوئی بدستور سابق سرکشی اور بدعہدی کرنے لگے تو خدا نے ان کا کھانا پینا بےلطف کردیا مینڈک اس قدر کثرت سے پیدا کردیئے گئے کہ ہر کھانے اور برتن میں مینڈک نظر آتا تھا۔ جب بولنے یا کھانے کے لیے منہ کھولتے مینڈک جست کر کے منہ میں پہنچتا تھا اور ویسے بھی اس جانور کی کثرت نے رہنا سہنا مشکل کردیا۔ ادھر پینے کے لیے جو پانی لینا چاہتے تھے وہ خدا کے حکم سے برتنوں میں یا منہ میں پہنچ کر خون بن جاتا۔ غرض کھانے پینے تک سے عاجز ہو رہے تھے اس پر بھی شیخی اور اکڑفوں وہ ہی تھی۔
Ayah 7:134

وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 7:134 in the Quran reader

اور جب پڑتا ان پر کوئی عذاب تو کہتے اے موسیٰ دعا کر ہمارے واسطے اپنے رب سے جیسا کہ اس نے بتلا رکھا ہے تجھ کو6 اگر تو نے دور کردیا ہم سے یہ عذاب تو بیشک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو

6 یعنی اس نے دعاء کا جو موثر طریقہ تجھ کو بتلا رکھا ہے، اسی طرح دعاء کر دیجئے۔ یابِمَا عَہِدَ عِنْدَکَ کا مطلب یہ ہے کہ " نبی اللہ " ہونے کی حیثیت سے دعاء فرما دیجئے۔ گویا " عہد " کا اطلاق نبوت پر ہوا، کیونکہ خدا اور نبی کے درمیان ایک طرح کا معاہدہ ہوتا ہے کہ خدا نبی کو خلعت اکرام و اعانت سے سرفراز فرمائے گا اور نبی اس کی پیغام رسانی میں کوتاہی نہ کرے گا۔ اور ممکن ہے بِمَا عَہِدَ عِنْدَکَ سے وہ عہد مراد ہو جو بتوسط انبیاء علیہم السلام، اقوام سے کیا جاتا ہے کہ اگر تم کفر و تکذیب سے باز آجاؤ گے تو عذاب الٰہی اٹھا لیا جائے گا واللہ اعلم۔
Ayah 7:135

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 7:135 in the Quran reader

پھر جب ہم نے اٹھا لیا ان سے عذاب ایک مدت تک کہ ان کو اس مدت تک پہنچنا تھا اسی وقت عہد توڑ ڈالتے7

7 اس مدت سے یا تو موت اور غرق ہونے تک کی مدد مراد ہے۔ یا ممکن ہے ایک بلا کے بعد دوسری بلا کے آنے تک کا وقت مراد ہو۔
Ayah 7:136

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:136 in the Quran reader

پھر ہم نے بدلہ لیا ان سے سو ڈبو دیا ہم نے ان کو دریا میں اس وجہ سے کہ انہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے تغافل کرتے تھے1

1 " رجز " بعض مفسرین کے نزدیک طاعون مراد ہے جیسا کہ بعض احادیث میں یہ لفظ طاعون پر اطلاق کیا گیا ہے لیکن اکثر مفسرین ان آیات کو پچھلی آیات ہی کا بیان قرار دیتے ہیں موضح القرآن میں ہے کہ " یہ سب بلائیں ان پر آئیں ایک ہفتہ کے فرق سے۔ اول حضرت موسیٰ فرعون کو کہہ آتے کہ اللہ تم پر یہ بلا بھیجے گا، وہ ہی بلا آتی۔ پھر مضطر ہوتے، حضرت موسیٰ کی خوشامد کرتے، ان کی دعاء سے دفع ہوتی، پھر منکر ہوجاتے، آخر کو وبا پڑی۔ نصف شب کو سارے شہر میں ہر شخص کا پہلا بیٹا مرگیا، وہ لگے مردوں کے غم میں، حضرت موسیٰ اپنی قوم کو لے کر شہر سے نکل گئے پھر کئی روز کے بعد فرعون پیچھے لگا۔ دریائے قلزم پر جا پکڑا۔ وہاں یہ قوم سلامت گزر گئی اور فرعون ساری فوج سمیت غرق ہوا۔
Ayah 7:137

وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوْا١ؕ وَ دَمَّرْنَا مَا كَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُهٗ وَ مَا كَانُوْا یَعْرِشُوْنَ Open ayah 7:137 in the Quran reader

اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے2 اس زمین کے مشرق اور مغرب کا کہ جس میں برکت رکھی ہے ہم نے3 اور پورا ہوگیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے اور خراب کردیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے اور جو اونچا کر کے چھایا تھا4

2 یعنی بنی اسرائیل کو۔ 3 اکثر مفسرین کے نزدیک اس زمین سے مراد ملک شام ہے جس میں حق تعالیٰ نے بہت سی ظاہری و باطنی برکات ودیعت کی ہیں۔ ظاہری تو یہ ہی کہ نہایت سرسبز و شاداب، سیر حاصل، خوش منظر اور زرخیز ملک ہے اور باطنی اس لیے کہ بہت سے انبیاء (علیہم السلام) کا مسکن و مدفن بنایا گیا ہے۔ بنی اسرائیل مصر سے نکل کر ایک عرصہ تک صحرائے تیہ میں سرگرداں پھرتے رہے۔ جیسا کہ پہلے گزر چکا، بعدہ ' حضرت یوشع کے ساتھ ہو کر " عمالقہ " سے جہاد کیا، اور اپنے آبائی وطن ملک شام کے وارث بنے۔ بعض مفسرین نے اس زمین سے مصر مراد لیا ہے۔ یعنی فرعونیوں کو غرق کر کے ہم نے بنی اسرائیل کو مصر کی دولت کا وارث بنادیا کہ آزادی کے ساتھ اس سے متمتع ہوں کما قال تعالیٰ (كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ 25؀ۙ وَّزُرُوْعٍ وَّمَقَامٍ كَرِيْمٍ 26؀ۙ وَّنَعْمَةٍ كَانُوْا فِيْهَا فٰكِهِيْنَ 27؀ۙ كَذٰلِكَ ۣوَاَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِيْنَ 28؀) 44 ۔ الدخان :25 تا 28) (وَنُرِيْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَي الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِي الْاَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ اَىِٕمَّةً وَّنَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِيْنَ ۝ ۙ وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الْاَرْضِ وَنُرِيَ فِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَحْذَرُوْنَ ۝) 28 ۔ القصص :5 ۔ 6) اس تقدیر پر مصر کی ظاہری برکات تو ظاہر ہیں، باطنی اس حیثیت سے ہوں گی کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) وہیں مدفون ہوئے، حضرت یعقوب (علیہ السلام) وہاں تشریف لے گئے اور آخر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بچپن سے لے کر بڑی عمر تک طویل مدت اسی ملک میں گزاری۔ امام بغوی نے مفسرین کے دونوں قول جمع کر کے اس جگہ مصر و شام دونوں کا ارادہ کیا ہے۔ واللہ اعلم۔ 4 یعنی بنی اسرائیل نے جب فرعونیوں کے سخت تباہ کن شدائد پر صبر کیا، موسیٰ (علیہ السلام) کی ہدایت کے موافق خدا سے استعانت کی اور پیغمبر خدا کا ساتھ دیا خدا نے جو نیک وعدہ ان سے کیا تھا (عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ ) 7 ۔ الاعراف :129) وہ پورا کر دکھایا۔ فرعون اور اس کی قوم نے اپنے اپنے کبرو نخوت کے اظہار کے لیے جو ڈھونگ بنا رکھا تھا وہ سب تباہ و برباد ہوگیا۔ اور ان کی اونچی اونچی عمارتیں تہہ وبالا کردی گئیں۔ سچ ہے (اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْيَةً اَفْسَدُوْهَا وَجَعَلُوْٓا اَعِزَّةَ اَهْلِهَآ اَذِلَّةً ) 27 ۔ النمل :34)
Ayah 7:138

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰى قَوْمٍ یَّعْكُفُوْنَ عَلٰۤى اَصْنَامٍ لَّهُمْ١ۚ قَالُوْا یٰمُوْسَى اجْعَلْ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 7:138 in the Quran reader

اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے تو پہنچے ایک قوم پر جو پوجنے میں لگ رہے تھے اپنے بتوں کے5 کہنے لگے اے موسیٰ بنا دے ہماری عبادت کے لیے بھی ایک بت جیسے ان کے بت ہیں کہا تم لوگ تو جہل کرتے ہو6

5 بعض نے کہا کہ یہ قبیلہ لخم کے لوگ تھے اور بعض نے کنعانی عمالقہ کو اس کا مصداق قرار دیا ہے کہتے ہیں کہ ان کے بت گائے کی شکل پر تھے۔ واللہ اعلم۔ 6 یعنی حق تعالیٰ کی عظمت و شان اور تنزیہ و تقدیس سے تم بالکل جاہل معلوم ہوتے ہو۔ واقعہ بنی اسرائیل کا میلان بار بار اس طرح کے افعال و رسوم شرکیہ کی طرف ہوتا تھا۔ یہ بیہودہ جاہلانہ درخواست بھی مصر کی آب و ہوا اور وہاں کے بت پرستوں کی صحبت کے تاثرات کو ظاہر کرتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " جاہل آدمی نرے بےصورت معبود کی عبادت سے تسکین نہیں پاتا جب تک سامنے ایک صورت نہ ہو۔ وہ قوم دیکھی کہ گائے کی صورت پوجتی تھی ان کو بھی یہ ہوس آئی آخر سونے کا بچھڑا بنایا اور پوجا۔ "
Ayah 7:139

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِیْهِ وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:139 in the Quran reader

یہ لوگ تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں، اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں7

7 یعنی ان کا بت پرستی کا مذہب میرے اور اہل حق کے ہاتھوں سے آئندہ تباہ ہونے والا ہے اور جو کچھ سوانگ یہ اب تک بناتے رہے ہیں وہ محض باطل، غلط، بیکار اور بےحقیقت ہے۔
Ayah 7:140

قَالَ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْكُمْ اِلٰهًا وَّ هُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:140 in the Quran reader

کہا کہہ اللہ کے سوا ڈھونڈوں تمہارے واسطے کوئی اور معبود حالانکہ اس نے تم کو بڑائی دی تمام جہان پر8

8 یعنی خدا کے انعامات عظیمہ کی شکر گزاری اور حق شناسی کیا یہ ہی ہوسکتی ہے کہ غیر اللہ کی پرستش کر کے اللہ سے بغاوت کی جائے۔ پھر بڑی شرم کا مقام ہے کہ جس مخلوق کو خدا نے سارے جہان پر فضیلت دی وہ اپنے ہاتھ سے بنائی ہوئی مورتیوں کے سامنے سربسجود ہوجائے ؟ کیا مفضول افضل کا معبود بن سکتا ہے ؟
Ayah 7:141

وَ اِذْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ۚ یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 7:141 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کرو جب نجات دی ہم نے تم کو فرعون والوں سے کہ دیتے تھے تم کو برا عذاب کہ مار ڈالتے تھے تمہارے بیٹوں کو اور جیتا رکھتے تھے تمہاری عورتوں کو اور اس میں احسان ہے تمہارے رب کا بڑا9

9 اس کی تفسیر پارہ الم کے ربع کے بعد ملاحظہ کی جائے۔ یہ مضمون وہاں گزر چکا ہے۔ یعنی جس خدا نے ابھی ابھی تم پر ایسا عظیم الشان احسان فرمایا، کیا اسے چھوڑ کر لکڑیوں اور پتھروں کے سامنے جھکتے ہو ؟
Ayah 7:142

وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِیْنَ لَیْلَةً وَّ اَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً١ۚ وَ قَالَ مُوْسٰى لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَ اَصْلِحْ وَ لَا تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:142 in the Quran reader

اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس رات کا اور پورا کیا ان کو اور دس سے پس پوری ہوگئی مدت تیرے رب کی چالیس راتیں1 اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہ میرا خلیفہ رہ میری قوم میں اور اصلاح کرتے رہنا اور مت چلنا مفسدوں کی راہ2

1 جب بنی اسرائیل کو طرح طرح کی پریشانیوں سے اطمینان نصیب ہوا تو انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ اب ہمارے لیے کوئی آسمانی شریعت لائیے جس پر ہم دلجمعی کے ساتھ عمل کر کے دکھلائیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کا معروضہ بارگاہ الٰہی میں پیش کردیا۔ خدا تعالیٰ نے ان سے کم از کم تین دن اور زائد از زائد چالیس دن کا وعدہ فرمایا کہ جب اتنی مدت تم پے بہ پے روزے رکھو گے اور کوہ طور پر معتکف رہو گے تو تم کو تورات شریف عنایت کی جائے گی، دو مدتیں (کم اور زیادہ) ٹھہرانے کا شاید یہ مطلب تھا کہ اگر اثنائے ریاضت میں وظائف عبودیت اور آداب تقرب ادا کرنے کے اعتبار سے کسی قسم کی کوتاہی اور تقصیر ظاہر نہ کی تو اقل مدت تیس دن کافی ہوں گے ورنہ اکثر الاجلین چالیس روزے پورے کرنے پڑیں گے۔ یا شروع سے تیس دن ضروری و لازمی میعاد کے طور پر ہوں اور چالیس دن پورے کرنا اختیاری و استحبابی حیثیت سے اصل میعاد کی تکمیل و تمیم کے طور پر رکھے گئے ہوں۔ جیسے شعیب (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی بیٹی دیتے وقت فرمایا تھا (عَلٰٓي اَنْ تَاْجُرَنِيْ ثَمٰـنِيَ حِجَجٍ ۚ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ ۚ وَمَآ اُرِيْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَيْكَ ) 28 ۔ القصص :27) اور ہمارے زمانہ کے بعض مصنفین نے کہا ہے کہ اصل میعاد چالس ہی دن کی تھی جیسا کہ سورة بقرہ میں مذکور ہے اور یہاں بھی فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّہٖ میں اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ اس چالیس دن کے بیان کا ایک پیرا یہ ہے کہ ہم نے تیس دن کا وعدہ کیا تھا جن کا تتمہ دس دن اور تھے۔ تاکہ اشارہ ہوجائے کہ ایک مہینہ سالم (ذیقعدہ) پورا کر کے دوسرے مہینہ (ذی الحجہ) میں سے دس دن اور بڑھائے گئے۔ اس طرح یکم ذی القعدہ سے شروع ہو کر 10 ذی الحجہ کو چلہ پورا ہوا جیسا کہ اکثر سلف سے منقول ہے۔ واللہ اعلم۔ موضح القرآن میں ہے کہ " حق تعالیٰ نے وعدہ دیا حضرت موسیٰ کو کہ پہاڑ پر تیس رات خلوت کرو کہ تمہاری قوم کو " تورات " دوں۔ اس مدت میں انہوں نے ایک دن مسواک کی۔ فرشتوں کو ان کے منہ کی بو سے خوشی تھی وہ جاتی رہی اس کے بدلے دس رات اور بڑھا کر مدت پوری کی۔ " 2 یعنی میری غیبت میں میرے حصہ کا کام بھی تم ہی کرو۔ گویا حکومت و ریاست کے جو اختیارات موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مخصوص تھے، وہ ہارون (علیہ السلام) کو تفویض کردیئے گئے اور چونکہ بنی اسرائیل کی تلون مزاجی اور سست اعتقادی کا پورا تجربہ رکھتے تھے، اس لیے بڑی تصریح و تاکید سے ہارون (علیہ السلام) کو متنبہ کردیا کہ اگر میرے پیچھے یہ لوگ کچھ گڑ بڑ مچائیں تو تم اصلاح کرنا اور میرے طریق کار پر کار بند رہنا۔ مفسدہ پردازوں کی راہ پر مت چلنا۔ خدا کی مشیت کہ موسیٰ (علیہ السلام) یہ وصیت کر کے ادھر گئے۔ ادھر بنی اسرائیل نے گوسالہ پرستی شروع کردی مگر حضرت ہارون نے موجودہ بائبل نویسوں کے علی الرغم (يٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِيْ وَاَطِيْعُوْٓا اَمْرِيْ ) 20 ۔ طہ :90) کہہ کر ان کی گمراہی اور اپنی بیزاری کا صاف صاف اعلان کردیا، اور وصیت موسوی کے موافق اصلاح حال کی امکانی کوشش کی۔
Ayah 7:143

وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِیْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗ١ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْ١ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:143 in the Quran reader

اور جب پہنچا موسیٰ ہمارے وعدہ پر اور کلام کیا اس سے اس کے رب نے بولا اے میرے رب تو مجھ کو دکھا کہ میں تجھ کو دیکھوں3 فرمایا تو مجھ کو ہرگز نہ دیکھے گا4 لیکن تو دیکھتا رہ پہاڑ کی طرف اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا تو تو مجھ کو دیکھ لے گا5 پھر جب تجلی کی اس کے رب نے پہاڑ کی طرف کردیا اس کو ڈھا کر برابر اور گرپڑا موسیٰ بیہوش ہو کر6 پھر جب ہوش میں آیا بولا تیری ذات پاک ہے میں نے توبہ کی تیری طرف اور میں سب سے پہلے یقین لایا7

3 چالیس دن کی معیاد پوری ہو چکنے پر حق تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کسی مخصوص و ممتاز رنگ میں شرف مکالمہ بخشا۔ اس وقت حضرت موسیٰ کو بلاواسطہ کلام الٰہی سننے کی لذت بےپایاں حاصل ہوئی تو کمال اشتیاق سے متکلم کے دیدار کی آرزو کرنے لگے اور بےساختہ درخواست کردی۔ (رَبِّ اَرِنِيْٓ اَنْظُرْ اِلَيْكَ ) 7 ۔ الاعراف :143) اے پروردگار ! میرے اور اپنے درمیان سے حجاب اور موانع اٹھا دیجئے اور وجہ انور بےحجاب سامنے کر دیجئے کہ ایک نظر دیکھ سکوں۔ 4 یعنی دنیا میں کسی مخلوق کا یہ فانی وجود اور فانی قویٰ اس ذوالجلال والاکرام لم یزل ولا یزال کے دیدار کا تحمل نہیں کرسکتے۔ اس سے ثابت ہوا کہ دنیا میں کسی کو موت سے پہلے دیدار خداوندی کا شرف حاصل ہونا شرعاً ممتنع ہے گو عقلاً ممکن ہو کیونکہ اگر امکان عقلی بھی نہ مانا جائے تو موسیٰ (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبر کی نسبت یہ خیال نہیں کیا جاسکتا کہ وہ ایک محال عقلی کی درخواست کرتے۔ اہل السنت والجماعت کا یہ ہی مذہب ہے کہ رویت باری دنیا میں عقلاً ممکن، شرعاً ممتنع الوقوع ہے اور آخرت میں اس کا وقوع نصوص قطعیہ سے ثابت ہے، رہی رسول اللہ ﷺ کی رویت شب معراج میں، وہ اختلافی مسئلہ ہے جس کا ذکر انشاء اللہ " سورة نجم " میں آئے گا۔ 5 یعنی تم پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو، ہم اپنے جمال مبارک کی ایک ذرا سی جھلک اس پر ڈالتے ہیں۔ اگر پہاڑ جیسی سخت اور مضبوط چیز اس کو برداشت کرسکے تو ممکن ہے تم کو بھی اس کا تحمل کرا دیا جائے۔ ورنہ سمجھ لیجئے کہ جس چیز کا تحمل پہاڑ سے نہ ہو سکے، کسی انسان کی مادی ترکیب اور جسمانی آنکھیں اسے کیسے برداشت کرسکتی ہیں اگرچہ قلبی اور روحانی طاقت کے اعتبار سے زمین، آسمان، پہاڑ، سب چیزوں سے انسان فائق ہو۔ اور اسی لیے موسیٰ (علیہ السلام) جس وحی الٰہی کے حامل تھے، بلکہ دوسرے انسان بھی جس امانت عظیمہ کے حامل ہیں، پہاڑ وغیرہ اس کے اٹھانے پر قادر نہیں۔ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَہَا وَاشْفَقْنَ مِنْہَاوَحَمَلَہَا الْاِنْسَانُ (احزاب، رکوع 9، آیت 72) لَوْ اَنْزَلْنَاہٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیْتَہ ' خَاشِعًا مُّتَصَدِّعاً مِّنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ (الحشر، رکوع 3، آیت : 21) تاہم جس چیز کا تعلق ظاہری آنکھوں یا بدن کی مادی قوت سے ہو، اس میں انسان دوسری عظیم الخلقت چیزوں سے بہت کمزور ہوا ہے لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَکْبَرُمِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَعْلَمُونَ (المومن، رکوع 6، آیت : 57) وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا (نسائ، رکوع 5، آیت : 28) اس جگہ موسیٰ (علیہ السلام) کو انسانی وجود کی اسی کمزوری کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ 6 حق تعالیٰ کی تجلیات بہت طرح کی ہیں اور یہ خدا کا ارادی فعل ہے کہ جس چیز پر جس طرح چاہے تجلی فرمائے۔ پہاڑ پر جو تجلی ہوئی اس نے معًا پہاڑ کے خاص حصہ کو ریزہ ریزہ کر ڈالا، اور موسیٰ (علیہ السلام) چونکہ محل تجلی سے قریب تھے، ان پر اس قرب محل اور پہاڑ کے ہیبت ناک منظر دیکھنے کا اثر ہوا کہ بیہوش ہو کر گرپڑے۔ بلا تشبیہ یوں سمجھ لیجئے کہ بجلی جس چیز پر گرتی ہے اسے جلا کر ایک آن میں کس طرح خاک سیاہ کردیتی ہے اور جو لوگ اس مقام کے قریب ہوتے ہیں بسا اوقات انہیں بھی کم و بیش صدمہ پہنچ جاتا ہے۔ 7 یعنی پاک ہے اس سے کہ کسی مخلوق کے مشابہ ہو اور یہ فانی آنکھیں اس کے دیدار کا تحمل کرسکیں۔ تیری پاکی اور برتری کا اقتضاء یہ ہے کہ کسی چیز کی طلب تیری اجازت کے بدون نہ کی جائے، میں توبہ کرتا ہوں کہ فرط اشتیاق میں بدون اجازت کے ایک نازیبا درخواست کر گزرا۔ میں اپنے زمانہ کے سب لوگوں سے پہلے تیری عظمت و جلال کا یقین رکھتا ہوں اور پہلا وہ شخص ہوں جسے ذوق و عیانی طریق پر منکشف ہوا کہ خداوند قدوس کی رویت دنیا میں ان ظاہری آنکھوں سے واقع نہیں ہوسکتی۔
Ayah 7:144

قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنِّی اصْطَفَیْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِكَلَامِیْ١ۖ٘ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیْتُكَ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:144 in the Quran reader

فرمایا اے موسیٰ میں نے تجھ کو امتیاز دیا لوگوں سے اپنے پیغام بھیجنے کا اور اپنے کلام کرنے کا سو لے جو میں نے تجھ کو دیا اور شاکر رہ8

8 یعنی دیدار نہ ہوسکا نہ سہی، یہ شرف و امتیاز کیا تھوڑا ہے کہ ہم نے تجھ کو پیغمبر بنایا اور تورات عطا کی اور بالواسطہ کلام فرمایا۔ سو جس قدر بخشش ہماری طرف سے ہوئی، اسے پلے باندھو اور ان بندوں میں شامل رہو، جنہیں خدا نے " شاکرین " کے امتیازی لقب سے ملقب فرمایا ہے۔
Ayah 7:145

وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ١ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّ اْمُرْ قَوْمَكَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا١ؕ سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:145 in the Quran reader

اور لکھ دی ہم نے اس کی تختیوں پر ہر قسم کی نصیحت اور تفصیل ہر چیز کی9 سو پکڑ لے ان کو زور سے اور حکم کر اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں عنقریب میں تم کو دکھلاؤں گا گھر نافرمانوں کا10

9 بعض کہتے ہیں کہ تورات شریف ان تختیوں پر لکھی ہوئی تھی۔ اور بعض علماء کا خیال ہے کہ یہ تختیاں تورات کے علاوہ تھیں جو نزول تورات سے پہلے مرحمت ہوئیں۔ بہرحال دیدار نہ ہوسکنے سے جو شکستگی موسیٰ (علیہ السلام) کو ہوئی اس کی تلافی اور جبر مافات کے طور پر الواح عطا کی گئیں۔ جن میں ہر قسم کی نصیحتیں اور تمام ضروری احکام کی تفصیل تھی (ابن کثیر) 10 یعنی خود بھی ان الواح کو مضبوطی اور احتیاط سے پکڑے رہو کہیں ہاتھ سے چھوٹ نہ جائیں اور اپنی قوم کو سمجھاؤ کہ وہ ان الواح کی بہترین ہدایات پر پختگی سے عمل کرتے رہیں اور ایسی اچھی چیز کو ہاتھ سے نہ دیں۔ (تنبیہ) لفظ " احسنہا " سے یا تو اس پر متنبہ فرمانا ہے کہ ان میں " احسن " کے سوا اور کچھ نہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ جو احکام دیئے گئے تھے یوں تو سب فی حد ذاتہ " حسن " ہیں۔ مگر بعض بعض سے احسن ہوتے ہیں مثلاً ظالم سے بدلہ لینا جائز اور حسن ہے۔ لیکن صبر کرنا اور معاف کردینا حزیمت اور احسن ہے۔ گویا بنی اسرائیل کو اس پر آمادہ کرنا تھا کہ عزائم و مندوبات کے اکتساب میں سعی کریں اور خدا کے کامل فرمانبردار بنیں۔ اگر نافرمانی کریں گے، تو انہیں نافرمانوں کا گھر دکھلا دیا جائے گا۔ یعنی آخرت میں دوزخ اور دنیا میں تباہی و رسوائی۔ اعاذنا اللہ منہما (ابن کثیر و بغوی) اور بعض نے نافرمانوں کے گھر سے شام یا مصر مراد لیا ہے۔ جو نافرمان عمالقہ یا فرعونیوں کا ملک تھا۔ اس صورت میں یہ آیت بنی اسرائیل کے لیے بشارت ہوگی کہ اگر پوری طرح فرمانبرداری کرو گے تو نافرمانوں کے ملک تم کو دے دیئے جائیں گے۔ والراجح ھوا لاول کمار جحہ ابن کثیر۔
Ayah 7:146

سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:146 in the Quran reader

میں پھیر دونگا اپنی آیتوں سے ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں ساری نشانیاں ایمان نہ لائیں ان پر اور اگر دیکھیں راستہ ہدایت کا تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ اور اگر دیکھیں راستہ گمراہی کا تو اس کو ٹھہرا لیں راہ یہ اس لیے کہ انہوں نے جھوٹ جانا ہماری آیتوں کو اور رہے ان سے بیخبر1

1 جو لوگ خدا اور پیغمبروں کے مقابلہ میں ناحق کا تکبر کرتے ہیں اور نخوت و غرور اجازت نہیں دیتا کہ احکام الٰہی کو قبول کریں، ہم بھی ان کے دل اپنی آیات کی طرف سے پھیر دیں گے کہ آئندہ ان سے منتفع ہونے کی توفیق نہ ہوگی۔ ایسے لوگوں کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ خواہ کتنے ہی نشانی دیکھیں اور کتنی ہی آیتیں سنیں ٹس سے مس نہ ہوں، ہدایت کی سڑک کیسی ہی صاف اور کشادہ ہو، اس پر نہ چلیں ہاں گمراہی کے راستہ پر نفسانی خواہشات کی پیروی میں دوڑے چلے جائیں۔ تکذیب کی عادت اور غفلت کی تمادی سے جب دل مسخ ہوجاتا ہے، اس وقت آدمی اس حالت کو پہنچتا ہے۔
Ayah 7:147

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:147 in the Quran reader

اور جنہوں نے جھوٹ جانا ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو برباد ہوئیں ان کی محنتیں وہی بدلہ پائیں گے جو کچھ عمل کرتے تھے2

2 یعنی احکام الٰہی پر چلنے کی توفیق نہ ہوگی۔ اور جو کچھ کام اپنی عقل سے کریں گے وہ خدا کے یہاں قبول نہ ہوگا۔ جیسا کریں گے ویسا بھگتیں گے۔ باقی ان کی بےجان اور مردہ نیکیوں کا جو بدلہ ملنا ہوگا دنیا میں مل رہے گا۔
Ayah 7:148

وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِیِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ١ؕ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّهٗ لَا یُكَلِّمُهُمْ وَ لَا یَهْدِیْهِمْ سَبِیْلًا١ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:148 in the Quran reader

اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا3 ایک بدن کہ اس میں گائے کی آواز تھی، کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا، اور نہیں بتلاتا راستہ معبود بنا لیا اس کو اور وہ تھے ظالم4

3 یہ زیور جسے گلا کر اور ڈھال کر بچھڑا بنایا اصل میں فرعون کی قوم قبطیوں کا تھا۔ ان کے پاس سے بنی اسرائیل کے قبضے میں آیا۔ جیسا کہ سورة " طہٰ " میں ہے حُمِّلْنَا اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَۃِ الْقَوْمِ ۔ 4 سورة " طہٰ " میں اس بچھڑے کا مفصل قصہ آئے گا، یہاں ان کی حماقت وسفاہت پر متنبہ فرمایا ہے کہ ایک خود ساختہ ڈھانچہ میں سے گائے کی آواز سن لینے پر مفتون ہوگئے اور بچھڑے کو خدا سمجھ بیٹھے۔ حالانکہ اس کی بےمعنی آواز میں نہ کوئی کلام و خطاب تھا نہ دینی یا دنیاوی راہنمائی اس سے ہوتی تھی۔ اس طرح کی صورت محض تو کس چیز کو انسانیت کے درجہ تک بھی نہیں پہنچا سکتی، چہ جائیکہ خالق جل وعلا کے مرتبہ پر پہنچا دے۔ یہ کتنا بڑ اظلم اور بےموقع کام ہے کہ ایک معمولی جانور کی صورت کو خدا کہہ دیا جائے۔ بات یہ ہے کہ اس قوم کو پہلے ہی سے ایسی بےموقع باتیں کرنے کی عادت تھی چناچہ پیشتر (اجْعَلْ لَّنَآ اِلٰـهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ) 7 ۔ الاعراف :138) کی درخواست موسیٰ (علیہ السلام) سے کرچکے تھے۔
Ayah 7:149

وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ وَ رَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا١ۙ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:149 in the Quran reader

اور جب پچھتائے اور سمجھے کہ ہم بیشک گمراہ ہوگئے تو کہنے لگے اگر نہ رحم کرے ہم پر ہمارا رب اور نہ بخشے ہم کو تو بیشک ہم تباہ ہوں گے5

5 اپنی بدعقلی اور کجروی سے انہوں نے ایسا بےڈھنگا اور بھونڈا کام کیا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی تنبیہ کے بعد جب باطل کا جوش ٹھنڈا ہوا اور عقل و ہوش کچھ ٹھکانے ہوئے تو خود بھی اپنی حرکت پر بہت شرمائے۔ گویا مارے ندامت کے ہاتھ کاٹنے لگے اور خوف و ہراس کی وجہ سے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ گھبرا کر کہنے لگے اب کیسے بنے گی۔ اگر خدا نے ہم پر رحم فرما کر توبہ اور مغفرت کی کوئی صورت نہ نکالی تو یقیناً ہم ابدی خسران اور دائمی ہلاکت میں جا پڑیں گے۔
Ayah 7:150

وَ لَمَّا رَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۙ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ١ۚ وَ اَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْهِ یَجُرُّهٗۤ اِلَیْهِ١ؕ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَ كَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ١ۖ٘ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ وَ لَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:150 in the Quran reader

اور جب لوٹ آیا موسیٰ اپنی قوم میں غصہ میں بھرا ہوا افسوس ناک6 بولا کیا بری نیابت کی تم نے میری میرے بعد کیوں جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے8 اور ڈال دیں وہ تختیاں اور پکڑا سر اپنے بھائی کا لگا کھینچنے اس کو اپنی طرف1 وہ بولا کہ اے میری ماں کے جنے لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ مجھ کو مار ڈالیں سو مت ہنس مجھ پر دشمنوں کو اور نہ ملا مجھ کو گناہ گار لوگوں میں2

6 کیونکہ حق تعالیٰ نے طور ہی پر اطلاع دی تھی کہ سامری نے تیری قوم کو گمراہ کردیا ہے۔ یہ سن کر موسیٰ (علیہ السلام) سخت متأسف اور غضبناک تھے۔ 7 یہ خطاب عباد عجل (گو سالہ پرستوں) کو تھا۔ یعنی میرے پیچھے تم نے خوب میری قائم مقامی کی۔ جس بات پر میں سب سے زیادہ زور دیتا تھا (خدا کی توحید و تفرید) اس کی جگہ تم نے بچھڑے کی پوجا یہ کہہ کر کھڑی کردی کہ (ھٰذَآ اِلٰـــهُكُمْ وَاِلٰهُ مُوْسٰى) 20 ۔ طہ :80) (فی الحقیقت یہ ہی تمہارا اور موسیٰ کا معبود ہے) اور ممکن ہے خطاب ہارون (علیہ السلام) کو بھی ہو کہ تم نے میری نیابت کا حق جو اُخْلُفْنِی فِی قَوْمِی کہہ کر سپرد کر گئے تھے، اچھی طرح ادا نہ کیا کہ ان کو روکتے اور مضبوطی سے اس فتنہ کا مقابلہ کرتے جیسا کہ سورة " طہٰ " میں مفصل آئے گا۔ 8 یعنی میں پروردگار سے تمہارے لیے احکام ہی لینے تو گیا تھا اور چالیس روز کی معیاد بھی خدا نے مقرر کردی تھی تم نے خدا کی مقرر کی ہوئی مدت پوری ہونے اور اس کے احکام لے آنے کا بھی انتظار نہ کیا۔ کچھ بہت زمانہ تو نہیں گزر گیا تھا جو تم نے گھبرا کر اس قدر جلد خدا کے قہر وغضب کو اپنی طرف آنے کی دعوت دی۔ (اَفَطَالَ عَلَيْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ يَّحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِيْ ) 20 ۔ طہ :86) 9 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس مشرکانہ ڈھونگ کو دیکھ کر اور ہارون (علیہ السلام) کی نرمی و تساہل کا گمان کر کے اس قدر افروختہ اور دینی حمیت و غیرت کے جوش سے اس قدر بےقابو ہو رہے تھے کہ ہارون (علیہ السلام) کی طرف لپکے اور حرارت ایمانی کے بےاندازہ جوش میں ان کی ڈاڑھی اور سر کے بال پکڑ لئے۔ معاذ اللہ ہارون کی اہانت کی نیت سے نہیں کیونکہ ہارون خود مستقل نبی اور عمر میں موسیٰ (علیہ السلام) سے تین سال بڑے تھے۔ پھر ایک اولوالعزم پیغمبر سے یہ کیسے ممکن تھا کہ دوسرے نبی کو جو اس کا بڑا بھائی بھی ہو ذرّہ برابر توہین کا ارادہ کرے۔ نہیں موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے یہ معاملہ اس وقت ہوا جب کہ وہ قوم کی سخت بدعنوانی کی بنا پر بغض فی اللہ اور غصہ سے بےاختیار ہو رہے تھے حضرت ہارون کی نسبت یہ خیال گزر رہا تھا کہ شاید انہوں نے اصلاح حال کی پوری کوشش نہیں کی۔ حالانکہ ان کو اصلاح کی بھی تاکید کر گئے تھے۔ بیشک ہارون نبی اور عمر میں بڑے تھے، مگر رتبہ میں موسیٰ (علیہ السلام) ان سے بڑے تھے اور سیاسی و انتظامی حییثت سے ہارون کو ان کا وزیر اور تابع بنایا گیا تھا۔ اس موقع پر موسیٰ (علیہ السلام) کی شان سیادت و حکمت کا ظہور ہوا۔ گویا ان کی طرف سے یہ دارو گیر اور سخت باز پرس حضرت ہارون کی تقصیر مظنون پر ایک قسم کی فعلی ملامت تھی جس سے قوم کو بھی پوری طرح متنبہ کردیا گیا کہ پیغمبر کا قلب نشہ توحید سے کس قدر سرشار اور دسیسہ شرک و کفر سے کس قدر نفور و بیزار ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں ادنیٰ ترین تساہل یا خاموشی کو بھی برداشت نہیں کرسکتے حتیٰ کہ ایک نبی کی نسبت اگر ایسا وہم ہوجائے کہ اس نے شرک کے مقابلہ پر آواز بلند کرنے میں ذرا سی کوتاہی کی ہے تو اس کی بزرگی اور وجاہت عند اللہ بھی ایسی سخت باز پرس سے ان کو نہیں روک سکتی۔ بہرحال موسیٰ (علیہ السلام) اس حالت میں شرعاً معذور تھے۔ اسی فرط غضب اور ہنگامہ دارو گیر میں الواح (وہ تختیاں جو خدا کی طرف سے مرحمت ہوئی تھیں) ان کے ہاتھ سے چھوٹ گئیں جسے عدم تحفظ کی وجہ سے تغلیظاً " القاء " سے تعبیر فرمایا، کیونکہ بظاہر خذھا بقوۃٍ کا امتثال نہ کرسکے، یا جیسا کہ بعض مفسرین کا خیال ہے ہارون کی طرف بڑھتے وقت ہاتھ خالی کرنے کے لیے بہت تیزی اور عجلت کے ساتھ تختیاں ایک طرف رکھ دیں مگر چونکہ ان دونوں معاملات کی سطح جو ہارون یا الواح کے متعلق ظہور میں آئے صورۃً پسندیدہ نہ تھی، گو موسیٰ (علیہ السلام) نیۃً معذور تھے۔ اس لیے آئندہ رب اغفرلی کہہ کر حق تعالیٰ سے عفو کی درخواست کی۔ سبحانہ ' و تعالیٰ اعلم۔ 10 گو ہارون (علیہ السلام) حضرت موسیٰ کے عینی بھائی ہیں۔ مگر ماں کی طرف نسبت کرنے سے ان کو نرمی اور شفقت پر آمادہ کرنا تھا۔ اس آیت میں ہارون کی معذرت کا بیان ہے۔ حاصل یہ ہے کہ میں اپنے مقدور کے موافق ان کو سمجھا چکا۔ لیکن انہوں نے میری کچھ حقیقت نہ سمجھی۔ الٹے مجھے قتل کرنے پر آمادہ ہونے لگے۔ اب آپ ایسا معاملہ کر کے ان کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دیجئے اور عتاب و غصہ کا اظہار کرتے وقت مجھ کو ظالموں کے ذیل میں شامل نہ کیجئے۔
Ayah 7:151

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِاَخِیْ وَ اَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِكَ١ۖ٘ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 7:151 in the Quran reader

بولا اے میرے رب معاف کر مجھ کو اور میرے بھائی کو اور داخل کر ہم کو اپنی رحمت میں اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے3

3 یعنی شدت غضب میں جو بےاعتدالی یا اجتہادی غلطی مجھ سے ہوئی خواہ میں اس میں کتنا ہی نیک نیت ہوں، آپ معاف فرما دیجئے اور میرے بھائی ہارون سے اگر ان کے درجہ اور شان کو ملحوظ رکھتے ہوئے کسی طرح کی کوتاہی قوم کی اصلاح میں ہوئی، اس سے بھی درگزر فرمائیے۔
Ayah 7:152

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ Open ayah 7:152 in the Quran reader

البتہ جنہوں نے بچھڑے کو معبود بنا لیا ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کا اور ذلت دنیا کی زندگی میں اور یہی سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو4

4 یہ غضب وہی ہے جس کا ذکر سورة بقرہ میں ربع پارہ آلم کے بعد گزر چکا۔ یعنی " گوسالہ پرستوں کو وہ لوگ قتل کریں جنہوں نے یہ حرکت نہیں کی اور دوسروں کو روکنے میں حصہ نہ لیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مرتد کی سزا دنیا میں قتل ہے۔
Ayah 7:153

وَ الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِهَا وَ اٰمَنُوْۤا١٘ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:153 in the Quran reader

اور جنہوں نے کیے برے کام پھر توبہ کی اس کے بعد اور ایمان لائے تو بیشک تیرا رب توبہ کے پیچھے البتہ بخشنے والا مہربان ہے5

5 یعنی برا کام حتیٰ کہ شرک و کفر کر کے پھر توبہ کرلے اور ایمان لے آئے تو غفور رحیم " کے یہاں رحمت اور معافی کی کچھ کمی نہیں یہ معافی وغیرہ آخرت سے متعلق ہے۔ گویا اشارہ فرما دیا کہ گوسالہ پرستوں کو جو سزائے قتل دی گئی وہ ان کے حق میں شرط قبول توبہ سمجھی گئی تھی ( فَتُوْبُوْٓا اِلٰى بَارِىِٕكُمْ فَاقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ) 2 ۔ البقرۃ :54) اب ان پر اخروی مواخذہ باقی نہیں رہا۔ دنیاوی سزا کے بعد اخروی حالت کا بیان اس جگہ ایسا ہی ہے جیسے دوسری جگہ (وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْٓا اَيْدِيَهُمَا جَزَاۗءًۢ بِمَا كَسَـبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ) 5 ۔ المائدہ :38) کے بعد (فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَاَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ يَتُوْبُ عَلَيْهِ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) 5 ۔ المائدہ :39) فرما دیا گیا۔
Ayahs 7:154–155

وَ لَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ١ۖۚ وَ فِیْ نُسْخَتِهَا هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ یَرْهَبُوْنَ Open ayah 7:154 in the Quran reader

اور جب تھم گیا موسیٰ کا غصہ تو اس نے اٹھا لیا تختیوں کو اور جو ان میں لکھا ہوا تھا اس میں ہدایت اور رحمت تھی ان کے واسطے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں

وَ اخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهٗ سَبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَا١ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ اِیَّایَ١ؕ اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا١ۚ اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُ١ؕ اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ Open ayah 7:155 in the Quran reader

اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے ستر مرد ہمارے وعدہ کے وقت پر لانے کو پھر جب ان کو زلزلہ نے پکڑا تو بولا اے رب میرے اگر تو چاہتا تو پہلے ہی ہلاک کردیتا ان کو اور مجھ کو کیا ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو کیا ہماری قوم کے احمقوں نے یہ سب تیری آزمایش ہے بچلا دے اس میں جس کو تو چاہے اور سیدھا رکھے جس کو چاہے تو ہی ہے ہمارا تھامنے والا سو بخش دے ہم کو اور رحمت کر ہم پر اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے1

1 راجح یہ ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ میقات اس میقات کے علاوہ ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کو " تورات " عطا فرمانے کے لیے مقرر ہوا تھا۔ نیز آیات حاضرہ کی ترتیب سے بظاہر مفہوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ گوسالہ پرستی اور سزایابی کے بعد پیش آیا۔ لیکن سورة نساء کی آیت (فَقَالُوْٓا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَتْهُمُ الْبَيِّنٰتُ ) 4 ۔ النساء :153) زیادہ صفائی سے بتلائی ہے کہ گوسالہ پرستی اس واقعہ کے بعد ہوئی۔ واللہ اعلم بالصواب۔ اس واقعہ کا خلاصہ سورة بقرہ میں ربع پارہ " الم " کے بعد گزر چکا ہے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تھا کہ تمہاری باتیں اس وقت تسلیم کرسکتے ہیں جب خدا تعالیٰ سے خود سن لیں۔ حضرت موسیٰ ان میں سے ستر آدمیوں کو جو سردار تھے منتخب کر کے طور پر لے گئے۔ آخر انہوں نے حق تعالیٰ کا کلام سن لیا کہنے لگے کہ جب تک ہم خدا کو اپنی آنکھوں سے بےحجاب دیکھ نہ لیں ہم کو یقین نہیں آسکتا۔ اس گستاخی پر نیچے سے سخت بھونچال آیا اور اوپر سے بجلی کی کڑک ہوئی، آخر کانپ کر مرگئے، یا مردوں کی سی حالت کو پہنچ گئے۔ موسیٰ نے اپنے آپ کو ان کے ساتھ نتھی کر کے نہایت موثر انداز میں دعا کی جس کا حاصل یہ تھا کہ خداوند ! اگر تو ہلاک کرنا ہی چاہتا تو ان سب کو بلکہ ان کے ساتھ مجھ کو بھی کہ میں ہی انہیں لے کر آیا یہاں بلانے اور کلام سنانے سے پہلے ہی ہلاک کردیتا۔ کس کی مجال تھی کہ آپ کی مشیت کو روک سکتا ؟ جب آپ نے ایسا نہیں چاہا، بلکہ مجھے لانے کی اور ان کو کلام الٰہی سننے کے لیے یہاں آنے کی اجازت دی، تو یہ کیسے گمان کیا جاسکتا ہے کہ اپنے یہاں بلا کر محض بعض بیوقوفوں کی حماقت کی سزا میں ہم سب کو ہلاک کردینا چاہیں یقیناً یہ (رجفہ و صاعقہ کا) منظر سب آپ کی طرف سے ہماری آزمائش و امتحان ہے اور ایسے سخت امتحانات میں ثابت قدم رکھنا یا نہ رکھنا بھی آپ ہی کے قبضے میں ہے۔ اس قسم کے خطرناک اور مزلت الاقدام مواقع میں آپ ہی ہمارے تھامنے اور دستگیری کرنے والے ہیں اور صرف آپ ہی کی ذات منبع الخیرات سے یہ امید ہوسکتی ہے کہ ہم سب کی گزشتہ تقصیرات اور بےاعتدالیوں سے درگزر فرمائیں اور آئندہ اپنی رحمت سے ایسی خطاؤں اور غلطیوں کا شکار نہ ہونے دیں۔ حضرت موسیٰ کی اس دعاء پر وہ لوگ بخشے گئے اور خدا نے ان کو از سر نو زندگی مرحمت فرمائی۔ (ثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ) 2 ۔ البقرۃ :56)
Ayah 7:156

وَ اكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ عَذَابِیْۤ اُصِیْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ١ۚ وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 7:156 in the Quran reader

اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں ہم نے رجوع کیا تیری طرف فرمایا میرا عذاب ڈالتا ہوں میں اس کو جس پر چاہوں اور میری رحمت شامل ہے ہر چیز کو سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں اور دیتے ہیں زکوٰۃ اور جو ہماری باتوں پر یقین رکھتے ہیں2

2 حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ " شاید حضرت موسیٰ نے اپنی امت کے حق میں دنیا اور آخرت کی بھلائی جو مانگی، مراد یہ تھی کہ سب امتوں پر مقدم اور فائق رہیں دنیا اور آخرت میں، جواباً خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ میرا عذاب اور رحمت کسی فرقہ پر مخصوص نہیں، سو عذاب تو اسی پر ہے جس کو اللہ چاہے اور رحمت عامہ سب مخلوق کو شامل ہے لیکن وہ رحمت خاص جو تم طلب کر رہے ہو، لکھی ہے ان کے نصیب میں جو اللہ کا ڈر رکھتے ہیں اور اموال میں زکوٰۃ ادا کرتے یا نفس کا تزکیہ کرتے ہیں اور خدا کی ساری باتوں پر یقین کامل رکھتے ہیں۔ یعنی آخری امت کہ سب کتابوں پر ایمان لاوے گی، سو حضرت موسیٰ کی امت میں سے جو کوئی آخری کتاب پر یقین لائے وہ پہنچے اس نعمت کو اور حضرت موسیٰ کی دعا ان کو لگی۔
Ayah 7:157

اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ١٘ یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 7:157 in the Quran reader

وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبی امیّ ہے3 کہ جس کو پاتے ہیں لکھا ہوا اپنے پاس تورات اور انجیل میں4 وہ حکم کرتا ہے ان کو نیک کام کا اور منع کرتا ہے برے کام سے اور حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں اور حرام کرتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان پر سے ان کے بوجھ اور وہ قیدیں جو ان پر تھیں5 سو جو لوگ اس پر ایمان لائے اور اس کی رفاقت کی اور اس کی مدد کی، اور تابع ہوئے اس نور کے جو اس کے ساتھ اترا ہے6 وہی لوگ پہنچے اپنی مراد کو

3 " اُمی " یا تو " اُم " (بمعنی والدہ) کی طرف منسوب ہے، جس طرح بچہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے اور کسی کا شاگرد نہیں ہوتا، نبی کریم ﷺ نے ساری عمر کسی مخلوق کے سامنے زانوئے تلمذ تہ نہیں کیا۔ اس پر کمال یہ ہے کہ جن علوم و معارف اور حقائق و اسرار کا آپ نے افاضہ فرمایا۔ کسی مخلوق کا حوصلہ نہیں کہ اس کا عشر عشیر پیش کرسکے۔ پس " نبی امی " کا لقب اس حیثیت سے آپ کے لیے مایہ صد افتخار ہے، اور یا " اُمی " کی نسبت " ام القریٰ " کی طرف ہو جو " مکہ معظمہ " کا لقب ہے جو آپ کا مولد شریف تھا۔ 4 یعنی آپ کی تشریف آوری کی بشارات اور نعوت وصفات کتب سماویہ سابقہ میں مذکور ہیں۔ حتیٰ کہ اس وقت سے لے کر آج تک ساڑھے تیرہ سو برس کی کاٹ چھانٹ کے بعد بھی موجودہ بائبل میں بہت سی بشارات و اشارات پائے جاتے ہیں۔ جن کو ہر زمانہ کے علماء بحوالہ کتب دکھلاتے چلے آئے ہیں۔ وللہ الحمد علی ذلک۔ 5 یعنی یہود پر جو سخت احکام تھے اور کھانے کی چیزوں میں ان کی شرارتوں کی وجہ سے تنگی تھی، ( فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ ) 4 ۔ النساء :160) اس دین میں وہ سب چیزیں آسان ہوئیں۔ اور جو ناپاک چیزیں مثلاً لحم خنزیر، یا گندی باتیں مثلاً سود خوری وغیرہ، انہوں نے حلال کر رکھی تھیں، ان کی حرمت اس پیغمبر نے ظاہر فرمائی۔ غرض ان سے بہت سے بوجھ ہلکے کردیئے اور بہت سی قیدیں اٹھا دی گئیں۔ جیسا کہ حدیث میں فرمایا۔ " بُعِثْتُ بالْحَنِیْفِیَۃِ السَّمْحَۃ۔ " 6 " نور " سے مراد وحی ہے متلو ہو یا غیر متلو یعنی قرآن و سنت۔
Ayah 7:158

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَا اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 7:158 in the Quran reader

تو کہہ اے لوگوں میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں کسی کی بندگی نہیں اس کے سوا وہی جلاتا ہے اور مارتا ہے سو ایمان لاؤ اللہ پر اور اس بھیجے ہوئے نبی امیّ پر جو کہ یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کے سب کلاموں پر اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ1

1 یعنی آپ کی بعثت تمام دنیا کے لوگوں کو عام ہے۔ عرب کے امیین یا یہود و نصاریٰ تک محدود نہیں۔ جس طرح خداوند تعالیٰ شہنشاہ مطلق ہے، آپ اس کے رسول مطلق ہیں۔ آپ ہدایت و کامیابی کی صورت بجز اس کے کچھ نہیں کہ اس جامع ترین عالمگیر صداقت کی پیروی کی جائے جو آپ لے کر آئے ہیں۔ یہ ہی پیغمبر ہیں، جن پر ایمان لانا تمام انبیاء ومرسلین اور تمام کتب سماویہ پر ایمان لانے کا مرادف ہے۔
Ayah 7:159

وَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰۤى اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 7:159 in the Quran reader

اور موسیٰ کی قوم میں ایک گروہ ہے جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں2

2 گو اکثر یہود سرکشی اور ناانصافی کی راہ اختیار کر رہے ہیں تاہم کچھ ایسی سعید روحیں بھی ہیں، جو دوسروں کو حق کی طرف دعوت دیتی ہیں اور بذات خود حق و انصاف کے راستوں پر گامزن ہیں۔ مثلا عبد اللہ بن سلام وغیرہ۔
Ayah 7:160

وَ قَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا١ؕ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗۤ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ۚ فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْهِمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:160 in the Quran reader

اور جدا جدا کردیے ہم نے ان کو بارہ دادوں کی اولاد بڑی بڑی جماعتیں3 اور حکم بھیجا ہم نے موسیٰ کو جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے کہ مار اپنی لاٹھی اس پتھر پر تو پھوٹ نکلے اس سے بارہ چشمے پہچان لیا ہر قبیلہ نے اپنا گھاٹ اور سایہ کیا ہم نے ان پر ابر کا اور اتارا ہم نے ان پر من اور سلویٰ کھاؤ ستھری چیزیں جو ہم نے روزی دی تم کو اور انہوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا لیکن اپنا ہی نقصان کرتے رہے

3 یعنی اصلاح و انتظام کے لیے ان کی بارہ جماعتیں جو بارہ دادوں کی اولاد تھی الگ الگ کردی گئیں تھیں۔ پھر ہر ایک جماعت کا ایک نقیب مقرر فرما دیا جو اس کی نگرانی اور اصلاح کا خیال رکھے۔ (وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيْبًا) 5 ۔ المائدہ :12)