Ayah 7:1611 اس شہر سے مراد اکثر نے " ارِیحاء لیا ہے۔
2 یعنی ابھی ایک شہر فتح ہوا۔ آگے سارا ملک ملے گا کذا فی الموضح۔ یا یہ مطلب ہے کہ خطا معاف کر کے نیکوکاروں کے اجر وثواب بڑھائیں گے کذا فی عامۃ الکتب۔
Ayah 7:1622 یہ واقعات " وادی تیہ " کے ہیں۔ جن کا بیان سورة " بقرہ " ربع پارہ الم کے بعد گزر چکا، وہاں کے فوائد میں تفصیل ملاحظہ کی جائے۔
Ayah 7:1633 یعنی اپنے زمانہ کے یہود سے بطور تنبیہ و توبیخ اس بستی میں رہنے والے یہود کا قصہ دریافت کیجئے جو داؤد (علیہ السلام) کے عہد میں پیش آیا۔ اکثر مفسرین کے نزدیک اس بستی سے شہر " اَیلَہ " مراد ہے جو بحر قلزم کے کنارے مدین اور طور کے درمیان واقع تھا وہاں کے لوگ دریا کے قرب کی وجہ سے مچھلی کے شکار کی عادت رکھتے تھے۔
4 حق تعالیٰ نے یہود پر ہفتہ کے دن شکار کرنا حرام کیا تھا۔ باشندگان " ایلہ " کو عدول حکمی اور نافرمانی کی عادت تھی۔ خدا کی طرف سے سخت آزمائش ہونے لگی کہ ہفتہ کے دن دریا میں مچھلیوں کی بیحد کثرت ہوتی۔ جو سطح دریا کے اوپر تیرتی تھیں۔ باقی دنوں میں غائب رہتیں۔ ان لوگوں سے صبر نہ ہوسکا صریح حکم الٰہی کے خلاف حیلے کرنے لگے۔ دریا کا پانی کاٹ لائے، جب ہفتہ کے دن مچھلیاں ان کے بنائے ہوئے حوض میں آ جاتیں تو نکلنے کا راستہ بند کردیتے اور اگلے دن اتوار کو جا کر پکڑ لاتے تاکہ ہفتہ کے دن شکار کرنا صادق نہ آئے۔ گویا اس حرکت سے معاذ اللہ خدا کو دھوکا دینا چاہتے تھے۔ آخر دنیا ہی میں اس کی سزا بھگتی کہ مسخ کر کے ذلیل بندر بنا دیئے گئے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ حیلہ سازی اور مکاری خدا کے آگے پیش نہیں جاتی۔
Ayah 7:1645 معلوم ہوتا ہے کہ جب انہوں نے حکم الٰہی کے خلاف حیلہ بازی شروع کی تو شہر کے باشندے کئی قسموں پر منقسم ہوگئے جیسا کہ عموماً ایسے حالات میں ہوا کرتا ہے۔ ایک وہ لوگ جنہوں نے اس حیلہ کی آڑ لے کر صریح حکم الٰہی کی خلاف ورزی کی۔ دوسرے نصیحت کرنے والے جو اخیر تک فہمائش اور امر بالمعروف میں مشغول رہے۔ تیسرے جنہوں نے ایک آدھ مرتبہ نصیحت کی پھر مایوس ہو کر اور ان کی سرکشی سے تھک کر چھوڑ دی۔ چوتھے وہ ہوں گے جو نہ اس عمل شنیع میں شریک ہوئے اور نہ منع کرنے کے لیے زبان کھولی، بالکل علیحدہ اور خاموش رہے۔ موخر الذکر دو جماعتوں نے انتھک نصیحت کرنے والوں سے کہا ہوگا کہ ان متمر دین کے ساتھ کیوں مغز زنی کر کے دماغ کھپاتے ہو جن سے کوئی توقع قبول حق کی نہیں۔ ان کی نسبت تو معلوم ہوتا ہے کہ دو باتوں سے ایک بات ضرور پیش آنے والی ہے۔ یا خدا ان کو بالکل تباہ و ہلاک کر دے اور یا کسی سخت ترین عذاب میں مبتلا کرے۔ کیونکہ یہ لوگ اب کسی نصیحت پر کان دھرنے والے نہیں۔
6 یعنی شاید سمجھاتے رہنے سے کچھ ڈر جائیں اور اپنی حرکات شنعیہ سے باز آجائیں۔ ورنہ کم از کم ہم پروردگار کے سامنے عذر تو کرسکتے ہیں کہ خدایا ہم نے آخر دم نصیحت و فہمائش میں کوتاہی نہیں کی۔ یہ نہ مانے تو ہم پر اب کیا الزام ہے ؟ گویا یہ ناصحین اول تو بالکلیہ مایوس نہ تھے، دوسرے " عزیمت " پر عمل کر رہے تھے کہ مایوسی کے باوجود بھی ان کا تعاقب نہیں چھوڑتے۔
Ayah 7:1657 یعنی جب ان نالائقوں نے تمام نصیحتوں کو بالکل ایسا بھلا دیا گویا سنا ہی نہیں، تو ہم نے ناصحین کو بچا کر ظالمین کو سخت عذاب میں گرفتار کردیا۔ اَلَّذِیْنَ یَنْہَوْنَ عَنِ السُّو ءِ کا عموم الفاظ دلالت کرتا ہے کہ جو نصیحت سے تھک کر لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْماً الخ کہنے لگے اور جنہوں نے اخیر تک سلسلہ وعظ و نصیحت کا جاری رکھا۔ ان دونوں کو نجات ملی۔ صرف ظالم پکڑے گئے۔ یہ ہی عکرمہ سے منقول ہے اور ابن عباس نے ان کے فہم کی داد دی ہے۔ باقی جو لوگ اول سے آخر تک بالکل ساکت رہے، خدا نے بھی ان کے ذکر سے سکوت فرمایا۔ ابن کثیر نے خوب لکھا ہے۔ فَنَصَّ عَلٰی نجاۃ الناہین وَہَلَاک الظَّالِمِیْنَ وَسَکَت عن الساکتین لان الجزاء من جنس العمل فہم لا یستحقون مدحًا فیمدحوا ولا ارتکبوا عظیمًا فیذموا (ابن کثیر 576) ورجع بعد ذلک قول عکرمۃ واللّٰہ اعلم۔
Ayah 7:1661 شاید پہلے اور عذاب آیا ہوگا، جب بالکل حد سے گزر گئے تب ذلیل بندر بنائے گئے، یا فَلَمَّا عَتَوْا الخ کو گزشتہ آیت فَلَمَّا نَسُوا ماذُکِّرُوا بِہٖ کی تفسیر قرار دیا جائے یعنی وہ " عذاب بئیس " یہ ہی بندر بنادینا تھا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ " منع کرنے والوں نے شکار والوں سے ملنا چھوڑ دیا اور بیچ میں دیوار اٹھائی، ایک دن صبح کو اٹھے تو دوسروں کی آواز نہ سنی، دیوار پر سے دیکھا، ہر گھر میں بندر تھے وہ آدمیوں کو پہچان کر اپنے قرابت والوں کے پاؤں پر سر رکھنے لگے اور رونے لگے۔ آخر برے حال سے تین دن میں مرگئے۔
Ayah 7:1672 یعنی خدا کی طرف سے پختہ اعلان کردیا گیا تھا کہ یہود اگر احکام تورات پر عمل کرنا چھوڑ دیں گے تو حق تعالیٰ قرب قیامت تک وقتاً فوقتاً ان پر ایسے لوگوں کو مسلط کرتا رہے گا جو ان کو برے عذاب میں مبتلا رکھیں گے۔ برا عذاب یہاں محکومانہ زندگی کو فرمایا۔ چناچہ قوم یہود کبھی یونانی اور کلدانی بادشاہوں کے زیر حکومت رہی۔ کبھی " بخت نصر " وغیرہ کے شدائد کا تختہ مشق بنی۔ آخر میں نبی کریم ﷺ کے عہد مبارک تک مجوسیوں کی باجگذار رہی۔ پھر مسلمان حکمرانوں کو ان پر مسلط فرما دیا۔ غرض اس وقت سے آج تک ان کو من حیث القوم عزت و آزادی کی زندگی نصیب نہیں ہوئی۔ بلکہ جہاں کہیں رہے اکثر ملوک وحکام کی طرف سے سخت ذلت اور خطرناک تکلیفیں اٹھاتے رہے۔ ان کا مال و دولت وغیرہ کوئی چیز اس غلامی و محکومیت کی لعنت سے نجات نہ دے سکی اور نہ قیامت تک دے سکے گی۔ آخر میں جب یہ لوگ دجال کے مددگار ہو کر تیغ کیے جائیں گے۔ کما ورد فی الحدیث۔
3 یعنی جو شرارت سے باز نہ آئے۔ بعض اوقات اس پر جلدی دنیا ہی میں عذاب بھیجنا شروع کردیتا ہے اور کیسا ہی کٹر مجرم توبہ کرلے اور نادم ہو کر خدا کی طرف رجوع ہو تو اس کی بخشش و رحمت بھی بےپایاں ہے معاف کرتے ہوئے بھی دیر نہیں لگتی۔
Ayah 7:1684 یہود کی دولت برہم ہوئی تو آپس کی مخالفت سے ہر طرف نکل گئے۔ کوئی اجتماعی قوت و شوکت نہ رہی اور مذہب مختلف پیدا ہوئے۔ یہ احوال اس امت کو عبرت کے لیے سنائے جا رہے ہیں۔
5 یعنی کچھ افراد ان میں نیک بھی تھے۔ مگر اکثریت کافروں اور فاسقوں کی تھی۔ ان اکثروں کے لیے بھی ہم رجوع وانابت الی اللہ کے موافق بہم پہنچاتے رہے۔ کبھی ان کو عیش و تنعم میں رکھا، کبھی سختی اور تکلیف میں مبتلا کیا کہ ممکن ہے احسان مان کر یا سختیوں سے ڈر کر توبہ کریں اور خدا کی طرف رجوع ہوں۔
Ayah 7:1696 یعنی اگلوں میں تو کچھ صالحین بھی تھے پچھلے ایسے ناخلف ہوئے کہ جس کتاب (تورات شریف) کے وارثو حامل بنے تھے، دنیا کا تھوڑا سامان لے کر اس کی آیات میں تحریف و کتمان کرنے لگے اور رشوتیں لے کر احکام تورات کے خلاف فیصلے دینے لگے۔ پھر اس پر ستم ظریفی دیکھئے کہ ایسے نالائق اور پاجیانہ حرکات کا ارتکاب کرتے ہوئے یہ عقیدہ اور دعویٰ رکھتے ہیں کہ ان باتوں سے ہم کو مضرت کا کچھ اندیشہ نہیں۔ ہم تو خدا کی اولاد اور اس کے محبوب ہیں۔ کچھ بھی کریں وہ ہماری بےاعتدالیوں سے ضرور درگزر کرے گا۔ اسی عقیدہ کی بناء پر تیار رہتے ہیں کہ آئندہ جب موقع ہو پھر رشوت لے کر اسی طرح کی بےایمانی کا اعادہ کریں۔ گویا بجائے اس کے کہ گزشتہ حرکات پر نادم ہوتے اور آئندہ کے لیے عزم رکھتے کہ ایسی حرکات کا اعادہ نہ کریں گے۔ مگر اللہ سے مامون ہو کر ان ہی شرارتوں اور بےایمانیوں کے اعادہ کا عزم رکھتے ہیں، اس سے زیادہ حماقت اور بےحیائی کیا ہوگی ؟
7 یعنی تورات میں جو عہد لیا گیا تھا کہ " خدا کی طرف سچ کے سوا کسی چیز کی نسبت نہ کریں۔ " کیا وہ انہیں معلوم نہیں جو اس کی کتاب اور احکام میں قطع و برید کر کے اس پر افتراء کرنے لگے، حالانکہ " کتاب اللہ " (تورات) کو یہ لوگ پڑھتے پڑھاتے ہیں۔ پھر کیسے کہا جاسکتا ہے کہ اس کا مضمون انہیں معلوم نہیں یا یاد نہیں رہا۔ حقیقت وہی ہے کہ دنیا کی فانی متاع کے عوض انہوں نے دین و ایمان بیچ ڈالا اور آخرت کی تکلیف و راحت سے آنکھیں بند کرلیں۔ اتنا نہ سمجھے کہ جو لوگ خدا سے ڈرتے اور تقویٰ کی راہ اختیار کرتے ہیں ان کے لیے آخرت کا گھر اور وہاں کا عیش و تنعم دنیا کی خوشحالی سے کہیں بہتر اور فائق ہے۔ کاش کہ اب بھی انہیں عقل آجائے۔
Ayah 7:1708 یعنی توبہ اور اصلاح حال کا دروازہ اب بھی کھلا ہے جو لوگ شریروں کی راہ چھوڑ کر تورات کی اصلی ہدایات کو تھامے رہیں اور اسی کی ہدایت و پیشین گوئی کے موافق اس وقت قرآن کریم کا دامن مضبوط پکڑے رہیں اور خدا کی بندگی (نماز وغیرہ) کا حق ٹھیک ٹھیک ادا کریں۔ غرض اپنی اور دوسروں کی اصلاح پر متوجہ ہوں۔ خدا ان کی محنت ضائع نہ کرے گا وہ بلاشبہ اپنی محنت کا میٹھا پھل چکھیں گے۔
Ayah 7:1711 یعنی جو " میثاق الکتاب " (عہد و اقرار) انہیں یاد دلایا جا رہا ہے، وہ ایسے اہتمام سے لیا گیا تھا کہ پہاڑ اٹھا کر ان کے سروں پر لٹکا دیا گیا اور کہا گیا کہ جو کچھ تم کو دیا جا رہے ہے (تورات وغیرہ) اسے پوری مضبوطی اور عزم سے تھامو اور جو نصیحتیں کی گئیں انہیں ہمیشہ یاد رکھو۔ ورنہ بصورت انکار سمجھ لو کہ خدا تم پر یہ پہاڑ گرا کر ہلاک کرسکتا ہے۔ اس قدر اہتمام اور تخویف و تاکید سے جو قول وقرار لیا گیا تھا، افسوس ہے وہ بالکل فراموش کردیا گیا۔ یہ " رفع جبل " کا قصہ سورة بقرہ میں ربع پارہ الم کے بعد گزر چکا ہے، ملاحظہ فرما لیا جائے۔
Ayahs 7:172–1732 " میثاق خاص " کے بعد یہاں سے " میثاق عام " کا ذکر کرتے ہیں۔ تمام عقائد حقہ اور ادیان سماویہ کا بنیادی پتھر یہ ہے کہ انسان خدا کی ہستی اور ربوبیت عامہ پر اعتقاد رکھے۔ مذہب کی ساری عمارت اسی سنگ بنیاد پر کھڑی ہوتی ہے۔ جب تک یہ اعتقاد نہ ہو، مذہبی میدان میں عقل و فکر کی راہنمائی اور انبیاء ومرسلین کی ہدایات کچھ نفع نہیں پہنچا سکتیں۔ اگر پورے غورو تامل سے دیکھا جائے تو آسمانی مذہب کے تمام اصول و فروع بالآخر خدا کی " ربوبیت عامہ " کے اسی عقیدہ پر منتہی ہوتے بلکہ اسی کی تہ میں لپٹے ہوئے ہیں۔ عقل سلیم اور وحی والہام اسی اجمال کی شرح کرتے ہیں پس ضروری تھا کہ یہ تخم ہدایت جسے کل آسمانی تعلیمات کا مبداء و منتہی اور تمام ہدایات ربانیہ کا وجود مجمل کہنا چاہیے، عام فیاضی کے ساتھ نوع انسانی کے تمام افراد میں بکھیر دیا جائے تاکہ ہر آدمی عقل و فہم اور وحی والہام کی آبیاری سے اس تخم کو شجر ایمان و توحید کے درجہ تک پہنچا سکے۔ اگر قدرت کی طرف سے قلوب بنی آدم میں ابتداء یہ تخم ریزی نہ ہوتی اور اس کی سب سے زیادہ اساسی و جوہری عقدہ کا حل ناخن عقل و فکر کے سپرد کردیا جاتا، تو یقیناً یہ مسئلہ بھی منطقی استدلال کی بھول بھلیاں میں پھنس کر ایک نظری مسئلہ بن کر رہ جاتا، جس پر سب تو کیا اکثر آدمی بھی متفق نہ ہوسکتے جیسا کہ تجربہ بتلاتا ہے کہ فکر و استدلال کی ہنگامہ آرائیاں اکثر اتفاق سے زیادہ اختلاف آراء پر منتج ہوتی ہیں۔ اس لیے قدرت نے جہاں غور و فکر کی قوت اور نور وحی والہام کے قبول کرنے کی استعداد بنی آدم میں ودیعت فرمائی، وہیں اس اساسی عقیدہ کی تعلیم سے ان کو فطرۃً بہرہ ور کیا جس کے اجمال میں کل آسمانی ہدایات کی تفصیل منطوی و مندمج تھی اور جس کے بدوں مذہب کی عمارت کا کوئی ستون کھڑا نہیں رہ سکتا۔ یہ اسی ازلی اور خدائی تعلیم کا اثر ہے کہ آدم کی اولاد ہر قرن اور ہر گوشہ میں حق تعالیٰ کی ربوبیت عامہ کے عقیدہ پر کسی نہ کسی حد تک متفق رہی ہے۔ اور جن معدود افراد نے کسی عقل و روحی بیماری کی وجہ سے اس عام فطری احساس کے خلاف آواز بلند کی ہے وہ انجام کار دنیا کے سامنے بلکہ خود اپنی نظر میں بھی اسی طرح جھوٹے ثابت ہوئے جیسے ایک بخار وغیرہ کا مریض لذیذ اور خوشگوار غذاؤں کو تلخ اور بدمزہ بتلانے میں جھوٹا ثابت ہوتا ہے۔ بہرحال ابتدائے افرینش سے آج تک ہر درجہ اور طبقہ کے انسانوں کا خدا کی ربوبیت کبریٰ پر عام اتفاق و اجماع اس کی زبردست دلیل ہے کہ یہ عقیدہ عقول و افکار کی دوا دوش سے پہلے ہی فاطر حقیقی کی طرف سے اولاد آدم کو بلاواسطہ تلقین فرما دیا گیا ورنہ فکر و استدلال کے راستہ سے ایسا اتفاق پیدا ہوجانا تقریباً ناممکن تھا۔ قرآن کریم کی یہ امتیازی خصوصیت ہے کہ اس نے آیات حاضرہ میں عقیدہ کی اس فطری یکسانیت کے اصلی راز پر روشنی ڈالی۔ بلاشبہ ہم کو یاد نہیں کہ اس بنیادی عقیدہ کی تعلیم کب اور کہاں اور کس ماحول میں دی گئی۔ تاہم جس طرح ایک لیکچرار اور انشاء پرداز کو یقین ہے کہ ضرور اس کو ابتدائے عمر میں کسی نے الفاظ بولنے سکھلائے، جس سے ترقی کر کے آج اس رتبہ کو پہنچا۔ گو پہلا لفظ سکھلانے والا اور سکھلانے کے وقت، مکان اور دیگر خصوصیات مقامی بلکہ نفس سکھلانا بھی یاد نہیں۔ تاہم اس کے موجودہ آثار سے یقین ہے کہ ایسا واقعہ ضرور ہوا ہے۔ اسی طرح بنی نوع انسان کا علیٰ اختلاف الاقوام والاجیال " عقیدہ ربوبیت الٰہی " پر متفق ہونا اس کی کھلی شہادت ہے کہ یہ چیز بدء فطرت میں کسی معلم کے ذریعہ سے ان تک پہنچی ہے۔ باقی تعلیمی خصوصیات و احوال کا محفوظ نہ رہ سکنا اس کی تسلیم میں خلل انداز نہیں ہوسکتا۔ اسی ازلی و فطری تعلیم نے جس کا نمایاں اثر آج تک انسانی سرشت میں موجود چلا آتا ہے، ہر انسان کو خدا کی حجت کے سامنے ملزم کردیا ہے۔ جو شخص اپنے الحادو شرک کو حق بجانب قرار دینے کے لیے غفلت، بیخبر ی یا آباؤ اجداد کی کو رانہ تقلید کا عذر کرتا ہے، اس کے مقابلہ پر خدا کی یہی حجت قاطعہ جس میں اصل فطرت انسانی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، بطور فیصلہ کن جواب کے پیش کی جاسکتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ " اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کی پشت سے ان کی اولاد اور ان سے ان کی اولاد نکالی، سب سے اقرار کروایا اپنی خدائی کا۔ پھر پشت میں داخل کیا۔ اس سے مدعا یہ ہے کہ خدا کے رب مطلق ماننے میں ہر کوئی آپ کفایت کرتا ہے، باپ کی تقلید نہ چاہیے۔ اگر باپ شرک کرے بیٹے کو چاہیے ایمان لاوے۔ اگر کسی کو شبہ ہو کہ وہ عہد تو یاد نہیں رہا پھر کیا حاصل ؟ تو یوں سمجھے کہ اس کا نشان ہر کسی کے دل میں ہے اور ہر زبان پر مشہور ہو رہا ہے کہ سب کا خالق اللہ ہے سارا جہان قائل ہے اور جو کوئی منکر ہے یا شرک کرتا ہے سو اپنی عقل ناقص کے دخل سے، پھر آپ ہی جھوٹا ہوتا ہے۔ "
Ayah 7:1743 موضح القرآن میں ہے کہ " یہ قصہ یہود کو سنایا کہ وہ بھی عہد سے پھرے ہیں جیسے مشرک پھرتے ہیں۔ "
Ayahs 7:175–1761 اکثر مفسرین کے نزدیک یہ آیات بلعم بن باعوراء کے حق میں نازل ہوئیں جو ایک عالم اور صاحب تصرف درویش تھا۔ بعدہ ' اللہ کی آیات اور ہدایات کو چھوڑ کر عورت کے اغواء اور دولت کے لالچ سے حضرت موسیٰ کے مقابلہ میں اپنے تصرفات چلانے اور ناپاک تدبیریں بتلانے کے لیے تیار ہوگیا۔ آخر موسیٰ (علیہ السلام) کا تو کچھ نہ بگاڑ سکا خود مردود ابدی بنا۔ آیات اللہ کا جو علم بلعم کو دیا گیا تھا، اگر خدا چاہتا تو اس کے ذریعہ سے بہت بلند مراتب پر اس کو فائز کردیتا۔ اور یہ جب ہی ہوسکتا تھا کہ اسے اپنے علم پر چلنے اور آیات اللہ کا اتباع کرنے کی توفیق ہوتی۔ لیکن ایسا نہ ہوا کیونکہ وہ خود آسمانی برکات و آیات سے منہ موڑ کر زمینی شہوات و لذات کی طرف جھک پڑا۔ وہ نفسانی خواہشات کے پیچھے چل رہا تھا اور شیطان اس کا پیچھا (تعاقب) کرتا جا رہا تھا۔ حتیٰ کہ پکے کجروؤں اور گمراہوں کی قطار میں جا داخل ہوا۔ اس وقت اس کا حال کتے کی طرح ہوگیا جس کی زبان باہر لٹکی ہو اور برابر ہانپ رہا ہو اگر فرض کرو اس پر بوجھ لادیں یا ڈانٹ بتلائیں یا کچھ نہ کہیں آزاد چھوڑ دیں، بہر صورت ہانپتا اور زبان لٹکائے رہتا ہے۔ کیونکہ طبعی طور پر دل کی کمزوری کی وجہ سے گرم ہوا کے باہر پھینکنے اور سرد و تازہ ہوا کے اندر کھینچنے پر بسہولت قادر نہیں ہے۔ اسی طرح سفلی خواہشات میں منہ مارنے والے کتے کا حال ہوا کہ اخلاقی کمزوری کی وجہ سے " آیات اللہ " کا دیا جانا اور نہ دیا جانا یا تنبیہ کرنا اور نہ کرنا دونوں حالتیں اس کے حق میں برابر ہوگئیں۔ (سَوَاۗءٌ عَلَيْهِمْ ءَاَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ ) 2 ۔ البقرۃ :6) حرص دنیا سے اس کی زبان باہر لٹک پڑی اور ترک آیات کی نحوست سے بدحواسی اور پریشانی خاطر کا نقشہ برابر ہانپتے رہنے کی مثال میں ظاہر ہوا۔ ممکن ہے کہ بلعم کی باطنی و معنوی کیفیت ظاہر کرنے کے لیے صرف ایک مثال کے طور پر یہ مضمون ( اِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ ) 7 ۔ الاعراف :176) ذکر کیا گیا ہو اور ہوسکتا ہے کہ دنیا یا آخرت میں اس کے لیے یہ سزا تجویز کی گئی ہو کہ ظاہری وحسی طور پر کتے کی طرح زبان باہر نکل پڑے اور ہمیشہ پریشان و بدحواس اور خوف زدہ آدمی کی طرح ہانپتا رہے۔ العیاذ باللہ۔ آیات کی شان نزول کچھ ہو، بہرحال ایسے ہوا پرستوں کا انجام بتلایا گیا ہے جو حق کے قبول کرنے یا پوری طرح سمجھ لینے کے بعد محض دنیاوی طمع اور سفلی خواہشات کی پیروی میں احکام الٰہیہ کو چھوڑ کر شیطان کے اشاروں پر چلنے لگیں۔ اور خدا کے عہد و میثاق کی کچھ پروا نہ کریں۔ گویا یہود کو بھی متنبہ فرما دیا کہ صرف کتاب کا علم کچھ نافع نہیں ہوسکتا جب تک صحیح معنی میں اس کا اتباع نہ ہو (مَثَلُ الَّذِيْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ اَسْفَارًا) 62 ۔ الجمعہ :5) علمائے سوء کے لیے ان آیات میں بڑا عبرتناک سبق ہے اگر دھیان کریں۔
Ayah 7:1772 مشرکین وغیرہم کے رد میں جابجا قرآن نے عنکبوت، ذباب، مکڑی، مکھی وغیرہ کی مثالیں بیان فرمائی ہیں مگر ان لوگوں کی مثال ایسی بری ہے کہ کوئی غیرت مند آدمی حتی المقدور اس کو اپنے پر چسپاں نہیں ہونے دے گا۔ اور جو بےحیا غدار اپنے احوال پر چسپاں ہونے دیتا ہے وہ صرف اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔
Ayah 7:1783 علم و فضل بھی انسان کو جب ہی کام دیتا ہے کہ خدا کی ہدایت و دستگیری سے علم صحیح کے موافق چلنے کی توفیق ہو، جسے وہ سیدھے راستہ پر چلنے کے لیے موافق نہ کرے تو کتنی ہی بڑی علمی فضیلت و قابلیت رکھتا ہو سمجھ لو کہ ٹوٹے اور خسارے کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔ اس لیے انسان اپنے علم و فضل پر مغرور نہ ہو بلکہ دائما خدا سے ہدایت و توفیق کا طلبگار رہے۔
Ayah 7:1794 یہ آیت بظاہر آیہ (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ ) 51 ۔ الذاریات :56) کے معارض معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے بعض مفسرین نے وہاں لیعبدون میں لام غایت اور یہاں لجہنم میں لا عاقبت مراد لیا ہے یعنی سب کے پیدا کرنے سے مطلوب اصلی تو عبادت ہے لیکن بہت سے جن وانس چونکہ اس مطلب کو پورا نہ کریں گے اور انجام کار دوزخ میں بھیجے جائیں گے۔ اس انجام کے لحاظ سے کہہ سکتے ہیں کہ گویا وہ دوزخ ہی کے لیے پیدا ہوئے۔ کما فی قولہ تعالیٰ (فَالْتَقَطَهٗٓ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِيَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا) 28 ۔ القصص :8) ۔ باقی محققین کے نزدیک اس تکلف کی حاجت نہیں۔ وہ دونوں جگہ " لام غایت " ہی کا ارادہ کرتے ہیں۔ مگر " لِیَعْبُدُوْنَ " میں " غایت تشریعی " اور یہاں لِجَہَنَّمَ میں " غایت تکوینی " بیان کی گئی ہے۔
5 یعنی دل، کان، آنکھ سب کچھ موجود ہیں لیکن نہ دل سے " آیات اللہ " میں غور کرتے ہیں نہ قدرت کے نشانات کا بنظر تعمق و اعتبار مطالعہ کرتے ہیں۔ اور نہ خدائی باتوں کو بسمع قبول سنتے ہیں۔ جس طرح چوپائے جانوروں کے تمام ادراکات صرف کھانے پینے اور بہیمی جذبات کے دائرہ میں محدود رہتے ہیں۔ یہ ہی حال ان کا ہے کہ دل و دماغ، ہاتھ پاؤں، کان آنکھ غرض خدا کی دی ہوئی سب قوتیں محض دنیاوی لذائذ اور مادی خواہشات کی تحصیل و تکمیل کے لیے وقف ہیں۔ انسانی کمالات اور ملکوتی خصائل کے اکتساب سے کوئی سروکار نہیں بلکہ غور کیا جائے تو ان کا حال ایک طرح چوپائے جانوروں سے بھی بدتر ہے۔ جانور مالک کے بلانے پر چلا آتا ہے، اس کے ڈانٹنے سے رک جاتا ہے۔ یہ کبھی مالک حقیقی کی آواز پر کان نہیں دھرتے، پھر جانور اپنے فطری قویٰ سے وہ ہی کام لیتے ہیں جو قدرت نے ان کے لیے مقرر کردیا ہے۔ زیادہ کی ان میں استعداد ہی نہیں۔ لیکن ان لوگوں میں روحانی و عرفانی ترقیات کی جو فطری قوت واستعداد و دیعت کی گئی تھی، اسے مہلک غفلت اور بےراہ روی سے خود اپنے ہاتھوں ضائع معطل کردیا گیا۔
Ayah 7:1806 غافلین کا حال ذکر کر کے مومنین کو متنبہ فرمایا ہے کہ تم غفلت اختیار نہ کرنا۔ غفلت دور کرنے والی چیز خدا کی یاد ہے، سو تم ہمیشہ اس کو اچھے ناموں سے پکارو اور اچھی صفات سے یاد کرو، جو لوگ اس کے اسماء وصفات کے بارے میں کج روش اختیار کرتے ہیں انہیں چھوڑ دو وہ جیسا کریں گے ویسا بھگتیں گے۔ خدا کے ناموں اور صفتوں کے متعلق کجروی یہ ہے کہ خدا پر ایسے نام یا صفت کا اطلاق کرے جس کی شریعت نے اجازت نہیں دی۔ اور جو حق تعالیٰ کی تعظیم و جلال کے لائق نہیں یا اس کے مخصوص نام اور صفت کا اطلاق غیر اللہ پر کرے، یا ان کے معانی بیان کرنے میں بےاصول تاویل اور کھینچ تان کرے یا ان کو معصیت (مثلاً سحر وغیرہ) کے مواقع میں استعمال کرنے لگے۔ یہ سب کجروی ہے۔
Ayah 7:1817 یہ جماعت امت محمدیہ مرحومہ ہے علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتسلیم جس نے ہر قسم کی افراط اور تفریط اور کجروی سے علیحدہ ہو کر سچائی اور انصاف و اعتدال کا طریقہ اختیار کیا۔ اور اسی کی طرف دوسروں کو دعوت دیتی ہے۔ آگے اس امت کے مخالفین اور حق کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر ہے۔
Ayahs 7:182–1838 جھٹلانے والے مجرموں کو بسا اوقات فوراً سزا نہیں ملتی بلکہ دنیاوی عیش اور فراخی کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ حتٰی کہ خدائی سزا سے بےفکر ہو کر ارتکاب جرائم پر اور زیادہ دلیر بن جاتے ہیں۔ اس طرح جو انتہائی سزا ان پر جاری کرنی ہے رفتہ رفتہ اپنے کو اعلانیہ اور کامل طور پر اس کا مستحق ثابت کردیتے ہیں۔ یہ ہی خدا کی ڈھیل اور استدراج ہے۔ وہ حماقت اور بےحیائی سے سمجھتے ہیں کہ ہم پر مہربانی ہو رہی ہے اور حقیقت میں انتہائی عذاب کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ خدا کا " کید " (داؤ یا خفیہ تدبیر) اسی کو کہا کہ ایسی کارروائی کی جائے جس کا ظاہر رحمت اور باطن قہر و عذاب ہو۔ بیشک خدا کی تدبیر بڑی مضبوط اور پختہ ہے جس کی کسی حیلہ اور تدبیر سے مدافعت نہیں ہوسکتی۔
Ayahs 7:184–1851 یعنی آخر آیات اللہ کو جھٹلانے اور اس کے بدانجام سے غافل ہوجانے کا سبب ہے۔ ان آیات کا لانے والا معاذ اللہ کوئی بےعقل و مجنون نہیں۔ وہ ساری عمر تمہارے پاس رہا، اس کے ہر چھوٹے بڑے حال سے تم واقف ہو۔ اس کی عقل و دانش اور امانت و دیانت پہلے سے مسلم و معروف ہے، جس کے پاس سے لایا وہ تمام جہان کا مالک، شہنشاہ مطلق اور ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس کے نہایت ہی محکم و مضبوط نظام سلطنت بلکہ ہر چھوٹی بڑی چیز میں جو اس نے پیدا کی ہے غور کرو تو یہ " آیات تکوینیہ "، " آیات تنزیلیہ " کی تصدیق کریں گی پھر آیات اللہ کی تسلیم میں کیا عذر باقی ہے۔ انہیں سمجھنا چاہیے کہ شاید ان کی موت و ہلاکت کا وقت قریب آ لگا ہو۔ لہذا بعد الموت کے لیے جو تیاری کرنی ہے جلد کرنا چاہیے۔
2 یعنی اگر آیات قرآنیہ پر ایمان نہ لائے تو دنیا میں اور کون سی بات اور کون سا کلام ہے جس پر ایمان لانے کی امید کی جاسکتی ہے سمجھ لو کہ ان بدبختوں کے لیے دولت ایمان مقدر ہی نہیں۔
Ayah 7:1863 ہدایت و ضلالت، ہر چیز خدا کے قبضہ میں ہے۔ وہ نہ چاہے تو سارے سامان ہدایت کے رکھے رہ جائیں۔ آدمی کہیں سے بھی منتفع نہ ہو ہاں عادۃً وہ جب ہی ہدایت کی توفیق دیتا ہے جب بندہ خود اپنے کسب و اختیار سے اس راستہ پر چلنا چاہے۔ باقی جو دیدہ و دانستہ بدی اور شرارت ہی کی ٹھان لے تو خدا بھی راستہ دکھلانے کے بعد اسی حال میں اسے چھوڑ دیتا ہے۔
Ayah 7:1874 پہلے (عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ ) 7 ۔ الاعراف :185) میں خاص اس قوم کی اجل (موت) کا ذکر تھا کہ انہیں کچھ معلوم نہیں کہ کب آجائے۔ یہاں تمام دنیا کی اجل (قیامت) کے متعلق متنبہ فرما دیا کہ جب کسی کو خاص اپنی موت کا علم نہیں کب آئے، پھر کل دنیا کی موت کو کون بتلا سکتا ہے کہ فلاں تاریخ اور فلاں سنہ میں آئے گی۔ اس کی تعیین کا علم بجز خدائے علام الغیوب کسی کے پاس نہیں۔ وہ ہی وقت معین و مقدر پر اسے واقع کر کے ظاہر کر دے گا کہ خدا کے علم میں اس کا یہ وقت تھا۔ آسمان و زمین میں وہ بڑا بھاری واقعہ ہوگا اور اس کا علم بھی بہت بھاری ہے جو خدا کے سوا کسی کو حاصل نہیں۔ گو اس واقعہ کی امارات (بہت سی نشانیاں) انبیاء (علیہم السلام) خصوصاً ہمارے پیغمبر آخر الزمان ﷺ نے بیان فرمائی ہیں۔ تاہم ان سب علامات کے ظہور کے بعد بھی جب قیامت کا وقوع ہوگا تو بالکل بیخبر ی میں اچانک اور دفعتاً ہوگا جیسا کہ بخاری وغیرہ کی احادیث میں تفصیلاً مذکور ہے۔
5 ان لوگوں کے طرز سوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ گویا وہ آپ کی نسبت یوں سمجھتے ہیں کہ آپ بھی اسی مسئلہ کی تحقیق و تفتیش اور کھوج لگانے میں مشغول رہے ہیں اور تلاش کے بعد اس کے علم تک رسائی حاصل کرچکے ہیں حالانکہ یہ علم حق تعالیٰ شانہ ' کے ساتھ مخصوص ہے انبیاء (علیہم السلام) اس چیز کے پیچھے نہیں پڑا کرتے جس سے خدا نے اپنی مصلحت کی بناء پر روک دیا ہو۔ نہ ان کے اختیار میں ہے کہ جو چاہیں کوشش کر کے ضرور ہی معلوم کرلیا کریں۔ ان کا منصب یہ ہے کہ جن بیشمار علوم و کمالات کا خدا کی طرف سے افاضہ ہو، نہایت شکر گزاری اور قدر شناسی کے ساتھ قبول کرتے رہیں۔ مگر ان باتوں کو اکثر عوام کالانعام کیا سمجھیں۔
Ayah 7:1886 اس آیت میں بتلایا گیا ہے کہ کوئی بندہ خواہ کتنا ہی بڑا ہو، نہ اپنے اندر " اختیار مستقل " رکھتا ہے نہ " علم محیط۔ " سید الانبیاء ﷺ جو علوم اولین و آخرین کے حامل اور خزائن ارضی کی کنجیوں کے امین بنائے گئے تھے، ان کو یہ اعلان کرنے کا حکم ہے کہ میں دوسروں کو کیا خود اپنی جان کو بھی کوئی نفع نہیں پہنچا سکتا، نہ کسی نقصان سے بچا سکتا ہوں۔ مگر جس قدر اللہ چاہے اتنے ہی پر میرا قابو ہے اور اگر میں غیب کی ہر بات جان لیا کرتا تو بہت سی وہ بھلائیاں اور کامیابیاں بھی حاصل کرلیتا جو علم غیب نہ ہونے کی وجہ سے کسی وقت فوت ہوجاتی ہیں۔ نیز کبھی کوئی ناخوشگوار حالت مجھ کو پیش نہ آیا کرتی۔ مثلاً " افک " کے واقعہ میں کتنے دنوں تک حضور ﷺ کو وحی نہ آنے کی وجہ سے اضطراب و قلق رہا۔ حجۃ الوداع میں تو صاف ہی فرما دیا " لواستقبلت من امری ما استدبرت لما سقت الہدی " (اگر میں پہلے سے اس چیز کو جانتا جو بعد میں پیش آئی تو ہرگز ہدی کا جانور اپنے ساتھ نہ لاتا) اسی قسم کے بیسیوں واقعات ہیں جن کی روک تھام " علم محیط " رکھنے کی صورت میں نہایت آسانی سے ممکن تھی۔ ان سب سے بڑھ کر عجیب تر واقعہ یہ ہے کہ " حدیث جبرائیل " کی بعض روایات میں آپ نے تصریحاً فرمایا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ میں نے جبرائیل کو واپسی کے وقت تک نہیں پہچانا۔ جب وہ اٹھ کر چلے گئے تب علم ہوا کہ جبرائیل تھے۔ یہ واقعہ بتصریح محدثین بالکل آخر عمر کا ہے۔ اس میں قیامت کے سوال پر " ما المسؤل عنہا باعلم من السائل " ارشاد فرمایا۔ گویا بتلا دیا گیا کہ " علم محیط " خدا کے سوا کسی کو حاصل نہیں۔ اور " علم غیب " تو درکنار، محسوسات و مبصرات کا پورا علم بھی خدا ہی کے عطا کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ وہ کسی وقت نہ چاہے تو ہم محسوسات کا بھی ادراک نہیں کرسکتے۔ بہرحال اس آیت میں کھول کر بتلا دیا گیا کہ " اختیار مستقل " یا " علم محیط " نبوت کے لوازم میں سے نہیں۔ جیسا کہ بعض جہلاء سمجھتے تھے۔ ہاں شرعیات کا علم جو انبیاء (علیہم السلام) کے منصب سے متعلق ہے کامل ہونا چاہیے، اور تکوینیات کا علم خدا تعالیٰ جس کو جس قدر مناسب جانے عطا فرماتا ہے۔ اس نوع میں ہمارے حضور ﷺ تمام اولین و آخرین سے فائق ہیں۔ آپ کو اتنے بیشمار علوم و معارف حق تعالیٰ نے مرحمت فرمائے ہیں۔ جن کا احصاء کسی مخلوق کی طاقت میں نہیں۔
Ayahs 7:189–1901 خدا نے سب انسانوں کو آدم سے پیدا کیا۔ آدم کے انس اور سکون وقرار حاصل کرنے کے لیے اسی کے اندر اس کا جوڑا (حواء) بنایا۔ پھر دونوں سے نسل چلی۔ جب مرد نے عورت سے فطری خواہش پوری کی تو عورت حاملہ ہوئی، حمل کی ابتدائی حالت میں کوئی گرانی نہ تھی۔ عورت حسب معمول چلتی پھرتی اور اٹھتی بیٹھتی رہی۔ جب پیٹ بڑھ گیا، اور یہ کون جان سکتا تھا کہ اس کے اندر کیا چیز پوشیدہ ہے، تب مرد و عورت دونوں نے حق تعالیٰ کی جناب میں عرض کیا کہ اگر آپ اپنے فضل سے بھلا چنگا کار آمد بچہ عنایت فرمائیں گے تو ہم دونوں (بلکہ ہماری نسل بھی) تیرا شکر ادا کرتی رہے گی۔ خدا نے جب ان کی یہ تمنا پوری کردی تو ہماری دی ہوئی چیز میں اوروں کے حصے لگانے شروع کردیئے مثلاً کسی نے عقیدہ جما لیا کہ یہ اولاد فلاں زندہ یا مردہ مخلوق نے ہم کو دی ہے، کسی نے اس عقیدہ سے نہیں تو عملاً اس کی نذر و نیاز شروع کردی، یا بچہ کی پیشانی اس کے سامنے ٹیک دی یا بچہ کا نام ایسا رکھا جس سے شرک کا اظہار ہوتا ہے۔ مثلاً عبدالعزیٰ یا عبدالشمس وغیرہ، غرض جو حق منعم حقیقی کا تھا وہ اعتقاداً یا فعلاً یا قولاً دوسروں کو دے دیا گیا۔ خوب سمجھ لو کہ حق تعالیٰ تمام انواع و مراتب شرک سے بالا و برتر ہے۔ ان آیات میں حسن بصری وغیرہ کی رائے کے موافق خاص آدم وحوا کا
نہیں بلکہ عام انسانوں کی حالت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ بیشک ابتداء ( هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا) 7 ۔ الاعراف :189)
میں بطور تمہید آدم و حوا کا ذکر تھا، مگر اس کے بعد مطلق مرد و عورت کے ذکر کی طرف منتقل ہوگئے اور ایسا بہت جگہ ہوتا ہے کہ شخص کے ذکر سے جنس کے ذکر کی طرف منتقل ہوجاتے ہیں جیسے (وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ ) 67 ۔ الملک :5) جن سیاروں کو " مصابیح " فرمایا ہے وہ ٹوٹنے والے ستارے نہیں۔ جن سے " رجم شیاطین " ہوتا ہے۔ مگر شخص " مصابیح " سے جنس " مصابیح " کی طرف کلام کو منتقل کردیا گیا۔ اس تفسیر کے موافق " جَعَلَالَہ، شُرَکَاء " میں کچھ اشکال نہیں۔ مگر اکثر سلف سے یہی منقول ہے کہ ان آیات میں صرف آدم و حوا کا قصہ بیان فرمایا ہے۔ کہتے ہیں کہ ابلیس ایک نیک مخلوق کی صورت میں حوا کے پاس آیا اور فریب دے کر ان سے وعدہ لے لیا کہ اگر لڑکا پیدا ہو تو اس کا نام عبدالحارث رکھیں ہوا نے آدم کو بھی راضی کرلیا۔ اور جب بچہ پیدا ہوا تو دونوں نے عبدالحارث نام رکھا (حارث ابلیس کا نام تھا جس سے وہ گروہ ملائکہ میں پکارا جاتا تھا) ظاہر ہے کہ اسمائے اعلام میں لغوی معنی معتبر نہیں ہوتے اور ہوں بھی تو " عبد " کی اضافت " حارث " کی طرف اس کو مستلزم نہیں کہ " حارث " کو معاذ اللہ معبود سمجھ لیا جائے۔ ایک مہمان نواز آدمی کو عرب " عبدالضیف " کہہ دیتے ہیں۔ (یعنی مہمان کا غلام) اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ گویا میزبان مہمان کی پوجا کرتا ہے۔ پس اگر " عبدالحارث " نام رکھنے کا یہ واقعہ صحیح ہے تو نہیں کہا جاسکتا کہ آدم (علیہ السلام) نے معاذ اللہ حقیقۃً شرک کا ارتکاب کیا جو انبیاء کی شان عصمت کے منافی ہے۔ ہاں بچہ کا ایسا غیر موزوں نام رکھنا جس سے بظاہر شرک کی بو آتی ہو نبی معصوم کی شان رفیع اور جذبہ توحید کے مناسب نہ تھا۔ قرآن کریم کی عادت ہے کہ انبیائے مقربین کی چھوٹی سی لغزش اور ادنیٰ ترین ذلّت کو " حسنات الابرار سیٔات المقربین " کے قاعدوں کے مطابق اکثر سخت عنوان سے تعبیر کرتا ہے جیسے یونس (علیہ السلام) کے قصہ میں فرمایا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَعَلَیْہِ یا فرمایا (اِذَا اسْتَيْــــَٔـسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا) 12 ۔ یوسف :110) علیٰ توجیہ بعض المفسرین اسی طرح یہاں بھی آدم (علیہ السلام) کے رتبہ کے لحاظ سے اس موہم شرک تسمیہ کو تغلیظاً ان الفاظ میں ادا فرمایا۔ جعلا لہ شرکاء فیما اٰتاہما (خدا کی دی ہوئی چیز میں حصہ دار بنانے لگے) یعنی ان کی شان کے لائق نہ تھا کہ ایسا نام رکھیں جس کی سطح سے شرک کا وہم ہوتا ہے۔ گو حقیقۃً شرک نہیں۔ شاید اسی لیے فَقَدْ اَشْرَكاَ وغیرہ مختصر عبارت چھوڑ کر یہ طویل عنوان (جَعَلَا لَهٗ شُرَكَاۗءَ فِيْمَآ اٰتٰىهُمَا) 7 ۔ الاعراف :190) اختیار فرمایا واللہ اعلم۔ (تنبیہ) حافظ عماد الدین ابن کثیر نے بتلایا ہے کہ عبدالحارث نام رکھنے کی حدیث مرفوع جو ترمذی میں ہے، وہ تین وجہ سے معلول ہے۔ رہے آثار، وہ غالباً اہل کتاب کی روایت سے ماخوذ ہیں واللہ اعلم۔
Ayah 7:1912 پہلے ایک طرح کے شرک کا ذکر تھا اس کی مناسبت سے ان آیات میں بت پرستی کا رد فرماتے ہیں۔ یعنی جو کسی کو پیدا نہ کرسکے بلکہ خود تمہارا بنایا ہوا ہو وہ تمہارا خدایا معبود کیسے بن سکتا ہے۔
Ayahs 7:192–1951 جن بتوں کو تم نے معبود ٹھہرایا ہے اور خدائی کا حق دیا ہے، وہ تمہارے کام تو کیا آتے، خود اپنی حفاظت پر بھی قادر نہیں اور باوجود مخلوق ہونے کے ان کمالات سے محروم ہیں جن سے کسی مخلوق کو دوسری پر تفوق و امتیاز حاصل ہوسکتا ہے۔ گو ان کے ظاہری ہاتھ پاؤں، آنکھ، کان سب کچھ تم بناتے ہو، لیکن ان اعضاء میں وہ قوتیں نہیں جن سے انہیں اعضاء کہا جاسکے۔ نہ تمہارے پکارنے پر مصنوعی پاؤں سے چل کر آسکتے ہیں، نہ ہاتھوں سے کوئی چیز پکڑ سکتے ہیں، نہ آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں، نہ کانوں سے کوئی بات سنتے ہیں۔ اگر پکارتے پکارتے تمہارا گلا پھٹ جائے گا تب بھی وہ تمہاری آواز سننے والے اور اس پر چلنے والے یا اس کا جواب دینے والے نہیں۔ تم ان کے سامنے چلاؤ یا خاموش رہو، دونوں حالتیں یکساں ہیں۔ نہ اس سے فائدہ نہ اس سے نفع، تعجب ہے کہ جو چیزیں مملوک و مخلوق ہونے میں تم ہی جیسی عاجز و درماندہ بلکہ وجود و کمالات وجود میں تم سے بھی گئی گزری ہوں انہیں خدا بنا لیا جائے اور جو اس کا رد کرے اسے نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی جائیں۔ چناچہ مشرکین مکہ نبی کریم ﷺ کو کہتے تھے کہ آپ ہمارے بتوں کی بےادبی کرنا چھوڑ دیں ورنہ نہ معلوم وہ کیا آفت تم پر نازل کردیں۔ " (وَيُخَوِّفُوْنَكَ بالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ ) 39 ۔ الزمر :36) اسی کا جواب قُلِ ادْعُوْا شُرَکَآءَ کُمْ الخ سے دیا۔ یعنی تم اپنے سب شرکاء کو پکارو اور میرے خلاف اپنے سب منصوبے اور تدبیریں پوری کرلو، پھر مجھ کو ایک منٹ کی مہلت بھی نہ دو ۔ دیکھوں تم میرا کیا بگاڑ سکو گے۔
Ayah 7:1962 یعنی جس نے مجھ پر کتاب نازل کی اور منصب رسالت پر فائز کیا وہ ہی ساری دنیا کے مقابلہ میں میری حمایت و حفاظت کرے گا۔ کیونکہ اپنے نیک بندوں کی حفاظت و اعانت وہ ہی کرتا ہے۔
Ayahs 7:197–1983 یعنی بظاہر آنکھیں بنی ہوئی ہیں، پر ان میں بینائی کہاں ؟
Ayahs 7:199–2004 خُذِ الْعَفْوَ ، کے معنی کئے گئے ہیں۔ اکثر کا حاصل یہ ہے کہ سخت گیری اور تندخوئی سے پرہیز کیا جائے اسی کو مترجم محقق نے " درگزر کی عادت " سے تعبیر فرمایا ہے۔ گزشتہ آیات میں بت پرستوں کی جو تحمیق و تجہیل کی گئی تھی بہت ممکن تھا کہ جاہل مشرکین اس پر برہم ہو کر ناشائستہ حرکت کرتے یا برا لفظ زبان سے نکالتے، اس لیے ہدایت فرما دی کہ عفو و درگزر کی عادت رکھو، نصیحت کرنے سے مت رکو، معقول بات کہتے رہو اور جاہلوں سے کنارہ کرو یعنی ان کی جہالت آمیز حرکتوں پر روز روز سے الجھنے کی ضرورت نہیں۔ جب وقت آئے گا ذرا سی دیر میں ان کا سب حساب بےباق ہوجائے گا۔ اور اگر کسی وقت بمقتضائے بشریت ان کی کسی نالائق حرکت پر غصہ آجائے اور شیطان لعین چاہے کہ دور سے چھیڑ چھاڑ کر کے آپ کو ایسے معاملہ پر آمادہ کر دے جو خلاف مصلحت ہو یا آپ کے " خلق عظیم " اور حلم و متانت کے شایاں نہ ہو، تو آپ فوراً اللہ سے پناہ طلب کیجئے آپ کی عصمت و وجاہت کے سامنے اس کا کوئی کید نہیں چل سکے گا۔ کیونکہ خداوند قدیر جو ہر مستعیذ کی بات سننے والا اور ہر حالت کا جاننے والا ہے، اسی نے آپ کی صیانت کا تکفل فرمایا ہے۔