7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 7:41

لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:41 in the Quran reader

ان کے واسطے دوزخ کا بچھونا ہے اور اوپر سے اوڑھنا1 اور ہم یوں بدلہ دیتے ہیں ظالموں کو

1 یعنی ہر طرف سے آگ محیط ہوگی، کسی کروٹ چین نہ ملے گا۔
Ayah 7:42

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ١٘ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:42 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور کی نیکیاں ہم بوجھ نہیں رکھتے کسی پر مگر اس کی طاقت کے موافق وہی ہیں جنت میں رہنے والے وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے2

2 (لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَآ) 7 ۔ الاعراف :42) جملہ معترضہ ہے جس سے درمیان میں متنبہ فرما دیا کہ ایمان و عمل صالح جس پر اتنا عظیم الشان صلہ مرحمت ہوتا ہے کوئی ایسی مشکل چیز نہیں جو انسان کی طاقت سے باہر ہو۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہر آدمی سے عمل صالح اس قدر مطلوب ہے جتنا اس کی مقدرت اور طاقت میں ہو اس سے زائد کا مطالبہ نہیں کیا جا رہا۔
Ayah 7:43

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدٰىنَا لِهٰذَا١۫ وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ١ۚ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:43 in the Quran reader

اور نکالیں گے ہم جو کچھ ان کے دلوں میں خفگی تھی3 بہتی ہوں گی ان کے نیچے نہریں اور وہ کہیں گے شکر اللہ کا جس نے ہم کو یہاں تک پہنچا دیا اور ہم نہ تھے راہ پانے والے اگر نہ ہدایت کرتا ہم کو اللہ بیشک لائے تھے رسول ہمارے رب کے سچی بات4 اور آواز آئے گی کہ یہ جنت ہے وارث ہوئے تم اس کے بدلے میں اپنے اعمال کے5

3 (وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ ) 7 ۔ الاعراف :43) سے مراد یا تو یہ ہے کہ باہم جنتیوں میں نعمائے جنت کے متعلق کسی طرح کا حسد و رشک نہ ہوگا، ہر ایک اپنے کو اور دوسرے بھائی کو جس مقام میں ہے دیکھ کر خوش ہوگا۔ بخلاف دوزخیوں کے کہ وہ مصیبت کے وقت ایک دوسرے کو لعن طعن کریں گے۔ جیسا کہ پہلے گزرا۔ اور یا یہ مراد ہے کہ صالحین کے درمیان جو دنیا میں کسی بات پر خفگی ہوجاتی ہے اور ایک دوسرے کی طرف سے انقباض پیش آتا ہے وہ سب جنت میں داخل ہونے سے پیشتر دلوں سے نکال دیا جائے گا۔ وہاں سب ایک دوسرے سے سلیم الصدر ہونگے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا۔ " مجھے امید ہے کہ میں اور عثمان طلحہ زبیر ؓ انہی لوگوں میں سے ہوں گے۔ مترجم محقق قدس اللہ روحہ، نے اسی دوسرے معنی کے اعتبار سے ترجمہ کیا ہے۔ 4 یعنی خدا کی توفیق و دستگیری اور رسولوں کی سچی راہنمائی سے اس اعلیٰ مقام پر پہنچنا نصیب ہوا، ورنہ ہم کہاں اور یہ مرتبہ کہاں۔ 5 یہ آواز دینے والا خدا کی طرف سے کوئی فرشتہ ہوگا یعنی آج ساری عملی جدوجہد ٹھکانے لگ گئی اور تم نے کوشش کر کے خدا کے فضل سے اپنے باپ آدم کی میراث ہمیشہ کے لئے حاصل کرلی۔ حدیث میں ہے کہ " کسی شخص کا عمل ہرگز اس کو جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ " اس کا مطلب یہ ہے کہ عمل دخول جنت کا حقیقی سبب نہیں فقط ظاہری سبب ہے، دخول جنت کا حقیقی سبب خدا کی رحمت کاملہ ہے جیسا کہ اسی حدیث میں الا ان یتغمدنی اللّٰہ برحمتہ کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے ہاں بندہ پر رحمت الہٰیہ کا نزول اسی قدر ہوتا ہے جس قدر عمل کی روح اس میں موجود ہو۔ مترجم (رح) زبانی فرمایا کرتے تھے کہ گاڑی تو رحمت الہٰیہ کے زور سے چلتی ہے عمل وہ جھنڈی ہے جس کے اشارہ پر چلاتے اور روکتے ہیں۔
Ayahs 7:44–45

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا١ؕ قَالُوْا نَعَمْ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 7:44 in the Quran reader

اور پکاریں گے جنت والے دوزخ والوں کو کہ ہم نے پایا جو ہم سے وعدہ کیا تھا ہمارے رب نے سچا سو تم نے بھی پایا اپنے رب کے وعدہ کو سچا وہ کہیں گے کہ ہاں پھر پکارے گا ایک پکارنے والا ان کے بیچ میں کہ لعنت ہے اللہ کی ان ظالموں پر

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَۘ Open ayah 7:45 in the Quran reader

جو روکتے تھے اللہ کی راہ سے اور ڈھونڈھتے تھے اس میں کجی اور وہ آخرت سے منکر تھے6

6 ان آیات میں ان مخاطبات و مکالمات کا ذکر ہے جو جنتیوں یا دوزخیوں یا ان دونوں اور اصحاب اعراف میں ہونگے۔ پہلی اور آخری گفتگو جو " اصحاب الجنۃ ' ' اور " اصحاب النار " میں ادھر سے یا ادھر سے ہوگی صاف ظاہر کرتی ہے کہ یہ مخاطبات جنت یا دوزخ میں داخل ہونے کے بعد کے ہیں۔ اس لئے نظم کلام کا مقتضٰی یہ ہے کہ اصحاب اعراف کی درمیانی گفتگو کو بھی اس کے بعد ہی مانا جائے۔ بہرحال جنتی جنت میں پہنچ کر اپنے حال پر اظہار مسرت اور دوزخیوں کی تقریع و نکایت کے لئے کہیں گے کہ جو کچھ وعدے حق تعالیٰ نے پیغمبروں کی زبانی ہم سے فرمائے تھے کہ ایمان لانے والوں کو نعیم دائم ملے گی ہم تو انہیں سچا پا رہے ہیں اے اہل جہنم ! تم بولو کہ تمہارے کفر و عصیان پر جو دھمکیاں دی گئی تھیں تم نے بھی ان کو سچا پایا ؟ ظاہر ہے جواب میں بجز " نعم " کے اور کیا کہہ سکتے ہیں۔ اس وقت خدا کا ایک منادی دونوں کے درمیان کھڑے ہو کر پکارے گا کہ (یوں تو گنہگار بہت سے ہیں مگر) خدا کی بڑی پھٹکار ان ظالموں پر ہے جو خود گمراہ ہوئے اور آخرت کے انجام سے بالکل بےفکر ہو کر دوسروں کو بھی راہ حق سے روکتے رہے اور اپنی کج بحثیوں سے رات دن اسی فکر میں تھے کہ صاف اور سیدھے راستہ کو ٹیڑھا ثابت کریں۔
Ayah 7:46

وَ بَیْنَهُمَا حِجَابٌ١ۚ وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١۫ لَمْ یَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ یَطْمَعُوْنَ Open ayah 7:46 in the Quran reader

اور دونوں کے بیچ میں ہوگی ایک دیوار1 اور اعراف کے اوپر مرد ہوں گے کہ پہچان لیں گے ہر ایک کو اس کی نشانی سے اور وہ پکاریں گے جنت والوں کو کہ سلامتی ہے تم پر وہ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے اور وہ امیدوار ہیں2

1 حجاب کے معنی پردہ اور آڑ کے ہیں۔ یہاں پردہ کی دیوار مراد ہے جس کی تصریح سورة حدید میں کی گئی ہے ( فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ) 57 ۔ الحدید :13) یہ دیوار جنت کی لذتوں کو دوزخ تک اور دوزخ کی کلفتوں کو جنت تک پہنچنے سے مانع ہوگی اس کی تفصیلی کیفیت کا ہم کو علم نہیں۔ 2 اسی درمیانی دیوار کی بلندی پر جو مقام ہوگا اس کو " اعراف " کہتے ہیں۔ اصحاب اعراف کون لوگ ہیں ؟ قرطبی نے اس میں بارے قول نقل کئے ہیں۔ ہمارے نزدیک ان میں راجح وہ ہی قول ہے جو حضرت حذیفہ، ابن عباس، ابن مسعود ؓ جیسے جلیل القدر صحابہ اور اکثر سلف و خلف سے منقول ہے۔ یعنی وزن اعمال کے بعد جن کے حسنات بھاری ہوں گے وہ جنتی ہیں اور جن کے سیأٓت غالب ہوئے وہ دوزخی۔ اور جن کے حسنات و سیأٓت بالکل مساوی ہوں گے وہ اصحاب اعراف ہیں۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ انجام کار اصحاب اعراف جنت میں چلے جائیں گے اور یہ ویسے بھی ظاہر ہے کہ جب عصاۃ مومنین جن کے سیأٓت غالب تھے جہنم سے نکل کر آخرکار جنت میں داخل ہوں گے، تو اصحاب اعراف جن کے حسنات اور سیأٓت برابر ہیں وہ ان سے پہلے داخل ہونے چاہئیں گویا اصحاب اعراف کو اصحاب الیمین کی ایک کمزور قسم سمجھنا چاہئے۔ جس طرح " سابقین مقربین " فی الحقیقت اصحاب یمین کی ایک ایسی قسم ہے جو اپنی اولوالعزمیوں کی بدولت عام " اصحاب یمین " سے کچھ آگے نکل گئے ہیں، اس کے بالمقابل " اصحاب اعراف " گری ہوئی قسم ہے جو اپنے اعمال کی کثافت کی وجہ سے عام اصحاب یمین سے کچھ پیچھے رہ گئے ہیں یہ لوگ " اہل جہنم " اور " اہل جنت " کے درمیان میں ہونے کی وجہ سے دونوں طبقے کے لوگوں کو ان کی مخصوص نشانیوں سے پہچانتے ہوں گے، جنتیوں کو ان کے سفید اور نورانی چہروں سے اور دوزخیوں کو ان کی روسیاہی اور بد رونقی سے۔ بہرحال جنت والوں کو دیکھ کر سلام کریں جو بطور مبارکباد ہوگا اور چونکہ خود ابھی جنت میں داخل نہیں ہو سکے اس کی طمع اور آرزو کریں گے جو آخرکار پوری کردی جائے گی۔
Ayah 7:47

وَ اِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۙ قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:47 in the Quran reader

اور جب پھرے گی ان کی نگاہ دوزخ والوں کی طرف تو کہیں گے اے رب ہمارے مت کر ہم کو گناہ گار لوگوں کے ساتھ3

3 جنت و دوزخ کے درمیان میں ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کی حالت خوف ورجاء کے بیچ ہوگی ادھر دیکھیں گے تو امید کریں گے اور ادھر نظر پڑے گی تو خدا سے ڈر کر پناہ مانگیں گے کہ ہم کو ان دوزخیوں کے زمرہ میں شامل نہ کیجئے۔
Ayah 7:48

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا یَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ قَالُوْا مَاۤ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 7:48 in the Quran reader

اور پکاریں گے اعراف والے ان لوگوں کو کہ ان کو پہچانتے ہیں ان کی نشانی سے4 کہیں گے نہ کام آئی تمہارے جماعت تمہاری اور جو تم تکبر کیا کرتے تھے5

4 یعنی علاوہ دوزخ میں معذب ہونے کے ان کے چہروں سے دوزخی ہونے کی علامات ہویدا ہوں گی۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ ایسے لوگ ہوں گے جن کو اصحاب اعراف نے دنیا میں دیکھا ہوگا۔ اس لئے وہاں صورت دیکھ کر پہچان لیں گے۔ 5 یعنی اس مصیبت کے وقت تمہاری وہ جماعتیں اور جتھے کہاں گئے اور دنیا میں جو بڑھ بڑھ کر شیخیاں مارتے تھے، وہ اب کیا ہوئیں۔
Ayah 7:49

اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ١ؕ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:49 in the Quran reader

اب یہ وہی ہیں کہ تم قسم کھایا کرتے تھے کہ نہ پہنچے گی ان کو اللہ کی رحمت چلے جاؤ جنت میں نہ ڈر ہے تم پر اور نہ تم غمگین ہو گے6

6 یہ " اہل جنت " کی طرف اشارہ کر کے دوزخیوں سے کہیں گے کہ وہ ٹوٹے پھوٹے مساکین اور ضعیف الحال جن کو تم حقیر سمجھ کر کہا کرتے تھے کہ کیا خدا کی مہربانی سب کو چھوڑ کر ان جیسوں پر ہوسکتی ہے۔ (اَهٰٓؤُلَاۗءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنْۢ بَيْنِنَا) 6 ۔ الانعام :53) ۔ ان کو تو آج کہہ دیا گیا کہ (اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ ۔ الخ) 7 ۔ الاعراف :49) (چلے جاؤ جنت میں بےخوف و خطر) حالانکہ تم اس عذاب میں مبتلا ہو۔
Ayahs 7:50–51

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 7:50 in the Quran reader

اور پکاریں گے دوزخ والے جنت والوں کو کہ بہاؤ ہم پر تھوڑا سا پانی یا کچھ اس میں سے جو روزی تم کو دی اللہ نے کہیں گے اللہ نے ان دونوں کو روک دیا ہے کافروں سے

الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَهْوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِهِمْ هٰذَا١ۙ وَ مَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 7:51 in the Quran reader

جنہوں نے ٹھہرایا اپنا دین تماشا اور کھیل اور دھوکے میں ڈالا ان کو دنیا کی زندگی نے سو آج ہم ان کو بھلا دیں گے جیسا انہوں نے بھلا دیا اس دن کے ملنے کو اور جیسا کہ وہ ہماری آیتوں سے منکر تھے1

1 دوزخی بدحواس اور مضطرب ہو کر اہل جنت کے سامنے دست سوال دراز کریں گے کہ ہم جلے جاتے ہیں، تھوڑا سا پانی ہم پر بہاؤ یا جو نعمتیں تم کو خدا نے دے رکھی ہیں کچھ ان سے ہمیں بھی فائدہ پہنچاؤ۔ جواب ملے گا کہ کافروں کے لئے ان چیزوں کی بندش ہے، یہ کافر وہ ہی تو ہیں جو دین کو کھیل تماشہ بناتے تھے اور دنیا کے تُنّعم پر پھولے ہوئے تھے۔ سو جیسا ان کو دنیا کے مزوں میں پڑ کر کبھی آخرت کا خیال نہیں آیا آج ہم بھی ان کا کچھ خیال نہ کریں گے اور جس طرح انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا تھا آج ہم بھی ان کی درخواست منظور کرنے سے انکار کرتے ہیں۔
Ayah 7:52

وَ لَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰى عِلْمٍ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:52 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں کے پاس پہنچا دی ہے کتاب جس کو مفصل بیان کیا ہے ہم نے خبرداری سے راہ دکھانے والی اور رحمت ہے ایمان والوں کیلئے2

2 قرآن جیسی کتاب کی موجودگی میں جس میں تمام ضروریات کی عالمانہ تفصیل موجود ہے اور ہر بات کو پوری آگاہی سے کھول کر بیان کردیا گیا ہے چناچہ ایمان لانے والے اس سے خوب منتفع ہو رہے ہیں، غضب ہے کہ ان متکبر معاندوں نے کچھ بھی اپنے انجام پر غور نہ کیا۔ پھر اب پچھتانے سے کیا حاصل۔
Ayah 7:53

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِیْلَهٗ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلُهٗ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ۚ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآءَ فَیَشْفَعُوْا لَنَاۤ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ قَدْ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 7:53 in the Quran reader

کیا اب اسی کے منتظر ہیں کہ اس کا مضمون ظاہر ہوجائے جس دن ظاہر ہوجائے گا اس کا مضمون کہنے لگیں گے وہ لوگ جو اس کو بھول رہے تھے پہلے سے بیشک لائے تھے ہمارے رب کے رسول سچی بات سو اب کوئی ہماری سفارش والے ہیں ٰتو ہماری سفارش کریں یا ہم لوٹا دیے جائیں تو ہم عمل کریں خلاف اس کے جو ہم کر رہے تھے بیشک تباہ کیا انہوں نے اپنے آپ کو اور گم ہوجائے گا ان سے جو وہ افترا کیا کرتے تھے3

3 کتاب اللہ میں جو دھمکیاں عذاب کی دی گئی ہیں کیا یہ اس کے منتظر ہیں کہ جب ان دھمکیوں کا مضمون (مصداق) سامنے آجائے تب حق کو قبول کریں۔ حالانکہ وہ مضمون جب سامنے آجائے گا یعنی عذاب الہٰی میں گرفتار ہونگے تو اس وقت کا قبول کرنا کچھ کام نہ دے گا۔ اس وقت تو سفارشیوں کی تلاش ہوگی جو خدا کی سزا سفارش کر کے معاف کرا دیں اور چونکہ ایسا سفارشی کافروں کو کوئی نہ ملے گا یہ تمنا کریں گے کہ ہم کو دوبارہ دنیا میں بھیج کر امتحان کرلیا جائے کہ اس مرتبہ اپنے جرائم کے خلاف ہم کیسی نیکی اور پرہیزگاری کے کام کرتے ہیں۔ لیکن اب اس تمنا سے کیا حاصل ؟ جبکہ پہلے خود اپنے ہاتھوں اپنے کو برباد کرچکے اور جو جھوٹے خیالات پکا رکھے تھے وہ سب رفو چکر ہوگئے۔
Ayah 7:54

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١۫ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ یَطْلُبُهٗ حَثِیْثًا١ۙ وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖ١ؕ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ١ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:54 in the Quran reader

بیشک تمہارا رب اللہ ہے جس نے پیدا کئے آسمان اور زمین4 چھ دن میں5 پھر قرار پکڑا عرش پر6 اڑھاتا ہے رات پر دن کہ وہ اس کے پیچھے لگا آتا ہے دوڑتا ہوا اور پیدا کئے سورج اور چاند اور تارے7 تابعدار اپنے حکم کے8 سن لو اسی کا کام ہے پیدا کرنا اور حکم فرمانا بڑی برکت والا ہے اللہ جو رب ہے سارے جہان کا9

4 گذشتہ آیت میں جو معاد کا ذکر تھا، اس رکوع میں مبدا کی معرفت کرائی گئی ہے۔ (قَدْ جَاۗءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بالْحَقِّ ) 7 ۔ الاعراف :53) سے بتلایا گیا تھا کہ جو لوگ دنیا میں انبیاء اور رسل سے منحرف رہتے تھے ان کو بھی قیامت کے دن پیغمبروں کی سچائی کی ناچار تصدیق کرنی پڑے گی۔ یہاں نہایت لطیف پیرایہ میں خدا کی حکومت یاد دلانے اور انبیاء و رسل کی ضرورت کی طرف اشارہ کرنے کے بعد بعض مشہور پیغمبروں کے احوال و واقعات کا تذکرہ پیش کیا جا رہا ہے کہ ان کی تصدیق یا تکذیب کرنے والے کا آخرت سے پہلے دنیا ہی میں کیا انجام ہوا۔ گویا رکوع آنے والے کئی رکوعات کی تمہید ہے۔ 5 یعنی اتنے وقت میں جو چھ دن کے برابر تھا پیدا کیا۔ کیونکہ یہ متعارف دن اور رات تو آفتاب کے طلوع و غروب سے وابستہ ہیں جب اس وقت آفتاب ہی پیدا نہ ہوا تھا تو دن رات کہاں سے ہوتا۔ یا یہ کہا جائے کہ عالم شہادت کے دن رات مراد نہیں، عالم غیب کے دن رات مراد ہیں جیسے کسی عارف نے فرمایا ہے غیب را ابرے و آبے دیگر است آسمان و آفتابے دیگر است پہلی صورت میں پھر علماء کا اختلاف ہے کہ یہاں چھ دن سے ہمارے چھ دن کی مقدار مراد ہے۔ یا ہزار برس کا ایک ایک دن جسے فرمایا ہے (وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ) 22 ۔ الحج :47) میرے نزدیک یہ آخری قول راجح ہے۔ بہرحال مقصود یہ ہوا کہ آسمان و زمین دفعۃً بنا کر نہیں کھڑے کئے گئے۔ شاید اوّل ان کا مادہ پیدا فرمایا ہو پھر اسکی استعداد کے موافق بتدریج مختلف اشکال و صورت میں منتقل کرتے رہے ہوں۔ حتی کے چھ دن (چھ ہزار سال) میں وہ بجمیع متعلقاتہما موجودہ مرتب شکل میں موجود ہوئے جیسا کہ آج بھی انسان اور کل حیوانات و نباتات وغیرہ کی تولید و تخلیق کا سلسلہ تدریجی طور پر جاری ہے اور یہ اسکی شان " کُنْ فَیَکُوْنُ " کے منافی نہیں کیونکہ " کُنْ فَیَکُوْنُ " کا مطلب تو صرف اس قدر ہے کہ خدا جس چیز کو وجود کے جس درجہ میں لانا چاہے اس کا ارادہ ہوتے ہی وہ اس درجہ میں آجاتی ہے یہ مطلب نہیں کہ خدا کسی چیز کو وجود کے مختلف مدراج سے گزارنے کا ارادہ نہیں کرتا بلکہ ہر شے کو بدون توسط اسباب وعلل کے دفعۃً موجود کرتا ہے۔ 6 خدا تعالیٰ کی صفات و افعال کے متعلق یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ نصوص قرآن و حدیث میں جو الفاظ حق تعالیٰ کی صفات کے بیان کے لئے اختیار کئے جاتے ہیں۔ ان میں اکثر وہ ہیں جن کا مخلوق کی صفات پر بھی استعمال ہوا ہے مثلاً خدا کو " حی "" سمیع "" بصیر "" متکلم " کہا گیا اور انسان پر بھی یہ الفاظ اطلاق کئے گئے، تو ان دونوں مواقع میں استعمال کی حیثیت بالکل جداگانہ ہے کسی مخلوق کو سمیع وبصیر کہنے کا یہ مطلب ہے کہ اس کے پاس دیکھنے والی آنکھ اور سننے والے کان موجود ہیں۔ اس میں دو چیزیں ہوئیں۔ ایک وہ آلہ جسے " آنکھ " کہتے ہیں اور جو دیکھنے کا مبدا اور ذریعہ بنتا ہے۔ دوسرا اس کا نتیجہ اور غرض وغایت (دیکھنا) یعنی وہ خاص علم جو رویت بصری سے حاصل ہوا۔ مخلوق کو جب " بصیر " کہا تو یہ مبدا اور غایت دونوں چیزیں معتبر ہوئیں۔ اور دونوں کی کیفیات ہم نے معلوم کرلیں۔ لیکن یہ ہی لفظ جب خدا کی نسبت استعمال کیا گیا تو یقینا وہ مبادی اور کیفیات جسمانیہ مراد نہیں ہوسکتیں جو مخلوق کے خواص میں سے ہیں اور جس سے خداوند قدوس قطعاً منزہ ہے البتہ یہ اعتقاد رکھنا ہوگا کہ ابصار (دیکھنے) کا مبدا اسکی ذات اقدس میں موجود ہے اور اس کا نتیجہ یعنی وہ علم جو رویت بصری سے حاصل ہوسکتا ہے، اس کو بدرجہ کمال حاصل ہے۔ آگے یہ کہ وہ مبدا کیسا ہے اور دیکھنے کی کیا کیفیت ہے تو بجز اس بات کے کہ اس کا دیکھنا مخلوق کی طرح نہیں ہم اور کیا کہہ سکتے ہیں ( ۭ لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ ) 42 ۔ الشوری :11) نہ صرف سمع و بصر بلکہ اس کی تمام صفات کو اسی طرح سمجھنا چاہیے کہ صفت باعتبار اپنے اصل مبدأ وغایت کے ثابت ہے مگر اس کی کوئی کیفیت بیان نہیں کی جاسکتی اور نہ شرائع سماویہ نے اس کا مکلّف بنایا ہے کہ آدمی اس طرح کی ماوراء عقل حقائق میں خوض کر کے پریشان ہو۔ اس کا کچھ خلاصہ ہم سورة مائدہ میں زیر فائدہ (وَقَالَتِ الْيَھُوْدُ يَدُاللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ) 5 ۔ المائدہ :64) بیان کرچکے ہیں۔ " استواء علی العرش " کو بھی اسی قاعدہ سے سمجھ لو " عرش " کے معنی تخت اور بلند مقام کے ہیں۔ " استواء " کا ترجمہ اکثر محققین نے " استقرار و تمکن " سے کیا ہے (جسے مترجم (رح) نے قرار پکڑنے سے تعبیر فرمایا) گویا یہ لفظ حکومت پر ایسی طرح قابض ہونے کو ظاہر کرتا ہے کہ اس کا کوئی حصہ اور گوشہ حیطہ نفوذ و اقتدار سے باہر نہ رہے اور نہ قبضہ و تسلط میں کسی قسم کی مزاحمت اور گڑ بڑ پائی جائے۔ سب کام اور انتظام برابر ہو۔ اب دنیا میں بادشاہوں کی تخت نشینی کا ایک تو مبدا اور ظاہری صورت ہوتی ہے اور ایک حقیقت یا غرض وغایت یعنی ملک پر پورا تسلط و اقتدار اور نفوذ و تصرف کی قدرت حاصل ہونا۔ حق تعالیٰ کے " استواء علی العرش " میں یہ حقیقت اور غرض وغایت بدرجہ کمال موجود ہے یعنی آسمان و زمین (کل علویات و سفلیات) کو پیدا کرنے کے بعد ان پر کامل قبضہ و اقتدار اور ہر قسم کے مالکانہ و شہنشاہانہ تصرفات کا حق بےروک ٹوک اسی کو حاصل ہے جیسا کہ دوسرے جگہ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ کے بعد یُدَبِّرُ الْاَمْرَ وغیرہ الفاظ اور یہاں یُغْشِی الَّیْلَ النَّھَار الخ سے اسی مضمون پر متنبہ فرمایا ہے۔ رہا " استواء علی العرش " کا مبدا اور ظاہری صورت، اس کے متعلق وہ ہی عقیدہ رکھنا چاہیے جو ہم " سمع و بصر " وغیرہ صفات کے متعلق لکھ چکے ہیں کہ اس کی کوئی ایسی صورت نہیں ہوسکتی جس میں صفات مخلوقین اور سمات حدوث کا ذرا بھی شائبہ ہو۔ پھر کیسی ہے ؟ اس کا جواب وہی ہے کہ " اے برتراز خیال و قیاس و گمان و وہم، وزہر چہ گفتہ اندشنید یم و خواندہ ایم " " دفتر تمام گشت و بپایاں رسید عمر ' ما ہمچناں دراوّل وصفِ تو ماندہ ایم " ( ۭ لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ ) 42 ۔ الشوری :11) 7 یعنی رات کے اندھیرے کو دن کے اجالے سے یا دن کے اجالے کو رات کے اندھیرے سے ڈھانپتا ہے۔ اس طرح کے ایک دوسرے کا تعاقب کرتا ہوا تیزی سے چلا آتا ہے۔ ادھر رات ختم ہوئی ادھر دن آموجود ہوا، یا دن تمام ہوا تو فوراً رات آگئی۔ درمیان میں ایک منٹ کا وقفہ بھی نہیں ہوتا۔ شاید اس پر بھی تنبیہ فرما دی کہ اس طرح کفرو ضلالت اور ظلم وعدوان کی شب دیجور جب عالم پر محیط ہوجاتی ہے اس وقت خدا تعالیٰ ایمان و عرفان کے آفتاب سے ہر چہار طرف روشنی فرما دیتا ہے اور جب تک آفتاب عالمتاب کی روشنی نمودار نہ ہو تو نبوت کے چاند تارے رات کی تاریکی میں اجالا اور راہنمائی کرتے ہیں۔ 8 کوئی سیارہ اس کے حکم کے بدون حرکت نہیں کرسکتا۔ 9 پیدا کرنا " خلق " ہے اور پیدا کرنے کے بعد تکوینی یا تشریعی احکام دینا یہ " امر " ہے اور دونوں اسی کے قبضہ اختیار میں ہیں۔ اس طرح وہ ہی ساری خوبیوں اور برکتوں کا سر چشمہ ہوا۔
Ayah 7:55

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ Open ayah 7:55 in the Quran reader

پکارو اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے10 اس کو خوش نہیں آتے حد سے بڑھنے والے11

10 جب " عالم خلق و امر " کا مالک اور تمام برکات کا منبع وہ ہی ذات ہے تو دنیاوی و اخروی حوائج میں اسی کو پکارنا چاہئے۔ الحاح و اخلاص اور خشوع کے ساتھ بدون ریا کاری کے ساتھ آہستہ آہستہ۔ اس سے معلوم ہوا کہ دعا میں اصل اخفاء ہے اور یہی سلف کا معمول تھا، بعض مواقع میں جہر و اعلان کسی عارض کی وجہ سے ہوگا جس کی تفصیل روح المعانی وغیرہ میں ہے۔ 11 یعنی دعاء میں حد ادب سے نہ بڑھے۔ مثلاً جو چیزیں عادتاً یا شرعاً محال ہیں وہ مانگنے لگے یا معاصی اور لغو چیزوں کی طلب کرے، یا ایسا سوال کرے جو اس کی شان و حیثیت کے مناسب نہیں یہ سب " اعتداء فی الدعاء " میں داخل ہے۔
Ayah 7:56

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:56 in the Quran reader

اور مت خرابی ڈالو زمین میں اس کی اصلاح کے بعد اور پکارو اس کو ڈر اور توقع سے1 بیشک اللہ کی رحمت نزدیک ہے نیک کام کرنے والوں سے

1 پچھلی آیتوں میں ہر حاجت کے لئے خدا کو پکارنے کا طریقہ بتلایا گیا تھا۔ اس آیت میں مخلوق اور خالق دونوں کے حقوق کی رعایت سکھلائی۔ یعنی جب دنیا میں معاملات کی سطح درست ہو تو تم اس میں گڑ بڑ نہ ڈالو، اور خوف ورجاء کے ساتھ خدا کی عبادت میں مشغول رہو۔ نہ اس کی رحمت سے مایوس ہو اور نہ اسکے عذاب سے مامون اور بےفکر ہو کر گناہوں پر دلیر بنو۔ میرے نزدیک یہ ہی راجح ہے کہ یہاں وادعوہ الخ میں دعاء سے عبادت مراد لی جائے جیسا کہ صلوٰۃ تہجد کے بارے میں فرمایا (تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا) 32 ۔ السجدہ :16)
Ayahs 7:57–58

وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:57 in the Quran reader

اور وہی ہے کہ چلاتا ہے ہوائیں خوشخبری لانے والی مینہ سے پہلے یہاں تک کہ جب وہ ہوائیں اٹھا لاتی ہیں بھاری بادلوں کو تو ہانک دیتے ہیں ہم اس بادل کو ایک شہر مردہ کی طرف پھر ہم اتارتے ہیں اس بادل سے پانی پھر اس سے نکالتے ہیں سب طرح کے پھل اسی طرح ہم نکالیں گے مردوں کو تاکہ تم غور کرو

وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ۚ وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا١ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:58 in the Quran reader

اور جو شہر پاکیزہ ہے اس کا سبزہ نکلتا ہے اس کے رب کے حکم سے اور جو خراب ہے اس میں نہیں نکلتا مگر ناقص یوں پھیر پھیر کر بتلاتے ہیں ہم آیتیں حق ماننے والے لوگوں کو2

2 پچھلی آیات میں " استواء علی العرش " کے ساتھ فلکیات (چاند، سورج وغیرہ) میں جو خدائی تصرفات ہیں، ان کا بیان تھا، درمیان میں بندوں کو کچھ مناسب ہدایات کی گئیں۔ اب سفلیات اور " کائنات الجو " کے متعلق اپنے بعض تصرفات کا ذکر فرماتے ہیں تاکہ لوگ معلوم کرلیں کہ آسمان زمین اور ان دونوں کے درمیانی حصہ کی کل حکومت صرف اسی رب العالمین کے قبضہء قدرت میں ہے۔ ہوائیں چلانا، مینہ برسانا، قسم قسم کے پھول پھل پیدا کرنا ہر زمین کی استعداد کے موافق کھیتی اور سبزہ اگانا، یہ سب اسی کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کے نشان ہیں۔ اسی ذیل میں مردوں کا موت کے بعد جی اٹھنا اور قبروں سے نکلنا بھی سمجھا دیا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ " ایک تو مردوں کا نکلنا قیامت میں ہے اور ایک دنیا میں یعنی جاہل ادنیٰ لوگوں میں (جو جہالت و ذلت کی موت سے مرچکے تھے) عظیم الشان نبی بھیجا اور انہیں علم دیا اور دنیا کا سردار کیا، پھر ستھری استعداد والے کمال کو پہنچے اور جن کی استعداد خراب تھی ان کو بھی فائدہ پہنچ رہا ناقص سا۔ " گویا اس پورے رکوع میں بتلا دیا گیا کہ جب خدا اپنی رحمت و شفقت سے رات کی تاریکی میں ستارے چاند، سورج سے روشنی کرتا ہے اور خشکی کے وقت زمین کو سرسبز و شاداب کرنے اور انسان و حیوانات کی زندگی کا سامان مہیا فرمانے کے لئے اوپر سے بارش بھیجتا ہے، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایسا مہربان خدا اپنی مخلوق کو جہل و ظلم کی اندھیریوں سے نکالنے کے لئے کوئی چاند اور سورج پیدا نہ کرے اور بنی آدم کی روحانی غذا تیار کرنے اور قلوب کے کھیتوں کو سیراب کرنے کے لئے باران رحمت نازل نہ فرمائے۔ بلاشبہ اس نے ہر زمانہ کی ضرورت اور اپنی حکمت کے موافق پیغمبروں کو بھیجا جن کے منور سینوں سے دنیا میں روحانی روشنی پھیلی اور وحی الہٰی کی لگاتار بارشیں ہوئیں۔ چناچہ آئندہ کئی رکوع میں ان ہی پیغمبروں کے بھیجنے کا ذکر کیا گیا ہے اور جیسا کہ بارش اور زمین کی مثال میں اشارہ کیا گیا کہ مختلف زمینیں اپنی اپنی استعداد کے موافق بارش کا اثر قبول کرتی ہیں، اسی طرح سمجھ لو کہ انبیاء (علیہم السلام) جو خیرو برکت لے کر آتے ہیں، اس سے منتفع ہونا بھی حسن استعداد پر موقوف ہے جو لوگ ان سے انتفاع نہیں کرتے انہیں اپنی سوء استعداد پر رونا چاہیے باراں کہ در لطافت طبعش خلاف نیست ' درباغ لالہ روید و درشورہ بوم خس
Ayahs 7:59–60

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:59 in the Quran reader

بیشک بھیجا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف پس اس نے کہا اے میری قوم بندگی کرو اللہ کی کوئی نہیں تمہارا معبود اس کے سوا میں خوف کرتا ہوں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 7:60 in the Quran reader

بولے سردار اس کی قوم کے ہم دیکھتے ہیں تجھ کو صریح بہکا ہوا3

3 آدم (علیہ السلام) کا قصہ ابتدائے سورت میں گزر چکا۔ ان کے بعد نوح (علیہ السلام) پہلے اولوالعزم اور مشہور رسول ہیں جو زمین والوں کی طرف مشرکین کے مقابلے میں بھیجے گئے گو باعتبار اپنی خاص شریعت کے ان کی بعثت خاص اپنی قوم کی طرف مانی جائے تاہم ان اساسی اصولوں کے اعتبار سے جو تمام انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیم میں مشترک ہیں کہا جاسکتا ہے کہ تمام انسان ہر نبی کے مخاطب ہوتے ہیں مثلاً توحید اور اقرار معاد کی تعلیم پر سارے پیغمبر متفق اللسان ہیں تو ایسی چیزوں کی تکذیب کرنا فی الحقیقت تمام انبیاء کی تکذیب کرنا ہے۔ بہرحال نوح (علیہ السلام) نے توحید وغیرہ کی عام دعوت دی۔ کہتے ہیں کہ آدم (علیہ السلام) کے بعد دس قرن ایسے گزرے کہ ساری اولاد آدم کلمہ توحید پر قائم تھی بت پرستی کی ابتداء ابن عباس کے بیان کے موافق یوں ہوئی کہ بعض صالحین کا انتقال ہوگیا جن کے نام وَد، سواع، یغوث، یعوق، نسر تھے، جو سورة نوح میں مذکور ہیں۔ لوگوں نے ان کی تصویریں بنالیں تاکہ ان کے احوال و عبادات وغیرہ کی یاد تازہ رہے کچھ مدت کے بعد ان صورتوں کے موافق مجسمے تیار کر لئے حتی کہ کچھ دنوں کے بعد ان کی عبادت ہونے لگی اور یہ بت انہی بزرگوں کے نام سے موسوم کئے گئے۔ جب بت پرستی کی وباء پھیل گئی تو حق تعالیٰ نے نوح کو بھیجا۔ انہوں نے طوفان سے پہلے اپنی قوم کو ساڑھے نو سو برس تک توحید وتقویٰ کی طرف بلایا۔ اور دنیا و آخرت کے عذاب سے ڈرایا مگر لوگوں نے ان کی تضلیل و تجہیل کی اور کوئی بات نہ سنی آخر طوفان کے عذاب نے سب کو گھیر لیا اور جیسا کہ نوح نے دعاء کی تھی ربِّ لَا تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکَافِرِیْنَ دَیَّارًا۔ روئے زمین پر کوئی کافر عذاب الٰہی سے نہ بچا۔ بستانی نے " دائرۃ المعارف " میں یورپین محققین کے اقوال طوفان اور عموم طوفان کے متعلق نقل کئے ہیں۔
Ayahs 7:61–62

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:61 in the Quran reader

بولا اے میری قوم میں ہرگز بہکا نہیں و لیکن میں بھیجا ہوا ہوں جہان کے پروردگار کا

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَكُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:62 in the Quran reader

پہنچاتا ہوں تم کو پیغام اپنے رب کے اور نصیحت کرتا ہوں تم کو اور جانتا ہوں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جو تم نہیں جانتے4

4 یعنی میں تو ذرا بھی نہیں بہکا، ہاں تم بہک رہے ہو کہ خدا کے پیغامبر کو نہیں پہچانتے جو نہایت فصاحت سے خدائی پیغام تم کو پہنچا رہا ہے اور تمہاری بھلائی چاہتا ہے تم کو عمدہ نصیحتیں کرتا ہے۔ اور خدا کے پاس سے وہ علوم و ہدایت لے کر آیا ہے جن سے تم جاہل ہو۔
Ayah 7:63

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:63 in the Quran reader

کیا تم کو تعجب ہوا کہ آئی تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے ایک مرد کی زبانی جو تم میں سے ہے تاکہ وہ تم ہی کو ڈرائے اور تاکہ تم بچو اور تاکہ تم پر رحم ہو1

1 یعنی اس میں تعجب کی کیا بات ہے کہ تم ہی میں سے خدا کسی ایک فرد کو اپنی پیغام رسانی کے لئے چن لے۔ آخر اس نے ساری مخلوق میں سے منصب خلافت کے لئے آدم (علیہ السلام) کو کسی مخصوص استعداد کی بنا پر چن لیا تو کیوں نہیں ہوسکتا کہ اولاد آدم میں سے بعض کامل الاستعداد لوگوں کو منصب نبوت و رسالت کے لئے انتخاب کرلیا جائے تاکہ وہ لوگ براہ راست خدا سے فیض پا کر دوسروں کو ان کے انجام سے آگاہ کریں اور یہ اس پر آگاہ ہو کر بدی سے بچ جائیں اور اس طرح خدا کے رحم وکرم کے مورد بنیں۔
Ayah 7:64

فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ۠ Open ayah 7:64 in the Quran reader

پھر انہوں نے اس کو جھٹلایا پھر ہم نے بچا لیا اس کو اور ان کو جو اس کے ساتھ تھے کشتی میں اور غرق کردیا ان کو جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو بیشک وہ لوگ تھے اندھے2

2 یعنی حق و باطل اور نفع و نقصان کچھ نہ سوجھا۔ اندھے ہو کر برابر سرکشی اور تکذیب و بغاوت پر قائم رہے اور بت پرستی وغیرہ حرکات سے باز نہ آئے، تو ہم نے معدودے چند مومنین کو بچا کر جو نوح (علیہ السلام) کے ہمراہ کشتی پر سوار ہوئے تھے، باقی سب مکذبین کا بیڑا غرق کردیا۔ اب جس قدر انسان دنیا میں موجود ہیں وہ ان ہی اہل سفینہ بلکہ صرف حضرت نوح کی ذرّیت ہیں۔
Ayah 7:65

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 7:65 in the Quran reader

اور قوم عاد کی طرف بھیجا ان کے بھائی ہود کو3 بولا اے میری قوم بندگی کرو اللہ کی کوئی نہیں تمہارا معبود اس کے سوا کیا تم ڈرتے نہیں4

3 " عاد " حضرت نوح کے پوتے ارم کی اولاد میں ہیں۔ یہ قوم اسی کی طرف منسوب ہے ان کی سکونت " احقاف " (یمن) میں تھی۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اسی قوم سے ہیں۔ اس لحاظ سے وہ ان کے قومی اور وطنی بھائی ہوئے۔ 4 ان لوگوں میں بت پرستی پھیل گئی تھی۔ روزی دینے، مینہ برسانے، تندرست کرنے اور مختلف مطالب و حاجات کے لئے الگ الگ دیوتا بنا رکھے تھے۔ جن کی پرستش ہوتی تھی۔ ہود (علیہ السلام) نے اس سے روکا اور اس جرم عظیم کی سزا سے ان کو ڈرایا۔
Ayah 7:66

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 7:66 in the Quran reader

بولے سردار جو کافر تھے اس کی قوم میں ہم تو دیکھتے ہیں تجھ کو عقل نہیں اور ہم تو تجھ کو جھوٹا گمان کرتے ہیں5

5 یعنی معاذ اللہ ! تم بےعقل ہو کہ باپ دادا کی روش چھوڑ کر ساری برادری سے الگ ہوتے ہو اور جھوٹے بھی ہو کہ اپنے اقوال کو خدا کی طرف منسوب کر کے خوامخواہ عذاب کا ڈراوا دیتے ہو۔
Ayahs 7:67–68

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:67 in the Quran reader

بولا اے میری قوم میں کچھ بےعقل نہیں لیکن میں بھیجا ہوا ہوں پروردگار عالم کا

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ Open ayah 7:68 in the Quran reader

پہنچاتا ہوں تم کو پیغام اپنے رب کے اور میں تمہارا خیرخواہ ہوں اطمینان کے لائق6

6 یعنی میری کوئی بات بےعقلی کی نہیں، ہاں جو منصب رسالت مجھ کو خدا کی طرف سے تفویض ہوا ہے اس کا حق ادا کرتا ہوں۔ یہ تمہاری بےعقلی ہے کہ اپنے حقیقی خیر خواہوں کو جن کی امانت و دیانت پہلے سے لائقِ اطمینان ہے بےعقل کہہ کر خود اپنا نقصان کرتے ہو۔
Ayah 7:69

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ١ؕ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْۜطَةً١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:69 in the Quran reader

کیا تم کو تعجب ہوا کہ آئی تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے ایک مرد کی زبانی جو تم ہی میں سے ہے تاکہ تم کو ڈرائے اور یاد کرو جب تم کو سردار کردیا پیچھے قوم نوح کے7 اور زیادہ کردیا تمہارے بدن کا پھیلاؤ8 سو یاد کرو اللہ کے احسان تاکہ تمہارا بھلا ہو9

7 یعنی قوم نوح کے بعد دنیا میں تمہاری حکومتیں قائم کیں اور اس کی جگہ تم کو آباد کیا۔ شاید یہ احسان یاد دلا کر اس پر بھی متنبہ کرنا ہے کہ بت پرستی اور تکذیب رسول ﷺ کی بدولت جو حشر ان کا ہوا وہ کہیں تمہارا نہ ہو۔ 8 جسمانی قوت اور ڈیل ڈول کے اعتبار سے یہ قوم مشہور تھی۔ 9 جو احسانات مذکور ہوئے وہ اور ان کے علاوہ خدا کے دوسرے بیشمار احسانات یاد کر کے اس کے شکر گذار اور فرمانبردار بننا چاہیے نہ یہ کہ منعم حقیقی سے بغاوت کرنے لگو۔
Ayah 7:70

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَ نَذَرَ مَا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:70 in the Quran reader

بولے کیا تو اس واسطے ہمارے پاس آیا کہ ہم بندگی کریں اللہ اکیلے کی اور چھوڑ دیں جن کو پوجتے رہے ہمارے باپ دادے پس تو لے آ ہمارے پاس جس چیز سے تو ہم کو ڈراتا ہے اگر تو سچا ہے1

1 یعنی جس عذاب کی ہم کو دھمکی دیتے ہیں، اگر آپ سچے ہیں تو وہ لے آئیے۔
Ayah 7:71

قَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ١ؕ اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 7:71 in the Quran reader

کہا تم پر واقع ہوچکا ہے تمہارے رب کی طرف سے عذاب اور غصّہ2 کیوں جھگڑتے ہو مجھ سے ان ناموں پر کہ رکھ لئے ہیں تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے نہیں اتاری اللہ نے ان کی کوئی سند سو منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں3

2 یعنی جب تمہاری سرکشی اور گستاخانہ بےحیائی اس حد تک پہنچ چکی تو سمجھ لو خدا کا عذاب اور غضب تم پر نازل ہی ہوچکا اس کے آنے میں اب کچھ دیر نہیں۔ 3 بتوں کو جو کہتے تھے کہ فلاں رزق دینے والا ہے اور فلاں مینہ برسانے والا اور فلاں بیٹا عطاء کرنے والا وعلیٰ ہذا القیاس، یہ محض نام ہی نام ہیں جن کے نیچے کوئی حقیقت اور واقعیت نہیں، خدائی صفات پتھروں میں کہاں سے آئیں۔ پھر ان نام کے معبودوں کے پیچھے جن کی معبودیت کی کوئی عقلی یا نقلی سند نہیں، بلکہ کل عقلی و نقلی دلائل جسے مردود ٹھہراتے ہیں، تم دعویٰ توحید میں مجھ سے جھگڑے اور بحثیں کرتے ہو۔ جب تمہارے جہل اور شقاوت وعناد کا پیمانہ اس قدر لبریز ہوچکا ہے تو انتظار کرو خدا ہمارے تمہارے ان جھگڑوں کا فیصلہ کر دے۔ میں بھی اسی فیصلہ کا منتظر ہوں۔
Ayah 7:72

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 7:72 in the Quran reader

پھر ہم نے بچا لیا اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے اپنی رحمت سے اور جڑ کاٹی ان کی جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو اور نہیں مانتے تھے4

4 یعنی ان پر سات رات اور آٹھ دن تک مسلسل آندھی کا طوفان آیا جس سے تمام کفار ٹکرا ٹکرا کر اور پٹک پٹک کر ہلاک کردیئے گئے۔ یہ تو " عاد اولیٰ " کا انجام ہوا۔ اور اسی قوم کی دوسری شاخ (ثمود) جسے " عاد ثانیہ " کہتے ہیں، اس کا ذکر آگے آتا ہے۔
Ayah 7:73

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 7:73 in the Quran reader

اور ثمود کی طرف بھیجا ان کے بھائی صالح کو بولا اے میری قوم بندگی کرو اللہ کی کوئی نہیں تمہارا معبود اس کے سوا تم کو پہنچ چکی ہے دلیل تمہارے رب کی طرف سے5 یہ اونٹنی اللہ کی ہے تمہارے لیے نشانی سو اس کو چھوڑ دو کہ کھائے اللہ کی زمین میں اور اس کو ہاتھ نہ لگاؤ بری طرح پھر تم کو پکڑے گا عذاب دردناک6

5 یعنی جو دلیل تم مانگ رہے تھے وہ پہنچ گئی۔ صالح (علیہ السلام) کی قوم نے ان سے عہد و اقرار کیا تھا کہ آپ پتھر کی ایک ٹھوس چٹان میں سے حاملہ اونٹنی نکال دیں تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے خدا نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعا سے ویسا ہی کردیا۔ ان کو کہا جا رہا ہے کہ تمہارا فرمائشی معجزہ تو خدا نے دکھلا دیا۔ اب ایمان لانے میں کیا تأمل ہے۔ 6 یعنی یہ اونٹنی خدا کی قدرت اور میری صداقت کی نشانی ہے، جو میری دعا پر غیر معتاد طریقہ سے خدا نے پیدا کی، اس کے حقوق کی رعایت کرو۔ مثلاً خدا کی زمین میں مباح گھاس کھانے اور اس کی باری میں پانی پینے سے نہ روکو۔ غرض خدا کے اس نشان کے ساتھ جو تم نے خود مانگ کر حاصل کیا ہے، برائی سے پیش مت آؤ، ورنہ تمہاری بھی خیر نہیں۔
Ayah 7:74

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَكُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:74 in the Quran reader

اور یاد کرو جب کہ تم کو سردار کردیا عاد کے پیچھے اور ٹھکانا دیا تم کو زمین میں کہ بناتے ہو نرم زمین میں محل اور تراشتے ہو پہاڑوں کے گھر سو یاد کرو احسان اللہ کے اور مت مچاتے پھرو زمین میں فساد7

7 یعنی احسان فراموشی اور شرک و کفر کر کے زمین میں خرابی مت پھیلاؤ۔
Ayahs 7:75–76

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:75 in the Quran reader

کہنے لگے سردار جو متکبر تھے اس کی قوم میں غریب لوگوں کو کہ جو ان میں ایمان لا چکے تھے کیا تم کو یقین ہے کہ صالح کو بھیجا ہے اس کے رب نے بولے ہم کو تو جو وہ لے کر آیا اس پر یقین ہے

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا بِالَّذِیْۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 7:76 in the Quran reader

کہنے لگے وہ لوگ جو متکبر تھے جس پر تم کو یقین ہے ہم ان کو نہیں مانتے1

قوم میں جو بڑے بڑے متکبر سردار اور معاندین تھے وہ غریب اور کمزور مسلمانوں سے استہزاءً کہتے تھے کہ (کیا بڑے آدمی تو آج تک نہ سمجھے ؟ مگر تمہیں معلوم ہوگیا کہ صالح خدا کا بھیجا ہوا ہے ؟ مسلمانوں نے جواب دیا کہ (معلوم ہونا کیا معنیٰ ۔ معلوم تو تم کو بھی ہے) ہاں ہم دل سے قبول کرکے اس پر ایمان لاچکے ہیں۔ متکبرین اس حکیمانہ جواب سے کھسیانے ہو کر بولے کہ جس چیز کو تم نے مان لیا ہے ہم ابھی تک اسے نہیں مانتے۔ پھر بھلا تمہارے جیسے چند خستہ حال آدمیوں کا ایمان لے آنا کونسی بڑی کامیابی ہے۔
Ayah 7:77

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 7:77 in the Quran reader

پھر انہوں نے کاٹ ڈالا اونٹنی کو اور پھرگئے اپنے رب کے حکم سے2 اور بولے اے صالح لے آ ہم پر جس سے تو ہم کو ڈراتا تھا اگر تو رسول ہے3

7 کہتے ہیں کہ وہ اونٹنی اس قدر عظیم الجثہ اور ڈیل ڈول کی تھی کہ جس جنگل میں چرتی دوسرے مویشی ڈر کر بھاگ جاتے اور اپنی باری کے دن جس کنویں سے پانی پیتی کنواں خالی کردیتی۔ گویا جیسے اس کی پیدائش غیر معمولی طریقہ سے ہوئی تو ازم وآثار حیات بھی غیر معمولی تھے۔ آخر لوگوں نے غیظ میں آکر اس کے قتل پر اتفاق کرلیا۔ اور بدبخت " قدار " نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ بعدہ، خود حضرت صالح کے قتل پر بھی تیار ہونے لگے اور اس طرح خدا کے احکام کو جو " صالح اور " ناقہ " کے متعلق تھے پس پشت ڈال دیا۔ ٖف 8 ایسے کلمات انسان کی زبان سے اس وقت نکلتے ہیں جب خدا کے قہر و غضب سے بالکل بےخوف ہوجاتا ہے۔ " عاد اولیٰ ' کی طرح " ثمود " بھی اس مرتبہ پر پہنچ کر عذاب الٰہی کے مورد بنے جس کا ذکر آگے آتا ہے۔
Ayah 7:78

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ Open ayah 7:78 in the Quran reader

پس آپکڑا ان کو زلزلہ نے پھر صبح کو رہ گئے اپنے گھر میں اوندھے پڑے4

9 دوسری آیت میں ان کا " صیحہ " (چیخ) سے ہلاک ہونا بیان فرمایا ہے۔ شاید نیچے سے زلزلہ اور اوپر سے ہولناک آواز آئی ہوگی۔
Ayah 7:79

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 7:79 in the Quran reader

پھر صالح الٹا پھرا ان سے اور بولا اے میری قوم میں پہنچا چکا تم کو پیغام اپنے رب کا اور خیرخواہی کی تمہاری لیکن تم کو محبت نہیں خیرخواہوں سے5

5 کہتے کہ حضرت صالح قوم کی ہلاکت کے بعد مکہ معظمہ یا ملک شام کی طرف چلے گئے اور جاتے ہوئے ان لاشوں کے انبار دیکھ کر یہ خطاب فرمایا، یا تو اسی طرح جیسے آنحضرت نے مقتولین بدر کو فرمایا تھا اور یا محض بطور تحسر فرضی خطاب تھا۔ جیسے شعراء دیارو اطلال (کھنڈرات) وغیرہ کو خطاب کرتے ہیں۔ اور بعض نے کہا کہ یہ خطاب ہلاکت سے پہلے تھا اس صورت میں بیان میں ترتیب واقعات مرعی نہ ہوگی۔ بہرحال اس خطاب میں دوسروں کو سنانا تھا کہ اپنے معتبر خیر خواہوں کی بات ماننی چاہیے۔ جب کوئی شخص خیر خواہوں کی قدر نہیں کرتا تو ایسا نتیجہ دیکھنا پڑتا ہے۔
Ayah 7:80

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:80 in the Quran reader

اور بھیجا لوط کو جب کہا اس نے اپنی قوم کو کیا تم کرتے ہو ایسی بےحیائی کہ تم سے پہلے نہیں کیا اس کو کسی نے جہان میں6

6 لوط حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے بھتیجے ہیں جو ان کے ساتھ عراق سے ہجرت کرکے ملک شام میں تشریف لائے اور خدا کی طرف سے سدوم اور ان کے گرد و نواح کی بستیوں کی طرف مبعوث ہوئے تاکہ ان کی اصلاح فرمائیں اور ان کے گندے خلاف فطرت اور بےحیائی کے کاموں سے باز رکھیں۔ جن میں وہاں کے لوگ مبتلا تھے۔ نہ صرف مبتلا بلکہ اس بےحیائی کے موجد تھے۔ ان سے پیشتر عالم میں اس بیماری سے کوئی واقف نہ تھا۔ اولاً یہ ملعون حرکت شیطان نے سدوم والوں کو سمجھائی اور وہیں سے دوسرے مقامات میں پھیلی۔ حضرت لوط نے اس ملعون و شنیع حرکت کے عواقب پر متنبہ کیا۔ اور گندگی کو دنیا سے مٹانا چاہا موجودہ بائبل کے جمع کرنے والوں کی شرمناک جسارت پر ماتم کرنا پڑتا ہے کہ ایسے پاکباز اور معصوم پیغمبر کی نسبت جو دنیا کو بیحیائی اور گندگی سے پاک کرنے کے لیے آیا تھا۔ ایسی سخت ناپاک حرکات منسوب کیں جن کے سننے سے حیادار آدمی کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ (كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ ۭ اِنْ يَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا) 18 ۔ الکہف :5)